تاریخ کے صفحات پرجب کبھی دوہمسایہ قوموں کی مثالیں لکھی جائیں گی توافغانستان اورپاکستان کے رشتے کوخون اور ایمان کی قرابت کے عنوان سے یادکیا جائے گا ۔ایک وقت تھاجب روسی توپوں کی گھن گرج کے بیچ،افغان مہاجرین نے اپنے گھر،مٹی،اورسکون سب کچھ کھودیا،اورپاکستان نے انہیں اپنے دل کے دروازے کھول کرمہمان نہیں بلکہ بھائی سمجھ کر پناہ دی۔ان ہی سرحدوں پرجہاں کبھی “مہمانداری کاعلم”بلندتھا،آج بارودکی بُومحسوس ہوتی ہے۔
پاکستان کے عوام کے دل آج زخمی ہیں،وہ زخم کسی دشمن کی گولی نے نہیں بلکہ اپنے بھائی کے غفلت بھرے رویّے نے دیے ہیں۔طالبان حکومت کے زیرِ سایہ،افغانستان کی سرزمین ایک بارپھردہشتگردوں کے قدموں تلے روندی جارہی ہے اور دکھ اس بات کاہے کہ ان قدموں کی چاپ میں بھارت کی سرپرستی کی گونج سنائی دیتی ہے۔تاریخ کے اس نازک موڑپر، ماسکوفارمیٹ کااجلاس ایک امیدکی کرن بن کرابھراہے۔
روس،چین،ایران اورپاکستان نے ایک زبان ہوکریہ پیغام دیاہے کہ اگرامن کاچراغ بجھانے والے اپنے مفادات کی آگ سلگائیں گے،تو مشرق اپنی روشنی سے اندھیراچیردے گا۔یہ اجلاس محض سفارتی نشست نہیں بلکہ ضمیرِانسانی کی تجدیدِ عہدہے کہ اب کسی ملک کی سرزمین دہشتگردی کیلئےاستعمال نہیں ہونے دی جائے گی،نہ طاقت کیلئے،نہ انتقام کیلئے۔
تاریخِ عالم میں بعض اجلاس محض سفارتی گفت وشنیدنہیں ہوتے،بلکہ آئندہ زمانوں کی سمت متعین کرتے ہیں۔ماسکو فارمیٹ کاحالیہ اجلاس بھی اسی نوعیت کامظہرہے۔ماسکوفارمیٹ محض ایک علاقائی فورم نہیں،بلکہ طاقت کے توازن کی نئی زبان ہے۔اس کے اراکین،روس،چین،بھارت،پاکستان، ازبکستان، قازقستان،کرغزستان،ترکمانستان اورتاجکستان دراصل اُس تاریخی جغرافیے کے وارث ہیں جہاں کبھی سلک روڈ کی تہذیب رواں تھیگویابرف کی چادر میں لپٹی ہوئی اُس آگ کے گردبیٹھے تھے جسے افغانستان کی تقدیرکہتے ہیں ۔دلچسپ امریہ ہے کہ جس دروازے سے کبھی امریکاداخل ہواتھا،اب اسی دہلیز پرپاکستانی اورافغان وزیرِخارجہ کاخیرمقدم کیاگیا۔ یہ تبدیلی دراصل طاقت کے محورکی منتقلی کی علامت ہے۔دنیاکامرکزِثقل اب واشنگٹن سے ماسکوکی سمت جھک رہاہے۔
یہ اجلاس اس امرکااعلان ہے کہ دنیااب مغرب کے سنگھاسن سے ہٹ کرایشیاکی گودمیں نئی سیاست جنم دے رہی ہے۔اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی دوچندہوگئی کہ امریکاکونظر اندازکرکےافغان وزیرِخارجہ کومدعوکیاگیا۔یہ وہی افغانستان ہے جسے دودہائیاں پہلے مغرب نے اپنے قبضے میں لے کربربادی کی دلدل میں دھکیل دیاتھا۔اب ماسکونے گویاتاریخ کاپانسہ پلٹ دیاہے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے جب یہ اعلان کیاکہ ماسکوفارمیٹ اب ایک “رابطہ گروپ”کے طورپرخطے کے امن کی بنیاد رکھے گا،تودراصل یہ اس بات کااقرار تھاکہ پاکستان اورافغانستان اب کسی ایک قوم یانظریے کامسئلہ نہیں بلکہ عالمی توازن کاامتحان ہے۔سرگئی لاوروف نے افغان وزیرِخارجہ کاخیرمقدم کرتے ہوئے جس فراست سے تسلیم کیاکہ“افغانستان کا استحکام خطے کے امن کیلئےلازم ہے”۔یہ دراصل اُس حقیقت کااعتراف تھاجسے مغرب نے ہمیشہ نظر اندازکیاکہ وسطی ایشیاکی رگوں میں امن کی دھڑکن کابل سے گزرتی ہے۔
مغربی دنیاکی منافقت اس قدرعیاں ہے کہ جوقومیں“انسانی حقوق”کی علمبرداربنتی ہیں،وہی آج افغانستان کے اثاثے ضبط کر کے وہاں کے عوام کو بھوک ،بیروزگاری اورمہاجرت کے عذاب میں مبتلاکررہی ہیں۔انجمادِاثاثہ دراصل ضمیرکے انجماد کی علامت ہے۔اگرعالمی انصاف کاکوئی تصورباقی ہے،تووہ اسی وقت معتبرہوگاجب مغرب اپنے مالی اوراخلاقی قرض افغانستان کوواپس کرے۔لاوروف کی تنقیدمحض سیاسی الفاظ نہیں بلکہ اخلاقی بیداری کی صدااور ضمیر کی گواہی تھی۔ انہوں نے مغرب کویاددلایاکہ افغانستان کوتنہاچھوڑ دینا ،ایک قوم کوریزہ ریزہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے اس اجلاس میں اپنی روایت کے مطابق محتاط مگرمعنی خیزکرداراداکیا۔پاکستان کی موجودگی یہ باورکراتی ہے کہ پاکستان افغانستان کے معاملے میں محض ہمسایہ نہیں بلکہ شریکِ تقدیرہے۔ یہ وہی ملک ہے جس نے چالیس برس سے زائدافغان بحران کے بوجھ تلے اپنے کندھے پیش کیے ہیں۔پناہ گزینوں، معیشت،اورسرحدی سلامتی کے مسائل کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کے ساتھ وابستگی برقراررکھی۔
اجلاس میں جب افغانستان کی سلامتی اورخطے میں دہشتگردی کے خطرات زیرِبحث آئے توگویاوقت نے ایک پرانازخم دوبارہ چھیڑدیا۔اجلاس میں یہ اصول واضح کیاگیاکہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ یہ جملہ سادہ ہے مگراس کے پیچھے صدیوں کی جنگی نفسیات دفن ہے۔سب فریق متفق تھے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہومگراصل سوال یہ ہے کہ دنیاکب تک افغانستان کوبطورمیدانِ جنگ استعمال کرتی رہے گی؟ اب ضرورت اس امرکی ہے کہ افغان زمین خوداپنی امن کی پناہ گاہ بن جائے۔افغانستان،جوہمیشہ عالمی قوتوں کے تصادم کا میدان رہا،اب خوداس عزم کے ساتھ اُبھرنے کی ضرورت ہے کہ وہ دوسروں کی جنگ کاایندھن نہیں بنے گا۔
اجلاس کاایک اہم پہلوانسانی امدادکاتھا۔افغانستان کے عوام جن معاشی مصائب سے گزررہے ہیں،وہ کسی قدرتی آفت کانتیجہ نہیں بلکہ سیاسی خودغرضی کا ثمرہیں۔روسی اورچینی نمائندوں نے اس بات پرزوردیاکہ انسانی ہمدردی کوسیاسی مفادات سے الگ رکھاجائے۔یہ وہ پیغام ہے جودنیاکو یاددلانے کی ضرورت ہے کہ اگرانسانیت کامفہوم صرف مفادات کے تابع ہو جائے توتہذیب محض ایک خالی خول رہ جاتی ہے۔انسدادِدہشتگردی کے ساتھ ساتھ جب انسانی امدادپرگفتگوہوئی،تومیزبانوں نے یہ اقرارکیاکہ بندوق کے سائے میں انسانیت پنپ نہیں سکتی۔افغان عوام بھوک اورمحرومی سے لڑرہے ہیں،اوران کی امیدیں اب عالمی کانفرنسوں کی نہیں بلکہ جہاں پڑوس کے ضمیرکی محتاج ہیں وہاں اپنی سرزمین کوپڑوسیوں کیلئے راحت کاعملی کرداراداکرناہوگا۔
روس،چین،ایران،بھارت،پاکستان اوروسطی ایشیائی ممالک اس اجلاس میں ایک نئی علاقائی شناخت کے ساتھ ابھرے۔یہ اتحادمغرب کے خلاف جنگ نہیں،بلکہ طاقت کے توازن کی بازیافت ہے۔یہ وہی خواب ہے جو1950کی دہائی میں “باندونگ کانفرنس”نے دیکھاتھاکہ ایشیااپنے مسائل خودحل کرے ،اوراپنی تقدیرکاتعین اپنے ضمیرسے کرے۔ماسکوفارمیٹ اسی خواب کی تعبیرکاپہلاقدم ہے۔ان کامقصدافغانستان میں امن ہی نہیں،بلکہ اس خطے کو مغربی اجارہ داری سے آزادکرناہے۔یہ دراصل نوآبادیاتی فکرکے خلاف فکری جہادہے، جس میں قلم اورمکالمہ دونوں ہتھیارہیں۔
اجلاس کے دوران جب مستقبل کی تجاویززیرِبحث آئیں،توروسی وزیرِخارجہ نے بجافرمایاکہ مغرب کی ناکام پالیسیاں اب پورے خطے کیلئےخطرہ بن چکی ہیں ۔ وہ حکومتیں جوخوداپنے وعدوں کی لاش اٹھارہی ہیں،دوسروں کیلئےامن کانسخہ نہیں لکھ سکتیں۔لہٰذااب ایشیاکواپنی حکمتِ عملی خودتحریرکرنی ہوگی ۔ چین کا افغانستان میں سفیرمقررکرنامحض ایک سفارتی اقدام نہیں،بلکہ ایک تاریخی اشارہ ہے کہ کابل کی حکومت اب دنیاکی تنہائی سے نکل رہی ہے لیکن اس کیلئے کابل کوایک مرتبہ پھراپنے بردارمحسن پاکستان کواعتمادمیں لیناہوگا ۔چین نے دراصل یہ ثابت کیاکہ عالمی تعلقات میں اخلاقی جرات طاقت سے بڑی چیز ہے
یوکرین کی جنگ میں الجھاہواروس جانتاہے کہ ایک اورمحاذکھولناخودکشی کے مترادف ہوگا۔اسی لیے ماسکواب براہِ راست عسکری تنازع کے بجائے سفارتی برتری کواپنی حکمتِ عملی بنا رہا ہے۔روس سمجھتاہے کہ ایشیاکی قیادت بندوق سے نہیں بلکہ مذاکرات اورمعاہدوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔یہ احتیاط اس بات کی دلیل ہے کہ روس اب اُس سوویت روس سے مختلف ہے جوکبھی نظریاتی توسیع کاخوگرتھا۔اب وہ تاریخی توازن اورمعاشی استحکام کوفوقیت دے رہا ہے۔
آج کاافغانستان اُس مسافرکی مانندہے جواپنی منزل کھوچکاہے،مگرراستے کی مٹی اب بھی اُس کے قدم پہچانتی ہے۔پاکستان اورخطے کے دیگرممالک اُس کیلئے دعااورتدبیردونوں کاسامان لے کربیٹھے ہیں کہ امن لوٹ آئے،اورتدبیراس لئے کہ یہ امن پائیداررہے۔ماسکوفارمیٹ میں شریک ممالک کایہ متفقہ عزم دراصل تاریخ کے دھارے کوپلٹنے کی ایک سعی ہے۔
یہ فیصلہ کہ”افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی محض ایک جملہ نہیں،بلکہ برسوں کی قربانیوں اورتلخ تجربات کی گواہی ہے۔پاکستان کے عوام آج بھی اپنے افغان بھائیوں کیلئےخیرہی چاہتے ہیں،مگروہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ دوستی کاحق،اعتمادکے چراغ کوجلائے رکھنے میں ہے۔اگرکابل اپنے دامن سے دہشتگردی کے کانٹے صاف کردے،تویہ خطہ ایک بارپھر امن کی وادی،تجارت کاسنگم،اورتہذیب کامرکزبن سکتاہے۔
وقت کاپہیہ اب مشرق کی سمت گھوم رہاہے اوراگرماسکو،بیجنگ،تہران اوراسلام آباداپنے عہدپرقائم رہے،توآنے والی نسلیں اس دورکونئی ایشیائی بیداری کے نام سے یادکریں گی۔یہ اس حقیقت کااعلان ہے کہ امن اب ایک نعرہ نہیں،ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔





