A Palestinian Deal? A Funeral for Faith

فلسطین کا سودہ؟ایمان کاجنازہ

آج میرے دل کے نہاں خانوں میں ایک عجیب سی بے چینی ہے، ایسا لگتا ہے جیسے تاریخ رو رہی ہو، وقت سسکیاں لے رہا ہو، اور ملت کا ضمیر چیخ چیخ کر ہمیں پکار رہا ہو: اے غافلو اے بے حسی کے خول میں بند عاشقانِ رسول ﷺ کیا تمہیں وہ لہو یاد نہیں جو مسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پر بہا؟آج جب ہم اس منبر پر کھڑے ہیں، تو ہمارے گرد نہ خالی الفاظ ہیں، نہ محض سیاسی بیانات بلکہ ہمارے گرد بیت المقدس کی وہ فضائیں ہیں جو اب بھی اذانِ بلالی کو ترس رہی ہیں۔ ہمارے چاروں طرف غزہ کے شہید بچوں کی آہیں، یتیموں کی سسکیاں، ماؤں کی بیوگی اور فلسطینی باپوں کے کٹے ہوئے بازوؤں کی خاموش گواہیاں گونج رہی ہیں۔

آج ہم جس معاہدہ ابراہیمی پر گفتگو کرنے جا رہے ہیں، وہ کوئی معمولی معاہدہ نہیں یہ ایک امت کے شعور کا امتحان ہے، یہ تاریخ کے کٹہرے میں ہمارا مقدمہ ہے۔ آج فیصلہ یہ ہونا ہے کہ ہم فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں یا اس کے قاتلوں کے ساتھ؟ ہم اقصیٰ کے وارث ہیں یا اس کے غاصبوں کے ہمنوا؟ ہم قرآن کے پیروکار ہیں یا صیہونی سرمایہ داری کے غلام؟ اگر آج ہم خاموش رہے، تو کل ہمارے بچے پوچھیں گے آپ نے اسرائیل کو تسلیم کیوں کیا؟ کیا ہم ان کی آنکھوں میں جھانک سکیں گے؟

آج جب تاریخ کی سانس بھی تیز چل رہی ہے اور وقت کی رگوں میں اضطراب کی بجلیاں دوڑ رہی ہیں، ہمیں ایک ایسے معاہدے کا سامنا ہے، جسے دنیا نے “معاہدہ ابراہیمی کا نام دیا — مگر سوال یہ ہے کہ یہ معاہدہ ابراہیمی ہے یا ابلیسی منصوبہ؟ یہ عہدِ امن ہے یا خنجرِ نفاق؟ یہ مژدۂ محبت ہے یا محرابِ مسجد اقصیٰ پر لرزتا ہوا طعنہ؟

معاہدہ ابراہیمی2020ء میں شروع ہوا تھا۔ دراصل ایک سفارتی معاہدہ ہے جس کے تحت چند عرب ریاستوں نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی راہ اپنائی۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کر کے سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں سوڈان اور مراکش بھی اس صف میں شامل ہو گئے۔ کہا گیا کہ یہ معاہدہ “امن کی بنیاد” ہے۔ لیکن قرآن نے ہمیں سکھایا ہے

جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو اُنہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔خبردارحقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعُور نہیں۔۔۔ یہ وہی لوگ ہیں جو فساد کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم تو امن کے علمبردار ہیں (البقرہ:11-12)
اے اہلِ ایمان غور کرو کیا معاہدہ ابراہیمی کے پسِ پردہ وہی تاریخ نہیں چھپی جو بیت المقدس کی محرابوں سے لہو چھینتی رہی؟

یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا جب فلسطینی مزاحمت عالمی حمایت حاصل کر رہی تھی، اور اسرائیل عالمی سطح پر دباؤ میں تھا۔ ایسے وقت میں عرب حکمرانوں نے اسرائیل سے رفاقت کا ہاتھ بڑھا کر ایک تاریخی خیانت کی۔ یہ معاہدہ نہ صرف فلسطینی ریاست کے تصور کی نفی ہے بلکہ بیت المقدس پر صیہونی قبضے کو عملاً تسلیم کرنے کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔

یہ لوگ اللہ کے نورکوبجھاناچاہتے ہیں مگراللہ اپنے نورکومکمل کرے گا۔(الصف8)
یہ معاہدہ ایک سیاسی جال ہے، جس کے بُنے گئے دھاگے تل ابیب سے نہیں، واشنگٹن، لندن اور بعض عرب دارالحکومتوں سے کھنچتے ہیں۔ یہ فلسطین کے مقدس زخموں پر نمک پاشی ہے، یہ اسرائیل کے وجود کو دائمی بنانے کا حربہ ہے، جس کے نیچے الاقصیٰ کی آہ و بکا دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں، یہ تاریخ کے ساتھ خیانت ہے، یہ ملت اسلامیہ کے مقدسات کی نیلامی ہے۔

یہ کہہ کر بھی خوفزدہ کیا جا رہا ہے کہ آج آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے نئے چنگیزی لشکر کی صورت میں ملت اسلامیہ پر معاشی بمباری کر رہے ہیں قرض کے کوڑے، پابندیوں کی زنجیریں، ترقی کے نام پر غلامی کے معاہدے، اور اب اسرائیل کو تسلیم کرو، ورنہ امداد بند کا نیا ہتھیار ہم پر مسلط کئے جانے کا خطرہ ہے؟ کیا ہماری خودی اتنی ارزاں ہو چکی ہے؟ کیا ہم سودی قرضوں کے سوداگر بن کر ایمان کا سودا کریں گے؟

آج کچھ لوگ ایک نئی بات لے کر آتے ہیں وہ کہتے ہیں، جب عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں۔جب فلسطینی اتھارٹی کا ایک گروہ اس سے امن کی بات کر رہا ہے، جب ترکی ، مصر، اردن، حتیٰ کہ چین جیسے غیر مسلم دوست ممالک بھی اسرائیل سے تعلقات رکھتے ہیں تو پھر پاکستان کیوں تنہا کھڑا ہے؟ کیا ہم باقی دنیا سے زیادہ مسلمان ہیں؟ کیا ہم عربوں سے زیادہ فلسطینی ہیں؟ میں ان سب سوالوں کا صرف ایک جملے میں جواب دینا چاہتا ہوں”ہم اصولوں کے غلام ہیں، حالات کے نہیں”۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے اشارے کا منتظر ہے؟ سعودی عرب فی الحال اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، مگر بعض غیر رسمی تعلقات کے آثار موجود ہیں۔امریکی دباؤ کے تحت معاملات چل رہے ہیں۔ پاکستان اگر اس معاملے پر سعودی عرب کی پیروی کرے گا تو یہ اپنی خارجہ پالیسی کو گروی رکھنے کے مترادف ہوگا۔ قائداعظم نے تو صراحتاً یہ فرمایا تھا ہم کسی ایسی ریاست کو تسلیم نہیں کر سکتے جو ظلم و غصب کی بنیاد پر قائم ہو اسرائیل کو جبر کے ساتھ فلسطینی زمین پر قائم کیا گیا ہے اور ہم اسے ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔

پاکستان ہمیشہ امتِ مسلمہ کی وحدت کے نام پراپنے مؤقف کو مؤخر کرتا رہا ہے۔ مگر کیا غیرتِ ملی کسی دوسرے کےفتوے کی محتاج ہے؟ ہم نے قیامِ پاکستان کے وقت بھی خلافتِ عثمانیہ کی لاش پر جشن نہیں منایا تھا، ہم نے فلسطین کی حمایت میں قائداعظم کے لبوں سے اسرائیل کو غاصب کہا تھا، قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا بیان یاد کروادوں کہ یہودیوں کو فلسطین میں بسانا ایسی ہی ناانصافی ہے جیسے ہندوستان میں مسلمانوں کو اقلیت میں بدل دینا۔اگر عرب حکمرانوں نے سیاسی مصلحت سے سمجھوتا کیا، تو کیا ہم بھی غیرتِ ایمانی کا جنازہ نکال دیں؟ اگر فلسطینی قیادت کا ایک دھڑا غلامی کی راہ پر مائل ہوا، تو کیا ہم بھی کعبے کے بجائے تل ابیب کی طرف منہ کر لیں؟ کیا ہم سعودی اشارے کے منتظر رہ کر اپنے اصول قربان کریں؟ یا اسلامی اخوت کے نام پر اپنے عقائد بیچ ڈالیں؟

یاد رکھیں ہم عربوں کے تابع نہیں، ہم قرآن کے تابع ہیں، ہم کسی حکومت کے فیصلے کے قائل نہیں، ہم شہداء کے خون کے وارث ہیں۔ اگر ہم سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش رہیں، تو ہم صرف فلسطین کے نہیں، اپنے ایمان کے بھی مجرم ہوں گے۔

رہا مسئلہ چین کا تو کیا چین نے اسرائیل کو امت کے مقدسات تسلیم کر کے مانا ہے؟ نہیں، چین کا تعلق صرف معاشی اور تکنیکی بنیادوں پر ہے، نہ وہ القدس کا وارث ہے، نہ قبلہ اول کی حفاظت کا دعویدار۔ اور ترکی اگرچہ اس نے سفارتی تعلقات رکھے، لیکن صدر اردوغان کی زبان آج بھی فلسطینیوں کے حق میں شعلہ بیاں ہے، ترکی کے عوام آج بھی بیت المقدس کے سپاہی ہیں۔ تو ہم کیوں ان تعلقات کو ایمان کا معیار بنائیں؟

پاکستان اس وقت مغربی مالیاتی نظام کی زنجیروں میں پھنسا ہوا ہے۔ آئی ایم ایف اور فیٹف کی شرائط میں جکڑا ہوا ہےاور یقیناً پاکستان اس چنگل سے نکلنے کیلئے تگ ودو میں مصروف ہے لیکن یہ بھی عین ممکن ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے اپنے سامراجی آقاؤں کے اشارے پر معاشی چابک استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کروانے کے لیے مزید قرضوں کی شرائط ، مالی بحرانوں کی آڑ میں امداد کی بندش کی دھمکیاں استعمال کریں اور اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری خودداری کا جنازہ ہوگا۔

دور نہ جائیں،ابھی کل ہی کی بات ہے کہ پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اسرائیلی معاونت سے خاکم بدہن پاکستان کو نیست ونابود کرنے نکلا تھا،شیطان صفت ٹرائیکا کا دعویٰ تھا کہ پاکستان چندگھنٹوں میں گھٹنے ٹیک کر سرخم کردے گا لیکن اس کے نتیجے میں کیا ہوا؟2024ء کے اواخر میں پاک-بھارت لائن آف کنٹرول پر جب کشیدگی بڑھی، تو بھارتی میڈیا اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اعتراف کیا کہ اسرائیل نے بھارت کو ڈرون ٹیکنالوجی، لیزر گائیڈڈ میزائل، اور سائبر جاسوسی سہولیات فراہم کیں۔بھارت نے اپنے اتحادیوں کی مکمل مدد کے ساتھ 6 مئی 2025ء کو پاکستان کے چھ مقامات پر میزائل فائر کرکے جنگ کا آغاز کردیا اور یہ بھی سننے کو ملا کہ اسرائیل نے اپنے کامی کاز ہاروپ ڈرون کے ساتھ اس کے آپریٹرز بھی یہ کہہ کر انڈیا روانہ کر دیئے کہ صرف 4 ڈرون ہی پاکستان کیلئے کافی ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف 69 ہاروپ ڈرون تباہ کئے بلکہ 9 ڈرونز کو ان کی ساری ٹیکنالوجی پر سبقت حاصل کرکے انہیں بحفاظت نیچے اتار لیا گیا۔ بھارت کی جانب سے بعض میزائل حملوں میں اسرائیلی ساختہ اسلحہ استعمال ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسرائیل نہ صرف پاکستان کا دشمن ہے بلکہ اسلام دشمنی میں بھارت کا ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے۔

سب سے پہلے عراق کے ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرکے اسے تباہ کرنا، اس کے بعد عرب ممالک پر اسرائیلی حملے، لبنان پر حزب اللہ کے خلاف بمباری، غزہ پر روزانہ فضائی حملے، یمن میں آئے دن وحشیانہ حملے، کیا یہ سب اقدامات بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی نہیں ہیں؟ کیا یہ خطے میں کشیدگی کی آگ بھڑکانے کی سازش نہیں ہیں؟ 2025ء کے آغاز میں اسرائیل نے شام اور عراق میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور ایران کے اندر خفیہ کارروائیوں کا اعتراف بھی کیا لیکن اس کے بعد حالیہ حملوں میں اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے مل کر اس خطے میں جو تباہی مچائی ہے، کیا وہ ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے؟ اس وقت ایک ملین سے زائد انڈین اسرائیل کے کرایہ کے سپاہیوں کے طور پر غزہ اور دیگر مسلمان ملکوں پر حملوں کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھ کر لڑ رہے ہیں اور ہمارے خلیجی ممالک اب بھی آنکھیں بند کرکے ان کی سرپرستی میں مصروف ہیں۔ کیا ان شرمناک عمل کے بعد ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کی تائید کرتے ہوئے مسلمانوں کے ازلی دشمنوں کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے سامنے سر جھکا دیں؟ یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے! میں پورے یقین کے ساتھ یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ابراہیمی معاہدے کی آڑ میں مسلم امہ کی تقسیم ایک اور خطرناک ہتھکنڈہ ہے جس کا مطلب نہ صرف مسلمانوں کو ان کے دین سے برگشتہ کرنا بلکہ یہود ہنود کے ایجنڈے کو مسلط کرنا ہے؟کیا ہمیں قرآن اور شہداء کی زبان کافی نہیں؟ ظالموں کی طرف جھکنا بھی آگ کو دعوت دینا ہے۔(ھود:113)

کیا اسرائیل کو تسلیم کرنا لازم ہو گیا؟ نہیں ہرگز نہیں تاریخ کے ضمیر پر، قرآن کے حکم پر، اور ملت کی غیرت پر یہ فرضِ عین ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا، ظلم کی تائید، ناجائز قبضے کی سند اور شہداء کے خون کی توہین ہے۔

یاد رکھیں کہ پاکستانی عوام کے دل بیت المقدس کی گلیوں میں دھڑکتے ہیں۔ فلسطینی بچّے ہمارے خوابوں میں آتے ہیں۔ اور اگر حکومت نے کسی بین الاقوامی دباؤ کے تحت اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشس کی، تو عوامی بیداری ایک طوفان بن جائے گی۔

آئیےقرآن کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا دینی، اخلاقی، اور سیاسی لحاظ سے کیا درست ہے؟
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔(المائدہ:51)
یہ آیت ایک فکری اصول ہے۔ سیاسی لحاظ سے اسرائیل ایک جارح ریاست ہے جو اقوامِ متحدہ کی درجنوں قراردادوں کی خلاف ورزی کر چکی،جنہوں ہے۔بچوں، عورتوں، اور بےگناہوں کا قاتل ہے۔ نسل پرستی،دہشتگردی اور نے تمہارے قبلۂ اول پر قبضہ کیا، تم ان سے دوستی کیسے کر سکتے ہو؟

فسطائیت کی علامت بن چکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت پاکستان عوامی دباؤ کا مقابلہ کر پائے گی؟ جبکہ پاکستانی عوام بیت المقدس کی آزادی کو ایمان کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل کے خلاف ہر سطح پر نفرت رکھتے ہیں۔ فلسطینیوں کے ساتھ قلبی و روحانی رشتہ رکھتے ہیں۔ اگر حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اشارہ بھی دیا تو عوامی مزاحمت، تحریکوں، جلسوں، اور دھرنوں کا طوفان آئے گا۔ سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو انتخابی نعرہ بنا دیں گی۔ علمائے کرام، مدارس، اور دینی تنظیمیں سڑکوں پر آئیں گی اور یہی ہمارا دشمن چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی انتشار کو اس قدر بڑھا دیا جائے کہ ان کے اندر یکجہتی کو ختم کرکے خانہ جنگی کا آغاز کرا دیا جائے اور اسی کی آر میں خاکم بدہن یہ کہہ کر پاکستان کے ایٹمی اثاثہ جات کی حفاظت کیلئے مداخلت ضروری ہو گئی ہے کہ یہ اثاثہ جات کسی دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ بھلا ان سے بڑھ کر پاکستان کااور کون دشمن ہو سکتا ہے؟

یاد رکھیے! جس طرح ہم ایک لاکھ سے زائد مظلوم کشمیریوں کی شہادتوں کو نہیں بھولے اور نہ ہی اس پر خاموش ہیں، اسی طرح ہم فلسطین پر بھی سوداگری نہیں کریں گے۔ ہم وہ امت ہیں جسے قرآن نے خیرِ امت کہا ہے:(العمران:110)

اے اہلِ ایمان! کیا آپ کو بیت المقدس کی مٹی یاد ہے؟ وہی مٹی… جس پر نبیوں کے قدموں کے نشان ہیں؟ کیا آپ کو وہ درو دیوار یاد نہیں، جن پر اذانِ عمرؓ کی گونج نقش ہے؟ کیا آپ بھول گئے وہ قبلۂ اول… جس کی طرف ہمارے محبوب نبی ﷺ نے ہجرت کے بعد سجدہ کیا تھا؟ بتائیں کیا وہی سرزمین آج صیہونی ظلم کے بوٹوں تلے روندی نہیں جا رہی؟ کیا ہم نے غزہ میں معصوم بچوں کی لاشیں نہیں دیکھیں؟ کیا ہم نے ایک باپ کو اپنے بیٹے کا کٹا ہوا بازو اٹھاتے نہیں دیکھا؟ کیا ہم نے ان کے ہاتھوں پر بچوں کے خون آلودہ لاشے نہیں دیکھے؟

کیا ہم نے ماؤں کو اپنے شہید بیٹوں کے کفن چومتے ہوئے نہیں سنا، وہ کہہ رہی ہوتی ہیں، اے میرے لعل تجھے تو میں نے حافظِ قرآن بنایا تھا… تو تو مسجد اقصیٰ کا امام بننے والا تھا؟آپ ہی بتائیں کہ کیا ہم اب بھی اسرائیل کو دوست کہیں؟ کیا معاہدہ ابراہیمی میں امن ہے؟ یا فلسطین کی روح کا قاتلانہ سودا؟

یاد رہے پاکستان کا مقام امت مسلمہ کی غیرت کے مینار جیسا ہے، اوروہ مینار جو بپھرتے سمندروں کی لہروں میں بڑے بڑے جہازوں کے راستے کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ راستہ نہ بھولیں۔ پاکستان وہ ملک ہے جس کا نقشہ بیت المقدس کے لیے بھی کھنچا گیا تھا، وہ قوم ہے جس نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف پہلا ووٹ دیا،پاکستان وہ ریاست ہے جس کے پاس ایمان، ایٹم، اور امت کی امید تینوں ہیں۔اگر پاکستان جھک جائے، تو صرف ایک ریاست نہیں، پورا عالمِ اسلام زمین بوس ہو جائے گا۔

آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم حق و باطل کی سرحد پہ ڈٹ جائیں۔ ہمیں معاہدہ ابراہیمی کے نقاب میں چھپے صیہونی فریب کو بےنقاب کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نسلوں کو ایمان، غیرت، اور اخوت کیلئے وہ چراغ بننا ہوگا جو ظلم کی ہر آندھی کو شکست دے دے۔ یاد رکھیے اگر ہم خاموش رہے، تو تاریخ کے صفحے ہمارے ضمیر کی لاش سے بھرے ہوں گے۔

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔(العمران:85) گویا اسرائیل کو تسلیم کرنا، دنیا وآخرت کا خسارہ ہے۔ یہ دینی خیانت ہوگی، تاریخی بدعہدی ہوگی، اور سیاسی خودکشی ہوگی۔

آج ہم تاریخ کی اُس گھڑی میں کھڑے ہیں، جہاں خاموشی — خیانت بن جائے گی، جہاں مصلحت — بےغیرتی کہلائے گی، اور جہاں “دباؤ” کا مطلب — “ضمیر کا قتل” ہو گا۔ اب یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیا ہم اسرائیل کو تسلیم کریں؟ کیا ہم مسجد اقصیٰ کے غاصبوں سے دوستی کریں؟ کیا ہم قائد اعظم، علامہ اقبال اور اس کیلئے ملین سے زائد شہداء کے پاکستان کو صیہونیت کے قدموں میں ڈال دیں؟ کیا ہم قبلہ اول کی غیرت کا سودا کریں گے؟ تو پھر یاد رکھیں، آج جو ہم کہہ رہے ہیں، وہ صرف الفاظ نہیں یہ امت کا عہد ہے کہ فلسطین کی آزادی تک ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے، اسرائیل کو تسلیم کرنا ہمیں منظور نہیں، ہم اپنے بچوں کو کشمیر و فلسطین کی محبت کے ساتھ زندہ رکھیں گے:
یہ لا الٰہ الا اللّٰہ کا وعدہ ہے، یہ کربلا کے وارثوں کی پکار ہے، نہ بیت المقدس بھولیں گے، نہ فلسطین چھوڑیں گے، نہ اسرائیل کو مانیں گے، نہ کشمیر کو فراموش کریں گے اور نہ کسی قرض کے بدلے ایمان بیچیں گے۔ آج ہم اس منبر سے ایک صدا بلند کرتے ہیں وہ صدا جو علیؓ کے لہجے میں غیرت، خالدؓ کے تیور میں جرأت، اور عمرؓ کی نگاہ میں عدل بن کر گونجتی ہے اور وہ گونج ہے کہ نہ جھکیں گے، نہ بکیں گے، نہ اسرائیل کو تسلیم کریں گے، اور نہ فلسطین کو فراموش کریں گے کیونکہ ہمیں قرآن نے سکھایا ہے
کمزور نہ پڑو، غم نہ کرو، تم ہی غالب ہو اگر تم مؤمن ہو(العمران:139)

🤲 اختتامی دعا بیت المقدس کا چراغ بجھنے نہ پائے

اے اللہ! فلسطین کے مظلوم اور کمزور مسلمانوں کی مدد فرما، ہمیں اپنے دین پر ثابت قدمی عطا فرما، اور ہمیں ہدایت دے سیدھے اور کامیاب راستوں کی طرف۔ جس میں تیرے فرمانبرداروں کو عزت حاصل ہو۔۔۔ اور تیرے نافرمان ذلیل و رسوا ہوں۔ اے اللہ! اس امت کے لیے ایسا صالح نظام قائم فرما جس کی منزل دنیا وآخرت کی کامیابی ہو۔
اے اللہ!ہم تیرے عاجز بندے ہیں، ہم نہ بادشاہ ہیں، نہ جرنیل، ہم تو صرف تیرے نبی ﷺ کے امتی ہیں، جن کی آنکھوں کا نور اقصیٰ ہے، جن کے دل کا سکون کعبہ ہے، اور جن کے خون میں فلسطین کی خاک گھلی ہوئی ہے۔ یا اللہ جو مسجد اقصیٰ کو غاصبوں سے بچانے نکلے، ان کی راہ آسان فرما، جو بیت المقدس کی طرف نظریں بلند رکھے، اسے دنیا و آخرت میں سرفراز فرما۔۔ اور جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازش میں شریک ہو، اسے ہدایت دے… یا پھر عبرت بنا دے۔۔ یا رب ہمیں غیرت دے، ہمیں جرات دے، ہمیں استقامت دے، تاکہ ہم آنے والی نسلوں کو کہہ سکیں،”ہم نے ایمان بچایا، ہم نے فلسطین نہیں بیچا ۔۔۔آمین یا رب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں