Strategy, Philosophy of War and Peace

حکمتِ عملی،جنگ اورامن کافلسفہ

دنیاکے حالات جب کجی اورپیچ وخم اختیارکریں توتاریخ کاقلم بھی سکوت میں تیرچھوڑنے لگتاہے۔یہاں ہم ایک ایسے عہدکا تذکرہ کررہے ہیں جس میں جنگ کاچہرہ بدل چکا—یہ عہدوہ ہے جس میں جنگ کے گیت توپوں اورتلواروں سے نہیں،بلکہ برقی لہروں اورخودکارپرندوں سے گائے جارہے ہیں۔ زمین پرسپاہی اب بھی ہیں،مگرفضاپرحکومت اڑتے لوہے کے پروں اورخاموش قاتلوں کی ہے۔فوجی محاذپرانسان کم اورمشینیں بیشتربولتی ہیں؛ڈرونز،کروز میزائل،اورخودکارہتھیارمیدانِ جنگ کے نئے«قلم»بن چکے ہیں۔

اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے ایک ایسے رازکوخودآشکارکیاجس پرپہلے صرف قیاس کے چرچے تھے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف جھڑپوں میں اسرائیلی ساختہ ہتھیاراستعمال کیے۔حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی حکومت نے باضابطہ منظوری کااعتراف کیاکہ بھارتی آپریشن سندورکے دوران بھارت نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ جن میں باراک-8میزائل اور بعض لُوٹرنگ مونیوشنز/ہاروپ ڈرونزخُصوصی طورپراستعمال ہوئے۔یہ صرف اسلحے کی فراہمی کامعاملہ نہیں،بلکہ ایک تزویراتی اشارہ تھا—کہ بھارت اور اسرائیل عسکری سطح پرایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ایک کے دشمن کے خلاف دوسرے کااسلحہ براہِ راست استعمال ہو۔ یہ اعتراف صرف فنی اطلاع نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دفاعی ربط کی گواہی ہے جس نے روایتی تصورِ دشمنی کوتبدیل کیا—جب ایک تیسرافریق،دوسرے کے ساتھ براہِ راست دفاعی تعاون میں نظرآئے۔ پاکستان کیلئےیہ دوہراچیلنج تھا۔ایک جانب روایتی دشمن بھارت،دوسری طرف اسرائیلی ٹیکنالوجی کاسامنا۔اس حقیقت نے خطے کی تزویراتی حرکیات کوبدل دیااورپاکستان کے دفاعی منصوبہ سازوں کوفوری ردعمل پرمجبورکیا۔پاکستان نے اپنی بہترین صلاحیتوں اورمنصوبہ بندی سے ایک محاذ پردومکاردشمنوں کامقابلہ کیااوربالآخرجب شکست دشمن کامقدربنی توانہوں نے امدادکیلئے اپنے باپ ٹرمپ کے سامنے دہائی دیکرجان بچانے کی درخواست پرسیز فائر کامیڈل اپنے سینے پرسجاکراب امن کے نوبل انعام کیلئے بڑے پرامیدہیں۔

اسرائیل کایہ اعتراف بتاتاہے کہ عسکری سلسلے جغرافیائی سرحدوں سے ماوراٰہیں؛سازوسامان،تجربات اورجنگی ٹیکنالوجی بھی تبادلے کی اشیابن گئی ہیں۔ اس نے اُس قدیم مفروضے کو جھٹکا دیاکہ دوملکوں کی جنگ میں ثالث غیرجانبدارہی رہتاہے—آج جدید اسلحہ ساز کے ساتھ مباشرت روشنی ڈالتی ہے کہ جنگی حُرمتِ کےروایتی دائرے بدل چکے ہیں۔

بھارتی فوج نے اپنی دستاب صلاحیتوں کومنظم کرنے کیلئےنئے ڈرون/یواے وی دستوں کااجراتیزکردیاہے؛سوال یہ ہے کہ بھارتی فوج کی نئی”ڈرون بٹالین”—برتری کاخواب ہے یا عارضی فائدہ؟او”یواے ویز”ایسابغیرپائلٹ کے ہوائی جنگی ہتھیارہے جن میں جہازکاعملہ یامسافرنہیں ہوتے ہیں۔وہ خودکار”ڈرون”یادورسے چلنے والی گاڑیاں ہوتی ہیں۔رفتاراوراونچائی کی ایک کنٹرول شدہ سطح پرطویل عرصے تک پروازکرسکتے ہیں اوربہت سے پہلوؤں میں اس کاکردارہے۔

اصطلاحاً”ڈرون بٹالین”کوایک مستقل جنگی یونٹ کے طورپرترتیب دیاجارہاہے،جس میں محسوس،حملہ آورخودکش ڈرونزکواکٹھا کرکے مربوط آپریشنل اہداف دیے جاتے ہیں۔بھارتی فوج میں “ڈرون بٹالین”کے نام سے اس شعبہ کامقصدڈرونزکوصرف نگرانی کے آلات کے طورپرنہیں،بلکہ براہِ راست حملہ آوریونٹس کے طورپراستعمال کرناہے۔یہ بٹالین جدیدسینسرز، لائیوڈیٹالنکس ، اور ہتھیاربردارخودکش ڈرونزسے لیس ہوگی،جوکمانڈ سینٹر سے براہِ راست کنٹرول میں رہیں گی۔اس تبدیلی کاخدوخال یہ ہے کہ ہر بٹالین میں تیزکمانڈ،”انٹیلیجنس،نگرانی،توثیق”اورہتھیاربردارڈرونزکا
مجموعہ ہوگا،جس سے جنگی فیصلے کم وقت میں اورکم انسانی مداخلت سے لیے جاسکیں گے۔

فوجی ماہرین کے مطابق یہ بٹالین مختصرمدت میں برتری پیداکرسکتی ہے،خاص طورپراگرمخالف کے پاس ان ڈرونزکی تباہی یا روکنے کامؤثرنظام نہ ہو۔ تاہم،ڈرون جنگیں محض مشینوں کی نہیں،الیکٹرانک ذہانت اورریئل ٹائم ڈیٹاکی بھی ہوتی ہیں—جہاں پاکستان نے پہلے ہی اپنی صلاحیت کوبہتربنانا شروع کردیاہے اورمصدقہ ذرائع کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکوکامیابی سے نیچے اتارکرپاکستان نے اس ٹیکنالوجی میں پہلے ہی اپنی مہارت کالوہامنوالیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ انڈیاکااس نئی ڈرونزکی یونٹ کی تیاری کیااسے عسکری میدان میں برتری دلاسکے گی؟

فنی طورپر،ڈرون بٹالین ایک وقتی برتری دے سکتی ہے—خصوصاًجب دشمن دفاعی بندوبست غیرلپٹنے یاناکافی الیکٹرانک وارفیئررکھتاہو۔مگرحقیقی برتری تعداد،تربیت،کمانڈوکنٹرول نیٹ ورک،اوردشمن کی وِگِلنس(راڈار،ای ڈبلیو،سیٹوآئی ٹوایس آر”پر منحصرہے۔ یہ تمام ٹولزفوجی کارروائیوں کے اندر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تصورات ہیں،خاص طورپرانٹیلی جنس، نگرانی،اورجاسوسی “آئی ایس آر”سے متعلق۔ریڈار(ریڈیوڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ)ایک ایسانظام ہے جواشیاءکاپتہ لگانے اوران کی حد،زاویہ یارفتارکاتعین کرنے کیلئےریڈیولہروں کااستعمال کرتا ہے۔الیکٹرانک وارفیئر”ای ڈبلیو ” برقی مقناطیسی سپیکٹرم کوکنٹرول کرنے کیلئےبرقی مقناطیسی اورہدایت شدہ توانائی کااستعمال ہے،جس میں دشمن کے نظام کاپتہ لگانا،تجزیہ کرنااوران میں خلل ڈالنا،نیزدوستانہ نظاموں کی حفاظت کرناشامل ہے۔

سی سی ٹوآئی ایس آر(کمانڈ،کنٹرول،کمیونیکیشنز،کمپیوٹرز،انٹیلی جنس،نگرانی،اورجاسوسی)ایک وسیع نظام ہے جوکمانڈروں کو مؤثرفیصلہ سازی کیلئے ضروری معلومات اورکنٹرول فراہم کرنے کیلئے ان صلاحیتوں کومربوط کرتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ڈرون-بنیادجنگ میں سائلو(تنہا)ڈرونزشاندارنہیں رہتے؛انہیں جالِ شناسائی،دفاعی کوریج،اورباریک بین ہدفِ شناسی درکارہوتی ہے۔ اگرپاکستان نے سخت الیکٹرانک مداخلت اورمؤثرشورٹ رینج ایئربس ڈیفنس استعمال کیاتوڈرون بٹالین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔

بھارت نے اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کرنئی جنگی حکمت عملی یہ تیارکی ہے کہ ڈرونزبٹالین کونگرانی،ہدفی نشانہ گیری، باریک حملے اوردشمن کے کمانڈ وکنٹرول کوخلل زدہ کرنے کیلئےاستعمال کیاجائے اوربِلاواسطہ نشانے جیسے رڈار،میزائل سائٹس اورفوجی بیسزپرہاروپ ڈرونزسے خودکش حملے کے ذریعے پاکستان پروارکیاجائے۔الیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری ڈرونزکی کمانڈ لنک اورنیویگیشن کومتاثرکرنے کیلئےجیمِنگ،جی پی ایساسپووفنگ اور ریڈیو فریکوئنسی مداخلت شارٹ رینج اینٹی یواے وی شیلڈزٗ،کاؤنٹر ڈرون سسٹمزجیسے سپائڈراینٹی یواے وی شیلڈنگ اور کینیٹک انٹرسیپشن مڈ-رینج اورلورینج ایئربس دفاع کی ریفارمنگ،تیزی سے موبائل لانچرزکوحرکت میں لایاجایاگا۔

لیکن پاکستان اس تمام دشمن کاروائیوں پرکڑی نگاہ رکھنے کیلئے جوابی کاروائیوں کی مکمل تیاریوں میں خودکفیل ہے۔اس سلسلےمیں بھارتی ڈرون بٹالین کے افعال اورپاک افواج کی جوابی تیاریاں بھی عروج پرہیں گویاآئندہ جنگ میں پہلی مرتبہ امینی جنگ کی بجائے فضائی حدودمیں کامیابی اورناکامی کے فیصلے ہوں گے۔اس سلسلے میں متوقع ڈرونزجنگ میں پاکستان نے اپنے اس اہم فرائض کی تکمیل کیلئے بھارتی ڈرونزبٹالین کی تمام خفیہ اوراعلانیہ تیاریوں پرکڑی نگاہ رکھتے ہوئے دشمن کے حساس مراکز کی نگرانی،وقت آنے پرمخصوص اہداف پرپیشگی دفاع کے نقطہ نظرسے اپنے حق کے پہلے استعمال کااعلان کرتے ہوئے انڈیا کے مشرقی علاقوں کومنتخب کرنے کاعالمی میڈیامیں اعلان کردیاہے جس میں فوری اقدام کے طورپردشمن کے ریڈار اورکمانڈ سسٹم کوناکارہ بنانااولین ترجیح ہوگی۔

پاکستان نے اس کے مقابل تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے۔الیکٹرانک وارفیئر،ریڈیوفریکونسی جیمنگ اوراسپووفنگ کے ذریعے دشمن کے ڈرون کو “اندھا” کردینے،کاؤنٹرڈرون سسٹم جس میں چھوٹے فاصلے کے اینٹی ڈرون ہتھیار،جوفضامیں ڈرون کومار گرائیں اورملٹی لیئرایئرڈیفنس حملے،درمیانے اورکم فاصلے کی دفاعی پرتیں،جوڈرون یامیزائل کوقریب آنے سے پہلے تباہ کردیں کی کاروائیوں پر فوری عملدرآمدکیاجائے گا۔

بھارت کے پاس ہے”ہیروں”نامی ڈرون ہے جولمبے فاصلے تک اُڑکردشمن کی زمین کاچپکے سے جائزہ لیتاہے،بالکل ایسے جیسے کوئی گدھ آسمان سے شکار پرنظررکھے۔یہ یاتوباہرسے منگوایا گیاہے یاباہروالوں کی اجازت سے بنایاگیاہے۔پھرآتاہے ہاروپ،یہ ڈرون کوئی عام جاسوس نہیں،بلکہ خود کش، جو ریڈارسگنل پرنشانہ باندھتے ہیں پہلے ہدف ڈھونڈتاہے،پھرسیدھاجاکراس سے ٹکراکرپھٹ جاتاہے۔ایک اورایم کیو9ریپرڈرون،جوگھنٹوں نہیں بلکہ پورادن آسمان میں رہ سکتاہے۔یہ نگرانی بھی کرتاہے اور ضرورت پڑے تونہایت درست نشانہ لگاکرحملہ بھی کرتا ہے۔اس کے علاوہ بھارت چھوٹےچھوٹے ڈرونزکاجھنڈبھی تیارکررہاہے،جوایک ساتھ آسمان میں اُڑکردشمن کوگھیرلیتے ہیں،جیسے چڑیاکاغول کھیت پراُترتا ہے۔ان میں سے کئی ڈرون اب اسرائیل کی مددسے بھارت میں ہی بن رہے ہیں،اورکچھ توسیدھے سیدھے کام کازی یعنی خودکش اندازوالے ہیں۔

پاکستان کے پاس اپنابنایاہوابراق ڈرون ہے جومیزائل ساتھ لے کرچلتاہے اورجہاں حکم ہو،وہاں سیدھانشانہ لگاتاہے۔اس کے بعدہیں شاہپر-2اورشاہپر-3،یہ درمیانی فاصلے تک اُڑکردشمن پرنظررکھتے ہیں اوراگرضرورت ہوتوہتھیاربھی چھوڑسکتے ہیں۔”یواے وی”کاؤنٹرڈرون یونٹس، جودشمن کوفضامیں تباہ کرنے کیلئےبنائے گئے ہیں۔یہ سب ڈرونزہمارے اپنے ادارے”جی آئی ڈی ایس” اوردوسرے دفاعی مراکزمیں تیارہوتے ہیں،یوں کہیے کہ یہ ہماری اپنی فضاکے بازہیں،جودشمن کونہ صرف آنکھ دکھاسکتے ہیں بلکہ آنکھیں پھوڑدینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہاروپ ایک ایساخودکارہتھیارہے جوبظاہر”یواے وی”کی طرح ہوتاہے اوراس کوخاموش قاتل کانام بھی دیاگیاہے۔یہ ہدف کے اوپر گھنٹوں پرواز کرسکتاہے،اورجب مطلوبہ نشانہ سامنے آئے توسیدھاٹکراجاتاہے۔اس کی نشاندہی مشکل اس لیے ہے کہ اس کاسائز چھوٹااوررڈارپرکم ظاہر ہوتاہے ۔ یہ زمین کے قریب اورسست رفتاری سے پروازکرتاہے،جس سے رڈارکودھوکہ دیتاہے۔یہ خودکار ہدف شناسی الگورتھم استعمال کرتاہے، جس سے انسانی مداخلت کم ہوجاتی ہے۔

پاکستان نے حالیہ جنگ میں کئی ہاروپ ڈرونزکونہ صرف تباہ کیابلکہ کچھ کو بحفاظت زمین پراتارکران کاسافٹ ویئراورسینسر ٹیکنالوجی کاتجزیہ کیا۔اگرچہ تباہی کے نشانات اورملبہ ملیامیٹ ہوجاتا ہے،مگرچندبحفاظت اتارے جانے والے ڈرونزکی بحالی اور تکنیکی تحقیق کے حوالے سے اہم ہیں—کیونکہ اُن سے سافٹ ویئر،نیویگیشن اورسنسر ٹیکنالوجی کی نقالی ممکن ہے۔حقائق کی تفتیشی رپورٹوں اورفوجی بیانات نے اس دعوے کوتقویت بخشی ہے،مگر پاکستان کے عسکری ادارے کے علاوہ آزادتحقیقات اور تصاویرکی بنیادپرتجزیہ جاری کیاگیاہے کہ پاکستان نے نہ صرف کامیابی سے69سے زائدہاروپ اوردیگرڈرونزکوتباہ کیااوران کے ملبے کاعالمی میڈیاکوموقع پرجاکردکھانااس کامضبوط ثبوت ہے اورکچھ کوبحفاظت زمین پراتارکران کاسافٹ ویئراور سینسر ٹیکنالوجی کا تجزیہ کرکے اس کی تباہی کافارمولہ تیارکرنے کے پاکستانی دعوے نے اسرائیل اوربھارت کیلئے کئی مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ اسرائیل کادعویٰ تھاکہ امریکاکاجدید ترین نظام بھی ہاروپ ڈرونزکی نشاندہی کرنے سے قاصرہے۔

حال ہی میں آئی ایس پی آرکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلومبرگ کوانٹرویومیں واضح طورپریہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے جنگی اہداف کیاہوں گے اورپاکستان اپنے پیشگی دفاع کے حق کواستعمال میں پہل کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔فوجی بیانات میں ایک واضح اشارہ دیاگیاکہ کسی بڑے حملے کی صورت میں پاکستان اپنی دفاعی اورجوابی صلاحیت کو مشرقی بھارت تک پھیلائے گا۔یہ بیان دورخ رکھتاہے،ایک طرف یہ ڈٹرنس یعنی روک تھام کاپیغام ہے، دوسری طرف دشمن کے اندراضطراب پیداکرنے کی حکمت عملی۔

یادرہے کہ صحافتی رپورٹس اورفوجی بیانات میں کبھی کبھارایسی دھمکیوں یااشاروں کاذکرملتاہے جوجنگی مفاہمت یاجوابی طاقت کی اطلاع دیتے ہیں۔ اگر پاکستان نے”مشرقی بھارت کونشانہ بنانے”کاعلانیہ اشارہ دیاہے تواسے دوسیاق میں سمجھاجاناچاہیے:
٭(ا)جوابی تلافی کابطورِڈٹرنس اظہار؛
٭(ب)سیاسی پیغام—دشمن کے اندرخوف اوربیرونی دنیاکوخبردارکرنے کاسیاسی آلہ۔عملی طورپر،بین الاقوامی قوانین،علاقائی پیچیدگیاں اور جوہری رُکاؤٹ ایسے فیصلوں کومحدودکرتے ہیں۔البتہ عسکری طورپرپاکستان کی جانب سے مشرقی علاقے پردھیان دینے کامطلب یہ ہوسکتاہے کہ وہ اپنی رینج-آبجیکٹیوز،فضائی اورراکٹ صلاحیتوں کواس لحاظ سے پُرکرے گاکہ اگرضرورت پڑی توجوابی ضرب توجہ کے ساتھ دی جاسکے۔(یہ مرحلہ زبانی بیانات،اسٹریٹجک بریفزاوردفاعی مطالعوں پرمنحصر نہیں ہے بلکہ پاکستان اس سلسلے میں جدیدسہولیات کے ساتھ مکمل تیاری کرچکاہے۔)

اب آئیے ہم امریکی اپاچی ہیلی کاپٹرجوانڈیااوراسرائیل کے زیراستعمال ہیں اورچینی ہیلی کاپٹر”زیڈ-10ایم ای”کاایک فنی وعملی موازنہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ جنگی اسلحے کی طاقت اورکارکردگی کاادراک ہوسکے۔

چینی ہیلی کاپٹر”زیڈ-10ایم ای”کاانجن طاقتورہے اورگرم موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتاہے۔اس میں ٹینک تباہ کرنے والے میزائل،درمیانے سائزکی توپ،اورراکٹ لگے ہوتے ہیں۔اس میں جدیدریڈار،سینسراورمضبوط بکترموجودہیں جوحفاظت بڑھاتے ہیں۔ یہ نہ صرف نسبتاًسستاہے،اس کی مرمت آسان ہے،اورپاکستان کی ضرورت کے مطابق بنایاگیاہے بلکہ اس کی تیاری میں پاکستانی انجینئرزکابھی خاصاعمل دخل ہےجبکہ اپاچی ہیلی کاپٹر(امریکا)کاانجن ہرطرح کے موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتاہے۔اس میں جدیدمیزائل،بڑی توپ اورراکٹ سسٹم نصب ہیں۔اس میں اعلیٰ درجے کاریڈاراورالیکٹرانک دفاعی نظام ہے۔یہ مہنگاہے،لیکن کئی سالوں سے آزمودہ اورقابلِ بھروسا ہے۔پاکستان کیلئے چینی ہیلی کاپٹر”زیڈ-10ایم ای”ایک عملی انتخاب کاکامیاب نتیجہ ہے—وہ مقامی میدانِ کاروائی،لاجسٹک قابلیت اورروس/امریکاتک رسائی کی پابندیوں کومدِنظررکھتے ہوئے موزوں حل فراہم کرتاہے۔مگرحقیقی فتح پائلٹس، نیٹ ورک،اورہار مونی میں ہے نہ کہ محض ہوائی گاڑی کی تکنیکی تفصیل میں۔

پاکستانی دفاعی حکمت عملی میں چینی ہیلی کاپٹر”زیڈ-10ایم ای” کا انتخاب چندعملی محرکات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔مغربی(خاص کر امریکی)ہتھیاروں تک محدودرسائی،چین کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعلق،لاگت اورمرمت میں آسانی،اوراسٹرائیک/باہمی دفاعی تقاضوں کیلئےمناسب کارکردگی،اور متعدد رپورٹس کے مطابق”زیڈ-10ایم ای”کو پاکستانی ضرورت کے مطابق موافق بنایاگیاہے—سینسرٹیوننگ،ریڈیئٹر/انجن اپگریڈاورساحلی/ صحرائی آپریشن کیلئےفلٹرنگ سسٹمزشامل کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے میدان اوربجٹ کیلئےزیادہ موزوں چینی ہیلی کاپٹر”زیڈ-10ایم ای”ہے،جبکہ اپاچی جدید ٹیکنالوجی اورجنگی تجربے میں آگے ہے۔موجودہ حالات میں چین کاہیلی کاپٹرپاکستان کیلئے بہترانتخاب سمجھاجارہاہے۔تاہم گزشتہ پاک بھارت جنگ میں انڈیا نے فرانسیسی طیارے رافیل کی موجودگی میں خطے میں اپنی برتری کے بڑے نعرے لگائے تھے لیکن وقت آنے پرانڈیا کے تکبر کوپاش پاش ہوتے ہوئے ساری دنیانے دیکھاکہ پاکستانی شاہینوں نے اپنے ہی علاقے سے ان کے نہ صرف پر خچے اڑادیئے بلکہ درجن سے زائد طیاروں کوتکنیکی طورپر”لاک” کرکے اپنی مہارت کاایساپیغام چھوڑاجس نے ساری دنیاکے دفاعی تجزیہ نگاروں کوبھی مبہوت کردیا اوربالآخررافیل کمپنی کے سربراہ کوعالمی میڈیاکے سامنے نہ صرف اپنے طیاروں کی تباہی کو تسلیم کرناپڑا بلکہ اس نے یہ کہہ کرمودی سرکارکامنہ بھی کالاکردیاکہ ہم نے طیارےفروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں۔

تکنیکی موازنہ صرف تیزرفتاراعدادوشمارنہیں؛یہ نظریے اورسیاسی بنیادیں بھی ہیں۔مغربی ٹیکنالوجی(امریکا،یورپ)روایتی طور پراعلیٰ فِیڈِلِٹی،طویل تجربہ اورجامع سپلائی چین دیتی ہے۔چینی ٹیکنالوجی نے پچھلے ایک دہائی میں تیزی سے ترقی کی—قیمت میں کم، مقامی طورپرموافق اورتیزی سے اپگریڈ پذیر۔نتیجتاًمغرب کی ٹیکنالوجی اکثرزیادہ پیچیدہ،آزمودہ اورمستقل ہوتی ہے؛چینی میدانِ جنگ میں فرق ٹیکنالوجی رفتہ رفتہ کئی میدانوں میں مقابلہ کررہی ہے،خصوصاًجب قیمت اورلوکلائزیشن کاسوال ہو۔ علاوہ ازیں امریکااورمغرب سے اسلحہ کی خریداری کے وقت سیاستی اثرات کے ساتھ ساتھ سیاسی خود مختاری کاایک راستہ مجروح ہونے کااندیشہ قائم رہتاہے جس سے ملکی استحکام کے فیصلوں پربھی زدپڑنے کاخدشہ بدرجہ اتم موجودرہتاہے لیکن چین کے ساتھ ایساکوئی معاملہ نہیں۔اس لئے مغربی ٹیکنالوجی طویل آزمائش اوراعلیٰ معیارتوضروررکھتی ہے،مگرمہنگی ہے۔چینی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے،نسبتاًسستی ہے،اورگاہک کیلئےکسٹمائزیشن میں لچکدار۔پاکستان کیلئےچینی ماڈلزسیاسی و مالی دونوں پہلوؤں سے قابلِ قبول ہیں اورترسیل کیلئے پڑوسی ملک ہمیشہ ایک بہترین انتخاب ہوتاہے۔

ٹرمپ کی پالیسیوں اوراقتصادی اقدامات نے بھارت کومتبادل اتحادیوں کی تلاش پرمائل کیا۔چین کے ساتھ تجارتی ودفاعی روابط اور روس سے توانائی واسلحہ خریداری کے امکانات بڑھ گئے۔امریکاکاردعمل غالباًدباؤاورمذاکرات کاامتزاج ہوگا،مگربھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقراررکھنے کی کوشش کرے گا۔

حالیہ سفارتی واقتصادی پیچیدگیاں—جن میں ٹرمپ کی طرف سے بھارت کے خلاف عائدتعرفی اقدامات(ٹیرِفس/پابندیاں)شامل ہیں —نے نئی کشیدگی پیداکی ہے۔اس طرح کی اقتصادی دباؤپالیسیاں دہلی کودوسری طاقتوں(چین،روس)کے قریب لے جانے کا محرک بن گئی ہیں،خاص کرجب انڈیاتوانائی(روسی تیل)،دفاعی سازوسامان،اورتجارتی مواقع کی تلاش میں بھی ہے۔تجزیہ کاروں کاعمومی خیال ہے کہ ٹرمپ کے غیرمتوقع تجارتی فیصلے بھارت-امریکاتعلقات میں کشیدگی کے فوری بعدمودی نے پینترہ بدلتے ہوئے روس اورچین کی بلائیں لینی شروع کردی ہیں اورامریکی اسلحے کے متوقع خریداری کے سودے کوبھی مؤخرکرنے کا عندیہ دے دیاہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیاان موجودہ تناظرمیں روس اورچین بھارت پرمکمل اعتبار کرنے کیلئے تیارہوں گے؟کیا روس دوبارہ قریب آسکتاہے؟

روسی-ہندوستانی تعلقات تاریخی ہیں،خصوصاًدفاع اورتوانائی کے شعبے میں۔روس،جوبھارتی ہتھیاروں اورایندھن کابڑاذریعہ ہے، تیزی سے دوبارہ اعتمادحاصل کرسکتاہے—بشرطیکہ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات میل کھائیں۔البتہ بھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقراررکھنے کاخواہشمند رہے گاتاکہ مزیدامریکی ردعمل کامقابلہ کرسکے؛وہ امریکاکو اب بھی یقین دلانے کیلئے درپردہ کوششیں کررہاہے کہ حالیہ جھکاؤممکنہ طورپرمختصر مدت تک ہوسکتاہے۔

لیکن امریکاکے ممکنہ ردعمل کی دوراہیں ممکن ہیں(الف)مزید اقتصادی/فوجی دباؤ،(ب)سفارتِ بازاری اورقریبی مذاکرات کی کوشش۔ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ پالیسیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ واشنگٹن دباؤکے ذریعے پالیسیاں بدلواناچاہتاہے،مگر اس کے خلاف عالمی پالیسی اورکثیر الاطراف مفادات بھی کام کریں گے۔نتیجتاً،بھارت کوایک معتدل، مگر پریشان کن غیریقینی میدان مِلے گاجس میں وہ اپنے عزمِ خودمختاری کو برقرار رکھنے کیلئے یاوقتی طورپرمتبادل اتحادی تلاش کرے گا۔

اس پورے مضمون کامقصدمحض خبریں جمع کرنانہیں بلکہ ہرعسکری خبرکے پیچھے تہذیبی، فکری اورسیاسی معنی بھی ہیں۔ میں نے الفاظ کوایسی تہذیب سے آراستہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ صرف معلومات نہ دیں بلکہ وہ دل وضمیرکوجھنجھوڑبھی دیں؛مضمون میں شکوہ آمیزسادگی اورتاریخی تناظرکامزاج بھی شامل کیاگیاہے—تاکہ قاری کومعلوم ہوکہ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی محاذآرائی نہیں بلکہ تصورات کی ایسی کشمکش ہے جوخودمختاری،تزویراتی اعتماد،اوراخلاقی حدودکے سوالات کاپھندہ تھامے اپنے شکار کی تلاش میں ہے۔

آخرمیں مختصر سفارشات برائے پالیسی و دفاعِ پاکستان کوالیکٹرانک وارفیئر،”کاؤنٹر یواے ای” ٹیکنالوجی میں تیز سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔علاقائی امن کی بحالی کیلئےثالثی اوربین الاقوامی میکانزم کوفعال رکھنالازم ہے؛عسکری جوابات کوسیاسی راہوں کی نسبت آخری قدم بناناچاہیے۔دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری اوراورریورس انجینئرنگ کے ذریعے خودانحصاری کوفروغ دیا جائے،تاکہ بیرونی بندشیں ملکی دفاعی صلاحیت کوفوری طورپرمتاثرنہ کریں۔ اس کے ساتھ یہ ضرورذہن نشین رہناچاہئے کہ امریکاکی دوستی کوہم سے بہترکوئی نہیں جانتا،تیل کی تلاش میں بلوچستان میں تعاون کی پیشکش پرایک مرتبہ نہیں،سوبارسوچنا لازم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں