یہ آرٹیکل کسی ادبی ذوق کی تسکین کیلئےنہیں لکھاگیا،نہ یہ محض الفاظ کی آرائش ہے،اورنہ ہی یہ تاریخ کے کسی باب کاغیرجانبدار خلاصہ ہے۔یہ مضمون ایک گواہی ہے—ایک زخمی عہدکی،ایک لرزتی ہوئی ریاست کی،اورایک ایسے مریض کی جس کانام پاکستان ہے۔یہ عرضداشت کسی تمہیدکی نرمی نہیں رکھتی،یہ ایک اعلان ہے؛اعلانِ شعور،اعلانِ احتساب،اعلانِ بیداری۔
اے اہلِ وطن!سن لو!یہ وقت مصلحت کانہیں،یہ وقت سچ کاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب قوموں کے مقدرلکھے جاتے ہیں یاہمیشہ کیلئےمٹادیے جاتے ہیں۔یہ وقت سرگوشیوں کانہیں،یہ وقت للکارکاہے۔یہ وقت سلامتی کانہیں،یہ وقت سوال کاہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب قومیں آئینے کے سامنے کھڑی ہوکرخودسے سچ بولتی ہیں۔اوراگرسچ بولنے کی ہمت نہ رہے توتاریخ ان کی خاموشی کواعترافِ جرم بنادیتی ہے۔یہ لمحہ تاریخ کے اس موڑپرکھڑاہے جہاں قومیں یاتواپنے مقدرکو تھام لیتی ہیں یاپھرصدیوں کی غلامی میں دھکیل دی جاتی ہیں۔
آج یہ دھرتی،جس کے ذروں میں شہداءکالہو،ماں کی دعااوربچے کاخواب دفن ہے جس کے سینے میں شہداءکالہوامانت ہے،ہمارے سامنے ایک ایسے مریض کی مانندپڑی ہے جس کی سانسیں اکھڑرہی ہیں،نبض ڈوب رہی ہے،آنکھیں امیدڈھونڈرہی ہیں،اورآنکھیں سوال بن کرہمیں گھوررہی ہیں۔ہونٹ لرزتے ہیں مگرآوازنہیں نکلتی۔یہ مریض کوئی فردنہیں،کوئی جماعت نہیں—یہ ہمارااجتماعی وجودہے،یہ پاکستان ہے۔
یہ کوئی اتفاق نہیں،یہ کوئی حادثہ نہیں،یہ تاریخ کا اندھاکھیل بھی نہیں اورنہ ہی یہ کیفیت کسی اچانک حادثے کانتیجہ ہے۔ یہ برسوں کی بداعمالی،ناانصافی،خوف ، اوراس خاموشی کاحاصل ہے جوہم نے ظلم کے مقابلے میں اختیارکی۔تاریخ گواہ ہے کہ جب عدل تخت سے اتر جائے اور ضمیراقتدارکے ایوانوں سے نکل جائے توریاستیں اندرسے مرجاتی ہیں،زندہ لاش بن جاتی ہیں۔آج ہم اسی داخلی موت کے کنارے کھڑے ہیں۔آج یہی لاش ہمارے کندھوں پرہے، بازاروں میں مہنگائی چیخ رہی ہے،عدالتوں میں انصاف سسک رہاہے،تعلیمی اداروں میں مستقبل اندھیرے میں ٹٹول رہاہے،اورعوام ایک دوسرے سے مل کر بس یہی پوچھتے ہیں:اب کیاہوگا؟
اے لوگو!صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں بیمارہوتی ہیں توان کے زخم صرف معیشت پرنہیں ہوتے،روح پرہوتے ہیں۔جب قومیں سوال پوچھنا چھوڑدیتی ہیں توان کے جواب مٹی میں دفن ہوجاتے ہیں۔یہ سوال نیانہیں۔یہ وہ سوال ہے جوتاریخ کے ہرنازک موڑپر گونجاہے۔یہی سوال بغدادکے جلنے سے پہلے ہوامیں معلق تھا،بغدادجلنے سے پہلے بھی لوگ یہی کہتے تھے:”کچھ نہیں ہوگا”۔غرناطہ کے سقوط سے پہلے،غرناطہ کے زوال سے پہلے گونجا،ڈھاکہ کے بچھڑنے سے پہلے—ہرباریہی سوال فضا میں معلق رہا۔غرناطہ ہاتھ سے جانے سے پہلے بھی یہی سوچاگیاتھاکہ”یہ اندھیراٹل جائے گا”۔اورجب اندھیرا مکمل ہواتوپھرچراغ جلانے والا کوئی نہ رہا۔آج پاکستان اسی دہانے پرکھڑاہے—ایک قدم ادھر،توبقا؛ایک قدم ادھر،توتباہی۔مگرسوال سے زیادہ اہم جواب ہوتاہے،اورجواب وہی قومیں دیتی ہیں جن میں حوصلہ،کرداراورایمان زندہ ہو۔آج پاکستان اس معالج کے درپرکھڑاہے جہاں صرف مرہم نہیں،جراحی درکار ہے۔جہاں تسلی نہیں،فیصلہ چاہیے۔جہاں وقتی سیاست نہیں،دائمی انصاف مانگ رہاہے۔اوریہی سوال ہماری اپنی تاریخ کے المناک موڑوں پرسنائی دیا ۔فرق صرف اتناہے کہ تاریخ ہربارجواب مانگتی ہے۔اورجواب خاموشی نہیں ہوتا۔خاموشی ہمیشہ ظالم کے حق میں جاتی ہے۔
جب عدل کمزورپڑتاہے،سچ دب جاتاہے،اورطاقت امانت کی بجائے غنیمت بن جائے توقومیں اندرسے کھوکھلی ہوجاتی ہیں۔آج یہی کیفیت ہمارے اجتماعی وجودپر طاری ہے۔بازاروں میں مہنگائی کاشورہے،گھروں میں خاموش فاقے ہیں،ایوانوں میں بلنددعوے ہیں،اورگلیوں میں ٹوٹی امیدیں بکھری پڑی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں توبات سے پہلے آہ نکلتی ہے،جیسے ہرملاقات کسی جنازے کی تیاری ہو۔ہر آنکھ سوال ہے:اب کیاہوگا؟
یہ مریض بول نہیں سکتا،مگراس کے زخم چیخ رہے ہیں۔کبھی عدالتوں کی تاخیر،کبھی تعلیم کے ویران کمروں اورمدرسوں اوراسکولوں کی بربادی سے،کبھی اسپتالوں کی راہداریوں سے سنائی دینے والی سسکیوں سے،کسان کی خالی مٹھی اورہتھیلی سے،مزدورکی جھکی کمراورخالی جیب سے،ماں کی فیس نہ بھرسکنے والی آنکھ،نوجوان کی بے روزگاری—یہ سب زخم ہیں۔یہ چیخیں کسی ایک چہرے یا ایک حکومت کے خلاف نہیں،یہ اس پورے نظام کے خلاف ہیں جس نے طاقت کوقانون اوردولت کومعیاربنادیا،جس نے طاقت کوقانون اوردولت کوتقدیربنادیا۔جوطاقتورکوڈھیل اورکمزورکودھکیل دیتاہے،جب ظلم معمول بن جائے توبیداری فرض ہوجاتی ہے،اور جب بیداری بھی جرم بن جائے توپھرتاریخ انقلاب کے باب کھول دیتی ہے۔جب ظلم معمول بن جائے توانقلاب فرض ہوجاتاہے۔
یہ تحریرالزام کی سیاست نہیں کرتی،مگرذمہ داری سے فراربھی اختیارنہیں کرتی۔یہ صاحبانِ اختیارکویاددلاتی ہے کہ اقتدارامانت ہے، غنیمت نہیں۔یہ عوام کوجھنجھوڑتی ہے کہ خاموشی نجات نہیں،شرکتِ جرم ہے۔یہ مذہب،تاریخ اورسیاست—تینوں کوایک ہی سوال کے کٹہرے میں کھڑاکرتی ہے:کیاہم جواب دہ نہیں؟
اے صاحبانِ اقتدار!تاریخ کہتی ہے:جب قومیں دردکومحسوس کرناچھوڑدیں توان کی موت قریب آجاتی ہے۔اورجب وہ دردکومحسوس کر کے بھی خاموش رہیں توان کی موت یقینی ہوجاتی ہے۔ذرا ٹھہرو،کان کھول کرسن لو!یہ جوتم پروٹوکول کے حصارمیں بیٹھے ہو،یہ سانسیں تمہارے فیصلوں پرلٹکی ہیں۔اس مریض کی سانس سنو۔یہ سانسیں تمہارے فیصلوں کی محتاج ہیں۔یہ آنسوتمہاری فائلوں کے حاشیے نہیں،یہ تاریخ کے اوراق اورچیختے ہوئے سوال ہیں،جوبرملا خبردارکررہے ہیں کہ اقتدارتاج نہیں،امانت ہے۔اورامانت میں خیانت جہاں قوموں کوصفحۂ ہستی سے مٹادیتی ہے وہاں قوموں کوتاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کردیتی ہے۔یہ تحریرمایوسی نہیں،یہ بغاوتِ شعور ہے کیونکہ جب شعورجاگ جائے توزنجیریں خودٹوٹ جاتی ہیں۔یہ کسی مایوسی کااعلان نہیں،یہ بیداری کی صدا ہے کیونکہ جس قوم میں دردباقی ہو،وہ ابھی زندہ ہوتی ہے۔یہ مضمون مایوسی کااعلان نہیں،بلکہ امیدکی آخری دستک ہے کیونکہ وہ قومیں ہی بچتی ہیں جو آخری لمحے میں بھی خودسے سچ بولنے کی ہمت رکھتی ہیں۔یہ تحریراسی ہمت کاتقاضا کرتی ہے۔
اے اس دھرتی کے باسیو،اوراے وہ لوگوجن کے ہاتھوں میں اقتدار،اختیاراورفیصلوں کی باگ ڈور ہے:آج اس دھرتی پرذراسی بصیرت رکھنے والاہرشخص حیرت کے عالم میں اضطراب کی تصویربناہواہے،چہرے سوال بن چکے ہیں،آنکھیں جواب ڈھونڈرہی ہیں،اورزبان پرایک ہی فقرہ گردش کررہاہے،ایک دوسرے سے یہی سوال کرتاپھررہاہے،کیاہونے والاہے؟اب کیابنے گا؟ہم کہاں کھڑے ہیں اورہمارا مستقبل کس اندھیرے کی طرف بڑھ رہاہے؟
لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں توگفتگوسے پہلے آہ نکلتی ہے۔ہردل کسی اچھی خبرکاپیاساہے،ہرآنکھ کسی امیدکی متلاشی ہے۔کیا ہونے والاہے؟ہمارامستقبل کیاہے؟ہم کہاں کھڑے ہیں؟لوگ ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانک کرکسی اچھی خبرکی تمناکرتے ہیں، جیسے بسترِمرگ پرپڑے مریض کے لواحقین کسی معجزے کے منتظرہوں۔کسی حکیم کے نسخے،کسی حاذق ڈاکٹرکی دوایاکسی صاحبِ نظرکی دعاسے زندگی کی رمق لوٹ آنے کی آس لگائے بیٹھے ہوں۔آج یہ جاں بلب مریض کی مانندبمشکل رینگتاہوامعالج کے درتک توپہنچ گیاہے،مگراس میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ اپنی بیماری کانام ہی لے سکے،سچ یہ ہے کہ اب مرض اس مرحلے میں داخل ہوچکاہے جہاں صرف مرہم کافی نہیں،جہاں صرف تسلیاں کام نہیں آتیں،جہاں جرأت مندانہ فیصلہ،کڑواعلاج وکڑااحتساب ناگزیرہوچکاہے۔وہاں آن پہنچاہے جہاں دعاکے ساتھ جراحی بھی ناگزیرہوچکی ہے اورجتنی تاخیرہوگی،اتناہی آپریشن طویل،اذیت ناک اورجان لیواہوتا چلا جائے گا ۔
یہ مریض یہ کوئی فردنہیں،یہ کوئی جماعت نہیں،یہ پاکستان ہے۔زخمیدہ،کمزور،کراہتاہوا،ایک جاں بلب مریض کی مانند آپ کے سامنے پڑاہے جوبڑی مشکل سے رینگتاہوامعالج کے درتک توپہنچ گیاہے،مگراس کے جسم میں اتنی طاقت باقی نہیں رہی کہ وہ اپنی بیماری کا نام بھی لے سکے،اتنی طاقت نہیں کہ اپنی تکلیف بیان کرسکے۔یہ مریض بول نہیں سکتا،مگراس کے زخم چیخ رہے ہیں۔یہ بولتانہیں،بس آنسوبہاتاہے،اس کے آنسو،کراہتیں اورزخم واضح ہیں۔زخموں سے چورجسم کے ہرعضوکی طرف اشارہ کرتاہے۔کبھی سرپکڑتاہے، جیسے سوچ کی قوت چھن گئی ہو۔کبھی دل پرہاتھ رکھتاہے،جیسے انصاف مرچکاہو۔کبھی دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ کرپھوٹ پھوٹ کرروتاہے اورجب معالج ذراساحوصلہ دیتاہے تووہ آنکھوں ہی آنکھوں میں رحم،امیداورزندگی کی بھیک مانگنے لگتاہے۔
برسوں کی محرومیاں،ناانصافیاں اورٹوٹے خواب اس کے چہرے پرنقش ہیں،مگرزبان گنگ ہے۔جیسے مستقبل دیکھنے کی ہمت نہ رہی ہو۔یہ آنسوصرف آنسو نہیں،یہ دہائی ہیں،یہ فریادیں ہیں،یہ سوال ہیں جووہ اپنے باسیوں اور اقتدارکے ایوانوں سے جواب مانگ رہے ہیں۔ اہلِ دردکی بے قراری،یہ کیفیت کچھ اور نہیں،یہ اس مریض کے لواحقین کی کیفیت ہے جوبسترِمرگ پرپڑاہو۔جوکسی معجزے کی آس میں ہو،کسی حکیم کے نسخے،کسی ماہرڈاکٹرکی دوا ،یاکسی صاحبِ دل کی دعاسے زندگی لوٹ آنے کامنتظرہو۔
یہ حال صرف انہی کانہیں جنہیں حالات کی سمجھ عطاہوئی ہے،مگرانہی کے سینے میں یہ دردآبلہ بن چکاہے۔انہی کی نیندیں اُڑچکی ہیں یہی حال آج اُن لوگوں کا ہے جن کے سینے میں پاکستان کادردناسوربن چکاہے۔جن کے دل چین سے محروم ہیں۔نیم شب جب وہ اپنے رب کے حضورسجدہ ریزہوتے ہیں توہچکیاں بندھ جاتی ہیں۔وہ پاکستان کی سلامتی کی دعامانگتے ہوئے اس دھرتی کے لاکھوں شہداءکا واسطہ دیتے ہیں،وہ شہداء جنہوں نے اس وطن کی خاطراپناسب کچھ قربان کر دیااورپھرایک لرزہ خیزسوال دل کوچیردیتاہے:اورسوچتے ہیں،روزِقیامت ہم ان پاکیزہ قربانیوں کاکیاجواب دیں گے؟
اے صاحبانِ اختیار،اے اہلِ وطن:ذراتصورکرو،روزِقیامت اس دھرتی کے شہداءتمہارے سامنے کھڑے ہوں گے۔وہ پوچھیں گے،ہم نے جانیں دیں،تم نے کیادیا؟اللہ تعالیٰ فرماتاہے۔۔یہ نہ سمجھوکہ اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل ہے۔ (ابراہیم:42)
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خونچکاں
ہرچند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
یہ کیفیت صرف اہلِ دردکی نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ جولوگ آنے والے طوفان کوپہلے دیکھ لیتے ہیں،وہ خاموش نہیں بیٹھتے۔طوفان کو پہلے دیکھ لینے والوں پر خاموش رہناحرام ہوجاتاہے۔وہ منادی کرتے ہیں،وہ خبردار کرتے ہیں،وہ رات دن،دامے،درمے،سخنے یہی سوچتے ہیں کہ کسی طرح تباہی کوٹالاجاسکے ۔ میرا مقصدنہ مایوسی پھیلاناہے اورنہ خوف۔مگرذراسوچیے،اگرآپ کاکوئی عزیزجان لیوا مرض میں مبتلاہوجائے توکیاآپ چین سے بیٹھ سکتے ہیں؟کیاآپ دنیاکے بہترین ڈاکٹر،سب سے ماہرسرجن کی تلاش میں دن رات ایک نہ کردیں گے؟کیا اپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ نہیں کریں گے؟اورسب کچھ کرنے کے بعدسجدے میں گڑگڑاکریہ نہیں کہیں گے کہ یا رب شفاتیرے ہی ہاتھ میں ہے؟
پھریہ وطن،یہ توہمارااجتماعی وجودہے،ہماری شناخت،ہماری پہچان ہے،ہماراکل ہے،ہمارے بچوں کامستقبل ہے۔سیاسی سراب اوربڑھتا اندھیرا،ہرحکومت کے خاتمے پرعوام سکھ کاسانس لیتی ہے کہ شایداب حالات بدلیں گے،شایداب اندھیراچھٹے گا،مگرافسوس،اندھیراکم ہونے کی بجائے بڑھتااور گہراہوتا جارہاہے۔مہنگائی نے پہلے ہی جینادوبھرکررکھاہے اوراس پرمستزادبجلی اورگیس کے بلوں نے کمر توڑدی ہے۔وہ جوکل ترقی کے نعرے لگاتے تھے،آج شرمندگی سے نظریں چرا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتاہے: جب ہم کسی بستی کوہلاک کرناچاہتے ہیں تواس کے خوشحال طبقے کوڈھیل دیتے ہیں، وہ نافرمانی کرتے ہیں،پھرعذاب آجاتا ہے۔(بنی اسرائیل:16)کیاتم نے کبھی سوچاکہ کہیں یہ ڈھیل آزمائش تونہیں؟اقتدارامانت ہے،غنیمت نہیں۔
رسولِ اکرم ﷺنے فرمایا”تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے،اورہرایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا”(بخاری ومسلم)
جب قومیں عدل سے محروم ہوجائیں،ظلم پرآوازبلنداوراحتجاج کرناچھوڑدیں،ایک دوسرے کے دکھ سے بیگانہ ہوجائیں،اورصرف اپنی ذات کی سلامتی کی دعامانگنے لگیں توپھراصلاح کیلئےاٹھنے والے ہاتھ بھی بے اثرہو جاتے ہیں توپھراللہ کی نصرت بھی رک جاتی ہے۔ عدل،انصاف اورحکمرانی کی ذمہ داری نہیں نبھائی،توقیامت میں جواب دیناپڑے گا۔
اے فیصلہ کرنے والویہ قوم تمہاری رعیت ہے۔اس کے آنسوتمہارے گریبان سے لپٹیں گے۔یادرکھو،عدل کے بغیرریاستیں زندہ نہیں رہتیں۔ اللہ تعالیٰ کا اعلان ہےبے شک اللہ عدل اوراحسان کا حکم دیتاہے(النحل:90)
اوررسولﷺنے خبردارفرمایا:ظلم سے بچو،کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کاسبب ہوگا۔(مسلم)
مایوسی کفرکے قریب لے جاتی ہے،آج قوم کوجان بوجھ کرمایوسی میں دھکیلاجارہاہے۔خبرداریہ سب سے خطرناک ہتھیارہے۔اللہ فرماتا ہے… اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو(الذمر:53)
آج ایک منظم منصوبے کے تحت پاکستانی قوم کومایوسی کی جھاڑیوں میں اس طرح پھنسایااوردھکیلاجارہاہے کہ پھرخون آشام درندے چھوڑدیے جائیں۔ یاد رکھیے،مایوسی ایٹمی تابکاری سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔دنیا نے دیکھاہے کہ قومیں ایٹمی تباہی کے بعدبھی امید کے سہارے دوبارہ کھڑی ہوگئیں،مگرمایوسی نے وہ جانیں لی ہیں جوجنگیں بھی نہ لے سکیں۔
امیدکاچراغ بجھادینادراصل زندگی کی جنگ ہاردینے کے مترادف اورمنزل سے دستبرداری ہے۔دردزندگی کی علامت ہے،خون بہے تو انسان علاج کی فکر کرتا ہے،بچاؤکی تدبیرکرتاہے۔مریض وہی بچتاہے جوجینے کی آرزو رکھتاہو۔مایوسی شیطانی ہتھیارہے۔ابلیس کی پہچان ہی ناامیدی ہے۔ابلیس صرف شیطان کانام نہیں،عربی لغت میں مایوس روح کوبھی ابلیس کہاگیاہے۔رسولِ رحمتﷺکافرمان ہے: زندگی پرسوارہوجاؤ،ورنہ زندگی تم پرسوارہوجائے گی۔ رسول ﷺ نے فرمایا:طاقتورمومن کمزورمومن سے بہتراوراللہ کوزیادہ محبوب ہے(مسلم)طاقت صرف بازوؤں کی نہیں،حوصلے،یقین اورکردارکی بھی ہوتی ہے۔
میں نے اپنے وجدان کے بوجھ تلے،پوری دیانت اوردردکے ساتھ یہ صدابلندکی ہے۔اب یہ صداجن ایوانوں تک پہنچنی چاہیے۔اقتداروالو سے آخری صدا ہے:اب بھی وقت ہے۔عدل اورانصاف کوزندہ کریں،مایوسی کی بیخ کنی کریں،اقتدارکوامانت سمجھیں،حق داروں کوامانت لوٹائیں،قوم کوامیداورراستہ دیں، اوراللہ کے حضورجھک جاؤ۔اے صاحبانِ اختیار،ظلم سزا کی نوید ہے۔یادرکھیں،اقتدارغنیمت نہیں،امانت ہے۔
ذراٹھہریے،اپنے عہدوں،اپنے اختیارات، اپنی طاقت اوراپنی منصوبہ بندی سے ایک لمحہ نظریں ہٹاکراپنے انجام کی طرف دیکھیے۔ قرآن اعلان کرتا ہے… انہیں روک لیاجائے گا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا(الصافات:24)
وہ دن آرہاہے جب نہ پروٹوکول کام آئے گا،نہ دستاویزات،نہ بیانیے،نہ ادارے،صرف اعمال بولیں گے۔وہاں یہ سوال گونجے کیاہمیں اللہ کے حضورجواب دہ نہیں ہونا؟کیااقتدارامانت نہیں؟کیااس قوم کے آنسوعرش کونہیں ہلاتے؟اقتدارعیش نہیں،امانت ہے۔یہ آنسو،یہ آہیں،یہ سسکیاں عرش تک پہنچتی ہیں۔اب بھی وقت ہے اگرخوفِ آخرت جاگ جائے،اگرعدل کوزندہ کردیاجائے،اگررحم اوردیانت کااعلان ہو جائے تویہ مریض سانس لے سکتاہے، اور ایک بارپھراسلامی معاشرے کی ایمانی خوشبواس دھرتی پرلوٹ سکتی ہے۔عوامی امیدکوزندہ رکھو۔
یہ وعظ صرف ایوانوں اورحکمرانوں کیلئے نہیں،یہ تمہارے لیے بھی ہے۔کیاتم نے ظلم کوصرف اس لیے قبول کرلیاکہ وہ تم پربراہِ راست نہیں آرہا؟کیاتم خاموش ہوگئے ہوکہ کہیں تمہاری باری نہ آجائے؟خاموشی اور مایوسی خوددشمن ہیں۔اے عوام!حق کہنامت چھوڑو، مایوسی کوٹھکرادو،اوراصلاح کاراستہ اپناؤ۔یادرکھو خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتے ہیں۔قرآن خبردارکررہاہے:
ظالموں کی طرف جھکاؤنہ رکھو،ورنہ آگ تمہیں بھی آلے گی(ہود:113)
صرف اپنی ذات کی سلامتی مانگنا کافی نہیں،قومیں اجتماعی دعااوراجتماعی اصلاح سے بچتی ہیں۔
رسولﷺنے فرمایا:جب لوگ ظالم کودیکھیں اوراس کاہاتھ نہ پکڑیں توقریب ہے کہ اللہ سب کوعذاب میں مبتلاکردے(ترمذی)
اگرخوفِ آخرت جاگ گیا،تویہی مریض پاکستان پھرکھڑاہوسکتاہے۔اوراگریہ لمحہ بھی گنوادیاتوتاریخ معاف نہیں کرے گی،اورربّ کائنات توہرگز نہیں۔
اے اس دھرتی کے رہنے والو:یہ تحریراگردل کوچیرگئی ہے،اگریہ الفاظ تمہارے سینے میں آگ بن کراترے ہیں توجان لوکہ دل ابھی زندہ ہے۔مردہ قومیں دردمحسوس نہیں کرتیں۔یہ وقت رونے کانہیں،اٹھ کھڑے ہونے کاہے۔اگرآنکھ نم ہوئی ہے توجان لوکہ امیدابھی مری نہیں۔ قومیں اسی نمی سے سیراب ہوکراٹھتی ہیں۔یہ وقت الزام درالزام کانہیں،یہ وقت سمت درست کرنے کاہے۔یہ وقت یہ طے کرنے کا ہے کہ ہم تاریخ کے تماشائی بنیں گے یااس کے معمار۔اندھیراکسی ایک چراغ سے نہیں ڈرتا،وہ چراغوں کے قافلے سے بھاگتاہے۔
اے اقتدارکے ایوانوں میں بیٹھنے والو!خبردار!تاریخ تمہاری منتظرنہیں رہتی اورنہ ہی تاریخ تاخیرکومعاف کرتی ہے۔وہ فیصلوں کے لمحے میں لکھی جاتی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ وردی کام آتی ہے،نہ عہدے،قلم،نہ مہر،نہ بیان۔یادرکھو،تخت وتاج عارضی ہیں،مگرعدل دائمی ہے۔وہ دن آتاہے جب نہ پروٹوکول کام آتاہے،نہ بیانیے،نہ توجیہات—صرف اعمال بولتے ہیں۔قرآن کی صداآج بھی گونج رہی ہے: “انہیں روک لیاجائے گا،بے شک ان سے سوال کیاجائے گا ” ۔اس سوال کی تیاری کرلوکیونکہ اس مریض کے آنسوبڑی سرعت کے ساتھ عرش تک کوہلانے کیلئے منتظرہیں۔اگرآج رحم، دیانت اور انصاف کوزندہ کردیا گیا،تویہی مریض سانس لے لے گا،اگرآج عدل زندہ ہواتو ریاست بچے گی،اگرآج بھی ظلم کودوام ملاتوفیصلہ اللہ کی عدالت میں ہوگا—اوراگرآج بھی تاخیر کی گئی توتاریخ کی سرجری بے رحم ہوگی،اوروہاں کوئی بچ نہیں سکتا۔
اوراے عوام،سن لو!یہ خطاب صرف ایوانوں کیلئےنہیں۔خاموشی اورمایوسی سب سے خطرناک ہتھیارہیں۔خاموش تماشائی بھی جرم میں شریک ہوتے ہیں ۔ خاموشی جرم ہے،اورمایوسی کفرکے دہانے پرکھڑاہوناہے۔حق کہناچھوڑدوگے توباطل کوتقویت ملے گی۔ظلم کوصرف اس لیے قبول نہ کروکہ وہ ابھی تمہاری دہلیزپرنہیں آیا۔یادرکھو،جب آگ لگتی ہے تووہ گلی نہیں پوچھتی۔حق کہناتمہارافرض ہے،اور باطل کے سامنے جھک جاناتمہاری ہار۔امیدکوزندہ رکھوکیونکہ امیدکے بغیراصلاح ممکن نہیں۔
یہ مریض پاکستان آج بھی زندہ ہوسکتاہے—بچ سکتاہے—اگرخوفِ آخرت جاگ جائے،اگرعدل کوشعاراورہتھیاربنالیاجائے،اگراقتدارکو امانت سمجھ لیاجائے،اوراگرعوام مایوسی کے خول سے باہرنکل آئیں۔اگرامیدکوسینے سے لگالیاجائے۔یہ اختتام کسی داستان کانہیں،یہ آغازکی دستک ہے۔یہ اعلان ہے، یا توہم اس اعلان پرلبیک کہیں گے،ہم اس دستک پردروازہ کھولیں گے،یاپھرتاریخ ہمارے دروازے توڑ کرباعثِ عبرت بنادے گی۔فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔اللہ ہمیں سننے،سمجھنے اورعمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین یا ربّ العالمین





