عصرِحاضرمیں قومی دفاع محض سرحدوں کے تحفظ کانام نہیں رہابلکہ یہ ریاستی وقار،سیاسی خودمختاری اورفکری استقلال کاآئینہ دار بن چکاہے۔اقوامِ عالم میں وہی ریاستیں باوقارسمجھی جاتی ہیں جودفاعی اعتبارسے نہ صرف خودکفیل ہوں بلکہ اپنی قوت کے استعمال میں اخلاقی ضبط اورفکری توازن بھی رکھتی ہوں۔دفاعی ٹیکنالوجی ریاستی خودمختاری،جغرافیائی توازن اورعالمی سیاست کاایک بنیادی ستون بن چکی ہے۔اسلام نے طاقت کونہ جارحیت کاہتھیاربنایااورنہ کمزوری کاعذر؛ بلکہ اسے عدل،تحفظ اورامن کے قیام کاذریعہ قراردیا۔قرآن کایہ ابدی اصول” وَأَعِدُّوالَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ اوراُن(دشمنوں)کے مقابلے کیلئے جہاں تک تم سے ہوسکے قوت تیاررکھو۔ہردورمیں اسلامی ریاست کے دفاعی تصورکی بنیادرہاہے۔
یہ آیت محض عسکری تیاری کاحکم نہیں،بلکہ ایک ہمہ گیرفکری منشورہے،جس میں علم،حکمت،نظم،خودانحصاری اوراخلاقی ذمہ داری سب شامل ہیں۔تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ جب امت نے قوت کوعلم کے تابع رکھا تووہ عادل بھی رہی اورغالب بھی؛اورجب قوت علم و اخلاق سے جدا ہوئی تووہ فتنہ بن گئی۔ایسے ہی فکری تناظرمیں،سعودی دارالحکومت ریاض میں منعقدہونے والے ورلڈڈیفنس شو2026 میں پاکستان کی جانب سے اسمیش ہائپرسونک میزائل کی رونمائی محض ایک عسکری خبرنہیں،بلکہ ایک تہذیبی اعلان،ایک فکری دستک اورایک تاریخی اشارہ ہے—کہ پاکستان دفاع کومحض طاقت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتا ہے۔پاکستان کی دفاعی صنعت کی جانب سے اسمیش ہائپرسونک میزائل کی تیاری اسی قرآنی تصورکی جدیدتعبیرہے،جس میں ٹیکنالوجی،حکمت اورذمہ داری یکجانظرآتی ہے۔
پاکستان کی دفاعی صنعت کی جانب سے ورلڈ ڈیفنس شو 2026میں اسمیش ہائپرسونک اینٹی شپ و لینڈ اٹیک بیلسٹک میزائل کی رونمائی محض ایک تکنیکی پیش رفت نہیں بلکہ ایک فکری،تہذیبی اوراسٹریٹجک اعلان ہے۔زیرِنظرمقالہ اسمیش میزائل کی تکنیکی خصوصیات، دوہرے کرداراورعالمی دفاعی تناظرمیں اس کی اہمیت کاتجزیہ کرتاہے،ساتھ ہی اسلامی تصورِقوت،ذمہ داری اوردفاعی اخلاقیات کی روشنی میں اس پیش رفت کاتنقیدی مطالعہ پیش کرتاہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والے ورلڈڈیفنس شو2026میں جب پاکستانی ادارہ گلوبل انڈسٹریل اینڈڈیفنس سلوشنز(جی آئی ڈی ایس)عالمی اسٹیج پرجلوہ گرہوا،تواس کی پیشکش محض ایک ہتھیار کی نمائش نہ تھی بلکہ ایک فکری اعلان تھا۔اسی موقع پر پاکستان نےاسمیش ہائپرسونک اینٹی شپ بیلسٹک میزائل متعارف کراکریہ واضح کردیاکہ وہ دفاعی صنعت میں محض صارف نہیں بلکہ خالق اورمعمارکے منصب پرفائزہوچکاہے۔یہ میزائل سمندری اہداف کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے،جواسے جدیدجنگی تقاضوں کے عین مطابق بناتاہے۔
عصرِحاضرکی دنیامیں دفاعی طاقت صرف بندوق یامیزائل کانام نہیں،بلکہ اس فکری خودمختاری کااظہارہے جوکسی قوم کودوسروں کی محتاجی سے نکالتی ہے۔جی آئی ڈی ایس کی جانب سے اسمیش میزائل کی نمائش اس بات کااعلان ہے کہ پاکستان اب دفاعی صنعت میں صرف پیروکارنہیں بلکہ شریکِ مکالمہ بن چکاہے ۔یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ایک ریاست اپنی بقاکودرآمدشدہ تصورات کی بجائے اپنے علمی ،سائنسی اورتہذیبی سرمائے سے جوڑتی ہے—اوریہی اسلامی تصورِدفاع کی بنیادہے۔
اسمیش میزائل کوپاکستانی ادارے گلوبل انڈسٹریل اینڈڈیفنس سلوشنز نے ورلڈڈیفنس شو2026،ریاض میں متعارف کرایا۔یہ میزائل ایک جدیدہائپرسونک اینٹی شپ او لینڈ اٹیک بیلسٹک پلیٹ فارم ہے،جودوہرے کردار کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ پیش رفت اس امرکی علامت ہے کہ پاکستان اب محض دفاعی صارف نہیں بلکہ دفاعی تخلیق کارکے درجے میں داخل ہوچکاہے۔
قرآن مجید نے اہلِ ایمان کوقوت کی تیاری کاحکم دے کردفاع کومحض عسکری سرگرمی کے بجائے ایک فکری اوراخلاقی ذمہ داری قراردیاہے۔اسلامی تاریخ میں دفاعی قوت ہمیشہ علم،نظم اوراخلاق کے تابع رہی ہے ۔جدید ریاستی نظام میں یہ تصوردفاعی صنعت،خود انحصاری اوراسٹریٹجک خودمختاری کی صورت اختیار کرچکاہے۔پاکستان،جو طویل عرصے تک دفاعی ضروریات کیلئےبیرونی ذرائع پرانحصارکرتارہا،اب بتدریج ایک فعال دفاعی صنعت کی جانب بڑھ رہا ہے۔اسمیش میزائل اسی ارتقائی عمل کی ایک نمایاں کڑی ہے۔
اسمیش کوجس غیرمعمولی رفتار،عمودی زاویے اوردرست رہنمائی کے ساتھ تیارکیاگیاہے،وہ جدیدعسکری فلسفے کی علامت ہے۔ہائپر سونک رفتاراورتقریباً عمودی حملہ اس حقیقت کااظہارہے کہ جنگ اب محاذوں پرنہیں بلکہ نظاموں پرلڑی جاتی ہے۔یہ میزائل جدید فضائی ومیزائل دفاعی نظاموں کوچکمہ دینے کی صلاحیت رکھتاہے،جواس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان دفاع کوصرف ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی ڈیٹرنس کے طورپردیکھتاہے—اور یہی عقلِ سلیم کاتقاضا ہے
اکیسویں صدی میں جنگ کامفہوم تبدیل ہوچکاہے۔اب عسکری برتری کادارومداررفتار،درستگی،اوردفاعی نظاموں کوغیرمؤثربنانے کی صلاحیت پرہے۔ ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی اسی تبدیلی کی علامت ہے،جوآوازکی رفتارسے کئی گناتیزہوکرردِعمل کے وقت کونہایت محدودکردیتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ،جنوبی ایشیا اوربحرِہندکے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی اہمیت کو دوچندکردیاہے۔
کمپنی کے مطابق اسمیش میزائل کوغیرمعمولی رفتار،نہایت درست رہنمائی اورتقریباًعمودی زاویے سے حملہ کرنے کی صلاحیت کے ساتھ ڈیزائن کیاگیاہے۔ یہ خصوصیات اسے جدید فضائی اورمیزائل دفاعی نظاموں کیلئے ایک سنجیدہ چیلنج بناتی ہیں۔یوں یہ میزائل دشمن کی حفاظتی تہوں کوچیرکراپنے ہدف تک پہنچنے کی وہ صلاحیت رکھتاہے،جسے عسکری اصطلاح میں اسٹریٹجک سرپرائزکہاجاتاہے۔
اکیسویں صدی کی جنگیں میدانوں سے زیادہ ذہنوں،رفتاراورنظاموں کے درمیان لڑی جارہی ہیں۔عالمی دفاعی تناظرمیں ہائپرسونک ٹیکنالوجی نے عسکری توازن کویکسربدل دیاہے،کیونکہ یہ دشمن کے ردِعمل کاوقت کم کر دیتی ہے،میزائل ڈیفنس سسٹمزکوغیرمؤثر بناتی ہے،محدودمگر فیصلہ کن کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔مشرقِ وسطیٰ،بحرِ ہنداورجنوبی ایشیامیں جغرافیائی کشیدگی کے باعث ایسے ہتھیاروں کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ ہواہے،جس نے دفاعی صنعت کوعالمی سیاست کامرکزبنادیاہے۔
اسمیش میزائل کوجی آئی ڈی ایس نے ایک جدیدہائپرسونک بیلسٹک پلیٹ فارم کے طورپر متعارف کرایاہے،جو سمندری اورزمینی دونوں اہداف کے خلاف مؤثرکرداراداکرسکتاہے۔اینٹی شپ ترتیب میں اسمیش میزائل کی رینج 290 کلومیٹررکھی گئی ہے۔اس میں384کلوگرام وزنی وارہیڈ نصب ہے جبکہ رہنمائی کیلئےایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈاینرشیل نیویگیشن سسٹم کے ساتھ ایکٹوریڈارسِیکراستعمال کیاگیاہے۔میزائل میں سنگل اسٹیج،ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹرنصب ہے،جواسے تیزرفتاری اورمستحکم پروازفراہم کرتی ہے۔
اینٹی شپ ترتیب میں وارہیڈاورایکٹوریڈارسِیکرکے ساتھ اسمیش میزائل بحری جنگ کے اصولوں میں ایک نیاباب کھولتاہے۔سمندر،جو تجارت،توانائی اور جغرافیائی سیاست کامرکزبن چکاہے،وہاں دفاعی برتری اب ناگزیر ہوچکی ہے۔کمپنی کے مطابق اس کی درستگی”سی ای پی”10میٹریااس سے کم ہے،جبکہ آخری مرحلے میں اس کی رفتارآوازسے دوگنازیادہ ہوسکتی ہے،جواسے سمندری جنگ میں ایک مہلک ہتھیاربناتی ہے۔یہ خصوصیات اسمیش کوبحری دفاع میں ایک فیصلہ کن ہتھیاربناتی ہیں،خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں جدید میزائل ڈیفنس سسٹمزموجودہوں۔اسلامی تاریخ میں بحری قوت کوہمیشہ اہمیت دی گئی—چاہے وہ خلافتِ عثمانیہ ہویااندلس۔اسمیش اسی روایت کاجدیدمظہرہے،جہاں سمندرکو کمزوری نہیں بلکہ تحفظ کاذریعہ بنایاگیاہے۔
اینٹی شپ ترتیب میں اسمیش میزائل کوسمندری اہداف کے خلاف استعمال کیلئےتیارکیاگیاہے،تقریباًعمودی زاویے سے حملہ کرنے کی صلاحیت اسے جدید بحری دفاعی نظاموں کیلئےایک سنجیدہ چیلنج بناتی ہے۔علاوہ ازیں زمینی اہداف کیلئےتیارکردہ ورژن میں بھی میزائل کی رینج 290کلومیٹررکھی گئی ہے،تاہم اس صورت میں وارہیڈ کاوزن بڑھاکر444کلوگرام کردیاگیاہے جبکہ رینج وہی برقرار رکھی گئی ہے۔اس ترتیب میں نیویگیشن مکمل طورپر ایچ ڈی جی این ایس اسسٹڈ انرشیل نیویگیشن سسٹم پرانحصارکرتی ہے،جواسے برّی اہداف کے خلاف زیادہ مؤث بناتی ہے۔یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ اسمیش صرف رفتارہی نہیں بلکہ ضرب کی قوت میں بھی اپنی مثال آپ ہے اوریہ میزائل محض ہدف کونشانہ نہیں بناتابلکہ فیصلہ کن کرداراداکرتاہے۔یہ اعدادوشماراس میزائل کومحدودمگرفیصلہ کن حملے کیلئےموزوں بناتے ہیں۔یہاں اسلامی تصورِجنگ جھلکتا ہے،غیرضروری طوالت نہیں،غیرضروری تباہی نہیں،بلکہ واضح، محدوداورمؤثراقدام۔
زمینی اہداف والے ورژن میں بھی وہی سنگل اسٹیج ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹراستعمال کی گئی ہے جومحض تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ فکری سادگی کااظہار ہے ۔زمینی اہداف کے خلاف استعمال کیلئےاسمیش کاعلیحدہ کنفیگریشن تیارکیاگیاہے۔اس کی درستگی15میٹریااس سے کم بتائی گئی ہے،جبکہ رفتار یہاں بھی آوازسے دو گنازیادہ رہتی ہے۔یہ ہم آہنگی اس بات کی دلیل ہے کہ میزائل کی ساخت میں سادگی اورکارکردگی کویکجاکیا گیا ہے،جوجدید دفاعی فلسفے کابنیادی اصول ہے۔ اسمیش میزائل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا دوہرے کردارکاحامل ہوناہے۔ایک ہی پلیٹ فارم کابحری اورزمینی مشنزمیں استعمال لاجسٹک نظام کوسادہ بناتا ہے ،تربیت اوردیکھ بھال کے اخراجات کم کرتاہے،آپریشنل لچک میں اضافہ کرتاہے۔
اسلامی تہذیب ہمیشہ پیچیدگی کے بجائے حکمت آمیزسادگی کی قائل رہی ہے—چاہے وہ فقہ ہو،سیاست ہویاعسکری نظم۔ یہی سادگی لاجسٹکس کومؤثر، اخراجات کوکم اورنظام کوقابلِ اعتمادبناتی ہے۔یہ ترتیب اسے حساس تنصیبات،عسکری مراکزاوراسٹریٹجک اہداف کیلئےموزوں بناتی ہے۔اسلامی تصورِ نظم وکفایت کے تناظرمیں یہ حکمتِ عملی اسراف کے بجائے دانش مندانہ وسائل کے استعمال کی مثال ہے۔
جی آئی ڈی ایس کے مطابق اسمیش میزائل کودوہرے کردارکے تحت تیارکیاگیاہے،تاکہ ایک ہی میزائل کوسمندری اورزمینی دونوں نوعیت کے مشنزمیں استعمال کیاجاسکے۔کفایت،خودانحصاری اورنظم جیسے دوہرے کردارکی حکمتِ عملی دراصل جدیداسلامی ریاست کے تین بنیادی اصولوں کی ترجمانی ہےیعنی اسراف سے اجتناب،کفائت شعاری،نظم وضبط اورخود انحصاری ایک ہی میزائل کادو میدانوں میں استعمال اس بات کاثبوت ہے کہ دفاعی طاقت کوعقل اور نظم کے ساتھ برتاجارہاہے،نہ کہ محض نمائش کیلئے۔
اس حکمتِ عملی سے نہ صرف لاجسٹک نظام سادہ ہوجاتاہے بلکہ اخراجات میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔یوں یہ میزائل عسکری کفایت شعاری اورعملی حکمتِ عملی کاحسین امتزاج بن کرسامنے آتاہے۔اسلام میں طاقت کاتصورجارحیت نہیں بلکہ تحفظ اورتوازن پرمبنی ہے۔ اسلامی ریاست میں قوت کااستعمال اخلاقی حدودکے اندررہ کرہی جائزہے۔اسمیش جیسے ہتھیارکی تیاری اسی صورت میں اسلامی فکر سے ہم آہنگ ہوسکتی ہے جب اس کامقصد دفاع ہواوراس کااستعمال واضح ضابطوں کے تحت ہو،غیر ضروری تباہی سے اجتناب کیا جائے۔یہ پہلواسمیش کومحض ایک عسکری اثاثہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داردفاعی علامت بناتاہے ۔ اسمیش میزائل میں استعمال ہونے والی سنگل اسٹیج،ڈوئل تھرسٹ سالڈراکٹ موٹراس کی رفتار،بلندی اورٹرمینل کنٹرول کوبہتربناتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی میزائل کو ابتدائی رفتارکے بعددوبارہ توانائی فراہم کر کے دفاعی نظاموں سے بچ نکلنے میں مدد دیتی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک انتہائی درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اسمیش میزائل کوبھی ایسے ہی متنازع اورخطرناک ماحول کیلئےایک مؤثرہتھیارکے طورپرپیش کیاجا رہاہے۔یہ میزائل اس حقیقت کی علامت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاعی تقاضوں کوسمجھتاہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی کے مزاج سے بھی پوری طرح باخبرہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اوردیگر حساس خطوں میں طویل فاصلے تک درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے اور ہائپرسونک اور درست حملہ کرنے والے ہتھیاروں کی عالمی طلب میں اضافہ ہورہاہے۔پاکستان کیلئےیہ موقع اقتصادی اور اسٹریٹجک دونوں حوالوں سے اہم ہے،مگریہاں اصل سوال صرف طلب کانہیں بلکہ ذمہ داری کاہے ۔ اسلامی ریاست کے طورپراس پر اخلاقی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔اسلامی فکرمیں طاقت امانت ہے، تجارت نہیں۔اگرپاکستان اس میدان میں قدم رکھتاہے تواس کے ساتھ اخلاقی احتساب،ضابطہ اورشعوربھی لازم ہے—اوریہی وہ پہلوہے جو اسمیش کومحض ہتھیارنہیں بلکہ ایک فکری علامت بناتاہے۔تاہم اسلامی ریاست ہونے کے ناتے اس پر اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہتھیار تنازعات کو بھڑکانے کیلئےنہ بیچے جائیں، دفاعی تعاون میں شفافیت رکھی جائے،انسانی جانوں کے تحفظ کومقدم رکھاجائے مگراپنے دفاع اوردشمن کامقابلہ کرنے کیلئے جدید ہتھیاروں سے مسلح رہنااسلامی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے جس کااللہ نے قرآن میں بھی حکم دے رکھاہے۔
اسمیش کادوہرے کردارکی حکمتِ عملی اورلاجسٹک فوائدکاتصورجدید عسکری منصوبہ بندی میں ایک نمایاں رجحان ہے۔اس کے فوائد درج ذیل ہیں:لاجسٹک سادگی،کم تربیتی اخراجات،یکساں مینٹیننس نظام،زیادہ آپریشنل لچک،اسلامی فکرمیں کفایت شعاری اورنظم کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے،اوریہ تصور اسی اصول کاعملی اظہارہے۔اس مطالعے سے درج ذیل نتائج اخذہوتے ہیں:
اسمیش میزائل پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کی علامت ہے۔دوہرے کردارکی صلاحیت جدیدعسکری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے، ہائپرسونک رفتاراوردرستگی خطے میں ڈیٹرنس کے کردارکومضبوط اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت اس ٹیکنالوجی کااستعمال اخلاقی نظم کاتقاضا کرتاہے۔اسلامی تصورِدفاع کافکری واخلاقی تجزیہ کریں تویہ واضح ہوتاہے کہ اسلامی ریاست میں قوت کامقصدظلم کا انسداد،امن کاتحفظ،دشمن کوجارحیت سے باز رکھناضروری ہے۔
اسمیش جیسے ہتھیاراسی وقت اسلامی فکرسے ہم آہنگ قراردیے جاسکتے ہیں جب ان کااستعمال دفاعی حکمتِ عملی کے دائرے میں رہے۔یہ میزائل ڈیٹرنش کومضبوط کرتاہے،غیرضروری جنگ کوروکتاہے اورطاقت کے توازن کوبرقراررکھتاہے اوردوہرے کردارکی حکمتِ عملی وسائل کے مؤثراستعمال کی علامت ہے،اوراسلامی تصورِدفاع کے تحت یہ ٹیکنالوجی اخلاقی حدودمیں قابلِ جوازہے۔
اسمیش میزائل کی رونمائی محض ایک عسکری خبرنہیں،بلکہ یہ اس فکری سفرکی علامت ہے جس میں پاکستان نے خودانحصاری، سائنسی مہارت اوردفاعی وقار کویکجاکرلیاہے۔اسمیش میزائل دراصل ایک دھات کاڈھانچہ نہیں،بلکہ ایک فکری اعلان ہے—کہ پاکستان دفاع کوخوف کے بجائے حکمت،جارحیت کے بجائے توازن،اورطاقت کی بجائے ذمہ داری کے ساتھ دیکھتاہے۔یہ پیشکش ہمیں یاددلاتی ہے کہ طاقت کااصل سرچشمہ محض فولاداوربارودنہیں،بلکہ وہ فکرہے جوعلم،حکمت اورذمہ داری کے ساتھ بروئے کارآئے تودنیامیں امن کی ضمانت بن جاتاہے۔اسمیش ہائپرسونک میزائل پاکستان کی دفاعی تاریخ میں محض ایک ہتھیار کا اضافہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اسٹریٹجک اعلان ہے۔اسمیش،اپنے نام کی طرح،دفاعی دنیامیں ایک مضبوط دستک ہے—ایسی دستک جوآنے والے برسوں میں پاکستان کے دفاعی تشخص کونئی سمت عطاکرسکتی ہے۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اوراسلامی فکرایک دوسرے کی ضدنہیں بلکہ باہم ہم آہنگ ہوسکتے ہیں۔یوں اسمیش،قوت اور اخلاق،رفتاروضبط ،اورجدیدیت وروایت کے درمیان ایک متوازن مثال کے طورپرسامنے آتاہے—اوریہی توازن اسلامی ریاست کے تصورِدفاع کی روح ہے۔یہ پیش رفت ہمیں یاددلاتی ہے کہ اگرامت علم کوایمان کے ساتھ،اورقوت کواخلاق کے ساتھ جوڑدے،تودفاع فتنہ نہیں بنتابلکہ امن کامحافظ بن جاتاہے۔یوں اسمیش، عصرِحاضر میں اسلامی ریاست کے تصورِدفاع کاجدید استعارہ ہے—خاموش،مضبوط، باوقاراورذمہ دار۔اسمیش ہائپرسونک میزائل پاکستان کی دفاعی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ پیش رفت اس بات کاثبوت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی،اگرفکری شعوراوراخلاقی ذمہ داری کے ساتھ ہم آہنگ ہو،تونہ صرف ریاستی سلامتی کاضامن بنتی ہے بلکہ عالمی نظام میں ایک باوقارمقام بھی عطاکرتی ہے۔یوں اسمیش،عصرِحاضرمیں اسلامی ریاست کے تصورِ دفاع کاایک جدید،سنجیدہ اورذمہ دارمظہرقرار دیاجاسکتاہے۔





