The dream of the homeland has passed

خاکِ وطن کاخوابِ رفتہ

جب تقدیرِاُمم کاقلم لوحِ ازل پرتھرتھراتاہے تووقت کی صراحی سے ایسے لمحے ٹپکتے ہیں جن میں قوموں کی حیاتِ نوکے دیے روشن ہوتے ہیں۔14اگست بھی ایک ایساہی روح پرور، تاریخ سازلمحہ ہے جس نے برِصغیرکے مظلوم مسلمانوں کومحکومی کی زنجیروں سے نکال کرآزادی کی نکہت بھری فضامیں سانس لینے کااختیاربخشا۔یہ دن صرف ایک تاریخ کا نہیں، یہ اذانِ بلال، شمشیرِ خالد، عدلِ عمر،حکمتِ علی اورعلمِ حسن کاتجدیدی مظہرہے۔یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے مٹی کانہیں،لاإله إلاالله کاسوداکیاتھا۔یہ وطن ریگزاروں میں بہتے سرخ لہوکی داستان ہے،یہ خاک وہ مقدس امانت ہے جسے کلمہ گوشہیدوں نے اپنے خون سے سینچا۔
یہ توزمانہ کے نشیب وفرازہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ آلِ عمران 140

اگرآج پاکستان نہ ہوتا،توشایددہلی،لکھنؤ،بنارس اورحیدرآبادکے گلی کوچوں میں مسلمانوں کامقدرماضی کے مزاروں سے زیادہ نہ ہوتا۔ ہم مسجدکے میناروں سے اللہ اکبرکی صدابلندکرنے کیلئےبھی اجازت کے طلبگارہوتے،اورحجاب واذان محض کتابوں کے قصے بن جاتے۔یہ یومِ آزادی اس نظریے کی فتح کادن ہے جس کے معماروں نے دنیاکوبتایاکہ قومیں رنگ،نسل یاخطے کی بنیاد پرنہیں،عقیدے اورایمان کی بنیادپربنتی ہیں۔دوقومی نظریہ اگرنہ ہوتاتوآج نہ تومدینے کی محبت میں سرشارنوجوان ہوتے،نہ کشمیرکی آزادی کے نعرے۔

سواے اہلِ وطن!آج کے دن یادرکھوکہ یہ آزادی ہمیں طشت میں رکھ کرپیش نہیں کی گئی،یہ قربانیوں کے سمندرسے نکلاہواوہ گوہر ہے جس پرہمارے اسلاف کی سسکیاں،ماؤں کی دعائیں، اور شہیدوں کالہوثبت ہے۔یہ دن تجدیدِعہدکاہے،یہ دن ہے اپنی مٹی،اپنی ملت، اپنی تہذیب،اپنی دین ودانش اوراپنے نصب العین سے وفاکادن۔

اوراس شخص سے بات کااچھاکون ہوسکتاہے جوخداکی طرف بلائے اورعمل نیک کرے اورکہے کہ میں مسلمان ہوں۔فصٰلت:33
قرآن مجید کی یہ آیت یومِ آزادی کے مہینے اگست کیلئے فکری اورمعنوی روشنی کی مانندہے۔اگست کامہینہ آزادی کاجشن مناتے ہوئے ہمیں تاریخی لمحے پرغورکرناچاہیے اگر پاکستان نہ بنتا، تو کیاہوتی مسلمانوں کی صورتِ حال؟یہ سلسلہ فکرہمیں دوقومی نظریہ کے منطقی اورتہذیبی اثبات تک لے جاتاہے، اوراسی کوموضوع بناتے ہوئے آئندہ نُکات کی روشنی میں ہرپہلو کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ مبارک دن یومِ آزادی پاکستان کامہینہ اگست،مسلمان خطہءِہندمیں ایک نئے فکری استقلال کی نویدلیکرآیا۔اگربرصغیرمیں پاکستان نہ بنتاتواس وقت کے ہندوستانی مسلمانوں کی حیثیت کیاہوتی؟آزادی کی مبارک شمع نہ ہوتی توشایدان کی معاشرتی،سیاسی اورتہذیبی زندگی ایک انہونی دھندمیں گم رہتی۔

وقت نے دوقومی نظریہ کوواضح کردیاکہ ہندواورمسلمان دومختلف تہذیب،تاریخ اورمذہبی بیک گراونڈکے حامل ہیں۔اگرآزادی نہ ملتی، توموجودہ مسلم اکثریت شاہِ ہندکے زیرِتسلط ایک سیاسی اقلیت میں تبدیل ہوتی۔دوقومی نظریہ نے ثابت کیاکہ مسلمانوں کی الگ تہذیب، شناخت اورسیاسی خودمختاری کے بغیرایک باوقارمعاشرہ قائم نہیں ہوسکتا۔ایسے میں مسلمانوں کی زندگی روزبروزایک بارودبھرے فوجی،مذہبی اورثقافتی دباؤکاشکاررہتی۔انسانی حقوق، آزاد تقریراورمذہبی اظہارمحدودہوکرمرجعیت کاخطرہ لاحق ہوتی۔یعنی آزادی نہ ہوتی تومسلمانوں کی تاریخی کشادگی اورسیاسی اہمیت بجائے سکڑنے کے،زوال پذیرہوتی۔

اگرپاکستان نہ ہوتاتوہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیبی اورمذہبی تشخص خطرے میں رہتا،وہ سیاسی اقلیت کی شکل پاگئے ہوتے جس پر اکثراوقات ناقابل برداشت دباؤہوتا۔معاشرتی زندگی میں ہندواکثریت کی سیاسی غلبہ کی وجہ سے مذہبی آزادی محدودرہتی۔حقوقِ انسانی میں تعصب،تشکیلِ حکومت اور دستور سازی میں عدم شمولیت کے باعث مسلمان سماجی تنزلی کاشکارہوتے۔ہرلمحے ان کے عقائد و ادب کی خودمختاری خطرے میں رہتی،سیاسی خودداری نہ ملتی توتدریجی بغاوت یااندرونی خلفشارجنم لے سکتاتھا۔یہی وجہ ہے کہ برصغیرمیں الگ وطن کی تشکیل ایک نئی تہذیبی شدت اورسیاسی بسیطی نتیجہ تھی،نہ صرف جغرافیائی بلکہ فکری آزادی کاآئینہ دار۔

مئی2025میں مودودی رنگِ فکرکی مانندبرصغیرمیں معرکہ حق کامنظرآیا۔پاکستان اوربھارت کے بیچ شدیدعسکری تصادم ہوا،جس کے دوران بھارت نے آپریشن سندورکے تحت پاکستان میں میزائل اورڈرون حملے کیے،جس سے پاکستان کی بھرپورجوابی کارروائی سامنے آئی۔پاکستانی شاہینوں نے اپنے تیارکردہ جے تھنڈر17اورچینی ساخت جے10طیارے استعمال کرتے ہوئے بھارتی اڈوں اوران کے متعددجہازاڑاکررکھ دیئے۔ پہلی بارفرانسیسی رافیل کے جیتے ہوئے مبینہ تکبرکاپردہ چاک ہوا،اوررافیل کے ساتھ دیگر طیاروں کو خاک چاٹنی پڑی اورہندوستان کے مختلف مقامات پران جہازوں کے بکھرے اورپاش پاش ہونے کی تصاویرساری دنیامیں وائرل ہوگئیں۔ مودی سرکار کوفوری طورپرپاکستانی طاقتِ دفاع کازبردست احساس ہوگیا۔

فوری طورپربھارت اوراسرائیل نے اپنی تباہی کاواویلا کرتے ہوئے امریکابہادرکوسیزفائرکیلئے دہائی دیناشروع کردی جس نےجنگ کے آغازمیں بڑے کھلنڈرانہ اورمزاحیہ اندازکامظاہرہ کیاتھا ۔دراصل اسے یہی پیغام دیاگیاتھا کہ پاکستان کے ساتھ یہ معرکہ صرف چند گھنٹوں میں فتح کے ترانوں کے ساتھ اختتام پذیرہوجائے گااورپاکستان سرخم کرکے تمام احکام کی تعمیل بجالائے گالیکن یہاں صورتِ حال بالکل اس کے برعکس نتائج کے ساتھ جب سامنے آئی توٹرمپ نے درمیان میں کودکرجنگ بندی کے اعلان کاسہرااپنے سرپرسجا لیاجس کاوہ اب تک35مرتبہ ذکرکرچکے ہیں۔مودی حکام نے اپنی ہزیمت اور رسوائی کوچھپانے کیلئے اعلان کیاکہ کسی نے بھی بھارت سے کارروائی روکنے کونہیں کہالیکن ایک باربھی ٹرمپ کے بیان کی نفی کرنے کی ہمت نہیں کر پائے ۔بلا شبہ اب تک گودی میڈیااورمغربی میڈیاکازبانی محاذ آپس میں گتھم گتھاہے،لیکن پاکستان کی قوتِ دفاع کے شاندارمظاہرے سے خطے میں بھارت کی توقیر کو ایساجھنجھوڑاہے کہ عالمی دفاعی ماہرین بھی پاکستان کی کامیابی پرمبہوت ہیں اورانڈیاکاساراغرورتواسی دن خاک میں مل گیاتھا جب فرانسیسی رافیل کمپنی کے سربراہ نے عالمی میڈیاکے سامنے اپنے رافیل طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرتے ہوئے یہ بیان دیاکہ ہم نے طیارے فروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں ۔

مودی کی حکومت نے مدلل اندازمیں اصرارکہ آپریشن جاری ہے اوربھارتی حکومت نے اپنے اندرونی حلقوں میں کمزوری محسوس کی ہے ۔اپوزیشن رہنماؤں نے دھمکی دی کہ اس غیرملکی عسکری اتحاد–خصوصاً چین کے ساتھ ممکنہ خطرہ بڑھ گیاہے،لہٰذاخطے میں ممکنہ عسکری تصادم کے خطرے کم نہیں ہوئے۔اس واقعے کے بعد،سرحدی تنازعات میں جنگ کے خطرات فی الحال مکمل طور پرٹل گئے ہیں یانہیں،یہ واضح نہیں کہاجاسکتا۔دونوں جانب عسکری صورتحال کشیدہ ہے،اورعالمی سطح پربھی امن کی کوششوں کے باوجودمسئلہ مکمل طورپرحل نہیں ہوا۔

پاکستان نے2024-25کے دفاعی بجٹ میں 55۔2 ٹریلین روپے(9بلین ڈالرز)مختص کیے گئے،جو20فیصداضافہ ظاہرکرتاہے۔اس میں چلانے کاخرچ تقریباً₹704ارب(29٪ اضافہ)،ملازمین کے اخراجات₹846ارب،اورپینش ₹742ارب شامل ہیں جبکہ بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں تقریباً5۔9٪ اضافہ کرتے ہوئے اسے قریبا$78.7 بلین قراردیا،جی ڈی پی کاتقریباً9۔1٪بڑھادیاگویاپاکستان سے نوگنا زیادہ بجٹ فوج کیلئے مختص کیالیکن حالیہ پاک بھارت جنگ میں بری طرح رسوائی اورسبکی کے نتائج ساری دنیانے دیکھ لئے۔

پاکستان کابیرونی قرضہ تقریباً$87.4 بلین تک پہنچ چکاہے،جس کی وجہ سے جی ڈی پی کاتقریباً1.9٪حصہ صرف قرض کی قسطوں پراٹھ رہاہے،پاکستان ان قرضوں سے جان چھڑانے کیلئے اقدامات کررہاہے۔ملک کی اقتصادی کاسب سے بڑاقرض دہندہ چین ہے۔پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ7بلین ڈالر پروگرام کے تحت اقتصادی استحکام کے ترقی کے اہداف4.2٪ ہیں،جبکہ2024– 25ءمیں ترقی صرف2.7٪رہی،افراط زر4.7٪پرآنے کا امکان ہے۔باوجودمالی مشکلات کے،احتیاطی طورپر عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کوقدرکی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں اوران کا رویہ بھی تبدیل ہوگیاہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کے تحت معیشت میں استحکام لانے کی کوشش کی ہے۔عمومی بجٹ کو17.57 ٹریلین روپے( $2 بلین)تک کم کیاگیالیکن دفاعی بجٹ میں اضافہ جاری رکھاگیا۔عالمی مالیاتی اداروں نے ابھی کچھ احتیاط سے تبدیلی محسوس کی ہے—اگرچہ رسمی کریڈٹ ریٹنگ میں بھی بہتری آرہی ہے جس کی بناءپرمالی استحکام کی جانب مثبت اشارے ملنے لگے ہیں،اور ترامیم تسلیم کی جارہی ہیں۔

پاک چین کے”آئل ویدرفرینڈشپ”کے ناتے عسکری تعاون طویل عرصے سے رواں دواں ہے۔سی پیک،مشترکہ دفاعی پیداوار،جدیدساز وسامان،انٹیلی جنس شیئرنگ اورمشترکہ مشقیں اس اتحادکوتقویت عطاکرتی ہیں۔چین پاکستان کاسب سے بڑاہتھیاروں کافراہم کنندہ ہے۔ 2019–24 کے دوران پاکستان کی کل درآمدکا81٪حصہ چین سے آیا،پاکستان مستقبل میں ممکنہ طورپرچین سے ایف سی31،اورجے 35پانچویں نسل کے جے35اسٹیلتھ فائٹر طیارے خریدنے جارہاہے۔چین اورپاکستان کے قبضے میں مضبوط فوجی ودفاعی اتحادمسلسل گہراہورہاہے، ہتھیاروں کی مشترکہ تیاری اورمشقوں کے ذریعے خطے میں فوجی توازن کومستحکم کیاجارہاہے۔مشترکہ پروڈکشن جیسے”کے8″،”جے ایف17″،اورجدیدطیارے،نیوکلیئرانفراسٹرکچرمیں تعاون، سمندری، فضائی اورزمینی دفاعی منصوبے اورسی پیک کے ذریعے گوادر پورٹ میں بھی چینی سرمایہ کاری کی،جومستقبل میں اسٹرٹیجک پورٹ میں تبدیل ہوجائے گی۔ چینی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیاہے کہ پاک چین عسکری تعاون”معمول کے مطابق”جاری ہے جوکسی تیسرے ملک کونشانہ نہیں بناتا۔

پاک بھارت جنگ کی فتح کے بعدخطے میں پاکستان کی سفارتی فتوحات کاسلسلہ بھی شروع ہوگیاہے۔ایرانی پارلیمنٹ میں”پاکستان زندہ باد”کے نعرے اور ایرانی صدرکاپہلابیرونی دورہ پاکستان،اس بات کی علامت ہیں کہ ایران کاجھکاؤبھارت سے پاکستان کی جانب مڑا ہے۔پاکستان نے اسرائیل–ایران جنگ میں متوازن رویہ اختیارکیا،جوایران کی خارجہ پالیسی میں توازن لایا۔یہ تبدیلی خطے میں سیاسی ڈائنامکس کونئے موڑپہ لے گئی ہے۔اب ایران بھارت کے بجائے پاکستان کی جانب زیادہ مثبت رویہ رکھتاہے۔یہ پیشرفت جغرافیائی اور سیاسی توازن کے نئے ابواب کھولتی ہے۔

پاکستان اورایران کے درمیان حالیہ تعلقات میں ایک خوش آئنداورتزویراتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب دونوں ممالک نے 12مفاہمتی معاہدوں اوریادداشتوں پردستخط کیے،جن میں زمینی رابطوں کافروغ،کوئٹہ-زاہدان ریلوے ٹریک،تجارتی راہداری اورایران کے سلک روڈ، گوادراورچاہ بہاربندرگاہی منصوبوں میں اشتراک شامل ہیں۔یہ پیش رفت محض اقتصادی تعاون نہیں بلکہ ایک بڑی اسٹریٹیجک شراکت کی نویدہے۔دونوں ممالک نے فری ٹریڈایگریمنٹ کوحتمی شکل دے دی ہے اوردہشتگردی کے خلاف ہرسطح پر باہمی تعاون پراتفاق کیا ہے۔

اس دورے کی سب سے بڑی معنویت بھارت کیلئےہے،جس نے حالیہ اسرائیل-ایران کشیدگی میں اسرائیل کومبینہ طورپرایک ملین کے قریب افرادی قوت فراہم کی۔ایران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب تہران نے نئی دہلی سے فاصلہ اختیارکرتے ہوئے اسلام آبادکے ساتھ راہیں استوارکی ہیں۔ایرانی صدرکاپاکستان کوپہلاغیرملکی دورہ بنانا، ایرانی پارلیمنٹ میں”پاکستان زندہ باد” کے نعرے،ان سب کاپیغام واضح اورخطے میں نئی سفارتی سمت متعین ہورہی ہے۔

دوسری طرف امریکاکے ساتھ اقتصادی شراکت کاایک نیاباب کھل رہاہے۔ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات—جس میں انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں بھارت، پاکستان سے اپنی تیل کی ضروریات پوری کرنے پرمجبورہوسکتاہے—نہ صرف پاکستان کی اہمیت کوتسلیم کرنے کااشارہ ہیں بلکہ یہ مودی حکومت کیلئےایک سیاسی دھچکہ بھی ہیں۔
31جولائی2025کوامریکااورپاکستان کے درمیان ایک تاریخی اقتصادی معاہدہ ہوا،جس کے تحت امریکاپاکستان کے وسیع خام تیل کے ذخائرکی ترقی میں تعاون کرے گا۔یہ ذخائربلوچستان، سندھ ،پنجاب اورخیبرپختونخوامیں پائے جاتے ہیں۔ٹرمپ نے اعلان کیاہے کہ پاکستان اور امریکا مل کر تیل کے بڑے ذخائر کی تلاش میں ایک دوسرے کی معاونت کریں گے اوراس پراجیکٹ میں پاکستان کی بھرپورمددکیلئے ایک تیل کمپنی کاانتخاب زیرِغورہے اورشائد وہ ایک دن بھارت کوتیل بھی فروخت کریں گے۔”سینارجیکو”پاکستان کی سب سے بڑی عمودی طورپرمربوط آئل ریفائننگ کمپنی ہے جوملک کی توانائی کی ضروریات کوپوراکرتی ہے۔ اسی کمپنی کے توسط سے امریکی خام تیل کی ملین بیرل کی پہلی کھیپ پاکستانی ساحل پرپہنچ رہی ہے،اگر یہ منصوبہ کامیاب ہواتوماہانہ خام تیل کی کھیپ کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔اس معاہدے سے باہمی ٹیرف میں مزیدکمی ہوگی،خاص طورپرپاکستانی برآمدات پر،جس سے تجارتی رسائی آسان ہوگی اورسرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہوگا۔

یہ معاہدہ صرف توانائی تک محدود نہیں بلکِہ کرپٹوکرنسی،مائننگ،ڈیجیٹل انفراسٹرکچراورآئی ٹی کے شعبوں میں بھی پاکستان کے ساتھ ہر قسم کاتعاون شامل ہے۔پاکستان میں مارچ2025میں پاکستان کرپٹوکونسل”پی سی سی”قایم کی گئی،جس کی قیادت وزیرِخزانہ محمداورنگزیب خودکررہے ہیں،او”بیانس”کے شریک چئیرمین چانگ پنگ ذہاؤکواسٹریٹجک مشیرکے طورپرشامل کیاگیاہے۔پی سی سی نے اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزروقائم کیاہےاور2,000میگاواٹ کااضافی بجلی کرپٹومائننگ اسٹریٹجک مشیراورمصنوعی ذہانت ڈیٹا سنٹرکیلئےمختص کیاہے،تاکہ پاکستان کوبلیک چین سرمایہ کاری کامرکزبنایاجاسکے۔

امریکاکی دلچسپی پاکستانی خام تیل کے بنیادی وسائل کے استعمال اوربرآمدات میں ممکنہ اضافہ ہے،نیزپاکستان کوآئندہ ایک ممکنہ مارکیٹ سمجھاجارہاہے۔ تجزیہ کاروں نے تیل کے ذخائرکا حصول اورتجارتی رعایت دونوں کاایک ساتھ حصول کوپاکستان کیلئ”دو پرندے ایک تخت”کی حکمت قراردیاہے۔ ادھر چین پاکستان سی پیک کے تحت چین پہلے ہی مالیاتی اورتکنیکی شراکت میں سرگرم عمل ہے؛امریکاکی مداخلت ایک سطح پرچین کے ساتھ تزویراتی مقابلہ کوجنم دے سکتی ہے۔

یہ معاہدہ پاکستان کیلئے ایک نئی معاشی راہ کھولتاہے،امریکاکی شراکت سے ہماری تیل کی پیداوارمیں اضافہ ہوگا،تجارتی راہیں کھل سکتی ہیں،اورکرپٹوکرنسی اورآئی ٹی شعبے میں ترقی ممکن ہے ۔اگرچہ اس میں سفارتی،سیاسی اورداخلی حدودمیں خطرات موجود ہیں،لیکن حکمت وتدبیرکے ذریعے یہ پاکستان کوایک نئے معاشی دورکی جانب لے جاسکتاہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ امریکا کی انڈیا سے منہ موڑنے اورپاکستان پریہ اچانک نوازشات کے پیچھے کیارازہے؟

“دی اکنومسٹ”نے3/اگست2025کی اشاعت میں خصوصی مضمون میں نشاندہی کی ہے کہ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ ملاقات،خطے میں امریکی پالیسی کانیاباب رقم کرنے کی علامت ہے۔مضمون کے مطابق18جون2025ءکو والی اس ملاقات نے پاکستان–امریکا تعلقات میں علاقائی سفارتی تبدیلی کاآغازکیا،جس نے سابق سرد مہری کوتوڑکراعتدال پسندحکمت عملی کی راہ ہموارکی۔اس کے فوراًبعدٹرمپ نےبھارت کو”مرجھائی ہوئی مردہ معیشت”قراردیتے ہوئے25 ٪ ٹیرف عائدکردیا ہے،اورمزیدٹیرف بڑھانے اور جرمانے کابھی اعلان کیاہے۔ٹرمپ نے بھارت پرشدیدتنقید کی،خاص طورپراسے روسی تیل خریدنے پرملامت کیا،اورٹیرفز میں مزید اضافہ عائد کا کرکے معیشتی دباؤ ڈالنے کا بھی اشارہ دیا گیا۔ بھارت نے اس فیصلے کا جواب دیا کہ روسی تیل خریدنا اقتصادی مجبوری تھی اورمحدود خام مال بیچرکے طورپروہ صرف ریفائنڈمصنوعات برآمدکرتاہے جبکہ پاکستان کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے میں نافذ کردہ19٪ٹیرف میں مزیدکمی کرنے کاعندیہ دیاگیاہے۔

تاہم پاکستان نے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے کیلئے مزیدمثبت اشارے دیے اورامریکی مفادات کیلئےبلوچستان کے معدنی وسائل تک رسائی دینے کاوعدہ کیاہے—ٹرمپ کایہ خطاب مذاکرات کے نکتہ نظرسے ایک واضح اشارہ تھا۔اس دوران پاکستان نے واضح کیا کہ وہ امریکی تیل کی درآمد بڑھائے گااورمخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے گا۔اس پالیسی کی قدرکرتے ہوئےامریکی حلقوں نے پاکستان کواہم غیرنیٹواتحادی کادرجہ دیااور ہتھیاروں کی فروخت،دفاعی تعاون اورانسداددہشتگردی کے مباحث کودوبارہ زندہ کیا۔

اخبارکے مطابق خطے میں اس تبدیلی کے نتیجے میں بدلنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنرل عاصم منیرکی واشنگٹن میں ٹرمپ سے تاریخی ملاقات محض رسمی سفارت کاری کاتسلسل نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے سفارتی باب کاآغازتھی،جس نے پاکستان کوعلاقائی توازن کے مرکزمیں لاکھڑاکیا۔اس ملاقات کے بعدامریکی پالیسی میں نمایاں تبدیلی دیکھنے کوملی۔بھارت،جوطویل عرصے سے امریکی مفادات کاترجیحی شراکت داررہا،اب ٹیرف اورتجارتی سختیوں کی زدمیں آگیا،جبکہ پاکستان کے ساتھ نرم لہجے اور اقتصادی اشتراک کی فضاقائم ہونے لگی ہے۔

امریکانے پاکستان میں توانائی،معدنی وسائل اورکرپٹوسرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہرکی،جبکہ بھارت کوروسی تیل کی درآمدپرسرزنش سرزنش کرتے ہوئے مجوزہ ٹیرف میں اضافہ عائدکرنے کا عندیہ دیاہےجودہلی کی معاشی پالیسی کیلئےایک سخت چیلنج ہے۔اس کے برعکس،پاکستان نے اقتصادی کشادگی اورمعدنی وسائل تک رسائی کی پیشکش کے ذریعے امریکاکے ساتھ تعلقات کونئی جہت دی۔ امریکانے پاکستان کے ساتھ نہ صرف اقتصادی بلکہ عسکری تعاون کی بحالی کے آثاربھی نمایاں کیے،جبکہ بھارت اس تبدیلی پر ناراضگی کااظہارکرتارہا۔یوں جنوبی ایشیامیں امریکاکی روایتی توازنِ طاقت کی حکمت عملی نئی صورت اختیار کرگئی ہے،جس میں پاکستان نہ صرف ایک نئی امیدبلکہ ایک اسٹریٹیجک ترجیح کے طورپرابھرکرسامنے آیاہے۔

دی اکنومسٹ کے مطابق،یہ ملاقات اوراس سے جڑی پالیسیاں ایک واضح اشارہ ہیں کہ امریکی حکمت عملی بھارت سے پاکستان کی طرف منتقل ہورہی ہے ،اوراس کادائرہ کشمیر،ایران و چین سے لیکرمشرق وسطیٰ اوراقتصادی شعبوں تک پھیل رہاہے۔اس تبدیلی کے نتیجہ میں پاکستان کوسفارتی،تجارتی اور عسکری رسائی میں اضافہ حاصل ہورہاہے۔خطے میں طاقت کامنظر نامہ بدل رہاہے اور امریکاکی ترجیحات ایک وقت میں بھارت کوبنیادبناکرپاکستان کودوبارہ اہمیت دے رہی ہیں۔

جب تاریخ کی پرچھائیوں سے ایک نئی سحرنمودارہوتی ہے تووہ صرف وقت کا تسلسل نہیں بلکہ انسانی شعورکی سمت کاتعین بھی کرتی ہے۔روس کی جانب سے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز معاہدے سے مکمل دستبرداری،یورپ،ایشیااوربحرالکاہل میں بیلسٹک وکروزمیزائلوں کی تعیناتی کے اعلان نے بین الاقوامی سیاست کے آسمان پربجلی کی ایک ایسی کڑک پیداکی ہے ،جس کی گونج صرف کریملن کی دیواروں تک محدودنہیں،بلکہ وائٹ ہاؤس،بیجنگ،دہلی،اسلام آباد اوربرسلزتک سنائی دے رہی ہے۔یہ فیصلہ تاریخ کے اس موڑپرسامنے آیاہے جہاں دنیا پہلے ہی عسکری،معاشی اورنظریاتی کشمکش کے بھنورمیں الجھی ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی خطے میں ایک اہم تبدیلی روس کایہ حالیہ اعلان کہ وہ درمیانے فاصلے تک مارکرنے والے جوہری میزائلوں کے معاہدے سے مکمل طورپر دستبردارہوچکاہے۔بین الاقوامی سلامتی،بالخصوص یورپ،ایشیااوربحرالکاہل کے خطے کیلئےنہایت تشویش ناک پیشرفت ہے۔اس اعلان کے تحت روس نے نہ صرف معاہدے کورسمی طورپرخیربادکہابلکہ اس کے ساتھ ہی بیلسٹک اورکروز میزائل ان تمام خطوں میں متعین کرنے کاعزم کااظہارکردیاہے۔

1987ءمیں امریکی صدررونالڈریگن اورسوویت رہنما میخائل گورباچوف کے درمیان انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزمعاہدہ طے پایا تھا،اس معاہدے نے500سے5,500کلومیٹرتک مارکرنے والے زمین سے داغے جانے والے میزائلوں پرپابندی عائد کرکے یورپ کو ممکنہ جوہری تباہی سے کچھ حدتک محفوظ کردیاتھالیکن2019ءمیں امریکا کی جانب سے اس معاہدے سے نکلنے کے بعد اب روس کی دستبرداری اس معاہدے کودفترِتاریخ میں دفن کرچکی ہے۔روس کاموجودہ اعلان ایک متوقع مگرہولناک پیش رفت ہے۔

روس کی جانب سے انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسزمعاہدے سے باضابطہ علیحدگی اورمیزائلوں کی نئی صف بندی کا اعلان یورپ کیلئےگویاایک پراناخواب ٹوٹنے کے مترادف ہے۔نیٹو اتحادیوں کے ذہنوں میں1980ءکی دہائی کے وہ دن تازہ ہوگئے ہیں جب یورپ سوویت میزائلوں کی زد میں تھا۔خاص طورپرجرمنی،پولینڈاوربالٹک ریاستیں اس نئے منظرنامے میں براہ راست خطرے میں ہیں۔

اس فیصلے نےعالمی اسٹریٹیجک توازن میں بگاڑکاشدیدخطرہ پیداکردیاہے۔معاہدہ سردجنگ کے دورمیں امریکااورسابق سوویت یونین کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی دوڑکومحدودکرنے کیلئے ایک بنیادی ستون تھا۔اس معاہدے کی منسوخی ایک ایسااقدام ہے جونہ صرف اس توازن کوتوڑتاہے بلکہ نئے ہتھیاروں کی دوڑکوجنم دے سکتاہے۔چونکہ انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئرفورسز میزائل یورپ تک محدود فاصلے میں مارکرسکتے ہیں،لہٰذاروس کی جانب سے ان کی یورپی حدودمیں تعیناتی نے نیٹواتحادیوں میں خاص طورپرپولینڈ، جرمنی،فرانس جیسے ممالک میں جوماضی میں سوویت ہدف پرتھے،اضطراب پیداکردیاہے۔

چین،جاپان،بھارت اورپاکستان جیسے ممالک کے گرداگرروسی میزائل تعینات ہوتے ہیں تویہ پورے خطے کوغیریقینی اورخطرناک کشمکش میں جھونک سکتے ہیں۔بحرالکاہل میں یہ امریکی مفادات ،خاص طورپرگوام اورجنوبی کوریامیں امریکی اڈوں کیلئےایک براہ راست چیلنج ہوگا۔پاکستان جوپہلے ہی خطے میں بھارت کے بڑھتے ہوئے عسکری عزائم اورامریکی جھکاؤ سے دوچار ہے،روس کے اس فیصلے کواسٹریٹیجک گہرائی کیلئےایک موقع بھی سمجھ سکتاہے—بشرطیکہ روس کے ساتھ دفاعی اشتراک کووسعت دی جائے۔ خاص طورپراگرروس پاکستان کے ساتھ مشترکہ دفاعی مشقیں،ٹیکنالوجی ٹرانسفریامیزائل ڈیفنس میں تعاون کرتاہے۔روس اورچین کے تعلقات خوشگوارضرورہیں،لیکن روسی میزائلوں کی ایشیامیں تعیناتی چین کیلئےبھی ایک دباؤکااشارہ ہو سکتی ہے،تاکہ بیجنگ ماسکو کے مفادات سے منحرف نہ ہو۔

ایشیاکے میدان میں یہ فیصلہ ایک نئی ہلچل پیداکرسکتاہے۔امریکا،جوخودکوبحرالکاہل میں ایک غالب طاقت سمجھتاہے،روسی میزائلوں کی ممکنہ موجودگی کواپنی بالادستی کیلئےایک چیلنج سمجھے گا ۔جاپان اورجنوبی کوریا،جہاں امریکی فوجی اڈے موجودہیں،اب براہ راست روسی ہدف پرآچکے ہیں۔بحرالکاہل کی حد تک روس کایہ اقدام امریکاکیلئےواضح پیغام ہے کہ وہ اب صرف یورپ میں نہیں، بلکہ بحرالکاہل کے پانیوں میں بھی اپنی طاقت کامظاہرہ کرے گا۔

پاکستان کیلئےیہ ایک دو دھاری تلوارہے۔ایک جانب خطے میں کشیدگی اوراسلحہ کی دوڑمیں اضافہ،تودوسری جانب روس کے ساتھ اسٹریٹیجک تعاون بڑھانے کاامکان۔اگرپاکستان دانش مندی سے سفارتی بساط بچھائے،تووہ روس کے ساتھ عسکری،تکنیکی اوردفاعی تعاون کوفروغ دے سکتاہے،بالخصوص اس وقت جب پاکستان پہلے ہی امریکااورچین کے بیچ متوازن حکمت عملی پرگامزن ہے۔

یہ فیصلہ بھارت کیلئےبھی ایک امتحان ہے۔اگرچہ بھارت نے ماضی میں روس کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھے،مگرحالیہ برسوں میں امریکاکی طرف جھکاؤ نے ماسکوکے اعتمادکوٹھیس پہنچائی ہے۔روسی میزائلوں کی ایشیائی تعیناتی بھارت کے اسٹریٹیجک ماحول کو مزیدپیچیدہ بناسکتی ہے۔مزیدبراں مودی کیلئے زوال کاسفراب تیزہوتاجارہاہے۔پہلگام حملے کے بعدبھارت نے ہمیشہ کی طرح پاکستان پر الزام تراشی کی روایت دہرائی،مگراس باردنیانے وہ ردعمل نہ دیاجوبھارت کوتوقع تھی۔بھارتی افواج کے ہی ترجمان اب اس الزام سے پسپائی اختیارکررہے ہیں،جس سے بھارت کے بیانیے کی کمزوری واضح ہوگئی ہے۔

دنیاآج ایک نئے موڑپرکھڑی ہے،جہاں عسکری طاقت کے توازن میں چھوٹے سے تغیرکامطلب براعظموں کی تقدیرکابدل جاناہے۔ روس کی آئی این ایف معاہدے سے دستبرداری، پاک ایران نئی سفارتی جہت،امریکاکے ساتھ معاشی معاہدے،اوربھارت کی عالمی تنہائی —یہ سب اس امرکے غمازہیں کہ عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونماہورہی ہے۔روس کی معاہدے سے باضابطہ علیحدگی اور میزائلوں کی نئی صف بندی معاہدے سے دستبرداری اور میزائلوں کی نئی تعیناتی کااعلان محض ایک دفاعی قدم نہیں،بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی ہے طاقت اب محدودمعاہدوں کی اسیرنہیں رہی۔

اے اہلِ وطن!اصل آزادی صرف جغرافیائی حدودمیں نہیں،بلکہ فکری آزادی،معاشی خودداری اوراسلامی حیات کے احیاءِمیں مضمر ہے۔خداوندِکریم فرماتاہے:
کہہ دوکہ میں تواپنے پروردگارہی کی عبادت کرتاہوں اورکسی کو اس کاشریک نہیں بناتا۔الجن:18

ایسی سنگینی وجذباتیت کے عالم میں یومِ آزادی کوشایانِ شان منانے کیلئےضروری ہے کہ قومی سالمیت،اسلامی اعتقادواتحادکومرکزی رکھیں۔مساجد،تعلیمی اداروں اورفوجی تنصیبات میں قرآنی آیات وملی نغمات کی رونق ہو۔نوجوان نسل کوجذبہ، قومی وقارواسلامی تربیت سے روشناس کروائیں۔محروم طبقات کویادرکھ کرمشترکہ اجتماعات میں ان کی شمولیت کوفروغ دیں۔

اسی روشنی میں یومِ آزادی ہمیں دعوت دیتاہے کہ ہم اپنے اسلامی نصب العین کوزندہ کریں،اپنی تہذیب وثقافت کوسنواریں،اوراپنی سرزمین کوعزّت وشان سے آگے بڑھائیں۔قرآن کی سچائی،اشعارِجذبات،اورقومی استقامت—یہ لڑی ہرقاری کے دل کوچھوکرایک نئے ادبی تاثرمیں ڈبودے۔اللہ تعالیٰ ہمیں دائمی امن،خوشحالی اوراسلامی بیداری عطافرمائے،آمین۔

اوراب جب کہ ہم یومِ آزادی کے اس آئینے میں اپنی تاریخ کاعکس دیکھ چکے ہیں،تولازم ہے کہ ہم محض تقریروں،جھنڈیوں اورآتش بازی تک محدود نہ رہیں،بلکہ روحِ پاکستان کوازسرِنو بیدار کریں۔یہ وطن کوئی خطہ زمین نہیں،بلکہ خوابوں،قربانیوں اوردعاؤں کاوہ دستاربندقافلہ ہے جس کے ہرپڑاؤپرکسی ماں کی ممتا،کسی باپ کی امید،کسی جوان کی شہادت اورکسی عالم کاقلم خون میں ڈوبا نظرآتاہے۔

ہمیں یادرکھناہوگاکہ پاکستان کی حقیقی تکمیل ابھی باقی ہے۔جس نظریے پریہ وطن معرضِ وجودمیں آیا،اس کی تعبیرتبھی ممکن ہے جب ہرپاکستانی اپنی ذات کوقوم کے چراغ میں جلتاہوا دیکھے ۔ آزادی محض جغرافیائی آزادی نہیں بلکہ فکری آزادی،معاشی خود انحصاری،عدلِ عمرجیسانظام،علمِ قرآنی کی روشنی،اور شریعتِ محمدیﷺکی عملداری کانام ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم سیاسی انتشار،معاشی زوال اورتہذیبی بے راہ روی کے گرداب سے نکل کروحدتِ امت،نظریاتی استقامت اور اسلامی تشخص کواپناشعاربنائیں۔ہمیں درکارہے ایک نئی ہجرت،ایک نیا بدر ، ایک نیاکربلامگربندوق سے نہیں،قلم سے،علم سے، کردارسے،تقویٰ سے۔جیساکہ قائداعظم نے فرمایا،کام،کام،اوربس کام۔اوراقبالؒ نے صدا دی:
نہ تُوزمیں کیلئےہے،نہ آسماں کیلئے
جہاں ہے تیرے لیے،تُونہیں جہاں کیلئے

پس اے اہلِ وطن!
آج کی شب چراغاں ضرورکیجیے،مگرکل کاسویرااس عہدکے ساتھ طلوع ہوکہ اب پاکستان فقط ایک ملک نہیں،ایک پیغام،ایک مشن،ایک امانت ہے… جس کاہرباسی امینِ نظریہ،وارثِ شہادت،اورپرچمِ محمدیﷺکاعلمبردارہے۔
پاکستان زندہ باد،نظریۂ پاکستان پائندہ باد

اپنا تبصرہ بھیجیں