A dream, a cry, and the lament of a nation

ایک خواب،ایک چیخ،اورایک امت کانوحہ

آج کی یہ محفل کوئی رسمی اجتماع نہیں،یہ الفاظ کاکھیل نہیں،یہ وقتی جوش کی آگ نہیں،بلکہ یہ دلوں کے دروازے کھٹکھٹانے کی ایک عاجزانہ کوشش ہے۔آج میں آپ سے وہ بات کرنے آیاہوں جوسنی نہیں جاتی،محسوس کی جاتی ہے۔جوعقل کونہیں،روح کو جھنجھوڑتی ہے۔جو صرف کانوں تک نہیں جاتی بلکہ دل کی گہرائیوں میں اترکرضمیرکو بے چین کردیتی ہے۔آج میں کوئی خبرنہیں سنارہا،نہ ہی تجزیہ کرنے آیاہوں،آج میں کوئی نعرہ بھی نہیں لگانے آیابلکہ آج میں آپ کے سامنے ایک خواب رکھناچاہتاہوں۔آج میں آپ سے سوال کرنے آیاہوں، اورخبردار،کہ یہ سوال آسان نہیں،یہ سوال آرام دہ نہیں،یہ سوال نیندحرام کردینے والاہے۔آج میں آپ کے سامنے کوئی تقریر نہیں کرنے آیا بلکہ آج میں آپ کے سامنے ایک آئینہ رکھ رہاہوں،جس میں اگرہم نے خودکودیکھ لیاتوشایدہم چین سے نہ سوسکیں۔

میرے عزیزو!اگرآپ سمجھتے ہیں کہ یہ اجتماع ایک نارمل پروگرام ہے،توآپ غلط ہیں،یہ ایک احتسابی عدالت ہے اوراس عدالت میں ملزم کوئی اورنہیں ہم خودہیں۔آج میں آپ کوکہانی نہیں سناؤں گا،بلکہ خواب سنانے اوراس کےنتائج دکھاؤں گالیکن ایساخواب جودنیاکےلاکھوں مسلمانوں کیلئےڈراؤنا خواب نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہےلیکن ایساخواب جودراصل ہماری اجتماعی حقیقت ہے،ایک چیخ جوصدیوں سے دبائی جارہی ہے،اور ایک نوحہ جوپوری امت کی سانسوں میں گھلاہواہے۔سوچئے!اگرآج رات آپ کے گھرکی چھت نہ بچے،اگرآپ کے بچوں کے بستروں پر میزائل برسیں،اگرآپ کی ماں کی چیخ ٹی وی اسکرین تک نہ پہنچے توکیاتب بھی آپ کہیں گے یہ ہمارامسئلہ نہیں؟اس لیے میں آپ سے گزارش کرتاہوں کہ چندلمحوں کیلئےدنیاکی آوازوں کوخاموش کردیجیے،موبائل بندکردیجیے،دل کوحاضررکھیے اورضمیرکوجگالیجیے کیونکہ آج کی بات سننے کی نہیں،محسوس کرنے کی ہے۔اورتاریخ کے کٹہرے میں ہم سب کانام پکارنے والی ہے۔

یہ خطاب غزہ کے بچوں کی طرف سے ہے، یہ فریادکشمیرکی ماؤں کی طرف سے ہے،یہ آہیں ان یتیموں کی ہیں جنہوں نے اپنے باپ نہیں،صرف کفن دیکھے ہیں اورآج یہ سوال پوری طاقت سے آپ کے ضمیرپردستک دے رہاہے کیاہم واقعی ایک امت ہیں؟

آج میں آپ کے سامنے کوئی سیاسی تقریرکرنے نہیں آیا،کوئی جذباتی نعرہ لگانے نہیں آیا،کوئی وقتی جوش پیداکرنے نہیں آیا۔آج میں آپ کے سامنے ایک خواب رکھنے آیاہوں۔ایسا خواب جودراصل ہماری اجتماعی حقیقت ہے۔ذراایک لمحے کیلئے،وہ تمام لوگ جن کے سینوں میں اب بھی دل دھڑکتاہے،میں آپ سے گزارش کرتاہوں،بس ایک لمحے کیلئےاپنی آنکھیں بندکرلیجیے۔اورمیرے ساتھ اُس لمحے میں آئیے جہاں ایک فردنہیں،ایک پوری امت جاگ اٹھی تھی۔سوچئے،رات کاآخری پہرہے۔دن بھرکی تھکن کے بعد،خاموشی پورے گھرپر چھائی ہوئی ہے۔کمرے میں مدھم روشنی ہے،ایسی روشنی جونیندکواور گہرا کردیتی ہے،۔خاموشی ایسی ہے جیسے وقت رک گیاہو۔بچے اپنے بستروں میں گہری نیندسورہے ہیں۔ایسی خاموشی کہ اگر سانس ذراتیزہوجائے توخودہی سنائی دے۔ پرسکون چہروں پرمعصوم مسکراہٹیں ہیں،سانسوں کی آمدورفت زندگی کی علامت بن کرچل رہی ہیں جوزندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہیں، وہ مسکراہٹیں جوایک باپ،ایک ماں،ایک دادا،ایک ناناکی زندگی کاسرمایہ ہوتی ہیں اورایک ناقابل یقین خوشی کی گھڑیاں بھی جب ان کی اولادبڑے پر سکون اندازمیں خوبصورت خوابوں کی طرح،ان کی دعاؤں کی قبولیت کے بدلے میں ان کودکھائی دے رہی ہوتی ہیں۔

اچانک آنکھ کھلتی ہے۔اورآنکھ سب سے پہلے بچوں کے چہروں کوڈھونڈتی ہےلیکن جونظرآتاہے،وہ خواب نہیں، قیامت کامنظرہوتاہے۔ گردمیں اٹے چہرے ، خون میں ترمعصوم صورتیں، زخموں سے چوربدن،ٹوٹاہواملبہ،گرتی ہوئی دیواریں،سردہوامیں کانپتاوجود۔دل چیخنا چاہتاہے،لیکن چیخ حلق میں پھنس جاتی ہے۔ہاتھ کانپ رہے ہیں،انگلیاں بچوں کوچھوناچاہتی ہیں،یہ یقین کرنے کیلئےکہ شایدوہ زندہ ہوں لیکن دل ڈررہاہے کہ کہیں یہ لمس آخری نہ ہو۔جسم میں دردہے،ہڈیاں ٹوٹی ہوئی محسوس ہوتی ہیں،سانس بھاری ہے،مگران سب سے بڑھ کرایک ہی فکرہ ے،میرے بچے کہاں ہیں؟

پھراچانک آنکھ پوری طرح کھلتی ہے۔کمرہ اپنی جگہ ہے۔دیواریں سلامت ہیں۔چھت موجودہے۔بچے صحیح سلامت ہوتے ہیں،بچے اپنے بستروں میں گہری نیندسو رہے ہیں۔ان کے چہرے صاف ہیں،پرسکون ہیں،محفوظ ہیں۔اوراسی لمحے انسان ٹوٹ جاتاہے۔چیخ چیخ کر رونے کودل چاہتاہے،اس لیے نہیں کہ خواب براتھا،لیکن جسم بری طرح کانپ رہاہے۔آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔دل کانپنے لگتا ہے۔ہاتھ خود بخوددعا کیلئےاٹھ جاتے ہیں،زبان سے نکلتاہے یااللہ یہ توصرف ایک خواب تھا،پھردل کہتاہے یااللہ کہیں یہ خواب کسی کی حقیقت تونہیں؟

یہ ایک فردکاخواب نہیں تھا،یہ کسی فلم کاسین نہیں۔یہ کسی افسانے کاپلاٹ نہیں۔یہ غزہ کے باپ کاجاگتاہواخواب ہے،یہ غزہ کاجاگتاہوا نوحہ تھا۔یہ کشمیرکی ماں کی سسکتی رات ہے ۔یہ شام،یمن،لیبیا،سوڈان کی وہ کہانی تھی جوہررات کسی نہ کسی مسلمان کے خواب میں اترآتی ہے۔یہ شام،یمن،فلسطین کے بچوں کی روزکی کہانی ہے۔لیکن ہمارے ہاں جب آنکھ کھلتی ہے،سب صحیح سلامت ہوتے ہیں،بچے گہری نیند سورہے ہوتے ہیں،کمرہ محفوظ ہوتاہے،تواحساس ہوتاہے یہ تومحض ایک خواب تھا،مگرجن کیلئےیہ حقیقت ہے،کیاان کے بارے میں بھی جانتے ہیں؟

یہ خواب کس کی حقیقت ہے؟یہ غزہ کے باپ کی حقیقت ہے،جوہررات بمباری کے شورمیں اپنے بچوں کوسینے سے لگاتاہے۔یہ فلسطین کی ماں کی حقیقت ہے جوبچے کوسلاتے وقت یہ نہیں جانتی کہ صبح وہ زندہ ہوگایانہیں۔یہ کشمیرکے اس بچے کی حقیقت ہے جورات کو سوتے وقت یہ نہیں جانتاکہ صبح آنکھ کھلے گی بھی یانہیں،یہ خواب ان بچوں کاہے جنہوں نے کھلونے نہیں،بندوقیں دیکھی ہیں۔یہ شام، یمن،سوڈان کے ان بچوں کی حقیقت ہے جنہوں نے کھلونے نہیں، میزائل دیکھے ہیں،یہ ہراس کونے کی حقیقت ہے جہاں مسلمان ہوناجرم بن چکاہے۔ہم خواب دیکھ کرایک رات نہیں سوپاتے،روز،ہردن۔جورات کوسوتے وقت یہ نہیں جانتے کہ صبح آنکھ کھلے گی بھی یانہیں۔ہم خواب دیکھ کرلرزجاتے ہیں اوروہ حقیقت جیتے ہیں۔

سوچئے سوال جودل چیردیتاہے،جن والدین کے سامنے یہ سب خواب نہیں،روزکامعمول ہے،جواپنے بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں اٹھائے ادھرسے ادھربھاگ رہے ہیں،جنہیں نہ دفنانے کاحوصلہ ہے،نہ سینے سے لگانے کی اجازت،ان کے دلوں پرکیاگزرتی ہوگی؟اگرمصیبت کوچلتاپھرتادیکھناہوتوغزہ کی ویڈیوزدیکھ لیجیے اوراگردردکوسانس لیتامحسوس کرناہوتوفلسطین کی تصاویرکافی ہیں۔یہ محض جنگ نہیں،یہ انسانیت کے ضمیرکاقتل ہے۔خاموشی سے بہتاہواخون کشمیربھی چیخ چیخ کراب بھی پکاررہاہے۔وہ تو“ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے” پکارتے ہوئے پاکستانی پرچم میں تہہ خاک ہوگئے اورہم کہاں کھڑے ہیں؟قدرت کاایک اٹل قانون ہے،جب تک مظلوم زندہ ہے، ظالم ظالم ہے۔اورجب مظلوم بولنا چھوڑدے،ظالم بے لگام ہوجاتاہے۔ہم برسوں سے موت کورقص کرتے دیکھ رہے ہیں،اورزندگی کو سسکتے ہوئے۔سوال یہ نہیں کہ ظالم کون ہے،سوال یہ ہے کہ ہم کہاں ہیں ؟

ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید خطرہ ٹل گیاہے۔ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ شایدیہ سب“دورکہیں”ہورہاہےلیکن سچ یہ ہے ہم مشکل مرحلےمیں نہیں،مشکل دور میں داخل ہورہے ہیں،یہ کہناخودکودھوکہ دیناہے کہ خطرہ گزرچکاہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ مرحلہ کسی بھی صبح کسی بھی دروازے پردستک دے سکتا ہے۔ کون سی سرحدمحفوظ ہے؟کون ساشہرمحفوظ ہے؟کون ساگھر محفوظ ہے؟آج بم غزہ پرگرتے ہیں،کل کشمیرمیں،اورپرسوں؟تاریخ گواہ ہے ظلم خاموشی سے رک نہیں جاتا،وہ بڑھتاہے۔

محمدبن قاسم سے کربلاتک،تاریخ کاآئینہ ہمیں کیادکھارہاہے؟جب سندھ کی ایک بیٹی کی پکاراورفریادپرمحمدبن قاسم نے سمندرپارکرلیا تھا۔نہ پاسپورٹ،نہ ویزا،نہ اقوام متحدہ کاانتظار،نہ قراردادوں کاسہارا۔صرف ایک بات،امت ایک تھی اورکربلا؟نواسۂ رسولﷺاوراہلِ بیت کے ساتھ ظلم اوربربریت کی تاریخ لکھی جارہی تھی،توتاریخ پوچھتی ہے اس وقت باقی مسلمان کہاں تھے؟آج اس سوال کاجواب واضح ہوچکاہے۔آج اس سوال کاجواب ہمارے رویّوں میں موجودہے۔ہم مسلمان ہیں لیکن صرف اپنی سرحدوں تک۔کبھی توصرف اپنے گھروں تک اورکبھی صرف اپنے مفادات تک۔

جدیددنیامیں امت کے تصورکاقتل ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے۔آج ہمیں سکھایاگیاہے کہ قوم اہم ہے،امت نہیں۔سرحدمقدس ہے، انسان نہیں ۔مفاداولین ہے،اخلاق نہیں،یوں امت کے تصورکوبڑی خاموشی اورنہایت خوبصورتی سے دفن کردیاگیا۔آپ اپنی سرحددیکھیں، ہم اپنی سرحد دیکھیں ۔غزہ جلتارہے،کشمیرسسکتارہے،ہم اسکرین پرآنسوبہاکرپھراپنی زندگی میں لوٹ جائیں۔

عالمی طاقتیں اورمنافقت کاعریاں چہرہ اب کھل کرسامنے آگیاہے۔ساری دنیاجانتی ہے کون ظالم ہے،کون مظلوم۔ ظالم کومظلوم بنایاجارہا ہے مگرپھربھی امریکا اپنے بحری بیڑوں کے ساتھ اسرائیل کے شانہ بشانہ کھڑاہے،امریکی وزیرخارجہ خودکویہودی کہہ کرظالم کو مظلوم بنادیتاہے،جوبائیڈن دھمکیاں دینے پہنچ جاتاہے،ٹرمپ اسرائیل سے محبت میں تمام حدیں پارکرچکاہے، برطانیہ،فرانس،سب اس ظلم میں شریک اورہم؟ہم کرکٹ میں مصروف ہیں۔ہم اقتدارکی رسہ کشی میں الجھے ہیں۔یوکرین میں بجلی بندہوتوانسانی حقوق یادآجاتے ہیں، غزہ میں سب کچھ مٹادیاجائے توخاموشی کیونکہ شاید مسلمان انسان ہی نہیں سمجھے جاتے۔

یہاں سب سے زیادہ شرمناک بات دشمن کی طاقت نہیں،بلکہ اصل المیہ ہماری بے حسی اوریہ بزدلانہ رویہ تاریخ میں لکھاجاچکاہے۔ہم کھیل میں مصروف ہیں۔ہم اپنے ہاں بڑی بڑی اسکرینوں پرکرکٹ سے لطف اندوزہورہے تھے ،اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں کے چوکوں چھکوں پرخوشی اوردیوانگی میں ناچ رہے تھے ،مخلوط پارٹیوں میں بے ہنگم ڈانس کرکے اپنے کھلاڑیوں کوداد وتحسین فراہم کررہے تھے،یاہم ہم اقتدارکی لڑائی میں الجھے ہوئے ہیں۔سوشل میڈیا پر جھوٹ، بدتمیزی،فریب،میں قوم کے نوجوانوں کوگمراہ کرکے دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیراہیں ،بغیرتحقیق کے ہرقسم کے جھوٹ کو آگے پھیلاکر تفرقہ کی آگ کوپھیلانے میں اپناکرداراداکررہے ہیں۔

یہ خاموشی،یہ بزدلی،یہ بے حسی یہ سب تاریخ میں لکھاجاچکاہے۔اورآنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی جب امت جل رہی تھی،آپ کیاکررہے تھے؟ جب ٹرائیکاغزہ، کشمیراور دیگر مسلمانوں کوگاجرمولی کی طرح کاٹ رہے تھے توآپ کہاں تھے؟متعصب ہندومودی نے تواپنے مربی اسرائیل کی مدداورغزہ کے معصوم، بے گناہ بچوں،عورتوں بوڑھوں اورنوجوانوں کو تہہ تیغ کرنے کیلئے،ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کیلئے اپنے ہاں سے ایک ملین سے زیادہ ریٹائرڈ فوجی اوردیگرافرادکوبھیجاتھاتوتم کہاں تھے؟قیامت کے دن یہ عذرقبول نہیں ہوگاکہ سرحدیں دور تھیں،ذمہ داری زیادہ تھی۔ہم کمزورتھے۔

میں نے جن مصائب، ظلم وستم،بے انصافی کاآپ سب کے سامنے تذکرہ کیاہے،اس سے آپ پہلے بھی بخوبی واقف تھے اوریہ جانتے ہیں کہ میں نے کوئی نئی یاعجیب وغریب کہانی آپ کے سامنے بیان نہیں کی،ہم ہرروزاسے میڈیامیں سنتے اورپڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اوراپنی بے بسی کابھی ہمیں علم ہے لیکن کیاہم خودکواوراپنے بچوں اورآنے والی نسل کیلئے ورثہ میں مایوسی اورغلامی کے پہاڑ چھوڑکرجائیں گے؟یہ فیصلہ اب ہمیں خودکرناہے۔ہمیں اس کا حل خودتلاش کرناہے،کوئی باہرسے آکرہمارے آنسو نہیں پونچھے گا۔

یادرکھیں اس کاحل نہ نیٹومیں ہے نہ اقوام متحدہ میں،اورنہ ہی عالمی طاقتوں کے وعدوں میں حل ہے۔اس کاواحد اورفقط حل وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًاوَلَاتَفَرَّقُو امیں ہے۔قرآن ہمیں اتحاد سکھاتا ہے،سنت ہمیں قربانی سکھاتی ہے،اور سیرت ہمیں جرات۔جب امت ایک ہوتوبدر بھی جنم لیتی ہےاورجب بکھرجائےتوکربلاتنہارہ جاتاہے۔

امتِ مسلمہ سے شائدیہ آخری پکارآرہی ہے کہ یہ وقت تماشائی بننے کانہیں،یہ وقت تقریروں کانہیں،یہ وقت خوداحتسابی کاہے۔اپنے ایمان کوجگائیے۔اپنے ضمیرکوزندہ کیجیے۔فرقوں، قومیتوں،مفادات سے اوپراٹھئے۔کیونکہ اگرآج ہم نہ جاگے توکل یہ خواب ہماری حقیقت بن جائے گا۔

یہ جوکچھ آپ نے سنا،یہ محض ایک خطاب نہیں تھا،یہ تاریخ کانوحہ تھاجوآج کی زبان میں آپ سے ہمکلام ہوا۔یہ سوال اب صرف غزہ کا نہیں،یہ سوال صرف کشمیرکانہیں،یہ سوال صرف فلسطین،شام،یمن یاسوڈان کانہیں،یہ سوال ہم سب کاہے۔تاریخ کاقلم رکتانہیں،وہ لکھتا ہے اورآنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی جب امت لہومیں ڈوبی ہوئی تھی توتم کہاں تھے؟جب بچوں کے کفن چھوٹے پڑگئے تھے توتم کس اسکرین پرمصروف تھے؟جب قبلۂ اول جل رہاتھا تو تم کس مفاد کی حفاظت کررہے تھے؟جب سرینگر،شوپیاں،جموں اورراجوری میں مظلوم کشمیری”ہم ہیں پاکستانی اورپاکستان ہماراہے”کے نعرے لگانے کی پاداش میں گولیوں سے بھون دیئے گئے تھے،توتم ہمیں کیوں بھول گئے؟

یادرکھیے قیامت کے دن نہ پاسپورٹ کام آئے گانہ قومیت،نہ جھنڈے،نہ اتحادوں کی رکنیت۔وہاں صرف یہ پوچھاجائے گاکہ تم نے مظلوم کے ساتھ کیاکیا؟ آج بھی وقت ہے،لیکن وقت بہت کم ہے۔یہ گھڑی تماشائی بننے کی نہیں،یہ گھڑی خوداحتسابی کی ہے،یہ گھڑی لوٹ آنے کی ہے،اللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لینے کی ہے۔قرآن آج بھی وہی ہے، سنت آج بھی وہی ہے،قبلہ آج بھی ایک ہے،فرق صرف یہ ہے کہ ہم بکھرچکے ہیں۔

آئیے آج عہد کریں کہ ہم خبرپرنہیں،حق پرکھڑے ہوں گے،ہم مفادپرنہیں،ایمان پرفیصلہ کریں گے،ہم خاموشی نہیں،ذمہ داری کوورثہ بنائیں گے۔آج تاریخ ہماری طرف دیکھ رہی ہے اورتاریخ کے ہاتھ میں کوئی سفیدکاغذنہیں بلکہ فیصلے کاقلم ہے۔یادرکھناتاریخ یہ نہیں لکھے گی کہ تم نے کیاکہا،تاریخ یہ لکھے گی کہ تم نے کیاکیا؟آج اگرہم نے خاموشی کوچناتوکل ہماری خاموش قبروں سے ہمارے بچےسوال کریں گے ،جب امت کٹ رہی تھی توآپ کہاں تھے ؟ آج پھروقت پکاررہاہے۔یاتوہم اپنےاپنے ایمان کابوجھ اٹھائیں یاتاریخ ہمیں بزدل قوم کے نام سے یادرکھے گی۔اگرآج ہم نے اپنے دلوں کونہ جگایاتوکل یہ خواب ہمارے گھروں کی حقیقت بن جائے گا۔یہ وقت ٹویٹ کرنے کانہیں،یہ وقت صرف اسٹیٹس لگانے کانہیں،یہ وقت آنسو بہانے کانہیں،یہ وقت کھڑا ہونے کاہے۔یہ وقت ہے قوم،نسل، زبان،پارٹی سب کوایک طرف رکھ کرصرف ایک پہچان اپنانے کاکہ میں مسلمان ہوں۔

اب تقریرختم ہورہی ہے لیکن یادرکھنا فیصلہ اب شروع ہورہاہے۔آج یہ محفل ختم ہوگی،کرسیاں خالی ہوجائیں گی،اسٹیج خاموش ہوجائے گالیکن سوال باقی رہے گا:کیاہم نے صرف سنا؟یاہم بدلنے کاارادہ لے کراٹھ رہے ہیں؟آج امت کوایک اورتقریرنہیں چاہیے،امت کوایک اوربیدارضمیرچاہیے۔امت کوتالیاں نہیں چاہئیں،امت کوکھڑے ہونے والے نوجوان چاہئیں۔یادرکھوقومیں اس دن مرتی ہیں جس دن ان کے نوجوان ظلم پرخاموش ہوجائیں اور قومیں اس دن زندہ ہوتی ہیں جس دن ان کے نوجوان حق کیلئےکھڑے ہوجائیں۔

میرے نوجوانو!اگرآج بھی تم نے یہ کہہ کرخودکوبچالیاکہ ہم مجبورہیں تویادرکھناکل تمہارے بچے تمہاری قبروں پرکھڑے ہوکرتمہیں مجرم کہیں گے۔یہ وقت ہے ڈرکودفن کرنے کا،یہ وقت ہے خاموشی کوتوڑنے کا،یہ وقت ہے سوشل میڈیاکے مجاہدنہیں،عمل کے سپاہی بننے کا۔یہ وقت ہے فرقوں سے اوپر اٹھنے کا،قومیتوں سے باہرآنے کا، پارٹیوں،مفادات،عہدوں سے نکل کرصرف ایک پہچان اپنانے کا،ہم مسلمان ہیں اس لیے بے حس نہیں ہوسکتے،اس لیے مظلوم کوتنہانہیں چھوڑسکتے۔ہم مسلمان ہیں اس لیے حق کے بغیرزندہ رہناہمیں قبول نہیں۔

اگرآج ہم نے اپنے ضمیرکونہ جگایاتویادرکھنایہ آگ جوآج غزہ میں جل رہی ہے،جس کے شعلے مقبوضہ کشمیرکے خوبصورت چناروں کی انسانی بستیوں کوجلا کر راکھ کررہے ہیں،کل ہمارے دروازوں پرہوگی۔یہ خون جوآج فلسطین میں بہہ رہاہے،کل ہماری گلیوں میں ہوگا اورمتعصب ہندوجوبارہااپنے ناپاک سندور کومسلمان پاکستانیوں کے پاکیزہ خون سے سجاناچاہتاہے،وہ اپنی سازشوں پرشب وروزعمل درآمدکررہاہے۔ہمیں اپنے عمل سے جواب دیناہے کہ اگرمعاملہ یہاں نہ رکاتوپھرجوابی وارسےنہ کوئی اقوامِ متحدہ بچے گی،نہ کوئی سپر پاوراورنہ کوئی معاہدہ۔آج بھی وقت ہے،آج بھی موقع ہے،آج بھی ربّ موجودہے اورقرآن آج بھی یہی کہہ رہاہے: وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

آئیے اس لمحے،اس مجمع میں،اس اسٹیج کے سامنے ہم اللہ سے عہد کریں:
اے اللہ، ہمیں تماشائی نہ بنانا،ہمیں بزدل نہ بنانا،ہمیں خاموش قوم نہ بنانا،ہمیں وہ نوجوان بناجوحق کیلئےکھڑے ہوں،جوظلم کے سامنے جھکیں نہیں،جوامت کابوجھ اٹھانے سے نہ ڈریں۔ہماری بے حسی کوبیداری میں بدل دے،ہماری کمزوری کواتحادمیں بدل دے،ہماری خاموشی کو جرات میں بدل دے،اورہمیں پھرسے ایک امت بنادے،تماشائی قوم نہیں،بلکہ حق کی گواہ قوم اورمجاہدِحق بنادے،ہمیں بکھری ہوئی بھیڑنہیں،ہمیں خاموش نہیں سچ بولنے والابنادے۔
اے اللہ اگرتاریخ ہمیں پکارے توہمیں شرمندہ نہ ہوناپڑے بلکہ ہم سینہ تان کرکہہ سکیں یااللہ ہم سوئے نہیں تھے،ہم کھڑے تھے:
اَللّٰھُمَّ اشھَد،اَللّٰھُمَّ اشھَد،اَللّٰھُمَّ اشھَد
آمین یا ربّ العالمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں