The country's jugular vein will not be traded.

وطن کی شہ رگ کاسودانہیں ہوگا

اورتم لوگ،جہاں تک تمہارابس چلے،زیادہ سے زیادہ طاقت اورتیاربندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کیلئے مہیّارکھو(الانفال:60)۔ یہ محض قرآنی حکم نہیں،بلکہ ہراس قوم کیلئےابدی پیغام ہے جواپنی عزت و بقاکی قیمت پہچانتی ہے۔دنیاکی سیاست آج ایک ایسے موڑپرآکھڑی ہے جہاں قوموں کی تقدیریں صرف جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ سفارت کے ایوانوں،معیشت کے زینوں اور اتحاد —کی فصیلوں پرلکھی جارہی ہیں۔یہ وہ وقت ہے کہ جب برصغیرکی فضامیں ایک نیاطوفان اُٹھ رہا ہے—اوریہ طوفان محض ہواکاجھونکانہیں،بلکہ وہ آندھی ہے جوکمزورخیموں کواکھاڑپھینکتی ہے اورمضبوط قلعوں کی دیواروں کومزیدسخت کر دیتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنی قُوّت کے سرچشموں کوبیدارکرتی ہیں،تودنیاکی سب سے بڑی سلطنتیں بھی ان کے قدموں میں جھک جاتی ہیں۔

دورِحاضرکے ہنگامہ خیزمنظرنامے میں،جہاں قوموں کی تقدیریں ایک لمحے میں پلٹ جاتی ہیں اورجہاں سفارت کے دبیزپردوں کے پیچھے معرکے لڑے جاتے ہیں،ایک تازہ باب رقم ہواہ ے۔اس باب کے مرکزی کرداروہ مردِمیدان ہیں جن کی نگاہ زمان ومکان کی قیدسے آزاداورجن کے قدم حالات کی دھندمیں بھی سمت پہچانتے ہیں۔

اسی منظرنامے میں حالیہ دنوں ایک نیاباب کھلاہے۔دہلی کی فضاؤں میں غیرمعمولی ارتعاش اُس وقت محسوس ہواجب خودبھارت کے عسکری ایوانوں سے یہ صدااٹھی کہ ملک کی حفاظت صرف بندوق اوربارودکاکھیل اورتلوارکی دھارنہیں،بلکہ معیشت کی مضبوطی،سیاست کی بصیرت اورعوام کا اعتماد بھی اس کے قلعے کی فصیلیں ہیں۔نئی دہلی میں طوفان اس وقت اٹھاجب خودبھارت کے عسکری حلقوں سے ایک غیرمعمولی صدابلندہوئی۔دہلی کے عسکری حلقوں سے ابھرنے والی یہ صدامعمولی نہیں۔انڈین فوج کے سابق اورموجودہ جرنیلوں نے صاف کہہ دیاکہ ملک کی سلامتی محض توپ اور تلوار کاوظیفہ نہیں،بلکہ سیاست ومعیشت کی ہم آہنگی اورعوامی اعتمادکا مرہونِ منت ہے۔

یہ پیغام مودی سرکارکے ان ایوانوں تک جاپہنچاجہاں اقتدارکاغرور حق کی آوازکودبانے کی کوشش کرتاہے۔یہ جملہ سیدھامودی حکومت کے سنگین کانوں تک پہنچا—وہ حکومت جواپنے غرورِ اقتدارکے نشے میں اپنی ہی صفوں کی صدابھی برداشت نہیں کر پاتی۔یہ تنبیہ سیدھی مودی کے دربارتک پہنچی،جہاں سیاسی خودپسندی اورتکبرکاغبارچھٹنے کانام نہیں لیتا۔

اسی دوران،پاکستان کے سپہ سالارفیلڈمارشل جنرل عاصم منیر،ڈیڑھ ماہ میں اپنادوسرادورۂ امریکامکمل کرکے لوٹے ہیں۔یہ محض ملاقاتوں کاسفرنہ تھا—یہ تعلقات کی ازسرِنوتعمیرکااعلان تھا۔اس سفرنے دونوں ملکوں کے تعلقات کی کایاپلٹ دینے والے اشارے دیے ہیں۔امریکی عسکری مرکزسینٹکام کے ٹمپاہیڈکوارٹرمیں کمانڈرکی تبدیلی کی اعلیٰ تقریب میں جنرل منیرکی بطور مہمانِ خصوصی شرکت،ایک نئی فوجی قربت اورتعاون کی لہرکامظہرتھی ۔یہ دورہ محض عسکری سلام وکلام نہیں تھا،بلکہ ایک نئے اعتماد،نئے رابطے اورنئی راہوں کااشاریہ تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے اعتماد کی ایک علامت تھی۔وہاں جنرل مائیکل کوریلانے پاکستانی جنرل کے کردارکوخراجِ تحسین پیش کیا، جنہوں نے پاک-امریکاعسکری روابط میں نئی جان ڈالی۔ جنرل عاصم منیرکابطورخصوصی مہمان،استقبال اورجنرل مائیکل کوریلا کاخراج تحسین پیش کرنااس بات کااعلان تھا کہ پاکستان عالمی بساط پرایک مضبوط ،باوقاراورمتحرک کرداراداکررہاہے۔
یقین رکھو!نہ کمزوری دکھاؤ،نہ غم کرو،تم ہی غالب رہوگے اگرتم ایمان والے ہو

بلوم برگ کی رپورٹ میں اس دورے کومحض عسکری ملاقات نہیں بلکہ ایک”تعمیرِنو”کے سفرکاسنگِ میل قراردیاگیاہے۔بلوم برگ کی رپورٹ نے اس ملاقات کوتعلقات کی تعمیرِنوکا سنگِ میل قراردیا،اوریہ دورے پاک-امریکا تعلقات کوایک پائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کیلئےہیں۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق کہ یہ دورہ ایک نئی جہت کاسنگِ میل ہے۔یہ تعلقات کوپائیداراورمثبت سمت میں ڈالنے کی کوشش ہیں—اورمستقبل میں ممکنہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئےایک نیاافق کھول سکتے ہیں۔

خودفیلڈمارشل منیرکے مطابق یہ دورے تعلقات کوایک تعمیری،پائیداراورمثبت راستے پرگامزن کرنے کی کوشش ہیں اورمستقبل میں امریکاکے ساتھ ممکنہ تجارتی معاہدے بھاری سرمایہ کاری کے دروازے کھول سکتے ہیں۔اوریہ تجارتی معاہدے پاکستان کی معیشت کیلئےکسی بارشِ رحمت سے کم نہیں۔

یہ خوش خبریاں اپنی جگہ،مگرافق پرخطرات کے بادل اب بھی چھائے ہیں۔یہ سب سفارتی گرمی کے بیچ بھی خطے کاآسمان کسی طوفانی بادل سے خالی اور پرامن نہیں۔جنرل منیرکابرملا انتباہ واضح تھاکہ بھارت نے خطےکوخطرناک جنگ کے دہانے پرلاکھڑا کیاہے،اورپاکستان ہرجارحیت کامنہ توڑجواب دے گا۔ان کاانتباہ محض جذباتی نعرہ نہیں بلکہ زمینی حقیقتوں کی عکاسی کرتاہے۔ انہوں نے یاددلایاکہ کشمیرنہ بھارت کا”اندرونی معاملہ”ہے اورنہ کبھی ہوگا۔یہ ایک نامکمل بین الاقوامی ایجنڈاہے،ان کے الفاظ میں قائداعظم محمد علی جناح کاوہ عزم جھلکتا ہے، جب انہوں نے فرمایاتھا”کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے”

امریکی سینٹکام میں خطاب کے دوران جنرل منیرنے بھارت کے”وشواگرو”بننے کے دعوے کومحض ایک فریبِ نظرخواب قرار دیتے ہوئے یہ بھی واضح کیاکہ عملی طورپر وہ خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے میں مصروف ہے،حقیقت میں وہ خطے میں عدم استحکام کاسب سے بڑاذریعہ ہے۔ہماری حالیہ سفارتی اورسکیورٹی کامیابیاں اللہ تعالیٰ کی رحمت،قوم کی اجتماعی کاوش،سیاسی قیادت کی دوراندیشی اورافواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت کانتیجہ ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ ہم اٹھیں گے یانہیں،بلکہ یہ ہے کہ ہم کتنی جلدی اورکتنی قوت سے اٹھیں گے۔

ادھرایک اورانڈین جھوٹ نے مودی سرکارکواقوام عالم میں شرمندہ کردیاجہاں انڈین فضائیہ کے سربراہ ایئرچیف مارشل اے پی سنگھ نے تین ماہ بعددعویٰ کیاکہ مئی میں انڈیااورپاکستان کے درمیان کشیدگی کے دوران انڈیانے پاکستان کے کم ازکم6طیارے مار گرائے تھے۔واضح رہے کہ انڈیاکی جانب سے اب تک کسی قسم کے پاکستانی طیاروں کے گرائے جانے سے متعلق کوئی تصویری یاویڈیوشواہدبھی پیش نہیں کیے گئےجبکہ دوسری جانب ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیاتھاکہ انڈین فضائیہ کے پانچ گرائے جانے والے طیاروں میں سے تین رفال طیارے تھے جبکہ ایک مگ29لڑاکا طیارہ اورایک ایس یوطیارہ شامل ہے۔

یادرہے کہ بی بی سی ویریفائی نے تین ایسی ویڈیوزکی تصدیق کی تھی جن کے بارے میں دعوی کیاگیاتھاکہ ان میں نظرآنے والا ملبہ ایک فرانسیسی ساختہ رفال طیارے کاہے جوانڈیاکی فضائیہ کے زیراستعمال ہیں۔ان میں سے ایک ویڈیوکی جیولوکیشن سے بی بی سی ویریفائی کوعلم ہواتھاکہ یہ انڈین ریاست پنجاب میں بھٹنڈہ کے مقام کی ہے۔اس ویڈیومیں یونیفارم میں ملبوس اہلکارلڑاکا طیارے کاملبہ اکھٹاکرتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔دوسری جانب چین کے ایک معتبرتھنک ٹینک نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے تین ماہ بعددینےوالے بیان کونہ صرف مضحکہ خیزقراردیابلکہ ٹھوس شواہدسے مستردکر دیا اوراب عالمی دفاعی ماہرین بھی اس جھوٹی خبرکومودی کی نئی تذلیل قراردے رہے ہیں۔

اس سب کے بیچ،جہاں بھارت کی خفیہ ایجنسی”را”کے عالمی سطح پرپھیلائے گئے جال بے نقاب ہوتے جارہے ہیں وہاں اس کے گھناؤنے منصوبے بھی عیاں ہوتے جا رہے ہیں—کینیڈامیں سکھ رہنماکاقتل،قطرمیں آٹھ نیول افسران کامعاملہ ،اور کلبھوشن یادیو جیسے واقعات اس کی زندہ مثالیں اورشواہد ہیں۔

18جون2023کوبرطانوی کولمبیاکے شہرسروں میں واقع گوردوارہ کے پارکنگ لاٹ میں سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکوگولی مار کرقتل کردیاگیا۔ کینیڈین سیکیورٹی ایجنسیزنے بھارتی حکومت کے ایجنٹس کے ممکنہ ملوث ہونےکی بنیادپرتحقیق شروع کی۔وزیر اعظم جسٹن ٹروڈونے اس واقعے پر شدید ردعمل دیااوربھارت سے تعاون کامطالبہ کیا۔وزیراعظم نے اعلان کیاکہ کینیڈین انٹیلیجنس ایجنسیاں مضبوط ومصدقہ قابلِ اعتبارالزامات کی بنیادپرتحقیق کررہی ہیں کہ ممکنہ طورپربھارتی حکومت کے ایجنٹس اس قتل میں ملوث ہوسکتے ہیں۔2024ءمیں کینیڈین پولیس نے اس کیس میں تین افراد—جن کی شناخت بھارتی نژادشہریوں کے طورپرکی گئی ہے—کوقتل میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتارکیا۔ تحقیقات جاری ہیں۔

اس پردوطرفہ تعلقات میں تیزی سے تلخی آئی—اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں نے اپنے سفارتی نمائندوں کاتبادلہ کیا—بھارت نے کینیڈاکے سفارتی عملے کوبرطرف کیا،اورکینیڈانے بھارت کاہائی کمشنرملک بدرکیا۔کینیڈاکی جاسوس ایجنسی سی ایس آئی ایس نے اس قتل کو”ٹرانس نیشنل”دباؤاورانتقام کاایک نیادرجہ قراردیااوربھارت کوخارجی مداخلت کاذمہ دارٹھہرایا۔آسٹریلیا،برطانیہ اور امریکانے بھی اپنی تشویش کااظہارکیااوردونوں ممالک سے بات چیت جاری رکھنے پرزوردیا۔

سب میرین پروجیکٹ سے متعلق اسرائیل کیلئے جاسوسی کرنے پرسزائے اگست2022میں قطرنے8سابق بھارتی نیول افسران کوگرفتارکیا،جنہیں موت سنائی گئی تھی۔ عدالتِ اوّل کی یہ سزابھارت کیلئےشدیدصدمہ کاباعث بنی۔وزیرخارجہ ایس جے شنکر اورنیوی چیف نے مقدمے میں بھارت کے شہریوں کیلئے معافی کی درخواست کی۔دسمبر2023میں قطری اپیل کورٹ نے سزاکو مؤخرکردیااورموت کی سزاکوقیدکی مختلف مدتوں میں کم کردیا۔ پھران میں سے سات افسران کوفروری2024میں بھارت واپس بھیج دیاگیاحالانکہ تفصیلی فیصلہ ابھی بھی زیرالتواہے۔

بھارت کاسابق خفیہ ایجنٹ کلبھوشن یادو2016میں بلوچستان(پاکستان)میں گرفتارہوا،اوردہشتگردانہ سرگرمیوں کی حمایت میں ملوث ہونے پرقتل اورسازش کے الزامات میں موت کی سزا سنائی گئی۔مقدمے کے دوران اس نے میڈیاکے سامنے دہشتگردانہ کارروائیوں اورپاکستان میں سینکڑوں افرادکے قتل میں ملوث ہونے کااعتراف کیا۔پاکستانی شہریوں میں بڑے پیمانے پرجانی نقصان کےاعتراف کے بعداس کیس نے بین الاقوامی انسانی حقوق اورعدالتی شفافیت کے حوالوں سے عالمی مباحث کوجنم دیاجبکہ اس معاملے نے بین الاقوامی عدالتوں اورانسانی حقوق کے حلقوں میں ایک پیچیدہ قانونی مباحث کوجنم دیاہے۔

یہ تین واقعات—(1)نِجارکاقتل،(2)قطرمیں نیول افسران کاکیس،اور(3)کلبھوشن یادیوکامعاملہ—سبھی بھارتی خفیہ ایجنسی”را”سے منسوب ہیں،اورہرایک نے عالمی سطح پرسفارتی رسوائی پیداکی،جوابھی تک مکمل طورپرسلجھائی نہیں گئیں۔بھارتی”را”کے یہ تین بڑے واقعات گویاایک ہی زنجیرکے مختلف کڑیاں ہیں—ہرکڑی میں سفارت،قانون اورعالمی سیاست کے پیچیدہ دھاگے گندھے ہوئے ہیں۔

پہلامنظر کینیڈاکی برفانی فضاؤں میں کھلتاہے،جہاں سکھ رہنماہردیب سنگھ نِجارکے خون سے برٹش کولمبیاکی گلیاں سرخ ہوئیں۔ کینیڈاکی سلامتی ایجنسیوں نے اس قتل کی تہہ میں جھانکاتوان کے ہاتھ بھارتی ریاستی ایجنٹوں کے سائے لگے۔معاملہ اتناسنگین ہوا کہ اوٹاوااوردہلی کے درمیان سفارت کاری کی زبان ترک ہوکرالزامات کی گونج سنائی دینے لگی۔سفارتی نمائندے نکالے گئے،اور عالمی منظرنامے پریہ سوال ابھراکہ خودکو “وشواگرو” کہلوانے والاملک کیاخوداپنے ہی دعووں کی بنیادکھوکھلی کررہاہے؟

دوسرا باب خلیج کے پانیوں سے جڑاہے۔قطرکی عدالت نے آٹھ سابق بھارتی نیول افسران کو”اسرائیل کیلئےجاسوسی”کے الزامات پرموت کی سزاسنائی ۔یہ فیصلہ دہلی کیلئےبجلی کاکڑکاثابت ہوا۔بھارتی حکومت نے قانونی وسفارتی محاذپرہرحربہ آزمایا،اوربالآخر سزامیں تخفیف کروالی لیکن اس تمام مہم کے پیچھے ایک نہ ایک رازدارانہ کہانی،اورخلیجی سیاست کے دبے دبے اشارے،آج بھی تجزیہ نگاروں کیلئےسوال بنے ہوئے ہیں۔

تیسرااورشایدسب سے ننگاسچ بلوچستان کی خاک میں دباہواہے—کلبھوشن یادیوکااعتراف،جس میں اُس نے”را”کے ایجنٹ کی حیثیت سے پاکستان میں دہشتگردی کی منصوبہ بندی، اور سینکڑوں معصوم جانوں کے ضیاع کوتسلیم کیا۔پاکستانی عدالت نے اسے موت کی سزاسنائی،اوردنیابھرمیں اس فیصلے نے قانون وانصاف،خودمختاری اوربین الاقوامی تعلقات پرایک نئی بحث چھیڑدی۔

یوں یہ تینوں واقعات،مختلف مقامات اورمختلف اندازمیں،ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں—کہ خطے کی سیاست میں خفیہ ادارے محض پس پردہ کھلاڑی نہیں،بلکہ بعض اوقات وہ پوری بساط الٹ دینے والی چال چل دیتے ہیں۔اورہرچال کے بعدسفارت،قانون اور عالمی ردعمل کی شطرنج ایک نئے دورمیں داخل ہوجاتی ہے۔

عالمی تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں عدل کی بنیادسے ہٹ جائیں اورطاقت کے نشے میں غرورکی چال چلیں،توان کے قدم صراطِ مستقیم سے پھسل جاتے ہیں۔خداوندِ قدوس نے فرمایا:
یعنی زمین میں فسادنہ پھیلاؤ،بے شک اللہ فسادکرنے والوں کوپسندنہیں کرتا۔(القصص:77)

بھارت،جواپنے آپ کو”وشواگرو”کہلانے کی آرزورکھتاہے،آج اپنے خفیہ ہاتھوں سے اس خطے میں خون،باروداوربداعتمادی کی آگ بھڑکارہا ہے۔ کینیڈاکی برف پوش فضاؤں میں،سکھ رہنما ہردیب سنگھ نِجارکے خون کے دھبے اب تک گواہی دے رہے ہیں کہ ظلم کی چال کتنی بھی تاریک گوشوں میں تیاراورخفیہ کیوں نہ ہو،ایک دن سورج کی روشنی میں آجاتی ہے۔کینیڈانے جب اپنی انٹیلیجنس رپورٹ میں بھارتی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کا اشارہ دیا،تواوٹاوا اوردہلی کے درمیان سفارتکاری کی نرمی ٹوٹ کرتلخی میں بدل گئی۔سفیر نکالے گئے،الفاظ زہرآلود ہوئے،اوردنیا کے ضمیرپرسوال اٹھاکہ کیاایک جمہوری دعوے دارریاست قتل وغارت کی زبان بول رہی ہے؟

پھرخلیج کی موجوں سے ایک اورباب ابھرا،قطرکی عدالت سے8بھارتی نیول افسران کو”اسرائیل کیلئےجاسوسی”کے جرم میں سزائے موت کافیصلہ دہلی کی سیاست پربجلی بن کرگرا۔بالآخر مودی سرکارنے ذاتی معافی تلافی سے سزاکم کروالی،لیکن یہ سوال باقی رہ گیاکہ اگرجرم نہ تھاتویہ مداخلت کیوں؟اور اگر جرم تھاتویہ معافی کیوں؟تاریخ ان سوالات کوہمیشہ یادرکھے گی۔

لیکن سب سے ننگاسچ بلوچستان کی ریت میں چھپاتھا،جہاں کلبھوشن یادیونے اپنے ہی لبوں سے وہ سب اگل دیاجودشمن کے ایجنٹ کی پہچان ہے—دہشتگردی کے منصوبے،معصوم جانوں کی قربانیاں،اورپاکستان کے امن کوتاراج کرنے کے ارادے۔اسے سزائے موت سنائی گئی،اوریہ فیصلہ نہ صرف عدل کاپیمانہ ٹھہرابلکہ دنیاکویہ پیغام بھی دیاکہ پاکستان اپنی سرزمین پرکسی بھی جارحیت کوبرداشت نہیں کرے گا۔
اے اہلِ نظر!یہ تینوں واقعات صرف خبریں نہیں،یہ خطے کی روح پرلگے زخم ہیں۔یہ یاددہانی ہے کہ”باطل”ہمیشہ اپنی بقاکیلئے سازش کے جال بنتاہے،لیکن”حق”کاوعدہ ربِ کائنات نے یوں فرمایاہے:یعنی ہم حق کوباطل پرمارتے ہیں تووہ اس کاسرتوڑدیتاہے،اورباطل مٹ کررہ جاتاہے۔(الانبیاء:18)

یہ بات سچ ہے کہ وقت کاپہیہ اپنی گردش میں بے رحم ہے۔قومیں جولمحہ ہاتھ سے گنوادیتی ہیں،وہ صدیوں کے خسارے میں بدل جاتاہے۔آج جب دنیاکاسیاسی نقشہ ہرمہینے نئی لکیروں سے بھراجارہاہے،برصغیرکی بساط پرمہرے بھی ایک نئے کھیل کیلئےتیار ہیں۔آج پاکستان ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں ہرقدم تاریخ میں ثبت ہوگا۔یہ وہ لمحہ ہے جب قرآنی وعدہ ہمارے سامنے ہے: اگرتم اللہ کے دین کی مددکروگے تواللہ تمہاری مددکرے گااورتمہارے قدم جمادے گا۔(محمد:7)

یوں لگتا ہے کہ برصغیرکی سیاسی بساط پرمہرے ایک بارپھراپنی جگہ بدل رہے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپر،جہاں ایک طرف طاقت کے کھیل کی بے رحم چالیں ہیں،وہیں دوسری جانب امیدکی کرنیں بھی ہیں—بشرطیکہ ہم قومی عزم،فکری یکجہتی اورعملی بصیرت کواپناشعاربنائیں۔وقت کے قلم نے نیا باب لکھناشروع کردیاہے؛اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اس کے الفاظ کس رنگ اور کس روشنی میں رقم ہوں۔

وقت کی ریت ہمارے ہاتھوں میں ہے،اگرہم نے اسے مضبوطی سے تھام لیاتویہ سنہری حروف میں تاریخ کاحصہ بن جائے گی،اور اگرگنوادی توصدیوں کے خسارے میں بدل جائے گی۔آج ہم سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں— ہمارے سپاہی سرحدوں پرپہرہ دے رہے ہیں،، سفارتکار دنیا کے ایوانوں میں پاکستان کی ساکھ کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں،اورقوم کواپنی دعاؤں اورعزم کے قلعے میں ایک ہی صف میں کھڑاہوناہے۔یہ وقت قوم کے ہرفردکیلئےلمحۂ امتحان ہے—یہ فیصلہ کرنے کا،کہ ہم صرف تاریخ کے صفحات پرلکھی تحریربنیں گے یاتاریخ کے باب لکھنے والے۔یہ وہ گھڑی ہے جب اللہ تعالیٰ کاوعدہ ہمارے سامنے ہے ۔اگراللہ تمہاری مدد کرے توکوئی تم پرغالب نہیں آسکتا۔(العمران:160)

یادرکھیں!وقت کے دریامیں کوئی لمحہ دوبارہ نہیں آتا۔اگرہم نے اپنی صفوں کومتحدنہ کیاتوتاریخ ہمیں صرف ایک مثال کے طورپر یادرکھے گی—اوراگرمتحدہوگئے توہماری داستان آئندہ نسلوں کیلئےایمان،قربانی اورغیرت کاترانہ بنے گی۔ان شاءاللہ

وقت کاتقاضا ہے کہ ہم محض تماشائی نہ بنیں،بلکہ اس بازی کے کھلاڑی بنیں جہاں ہماری تلواردلیل ہے،ہماری ڈھال اتحادہے،اور ہمارازادِراہ ایمان ۔بھارت کی”را”اگراپنے خنجرکی دھارتیز کرے،توہم اپنے عزم کافولادمزیدسخت کریں۔یہ معرکہ محض زمین کا نہیں،ضمیرکاہے—اورتاریخ نے ہمیشہ ضمیرکی جنگ میں حق کوفاتح لکھاہے۔

آئیے!یہی وہ گھڑی ہے کہ جب ہم سب ایک ہوکر،ایک زبان،ایک دل اورایک پرچم کے سائے تلے یہ اعلان کریں ہم اپنی شہ رگ کا سودانہیں کریں گے،ہماری شہ رگ محفوظ رہے گی،ہماراپرچم سربلندرہے گا،اورہماری نسلیں آزادسانس لیں گی—ہم اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ رکھیں گے،ہم اپنی آزادی کاپرچم سربلندرکھیں گے،چاہے اس کیلئےوقت کاہرامتحان کیوں نہ جھیلنا پڑے۔

یادرکھیں!قومیں صرف اپنی سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے خوابوں اوراپنے یقین سے زندہ رہتی ہیں۔آج پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں،یہ ایک عہدہے،ایک وعدہ ہے،ایک مشن ہے جوہمارے بزرگوں نے اپنے خون سے لکھا۔ہم اس وعدے کے امین ہیں، اوراس امانت کووقت کے ہرطوفان سے بچاناہمارافرض ہے۔دنیاکے نقشے پربہت سے رنگ مٹ چکے ،پروہ رنگ کبھی نہیں مٹتا جوقربانی اورایمان سے روشن ہو۔پس سن لو!ہم نہ دبیں گے ، نہ جھکیں گے،نہ رکیں گے—ہم اپنے پرچم کوسرِبلندی کے آخری زینے تک لے جائیں گے۔وقت کامؤرخ جب اس دورکولکھے گا،تووہ لکھے گا۔ یہ وہ نسل تھی جس نے خواب نہیں بیچے،جس نے سرنہیں جھکایا،اورجس نے اپنے وطن کی تقدیراپنے ہاتھوں سے سنہری حروف میں لکھی۔
پاکستان رہے گا،پاکستان جیتے گا،اورپاکستان کاپرچم قیامت تک سربلند رہے گا،ان شاءاللہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں