The Case of Jerusalem

بیت المقدس کا مقدمہ

جب انبیاءکی سرزمین،جوالوہیت کے پیغام کی امین تھی،سازشوں کے پنجے میں آجائے،جب قبلۂ اول کی دیواریں خون سے رنگین ہوں،جب اذانوں کی صدابموں کی گونج میں دب جائے،توپھرتاریخ محض کاغذی داستان نہیں رہتی بلکہ وہ ایک طویل نوحہ بن جاتی ہے۔یہودیوں کی ریاست ایک ایسا خنجرہے جومشرقِ وسطیٰ کے قلب میں پیوست کیاگیاتاکہ ہردھڑکن غلامی میں ڈھل جائے اورہر سانس سامراجی جبرکی زنجیرسے جکڑدی جائے۔

اسرائیل کاقیام امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک ایساناسورہے جوہرلمحہ لہورِستارہتا ہے،ہرآن امت کے اجتماعی شعورکوجھنجھوڑتاہے۔یہ تحریرایک تاریخی بیانیہ نہیں،ایک بیداری کی پکارہے؛ایک صدائے احتجاج ہے جس میں کربلاکے دردکی جھلک بھی ہے اورصلاح الدین ایوبی کی تلوارکی جھنکاربھی۔
یہودیوں کیلئےفلسطین کی مقدس سرزمین پرقومی وطن کے قیام کی حمایت کااعلان دراصل برطانوی سامراج کی اس پالیسی کا مظہرہے جس میں مقامی باشندوں کی زمین پربیرونی عناصرکوبساناکوئی اخلاقی سوال نہ تھا،بلکہ سیاسی چالاکی تھی۔یہ اعلان نہ صرف مقامی عرب مسلمانوں بلکہ پوری اسلامی دنیا کیلئےایک کھلاپیغام تھاکہ اب سامراجی طاقتیں آپ کی روحانی وتاریخی سرزمین پرسیاسی تجربے کریں گی،اوراس کیلئےوہ کسی شرم یاقانون کی پابندنہ ہوں گی۔جب استعمارانسانیت کے نام پرانسانوں کی آزادی چھیننے لگے تواس طرزِفکرکوفکری دیوالیہ اورتہذیبی استبدادکہتے ہیں۔ایسے افرادکے بارے میں قرآن تنبیہ کرتاہے:
وَلاَتَرْكَنُوۡۤااِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡافَتَمَسَّكُمُ النَّارُ ۚ وَمَالَكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَثُمَّ لَاتُنْصَرُوۡنَ(ہود:آیت 113)
اورظالموں کی طرف ذرابھی جھکاؤنہ کرو،ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔

اسرائیل کاقیام محض زمین کی حدبندی کامعاملہ نہ تھا،یہ تہذیبوں کے تصادم،مذہبی نفسیات،سامراجی عزائم اورسیاسی مفادات کا ایک ایسافسانۂ عبرت ہے جسے تاریخ نے خونچکاں الفاظ میں قلم بندکیا۔اسرائیل کاقیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ تھا، جس کے پسِ پردہ صدیوں پرمحیط منصوبہ بندی ،سامراجی سازشیں اورمذہبی تعصبات پنہاں تھے۔1948ءمیں اسرائیل کاقیام کسی اچانک انکشاف کانتیجہ نہ تھابلکہ اس کے پیچھے برسوں کی خفیہ تدبیریں ، استعماری وعدے،اورنسلی برتری کے زعم کی تاریخ پوشیدہ ہے۔یہ قیام محض سیاسی مفادنہیں،بلکہ اسلامی اُمت کے قلب میں ایک خنجر پیوست کرنے کے مترادف تھا۔فلسطین،جوہمیشہ انبیاءکی جائے پناہ رہا،صیہونی استعمارکے رحم وکرم پرکردیاگیا۔

وہ38الفاظ کی مختصرمگرزہرآلودسحرانگیزتحریر”اعلانِ بالفور”جس نے خطے میں قوموں کی تقدیربدل کررکھ دی۔ایک پوری قوم کوان کے گھروں سے بے دخل کردیا۔برطانوی وزیرِخارجہ آرتھربالفورکایہ وعدہ درحقیقت ایک سامراجی منصوبہ تھاجوخلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعدعالمِ اسلام کومزید تقسیم درتقسیم میں ڈالنے کی سازش تھی۔اس خط نے دین کے نام پرظلم کی تائیداور تاریخ میں نفاق کاایسابیج بودیاجوآج ظلم وستم اوردرندگی کاایک ایسا مسلم کش تناوردرخت بن گیاہے جس کی جڑوں میں اب تک لاکھوں افرادکاخونِ ناحق شامل ہوچکاہے لیکن اب تک اس کی انتہائی مکاری اورمنافقت کے ساتھ آبیاری کی جارہی ہے۔

2نومبر1917ءکوبرطانیہ کے وزیرِخارجہ آرتھرجیمزبالفورنے روتھشیلڈخاندان کولکھاگیاایک مختصرخط،جسے”اعلانِ بالفور”کہا جاتاہے،عالمی سیاست میں ایک زلزلہ لے آیا۔اس خط کامکمل متن آج بھی محفوظ ہے جس میں کہاگیا:
(2نومبر1917ء، وزارتِ خارجہ،برطانیہ)
بخدمت عالی جناب لارڈروتھشائلڈ،
(نمائندہ برطانوی یہودی برادری)
محترم!
مجھے یہ امرمسرت سے لبریزہے کہ میں آپ کے توسط سے یہ مکتوب آپ کی خدمت میں پیش کروں جوحکومتِ برطانیہ کی جانب سے یہودی صیہونی تمناؤں سے ہمدردی کامظہرہے۔یہ وہ بیان ہے جسے کابینہ نے باقاعدہ منظوری دے کرآپ کے سامنے رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
اس عظیم الشان سلطنت(برطانیہ)کی حکومت فلسطین میں یہودی قوم کیلئےایک قومی وطن کے قیام کیلئےمخلصانہ رغبت رکھتی ہے،اوراس مقصدکے حصول کیلئےہرممکن کوشش کرے گی۔البتہ یہ امرواضح طورپرمدنظررہے گاکہ فلسطین میں موجودغیر یہودی باشندوں(یعنی عربوں)کے شہری و مذہبی حقوق میں کوئی ایسی مداخلت نہیں کی جائے گی جوانہیں نقصان پہنچائے۔اسی طرح دیگرممالک میں آبادیہودیوں کے شہری وسیاسی حقوق پربھی کوئی اثرنہ پڑے۔میں تہِ دل سے امیدکرتاہوں کہ آپ اس ”
اعلامیہ کوصیہونی فیڈریشن تک پہنچادیں گے تاکہ وہ اس پیغام کی روشنی میں اپنی آئندہ راہ متعین کریں۔
خیر اندیش،
آرتھرجیمزبالفور
(وزیرِخارجہ،حکومتِ برطانیہ)

2 نومبر1917ء کوبرطانوی وزیرِخارجہ لارڈآرتھرجیمزبالفورکایہ مختصرسامکتوب عالمی سیاست کے نقشے پروہ لکیرکھینچ گیا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ کوبلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت کوبھی دہلاکررکھ دیا۔یہ محض ایک خط نہ تھابلکہ تہذیبوں کی تقدیر،اقوام کی خودمختاری،اورعدل وانصاف کی روح کے خلاف سامراجی استبدادکاعلامتی آغازتھا۔اس اعلان کواگرمحض تاریخی دستاویزکے طورپرپڑھاجائے توشایداس کے زہرکو سمجھناممکن نہ ہولیکن اگراسے مسلم دنیاکے دل سے گزرتے ہوئے محسوس کیاجائے تویہ ایک ایساخنجرہے جوصدیوں بعدبھی تازہ زخم دیتاہے۔

بالفورکے ان38الفاظ کوپڑھ کردل تاریخ کے آہوں بھرے دفترمیں داخل ہوجاتاہے جہاں الفاظ،تلواروں سے زیادہ تیزاورفیصلوں سے زیادہ کاری ہوتے ہیں۔یہ محض ہمدردی کااعلان نہیں،بلکہ ایک پوری ملت کیلئےجغرافیائی بے وطنی کاپروانہ تھا۔برطانیہ،جوخود کومہذب دنیاکاامام گردانتاتھا،نے ایک ایسی سرزمین جونہ اس کی ملکیت تھی نہ اس پرقانونی دعویٰ لیکن کیسے قومِ یہود کیلئے وطن قائم کرنے کاعندیہ دے دیا۔یہ ایساہی ہے جیسے کوئی بغیر مالک سے مشورہ کیے قفل کی چابی کسی کوہدیہ کردے۔

یہ اعلان دراصل مغربی سامراج کامذہب کی آڑمیں مفادات کاسوداگربننے کاآغازتھا۔اس اعلان نے عالمی سیاست کومذہبی ولسانی بنیادوں پربانٹ کر تہذیبی تصادم کی بنیادرکھ دی۔یہ مکتوب،دراصل ایک تہذیبی بددیانتی کاابتدائی باب تھا،جہاں اپنے ظالمانہ مفادات کیلئے ایک قوم کی تمناؤں کاخون کسی اورقوم کے خون سے کیاگیا۔یہ خط بظاہرخیرسگالی کاپیغام تھالیکن درحقیقت یہ ایک ملت کے وجودکومٹانے کی سنداوردوسری ملت کے سامراجی خوابوں کی تکمیل کی دستاویزتھی۔برطانوی سامراج نے عثمانی خلافت کے زوال کے بعدفلسطین کواپنے زیرِاثرلاکرصیہونی منصوبوں کی آبیاری شروع کی۔
یہ خط دراصل برطانیہ کی سامراجی سیاست،صہیونی تحریک کی سرگرم لابی اورپہلی جنگِ عظیم میں اتحادیوں کی پوزیشن سے جڑاہواہے۔تاریخی پس منظریہ ہے کہ اس وقت عثمانی سلطنت زوال پذیرتھی،اوربرطانیہ مستقبل میں مشرقِ وسطیٰ کواپنی کالونیوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پرعمل پیراتھا۔برطانیہ چاہتاتھاکہ یہودیوں کی حمایت حاصل کرے،خاص طورپر امریکامیں موجود بااثریہودی حلقوں کی،تاکہ جنگ میں حمایت مضبوط ہو۔

اس خط کی یہ سطریں بظاہراخلاقیات سے معمورہیں،لیکن درحقیقت منافقت کی دبیزچادرہیں جوسامراجی عریانی کوچھپانے میں ناکام ہیں۔برطانیہ کی اس گارنٹی کووقت نے کھوکھلے الفاظ کاملبہ ثابت کردیا۔نہ توفلسطینیوں کے حقوق محفوظ رہے،نہ ان کاوقار، نہ ان کاوطن۔یہ ضمانت سیاسی تسلی کے سواکچھ نہ تھی تاکہ عالمی ضمیرکوکچھ دیرکیلئے سلادیاجائے۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں یہ ایک ایسی اخلاقی تدبیرتھی جوچالاکی سے فتنۂ باطن کوتقدس کے پردے میں چھپاکرپیش کرتی ہے؛یہودکیلئےوطن اوراہلِ فلسطین کیلئےصبر،قناعت،اورگمنامی۔حقیقت یہ ہے کہ اس وعدے کی روشنی میں جوبھی سیاسی روشنی نکلی، اس نے صرف یہودکی راہوں کوروشن کیااوراہلِ عرب کی بستیوں کوتاریک ترکردیا۔

فلسطین کے مقامی باشندوں کے مذہبی وشہری حقوق کی مشروط گارنٹی کے اس اعلان میں جن”غیریہودی باشندوں”کاذکرہے،وہی فلسطین کے اصل وارث ہیں لیکن ان کے حقوق کاذکربھی ایک”مشروط”سانچے میں پیش کیاگیا، گویا وہ اصل فریق ہی نہ ہوں، بلکہ محض سائے ہوں جنہیں دھوپ سے بچانے کی فرضی یقین دہانی کردی گئی ہو۔یہ جملہ ایک ایسے منافقانہ طرزِفکرکاآئینہ دارہے جس میں طاقتورکی مرضی قانون،انصاف اوراخلاقیات سے بالاسمجھی جاتی ہے۔یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ عدل نہیں بلکہ مکرہے۔یہ تحفظ نہیں بلکہ دھوکہ ہے۔اگرزمین کسی قوم کی ہے تواس کے مستقبل پرفیصلے کاحق بھی اسی کوہوناچاہیے،نہ کہ کسی سامراجی ثالث کو۔

اعلانِ بالفورمیں یہودیوں کیلئےجوبین الاقوامی حقوق کی ضمانت دی گئی،وہ درحقیقت انہیں ایک خاص نسلی ومذہبی استثناءدینے کی کوشش تھی،جوپوری دنیا میں ایک خطرناک نظیربن گئی۔یہ امربذاتِ خوداس اعلان کے دہرےمعیار،سامراجی تعصب،اورمخصوص عالمی ایجنڈے کاپتہ دیتاہے۔ایک طرف یہودیوں کے حقوق پرغیرمشروط یقین دہانی،اوردوسری طرف فلسطینی مسلمانوں کیلئےمشروط،مبہم اورقابلِ تاویل جملے،یہ سب ایک منظم منصوبے کی چغلی کھاتے ہیں۔یہ وہ اعلان تھاجس میں انصاف کے لباس میں نفاق چھپاہواتھا،تہذیب کی آڑمیں جارحیت بول رہی تھی،اورہمدردی کے پردے میں مفادپرستی کاناچ تھا۔

اس نکتے میں ایک ایسافلسفیانہ تضادپنہاں ہے جوصرف مغرب کی منافقت زدہ سیاست ہی پیداکرسکتی ہے۔فلسطینی عربوں کے حقوق کی بات مشروط طور پرکی گئی،لیکن مغربی ممالک میں یہودیوں کے سیاسی حقوق کویقینی بنانے کااعلان بلاشرط کیاگیا۔یہ اعلان دراصل ایک اعلیٰ نسل(یہود)کوعالمی درجہ عطا کرنے کی کوشش تھی،جبکہ دوسری طرف فلسطینیوں کوصرف سہنے کی ضمانت دی گئی۔اگراسے لطیف نثرمیں لکھاجائے توشایدیوں ہوکہ یہ عجیب اعلان ہے!گویاایک طرف شعلوں کاوعدہ ہے،اوردوسری طرف بادلوں کی تسلی ہے۔یہودیوں کیلئےآسودگی کی چھتری،اوراہلِ فلسطین کیلئےآندھی کی آغوش
اس نقطے میں مغرب کی وہ نسلی برتری کھل کرظاہرہوتی ہے جس نے دنیاکودوسری جنگِ عظیم سے پہلے بھی جلایااوربعدمیں بھی۔آج بھی یہی دہرامعیار اقوامِ متحدہ کی پالیسیوں،انسانی حقوق کے قوانین،اورمیڈیاکے بیانیے میں واضح دکھائی دیتا ہے۔

دلچسپ تضادیہ ہے کہ نہ صرف مسلمان، بلکہ خودبہت سے یہودی بھی اسرائیل کے قیام کوایک مذہبی بغاوت سمجھتے ہیں۔ہر یہودی اسرائیل کے قیام کاحامی نہیں ہے،”نیٹری کارتا”جیسافرقہ اسرائیل کو”خدائی حکم کی خلاف ورزی”اورایک مذہبی بغاوت تصورکرتے ہیں۔ان کے مطابق حقیقی یہودی تب تک وطن قائم نہیں کرسکتے جب تک ان کے عقیدے کے مطابق مسیحانہ آئے، یہودیوں کوکوئی ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں لیکن سیاسی صیہونیت نے مذہب کوآلۂ کاربناکردنیاکویہ باورکرایاکہ اسرائیل کا قیام یہودیت کامذہبی تقاضاہے۔اس طرح صیہونی سیاسی تحریک نے مذہب کوبھی اپنے سیاسی مفادکااسیربنالیاہے۔

یورپ میں یہودیوں کی نکاسی کومحض تعصب کہناتاریخ سے ناانصافی ہوگی۔صدیوں تک انہوں نے معاشی اجارہ داری،مالی سود خوری،اورخفیہ تنظیموں کے ذریعے ریاستی ڈھانچوں کواندرسے کھوکھلاکرنے کی کوشش کی۔جرمنی،فرانس،پولینڈاورروس جیسے ممالک میں یہودیوں کی مسلسل بے دخلی محض تعصب کانتیجہ نہ تھی بلکہ اکثرمقامات پران کی مالیاتی اجارہ داری،خفیہ ریشہ دوانیاں،اورثقافتی تصادم نے مقامی اکثریتی اقوام کوبرانگیختہ کیا۔گویاہر اخراج کاپسِ منظرایک پیچیدہ سیاسی وتہذیبی کشمکش رکھتاہے۔یہ وہی فتنہ پرورسوچ تھی جس کاقرآن کریم میں بارہاذکرآیا—
وَقَضَيْنَاإِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّاكَبِيرًا۔
اورہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیاتھاکہ زمین میں دودفعہ فسادمچاؤگے اوربڑی سرکشی کروگے۔(الاسراء:4)

یہودیوں نے خلافتِ عثمانیہ سے فلسطین کے بدلے قرض اتارنے کاسوداکرناچاہا،جب عثمانی خلافت قرضوں کے بوجھ تلے دب رہی تھی،تب یہودی سرمایہ داروں نے فلسطین میں وطن کے بدلے قرض اتارنے کی پیش کش کی۔مگرسلطان عبدالحمید ثانی نے دوٹوک انکارکرکے تاریخ میں غیرتِ ایمانی کاایک روشن باب رقم کرتے ہوئے وہ تاریخی جملہ کہا:”میں اپنی ریاست کواس طرح نہیں بیچ سکتاجیسے کوئی دودھ بیچنے والااپنی بالٹی بیچ دیتاہے اورمیں اپنے جسم کے زخموں پرصیہونی نمک نہیں چھڑکوں گا۔” یہ انکارفقط سیاسی نہیں،بلکہ دینی غیرت اورایمان کامظہرتھا۔یہ پیشکش تردیدکے طومارمیں لپیٹ دی گئی اورخلافت نے آخری دم تک فلسطین کی حرمت کاسودانہ کیا۔

کیااسرائیل محض ایک قوم کی پناہ گاہ ہے؟یایہ سامراج کاایک مستقل قلعہ ہے جوتیل سے لبریزسرزمین پرپہرہ داری کافریضہ سرانجام دیتاہے؟ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں امریکااورمغرب کامستقل عسکری اڈہ ہے۔یہاں نہ توامن مطلوب ہے نہ ہی انصاف؛ بلاشبہ،اسرائیل کاوجودخطے میں امریکی عسکری وتجارتی مفادات کانگہبان ہے بلکہ مقصدصرف یہ ہے کہ اسرائیل کوبطور کرائے کے سپاہی استعمال کرکے مسلمانوں کوآپس میں لڑایاجائے اور خطے کے وسائل کولوٹاجائے۔ایک ایسادائمی چوکیدارجو مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ابھرتی ہوئی طاقت کوکچلنے کیلئے استعمال کیاجاسکتاہے۔

اسرائیل کے ذریعے مغرب نے اس خطے میں نہ صرف اپنے عسکری سازوسامان کی منڈی قائم کی بلکہ اپنی دفاعی صنعت کے مستقل صارف بھی تلاش کیے۔یہودی ریاست نے دنیاکی سب سے بڑی اسلحہ کی منڈیوں سے معاہدے کرکے مشرقِ وسطیٰ کو مستقل جنگ کامیدان بنادیا۔جنگیں برپاہوئیں، معاہدے ٹوٹے،اورہرسمت خون بہتارہا—مگراسلحے کی منڈی ہمیشہ گرم رہی۔مسلمان ریاستوں کوڈرایاگیا،دبایاگیا،اورمجبورکیاگیاکہ وہ اپنی دولت مغربی دفاعی صنعتوں کے قدموں میں نچھاورکردیں۔

یہودی لابیاں خصوصاًامریکن اسرائیل پبلک افیئرکمیٹی جیسی تنظیمیں امریکی سیاست کواپنی گرفت میں لیے بیٹھی ہیں،میڈیا کنٹرول،بینکاری نظام،عدلیہ اورہالی ووڈجیسے میدانوں میں اس حد تک سرایت کرچکی ہیں کہ امریکی کانگریس اوریورپی پارلیمان بھی ان کے اشاروں پرچلنے لگے ہیں۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکااسرائیل کوسالانہ اربوں ڈالرزکی امداددیتاہے اوراس کے بدلے میں پالیسی سازی میں بھی اسرائیل کی رائے غالب آتی ہے۔ہرشعبہ یہودی لابیوں کے زیرِاثرہے۔اب وہ وقت آچکاہے کہ اسرائیل نہ صرف خودمختارریاستوں کوبلیک میل کرتاہے بلکہ اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کوبھی محض ایک کٹھ پتلی بناچکاہے۔
1956ءمیں جب اسرائیل،برطانیہ اورفرانس نے مصرپرحملہ کیاتوسویزبحران وہ واحدلمحہ تھاجب امریکی صدرآئزن ہاورنے دباؤ ڈال کراسرائیل کو پیچھے ہٹنے پرمجبورکردیا۔یہ اس وقت ممکن ہواکیونکہ تب امریکاخودمختاراوراس کی سامراجی خوداعتمادی مضبوط اورصیہونی گرفت سے آزادتھی۔آج حالات یکسربدل چکے ہیں،اب فیصلہ کن قوتیں نیویارک اورواشنگٹن کی لابیوں میں بیٹھتی ہیں۔آج وہ صیہونی لابیوں کاقیدی ہے۔

کیااسرائیل کی موجودگی ایک فوبیاہے جسے خلیجی حکمرانوں پرمسلط کرکے ان کی خودمختاری کودبوچاگیا؟اسرائیل کوایک بھوت بناکرخلیجی حکومتوں کوامریکاکے زیرِنگیں رکھاگیا۔ہرنیامعاہدہ،ہردفاعی خریداری،اسی خوف کانتیجہ ہے۔یہ نوراکشتی دراصل ایک سوچاسمجھاکھیل ہے جس میں امریکا بظاہر اسرائیل کوقابومیں رکھتادکھائی دیتاہے مگردراصل دونوں مل کرعرب دنیا کواپنے مفادات کے تابع رکھتے ہیں تاکہ امتِ مسلمہ بیدارنہ ہواوروہ ہمیشہ غیرملکی سہاروں پرانحصارکرتی رہے۔

چین نے اپنی خاموش مگرٹھوس معاشی حکمتِ عملی سے مشرقِ وسطیٰ میں نئی صف بندی شروع کردی ہے۔چین کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت نے خلیجی ممالک کوایک نئے افق کی جانب متوجہ کیاہے۔امریکاکی مسلسل ڈکٹیشن کے برخلاف،چین کی پالیسی”عدمِ مداخلت اورباہمی مفاد”پرمبنی ہے۔خلیجی ممالک اب امریکی کنٹرول سے نالاں ہوکرچین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔چینی سرمایہ کاری،سستے قرضے اورعدمِ مداخلت کی پالیسی نے انہیں متوجہ کیاہے۔یہ ایک نیاتوازن ہے جس سے مسلمانوں کوفائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے۔

یمن کے مسئلے پرایران وسعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی ایک تاریخی کامیابی ہے۔یمن میں سعودی عرب اورایران کی مصالحت،جوچین کی ثالثی سے ممکن ہوئی،اس غیرمعمولی عمل نے چین کوایک غیرجانبداراورقابلِ اعتمادقوت کے طورپرمنوایا ہے۔اس کے نتیجے میں خطے میں امریکاکی گرفت کمزورپڑرہی ہے اس عمل نے چین کونہ صرف ایک معاشی پارٹنربلکہ ایک سفارتی طاقت کے طورپرمنوایاہے۔امریکاکیلئےیہ صورتحال خطرے کی گھنٹی ہے،جس پروہ مستقبل میں کوئی جوابی کارروائی ضرورکرے گا۔

ٹرمپ کے دورہ سعودی عرب میں400ارب ڈالرسے زائدکے معاہدے محض معاشی لین دین نہ تھے بلکہ امریکی دباؤکی ایک اعلیٰ مثال تھے۔ان معاہدوں کے ذریعے امریکانے خلیجی خزانے کواپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔اس سرمایہ کاری کامقصدخلیجی دولت کوامریکی معیشت کی سانسوں کا آکسیجن بناناتھا۔یہ معاہدے سیاسی توازن کوبگاڑنے کی ایک چال تھے۔

ابراہیمی معاہدے ایک نیاباب ہیں جہاں اسلامی شناخت کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اسرائیل کومشرقِ وسطیٰ میں مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔سعودی عرب تاحال اسرائیل کوباضابطہ تسلیم نہیں کرپایا،لیکن ابراہیمی معاہدے کی روشنی میں یہ امکان بڑھتاجارہاہے اوراسرائیل کوتسلیم کرنے کے امکانات اب کسی حدتک واضح ہوتے جارہے ہیں۔پسِ پردہ مذاکرات اوردباؤکی سیاست اسی جانب اشارہ کررہی ہے۔

غزہ،جہاں آج بھی بچوں کی لاشیں کھلونوں سے زیادہ گرتی ہیں،کوایک سیاحتی جنت بنانے کاخواب دراصل فلسطینی مزاحمت کو ہمیشہ کیلئےدفن کرنے کامنصوبہ ہے۔حماس کوغیرمسلح کرنے اورغزہ کوفلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کی کوششیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔حالیہ اطلاعات کے مطابق خلیجی طاقتیں حماس کوغیرمسلح کرنے اورغزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے منصوبے پرعمل پیراہیں۔بعدازاں،امریکی منصوبے کے تحت غزہ کوایک”سیاحتی جنت”میں بدلنے کی تیاریاں ہورہی ہیں—جہاں خون کی جگہ خوشبوہومگروہ خوشبو فلسطینی لاشوں کے تعفن سے ابھرے۔

کیایہ امرحیرت انگیزنہیں کہ اسرائیل،جوخودایک مکمل ایٹمی قوت ہے اورجس کے پاس دیموناکاایٹمی مرکزکئی دہائیوں سے فعال ہے،اسے آج تک کسی
بین الاقوامی ادارے نے جواب دہ نہیں بنایا؟نہ امریکانے،نہ یورپ نے،اورنہ اقوامِ متحدہ نے۔یہ وہی اسرائیل ہے جس نے1981ءمیں عراق کے اوسیراک ایٹمی ری ایکٹرپرحملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کوپاؤں تلے روندڈالا،مگرمغرب نے اسے دہشتگردی قراردینے کے بجائے”احتیاطی کارروائی”کالقب دے دیا۔ایران جب اپنے ایٹمی پروگرام کوپرامن توانائی کے مقصد کیلئےبڑھاتاہے تواس پرپابندیاں،حملے اورخفیہ کارروائیاں مسلط کردی جاتی ہیں۔یہ دہرامعیاراسلام دشمنی کاایک کھلاثبوت ہے۔

چین آج خلیجی ممالک خصوصاًسعودی عرب،ایران،اورامارات کے ساتھ مضبوط تجارتی رشتے قائم کرچکاہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کیلئے سعودی عرب سے یومیہ1.76ملین بیرل تیل خریدتاہے،جبکہ ایران پرامریکی پابندیاں ہونے کے باوجودچینی کمپنیاں ایرانی تیل کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں،اکثربالواسطہ طریقوں سے۔بندرعباس کی بندرگاہ،چابہارکااشتراک،اور مشترکہ انرجی وٹرانسپورٹ منصوبے اس گہرے اتحادکے مظہرہیں۔

جب حالیہ برسوں میں ایران اوراسرائیل کے درمیان خفیہ اورنیم علانیہ جنگ کے مظاہرسامنے آئے،توچین اورروس کی غیر معمولی خاموشی نے عالمی تجزیہ نگاروں کوچونکادیا۔اس خاموشی کے پیچھے ایک جانب ان کی مشرقِ وسطیٰ میں توازنِ قوت کی پالیسی ہے،تودوسری جانب تجارتی مفادات کی مجبوری ۔چین کسی بھی فریق کوناراض کیے بغیراپنی معاشی رسائی برقرار رکھناچاہتاہے جبکہ روس یوکرین جنگ میں مصروف ہوکرکھل کراظہاررائے سے گریزاں ہے۔

باوثوق ذرائع کے مطابق،امریکانے ایران اوراسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرانے کیلئےپاکستان کوایک نرمی آورثالث کے طور پرمتحرک کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں توازن،اسلامی دنیامیں اس کی حیثیت،اورایران وعرب دنیادونوں سے تعلقات اسے اس کردارکیلئےموزوں بناتے ہیں ۔ تاہم،پاکستان کایہ کردارغیراعلانیہ اورخفیہ سفارتکاری کی حدتک محدودرہا۔

حالیہ دنوں ٹرمپ نے بھارت پر25فیصددرآمدی ٹیکس عائدکرکے اوراسے روس وچین سے بڑے عسکری ومعدنیاتی معاہدوں پر تنبیہ دےیکریہ واضح کردیاکہ امریکابھارت کی دورخی پالیسی سے خائف ہے۔ایک طرف بھارت خودکوامریکاکااسٹریٹجک پارٹنر کہتاہے،دوسری جانب روس سے ایس 400 دفاعی نظام خریدتاہے اورچین سے نایاب معدنیات کی درآمدات میں ملوث ہے۔یہ وہی بھارت ہے جوعالمی اسٹیج پرامریکی حلیف بنتاہے مگرمیدانِ عمل میں مشرقی طاقتوں کاخاموش ہمنواہے۔یہ تضاداب امریکاکیلئے ناقابلِ برداشت ہوتاجارہاہے اورٹرمپ کی طرف سے بھارت پر25٪ٹیرف اورمزید
جرمانہ کی خبربھارتی معیشت پربجلی بن کرگری ہے اور مستقبل قریب میں بھارت کواس کاسفارتی خمیازہ بھگتناپڑسکتاہے۔خودانڈیامیں مودی کومنہ چھپانا مشکل ہوگیاہے۔

یہ صرف تاریخ نہیں،یہ ہماری اجتماعی نااہلی اوربے حسی کانوحہ ہے۔اسرائیل محض ایک ریاست نہیں،یہ استعماری ذہنیت کا مظہر،مذہبی منافقت کااستعارہ اورسیاسی بربریت کاجیتاجاگتانمونہ ہے۔اب بھی وقت ہے کہ امتِ مسلمہ فکری غلامی کی زنجیروں کوتوڑکرایک نئے شعورکے ساتھ بیدار ہو،ورنہ تاریخ ایک بارپھراپنے صفحات پرہمارے زوال کے ماتم کورقم کرے گی۔

اے اہلِ ایمان!کیاتم نے قرآن نہیں پڑھا؟کہ اللہ تمہیں دشمنوں کے خلاف بیداری کاحکم دیتاہے؟کیابیت المقدس کی مٹی تمہیں آوازنہیں
دیتی؟وقت آچکاہے کہ ہم خوابِ غفلت سے جاگیں۔یہ تحریرمحض تاریخ کابیان نہیں،ایک اذان ہے—بیداری کی اذان۔وہ اذان جودلوں کوجھنجھوڑدے،وہ اذان جوغلامی کے بت توڑدے،اوروہ اذان جوامت کوپھرسے ایک ملتِ واحدہ میں بدل دے۔ورنہ ہماراانجام بھی ان قوموں جیساہوگاجن کے بارے میں ربّ نے فرمایا:كُلَّمَاأَرَادُواأَن يَخْرُجُوامِنْهَامِنْ غَمٍّ أُعِيدُوافِيهَاوَذُوقُواعَذَابَ الْحَرِيقِ۔(الحج:22)
جب کبھی وہ گھبراکرجہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھراُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھّواب جلنے کی سزاکامزہ۔؏

اعلانِ بالفوروہ قلمی خنجرتھاجس سے فلسطین کی روح کوچیردیاگیا۔یہ اعلان محض سامراجی ہمدردی نہیں،بلکہ ایک ایساتاریخی شرمناک سوداتھاجوایک قوم کی سرزمین کودوسری قوم کی بے وطنی کاتاوان بناکرپیش کیاگیا۔اس پرتبصرہ کرتے ہوئے اگرقرآن کی زبان مستعارلی جائے توشایدیہی کافی ہو:
وَإِذَاقِيلَ لَهُمْ لَاتُفْسِدُوافِي الْأَرْضِ قَالُواإِنَّمَانَحْنُ مُصْلِحُونَ۔أَلَاإِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ( البقرہ: 11-12)
جب کبھی ان سے کہاگیاکہ زمین میں فسادبرپانہ کرو،تواُنہوں نے یہی کہاکہ ہم تواصلاح کرنے والے ہیں۔خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعُورنہیں۔

اعلانِ بالفوروہ دستاویزہے جس نے ایک پوری ملت کے زخم کوکاغذپرلکھا،اوراسے مہذب دنیاکافیصلہ قراردیا۔یہ اعلان نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی سرزمین پرغاصبانہ قبضے کی بنیادبنا،بلکہ یہ مسلم دنیاکے سیاسی زوال،تہذیبی انحطاط اورعالمی استبداد کی علامت بھی ہے۔آج ایک صدی گزرنے کے باوجوداس اعلان کی بازگشت نہ صرف غزہ کے ملبے میں سنائی دیتی ہے،بلکہ القدس کی فضامیں بھی اس کے سائے محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

اگرعالمی انصاف کوواقعی زندہ رکھناہے تواعلانِ بالفورکوایک تاریخی غلطی کے طورپرتسلیم کرناہوگا،اور اس کے مضمرات سے امتِ مسلمہ کوبیدارہو کرنکلناہوگا،ورنہ وہی تاریخ دوبارہ دہرائی جائے گی جوآج بھی ہمارے زخموں میں گونجتی ہے۔
مَن أَعَانَ عَلَى قَتْلِ مُسْلِمٍ بِشَطْرِكَلِمَةٍ، لَقِيَ اللهَ مَكْتُوبًا بَيْنَ عَيْنَيْهِ: آيِسٌ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ۔ حدیث نبوی،سنن ابن ماجہ:2620
جوکسی مسلمان کے قتل پرزبان یااشارے سے بھی مددکرے،قیامت کے دن اس کی پیشانی پرلکھاہوگاکہ یہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں