دنیاکی سیاست دراصل ایک ایساسمندرہے جس کی موجیں کبھی سکوت میں نہیں رہتیں۔یہاں طاقت کاتلاطم،مفادکابھنور، اورقوموں کی حرص وہوس ہرلمحہ نئے مناظرتراشتی ہے۔یہ وہی عالمی شطرنج ہے جہاں کل کامہرہ بادشاہ بن جاتاہے اورآج کا بادشاہ محض ایک کمزورپیادہ رہ جاتاہے۔تاریخ کے اوراق پرنگاہ ڈالئے توہرصدی یہی سبق دہراتی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی دوستی دائمی نہیں اورکوئی دشمنی ہمیشہ کیلئےلکھی نہیں جاتی۔قرآن حکیم نے ہمیں پہلے ہی یہ حقیقت سمجھادی تھی:
یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔(آل عمران:140)
یہی آیت گویاہمارے سامنے تاریخ کی ابدی منطق رکھتی ہے۔طاقت اورکمزوری،عروج اورزوال،یہ سب دنوں کاکھیل ہے۔کل روم اورایران دنیاکے فرماںرواتھے،آج ان کے کھنڈر تاریخ کے سیاحوں کیلئےعبرت کاسامان ہیں۔کل سپین کی سلطنتِ غرناطہ کاچراغ پورے یورپ کوروشنی دیتاتھا،مگرآج اس کی محرابیں صرف خون کے آنسوبہاتی ہیں۔
دنیاکی سیاست دراصل طاقت کےتوازن اورمفادات کے ادل بدل کاایک مسلسل کھیل ہےاورجیساکہ ہم جانتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک شطرنج ہے۔دوستیاں وقتی،دشمنیاں عارضی ۔ اصل چیزمفادہے؛جہاں کل کادوست آج حریف اورآج کامخالف کل شریکِ سفربن سکتاہے۔برصغیرکے موجودہ حالات اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
انڈیاآج اسی سچائی کے شکنجے میں ہے۔اسی تسلسل میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیا—جواپنے آپ کوابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دیتاہے—عالمی سیاست کے ایسے نازک موڑپرکھڑاہے جہاں ہرراستہ اسے آزمائش کے دریامیں دھکیل رہاہے۔امریکا،جودہلی کا سب سے بڑاتجارتی وعسکری شراکت داررہاہے،اب اپنی رگوں میں سردمہری دوڑارہاہے۔چین،جوکل تک دشمنِ جان تھا،آج مسکرا کرمصافحہ بڑھارہاہے۔اورروس،جوبرسوں سے پرانادوست تھا،اب کبھی نظراندازاورکبھی پھریادکرکے دہلی کے دروازے پر دستک دیتاہے۔
انڈیاکیلئےیہ سب کوئی معمولی صورتِ حال نہیں۔ایک طرف وہ اپنے ملک کی معیشت کوسہارادینے کیلئےامریکاپرانحصارکرتارہا، مگراب امریکی ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس کی معیشت کی سانسیں تنگ کردی ہیں۔لاکھوں نوکریاں داؤپرلگ چکی ہیں اور سرمایہ دارانہ معجزے کاخواب ٹوٹنے لگاہے۔دوسری طرف چین کے ساتھ اس کی سرحدی تلخیاں ابھی تک تازہ ہیں، لیکن دہلی اسی چین سے دوستانہ باتیں کرنے پرمجبورہے۔اورپھر روس—جسے مودی حکومت نے ایک وقت نظراندازکیا—اب دوبارہ روس کے تلوے چاٹ کرسیاسی مکالمے میں داخل ہو رہا ہے۔
یہ سب محض سفارتی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی کہانی کے باب ہیں۔کہانی یہ ہے کہ انڈیانے امریکاکی دوستی پراتنااعتماد کیاکہ اپنے پرانے تعلقات ایران اورروس کے ساتھ بھی قربان کرڈالے۔ایران سے سستاتیل لینابندکردیا،روسی تعلقات کوثانوی بنادیا، اوربیجنگ کے ساتھ محاذآرائی کوہوادی۔مگرآج جب واشنگٹن نے دہلی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہاکہ “ہماری ترجیح ہمارے تجارتی مفاد ہیں،تمہاری سلامتی نہیں”،تودہلی کی سیاسی کایاپلٹ گئی۔
امریکا،جس پردہلی نے اپنی معیشت کاسہارارکھا،اب پیٹھ پھیررہاہے۔تجارتی معاہدے معطل،ٹیرف کی تلوارلٹک رہی ہے،اور لاکھوں نوکریاں خطرے میں ہیں۔واشنگٹن نے دہلی کویہ سبق دے دیاہے کہ“دوستی نہیں،صرف سودے بازی ہے۔چین،جس کے ہاتھوں گلوان کی وادی میں انڈین خون بہا،اب مسکرارہاہے۔وزیر خارجہ وانگ یی دہلی آتے ہیں،معدنیات، پروازوں اورتجارت پر بات کرتے ہیں۔دہلی سن بھی رہاہے اورسوچ بھی رہاہے۔دشمن پراعتماد؟یہی وہ سوال ہے جو مودی حکومت کوپریشان کررہاہے۔
روس—پرانی رفاقت،مگردھول جمی ہوئی۔کبھی نظرانداز،کبھی دوبارہ یاد۔اجیت ڈوبھال اورجے شنکرماسکوکے چکرلگارہے ہیں۔ گویادہلی اپنی پرانی غلطی پرپردہ ڈالناچاہتاہے مگرنادم دکھائی نہیں دیتاکہ سیاست کی مکاری نے اسے یہ سکھایاہی نہیں۔
ایران؟کل تک قریب ترین سپلائرتھا۔سستاتیل دیتاتھامگرامریکاکے ایک اشارے پرانڈیانے اس سے منہ موڑلیا انڈیانے2019میں امریکی دباؤپرایران سے تیل لینابندکیا۔یہ فیصلہ دہلی کی معیشت کیلئےایک خودکشی کے مترادف تھا۔ایران قریب تھا،تیل سستاتھالیکن دہلی نے واشنگٹن کے اشارے پرقربانی دی۔اب اگریہی دباؤروسی تیل پربھی آگیاتودہلی کی معیشت گویا اپنے پاؤں پرکلہاڑی مارلے گی اوردہلی کی معیشت نہ صرف تاش کے پتوں کی طرح بکھرسکتی ہے بلکہ دہلی کی معیشت گھٹنوں پرآجائے گی۔یہی وہ موقع ہے جب انڈیاکواحساس ہورہاہے کہ عالمی بساط پرایک ہی طاقتورکھلاڑی پرانحصارکرناخودکشی کے مترادف ہے۔سیاست میں جسے ہم اتحادیوں کی تنوع کہتے ہیں،وہی حکمت عملی دہلی کیلئےناگزیرہو چکی ہے۔
مگرکیایہ سب دہلی کے ہاتھ میں ہے؟مگرسوال یہ ہے کہ کیاچین اورروس دہلی کیلئےوہ خلا بھرسکیں گے جوامریکاچھوڑرہاہے؟ اورکیاواشنگٹن کبھی دوبارہ وہی گرمجوشی لوٹاسکے گا؟کیاوہ اپنے پرانے دشمن چین پراعتمادکرسکتاہے؟کیا چین مودی کے موجودہ کردارپراعتبارکرسکتاہے؟کیاروس کے ساتھ دوبارہ وہی گرمی پیداہوسکتی ہے؟اورکیاواشنگٹن کبھی پھرویسادوست بن سکے گا جیساٹرمپ کے دورمیں تھا؟
ٹرمپ کے دورِحکومت میں انڈیاجس قدرگرمجوشی سے امریکاکے قریب آیاتھااوردہلی اورواشنگٹن کے درمیان دوستی کے بڑے چرچے تھے اورمودی عوامی اجتماع میں خوشامدانہ اندازمیں ٹرمپ کی دلجوئی کیلئے”مائی بیسٹ فرینڈ ٹرمپ”کہہ کرمخاطب کرکے اقوام عالم کواپنی کامیاب دوستی اورسیاست کاسرٹفکیٹ وصول کرنے کی کوشش کرتارہا،آج اس میں ایک سردمہری اور دل شکستہ آہٹ آچکی ہے۔امریکی قیادت نے انڈیاکویہ احساس دلایاہے کہ“ہماری دوستی کسی غیرمشروط عشق کانام نہیں بلکہ ایک تجارتی سودے بازی ہے۔امریکانے تجارتی گفت و شنید کوغیرمعینہ مدت کیلئےمؤخرکرکے دراصل انڈیاکوبتایاہے کہ”دنیاکی طاقتوں کی بساط پرکوئی بھی شراکت داری ابدی نہیں ہوتی۔”اس موقع پرانڈیاکی نظریں ایک بارپھراپنے پرانے حریف—چین—کی طرف اُٹھ رہی ہیں۔
امریکاکے حالیہ سخت فیصلے انڈیاکیلئےغیرمتوقع تھے۔دہلی کے حکمراں اس سچائی کاسامناکرنے کیلئےتیارنہ تھے کہ واشنگٹن محض دوستانہ لہجے میں بات نہیں کرتابلکہ اپنے تجارتی مفادکوسب پرمقدم رکھتاہے۔امریکانے انڈیاکے ساتھ جاری تجارتی گفت و شنید کوغیرمعینہ مدت کیلئےمعطل کرکے جو جھٹکا دیاہے،دہلی اس حقیقت کیلئےتیارنہ تھاکہ واشنگٹن کبھی بھی دوست کے چہرے کے پیچھے سوداگرکی آنکھیں دکھاسکتاہے۔یہ وہی انڈیاتھاجوکل تک سمجھتا تھاکہ وائٹ ہاؤس کی دہلیزاس کیلئےہمیشہ کھلی رہے گی لیکن یہ مکافاتِ عمل ہے،مودی نے جوبویا،وہی کاٹناپڑے گا۔
تجارت کی بساط پرامریکاانڈیاکاسب سے بڑاپارٹنرہے۔133/ارب ڈالرکی سالانہ تجارت میں دہلی اپنی معیشت کی سانسیں گنتاہے۔ ہیرے،موتی، دوائیں،کپڑااورالیکٹرانک سامان—یہ سب امریکی منڈی پرانحصارکرتے ہیں۔لیکن اب وہی منڈی اپنے دروازے نیم وا کرکے مودی کی عقل کو ٹھکانے پرلگاکردہلی کوسوچنے پرمجبورکررہی ہے کہ“کیاسب کچھ ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیناعقلمندی تھی؟اب جب ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس بہتے دریاپربندباندھ دیاہے تولاکھوں روزگارداؤپرلگ گئے ہیں۔
جب ٹیرف کی تیزدھاران برآمدات پرگری توکارخانوں کے پہیے سست پڑگئے۔نئے آرڈرمنسوخ ہوگئے،اورلاکھوں مزدوروں کے سروں پر بیروزگاری کی تلوارلٹکنے لگی۔ایک وقت تھاجب دہلی اپنے معاشی معجزے پرفخرکرتاتھا،آج وہ معجزہ واشنگٹن کے ایک حکم سے بکھرتادکھائی دے رہاہے بلکہ منہ کے بل آن گراہے۔ نئے آرڈرز منسوخ،برآمدات معطل،اورکارخانوں میں بے یقینی”—یہ وہ کیفیت ہے جوانڈیاکیلئےمعاشی زوال کی دستک دے رہی ہے۔
گلوان کی وادی میں بہنے والاخون آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کوزہرآلودکیے ہوئے ہے اورگلوان وادی کے برفیلے پتھروں پربہنے والاخون دونوں قوموں کے تعلقات میں جم گیا ہے۔وہ جھڑپ محض ایک واقعہ نہ تھی بلکہ ایک زخم تھاجواعتمادکی رگ پر لگالیکن سیاست کی منطق کچھ اور ہے؛ دہلی اب انہی ہاتھوں کوتھامنے اورانہی کے پاؤں چومنے پرآمادہ ہے جنہوں نے اس کے جوانوں کومٹی میں سلادیاتھامگرعالمی سیاست کے بدلتے تیوردہلی کومجبورکررہے ہیں کہ وہ اسی چین کے دروازے پردستک دے جسے کل تک اپنی سلامتی کیلئےسب سےبڑاخطرہ قراردیتاتھا۔یہی وہ مکافات عمل کے لمحات ہیں جب دہلی نے اپنی آنکھیں بیجنگ کی سمت دوڑائیں ہیں—اسی چین کی طرف جوکل تک سرحدپرخون بہارہاتھااورآج مفاہمت کے گیت گارہا ہے۔
مودی حکومت نے ایک وقت ایسابھی دیکھا جب روس جیسا پرانا حلیف نظراندازہوااوراس سے آنکھیں پھیرلیں لیکن آج دہلی کو یہ احساس ہورہاہے کہ ماسکوکے بغیراس کاسفارتی کمرہ ادھورا ہے۔اجیت ڈوول اورپھر وزیر خارجہ ایس جے شنکرکادورہ ماسکو اسی پشیمانی کی علامت ہیں۔اب دہلی چاہتاہے کہ روسی دروازہ دوبارہ کھٹکھٹایاجائے،چاہے دیرہی کیوں نہ ہوگئی ہو۔
چینی وزیرخارجہ وانگ یی کادہلی آنااوراعلیٰ سطحی مذاکرات اس امرکی علامت ہیں کہ انڈیانئی راہیں تلاش کررہاہے۔وانگ یی کا دہلی آنا محض ایک رسمی ملاقات نہ تھی،یہ ایک پیغام تھاکہ “ہم دشمن رہ کربھی ہمسائے ہیں اورہمیں ساتھ رہنے کی راہیں نکالنی ہوں گی۔”دونوں ملکوں نے تجارتی تعلقات کی بحالی،معدنیات کی فراہمی، کھاد،براہ راست پروازوں اورویزوں کے اجرا پراتفاق کر کے ماضی کے زخموں پرمرہم رکھنے اورتعلقات کونرم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ گویاسردجنگ کے برفیلے پانی پرپہلی نرم لہر تھی۔
چین اورانڈیاکی سرحددنیاکی سب سے پیچیدہ سرحدوں میں شمارہوتی ہے۔انڈیااورچین کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اب بھی سرحدی تنازعات ہیں۔جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو، اعتمادکادریانہیں بہہ سکتا۔دونوں ممالک ایک جنگ لڑچکے ہیں اورعدم اعتمادکی دیواراب بھی کھڑی ہے۔مذاکرات کی میزپربارہابیٹھنے کے باوجودکوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہوئی اور اعتماد کادرخت جڑنہیں پکڑسکااورعدم اعتماد کایہ سایہ اب بھی ان کے تعلقات پرچھایا ہوا ہے۔یادرہے،یہ وہی تنازعہ ہے جس نے دونوں کوایک جنگ تک پہنچایا۔
ایک اورپہلویہ ہے کہ امریکامیں آرایس ایس کے پیروکاربڑی تعدادمیں موجودہیں۔یہ لوگ دہلی اورواشنگٹن کے تعلقات کوکسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھنے کیلئےدباؤڈالتے رہیں گے مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دباؤان تعلقات کووہی استحکام دے سکے گاجوکل کبھی ہواکرتاتھا؟سیاسی حقیقت یہی ہے کہ ماضی جیسی ہم آہنگی شایداب برسوں تک واپس نہ آسکے۔
امریکادنیاکی سب سے بڑی طاقت اورسب سے بڑی معیشت ہے۔انڈیااسے چھوڑنہیں سکتالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی جتنی سرمایہ کاری امریکی نظام میں کرچکاہے،اتنی اس نے کہیں اورنہیں کی۔یہ سرمایہ کاری اب بوجھ میں بدل چکی ہے۔دہلی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؛وہ واشنگٹن کی بے رُخی کوسہنے پرمجبورہے۔مگرساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ استحکام اوراعتمادجوکبھی تھا،اب تحلیل ہوچکاہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ خطے میں ہونے والی اس ساری سفارتی ہلچل کے مقابلے میں پاکستان کہاں کھڑاہے؟دہلی اگرچین اور روس کی طرف جھک رہاہے توکیااسلام آباداس موقع کوسفارتی سرمائے میں بدل رہاہے؟اب یہ معاملہ مقتدر قوتوں کیلئے ایک چیلنج ہوگاکہ اسلام آبادکواپنے پتے کیسے کھیلنے ہوں گے؟سوال یہ ہے کہ اس پورے کھیل میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟قرآن ہمیں متنبہ کرتاہے:
یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔ (العمران :140 )یہی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے ایام کبھی ایک کے پاس اورکبھی دوسرے کے پاس ہوتے ہیں۔پاکستان کوچاہیے کہ آنے والے دنوں کی تیاری کرے تاکہ یہ تغیراس کے حق میں ثابت ہو۔قرآن حکیم ہمیں یہ بھی یاددلاتاہے کہ:
اوران کے مقابلے کیلئےجوکچھ قوت تم جمع کر سکتے ہواورباندھے ہوئے گھوڑے(تیاررکھو)تاکہ اس سے اللہ کے دشمنوں اوراپنے دشمنوں پررعب ڈال سکو۔(انفال:60)
پاکستان کواپنے سفارتی ودفاعی خطوط میں اسی الہامی اصول کوبنیادبناناہوگا،تاکہ خطے کی بدلتی شطرنج میں وہ محض مہرہ نہیں بلکہ ایک باوقارکھلاڑی ثابت ہو۔یہ سب سوالات صرف انڈیا کیلئےنہیں بلکہ پورے برصغیرکیلئےاہم ہیں کیونکہ دہلی کی ایک حرکت اسلام آبادکیلئےنئے مواقع بھی پیداکرسکتی ہے اور خطرات بھی۔پاکستان کیلئےیہ وہ لمحہ ہے جب اسے اپنی خارجہ پالیسی کے پتے درست ترتیب دینے ہیں۔اگر دہلی چین کے قریب جاتاہے تواسلام آباد کویہ دیکھناہوگاکہ بیجنگ کاتوازن کس کے حق میں جھکتاہے۔اگردہلی ،ماسکوکادرکھٹکھٹاتا ہے توپاکستان کویہ سوچناہوگاکہ روسی تعلقات میں اپنی جگہ کیسے بنائی جائے۔اوراگردہلی واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ گرمجوشی کی کوشش کرتاہے تواسلام آبادکواپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دیناہوگی۔ یہ وہ وقت ہے جب امتِ مسلمہ کیلئےبھی ایک بڑاسبق ہے۔دنیا کی سیاست محض الفاظ کاکھیل نہیں،طاقت اورتیاری کاامتحان ہے۔جوقوم اپنی قوت تیاررکھتی ہے وہی بساطِ سیاست پر عزت سے کھیلتی ہے،ورنہ دوسروں کے فیصلوں کی دستاویزمیں صرف تماشائی رہ جاتی ہے۔
انڈیا آج جس دوراہے پرکھڑاہے،وہاں ایک طرف امریکاکاحالیہ کرداراوردوسری جانب چین اورروس کی پیشکش ہے۔مگریہ فیصلہ دہلی کوکرناہوگاکہ وہ کس سمت رخ کرے۔اورخطے کے دیگر ممالک،بالخصوص پاکستان،کویہ موقع غنیمت سمجھ کراپنی خارجہ پالیسی میں وسعت اورگہرائی پیداکرنی ہوگی کیونکہ تاریخ کاسبق یہی ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جووقت کی کروٹ کے ساتھ اپنے قدموں کی سمت بدلنے کی حکمت رکھتی ہیں۔
انڈیاکی خارجہ پالیسی آج ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں ہرراستہ کسی نہ کسی خطرے کی طرف جاتاہے۔امریکاکی بے رُخی، چین کی مشروط دوستی اور روس کی دوبارہ دستک—یہ سب دہلی کیلئےایک امتحان ہیں اورتاریخ کافیصلہ ہمیشہ ان کے حق میں ہواہے جوبدلتے وقت کے ساتھ اپنی بساط دوبارہ بچھانے کاہنررکھتے ہیں۔انڈیا کی موجودہ سفارتی پالیسی ایک ایسے مسافرکی مانند ہے جوبیابانِ سیاست میں بھٹک رہاہے۔اس کے سامنے چار راستے ہیں:
٭امریکا،چین اورروس لیکن ہرراستے میں کانٹے بھی ہیں اور سراب بھی۔
٭امریکاکاراستہ بظاہردولت مندہے مگربے اعتباری کے ریگزارسے بھراہواہے۔
٭چین کاراستہ امیددلاتاہے مگراس کے ساتھ خون کے دھبے بھی چپکے ہوئے ہیں۔
٭روس کاراستہ پراناہے مگراس پردھول جمی ہے اورنئے سرے سے اس کی صفائی درکارہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب دہلی کویہ سمجھناہوگاکہ”طاقت کے کھیل میں مستقل دوست نہیں ہوتے،صرف مستقل مفادہوتے ہیں۔”یہ قول محض مغربی دانشوروں کانہیں بلکہ اسلامی فکرکابھی عین خلاصہ ہے۔ وہ تمہیں بس کچھ ایذاہی پہنچاسکتے ہیں،اگروہ تم سے جنگ کریں گے توپیٹھ پھیرجائیں گے اورپھران کی مددنہیں کی جائے گی۔(العمران:111)
یہ آیت گویاان سب قوتوں کیلئےاعلان ہے جوخودکو ناقابلِ شکست سمجھتی ہیں۔اللہ کی بساط پرکوئی طاقت ابدی نہیں۔پاکستان کیلئےیہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض ردِعمل کی سیاست تک محدودنہ رکھے بلکہ ایک فعال اورحکمت آمیزکردار اداکرے۔اسلام آبادکویہ سوچناہوگاکہ بدلتے عالمی توازن میں وہ کہاں کھڑاہے۔اگردہلی ماسکواوربیجنگ کی طرف بڑھتاہے تو پاکستان کواپنی جگہ مضبوط کرناہوگی تاکہ وہ کسی حاشیے پرنہ ڈالاجائے۔ اگر واشنگٹن دہلی کے ساتھ دوبارہ قریب آتاہے تو پاکستان کواپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھناہوگا۔
یہ وہ لمحہ ہے جب”قومیں خواب دیکھ کرنہیں بلکہ حقیقتوں کوپہچان کرجیتی ہیں”۔پاکستان کویہ پہچانناہوگاکہ حقیقت یہی ہے۔عالمی سیاست کی بساط پرزندہ رہنے کیلئےہمیں اپنے وسائل پراعتماد، اپنے اتحادپریقین،اوراپنے ایمان پرکامل بھروسہ کرناہوگا۔یقیناًانڈیاآج ایک دوراہے پرکھڑاہے۔تین راستے:امریکا،چین،روس،ہرراستہ دشوار،ہرموڑپرخطرہ۔
٭امریکا:سب سے بڑی معیشت،مگربے اعتباری کی دھند۔
٭چین:سب سے بڑاہمسایہ،مگرخون کے دھبوں کے ساتھ۔
٭روس:پرانادوست،مگراب پرانی دوستی پرزنگ چڑھاہوا۔
یہی دہلی کی اصل آزمائش ہے۔طاقت کے کھیل میں مستقل دوست نہیں ہوتے۔صرف مستقل مفادہوتے ہیں۔پاکستان کیلئےیہ موقع ہے۔ کیااسلام آباداس تبدیلی کواپنے فائدے میں بدل سکے گا؟یاپھرہمیشہ کی طرح دوسروں کے فیصلوں کاتماشائی رہے گا؟
یادرکھیے!وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جواپنے وقت کے امتحانوں میں کامیاب ہوتی ہیں۔انڈیاآج اس امتحان میں گرفتارہے۔ پاکستان کیلئےسوال یہ ہے کہ کیاوہ اس امتحان کوایک موقع میں بدل سکتاہے؟اگرپاکستان نے اپنی حکمتِ عملی کوبروقت اورمؤثر طورپرترتیب دیاتویہ وقت ہمارے لیے ایک نئی تاریخ کاآغازہوسکتاہے۔اوراگرہم نے اسے گنوادیاتوہم محض دوسروں کے فیصلوں کے صفحات میں ایک حاشیہ بن کررہ جائیں گے۔
قرآن کہتاہے:“اگراللہ تمہاری مددکرے توتم پرکوئی غالب نہیں آسکتا،اوراگروہ تمہیں چھوڑدے توپھرکون ہے جوتمہاری مددکرے؟(العمران:160)
یہی وہ آیت ہے جوہمیں اصل سبق دیتی ہے۔قوموں کی نجات صرف حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ ایمان،اتحاداورعزم سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جوپاکستان کواختیارکرناہوگا۔یہی اصل سبق ہے۔قوموں کوبچانے والی چیزمحض سفارت کاری نہیں،بلکہ ایمان، عزم اورتیاری ہے۔انڈیاکیلئے یہ بحران ہے۔پاکستان کیلئےیہ موقع ہے۔





