لیبیا:ایک حادثہ، ایک معاہدہ، اور عالمی سیاست کی لرزتی بساط
لیبیاکی عسکری تاریخ ایک بارپھرحادثےاورسانحے کے سیاہ حاشیے میں رقم ہوگئی،جب ملک کے آرمی چیف اورچیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمدعلی احمدالحد اوردیگرسینئرجرنیلوں سمیت ایک فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔لیبیاگزشتہ ڈیڑھ دہائی سےسیاسی انتشار، عسکری تقسیم اوربین الاقوامی مداخلتوں کاشکار ہے ۔2011میں معمرقذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ریاستی اقتدارایک مرکزپرقائم نہ رہ سکا،جس کے نتیجے میں مشرق اورمغرب میں متوازی طاقت کے ڈھانچے وجودمیں آئے۔اسی غیرمستحکم پس منظرمیں حالیہ فضائی حادثہ اورپاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ غیرمعمولی اہمیت اختیارکرگئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق لیبیاکے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمدعلی احمدالحدادایک فالکن50جٹ طیارے میں سفرکررہے تھے۔طیارے نے ٹیک آف کے 16منٹ بعدہنگامی لینڈنگ کی درخواست کی،تاہم اس کے فوراًبعدجہازریڈارسے غائب ہوگیاجیسے تاریخ کے اوراق میں دفن ہوگیاہو۔حادثے میں صرف ایک فردنہیں بلکہ لیبیاکی عسکری کمانڈکاایک مکمل حلقہ ختم ہوگیا۔اس المناک پروازمیں محض ایک جنرل نہیں بلکہ لیبیاکی عسکری قیادت کاایک پوراباب سوار تھا۔جنرل الحدادکے ہمراہ لینڈفورسزکے کمانڈرلیفٹیننٹ جنرل فوتوری گریبل، ملٹری مینوفیکچرنگ کارپوریشن کے کمانڈربریگیڈیئرجنرل محمودالکتاوی،چیف آف جنرل اسٹاف کے مشیرمحمدالعسوی دیاب اورجنرل اسٹاف کے فوٹوگرافرمحمدعمراحمدمحکب بھی موجودتھے۔یہ سب وہ نام تھے جولیبیاکے عسکری ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے۔اس نوعیت کانقصان کسی بھی ریاست کے عسکری نظم ونسق کیلئےفوری خلاپیداکرتاہے۔
جنرل محمدعلی احمدالحدادپانچ سال سے زائدعرصے تک لیبیاکے چیف آف جنرل اسٹاف رہے۔ان کی شخصیت نظم وضبط،ادارہ جاتی وفاداری اورعسکری وقارکی علامت اورنسبتاًغیرسیاسی عسکری شخصیت سمجھاجاتاتھا۔اگرچہ ان کی ابتدائی زندگی پردۂ اخفامیں رہی، تاہم یہ مسلم ہے کہ وہ2011کی بغاوت سے قبل لیبیا کی فوج میں مختلف ذمہ داریوں پرفائزرہے۔ترکی کے ساتھ فوجی واسٹریٹجک تعلقات کوفروغ دینے میں ان کاکردارنمایاں تھا—یہی تعلقات تھے جونئے لیبیا کی عسکری سمت متعین کررہے تھے۔
ان کاسب سے نمایاں کردارترکی کے ساتھ لیبیاکے عسکری اورتکنیکی تعاون کووسعت دیناتھا،جومغربی لیبیا کی عسکری حکمت عملی کااہم ستون رہا۔یہ حادثہ محض ایک تکنیکی ناکامی نہ تھابلکہ تاریخ کے تسلسل میں ایک علامتی لمحہ بھی تھا۔وہ لیبیا،جس پر1969سے معمرقذافی نے حکمرانی کی،2011میں عرب بہارکی آندھی میں بہہ گیا۔نیٹوکی حمایت یافتہ مداخلتوں نے طرابلس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اورملک کواقتدارکے متحارب مراکزمیں تقسیم کردیا—یہی تقسیم آج تک لیبیاکی بدنصیبی پرثبت ہے۔معمر قذافی کی42سالہ حکمرانی(1969–2011)
نے لیبیاکوایک مضبوط مگرمرکزیت یافتہ ریاست بنایا۔عرب بہارکے دوران نیٹو کی حمایت یافتہ مداخلت نے اس مرکزیت کوتوڑدیا،مگراس کے متبادل میں کوئی مستحکم قومی ڈھانچہ قائم نہ ہو سکا۔نتیجتاً،لیبیامسلسل خانہ جنگی،مسلح دھڑوں اوربیرونی اثرورسوخ کی زدمیں رہا۔
فالکن50،جو1988کی پیداوارتھا،لیبیاکی سرکاری ملکیت نہیں بلکہ مالٹامیں قائم ایک افریقی کمپنی سے لیزپرلیاگیاتھا۔یہ حقیقت لیبیاکی عسکری لاجسٹکس میں نجی کنٹریکٹنگ پربڑھتے انحصار کوظاہرکرتی ہے،جوشفافیت اورسلامتی کے حوالے سے پالیسی سوالات کو جنم دیتاہے۔ترک حکام کے مطابق اس تباہ جہازکاملبہ انقرہ سے تقریباً105کلومیٹردورایک دیہی علاقے میں دوکلو میٹرکے وسیع رقبے پربکھراہوا ملا—یہ پھیلاؤحادثے کی شدت اورممکنہ تکنیکی ناکامی کی نشاندہی کرتاہے۔یوں جیسے سازشی طاقت کاغرورزمین پربکھرگیاہو۔
لیبیا کی عالمی سطح پرتسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت کے وزیراعظم عبدالحمیددبیبہ نے اس سانحے کوقوم کیلئے“بڑانقصان”قراردیا۔ ان کے الفاظ میں،لیبیانے وہ افرادکھودیے جووفاداری اور دیانت کے ساتھ ریاست کی خدمت کررہے تھے۔یہ ایک ایسی گواہی تھی جو سیاست سے بلنداوردکھ سے لبریزتھی۔یہ بیان نہ صرف تعزیتی تھابلکہ اس میں ریاستی تسلسل اورقومی وحدت کاپیغام بھی مضمرتھا،جو ایسے وقت میں اہم ہے جب لیبیاپہلے ہی ادارہ جاتی کمزوری کاشکارہے۔
یہ حادثہ ایک ایسے وقت میں پیش آیاجب عالمی سیاست کے افق پرایک اورخبرگردش کررہی تھی:پاکستان اورلیبیاکے درمیان چارارب ڈالرسے زائدمالیت کادفاعی معاہدہ۔یہ محض ایک تجارتی سودے کی خبرنہ تھی بلکہ طاقت کے عالمی توازن میں ایک نیازاویہ تھا۔حادثے سے محض دودن قبل پاکستان اورلیبیاکے درمیان چارارب ڈالرسے زائد مالیت کے دفاعی معاہدے کی خبرسامنے آئی۔یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کی تاریخ کے بڑے سودوں میں شمارہوتاہے اورشمالی افریقا میں پاکستان کی عسکری موجودگی کیلئےایک نیادروازہ کھولتاہے۔اس معاہدے کے تحت، جس کی مدت ڈھائی سال بتائی جاتی ہے،پاکستان لیبیاکوزمینی،بحری اورفضائی دفاعی سازو سامان فراہم کرنے پرآمادہ ہوا—جن میں زمینی، بحری اورفضائی جے ایف17 لڑاکاطیارے ملٹی رول فائٹرطیارے اورسپرمشاق ٹرینر طیارے شامل ہیں۔یہ وہی طیارے ہیں جو پاکستان اورچین کے اشتراک سے تیارہوئے اورکم لاگت مگرہمہ جہت عسکری صلاحیت کی علامت بنے۔اگرچہ جے ایف17 کی حتمی تعداد پرابہام باقی ہے۔
چارپاکستانی حکام کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کی دفاعی برآمدات کی تاریخ کے بڑے سودوں میں سے ایک ہے،جسے مشرقی لیبیاکے شہربن غازی میں فیلڈ مارشل عاصم منیراورایل این اے کے ڈپٹی کمانڈرانچیف صدام خلیفہ حفترکے درمیان ملاقات کے بعدحتمی شکل دی گئی۔ مشرقی لیبیاکے شہربن غازی میں معاہدے کوحتمی شکل دینے میں جہاں پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیراورایل این اے کے ڈپٹی کمانڈرانچیف صدام خلیفہ حفترکی پراعتماد ملاقات شامل ہے وہاں یہ ملاقات خوداس بات کااشارہ ہے کہ پاکستان نے عملی طورپرمشرقی لیبیاکے ساتھ براہ راست مضبوط عسکری روابط قائم کیے ہیں۔
دفاعی امورسے وابستہ پاکستانی حکام نے معاہدے کی حساسیت کے باعث شناخت ظاہرکرنے سے انکارکیا،جبکہ وزارت خارجہ اور وزارت دفاع نے سرکاری تبصرے سے گریزکرتے ہوئے خاموش حکمت عملی اختیارکی ہے۔یہ خاموشی بے سبب نہ تھی،کیونکہ لیبیا 2011سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کی زدمیں ہے۔اگرچہ دسمبر2024میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس پابندی کو“غیرمؤثر”قرار دیا،مگرقانونی اوراخلاقی سوالات اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔یہ طرزِ عمل اس امرکی عکاسی کرتاہے کہ معاملہ محض تجارتی نہیں بلکہ اسٹریٹجک نوعیت کاہے۔
لیبیا2011سے اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندی کاشکارہے،جس کے تحت کسی بھی عسکری سامان کی ترسیل کیلئےاقوام متحدہ کی منظوری درکارہے۔دسمبر2024میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس پابندی کو“غیرمؤثر” قراردیا،تاہم قانونی حیثیت اب بھی برقرارہے۔ایل این اے کے سرکاری میڈیانے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی تصدیق کی،جس میں ہتھیاروں کی فروخت، مشترکہ تربیت اورفوجی تیاری شامل ہے۔حفترنے اسے پاکستان کے ساتھ “اسٹریٹجک فوجی تعاون کے نئے مرحلے”کاآغازقراردیا۔
اقوام متحدہ کے پینل کے مطابق متعددغیر ملکی ریاستیں پابندیوں کے باوجودمشرقی ومغربی لیبیامیں عسکری تربیت اورمدد فراہم کررہی ہیں۔اس تناظرمیں پاکستان کامؤقف ہے کہ اس نے کسی پابندی کی خلاف ورزی نہیں کی۔دوسری جانب،مغربی لیبیامیں عبدالحمیددبیبہ کی حکومت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ہے،جبکہ حفترکی ایل این اے مشرق اورجنوب،بشمول بڑے تیل کے ذخائرکوکنٹرول کرتی ہے۔یہ تقسیم دفاعی معاہدوں کی قانونی اوراخلاقی حیثیت پر سوالات اٹھاتی ہے اوریہ دواقتدار،ایک ملک،اورایک نہ ختم ہونے والابحران ہے۔
ایل این اے کے میڈیاچینل نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی تصدیق کی،جبکہ حفترنے اسے“اسٹریٹجک فوجی تعاون کے نئے مرحلے”کاآغازقراردیا، جس میں ہتھیاروں کی فروخت، مشترکہ تربیت اورفوجی تیاری شامل ہے۔پاکستانی حکام کامؤقف ہے کہ اس معاہدے سے اقوام متحدہ کی پابندی کی خلاف ورزی نہیں ہوئی،اوریہ کہ پاکستان واحدملک نہیں جو لیبیاکے ساتھ دفاعی تعاون کررہاہے۔ان کے بقول،بڑھتی ہوئی تیل برآمدات نے بن غازی کومغربی دنیاکے قریب لاکھڑاکیاہے۔پاکستان گزشتہ چندبرسوں سے دفاعی برآمدات کو وسعت دینے کی حکمت عملی پرعمل پیراہے اوردفاعی منڈیوں میں اپنے قدم مضبوط کررہاہے۔ اس کی دفاعی صنعت طیارہ سازی،بکتربندگاڑیوں،جنگی سازو سامان اوربحری تعمیرات پرمحیط ہے۔
انسدادِبغاوت کی دہائیوں پرمحیط تجربہ،ملکی دفاعی صنعت کی خودکفالت،اورمئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں میں فضائیہ کی کارکردگی—یہ سب پاکستان کی عسکری مارکیٹنگ کاسرمایہ بن چکے ہیں۔فیلڈمارشل عاصم منیرکے بقول، پاکستانی قیادت نے مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں میں فضائیہ کی کارکردگی کوبطورمثال پیش کیاہے۔اس جھڑپ نے پاکستان کی جدیدعسکری صلاحیتوں کوعالمی سطح پراجاگرکیا۔بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ نے دنیاکوپاکستان کی جدیدعسکری صلاحیتوں کاعملی مظاہرہ دکھادیا۔یہی اعتماد اب برآمدات میں ڈھل رہاہے۔
پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ دفاعی شراکت کوآگے بڑھارہاہے بلکہ خلیجی ریاستوں—خصوصاًسعودی عرب اورقطر—کے ساتھ بھی سکیورٹی تعلقات کو وسعت دے رہاہے۔ستمبر2025 کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔جے ایف17کو پاکستان ایک کم لاگت، ملٹی رول فائٹر اسٹریٹجک پروڈکٹ کے طورپرپیش کرتاہے، جو مغربی سپلائی چین سے باہرتربیت، دیکھ بھال اورآپریشنل خودمختاری فراہم کرتاہے۔یہی پہلواسے ترقی پذیر ریاستوں کیلئےپرکشش بناتاہے۔لیبیاکے ساتھ معاہدہ شمالی افریقا میں پاکستان کے اثرورسوخ کو بڑھاسکتاہے،جہاں عالمی طاقتیں تیل،سلامتی اورسیاست کیلئے صف آراہیں۔
خلیجی ریاستوں کے ساتھ دفاعی روابط،پاکستان سعودی عرب اورقطرکے ساتھ دفاعی تعاون کووسعت دے رہاہے۔ستمبر2025میں سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اسی رجحان کی مثال ہے،جوپاکستان کوایک علاقائی سیکورٹی شراکت دارکے طورپرپیش کرتاہے۔
لیکن ایک سوال ابھرکرسامنے آتاہے:کیاعالمی اسلحہ سازاجارہ داریاں اس سودے کواپنے لیے چیلنج سمجھیں گی؟تاریخ گواہ ہے کہ جہاں طاقت کاتوازن بگڑتا ہے،وہاں سازشوں کے سائے بھی گہرے ہوجاتے ہیں۔اوریوں،ایک طیارہ جوریڈارسے غائب ہوا،شایدمحض ایک حادثہ نہ تھا—بلکہ عالمی سیاست کے افق پرایک ایسی لکیرتھی جوطاقت،مفاداورتاریخ کے پیچیدہ رشتے کوعیاں کرگئی۔بین الاقوامی سیاست میں یہ امربعیدازقیاس نہیں کہ بڑی اسلحہ ڈیلزکے بعدسیاسی دباؤ،قانونی پیچیدگیاں یابالواسطہ مزاحمت سامنے آئے۔تاریخ ایسے واقعات کی مثالوں، سازشی بیانیے اورتاریخی نظائرسے خالی نہیں۔
شمالی افریقامیں پاکستان کاابھرتا کردار۔۔۔۔لیبیاکے ساتھ معاہدہ شمالی افریقامیں پاکستان کے قدم جمانے کی کامیاب کوشش ہے،جہاں عالمی اورعلاقائی طاقتیں تیل،سلامتی اوراثرورسوخ کیلئےمسابقت میں ہیں۔یہ معاہدہ عالمی اسلحہ سازکمپنیوں کیلئےایک ممکنہ چیلنج بن سکتا ہے،خصوصاً ان کمپنیوں کیلئےجوروایتی طورپر افریقی منڈیوں پرحاوی رہی ہیں۔
لیبیاکے عسکری سانحے اورپاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے خطے کی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست اوراقوام متحدہ کی پابندیوں کی افادیت پرنئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔پاکستان کیلئےیہ معاہدہ ایک معاشی اوراسٹریٹجک موقع ہے،مگراس کے ساتھ قانونی شفافیت،سفارتی توازن اورطویل المدت علاقائی اثرات پرمسلسل نظررکھناناگزیرہوگا۔
لیبیامیں عسکری قیادت کے حالیہ فضائی حادثے اورپاکستان۔لیبیادفاعی معاہدے نے بیک وقت علاقائی سلامتی،عالمی اسلحہ سیاست،اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کی عملی حیثیت کوایک نئے زاویے سے نمایاں کردیاہے۔یہ پیش رفت پاکستان کیلئےمعروف معاشی،اسٹریٹجک اورسفارتی مواقع بھی رکھتی ہے اورقانونی، سیاسی اورخطے میں تیزی سے ابھرتی ساکھ جیسی نوعیت کے خطرات بھی۔
پاکستان کی دفاعی صنعت پہلی بارشمالی افریقامیں ایک نمایاں اوربراہِ راست اسٹریٹجک کھلاڑی کے طورپرابھررہی ہے،تاہم لیبیاکی داخلی تقسیم،بین الاقوامی اجارہ داراسلحہ سازکمپنیوں کے مفادات،اوراقوام متحدہ کی غیرمؤثرمگرموجودپابندیاں اس عمل کوحساس بنا دیتی ہیں۔فیصلہ سازوں کیلئےبنیادی چیلنج یہ ہے کہ اقتصادی فائدے اورعالمی قانونی ذمہ داریوں میں توازن قائم رکھا جائے۔عسکری برآمدات کو سفارتی تنہائی کاسبب نہ بننے دیا جائےاورپاکستان کوایک ذمہ دار،قابلِ اعتماداوراصولی دفاعی شراکت دارکے طورپرپیش کیاجائے۔
یقیناًاس نئی صورتحال پردفاعی مقتدرادارے بڑی تندہی سے موجودہ حالات میں اپنی پالیسیوں کی تشکیل میں مصروفِ کارہوں گے مگر ان حالات میں قانونی شفافیت اوردستاویزی تحفظ پر چندآراءپرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔
٭:اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کودفاعی معاہدوں کے ہرمرحلے میں اقوام متحدہ کی اسلحہ پابندیوں سے متعلق قانونی رائے کو تحریری صورت میں محفوظ رکھناچاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بین الاقوامی فورم پرمؤقف کمزورنہ ہو۔قانون اگرچہ پابندی کوغیر مؤثرقراردیاجاچکاہے،تاہم پاکستان کواقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ بیک ڈورڈپلومیسی چینل کے ذریعے پیشگی رابطہ رکھنا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ تنازعے سے بچاجاسکے۔
٭:معاہدوں کوریاستی نہیں بلکہ ادارہ جاتی بنانے کیلئے دفاعی تعاون کوشخصیات یادھڑوں کے بجائے اداروں سے منسلک رکھاجائے، تاکہ لیبیاکی داخلی سیاست میں تبدیلی کی صورت میں معاہدے غیرمؤثرنہ ہوں۔
٭:پاکستان کومشرقی لیبیا”ایل این اے”کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ مغربی لیبیاکی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ حکومت سے سفارتی توازن برقراررکھنا چاہیے ،تاکہ کسی ایک فریق کاحلیف تصورنہ کیاجائے۔
٭:دفاعی برآمدات کے ساتھ”صلاحیت کی تعمیر”کیلئے صرف ہتھیاروں کی فروخت کے بجائے تربیت،مینٹیننس،تکنیکی معاونت کو پیکیج کاحصہ بنایاجائے، تاکہ پاکستان کاکردارطویل المدت شراکت دارکابنے۔
٭:جے ایف17محض طیارہ نہیں بلکہ اسٹریٹجک برانڈکے طورپرپیش کرناضروری ہے اورحالیہ پاک بھارت جھڑپ نے اقوام عالم کو انہی طیاروں کے استعمال سے پاکستانی عسکری تربیت اوربرتری نے ورطہ حیرت میں ڈال دیاہے۔اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان ان طیاروں اوردیگرفوجی وسازوسامان کوکم لاگت کے ساتھ خودانحصاری کی علامت کےمارکیٹ کیاجائے۔
٭:لیبیاسے متعلق پالیسی کوسعودی عرب،قطراورمتحدہ عرب امارات کے ساتھ غیررسمی مشاورت کے ذریعے ہم آہنگ رکھاجائے تاکہ علاقائی تضادات سے بچاجاسکے۔
٭:پاکستان کوایک واضح دفاعی برآمدات کیلئے”نیشنل آرمزایکسپورٹ پالیسی فریم ورک”قومی فریم ورک تشکیل دیناچاہئے جہاں انسانی حقوق،داخلی استحکام اوربین الاقوامی قانون کوباضابطہ معیاربنایاجائے۔
٭: عالمی میڈیااورتھنک ٹینکس میں پاکستان کے کردارکوذمہ دار،قانونی اوراستحکام پسندکے طورپراجاگرکرنے کیلئےاسٹریٹجک کمیونیکیشن پلان تشکیل دیاجائے۔
٭:غیرریاستی دباؤکے امکانات کی پیش بندی اورعالمی اسلحہ سازاجارہ داریوں کے ممکنہ دباؤکےپیش نظرقانونی ٹیم،سفارتی نیٹ ورک اورتجارتی اتحادی کوپیشگی متحرک رکھاجائے۔
مندرجہ بالا تمام بروقت اقدامات کے ساتھ ساتھ ہمیں ان رسک اسیسمنٹ کی طرف بھی توجہ دینے کی اشدضرورت ہے۔ہمیں اقوام متحدہ کی پابندیوں کی تشریح،تحریری قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ سفارتی خطرات یعنی مغربی طاقتوں یاانسانی حقوق گروپس کی تنقیدکابھی سامناکرناپڑسکتاہے جس کیلئے پیشگی مؤثر بیانیہ سازی اورسفارتی وضاحت کی مکمل تیاری ازحدضروری ہے۔
لیبیامیں اقتدارکی تبدیلی کوسیاسی خطرات کے طورپرپیش کرکےاس معاہدے کوسبوتاژکرنے کی کوشش کی جائے گی جس کیلئے ادارہ جاتی معاہدے،یکطرفہ وابستگی سے گریزکیلئے ہتھیاروں کاغیر ریاستی عناصرتک پہنچنے کاواویلاکیاجائے گاجبکہ دنیابھرمیں ہونے والی دہشتگردی میں استعمال ہونے والااسلحہ کن ممالک کااستعمال ہورہاہے،اس کابھی ہم سب کوعلم ہے۔دورنہ جائیں ،ہمارے پڑوس افغانستان سے آنے والے خوارج اورفتنہ الہندکے تمام دہشتگردوں کے پاس برآمدہونے والا تمام جدیدترین امریکی اسلحہ اس بات کاعملی ثبوت ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ اس طرح کے عالمی سودوں کی ادائیگی کیلئے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کاپلیٹ فارم استعمال کیاجاتاہے اورعین ممکن ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے عالمی طاقتوں کے دباؤکے تحت پہلے تومعاہدے کی معطلی پرزورڈالیں،اوراگروہ اس میں کامیاب نہ ہوسکیں توادائیگیوں میں تاخیرکرکے ان معاہدوں کوغیرمعمولی نقصان پہنچا نے کی پالیسی اختیارکرلیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان مرحلہ وارڈیلیوری کے ساتھ ساتھ ایسامالی ضمانتوں کابھی لائحہ عمل تیار رکھے جس سے ان معاہدوں کی افادیت کومتوقع نقصان سے محفوظ رکھاجاسکے۔
ماضی کے تجربات سے ہمیں یہ بھی سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارادشمن ہمیشہ کی طرح ایک دفعہ پھرپاکستان کانام غیرمستحکم ریاستوں سے جوڑنے کی کوشش کرے گااورپاکستان کے متعلقہ اداروں کوابھی سے پیشگی طورپرایک ذمہ دارریاست کامضبوط بیانیہ تیاررکھناہوگا۔اس اہم کام کیلئے انہیں عالمی طاقتوں کی پراکسی سیاست کے مقابلے اورتدارک کیلئے غیرجانب دار،کثیرجہتی سفارت کاری کیلئے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اترنے کیلئے ابھی سے پوری تیاری کی ضرورت ہے۔
لیبیاکاسانحہ اوردفاعی معاہدہ محض ایک حادثہ یاایک سودا نہیں،بلکہ یہ اکیسویں صدی کی اسلحہ سیاست،ریاستی خودمختاری،اورعالمی طاقت کے بدلتے توازن کی علامت ہے۔پاکستان کیلئےیہ ایک موقع بھی ہے اورامتحان بھی۔اگردانش مندی،قانونی احتیاط اورسفارتی توازن کے ساتھ قدم اٹھایاگیاتویہ معاہدہ پاکستان کوایک ذمہ دارعالمی دفاعی شراکت دارکے طورپرمستحکم کرسکتاہے—بصورت دیگریہ عالمی سیاست کی ناہموارزمین پرایک لغزش بھی ثابت ہوسکتاہے۔





