A test of strength and wisdom

طاقت کی بساط اور حکمت کا امتحان

ایران اورامریکاکے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظرمیں پاکستان کیلئےپالیسی آپشنزاوراسلامی دنیاکے ممکنہ ردِعمل کاجامع تجزیہ پیش کرنے کامقصدفیصلہ ساز اداروں کوایسے قابلِ عمل راستے مہیاکرناہے جوپاکستان کوجنگی الجھاؤ سے محفوظ رکھتے ہوئے علاقائی استحکام ، داخلی سلامتی اورسفارتی ساکھ کومضبوط کریں۔ سفارشات کا محورغیرجانبدارانہ حقیقت پسندی،فعال سفارت کاری،دفاعی تیاری (بلا شرکتِ جنگ)اوراسلامی دنیامیں ثالثی کومدنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہیں:

پاکستان اس ممکنہ تصادم میں براہِ راست فریق نہیں،مگراس کی جغرافیائی حیثیت—ایران کی ہمسائیگی،افغانستان سے قربت،خلیجی راستوں تک رسائی—اسے ناگزیرطورپراس بحران کے دائرۂ اثرمیں لے آتی ہے۔پاکستان ایران کی ہمسائیگی،افغانستان کے پس منظر، خلیجی راستوں اوربڑی طاقتوں کے مفادات کے سنگم پرواقع ہے۔کسی بھی عسکری تصادم کی صورت میں ثانوی اثرات براہِ راست پاکستان کی سلامتی ومعیشت پرمرتب ہوسکتے ہیں۔

بحرِہندمیں یوایس ایس ابراہم لنکن کی موجودگی محض بحری نقل وحرکت نہیں،بلکہ عالمی سیاست کی اس زبان میں ایک جملہ ہے جو توپوں سے لکھاجاتاہے۔ اگرچہ امریکی صدرکی جانب سے حتمی فیصلے کی عدم موجودگی وقتی تؤقف کاتاثردیتی ہے،مگرتاریخ شاہدہے کہ طاقتورریاستیں اکثرفیصلہ کرنے سے پہلے ہی فضاکو فیصلے کے قابل بنالیتی ہیں۔انتہائی معتبرذرائع کے مطابق امریکی کیریئر اسٹرائیک گروپ کی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی ایک ایسے شطرنجی بساط کی مانندہے جہاں ہرمہرہ اپنی جگہ پرضرورہے،مگربازی ابھی مکمل نہیں ہوئی۔یوایس ایس ابراہم لنکن کابحرِہندمیں ہونابظاہرایران کے قریب ترامریکی عسکری گرفت کی علامت ہے،تاہم تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سمندرمیں لنگراندازدیوہیکل جہازبھی ہمیشہ فیصلۂ جنگ کااعلان نہیں کرتے۔یہ تعیناتی ایران پرنفسیاتی دباؤاور خطے کوعسکری اضطراب میں رکھنے کی دانستہ کوشش دکھائی دیتی ہے۔

ٹرمپ کے بیانات اس ابہام کومزیدگہراکرتے ہیں—غوروفکرجاری ہے،مگرفیصلہ ابھی تقدیرکے پردے میں ہے۔امریکی کیریئرگروپ سینٹ کام کے دائرہ اختیارمیں ہے۔فوری حملہ ضروری نہیں،مگرریپڈرسپانس کی صلاحیت بڑھادی گئی ہے۔یہ تعیناتی ایران کوسگنل دینے اوراتحادیوں کویقین دہانی کرانے کیلئے ہے ۔پاکستان،خلیجی ریاستیں اوربھارت اس پیش رفت کوسیکیورٹی الرٹ کے طورپردیکھ رہے ہیں۔

یہ گروپ جدیدجنگی فلسفے کاچلتاپھرتامظہرہے—جہاں آسمان،سمندراورالیکٹرانک اسپیس ایک دوسرے میں مدغم ہوچکے ہیں۔کیریئر اسٹرائیک گروپ دراصل جدیدعسکری طاقت کاچلتاپھرتااستعارہ ہے:طیارہ بردارجہازاس کادل،میزائل کروزراس کی آنکھ،اورڈسٹرائراس کی ڈھال ہیں۔فضائی،نیول اور میزائل ڈیفنس سے لیس یہ جنگی کیرئیرمکمل فضائی برتری کاحامل نیٹواورخلیجی اتحادی ممالک پرایک شدیددباؤکے طورپرخطے میں شدیدتشویش کاباعث بن چکاہے کہ خطے میں اس کی بھاری سیاسی لاگت ناقابل برداشت بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم اتحادیوں کادباؤاس امرکی یاددہانی ہے کہ طاقت کے اظہاراورطاقت کے استعمال کے درمیان ایک نازک مگرفیصلہ کن فاصلہ ہوتا ہے۔اتحادیوں کی جانب سے جنگ سے باز رہنے کامشورہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ عسکری طاقت کی نمائش ہمیشہ سیاسی دانش کے تابع رہنی چاہیے۔

ایران کی گلیاں اورچوراہے اس وقت تاریخ کے خونچکاں ابواب رقم کررہے ہیں۔ایران کی سڑکیں اب صرف احتجاج کانہیں،تاریخ کے کرب کانقشہ بن چکی ہیں۔ہزاروں جانوں کاضیاع کسی بھی ریاست کیلئےمحض داخلی معاملہ نہیں رہتا—یہ بین الاقوامی ضمیرکوآوازدیتا ہے،اوربیرونی مداخلت کیلئےاخلاقی جوازپیدا کرتاہے۔مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں بڑھتی ہلاکتیں ایک ایسانوحہ ہیں جو انسانی ضمیرکوجھنجھوڑتاہے اور اس معاملہ کوامریکااوریورپی ممالک انسانی حقوق کی بحران کی طرف موڑرہے ہیں جہاں ہلاکتوں کے خوفناک اعدادوشماراقوام عالم کے سامنے رکھے جارہے ہیں۔اعدادوشمار،چاہے زیرِجائزہ ہوں یامصدقہ،اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ ریاست اورعوام کے درمیان خلیج خطرناک حدتک وسیع ہوچکی ہے۔ہلاکتوں کے اعدادوشمارکوجوازبناکریورپ اورامریکاانسانی حقوق کے چیمپئن بن کرمداخلت کوجائزبناسکتے ہیں۔

ٹرمپ کی زبان میں بیک وقت دھمکی اوردعوتِ گفتگوکاامتزاج امریکی خارجہ پالیسی کے اس دورُخی مزاج کی عکاسی کرتاہے اوریہ امریکی خارجہ پالیسی کاپرانا ہنر ہے—ایک ہاتھ میں لاٹھی،دوسرے میں مصافحہ،جوکبھی تلواردکھاتاہے اورکبھی زیتون کی شاخ۔ٹرمپ کی زبان میں دھمکی اوردعوت کایہ امتزاج دراصل طاقت کے توازن کواپنے حق میں رکھنے کی کوشش ہے۔“ہم کاروبارکیلئےکھلے ہیں ”کاجملہ بظاہر سفارت کاری کی پیشکش ہے،مگراس کے پسِ منظرمیں طاقت کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔یہ بھی ممکن ہے کہ ایران سےاپنی پیشگی شرائط منوانے کیلئے مذاکرات پرلانے کی کوشش اوربیک ڈورڈپلومیسی کاایک نیاباب کھولنے کااشارہ ہوجویقیناً ایرانی صدرکی سعودی ولی عہدکے ساتھ حالیہ فون پرگفتگوکے بعدشروع ہونے پرآمادگی کااظہارہو۔

انقلاب اسکوائرکی دیوارپربنی تصویرصرف فن پارہ نہیں—یہ قومی بیانیے کی بصری تفسیرہے۔تہران کی انقلاب اسکوائرپرنمودارہونے والی دیوارنگاری محض رنگ وروغن نہیں،بلکہ ایک نظریاتی اعلان ہے۔نمازِجمعہ کے منبرسے دی گئی وارننگ میں مذہب،ریاست اور مزاحمت ایک ہی آوازمیں بولتے نظرآتے ہیں — اورصاف دکھائی دیتاہے کہ جمعہ کے خطبے میں امریکاکومخاطب کرنااس امرکی دلیل ہے کہ ایران میں مذہب اور ریاست ایک ہی اسکرپٹ پڑھتے ہیں۔یہ وہ زبان ہے جوایران کی سیاسی ثقافت میں گہرائی سے پیوست ہے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ یہ ایرانی اقدام گھریلوحوصلے کی تعمیرکے ساتھ ساتھ ممکنہ ایک مذہبی جوازبناکر امریکااوراتحادیوں کے خلاف نفسیاتی جنگ کااعلان ہوجس میں ایرانی بیانیے کوکامیابی ملتی دکھائی دے رہی ہے۔

ایرانی بیانیے کی سختی دراصل دفاعی عزم کی لفظی ڈھال ہے۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان کالب ولہجہ اورالفاظ میں جواعتمادجھلکتاہے، وہ یہ پیغام دیتاہے کہ جنگی جہازوں کی آمد ورفت سے قومی ارادے متزلزل نہیں ہوتے ۔ایران کایہ ردعمل،اسٹریٹجک پیغام رسانی،میزائل ڈیٹرنس اورفوجی تیاری معلوم ہوتاہے کہ وہ ایسی قوم کی آوازہے جوجنگ سے خوف زدہ نہیں،بلکہ اسےاپنی بقاکی قیمت سمجھتی ہے۔

ہرجنگ اپنے بعدایک نئی جنگ کی تیاری چھوڑجاتی ہے۔اسرائیل کے ساتھ تصادم ایران کیلئےعسکری تجربہ گاہ ثابت ہوا۔جون کی بارہ روزہ جنگ کے بعد ایرانی فوج کے دعوے تاریخ کے اس تسلسل کی یاددہانی ہیں جس میں ہرتصادم اگلے مرحلے کی تیاری بن جاتاہے۔ میزائلوں اورڈرونزکی بارش صرف عسکری کارروائی نہیں تھی،بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی تھا—کہ حساب ابھی باقی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایران نے اس جنگ کے بعد اپنے میزائل پروگرام کومزیدمضبوط اورترقی دیتے ہوئے اپنی ڈرون ٹیکنالوجی میں مزیدمہارت اور صلاحیت حاصل کرنے کے بعد اپنی جنگی تیاریوں کی رفتارمیں خاصی پیش رفت حاصل کر لی ہے۔

ایران کی اصل طاقت اب توپ سے زیادہ ٹیکنالوجی میں ہے—خاموش، دوررس اورمہلک ہتھیاروں کے استعمال میں ان کی مہارت اور تیاری اس بات کی دلیل ہے۔علاوہ ازیں ایران کامیزائل ذخیرہ اورڈرون نیٹ ورک اس کی عسکری حکمتِ عملی کاستون ہیں۔سرحدوں سے باہران کی موجودگی اس امرکی علامت ہے کہ جدیدجنگ اب جغرافیے کی قیدسے آزادہوچکی ہے۔میڈیم رینج بیلسٹک میزائل اورانٹررینج بیلسٹک میزائل ٹیکنالوجی جوزیادہ ترغیرروایتی وارہیڈزسے لیس ہے،اب ممکنہ جنگ میں ایران اپنے دفاع کیلئے استعمال کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔یادرہے کہ یہ نظام چین،شمالی کوریا،ایران،بھارت اورپاکستان کے پاس بھی موجود ہے۔علاوہ ازیں اس غیرمتناسب جنگی فائدے کیلئے یواے وی ٹیکنالوجی کوبھی میدان میں لایاجائے گاجس کے بعدجنگ کی صورت میں کرہ ارض پرخوفناک تباہی کاوہ سفرشروع ہوسکتاہے جوکسی بھی عالمی جنگ کاآغاز بننے کیلئے کافی ہے۔

خاتم الانبیاءہیڈکوارٹرکے کمانڈرکابیان ایک کھلااعلان ہے کہ جنگ کی صورت میں دائرۂ تصادم محدودنہیں رہے گا۔یہ وہ نقطہ ہے جہاں دفاع،پیش بندی میں بدل جاتاہے۔یہ اعلان دراصل جنگ کوخطے کی دہلیزتک کھینچ لانے کی دھمکی ہے—جہاں ہرامریکی مفادایک ممکنہ ہدف ہے۔گویاعراق،اورخلیج میں تمام امریکی اڈے اب ایرانی حملوں کے خطرے سے ازاد نہیں جس کیلئے یقیناًامریکا اورمغرب کوان اڈوں کے تحفظ کیلئے ایک غیرمعمولی فورس کی ضرورت ہوگی اوراس صورتحال میں امریکااورمغرب پرجنگ کابے پناہ مالی دباؤ ان ملکوں کی جاری معیشت کوبے شمارمشکلات میں مبتلاکردے گا۔

ایرانی حکام کی وارننگزخطے کے اتحادیوں کیلئےخطرے کی گھنٹی ہیں۔خلیج کے عرب ممالک کی جانب سے واشنگٹن پردباؤاس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ جنگ کاایندھن اکثراتحادیوں کی سرزمین سے لیاجاتاہے،اتحادی اکثر طاقتوردوستوں کی جنگ میں سب سے پہلے جلتے ہیں مگربعدازاں آگ سب کولپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علاقائی عدم استحکام کے بڑھتے ہوئے اس خطرہ کے تدارک کیلئے خلیجی ریاستیں اس ممکنہ امریکی حملے کوروکنے کیلئے شب وروز لابنگ میں مصروف ہیں تاکہ خطے سے اس ممکنہ خوفناک جنگ کے شعلوں کوبھڑکنے سے پہلے خاموش کردیاجائے۔

علاقائی پراکسیوں کاجال ایران کی اسٹریٹجک گہرائی کاحصہ ہے۔یہ ایران کاخاموش لشکرہے—جوبظاہر غیرریاستی ہے مگرریاستی مقاصدکاامین ہے۔اگرچہ بعض کمزورہوچکے،مگردیگراب بھی بھاری ہتھیاروں اورنظریاتی وابستگی سے لیس ہیں—اوریہی غیریقینی عنصرسب سے زیادہ خطرناک ہوتاہے۔خطے میں حزب اللہ کوکافی کمزورکیاجاچکاہے مگروہ باقی اوربرقراراب بھی ہے اورخطے میں ملٹی خطرات میں پراکسی نیٹ ورک کے جال ک ابھی تک مکمل طورپرختم نہیں کیاجاسکاجس کی بناءپرمعمولی چنگاری بھی آگ کے بڑے گوداموں میں دہماکے کیلئے کافی ہوتی ہے۔

کتائب حزب اللہ کے کمانڈرکابیان محض للکارنہیں،بلکہ ایک نظریاتی بسیج کااعلان ہے۔ “یہ جنگ پارک میں چہل قدمی نہیں ہوگی”—یہ جملہ مزاحمت کی نفسیات کوایک فقرے میں سمودیتاہے۔یہ اعلان جنگ کم اور نظریاتی بسیج زیادہ ہے۔کتائب حزب اللہ کی یہ اپیل ان تمام گروپوں کومتحرک کردینے کیلئے کافی ہے جواپنی جانیں ہتھیلی پر لئے میدان جنگ میں کودنے کیلئے ایک حکم کے منتظرہیں جس کے بعددنیابھر میں امریکی مفادات کیلئے خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے۔

ہرریاست اس آگ سے دوررہناچاہتی ہے،مگر شعلے ہمسایہ ہونے کالحاظ نہیں رکھتے۔خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کونشانہ بنانے کی دھمکی،اورسعودی قیادت سے رابطہ،سفارت کاری اورجنگ کے بیچ جھولتی ہوئی صورتحال کی عکاسی ہے۔سعودی عرب کی پیشگی علیحدگی ایک محتاط خودحفاظتی حکمتِ عملی ہے،جبکہ دیگر ریاستوں کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔اس حوالے سے سعودی کی غیر جانبداری،قطر/یو اے ای کی مبہم پالیسی اورپاکستان پرشدیددباؤ نے خطے کوعجیب صورتحال سے دوچارکررکھاہے۔

پاکستان کی فضائی حدود اور بلوچستان کے استعمال سے متعلق افواہیں محض عسکری نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست کا حساس باب ہیں۔ پاکستان کیلئےیہ فیصلہ محض ایک “ہاں یاناں” نہیں،بلکہ قومی سلامتی،علاقائی توازن اور داخلی استحکام کاسوال ہے۔پاکستان کیلئےیہ فیصلہ تاریخ،جغرافیہ اورقوم—تینوں کے سامنے جواب دہ ہے ۔انکارکی صورت میں بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حوالے سے خدشات تاریخ کے ان سائے دارابواب کی یاددلاتے ہیں جہاں بالواسطہ دباؤبراہِ راست جنگ سے زیادہ کارگرسمجھاجاتاہے۔جب بندوق سامنے سے نہ چلے توسازش پیچھے سے چلتی ہے۔امریکی وزیرِخارجہ کے ذومعنی اشارے اسی روایت کاتسلسل دکھائی دیتے ہیں۔ بلوچستان کارڈکھیلنے کی پشت پرشورش کافائدہ اٹھاتے ہوئے ہائبرڈجنگ کااژدھاایک خطرہ بن کرڈسنے کیلئے تیاربیٹھاہے۔

ایران پرحملے کی صورت میں پاک–سعودی دفاعی معاہدہ ایک نازک امتحان سے دوچارہوگا۔یہ معاہدہ جنگ میں نہیں،جنگ سے بچنے میں آزمائش کاشکارہوگا ۔ یہاں توازن،خاموش سفارت کاری اورپسِ پردہ مشاورت فیصلہ کن کرداراداکرے گی۔براہ راست فوجی مداخلت کا امکان نہیں لیکن اس کیلئے بھرپورمشاورت کی اہم ضرورت ہوگی جویقیناً اس وقت پسِ پردہ جاری ہوں گے۔ترکی جیسا ضبوط علاقائی کھلاڑی عموماً خاموش تماشائی نہیں رہے گا—مگرتلوار کی بجائے ترازو ہاتھ میں رکھے گا۔اس کاردِعمل غالباً سفارتی دباؤ،علاقائی ثالثی اوراپنے مفادات کے تحفظ کے گردگھومے گااوروہ نیٹوکے اہم اتحادی ہونے کے ناطے ایک متوازن کردارادا کرنے کیلئے ابھی سے سرگرم ہے۔

ادھردوسری طرف روس کی خاموشی چیخ سے زیادہ معنی خیزہوسکتی ہے۔روس کی خاموشی اگربرقراررہتی ہےتویہ یوکرین کے بدلے سودے بازی کی ایک اورمثال ہوسکتی ہے۔تاریخ میں طاقتورریاستیں اکثرایک محاذپر خاموشی کودوسرے محاذپرفائدے سے جوڑتی رہی ہیں۔روس یقیناًخطے میں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی میں سٹریٹجک ابہام سے کام لیتے ہوئے یوکرین میں اپنے مفادکی شطرنج میں فتح کی امیدلگائے بیٹھاہے۔

افغانستان کے بٹگرام ہوائی اڈے اورمبینہ سائبروارکی کہانی جدیددورکی“غیرمرئی جنگ”کااستعارہ ہے۔یہ جنگ بغیربارودکے تھی مگر نتائج آتشیں ہوسکتے تھے۔ایران کی جانب سے بروقت ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ آج کی جنگ صرف میدانوں میں نہیں،نیٹ ورکس میں بھی لڑی جاتی ہے۔حالیہ سائبر وارمیں اسٹارلنک کی سازشوں کوناکام بنانے میں پاک ایران-چین/روس کوآرڈینیشن نے ایک اہم کرداراداکیاہے جس کے بعدایران میں ہونے والے ہنگاموں سے حاصل ہونے والی منزل کو شدید ترین پسپائی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔

امریکاکی ناکامی کے بعدبراہِ راست حملے اورہمسایہ ممالک پردباؤکاامکان ایک خطرناک کھیل کی طرف اشارہ کرتاہے۔خطے کے ممالک بظاہرخاموش ہیں، مگر پردۂ سیمیں کے پیچھے سفارتی شطرنج جاری ہے—مقصدایک ہی ہے:اس آگ کوبھڑکنے سے پہلے بجھا دیاجائے،کیونکہ اس کے شعلے سرحدیں نہیں پہچانتے۔یہ خطہ ایک بارپھرتاریخ کے دہانے پرکھڑاہے—جہاں ایک غلط قدم صدیوں کا بوجھ بن سکتاہے۔اس لئے محفوظ اور پرامن مستقبل کے کیلئے علاقائی کشیدگی، جنگ کی روک تھام کیلئے اجتماعی سفارت کاری کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

امریکاکی جانب سے فضائی یازمینی سہولتوں کامطالبہ پاکستان کیلئےہائی رسک فیصلہ ہوگا۔اجازت کے فوائدمحدوداورخطرات ناقابل حد تک بلندہیں۔اجازت کی صورت میں داخلی سلامتی(خصوصاًبلوچستان)اورانکارکی صورت میں سفارتی دباؤاورہائبرڈخطرات بڑھ سکتے ہیں۔بلوچستان کسی بھی بیرونی عسکری کشیدگی کی صورت میں پراکسی تشدد،اورانفارمیشن آپریشنزکااولین ہدف بن سکتاہے۔ایران–امریکاتصادم کی شدت بڑھنے پرسرحدی دباؤ،اسلحہ وفنڈنگ کی غیرقانونی ترسیل اورعلیحدگی پسندبیانیے کے دوبارہ فعال ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے۔

کسی بھی بیرونی عسکری تعاون کاسب سے فوری ردِعمل بلوچستان میں شدت پسندعناصرکی فعالیت میں اضافے کی صورت میں آسکتا ہے۔ریاست کوانسدادِ دہشتگردی،انٹیلی جنس کوآرڈینیشن اورسیاسی مصالحت کویکجا رکھنا ہوگا۔بلوچستان میں داخلی سلامتی کے چیلنجزکو مدنظررکھتے ہوئے ریاست کیلئےناقابل برداشت حدود،واضح سرخ لکیراورعملی رولزآف انگیجمنٹ کاتعین ناگزیرہے تاکہ بیرونی مداخلت،ہائبرڈوارفیئراورداخلی انتشارکوبروقت اورمتناسب انداز میں روکاجاسکے،جبکہ شہری حقوق،سیاسی عمل اورقومی وحدت محفوظ رہیں۔بلوچستان کیلئےمؤثرسرخ لکیراورعملی رولزآف انگیجمنٹ کامقصدمحض طاقت کا اظہارنہیں بلکہ ریاستی رِٹ،عوامی اعتماداور قومی وحدت کابیک وقت تحفظ ہے۔یہی توازن پاکستان کوبیرونی جنگ کے شعلوں سے محفوظ رکھ سکتاہے۔

ایران کے ساتھ طویل سرحداورتوانائی/تجارت کے امکانات پاکستان کومحتاط سفارت کاری کاپابندکرتے ہیں۔کشیدگی میں اضافہ سرحدی سلامتی اوراقتصادی منصوبوں کومتاثرکرسکتاہے۔پاکستان کی پالیسی غیرجانبدارانہ حقیقت پسندی،تعاون برائے امن،نہ کہ جنگ،انسانی امداد،سفارت کاری،ثالثی کی پیشکش اور عسکری شمولیت سے اجتناب پرقائم رہنی چاہیے،خطے میں جنگی فضاسی پیک کیلئےخطرات بڑھاسکتی ہے۔پاکستان کوچین کے ساتھ اسٹریٹجک کمیونیکیشن مضبوط رکھنی ہوگی تاکہ اقتصادی مفادات محفوظ رہیں۔

سعودی عرب اورخلیجی ممالک سے دفاعی واقتصادی تعلقات اہم ہیں،مگرپاکستان کیلئےکسی بلاک میں کھڑے ہونے کی بجائے پل کا کردارزیادہ سودمندہے۔ براہِ راست جنگ میں شمولیت کے بغیرفضائی وسرحدی نگرانی،سائبرسیکیورٹی،داخلی امن وامان کی مضبوطی کیلئے عسکری تیاریاں مکمل رکھنے کی ضرورت ہے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ اوآئی سی کے رکن ممالک اقوامِ متحدہ کے منشوراوراسلامی اخوت کے اصولوں کی توثیق کرتے ہوئے، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی عسکری کشیدگی پرشدید تشویش کااظہارکرتے ہوئے،خودمختاری،علاقائی سالمیت اورانسانی جانوں کے تحفظ کوبنیادی قدرمانتے ہوئے فوری طورپران چندعملی نکات پرعملدرآمدکیلئے تمام سفارتی دباؤاستعمال کرتے ہوئے اپناکرداراداکریں:
٭اوآئی سی کے تحت اعلیٰ سطحی ثالثی کمیٹی کے قیام کی منظوری دی جائے۔
٭ایران،امریکا تنازعے کے حل کے تمام فریقین سے فوری کشیدگی میں کمی اورطاقت کے استعمال سے گریزکے عملی اقدامات کی ٹھوس تجاویزمرتب کی جائیں۔
٭براہِ راست مذاکرات کی حوصلہ افزائی کیلئے خطے میں جنگ کے خطرات کوختم کرنے کیلئے عملی اقدامات کئے جائیں۔
٭خطے میں تمام ممالک کواپنی سرزمین کسی بھی جارحانہ کارروائی کیلئےاستعمال نہ ہونے دینے کاعہدکیاجائے۔
٭اقوام متحدہ اوراوآئی سی کے اشتراک سے قائم کردہ کمیٹی کی مشترکہ کاوشوں سے انسانی حقوق کے تحفظ اورشہری ہلاکتوں کی آزادانہ تحقیقات کی حمایت کی جائے اوران ہنگاموں کے درپردہ غیرملکی سازشوں کوبھی منظرعام لاکراس کاتدارک کیاجائے۔

٭خطے میں علاقائی پراکسی جنگوں کی مذمت اورغیرریاستی مسلح گروہوں کے عدم استعمال پرزوردیتے ہوئے ان ممالک کے خلاف مشترکہ ٹھوس اقدامات کئے جائیں جوان پراکسی جنگوں کے شعلوں کوبھڑکانے کیلئے تیل فراہم کررہے ہیں۔
٭اقوامِ متحدہ اوردیگرعالمی فورمزپرمشترکہ سفارتی مؤقف اپنانے کی ہدایت کی جائے۔
٭فرقہ واریت یاقومیت کے نام پرمسلح تحریک کی کسی بھی کوشش کودشمنانہ ہائبرڈآپریشن تصورکیاجائے گا۔
٭کسی بھی غیرملکی انٹیلی جنس،عسکری اثاثے یاپراکسی نیٹ ورک کی جانب سے سرحدپاردراندازی یالاجسٹک سپورٹ ناقابلِ برداشت ہوگی۔
٭گوادر،سی پیک منصوبے،گیس تنصیبات،بندرگاہیں،اورمواصلاتی انفراسٹرکچرپرحملہ ریاستی ردِعمل کوفوری اورفیصلہ کن بنائے گا۔
٭کسی بھی چینل کے ذریعے غیرملکی مالی یاعسکری معاونت کی دریافت پرسخت ترین قانونی وسیکیورٹی کارروائی ہوگی۔
٭اوراختتامی شق کے مطابق اوآئی سی اوراقوام متحدہ اس عزم کااعادہ کرے کہ بالعموم اسلامی دنیااوربالخصوص اس خطے کوایک اور تباہ کن جنگ سے بچانے کیلئےاجتماعی حکمت،سفارت کاری اوراتحادہی واحدراستہ ہے۔

اسلامی دنیاکیلئےاجتماعی حکمت اورثالثی ہی وہ راستہ ہے جوخطے کوایک اورتباہ کن تصادم سے بچاسکتاہے اوراس ضمن میں پاکستان کیلئےبہترین راستہ امن کی فعال سفارت کاری ہے—نہ خاموش تماشائی،نہ جنگی فریق۔پاکستان کیلئےدانش مندی اسی میں ہےکہ وہ جنگ کے شورمیں امن کی آوازبنے،اوراسلامی دنیاکیلئے وقت کاتقاضا یہ ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت کورہنمابنائے۔ تاریخ گواہ ہے جنگیں طاقت سے شروع ہوتی ہیں، مگر انجام ہمیشہ عقل لکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں