ndian darkness……Pakistani light

پاکستانی اجالا……بھارتی اندھیرا

جب قومیں خواب دیکھتی ہیں،توان کے خوابوں کی تعبیرکاسفرخون،قربانی،اور ایمان کی راہوں سے گزرتاہے۔پاکستان ایک ایساہی خواب تھا—ایک نظریہ،ایک کلمہ،ایک اذان،جوصدیوں کی محکومی کے بعدآسمانِ ہند پرچمکا۔یہ وہ سرزمین ہے جولاإله إلاالله کے نام پرمعرضِ وجودمیں آئی؛جہاں نہ اقتدارکی ہوس کوغالب ہوناتھا،نہ قوم کے نظریے پرسودے بازی ہونی تھی۔مگر صد افسوس! ہم نے اس خواب کی تعبیرکونہ صرف فراموش کیا،بلکہ اسے اپنے سیاسی وعسکری مفادات کی نذرکردیا۔ہماراقبلہ اگرخالص محمدی سیاست ہوتی،جہاں عدل،شورائیت اور احتساب کاغلبہ ہوتا،تونہ آج جمہوریت سسکتی،نہ آمریت سینہ تان کرچلتی۔تاریخ کی گواہی ہے کہ جب قومیں اپنے نظریے سے روگردانی کرتی ہیں تونہ صرف زوال ان کامقدر بنتا ہے،بلکہ ان کے دشمن بھی ان کے خوابوں کے مزارپرجشن مناتے ہیں۔

کبھی کبھی اقوامِ عالم کی تاریخ میں ایسے ابواب کھلتے ہیں جن کی روشنائی خونِ دل سے لکھی جاتی ہے اورجن کے الفاظ وقت کے صفحات پرقیامت تک ثبت رہتے ہیں۔پاکستان بھی ایک ایسی ہی سرزمین ہے—جغرافیہ میں شایدنئی،مگرتاریخ کے شعورمیں صدیوں کی گونج رکھتی ہوئی۔یہ مملکت خداداد برصغیرکی تقسیم کے اس لمحۂ نازک کی پیداوارہے جس نے نہ صرف تہذیبوں کو منقسم کیابلکہ ذہنوں،خوابوں،اورامیدوں کوبھی دوقومی نظریے کی شمع پرمجتمع کردیا۔

برصغیرکی تقسیم محض جغرافیائی لکیروں کی درستگی نہ تھی،بلکہ تہذیبوں کاایک بڑادھچکہ تھی۔14اگست1947کوجب پاکستان کا سورج طلوع ہوا،تواس کی کرنوں میں مسلمانوں کی صدیوں پرمحیط جدوجہدکی جھلک تھی۔یہ وہ وقت تھاجب برطانوی سامراج کی کمزورہوتی گرفت اورہندواکثریت کی غلبے کی خواہش کے مابین مسلمانوں کوایک علیحدہ سیاسی تشخص کی ضرورت شدت سے محسوس ہوئی۔قائداعظم محمد علی جناحؒ کے الفاظ میں پاکستان اسی دن وجود میں آگیاتھاجب پہلاہندومسلمان ہوا۔

مگرسوال یہ ہے کہ جس نظریے کے تحت یہ ملک قائم ہوا،کیاریاست نے اس کی روح کواپنے نظام میں جذب کیا؟پاکستان میں تاریخ کی الٹی بہتی ندی کاسیاسی مطالعہ کیاجائے توارضِ پاکستان کواسلامی جمہوریہ کالقب تودیاگیا،مگرنہ اسلامی نظام مکمل نافذہوا،نہ جمہورکی آوازکومکمل حقِ نمائندگی ملا۔یہاں جمہوریت کاحال نوخیزپودے کی مانندرہاجسے ہرباراقتدارکے طوفانوں نے جڑسے اکھاڑنے کی کوشش کی۔

مگرسوال یہ ہے کہ جس جمہوری خواب کوبانیانِ پاکستان نے تعبیرکی خلعت پہنانے کی آرزوکی،وہ خواب کیاوقت کی گردمیں دھندلانہ گیا؟ہماری سیاسی تاریخ تویوں ہے کہ جمہوریت کاسورج جب بھی طلوع ہونے کوہوتاہے،افق پرآمریت کی گھٹائیں چھا جاتی ہیں،اورجب آمریت کے سائے درازہو جاتے ہیں،توخلقِ خداجمہورکے دیے جلانے نکل پڑتی ہے۔گویا پاکستان کی سیاسی فضا ایک ایسے شجرکی مانندہے جس کی ایک شاخ پرجمہوریت کے پرندے چہچہاتے ہیں اوردوسری پرآمریت کے اُلوبیٹھے رہتے ہیں۔

اکیسویں صدی کی دہلیزپرقدم رکھتے ہوئے جب اقوامِ عالم ترقی،تحقیق،اورتہذیب کی نئی منزلوں کی تلاش میں کوشاں تھیں،ہمارا پاکستان چارعسکری حکومتوں کے تجربے سے گزرچکاتھا۔یہ کیساعجب مقام ہے جہاں آمریت باربارجمہوریت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے اورجمہوریت،آمریت کی آغوش میں پناہ لینے پرمجبوردکھائی دیتی ہے؟یہ ایسی سیاسی سرزمین ہے جہاں”بدترین منتخب حکمران بہترین آمرسے بہترہے”کافلسفہ دلوں میں بسایاگیا،حتیٰ کہ جب کرپشن،اقرباپروری اورسول آمریت کے دھارے بہنے لگے، تب بھی جمہورکے ٹھیکیداراپنی بانہیں کھولے کھڑے رہے۔

حیرت یہ نہیں کہ یہاں سیاستدان کاروباری بنے اورآمریت نے جمہوری لبادہ اوڑھا،تعجب تواس پرہے کہ عوام نے ان دونوں کی ریا کاریوں کوبھی مصلحتِ وقت کہہ کرقبول کیا۔سیاست کے بازارمیں جب بولی لگتی ہےتوہرامیدوارعوامی خدمت کاجامہ پہنے دکھائی دیتاہے،مگردل میں اقتدارکی حرص کازہرہوتاہے۔جمہوری اپوزیشن اگرحکومت کے چہرے سے نقاب ہٹانے کادعویٰ کرتی ہے،تو یہی اپوزیشن کبھی فوجی آمریت کویادکرکے گویااُس کی گودمیں پناہ لینے کیلئےبیتاب دکھائی دیتی ہے۔پھرجب آمریت کے سائے طویل ہونے لگیں توالیکشن کومسائل کا واحدحل قراردیکر “فرشتے”اور”لٹیرے”یکجاہوکرجمہوریت کی اذانیں بلندکرتے ہیں۔ یہ پاکستان ہے—جہاں سیاستدان تجارت کرتے ہیں،اورفوج سیاست۔جہاں ووٹ بینک بنانے کیلئے مذہب کوبازارکی جنس بنایاجاتاہے ،اورجہاں”فرینڈلی اپوزیشن”حکومت کاسایہ بن کرباری کے انتظارمیں بیٹھی رہتی ہے۔

پاکستان میں جمہوریت کاتصوراکثرخاندانی سیاست،اقرباپروری،اورانتخابی دھاندلی کے زیرِسایہ پروان چڑھاہے۔عوام کی رائے کے نام پروہی چہرے باربارمسندِاقتدارپرفائزہوتے ہیں جو ’’الیکشن جیتنے کی سائنس‘‘میں ماہرہیں،نہ کہ خدمتِ خلق کے جذبے میں۔جمہوریت عوام کی حکومت،عوام کے ذریعے، عوام کیلئےہونی چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ اکثراشرافیہ کی حکومت،دولت کے ذریعے،اوراپنے خاندان کیلئےبن جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن باری کی منتظررہتی ہے،حکومت طاقت کے نشے میں شوریدہ ہوجاتی ہے اورریاست کی اصل روح جمہوری تجربے کی تلخیوں کی داستان بن کرہمیں پیغام دے رہی ہوتی ہے کہ یہاں جمہوریت برائے اقتدارکانام ہے نہ کہ برائے عوام!

پاکستان کی تاریخ میں جمہوریت اورآمریت کی کشمکش ایک نیم روشن نیم تاریک کہانی ہے۔ہربار”نجات دہندہ”کے روپ میں نمودارہونے والی یہ آمریتیں بالآخرقوم کومزیدتقسیم،ادارہ جاتی کمزوری اورعالمی تنہائی کی جانب لے گئیں۔المیہ یہ ہے کہ ہر فوجی اقتدارکوسیاسی اشرافیہ،عدلیہ،اوربعض اوقات صحافت کی مددبھی حاصل رہی۔

پاکستان کی تاریخ میں فوجی آمریتیں یوں سایہ فگن رہیں جیسے وقت کے فرعونوں نے اقتدارکی لاٹھی سے قوم کے شعورکودبانے کی کوشش کی ہو۔ایک کے بعدایک جنرل نے “قومی مفاد” “استحکامِ ریاست”اور“جمہوری کمزوری”جیسے نعروں کوجوازبناکر عوامی مینڈیٹ کوپامال کیا،اورپھرانہی نعروں کے سائے میں آئین کوتوڑا،سیاسی جماعتوں کوبانٹا،اورشخصی اقتدارکوادارہ جاتی تحفظ فراہم کیا۔جنرل ایوب کی’بنیادی جمہوریت‘ہویاضیاءالحق کی ’اسلامائزیشن ‘ ، یاپھرپرویزمشرف کا’روشن خیال اعتدال‘—سب نے قوم کو ایک قدم آگے اوردوقدم پیچھے دھکیلنے کی پالیسی اپنائی۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیافوجی آمریت نے عوام کے اندراعتماد پیداکیایاصرف اداروں کوطاقتوربنایا؟تاریخ بتاتی ہے کہ آمریتیں اپنے ساتھ صرف وقتی نظم وضبط لاتی ہیں،دیرپاترقی نہیں۔

یہی تجربہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے اندرجاری علیحدگی پسندتحریکوں سے بھی واضح ہوتاہے۔بھارت کی جمہوریت کابھرم درحقیقت ایک ایسی چادر ہے جس کے نیچے خالصتان کی للکار ، ناگالینڈاورمنی پورکی آزادی کی چیخیں،نکسل باڑیوں کی بغاوت، اورمقبوضہ کشمیرکی اذانیں برسوں سے گونج رہی ہیں ۔بھارت جنہیں”اندرونی معاملات”کہہ کردباناچاہتاہے،درحقیقت وہی تحریکیں اس کی نام نہاداکثریتی جمہوریت کی کمزوری کااعلان ہیں۔یہ شوریدہ سرآوازیں آج دہلی کی دہلیزپرسوال بن کرکھڑی ہیں کہ:جس بھارت نے پاکستان کوعدم استحکام کاشکارکرنے کی پالیسی اپنائی،کیاوہ خودداخلی انتشارسے محفوظ رہے گا؟آج اگرپاکستان اپنے دشمن کے زخموں کوبے نقاب کرے،توبھارت کی”اتحادکی اکائی”ریت کی دیواربن کربکھرسکتی ہے۔

تاہم اگرپاکستان میں آمریت کی چالاکیاں اورسیاست کی مکاری پاکستان کی سیاست کاایک رخ ہیں،تودوسری طرف اس قوم کی وہ تحریکات، صحافت ، اورسول سوسائٹی کی وہ جمہوریت کا اصل ہتھیارقوتیں بھی ہیں جنہوں نے آزادیٔ صحافت،آئینی بالادستی،اور شہری آزادیوں کیلئےقربانیاں دیں۔ مثلاً1977ءکی تحریکِ نظام مصطفیٰ،1983ءکی ایم آرڈی(تحریک بحالی جمہوریت )،2007ءکی وکلاءتحریک اورحال ہی میں2014ءکی سول ملٹری کشمکش کے خلاف تحریکیں،یہ سب دراصل اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستانی معاشرہ مردہ نہیں،بلکہ ہر��
دور میں کوئی نہ کوئی قافلہ حق کیلئےبرسرِپیکار ہوتا ہے۔

تاریخ کے حالیہ ورق میں جب پاک بھارت کشیدگی کی چنگاری بھڑکی،تواس کے اثرات پاکستان کے اندرونی سیاسی منظرنامے پر بھی مرتب ہوئے۔ جنگوں کی بازگشت نے نہ صرف فوج کوایک مرتبہ پھرمقبولیت کی معراج پرپہنچایا،بلکہ داخلی انتشارکی دھول بھی کچھ دیرکوبیٹھ گئی۔عوامی تاثرمیں فوج نے عزت بحال کرلی،اورایک ہائبرڈنظامِ حکومت نے جنم لیاجس میں فوج اورسیاستدان بظاہریکجاہوکر”ترقی”کاراگ الاپتے دکھائی دیے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت اورکارکنوں پربغاوت کے الزامات کی گونج سنائی دی۔9مئی کی مبینہ بغاوت نے سیاسی افق پرایک گہرانقش چھوڑا،اورملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت کوکٹہرے میں لاکھڑاکیا۔کلیدی رہنماپابندِسلاسل کیے گئے،اورعدالتی فیصلے تاریخ کی نئی سطر لکھنے لگے۔سوال یہ ہے کہ کیایہ سب”نئے پاکستان”کی تعبیریا مکافاتِ عمل ہے یا “پرانے پاکستان”کی جمہوریت کشی کانیا عنوان؟

دوسری جانب، دہلی کےایوانوں میں بھی اضطراب کی کیفیت ہے۔حالیہ جنگ میں عالمی سطح پرہزیمت اٹھانے کے بعدمودی کی زبان سے نکلاہواجملہ “ابھی سندورآپریشن ختم نہیں ہوا” محض ایک سیاسی بیان نہیں،بلکہ خطے پرمنڈلاتی نئی جنگ کے بادلوں کا نیااستعارہ ہے۔مودی سرکاراس وقت نہ صرف داخلی سیاسی بحران سےدوچارہے بلکہ اپنی عسکری ناکامی کاداغ دھونے کیلئے ممکنہ طورپرایک نئی جنگ چھیڑنے کی طرف مائل دکھائی دیتی ہے۔ مگرکیامودی کھلی جنگ کاخطرہ مول لے گا؟یاپاکستان کے خلاف دہشتگردی،سازش اورسیاسی محاذ آرائی کوجاری رکھتے ہوئے کمزورکرنے کی پالیسی اپنائے گا؟

2025ءکی پاک بھارت جھڑپ میں اگرچہ پاکستان نے دفاعی پوزیشن برقراررکھی،مگربھارت کواندرونی وعالمی سطح پرشدیدتنقید کاسامناکرناپڑا۔مودی کامشہورجملہ”ابھی سندورآپریشن ختم نہیں ہوا” دراصل اُس بوکھلاہٹ اوراضطراب کی غمازی کرتاہے جوایک ناکام عسکری کوشش کے بعدسیاسی ساکھ بچانے کیلئےجھوٹے نعرے گھڑتاہے۔

نریندرمودی کی جماعت بی جے پی، ہندوتواکی انتہاپرسیاست کرتی ہے۔جنگی بیانیہ، قوم پرستی،اوراقلیت دشمنی اس کاایندھن ہیں ۔اس لئے مودی کے ماضی کامکروہ چہرہ اس بات کی چغلی کھاتاہے کہ وہ بھارت کے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے، الیکشن کے دوران جنگی ہیروبننے کی کوشش کرے گا۔وہ اپنے مغربی دوستوں کی رائے کوایک مرتبہ پھربدلنے کیلئےعلاقائی بالادستی کے خواب دکھائے گا۔اس لئے مودی دوبارہ جنگ چھیڑنے سے قبل پاکستان پردہشتگردی کے ذریعے دباؤڈالنے کی عملی کوششوں میں تیزی لے آیاہے،بلوچستان میں راکی مداخلت کوئی رازنہیں رہی،کراچی،گلگت، اور فاٹامیں بھی بھارتی مداخلت کی رپورٹس موجودہیں لیکن پاکستان اگرجوابی حکمتِ عملی کے طورپربھارت کی داخلی کمزوریوں کواستعمال کرے،تو نتائج بھارت کیلئےخوفناک ہوں گے۔

دراصل دوایٹمی ریاستوں پاک بھارت کے درمیان تعلقات تلوارکی دھارپررقص کی طرح ہیں جہاں صرف پاؤں ہی زخمی نہیں ہوں گے بلکہ ٹانگیں بھی دھڑسے الگ ہونے کے امکانات ہروقت موجودہیں۔اگربھارت کی پالیسی پاکستان میں عدم استحکام پیداکرناہے، توکیاپاکستان بھی اسی سکہ بندزبان میں جواب دے سکتاہے؟یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت خودکئی اندرونی شورشوں کا شکارہے۔بھارت کے اندرشوریدہ سروں کی حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی کئی ریاستیں،جیسے خالصتان تحریک مشرقی پنجاب،ناگا، چھتیس گڑھ،جھارکھنڈ، اڑیسہ، مہاراشٹرا،آسام، منی پورکی علیحدگی پسند تحریکیں ،ماؤنوازنکسل باڑی تحریک اورکشمیرمیں جاری آزادی کی تحریک،یہ سب دہلی سرکارکی نیندیں اڑانے کیلئےکافی ہیں۔

ان تحریکوں کو مقامی آبادی کی اخلاقی حمایت حاصل ہے اوربعض کوبیرونی تائیدبھی۔ایسے میں اگر پاکستان بھی”دانت کے بدلے دانت”کی پالیسی پرعمل کرے توبھارت کاداخلی امن اس شدت سے لرزاٹھے گاجیسے تسبیح بکھرجائے اورہردانہ الگ راہ لے۔یہ تمام تحریکیں بھارت کی ریاستی گرفت پرسوالیہ نشان ہیں۔اگرپاکستان سفارتی محاذپران کوعالمی سطح پراجاگرکرے تویہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دیں گی۔

ہندوستان کی جمہوری چادرمیں لپٹی سچائی اورفریبِ ترقی یاسچائی کاخون آلودچہرہ سے اب دنیاواقف ہوچکی ہے۔یہ کیساالمیہ ہے کہ جس بھارت کودنیا، دنیاوی ترقی،سافٹ پاور،اورجمہوری اداروں کی مثال کے طورپرپیش کرتی ہے،اسی بھارت کے اندر غریبوں کی آہ،مظلوموں کی چیخ، پسے ہوئے طبقات کی خاموش بغاوت اورعورت کی ماری ہوئی عزت کی صدائیں گونج رہی ہیں؟ جمہوریت کے تاج میں جگمگاتے ہیرے اگرغربت،جہالت،اورانسانی تذلیل سے سجے ہوں تووہ تاج نہیں،ایک بدبودارزنجیرہے جسے بھارت کے140کروڑعوام روزجھیلتے ہیں۔

حالیہ بین الاقوامی اوربھارتی سروے رپورٹس میں خودبھارت نے تسلیم کیاہے کہ دنیاکے سب سے زیادہ غریب بھارت میں بستے ہیں لیکن مودی حکومت میں متعصب ہندوتوانے جمہوریت کی بنیادوں کوکھوکھلاکردیاہے۔80کروڑسے زائدلوگ سرکاری راشن پرزندہ ہیں۔لاکھوں لوگ فٹ پاتھ، ریلوے اسٹیشن،اورسڑک کنارے سوتے ہیں—اوریہ صرف سونانہیں،یہ بھارتی ریاست کے منہ پر ایک خاموش تھپڑہے۔جہالت اورتعلیم کی تباہ حالی کایہ عالم ہے کہ یونیسیف اوریونیسکوکی رپورٹوں کے مطابق دنیاکے سب سے زیادہ ان پڑھ افرادبھارت میں موجودہیں۔ہرسال لاکھوں بچے اسکول چھوڑدیتے ہیں۔کئی ریاستوں میں لڑکیوں کی تعلیم اب بھی باعثِ شرم سمجھی جاتی ہے۔

بھارت کی اپنی وزارتِ افرادی قوت کے مطابق کروڑوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لے کرسڑکوں پرہیں۔ بے روزگاری ایک خاموش جنگ کی شکل اختیارکرچکی ہے اوربیروزگاری کی بلند ترین شرح45سال کی تاریخ میں ریکارڈکی گئی۔نوجوان نفسیاتی دباؤاور خودکشی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ خوراک اورذلت کاالمیہ یہ ہے کہ بھارتی میڈیانے خوداس حقیقت کااعتراف کیاہ ے کہ کم ازکم 2کروڑبھارتی شہری روزانہ چوہے کھانے پرمجبورہیں۔جی ہاں؛چوہے کھانے پرمجبورانسان کے یہی وہ مناظرجسے بھارتی میڈیا کبھی”ثقافتی تنوع”کہہ کرچھپاتاہے،اورکبھی خاموشی کی چادراوڑھ لیتاہے۔

بھارت میں دنیاکی سب سے بڑی جسم فروشی کی منڈی ہے۔جسم فروشی،ایڈزاورعورت کاجنسی جنازہ برسرعام دیکھنے کوملتاہے۔ ایڈزکے مریضوں کی شرح میں بھارت سرفہرست ہے، حتیٰ کہ ایڈزٹرینیں تک چلائی جاتی ہیں۔لاکھوں بچیاں روزپیداہونے سے قبل قتل کردی جاتی ہیں؛فیٹوسائیڈبھارت کی’’جدید‘‘ثقافت کاحصہ بن چکا ہے۔ بیت الخلاء کی محرومی کایہ عالم ہے کہ آج بھی بھارت کی 70فیصد دیہی آبادی بیت الخلاء کی سہولت سے محروم ہے۔

بھارتی سماجی بغاوت اورریاستی زوال کایہ چہرہ جوکبھی میڈیاپرنہیں دکھایاجاتالیکن اب خودایک مغربی ادارے نے اپنے سروے میں انکشاف کیاہے کہ بھارت میں گردے اورجسمانی اعضا کی منڈی اتنی عام ہوچکی ہے کہ گاؤں کے داخلی راستوں پراشتہار آویزاں ہوتے ہیں کہ”اس گاؤں کے ہرفردکا گردہ برائے فروخت”ہے۔سیاسی اورمذہبی گھٹن اس درجے کوپہنچ چکی ہے کہ22 ریاستیں آزادی کی متمنی ہیں جوبھارت کے ساتھ مزیدرہنے کوبالکل تیارنہیں۔100سے زائدمسلح علیحدگی پسندگروہ حکومت کے خلاف برسرپیکارہیں۔نکسل باڑی،خالصتان،کشمیر،منی پور،آسام،ناگا لینڈ–یہ بھارت کے اندرچھپے وہ آتش فشاں ہیں جوکسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔بھارت کاتقریباً40فیصدعلاقہ حکومت کی موثررِٹ سے باہرہوچکاہے۔

عالمی آزاد مالیاتی اداروں کی رپورٹ نے بھارتی معاشی خوش فہمی کابھانڈہ بیچ بازارمیں پھوڑتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے معاشی دعوے بھی کاغذی ہیں۔پانچ سوارب ڈالرسے زائد کےبیرونی قرضے بھارت کی گردن پرسوارہیں۔377/ارب ڈالر کے زرِ مبادلہ ذخائر دراصل 8 فیصد سود پر لیے گئے بینک قرضے ہیں۔یہ معاشی ترقی نہیں،مالیاتی خودکشی کی چالاکی سے پردہ پوشی ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ میں عسکری کھوکھلاپن اورجنگی شرمندگیاں بھی سامنے آگئی ہیں۔یادرہے کہ کارگل جنگ میں بھارت کے این اے32طیارے گراؤنڈہوچکے ہیں ۔بوفرزتوپیں ناکارہ ہوچکی ہیں۔یوکرین سے مہنگے معاہدے اورناقص ہتھیاروں کی خریداری نے بھارتی افواج کی پیشہ ورانہ حیثیت پرسوالات اٹھادیے ہیں۔

جس بھارت کو”عظیم جمہوریت”کہاجاتاہے،وہ اندرسے غربت،جہالت،بدحالی،اوربغاوت سے بھری ہوئی ایک ٹوٹتی ہوئی یونین ہے۔ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعدفریب کاپردہ چاک ہوچکاہے یہ بات ناقابلِ تردیدہوچکی ہے کہ پاکستان کاانڈیا سےعلیحدہ ہونانہ صرف درست تھابلکہ ضروری بھی۔آج جولوگ“ہم بھارت سے پیچھے کیوں ہیں؟”کہہ کرروتے ہیں،وہ صرف بھارتی فلموں کے رنگین پردے دیکھتے ہیں،وہ ان فٹ پاتھوں کونہیں دیکھتے جہاں انسان نہیں،بھارتی جمہوریت کاجنازہ بستاہے۔ضرورت اس امرکی ہے کہ ایسے افرادتاریخی حوالے سے خودسے ایک سوال ضرورپوچھیں کہ اگرپاکستان نہ بنتاتوکیاآج ہم بھی چوہے کھارہے ہوتے؟کیاہم بھی بیٹیوں کوپیداہونے سے پہلے قتل کررہے ہوتے؟کیاہمارے گاؤں کے باہربھی لکھا ہوتاکہ یہاں گردہ برائے فروخت ہے۔پاکستان میں کہیں بھی ایسا نہیں ہے، الحمدللہ۔ہم نے الگ ریاست صرف اس لیے نہیں بنائی تھی کہ ہماری زمین الگ ہو،بلکہ اس لیے بنائی تھی کہ ہماراضمیر،نظام، تہذیب،اورروح زندہ رہیں۔

تاریخ ہمیشہ بے رحم ہوتی ہے۔وہ ان اقوام کومعاف نہیں کرتی جواپنی اساس کوفراموش کردیں۔ہمیں یادرکھناہوگاکہ پاکستان کوئی جغرافیائی حادثہ نہ تھا،بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیرکی صداتھی—ایک ایسی پکارجس نے لاکھوں مسلمانوں کوہجرت پر مجبورکیا،ماؤں کی گودیں اجڑیں،قافلے لٹ گئے،مگرنظریہ سلامت رہا۔آج اگرہم نے اس نظریے کوخوداپنے ہاتھوں سے دفن کردیا، تونہ دشمن کی سازشیں رکیں گی،نہ ہماری زبوں حالی کاسلسلہ تھمے گا۔ہمیں واپس اسی راستے پرآناہے—جہاں عدل فاروقی، شجاعتِ حیدری،صدقِ صدیقی اورعلمِ حسینی ہماری سیاست کاستون ہو۔

پاکستان کواب فیصلہ کرناہے کیاہم اداروں کی بالادستی،آئین کی حکمرانی،اورسیاسی شفافیت کوراستہ دیں گے؟یاپھرہم اس دائرے میں گھومتے رہیں گے۔قوموں کی زندگی میں وہی لمحے قیمتی ہوتے ہیں جوانہیں اپنی تاریخ سے سبق لینے پرآمادہ کریں۔اب یہ لمحہ آچکاہے،اگرہم نے سیکھانہ،توتاریخ ہمیں بارباروہی اسباق دہراتی رہے گی جوہم پڑھنانہیں چاہتے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگاکہ قومیں ٹینکوں سے نہیں،تعلیم،عدل،اوراتحادسے بنتی ہیں؛اوراگرہم نے یہی سبق آج نہ سیکھا،توتاریخ کل ہمیں ان قوموں میں شمارکرے گی جنہوں نے چراغ لیکراپناہی گھرجلادیا۔وقت کی دہلیزپرکھڑاپاکستان ہمیں آواز دے رہاہے لوگو!تم زمین پرعدل قائم کرو،ورنہ آسمان سے انصاف اترے گااورپھرنہ تاج بچے گا،نہ تخت۔

یہ وقت تاریخ کے آئینے میں وہ لمحہ ہے جب تقدیرکی ساعتیں قوموں کے نصیب بدلنے کااعلان کرتی ہیں۔حالیہ پاک بھارت معرکہ کوئی معمولی سرحدی جھڑپ نہ تھی،بلکہ یہ ایک معرکۂ حق وباطل کی مانندتھا—جہاں ایک طرف تکبرمیں ڈوباہوابھارت اپنی عسکری وسیاسی برتری کاخواب لیے حملہ آور ہوا ، اوردوسری طرف پاکستان تھا،جس کی بنیاد”کلمۂ طیبہ”پررکھی گئی،اور جس کی خاک میں شہداءکے لہوکی مہک بستی ہے۔یہ جنگ پاکستان کیلئےمحض ایک دفاعی کوشش نہ تھی بلکہ ایک پیغام تھی ایک نئی،خوددار،عسکری وسیاسی حقیقت کاظہور،جب دنیانے دیکھاکہ پاکستان نے نہ صرف جارحیت کومؤثردفاعی حکمت عملی سے پسپاکیابلکہ عالمی سطح پرجنگی اخلاقیات، اسٹریٹیجک تحمل،اورپیشہ ورانہ عسکری صلاحیت کاوہ مظاہرہ کیاجس نے بہت سے مغربی عسکری تجزیہ نگاروں کوسوچنے پر مجبورکردیا۔
تاہم یہ تسلیم کرناہوگاکہ پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف نے جس وقار،حکمت وصلاحیت،ذمہ داری اورصبروتحمل سے میدانِ عمل اورسفارت دونوں محاذوں پرقیادت کی،وہ نئی عسکری قیادت کے ایک معتدل،پیشہ وراور ویژنری چہرے کی مظہرتھی۔یہ قیادت نہ صرف ملکی دفاع کیلئےپرعزم ہے بلکہ علاقائی توازنِ طاقت اور بین الاقوامی عسکری توازن میں پاکستان کوایک اہم فریق کے طورپرآگے لارہی ہے۔آج پاکستان کی فوج صرف جنگی قوت نہیں،بلکہ سفارتی فہم،ٹیکنالوجی،اورسی پیک جیسے کثیرالجہتی منصوبوں کی سیکیورٹی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

ایران،چین اورعالمی بیانیہ کی تبدیلی کایہ سفراسی وقت کامیاب ہوسکتاتھاجب عسکری حکمتِ عملی کوخارجہ پالیسی کی پشت پناہی حاصل ہو۔شائد پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایساہواہے کہ ایران جیسے عظیم ہمسایہ اورنظریاتی حلیف نے نہ صرف ایرانی پارلیمان میں”پاکستان زندہ باد”کے نعرے لگائے بلکہ خودایرانی صدرنے اپنی صدارت کاپہلاغیرملکی دورہ پاکستان کومنتخب کیا۔ یہ کوئی رسمی سفرنہ تھا،بلکہ اسلامی اخوت،جغرافیائی اشتراک،اورعسکری ہم آہنگی کی ایک نئی تاریخ کاآغازتھا۔ایرانی صدرکا یہ بیان”ہم پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں،جیساکہ بھائی بھائی کیلئےکھڑاہوتاہے”اس بات کااعلان ہے کہ مسلم دنیامیں اتحادکی شروعات مشرق سے ہورہی ہے۔

دوسری جانب چین کے ساتھ پاکستان کادفاعی،معاشی اوراسٹریٹیجک اتحادنئی بلندیوں کوچھورہاہے۔چیف آف آرمی اسٹاف،وزیرِ اعظم اوردیگرکلیدی رہنماؤں کے چین کے حالیہ دورے اس بات کاغمازہیں کہ پاک چین اشتراک صرف ایک سڑک یابندرگاہ کا منصوبہ نہیں رہابلکہ ایک علاقائی توازنِ طاقت کاضامن بن چکاہے۔ چین نے نہ صرف پاکستانی موقف کی حمایت کی،بلکہ ہائبرڈجنگ،سائبرسیکیورٹی،اورجدیدعسکری ٹیکنالوجی میں پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجیکل شراکت کی بنیادبھی رکھ دی ہے۔مستقبل میں یہ اتحادجنوبی ایشیامیں امن وطاقت کانیامرکزبن سکتاہے۔

اسلامی تاریخ میں وہ لمحے ہمیشہ سنہری رہے ہیں جب عسکری قوت محض فتح کیلئےنہیں،بلکہ عدل،امن،اوردین کی سربلندی کیلئےبروئے کارآئی ہو۔آج پاکستان کیلئےبھی وہی موقع ہے کہ وہ اپنی عسکری برتری کوامتِ مسلمہ کی وحدت،خطے کے امن، اورداخلی استحکام کیلئےاستعمال کرے۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان صرف ایک ریاست نہ رہے،بلکہ ایک نظریاتی رہنما بنے؛ایک ایسی قوت جومسلم دنیاکوتقسیم کی بجائے اتحادکی طرف لے جائے۔اک نئی اسلامی حکمتِ عملی سے عسکری طاقت سے نظریاتی قوت کاسفرشروع کرناہوگا۔

تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ نہ تلوارسے امن آتاہے،نہ سازشوں سے استحکام۔اگرپاکستان کوواقعی ایک مضبوط،باوقار،اور جمہوری ریاست بناناہے تونہ فوجی بالادستی کارگرہے،نہ سیاسی مکاری۔عوامی شعور،آئینی بالادستی، شفاف انتخاب،صحافت کی آزادی اورادارہ جاتی ہم آہنگی ہی وہ راستے ہیں جواس مملکت کواس کے خوابوں کی تعبیردے سکتے ہیں۔ تاریخ کی آخری پکار ہمیں آوازدے رہی ہے،قوم کاشعوربیدارہورہاہے۔دشمنوں کی صفوں میں تشویش ہے اوردوستوں کی آنکھوں میں امید۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنی شناخت کوازسرِنوپہچانیں۔یہ وقت ہے کہ ہم کہہ سکیں کہ ہم نے پاکستان کوبچایانہیں،ہم نے اسے قیادت عطا کی۔اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے،یاتوہم پھرسے داخلی سیاسی مفادات کی دلدل میں دھنس جائیں گے، یاعسکری حکمت،سفارتی شعور،اورنظریاتی استقلال کے ساتھ امتِ مسلمہ کاعلم برداربن کرابھریں گے۔

یادرکھیں!وقت کی ساعتیں منزل کی نشاندہی کرتے ہوئے آوازدے رہی ہیں کہ تاریخ کی آوازوہی قوم بنتی ہے—جووقت کے قدموں کی چاپ سن لے۔
اٹھوکہ وقت کاتقاضا ہے صداقت کی سیاست
نہ کہ آمریت کی چادر،نہ منافقت کی قبا

اپنا تبصرہ بھیجیں