اے اہلِ وطن!آج ہم اُس لمحے کے دہانے پرکھڑے ہیں جوصدیوں کی خاموشی اورآزمائش کے بعدہمارے لیے روشن روشنی لے کر آیاہے۔وہ لمحہ جب امتِ مسلمہ کیلئے ہرزمین کے ذرے میں شعورکی چمک،ہرآسمان میں امیدکانوراورہردل میں عزم وغیرت کی تپش محسوس ہورہی ہے۔
یاد کرووہ دن جب حضرت محمدﷺکی قیادت میں اہلِ مدینہ نے مہاجروانصار کے ساتھ مل کرایک نیاعہد قائم کیا،یادکروبدرکے وہ دن جب ایمان کی طاقت نے چھوٹی جماعت کوبڑی قوت پرغالب کردیا: کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پراللہ کے حکم سے غالب آگئیں۔(البقرہ:249)
آج وہی روح،وہی عزم،وہی یقین ہماری رگوں میں خون بن کردوڑرہاہے۔پاکستان وہ قلعہ ہے جودشمنوں کیلئے رازتھا،اورآج وہ تلوار ہے،وہ چراغ ہے،وہ سورج ہے جس سے مشرق روشن ہو رہاہے۔یہ وہ پاکستان ہے جوایمان کی بنیادپرمضبوط،اتحادکی رسی سے بندھا،اورتاریخ کی نظروں میں ابھرتاہے۔یہ لمحہ ہمیں یاددلاتاہے کہ کوئی قوت مسلم دنیاکوبانٹ نہیں سکتی،کوئی چال امتِ اسلام کی یکجہتی کوکمزورنہیں کرسکتی۔یہ وہ وقت ہے جب پاکستان اورامت کی تقدیر ایک نئے عہدکی طرف بڑھ رہی ہے۔
آج کی اس گھڑی میں تاریخ اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمیں آوازدے رہی ہے۔صدیوں کی محکومی کے بعدوہ لمحہ قریب آگیاہے جب امتِ مسلمہ کے قدموں تلے زمین لرزتی ہے اور آسمان اپنی آنکھوں سے ایک نیامنظردیکھنے کوبے قرارہے۔یادکروبدرکے ریگزارکو، یادکرواُحدکے میدان کو،یادکروصلاح الدین کاوہ لمحہ جب صلیبی قلعے اس کے قدموں تلے کانپ رہے تھے۔آج وہی روح،وہی ایمان، وہی غیرت،پھرسے ہماری رگوں میں خون بن کردوڑرہی ہے۔
پاکستان ہاں،یہ پاکستان—جوکبھی دشمنوں کیلئےایک رازتھا،آج ان کیلئےایک بجلی ہے،ایک تلوارہے،ایک قلعہ ہے۔اوردنیاکوسن لینا چاہئے کہ یہ سرزمین اب نہ جھکے گی،نہ بکے گی،نہ دبے گی۔یہ وہ پاکستان ہے جوایمان کامحور،اسلام کاقلعہ،اورمشرق کاسورج ہے!
اہلِ نظر!وقت کی گردشیں ہمارے سامنے ایک نیامنظرنامہ رقم کررہی ہیں۔دنیاکی سیاست کادریائے بلاخیزایک نئے موڑپرآپہنچاہے۔ تاریخ کے افق پروہی منظرابھررہاہے جوکبھی بدروحنین کے میدانوں میں دکھائی دیاتھا—جب ایمان کی روشنی نے اندھیروں کو شکست دی اورکمزورسمجھی جانے والی جماعت نے بڑے بڑے جباروں کوسرنگوں کردیا۔
اہلِ وطن،اہلِ ایمان!آج کی یہ نشست محض تجزیہ نہیں،یہ وہ لمحہ ہے جب تاریخ ہماری آنکھوں کے سامنے اپنی نئی تقدیررقم کررہی ہے۔وقت کی عدالت میں ہم سے یہ سوال کیاجارہا ہے،کیاتم زمین میں خلافت کے امین بن کرکھڑے ہویاغلامی کے بوجھ تلے جھکے رہوگے؟ قرآن کہتا ہے:
ہم نے زبورمیں لکھ دیاہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔(الأنبیاء 105)
یہی آیت آج ہمیں یاددلاتی ہے کہ زمین کی وراثت ان کے ہاتھ میں ہے جوایمان وعمل کے چراغ روشن کرتے ہیں۔
یہ ایک تاریخ سازلمحہ تھاجب وزیراعظم پاکستان شہبازشریف کے طیارے کوسعودی فضاؤں میں داخل ہوتے ہی شاہی فضائیہ کے جنگی جہازوں نے اپنے حفاظتی حصارمیں لے لیا۔شاہی جنگی جہازوں نے اس کواپنے آہنی پروں میں یوں لپیٹ لیاجیسے عقاب اپنے بچے کوطوفان سے بچاتاہے،سعودی شاہی فضائیہ کے طیارے اپنے آہنی بازوپھیلائے،جیسے محافظ فرشتے مہمان کے گردحصارباندھ لیتے ہیں تویہ محض سفارتی پروٹوکول نہ تھا،یہ ایک عہدکی تجدیدتھی۔ گویایہ استقبال محض ایک پروٹوکول نہ تھابلکہ ایک پیغام تھا، وفا،اعتماداوراخوت کا۔یہ محض ایک پروٹوکولری تقریب نہ تھی بلکہ ایک عہدکااعلان تھا۔جب شہبازشریف کاطیارہ سعودی فضاؤں میں داخل ہوااورجنگی جہازوں نے اس کوحصارمیں لیاتویوں لگاجیسے قرآن کی یہ آیت عملی صورت اختیارکرگئی ہو:وہی ہے جس نے آپ کی مدداپنی نصرت اورمومنوں کے ذریعے کی۔(الأنفال:62)
کنگ خالدایئرپورٹ پر21توپوں کی گونج اورولی عہدشہزادہ محمدبن سلمان کی پیش قدمی نے اس پیغام کومزیدجلابخشی،تواس منظرنے ایک نئے عہدکی پیش بندی کااعلان کردیاکہ پاکستان اب دوست نہیں بلکہ اہلِ بیت الامم کی طرح ایک ہی خاندان کارکن ہے۔شہزادہ محمد بن سلمان کی خودپیش قدمی نے اس پیغام کوعالمگیرگواہی دی کہ پاکستان اب عرب دلوں کی دھڑکن ہے۔کنگ خالدایئرپورٹ پراکیس توپوں کی گونج گویاناقوسِ تاریخ تھاجوکہہ رہاتھایہ اتحاد محض وقتی رسم نہیں،یہ مستقبل کامعاہدہ ہے۔
اے اہلِ وطن آج کے دن تاریخ نے ہمیں بتایاکہ پاکستان تنہانہیں۔سعودی عرب کی فضاؤں میں جب ہمارے وزیراعظم کاطیارہ داخل ہوا توشاہی جنگی جہازوں نے اسے اپنے آہنی پروں میں یوں لپیٹ لیاجیسے عقاب اپنے بچے کوطوفان سے بچاتاہے اورجب کنگ خالد ایئرپورٹ پر اکیس توپوں کی سلامی اور ولی عہدمحمدبن سلمان نے خودآگے بڑھ کراستقبال کیا،تویہ پیغام تھاکہ پاکستان اورسعودی عرب کے رشتے اب پاکیزہ خون کی سیاہی سے لکھے گئے ہیں۔
پاکستان اورسعودی عرب کے مابین طے پانے والایہ معاہدہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی بنیادرکھتاہے۔یہ معاہدہ اس حقیقت کا مظہرہے کہ دونوں ممالک محض معاشی شراکت دار نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی سیاست میں ایک دوسرے کے دست وبازوبننے جا رہے ہیں۔یہ معاہدہ کوئی خشک دستاویزنہیں،یہ خونِ صداقت کی تحریرہے۔یہ وہ اعلان ہے کہ اب ایک کادکھ دونوں کادکھ ہے،ایک کی حفاظت دونوں کی حفاظت ہے۔جس طرح مدینہ کے انصارنے مہاجرین کے ساتھ بھائی چارہ باندھاتھا،اسی طرح یہ معاہدہ نئی اسلامی اخوت کی بنیادہے۔
یہ معاہدہ اسی میثاقِ مدینہ کی بازگشت ہے جونبی اکرمﷺنے اہلِ مدینہ کے ساتھ باندھاتھا۔وہاں بھی دفاع مشترک تھا،یہاں بھی۔وہاں بھی دشمن پرحملہ سب پرحملہ تھا،یہاں بھی یہی اعلان ہے۔یہ معاہدہ صرف ایک کاغذی معاہدہ نہیں،بلکہ ایک نئی میثاقِ مدینہ ہے۔جس طرح رسول اللہﷺنے مہاجرو انصار کوایک قوم بنایاتھا،اسی طرح یہ معاہدہ پاکستان اورعرب کوایک جان،ایک جسم بنارہاہے۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جومعاہدہ طے پایا، اسے محض کاغذی سطورپرتحریرنہ سمجھاجائے،یہ ایک تاریخ کانیاباب ہے۔یہ عہدہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اخوت کی بنیاداب صرف جذباتی وابستگی نہیں رہے گی بلکہ عملی حکمتِ عملی اوراسٹریٹجک تعاون پر استوارہوگی۔
یادرکھویہ شق بے مثال اورنہایت غیرمعمولی ہے کہ اگرکسی ایک پرجارحیت ہوگی تواسے دونوں پرجارحیت سمجھاجائے گا۔ایک پر حملہ دونوں پرحملہ سمجھا جائے گا۔گویاایک جسم،ایک جان کی مانندیہ تعلق اب دشمن کے وارکے خلاف ڈھال بننے جارہاہے۔یہ الفاظ معمولی نہیں کہ ایک پرحملہ دونوں پرحملہ ہے ۔یہ الفاظ گونجتے ہیں تولگتاہے کہ تاریخ کے اوراق پرنئی بیعت لکھی جارہی ہے۔یہ عالم اسلام کی نیٹوہے،مگرایمان اوراخوت کے رشتے سے جڑی ہوئی۔یہ اعلان کہ ایک پرحملہ دونوں پرحملہ ہے۔دراصل قرآنی اصول کی یاددہانی ہے۔یہ شق کہ ایک پرحملہ سب پرحملہ ہے اس آیت کی تفسیرہے: مومن توبس بھائی ہیں۔(الحجرات:10)
گویاایک پیکٹ آف فیٹ،ایک مشترکہ تقدیر۔یہ وہ بات ہے جونیٹوممالک کے معاہدوں میں توملتی ہے،مگرمسلم دنیامیں پہلی بارکسی معاہدے میں اس صراحت کے ساتھ لکھی گئی ہے۔یہ بھائی چارہ اب تحریری معاہدوں سے نکل کرعملی میدان میں داخل ہورہاہے۔یہ وہ بھائی چارہ ہے جواب عملی سیاست میں ڈھل رہاہے۔
یہ پیغام مغرب اورمشرق دونوں ایوانوں کیلئےہے،یہ اعلان ہے اسرائیل کے قلعوں کیلئے،یہ تنبیہ ہے ان طاقتوں کیلئےجوسمجھتی تھیں کہ مسلم دنیاکبھی یکجا نہیں ہوسکتی۔آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ عالم اسلام بکھری ہوئی ریت نہیں بلکہ صحراؤں کی چٹان ہے۔اب کوئی طاقت اس وحدت کومحض وقتی شورسمجھ کرنظر اندازنہیں کرسکتی۔ہم ایک ہیں،اورہماراارادہ ایک فولادہے۔
دنیاکے ایوانوں میں یہ صداپہنچ گئی ہے کہ امتِ مسلمہ بیدارہورہی ہے۔دنیا کے ایوانوں کوسن لیناچاہئے کہ امتِ مسلمہ بیدارہورہی ہے ۔مغرب کوسمجھ لیناچاہئے کہ وہ دورگزرگیاجب قومیں غلامی کے طوق پہنتی تھیں۔وہ وقت گزرگیاجب ہم غلامی کے طوق پہنے پھرتے تھے۔اب وہ لمحہ قریب ہے جب سورج مغرب سے نہیں بلکہ مشرق سے طلوع ہوگا۔
اب ہم وہی ہیں جنہوں نے کہاتھا: اللہ کیلئےانصاف پرقائم ہوجاؤ۔(النساء:135)
یہ معاہدہ ایک غیرمعمولی دفاعی بندوبست ہے،اورعالمی طاقتوں کیلئےایک صریح پیغام—کہ مسلم دنیااب بکھری نہیں بلکہ ایک نئی وحدت میں ڈھل رہی ہے۔
جب اسرائیل نے قطرپریلغارکی تومسلم دنیاکے اکثرممالک خاموش رہے،مگرپاکستان نے پہل کی۔یہ وہی جذبہ تھاجوبدرکے میدان میں مہاجروانصارنے دکھایاتھا:
کتنی ہی چھوٹی جماعتیں بڑی جماعتوں پراللہ کے حکم سے غالب آگئیں۔پاکستان کی موجودگی نے عرب دنیاکویہ یقین دلایاکہ آج بھی بدرکے مجاہدزندہ ہیں۔(البقرہ:249)
وزیراعظم کے ہمراہ سپہ سالارکی موجودگی نے یہ تاثردیاکہ پاکستان اب محض سیاسی تماشائی نہیں بلکہ عملی محافظ اورعملی مجاہد بھی ہیں۔پاکستانی سپہ سالارکی موجودگی نے واضح کردیاکہ یہ محض سفارتی ہمدردی نہیں،بلکہ ایک عملی عزم ہے۔یہی وہ لمحہ تھا جب عرب دلوں میں یہ یقین بیٹھ گیاکہ پاکستان صرف ایک ملک نہیں،بلکہ ایک حفاظت کاسایہ ہے۔عرب دنیاکے دلوں نے محسوس کیا کہ پاکستان ان کیلئےصرف لفظوں کاہمدردنہیں بلکہ میدان کاساتھی ہے۔
اسرائیل کے حملے کے بعدجب اکثرتخت خاموش تھے،پاکستان سب سے پہلے دوحہ پہنچا۔وزیراعظم کے ساتھ سپہ سالارکی موجودگی نے یہ اعلان کیاکہ ہم صرف ہمدردنہیں،محافظ بھی ہیں۔یہ منظربدرکے غازیوں کی یاددلاتاہے۔
دوحہ میں ہونے والی حالیہ عرب کانفرنس میں یہ حقیقت کھل کرسامنے آئی کہ عرب دنیااپنی عسکری اوردفاعی ضرورتوں کیلئےسب سے بڑھ کرپاکستان پر اعتمادکررہی ہے۔گویااب اسلامی نیشنل گارڈکی حیثیت پاکستان کودی جارہی ہے۔دوحہ کانفرنس میں عرب دنیاکی نگاہیں جس طرف اُٹھیں،وہ پاکستان تھا۔گویاعالمِ اسلام نے کہہ دیاہمارامحافظ،ہمارابھائی،ہماراقلعہ،ہمارا محور—پاکستان ہے۔دوحہ کانفرنس میں جب سب نگاہیں پاکستان پرٹک گئیں تووہ لمحہ دراصل تاریخ کافیصلہ کن موڑتھا۔گویاامت نے کہہ دیاکہ ہماری تلوارپاکستان ہے،ہماراقلعہ پاکستان ہے۔دوحہ کانفرنس کے بعدعرب دنیانے جس اعتمادکااظہارکیاہے،وہ ایک نئے موڑ کی نشاندہی کرتاہے۔اب اسرائیل کے مقابلے میں عرب دنیانے جس ملک پرسب سے زیادہ بھروسہ جمایاہے،وہ پاکستان ہے۔
سعودی عرب کی راہ پرچلتے ہوئے یہ امکان قوی ہے کہ مصر،امارات،اوردیگر خلیجی ریاستیں بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں پرآمادہ ہوجائیں ۔ یہ وہ لہرہے جوطوفان کی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔ممکن ہے کہ کل یہ لہرایک ایسی فوجی وحدت میں ڈھل جائے جس کانام تاریخ اسلامی نیٹورکھے۔اہلِ عرب اب اس خواہش میں ہیں کہ یہ معاہدے صرف سعودی عرب تک محدودنہ رہیں بلکہ پورے عالمِ عرب کواپنے حصارمیں لے لیں۔یہ وہی خواب ہے جوکبھی صلاح الدین ایوبی نے دیکھاتھا،اورآج اس خواب کی کرنیں اسلام آبادسے نکل رہی ہیں۔وزیراعظم اورسپہ سالارکے ریاض میں شانداراستقبال کے بعد عرب دنیامیں یہ تاثرگہراہواہے کہ اب دیگرممالک بھی پاکستان کے ساتھ اسی نوعیت کے معاہدوں کے خواہاں ہیں۔
اہلِ نظریہ سوال اب وقت کی عدالت میں کھڑاہے کہ امریکاکیاکرے گا؟یورپ کیاسوچے گا؟امریکا،یورپ اوراسرائیل اس ابھرتے اتحاد کوکس نظرسے دیکھیں گے؟کیاوہ اس کے سامنے بندباندھنے کی کوشش کریں گے یاحالات کی سچائی کوتسلیم کرتے ہوئے اپنے رویے میں نرمی لائیں گے؟اسرائیل کس چال کی تیاری کرے گا؟کیاوہ خاموش بیٹھیں گے یاسازشوں کے جال پھیلائیں گے؟امکان یہی ہے کہ وہ اس اتحادکوایک نیاخطرہ سمجھیں گے،اوربالواسطہ دباؤیاسازشوں کاسہارالیں گے لیکن یادرکھوجب ایک قوم بیدارہوجائے تو دنیاکی بڑی بڑی سازشیں تنکوں کی طرح بکھرجاتی ہیں۔یقیناًامریکااوراسرائیل اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں،لیکن ہم کہتے ہیں:
ہمت نہ ہارو،غم نہ کرو،تم ہی غالب رہوگے اگرایمان رکھتے ہو۔(آلِ عمران:139)
اب سوال یہ ہے کہ عالم اسلام کے اس اعتمادکے جواب میں دنیاکی متحارب قوتیں کیالائحہ عمل اختیارکریں گی؟کیامغرب کویہ نئی صف بندی ایک چیلنج کے طورپردکھائی دے گی یاوہ محض تماشائی کاکرداراداکرے گا؟ امریکا،یورپ اوراسرائیل اسے اپنے لئے خطرہ سمجھیں گے۔مگرہم قرآن کی آوازپریقین رکھتے ہیں: اگراللہ تمہاری مددکرے توتم پرکوئی غالب نہیں آ سکتا۔(العمران:160)
یہ کوئی دعویٰ نہیں،یہ تاریخ کی شہادت ہے کہ پاکستان نے جب بھی میدانِ جنگ میں قدم رکھا،دشمن کوچاروں شانے چت کردیا۔ بھارت کوبارہااس تلخ حقیقت کاسامناہواکہ پاکستان محض دفاعی قلعہ نہیں بلکہ حملہ آورتلواربھی ہے۔پاکستان نے اپنی تاریخ میں بارہایہ ثابت کیاہے کہ اس کے پاس محض دفاع کی نہیں بلکہ جارح دشمن کوپچھاڑنے کی قوت بھی موجود ہے۔پاک-بھارت جنگوں میں دنیانے دیکھاکہ کس طرح ایک نسبتاًچھوٹاملک ایک بڑے ملک کو میدانِ جنگ میں چاروں شانے چت کردیتاہے۔یہ ماضی کاتجربہ مستقبل کے اعتمادکی اساس ہے۔
پاکستان کی تاریخ چیخ چیخ کرگواہی دیتی ہے کہ یہ قوم جب بھی میدان میں اتری،دشمن کوچاروں شانے چت کرکے دکھایا۔پاک-بھارت جنگیں اس کاروشن ثبوت ہیں۔پاک-بھارت جنگیں اس بات کی گواہی ہیں کہ یہ قوم ایمان، تقویٰ اورجہادفی سبیل اللہ کے اصول پرقائم ہے۔ یہ وہی قوم ہے جس نے بڑے بڑے ہاتھیوں کواپنی چھوٹی چھوٹی غلیلوں سے پچھاڑدیا۔اقوامِ عالم کیلئےیہ کوئی رازنہیں رہاکہ پاکستان اپنے دشمن کوپے درپے شکست دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ماضی کی جنگوں میں بھارت کوچاروں شانے چت کرکے پاکستان نے دنیاکوباورکرادیاتھاکہ یہ قوم محض دفاع ہی نہیں،فتح کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
ایس سی اواجلاس میں پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاکی مشترکہ وکٹری پریڈدراصل ایک نئے عالمی بلاک کی نشاندہی ہے۔یہ پیغام ہے کہ اب عالمی سیاست میں صرف واشنگٹن اورنیٹو ہی نہیں،بلکہ ایشیائی اتحادبھی ایک ناقابلِ نظاندازقوت کے طورپرابھررہا ہے۔پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاکی مشترکہ وکٹری پریڈنے خطے میں ایک نئے اتحادکاپرچم لہرایاہے۔یہ منظر محض عسکری قوت کامظاہرہ نہیں،بلکہ عالمی سیاست میں مشرق کے ابھرتے ہوئے محورکااعلان ہے۔
پاکستان،چین،روس اورشمالی کوریاایک ساتھ ایک ہی پریڈمیں کھڑے ہوئے تودنیانے محسوس کیاکہ یہ مشرقی اتحادکی ابتدائی تصویر ہے۔ایک ساتھ کھڑا ہونامشرقی اتحادکی ابتداہے۔یہ منظر تاریخ کوبتارہاہے کہ طاقت کانیامحورمشرق ہے۔یہ وہ لمحہ تھاجب طاقت کانیا مرکزنمودارہوا۔ان ممالک کاایک ساتھ کھڑاہونا دراصل اس آیت کی تعبیرہے:
اللہ کی رسی کوسب مل کرمضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔(العمران:103)
یہی رسی آج مشرقی بلاک کو ایک ساتھ جوڑ رہی ہے۔چین نے پہلی بارواضح اعلان کیاکہ تائیوان کوچین میں شامل کرنے کاوقت قریب ہے،تائیوان ہمارا ہے اورہم اسے لے کررہیں گے۔اپنی بحری وفضائی طاقت کے مظاہرے نے دنیاکویہ باورکرادیاکہ اب مشرقی ایشیامیں کوئی فیصلہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں ہوگا۔یوں طاقت کامحورمغرب سے مشرق کی جانب کھسک رہا
ہے۔اپنی بحری اورفضائی طاقت دکھاکرچین نے دنیاکوباورکرادیاکہ اب مشرق اپنے قدموں پرکھڑاہے اورطاقت کاتوازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہاہے۔
دنیانے دیکھ لیاکہ مشرق کی لہریں اب طوفان بن رہی ہیں۔طاقت کامرکزمغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہورہاہے۔اپنی فضائی وبحری طاقت کابے مثال مظاہرہ کرکے واضح کردیاکہ اب طاقت کامحورمغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہورہاہے۔اپنی فضائی وبحری طاقت کابے مثال مظاہرہ کرکے واضح کردیاکہ اب طاقت کامحورمغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہورہا ہے۔اورچین نے ثابت کردیاکہ اب ایشیاکی ہوارخ بدل رہی ہے۔
سعودی عرب کے بعدوزیراعظم پاکستان کابرطانیہ کادورہ محض رسمی نوعیت کانہیں،بلکہ غیرمعمولی اہمیت رکھتاہے۔پاکستانی وفدکا برطانیہ پہنچنامحض روایتی سفارتکاری نہیں بلکہ عالمی سطح پراپنی موجودگی کواجاگرکرنے کی ایک نئی حکمت عملی اورایک نئی سفارتی پیش بندی ہے۔پاکستان کابرطانیہ کاسفردراصل عالمی تخت وتاج کویہ بتانے کیلئےہے کہ ہم صرف مشرق ہی کے نہیں،مغرب کے دروازوں پربھی اپنی موجودگی کااعلان کرتے ہیں۔تاہم یہ دورہ یورپ میں پاکستان کی حیثیت کونئے زاویوں سے اجاگرکرے گا۔ اگرچہ صدرٹرمپ وہاں پہلے سے موجودہیں مگران کی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات فی الحال متوقع نہیں۔تاہم یہ دورہ برطانیہ اور یورپ میں ایک نئے مکالمے کی راہ ہموارکرے گا۔تاہم دنیاکی نظریں اس دورے پرجمی ہوئی ہیں۔
برطانیہ کے بعداقوام متحدہ کااجلاس عالمی سیاست کاوہ میدان ہے جہاں پاکستان اپنی بات براہِ راست پوری دنیاکے سامنے رکھے گا۔یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان اپنی پکارپوری دنیاتک پہنچائے گا۔یہاں پاکستان کاپیغام دنیاکے ایوانوں میں گونجے گا۔اگرصدرٹرمپ سے ملاقات ہوئی تویہ ملاقات عالمی سیاست کے ایک نئے باب کی ابتداہوسکتی ہے۔ٹرمپ سے ممکنہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پربھی اثراندازہوسکتی ہے۔اگریہ ملاقات ہوئی تووہ صرف دوافرادکی ملاقات نہ ہوگی،بلکہ دونظاموں،دومستقبلوں اوردوراستوں کا مکالمہ ہوگا۔یہ ملاقات عالمی سیاست کے نئے رخ کاتعین کرسکتی ہے جہاں ٹرمپ ایک مرتبہ پھرپاک بھارت جنگ میں سیزفائرکاکریڈٹ لیکردنیاکوبتانے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح انہوں نے خطے کوایٹمی جنگ سے محفوظ رکھنے میں مددکی۔
دنیاتیزی سے نئے سیاسی اورعسکری اتحادوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔مغرب کی گرفت کمزورہورہی ہے اورمشرق میں ایک نیامرکزِ قوت ابھررہاہے۔اس سارے منظرنامے میں پاکستان ایک فیصلہ کن مقام پرکھڑاہے۔ایک طرف وہ عالم اسلام کاعسکری محورہے۔ دوسری طرف وہ ایشیائی بلاک(چین،روس) کیلئےایک کلیدی کھلاڑی ہے اورتیسری طرف مغرب اس کو نظراندازکرنے کی پوزیشن میں نہیں۔یوں پاکستان کی پالیسی،قیادت اورفیصلے آئندہ کئی دہائیوں کی عالمی سیاست کارخ متعین کرنے والے ہیں۔سوال یہ نہیں کہ پاکستان کہاں کھڑاہے،بلکہ یہ ہے کہ دنیاکومستقبل میں کہاں کھڑاہوناپڑے گا؟
اے اہلِ وطن وقت کی کروٹیں بدل رہی ہیں۔دنیابدل رہی ہے۔مشرق کاسورج طلوع ہورہاہے۔پاکستان اس سورج کی کرن ہے۔ دنیاکے بڑے بڑے قلعے لرزرہے ہیں۔مشرق کا سورج طلوع ہورہاہے اورمغرب کی روشنی ماندپڑرہی ہے۔پاکستان،جوکبھی ایک خطے کی چھوٹی سی ریاست سمجھاجاتاتھا،آج عالم اسلام کاقلعہ ہے،مشرقی اتحادکامحورہے،اورعالمی سیاست کی نئی تقدیرلکھنے والاہاتھ ہے۔یادرکھو سوال یہ نہیں کہ دنیاپاکستان کے ساتھ کیاکرے گی،سوال یہ ہے کہ پاکستان دنیاکے ساتھ کیاکرنے جارہاہے اوراللہ کے دین کیلئےکیا کرنے جارہاہے؟مگرہمیں خوف نہیں کیونکہ ہمیں اپنے رب کاوعدہ یادہے:اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔(العمران:160)
پاکستان آج عالمِ اسلام کاقلعہ ہے،ایشیائی بلاک کامحورہے،اورعالمی سیاست کانیامعمارہے۔
یادرکھیں!دنیاکی سیاست تیزی سے نئے موڑلے رہی ہے۔مشرق کی قوتیں ایک نئے اتحادکی جانب بڑھ رہی ہیں۔پاکستان،جوکبھی محض ایک خطے کی ریاست سمجھاجاتاتھا،آج عالم اسلام کے محورکے طورپرابھررہاہے۔سوال یہ ہے کہ مغرب کے ایوانِ اقتداراس بدلتی صورتِ حال کوکیسے دیکھیں گے؟کیاوہ مزاحمت کریں گے یانئے توازنِ طاقت کوتسلیم کرکے اپنی پالیسیوں کوازسرنومرتب کریں گے ؟
اے اہلِ وطن!آج ہم اُس وقت میں کھڑے ہیں جب دنیاکے نقشے بدل رہے ہیں،جب مشرق کاسورج طلوع اورمغرب کی روشنی مدھم ہو رہی ہے۔ پاکستان،جوکبھی ایک خطے کی چھوٹی ریاست تھا،آج عالم اسلام کاقلعہ،مشرقی اتحادکامحوراورعالمی سیاست کی نئی تقدیر لکھنے والاہاتھ ہے۔قرآن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے:
ہمت نہ ہارو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر ایمان رکھتے ہو۔(آلِ عمران:139)
اب وقت آگیاہے کہ ہم اپنے ایمان کوتلواراوراپنے اتحادکوڈھال بنائیں،اوراس عہدپرقائم رہیں کہ کوئی طاقت ہمارے اتحادکوتوڑنہ سکے، کوئی سازش ہمیں بانٹ نہ سکے۔
اہلِ وطن!وقت بدل رہاہے۔پاکستان،مشرق سے طلوع ہونے والے سورج کی پہلی کرن ہے۔یہودوہنودکے ایوان لرزرہے ہیں،لیکن ہمیں ڈر نہیں۔
پاکستان آج عالمِ اسلام کا قلعہ ہے، مشرقی بلاک کا محور ہے، اور مستقبل کی تاریخ کا معمار ہے۔یادرکھو!اگرہم نے اللہ کے دین کوتھام لیاتوآسمان کی قوتیں ہماری مددگارہوں گی۔فرشتے ہماری صفوں میں اتریں گے۔اوروہی منظرپھر دہرایاجائے گاجو کبھی بدرکے دن دہرایاگیاتھا۔ پاکستان آج عالمِ اسلام کاقلعہ ہے،مشرقی بلاک کامحورہے،اورمستقبل کی تاریخ کامعمارہے۔لیکن ہمیں ڈرنہیں۔ہمیں اپنے رب کاوعدہ یادہے: ہم پرلازم ہے کہ ہم ایمان والوں کی مددکریں۔(الروم:47)
اے اہلِ وطن وقت آگیاہے کہ ہم اپنے ایمان کو تلواراورسینوں کوڈھال بنائیں۔یہ عہدکریں کہ کوئی طاغوتی طاقت ہمارے اتحادکوتوڑنہ سکے۔کوئی سازش ہمیں تقسیم نہ کرسکے۔یادرکھواگرہم نے اللہ کے دین کوتھام لیاتوآسمان کی قوتیں ہماری مددگارہوں گی۔فرشتے ہماری صفوں میں اتریں گے۔اوروہی منظر پھردہرایاجائے گاجوکبھی بدرکے دن دہرایاگیاتھا۔
اے اللہ ہمیں وہی غیرت دے جوحضرت عمرؓبن خطاب کوعطاکی گئی۔ہمیں وہی حکمت دے جوحضڑت علیؓ المرتضیٰ کوبخشی گئی۔ہمیں وہی شجاعت دے جوحضرت خالدؓبن ولید کے دل میں ڈالی گئی۔اے اللہ پاکستان کوامت کاقلعہ بنادے ۔اے اللہ ہماری افواج کودینِ اسلام کاعلمبرداربنادے۔اے اللہ اس سرزمین کواسلام کی نشاةِ ثانیہ کامرکزبنادے۔آمین یا رب العالمین۔





