آج امت ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں راستوں کے نشانات مٹ چکے ہیں،اورقافلے کے رہبرسوئے ہوئے ہیں۔ہمارے گرد یزیدیت کاحصارتنگ ہورہاہے،ہمارے قبلے کی سمت پربادل چھاگئے ہیں،اورہمارے بچوں کی مسکان،ہماری ماؤں کی چادر،اور ہمارے بزرگوں کاوقاردشمن کے نشانے پرہے۔ہم تاریخ کے اُس لمحے پرہیں جہاں ہردل یہ سوال کررہاہے ،اورآج میں بھی آپ کے سامنے ایک سوال رکھتاہوں…ایساسوال جوآپ کے دل کی گہرائیوں کوہلادے گا۔کیااس امت میں کوئی ابراہیمؑ باقی ہیں؟ابراہیمؑ… جنہوں نے تنِ تنہاباطل کے ایوان ہلادیے۔جنہوں نے تن کے پرخچے ہونے کی پروانہ کی مگرایمان کی شمع بجھنے نہ دی۔
اے کاش! کوئی ہوجوآگ کوگلزاربنادے،کوئی ہوجومندرکے بت توڑدے،کوئی ہوجوطاغوت کے ایوانوں میں اذانِ حق بلندکردے۔ ابراہیمؑ…وہ مردِحق جوباطل کے ایوانوں میں اکیلاکھڑاہوا۔ابراہیمؑ…جن کے سامنے نہ بادشاہ کاجلال رکااورنہ آگ کی تپش کاخوف۔خوداللہ گواہی دے رہاہے کہ بیشک ابراہیمؑ خودایک امت تھے۔
ہماری تاریخ گواہ ہے،جب بھی امت پراندھیرے چھائے،اللہ نے ایک ابراہیم بھیجا—کبھی صلاح الدین کی صورت میں،کبھی محمدبن قاسم کی شکل میں،کبھی عمرؓبن عبدالعزیزکی طرح۔مگرآج…ہمارے شہرجل رہے ہیں،ہمارے بچے قبروں میں سورہے ہیں،ہمارے مصلے خون سے رنگین ہیں…اورہم ابراہیم کوڈھونڈرہے ہیں۔
آج ہمارے آنگن میں خوشیاں نہیں،بین سنائی دیتے ہیں۔غزہ کی گلیوں میں بچوں کے کھلونے مٹی اورخون میں لت پت پڑے ہیں،اور مائیں،اپنے جگرکے ٹکڑوں کوگودمیں لیے،آسمان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہیں۔غزہ میں مائیں اپنے لخت جگرکے لاشے اٹھائے بیٹھی ہیں،مائیں اپنے جگرکے ٹکڑوں کوگودمیں لیے آسمان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہیں کیاکوئی ہے جوہماری پکارسنے؟
یہ سنو…غزہ کے ایک آٹھ سالہ بچے،یوسف،نے اپنے زخمی ہاتھ میں ایک کاغذتھام رکھاتھا۔خون اس کے چہرے پرجمی ہوئی مٹی کے ساتھ مل چکاتھا۔اس کاغذپرصرف تین الفاظ لکھے تھے “ماں میں جنت میں جارہاہوں۔مگراس کی ماں یہ خط کبھی نہ پڑھ سکی۔ یہ وہ خط تھاجواس نے پہلومیں خون میں لت پت اپنی شہید ماں کولکھا۔
کشمیرمیں بیٹیاں اپنے باپ کاسایہ ترستی ہیں،کشمیرکی وادی میں بہتے چشمے اب صرف پانی نہیں،آنسوبہارہے ہیں،وہاں ایک ماں اپنے بیٹے کے جنازے کے پاس کھڑی تھی۔آنکھوں میں آنسونہ تھے،کیونکہ روناختم ہوچکاتھا۔وہ صرف ایک جملہ دہرارہی تھی:تو میرے شہیدشوہرکی آخری نشانی تھی،توبھی مجھے چھوڑکراپنے باپ اوراپنے تین بھائیوں کے پاس جابساہے۔میرا پیغام لیتاجاکہ میرا عزم آج بھی ویساہی جوان وتروتازہ ہے جیسے میرے ہاتھ میں تیری تربت پررکھنے والے یہ سرخ گلاب کے پھول اورزمین پربسنے والے ان تمام فراعین کیلئے یہ پیغام ہے کہ ابھی ہم جیسی ماؤں کی گودبانجھ نہیں ہوئیں کہ ان کی نگاہیں اب بھی کسی ابراہیم کی تلاش میں ہیں۔ اور ایک پیغام ان قائدین کے نام بھی ہے جنہوں نے سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دینے والاقصاب ، اورکشمیری مسلمانوں کے قاتل مودی کے قدموں میں ڈھیر کردی۔
برمااوراراکان میں مسلمانوں کے گھروں کوآگ لگادی گئی،برماکے ساحل پرلٹے پٹے مہاجر،تپتی ریت پرقدم رکھے،نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائے کھڑے ہیں۔افریقاکے قحط میں امت کے بچے مٹھی بھراناج کوترس رہے ہیں اورغزہ میں تواب باقاعدہ بھوک مٹانے کیلئے گولیوں کے ساتھ ان کوہمیشہ کیلئے ختم کیا جا رہاہے۔ایک روٹی کے ٹکڑے کیلئےمسلمان بچے دھوپ میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں اوردنیاکی طاقتیں کروڑوں ڈالرکے اسلحے پربدمست ہیں۔جب ان بچوں کوروٹی کی بجائے ہمیشہ کی نیندسلایاجارہاتھاتواس وقت قصرسفیدکافرعون اربوں ڈالر سرمایہ کاری کے نام پراپنے ملک کے خزانے کے نام کررہاتھا جہاں ایک مرتبہ پھران اسلحہ سازی کے کارخانوں کاپہیہ تیزی سے چلناشروع ہوگیاہے جوبعدازاں انہی مسلمان ملکوں کے پرخچے اڑانے کاکام کریں گے۔ اورہم …؟ہم کبھی تیل کی قیمت پرجھگڑتے ہیں،کبھی سرحدی تنازعات میں وقت ضائع کرتے ہیں،کبھی مسلکی بحث میں الجھ کردشمن کوخوش کرتے ہیں۔قرآن ہمیں جھنجھوڑتاہےاورسب مل کراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو۔اورہم…کانفرنسوں کے ہالوں میں تصویریں کھنچواتے ہیں ،قراردادیں پڑھ کرتالیاں بجاتے ہیں،اوراگلے دن سب بھول جاتے ہیں۔
اے مسلمانودشمن متحدہے—چاہے وہ اسرائیل ہویابھارت،امریکاہویایورپ—سب ایک صف میں ہیں۔دشمن نے اپنی صفیں مضبوط کرلی ہیں۔ اسرائیل سے لیکربھارت تک، نیٹو سے لیکرپیسفک اتحادیوں تک،ایک خفیہ اوراعلانیہ منصوبہ جاری ہے اوراس کاایک ہی ہدف ہے،امتِ مسلمہ کاشیرازہ بکھیردینا۔وہ ہمارے وسائل پرقبضہ کرناچاہتے ہیں،ہماری سرحدوں کے نقشے،اورہمارے ایمان کی بنیادتک کوچیلنج کیاجارہاہے،ہمارے تعلیمی نصاب میں اپنی فکرداخل کرناچاہتے ہیں،ہماری نوجوان نسل کوخواہشات میں الجھاکراس کاغیرت مندخون سردکرنا چاہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے محاذپر،وہ ڈرون سے بم برسارہے ہیں،مصنوعی ذہانت سے ذہن بدل رہے ہیں،اورمیڈیاسے ہمارے ہیروکوولن اور ہمارے دشمن کو مسیحا بنا رہے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں؟یہ صدی صرف تلواروں کی نہیں،یہ ابلاغ،معیشت،اورٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ ہمارے دشمن ڈرون سے وارکرتے ہیں ، میڈیاسے ذہن مارتے ہیں،اور معیشت سے امت کوغلام بناتے ہیں۔ یادرکھواگرہم نے اپنے بچوں کے ذہن اورزمین کی حفاظت نہ کی،تووہ دن دورنہیں جب ہماری تاریخ صرف میوزیم میں قیدہوگی۔اگرامت جاگ جائے تویہ سب ہتھیارکاغذی شیربن جائیں۔۔۔۔
یہ وقت محض آنسوبہانے کانہیں،یہ وقت کھڑے ہونے کاہے۔ہمیں اب خواب سے اٹھناہوگا۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مسلک،نسل،زبان کے پردے پھاڑکرایک امت کی صورت اختیارکریں۔اس کیلئےایک جامع،طاقتور،اورفیصلوں سے بھرپوراسلامک سمٹ کانفرنس ناگزیرہے ۔ہمیں ایک ایسی اسلامک سمٹ کانفرنس چاہیے جومحض تصویروں اوربیانات کاڈھیرنہ ہو، یہ کانفرنس محض تقریروں کامیلہ نہ ہو— بلکہ امت کے وسائل کوجوڑنے کامنصوبہ ہو۔
مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری کااعلان ہوجس میں امت کااپناڈرون،اپناسٹلائٹ،اپنا سائبرڈیفنس سسٹم ہو۔یقین کریں کہ اس امت میں ایسے ذہین وفطین افراداورسائنسدان موجودہیں جو آئرن ڈوم سے کہیں بہترڈیفنس سسٹم تیارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اقتصادی اتحادکیلئے تیل،گیس، زراعت ، اورٹیکنالوجی میں خودکفالت کے منصوبے ہمارے انتظار میں ہیں،میڈیاوار کامقابلہ کرنے کیلئے امت کی حکمتِ عملی طے کی جائے۔اپنی فلمیں،اپنے چینل، اپنابیانیہ،جوامت کی عزت اورتاریخ کوزندہ رکھے۔مظلوم خطوں کیلئےعملی حکمتِ عملی تیارکی جائے۔فلسطین،کشمیر،برما،اراکان،افریقہ ہرمحاذپر امداداور سفارتکاری کیلئےعملی مددکاخاکہ ہو۔یہ سمٹ ایسی ہونی چاہیے جہاں لیڈران فیصلہ کریں،اورامت عمل دیکھے—نہ کہ صرف تقریریں اورجواب میں ایسی تذلیل جس میں ہم ڈوبے ہوئے ہیں۔
جب دنیاکی آنکھوں کے سامنے معصوم بچوں کے جسم ملبے تلے دم توڑتے ہیں،جب ماؤں کے آنچل خون سے ترہوجاتے ہیں اور عبادت گاہیں راکھ میں بدل دی جاتی ہیں،توسوال اٹھتا ہے—کیاانسانیت صرف کتابوں میں رہ گئی ہے؟پاکستان،جس کے پاس ایمان، تاریخ اورایٹمی قوت کاسہاراہے،کیاصرف تماشائی بن کربیٹھارہ سکتاہے؟یاوہ اپنی آوازکوایسی للکارمیں بدل سکتاہے جوظالم کے کان پھاڑدے اورمظلوم کے دل میں امیدکی کرن جگادے؟یہ لمحہ خاموشی کانہیں،ضمیرکے جاگنے کاہے—کیونکہ غزہ کی سڑکوں پربہنے والاخون،صرف فلسطینیوں کا نہیں،ہماری غیرت کابھی امتحان ہے۔
آج آئے دن ہرروزیہ سوال کیاجاتاہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں نیتن یاہواورمودی نے مل کرپاکستان پرحملہ کیا،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خودنیتن یاہوعالمی میڈیاپربارہا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کوتباہ کرنے یاختم کرنے کے متعدد بیانات دے چکاہے،یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اپنےہاروپ خودکش ڈرونزکے علاوہ دیگرہتھیارہندوستان کو نہ صرف فراہم کئے بلکہ پاکستان پرحملوں کیلئے ہاروپ ڈرونزکے آپریٹرزبھی ہندوستان بھیجے جنہوں نے باقاعدہ ہندوستان میں بیٹھ کرپاکستان پرحملے کئے توپھرکیاوجہ ہے کہ پاکستان نے جس سرعت کے ساتھ ہندوستان کے حملے کاجواب دیاتھاتوپھر اسرائیل کو جواب دینے میں کیارکاوٹ ہے؟
میرا کام توصرف تجزیہ کرناہے جبکہ یہ ساری سوالات توان مقتدرحضرات سے پوچھنے چاہئیں اوران کابھی فرض بنتا ہے کہ قوم کواعتمادمیں لیاجائے۔تاہم جہاں تک میراسیاسی تجزیہ کاتعلق ہے تواس کامختصر جواب تویہ ہے کہ براہِ راست نہیں؛بالواسطہ اورمشترکہ سفارتی/قانونی راستوں سے کچھ حدتک اثر انداز ہوسکتاہے—مگرفیصلہ کن سنجیدہ اثر کیلئےبڑی طاقتوں اورعلاقائی اتحاد کی ہم آہنگی ضروری ہے۔پاکستان براہِ راست اس لئے جواب نہیں دے سکتاکہ پاکستان اوراسرائیل کے سفارتی تعلقات/تجارت نہیں؛اس لیے یکطرفہ اقتصادی یادوطرفہ دباؤکے اوزار محدودہیں۔ اسرائیل کی جنگی پالیسی پربڑی طاقتوں(خصوصاًامریکا)کااثرزیادہ ہے؛وہاں تک رسائی/قائل کرناکلیدی رکاوٹ ہے۔
بین الاقوامی قانون کے تحت،جب تک اسرائیل پاکستان پربراہِ راست حملہ نہ کرے،پاکستان طاقت کااستعمال نہیں کر سکتا —خواہ وہ ایٹمی ہویاروایتی۔جوابی طورپرعسکری دباؤکو”کراس تھیٹر انتقامی کارروائی”قراردیکراسرائیل کومظلوم بننے کا بہانہ مل جائے گا۔(ایک محاذپرحملے کاجواب کسی اورمحاذپردینا) کو غیرقانونی جارحیت ماناجائے گا،چاہے نیت انسانی حقوق کاتحفظ ہی کیوں نہ ہو۔تاہم اسرائیل پربراہ راست حملہ کرنے کیلئے اصل قانونی پابندیوں اوررکاوٹوں کو بھی سامنے رکھناہوگا۔
طاقت کااستعمال صرف دفاع میں یااقوامِ متحدہ کی اجازت سے ہی قدم اٹھاسکتا ہے ۔ بڑی طاقتوں کااسرائیل پراثرزیادہ ہے؛ پاکستان اکیلافیصلہ کن عسکری دباؤنہیں ڈال سکتا۔پاکستان کااسرائیل سے براہِ راست سرحدی یااقتصادی کنکشن نہ ہونے کے باعث جغرافیائی محدودیت بھی آڑے آتی ہیں۔ایٹمی ہتھیاروں کاکردار”ڈیٹرنس”(تحفظ)دھمکی کوروکنے کیلئےہیں، عملی جنگی کارروائی کیلئے نہیں،خاص طورپرانسانی بحران کے معاملات میں یہ ممکن نہیں۔ اگر ایساہوتاتوسوویت یونین اپنی شکست اورملک کوٹوٹنے سے بچانے کیلئے افغانستان میں ایٹمی جنگ سے کبھی دریغ نہ کرتااوریہی معاملہ امریکا کیلئے افغانستان میں پیش آیااوردنیا کی سب بڑی قوت ہونے کے باوجودوہ براہ راست افغانستان میں ہیروشیمااورناگاساکی والی غلطی دہرانہ سکاجبکہ ٹرمپ نے اپنے دورِحکومت میں”بموں کی ماں”جیساخطرناک بم استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔
ان حالات میں پھرپاکستان کیاکرسکتاہے؟اب سعودی عرب کے وزیرخارجہ کے قطعی بیان کے بعدوہ دوریاستی حل کے علاوہ کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرے گا،اب ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان فوری طورپراوآئی سی کااجلاس طلب کرکے وہاں پاک بھارت میں اسرائیل کے کردارکاذکرکرکے اسلامی ملکوں کے اتحادکیلئے سعودی عرب کے تعاون سے ترکی،ایران اور ملائشیاسے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے کی داغ بیل ڈالے اوربعد ازاں دیگرممالک کوبھی شامل کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل نے2024میں رمضان سیزفائرکیلئےقرارداد 2728 منظورکی تھی؛بعد ازاں اوربھی کئی قراردادیں منظور ہوئیں ہیں۔ پاکستان ان فورمزپرقراردادوں کے نفاذکا مطالبہ بڑھاسکتاہے۔ اسلامی تعاون تنظیم یادیگربلاکس میں مشترکہ اقتصادی/سیاسی دباؤکے اقدامات کرسکتاہے اورعالمی میڈیاوسول سوسائٹی کی سطح پرنام اورشرم حکمتِ عملی استعمال کرسکتاہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے جاری کیسزمیں مداخلت یاشواہدفراہم کرسکتاہے،بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی قانونی جہت اورفیصلے کوہائی لائٹ کرنے کیلئے آئی سی جے نے26 جنوری،28مارچ اور24مئی2024کوعبوری احکامات جاری کیے(جن میں رفح آپریشن روکنے/تحفظی اقدامات کی ہدایات شامل ہیں،ان کی تعمیل کیلئے عالمی دباؤ بڑھاسکتاہے۔
متعدد یورپی ممالک نے فلسطین کوسفارتی طورپرتسلیم کرنے کااعلان کردیاہے۔پاکستان،سعودی عرب،ترکی اورملائشیا بھی اسی نوع کی قانونی شمولیت یا حمایتی مہم کے ذریعے کیس کی سیاسی واخلاقی وزن بڑھاسکتے ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم،عرب واسلامی سربراہی عمل مشترکہ قراردادیں،تحقیقات کی حمایت،اسلحہ کی برآمدات پرقدغن اور امدادی راستوں کی ضمانت—یہ سب اجتماعی طورپرمؤثرہوسکتے ہیں۔
ترکی،مصر،قطروغیرہ کی جاری ثالثی کوششوں کی مدد؛یورپی یونین وبرطانیہ میں رائے عامہ اورپارلیمانی مباحث میں شرکت/لابنگ۔حالیہ دنوں میں بھی یورپی سطح پرغزہ کے انسانی بحران پرسخت بیانات آئے ہیں۔دوطرفہ وکثیرالجہتی سفارتکاری شروع کرتے ہوئے اسرائیل کولگام ڈالی جاسکتی ہے۔
مہاجرین /زخمیوں کیلئےامداد، میڈیاوسول سوسائٹی کی مہمیں،اورعالمی کمپنیوں پراصولی اپیلیں—یہ سب براہِ راست بندوقیں خاموش نہیں کرتیں مگرسیاسی لاگت بڑھاتی ہیں۔اس کیلئے عوامی ،اخلاقی اورانسانی امدادکادباؤبڑھانے کی ضرورت ہے۔
زمینی حقیقت(آج کی صورتِ حال کی جھلک)کوتمام مسلم ممالک اپنے میڈیاکے ذریعے بین الاقوامی طورپررسائی حاصل کرتے ہوئے حقائق ان کے سامنے رکھیں کہ لڑائی جاری رہنے اورغزہ سٹی/رفح جیسے علاقوں میں کارروائی کے منصوبوں پردنیابھرسے مزاحمت سامنے آرہی ہے؛اقوامِ متحدہ،یورپی ومسلم ممالک کی سطح پرغیرمعمولی تشویش برقرارہے۔پاکستان نے بھی کھل کرمذمت کی ہے۔
پاکستان،چاہے ایٹمی قوت ہو،بین الاقوامی قانون کے تحت غزہ میں اسرائیل کے خلاف عسکری جوابی کارروائی نہیں کرسکتااورنہ ہی پاکستان اکیلااسرائیل—کو جنگ روکنے پرمجبورکرسکتا ہے ۔البتہ وہ سفارتی، قانونی،اقتصادی اور اخلاقی ذرائع سے جنگ رکوانے میں بالواسطہ اثراندازہوسکتاہے۔اصل مؤثر دباؤ تب ہوگاجب غیرجانبدارطاقتوں،بڑی طاقتوں،اوراوآئی سی کی مشترکہ کوششیں ہم آہنگ ہوں؛اورقانونی فورمزسلامتی کونسل/اقوامِ متحدہ،عرب و اسلامی بلاک اوردوطرفہ سفارت کاری کے باہم جڑے طریقوں سے دباؤبڑھانے میں بامعنی کرداراداکرسکتاہے—خاص طورپر جب یہ کوششیں ایسے ممالک کے ساتھ ہم آہنگ ہوں جن کااسرائیل پراصل اثرورسوخ ہے۔
آج،فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے:یاتوہم تاریخ کے حاشیے پرکمزورالفاظ کی صورت رہ جائیں،یااپنی یکجہتی،قانون،سفارت اورایمان کے ذریعے ایک ایساباب رقم کریں جوآنے والی نسلوں کویہ یقین دے کہ ہم نے ظلم کوصرف دیکھانہیں،اس کے خلاف کھڑے بھی ہوئے۔ایٹمی قوت صرف بارودکانام نہیں،یہ ایک ذمہ داری ہے—کمزورکاسہارابننے کی،انصاف کاعلم بلند کرنے کی۔اگرہم آج بھی نہ جاگے توکل کے مؤرخ لکھیں گے:جب غزہ جل رہاتھا،پاکستان خاموش تھااوریہ سطر،ہماری پوری صدی کوشرمندہ کردے گی۔
آج ہمیں تلوارسے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،جذبے سے زیادہ اتحادکی۔ہمارے دشمن نے ہمارے خواب چُرالیے ہیں،مگروہ ہمارا ایمان نہیں چھین سکتا—بشرطیکہ ہم اُسے تھامنے والے ہاتھ مضبوط کرلیں۔
یہ وقت محض ماتم کانہیں،مشورے اورعمل کاہے۔یہ وقت مسلک اورقومیت کے پردے پھاڑکر،ایک امت بننے کاہے۔یہ وقت ہےکہ ہم ایک ایسی اسلامک سمٹ کانفرنس کاانعقادکریں جوزبانی بیانات نہیں،عملی حکمتِ عملی دے؛جومحض تصویروں کی نمائش نہیں،بلکہ فیصلوں کی بازگشت ہو؛جوامت کوایک جھنڈے تلے،ایک صف میں کھڑاکردے۔یہ کانفرنس اس لیے ناگزیرہے کہ بیت المقدس کی فصیلیں ہمیں پکاررہی ہیں،غزہ کی زمین لہومیں نہا کرکہہ رہی ہے”امت کہاں ہے”۔
کشمیر کی وادیاں چیخ رہی ہیں،برماکے جلے ہوئے گاؤں گواہی دے رہے ہیں،اورافریقاکے قحط زدہ مسلمان ہمارے ضمیرکو جھنجھوڑ رہے ہیں۔امت کے ابراہیم کی تلاش کامطلب ایک شخص نہیں،بلکہ وہ روح ہے جوہرمسلمان کے دل میں بیدارہو،تاکہ ہم سب مل کروہ قدم اٹھائیں جوملت کوغلامی کے اندھیروں سے نکال کرعزت کی روشنی میں لے آئے۔
٭آؤہم اس عہد کی تجدیدکریں کہ جب تک امت کاہرفرد،ہربستی،ہرملک ایک دوسرے کاسہارانہیں بن جاتا—ہم نہ بیٹھیں گے،نہ جھکیں گے،نہ بکیں گے۔
٭آؤہم اپنے رب سے عہدکریں کہ ہم اس امت کے ابراہیم بنیں گے،اورطاغوت کے ہربُت کوپاش پاش کردیں گے۔
٭آج،یہاں،اس مجلس میں…ہم عہدکریں کہ ہم امت کے ابراہیم بنیں گے۔ہم وہ امت ہیں جوکبھی شکست تسلیم نہیں کرتی،جواپنے بچوں کوقرآن اورشمشیردونوں کاوارث بناتی ہے،جواپنے خوابوں کوخون سے سینچتی ہے۔ہم طاغوت کے ہربت کوتوڑیں گے،چاہے وہ طاقت کاہویاجھوٹ کا۔ہم ہراس باطل قوت کوللکاریں گے جواللہ کے دین کومٹاناچاہتی ہے۔
٭ہم اپنے مسلک،اپنی زبان،اپنی نسل کے حصارتوڑکرایک امت کی صورت میں اٹھیں گے۔ہم وہ آوازبنیں گے جونہ دبائی جاسکے،وہ ہاتھ بنیں گے جواللہ کے سواکسی کے آگے نہ پھیلیں،وہ دل بنیں گے جونہ بکیں۔
٭اے اللہ ہماری غفلت کوبیداری میں بدل دے،ہمارے کمزورہاتھوں میں اسلام کی نصرت کالوہابھردے۔
٭ہمیں ابراہیمؑ کاحوصلہ،اسمعیلؑ کی قربانی کاجذبہ،موسیٰؑ کی جرات اورللکاردے،اورمحمدﷺکی رحمت اورسیرت عطافرما۔ہمارے دلوں کوایمان کے نورسے بھردے،ہماری صفوں کویکجان کردے۔ہمیں عمرؓکی غیرت دے ، علیؓ المرتضیٰ کی بصیرت دے،اورسیدنابلالؓ کا صبرعطافرما۔
٭اے اللہ ہمیں ایک امت بنادے،ہمارے صفوں میں اتفاق پیداکردے،اورہمیں ظلم کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیواربنا دے۔اے اللہ ہمارے شہیدوں کے خون کوضائع نہ ہونے دے،ہمارے شہیدوں کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرما،اے اللہ ہماری ماؤں کے آنسواپنے عرش پرقبول فرما، ہمارے زندہ لوگوں کواپنی راہ کاسپاہی بنا،اوراس امت کووہ قیادت دے جوظلم کے ایوان ہلا دے۔
٭اے اللہ ہمیں اس امت کابانی اورمحافظ بناجس پرفرشتے بھی فخرکریں۔آمین،یارب العالمین۔





