The path to economic development from natural resources

قدرتی وسائل سے اقتصادی ترقی کا راستہ

پاکستان معدنی وسائل کے اعتبارسے دنیاکے ان چندممالک میں شامل ہے جہاں قدرتی دولت بے شمارہے۔پاکستان میں معدنیات کے ذخائرکوعمومی طور پرتین بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتاہے۔اسٹریٹجک منرلزمیں تانبا،سونا،لیتھیئم،ریئرارتھ منرلز،کرومائٹ–یہ دفاعی ،الیکٹرانکس اورگرین ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔انرجی منرلزمیں کوئلہ،یورینیئم،گیس وتیل–توانائی اور جوہری پروگراموں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔صنعتی وقیمتی پتھرنمک چوناپتھر،جپسم،بیراٹ،ماربل،زمرد،یاقوت،نیلم–یہ تعمیرات،زراعت اور جیولری انڈسٹری میں استعمال ہوتے ہیں۔

معدنیات کے ذخائرنہ صرف ملک کی اقتصادی بحالی میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں بلکہ اسے عالمی منڈی میں ایک اسٹریٹجک پوزیشن پربھی لاسکتے ہیں۔ تاہم، ان وسائل سے مکمل فائدہ نہ اٹھانابیوروکریسی،سیکیورٹی،سیاسی عدم استحکام اورشفافیت کے فقدان جیسے مسائل کی نشاندہی کرتاہے۔یہ معدنیات نہ صرف ملک کی اقتصادی ترقی کیلئےکلیدی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئےبھی کشش کاباعث ہیں۔

اگرچہ سندھ کوبلوچستان کی طرح معدنیات کامرکزنہیں سمجھاجاتا،لیکن اپریل2025کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق صرف سندھ تھرپارکرمیں185/ ارب ٹن کوئلے کے ذخائرموجودہیں جواسے نہ صرف دنیاکے سب سے بڑے لیگنائٹ کوئلے کے حامل علاقوں میں شامل کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کیلئےکئی دہائیوں تک کافی ہوسکتاہے۔اسے عالمی سطح پرکوئلہ مرکزکانام دیاگیاہے۔تھرکاعلاقہ دنیاکے ساتویں بڑے لیگنائٹ کوئلے کے ذخیرے کاحامل ہے۔ یہاں سے حاصل ہونے والاکوئلہ کئی توانائی منصوبوں کاایندھن فراہم کررہاہے،جن میں تھرکول پاورپلانٹس،چینی کمپنیوں کی سی پیک کے تحت سرمایہ کاری میں پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ چلنے والے ماڈل بجلی کے کارخانے اسی کوئلہ سے چل رہے ہیں۔

جپسم سندھ میں دادواورجامشوروکے علاقوں میں وافرمقدارمیں پایاجاتاہے اورتعمیراتی صنعت میں دیواریں بنانے اورسیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے ۔سندھ میں نوری آباد،ٹھٹھہ وغیرہ میں سونے اورپتھرکے وسیع ذخائرہیں اوریہ سیمنٹ فیکٹریوں کے بنیادی خام مال میں استعمال ہوتاہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق(نگرپارکر)سندھ میں بھی سونے کے ذخائرکی نشاندہی ہوئی ہے،تاہم تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ تاہم ایک عرصے سے ننگرپارکر کے پہاڑی سلسلوں سے گلابی اورسفیدرنگ کے گرینائٹ پتھراورماربل نکالے جا رہے ہیں۔ یہ پتھر تعمیرات، برآمدات اور فرنیچر انڈسٹری میں کام آتے ہیں۔مری گیس فیلڈزسندھ کی توانائی خودکفالت کابڑاذریعہ ہیں۔یہ ذخائرسندھ کوتوانائی کامرکزبناتے ہیں۔

جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کوبجاطورپرپاکستان کا”منرل ہب”کہاجاتاہے۔اس کی زمین معدنیات کامرکزہے اوراسی لئے بلوچستان میں دشمن قوتیں شورش پھیلارہی ہیں۔ریکوڈک اور سیندک–سونے اورتانبے کی کانیں بلوچستان کی معدنیات کے وہ چھپے ہوئے قدرتی خزانے ہیں جوملک کی تقدیرسنوارنے کیلئے کافی ہیں۔مشہورریکوڈیک پراجیکٹ میں2022ءکے معاہدے کے مطابق بیرک گولڈ کینیڈین کمپنی کا50فیصد،صوبہ بلوچستان25فیصداور مرکزحکومت پاکستان25فیصدحصص کے شراکت دارہیں۔ریکوڈیک میں9-5ملین اونس سونے کے5-41ملین ٹن تانبے کے ذخائرموجودہیں اوراس کےعلاوہ دنیاکے سب سے بڑے غیردریافت شدہ کاپرکےذخائربھی دریافت ہوئے ہیں۔اس پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت ایک اندازے کے مطابق4لاکھ ٹن سالانہ تانبہ اورڈھائی لاکھ اونس سالانہ سوناپرمشتمل ہے۔کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے پہلے مرحلے میں2028میں ساڑھے پانچ بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کا اعلان کیاہے۔انہوں نے ڈھائی لاکھ ٹن تانبہ اوردولاکھ اونس سالانہ پیداوار کاہدف رکھاہے جسے وہ بتدریج سرمایہ کاری بڑھاتے ہوئے پیداوارمیں بھی اضافہ کریں گے۔وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی الحال ہرسال1.5سے2ٹن سونانکالاجاتاہے۔ریکوڈک کی مکمل فعالیت کے بعدیہ پیداوار8سے10ٹن سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔یادرہے کہ ماضی میں یہ پراجیکٹ معطل کردیاگیاتھالیکن کینیڈین کمپنی کی طرف سے عالمی عدالت میں مقدمہ دائرکردیا گیاجس نے پاکستان پرنہ صرف بھاری جرمانہ عائدکردیابلکہ تاوان کی خاصی بڑی رقم اداکرنے کافیصلہ سنایاتھالیکن بعدازاں موجودہ حکومت کے مذاکرات کے بعداس معاملہ کوسلجھا کر نئے معاہدہ تیارکیاگیا۔

چاغی کاعلاقہ،جسے”سویاہوادیو”بھی کہاجاتاہے،معدنی دولت سے مالامال ہے۔جس کے بارے میں اسے پاکستان میں معدنیات کاسب سے بڑاگڑھ کہاجا رہاہے۔ضلع چاغی میں واقع یہ علاقہ دنیاکے سب سے بڑے تانبے اورسونے کے ذخائرمیں شامل ہے۔ابھی تک اس کاتخمینہ لگانے کیلئے ماہرین کی تحقیقی کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔چاغی اورخضدارمیں لیتھیئم وریئر ارتھ منرلزکی موجودگی کے مضبوط شواہد کے بعداس پرکام شروع ہوچکاہے۔خضدار،قلات، مستونگ،لسبیلہ اورمسلم باغ قلعہ سیف اللہ میں بیراٹ،لیتھیئم،ریئر ارتھ منرلزفلورائٹ،سیسہ وزنک اورکرومائٹ کے ذخائردریافت ہوچکے ہیں۔ مقامی صنعتوں کیلئے سررینج،مچِ،ڈگی،خوست میں وافرمقدارمیں کوئلہ موجودہے۔

اسی طرح 1973ءمیں پہلا میٹالک مائننگ پروجیکٹ سیندک میں چینی کمپنی کی نگرانی میں تانبہ اورسونانکالنے کاعمل شروع ہو چکاہے جہاں سینکڑوں ملین ٹن خام مال کے پیداواری عمل کا آغازہوچکاہے لیکن عالمی سازش کے تحت بھارت اپنے غیرملکی آقاؤں کی پشت پناہی سے ان مخصوص علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بد امنی اورشورش پھیلاکرسیکورٹی کی غیریقینی صورتحال کاپروپیگنڈہ کرکے غیرملکی سرمایہ کاروں کے درمیان شکوک وشبہات بڑھانے کی کوشش کررہاہے جس کامقابلہ ہماری پاک افواج بڑی جوانمردی سے کررہی ہے۔تاہم بیوریوکریسی کی رکاوٹوں،شفافیت کے فقدان کی وجہ سے مقامی افرادکی شکایات اوربداعتمادی کوفوری دورکرنے کی بھی اشدضرورت ہے۔

نیشنل ریسورسزلمٹیڈکے حالیہ دعویٰ کے مطابق تنگ کور(چاغی)میں نئے سونے اورتانبے کے ذخائرملے ہیں۔کمپنی کے مطابق عالمی ماہرین اورسرمایہ کاراس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔یہ دریافت ریکوڈک اورسیندک کے بعدایک نیاباب کھول سکتی ہے، بشرطیکہ اس پرسنجیدگی سے عمل ہو۔خیبرپختونخواہ بھی بھی ہمارے ملک کی قسمت بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ صرف قدرتی حسن میں ہی نہیں بلکہ معدنیات میں بھی مالا مال ہے۔ خیبرپختونخوا پہاڑوں کے نیچے چھپے خزانے قیمتی پتھروں کی شکل میں موجود ہیں۔ عالمی جیولری مارکیٹ میں بلند مقام وادی سوات میں زمرد، ہنزہ میں یاقوت، مردان میں گلابی ٹوپاز کٹلاگ،چترال میں ایکو امرین،نیلم ویلی میں نیلم، کو ہستان میں پیریڈوٹ کا وافر ذخیرہ دریافت ہو چکا ہے۔ جواہرات اور انرجی ریزروز کا پوشیدہ خزانہ جس کی عالمی مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی مارکیٹ موجود ہے۔

خیبرپختونخوابھی ہمارے ملک کی قسمت بدلنے کی اہلیت رکھتاہے۔یہ صوبہ صرف قدرتی حسن میں ہی نہیں بلکہ معدنیات میں بھی مالامال ہے۔خیبرپختونخوا پہاڑوں کے نیچے چھپے خزانے قیمتی پتھروں کی شکل میں موجودہیں۔عالمی جیولری مارکیٹ میں بلند مقام وادی سوات میں زمرد،ہنزہ میں یاقوت،مردان میں گلابی ٹوپازکٹلاگ،چترال میں ایکوامرین،نیلم ویلی میں نیلم، کوہستان میں پیریڈوٹ کاوافرذخیرہ دریافت ہوچکاہے۔جواہرات اورانرجی ریزروزکا پوشیدہ خزانہ جس کی عالمی مارکیٹ میں اربوں ڈالرکی ڈیمانڈ موجودہے۔چترال،سوات،مانسہرہ اوربنیرمیں دریاؤں کی ریت میں سونے کے ذرات کی موجودگی کی اطلاعات پرپلیسرگولڈکی موجودگی کی نشاندہی پراس منصوبہ پربھی کام شروع کرنے کا اعلان ہواہے۔جی ایس پی نے دربند،مانسہرہ، اور دیگر علاقوں میں جیوکیمیکل اورجیوفزیکل سروے کیے ہیں ۔

دیگرمعدنیات کے ذخائرمیں مہمندووزیرستان میں کرومائٹ،ہزارہ میں فاسفیٹ،مالاکنڈ،ہری پورمیں صابن پتھراورمئیکاشیرون، کوہاٹ ہنگو،کرک میں گیس،تیل،کوئلہ کاوافر ذخیرہ دریافت ہوچکا ہے۔اسی طرح ماربل صنعت میں سوات اورمہمندکے عالمی شہرت کاحامل سفیدماربل(زیارت وائٹ) دریافت ہوچکاہے۔اس دریافت کے بعد ہزاروں مقامی لوگ کان کنی اورپالشنگ سے منسلک ہیں۔

دیگرذخائرمیں کوہاٹ،شمالی وزیرستان،کرک،ہنگوسے تیل اورگیس،سوات اورمہمندکامشہور”زیارت وائٹ ماربل”کے خزائن دریافت ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں ماڑی انرجیز کی شمالی وزیرستان میں انعام ربانی کے طورپرگیس وتیل کی تازہ دریافتیں بھی ہماری منتظرہیں جہاں سے روزانہ70ملین مکعب فٹ گیس اور310بیرل کنڈینسیٹ کی پیداوارکاآغازہوچکاہے جوملکی خودانحصاری کی طرف اہم پیش رفت ہے۔یادرہے کہ سمندر میں تیل اورگیس کی تلاش میں پاکستانی کمپنیاں ماڑی انرجیز،اوجی ڈی سی ایل اورپی پی ایل اورترکی میں معاہدہ ہوچکاہے اورجلدہی اس سلسلے میں پاکستان کیلئے اچھی خبریں متوقع ہیں۔

پاکستان دنیاکے بڑے نمک برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ہمالین پنک سالٹ دنیابھرمیں مقبول ہے۔کھیوڑہ،واری،کالاباغ جیسے علاقوں میں قدرتی نمک کی کانوں کی وجہ سے ساری دنیامیں ایک ممتازمقام کاحامل ہے لیکن ہماری عدم توجہ سے ملک کوجونقصان ہورہاہے، اس کاتذکرہ مضمون کے آخر میں کروں گا۔

پنجاب نمک،کوئلہ اورفولادکے ذخائر سے مالامال ہے۔پنجاب میں معدنیات کاسب سے اہم خطہ سالٹ رینج ہے،جہاں مختلف قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں۔کھیوڑہ کی کان دنیاکی دوسری بڑی کان تصورکی جاتی ہے۔اسی طرح صوبہ پنجاب میں صنعت وحرفت، تعمیرات کابنیادی کام مال جپسم،کوئلہ،چونااور پتھرکے اہم ذخائرموجودہیں۔

چینی ماہرین نے2015ءمیں چنیوٹ میں اعلیٰ معیارکے(لوہے)کے بڑے ذخائردریافت کیے تھے۔جس کاباقاعدہ وزیرِاعظم نوازشریف نے چنیوٹ پنجاب میں سونے،تانبے اورلوہے کی دریافت کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کاعندیہ دیاتھا۔2015میں نوازشریف نے چنیوٹ میں لوہے کے ہزاروں ٹن ذخائرکی موجودگی کاباقاعدہ اعلان کیا۔ اس موقع پرماہرین نے حکومت کومشورہ دیاکہ اس علاقے میں تانبے کے ذخائر پرزیادہ توجہ دی جائے،کیونکہ تانبہ سونے کے ساتھ بطورایسوسی ایٹ دھات نکلتاہے۔نوازشریف نے اس موقع پریہ بھی کہاکہ پاکستان کومعدنیات اور کوئلے کے ذخائرسے خودکفیل بنایاجاسکتاہے اوراس سے ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے لیکن نجانے آج تک کیوں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات اورترقیاتی عمل سست روی کاشکاررہا۔

نومبر2024میں پنجاب منرل کارپوریشن کے سربراہ ڈاکٹرثمرمبارک مندنے چنیوٹ منصوبے کی چھ سالہ ایکسپلوریشن پراجیکٹ کے نتائج کااعلان کیا۔ اس پراجیکٹ میں261.5ملین ٹن اعلیٰ معیارکے لوہے اور36.5ملین ٹن تانبے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی،چنیوٹ میں سٹیل مل اورکاپرریفائنری سے سالانہ4.5ملین ٹن99.6 فیصدخالص لوہااور 1.5 لاکھ ٹن خالص تانبہ حاصل کیاجاسکے گا۔تاہم،ڈاکٹرثمرمبارک مندکے مطابق، اس تحقیق میں سونے کی موجودگی سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ایک مرتبہ پھرغیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کیلئے اس کوبھی عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کامرکزبنانے کی منصوبہ بندی کااعلان کیاگیاہے۔

تانبہ اورسونے کی موجودگی نے اسے ایک اسٹریٹیجک مقام بنادیاہے لیکن ابھی تک چیلنج باقی ہے کہ صنعتی بنیادوں پرنکاسی کاعمل ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔ پنجاب کے دیگروسائل میں خوشاب اوراس کے گردونواح میں کھادمیں استعمال فاسفیٹ کے ذخائرملکی ترقی میں اپناحصہ ڈالنے کیلئے تیارہیں۔علاوہ ازیں سیمنٹ فیکٹریوں کاخام مال،چوناپتھر اورجپسم وافرمقدارمیں موجودہے۔
پاکستان میں وقتاًفوقتاًقیمتی دھاتوں خصوصاًسونے کی دریافت سے متعلق بلندوبانگ دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔حال ہی میں پنجاب کے وزیرمعدنیات شیرعلی گورچانی نے اٹک میں 700ارب روپے مالیت کے سونے کے ذخائرکی موجودگی کادعویٰ کیاہے،جس نے میڈیااورعوامی حلقوں میں دلچسپی کوجنم دیاہے۔سوال یہ ہے کہ کیایہ محض دعوے ہیں یاواقعی پاکستان سونے جیسی قیمتی دھات سے مالامال ملک بننے کی صلاحیت رکھتاہے؟

پنجاب کے صوبائی وزیرمعدنیات کے مطابق اٹک کے32کلومیٹرکے علاقے میں28لاکھ تولے سوناموجودہے۔اس سونے کی موجودہ مالیت600 سے 700 ارب روپے بنتی ہے۔سابق نگران وزیرابراہیم حسن مرادکے مطابق یہاں دریائے سندھ اوردریائے کابل کے سنگم پر مقامی افرادمشینوں کے ذریعے سونانکالنے کی کوشش کررہے تھے۔جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے25کلومیٹرکے علاقے سے500نمونے حاصل کیے جن میں سونے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔یہ دعویٰ اگردرست ثابت ہوتاہے تویہ پاکستان کیلئےایک اہم اقتصادی پیش رفت ہوسکتی ہے،تاہم اس کی مکمل تصدیق اورتجارتی پیمانے پراستفادہ ابھی باقی ہے۔

ماضی میں سیندک اورریکوڈک جیسے منصوبے تکنیکی ومالی وجوہات کی بناپرتاخیرکاشکارہوتے رہے ہیں۔غیرملکی سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ،خاص طورپر قانونی تنازعات کے باعث،ترقیاتی عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔کھدائی اورکان کنی کے دوران ماحولیات اورمقامی آبادی کے حقوق کاتحفظ بھی ایک چیلنج ہے۔اکثردعوے میڈیامیں توآتے ہیں لیکن ان پرعملدرآمد، آزادانہ جانچ یا تفصیلی رپورٹس دستیاب نہیں ہوتیں۔

پاکستان کے شمالی علاقے،جیسے گلگت بلتستان،ہنزہ،اوراپردیر،سونے کے ذخائرکے حوالے سے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ان علاقوں میں سونے کی موجودگی کی تحقیقات مختلف جیولوجیکل ماہرین نے کی ہیں۔شعبہ جیالوجی کے ماہرین کے مطابق سونازیادہ تر”اگنیس”اور”میٹامورفک”کے پتھروں میں پایاجاتاہے جوپاکستان کے شمالی علاقوں میں کثیرتعدادمیں موجودہیں۔اسی طرح جیالوجی کے ایک ماہرپروفیسرنے کہاکہ گلگت،ہنزہ اورغزرکے علاقوں میں سونے کے ذخائرکی موجودگی کے کافی امکانات ہیں۔ان کے مطابق،اپردیرسے لے کرچترال تک کے علاقے میں تانبہ بڑی مقدارمیں پایاجاتاہے اور سونا اکثر تانبے کے ذخائرکے ساتھ بطورایسوسی ایٹ دھات نکلتاہے۔

ماہرین نے اس بات کی وضاحت کی کہ سوناجب پہاڑی علاقوں سے دریاکے ذریعے بہتاہے،تووہ اپنے ساتھ پتھروں میں موجودسونے کے ذرات لے آتاہے۔جب دریامیدانی علاقوں میں داخل ہوتاہے،تواس کے بہاؤکی رفتارکم ہوجاتی ہے اور سونے کے ذرات دریاکی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں،جس سے ان ذخائرکی تشکیل ہوتی ہے۔ایسے سونے کو”پلیسرگولڈ”کہا جاتاہے۔دریائے سندھ کے شمالی علاقے سے لے کراٹک تک کئی مقامات پرپلیسرگولڈکے ذخائرپائے جاتے ہیں،اوریہاں مقامی سطح پرلوگ ان ذخائرکونکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم،یہ ذخائراتنی بڑی مقدارمیں نہیں ہوتے کہ ان سے تجارتی سطح پرفائدہ اٹھایاجاسکے۔

ابھی حال ہی میں ان تمام معدنیات کے بارے میں حکومت پاکستان کادعویٰ”یہ معدنیات سیکٹرکھربوں ڈالرزکی قدررکھتاہے،اس سلسلے میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم2025کے انعقادکے موقع پرامریکا،چین،سعودی عرب سمیت دیگر20ممالک کے اعلیٰ سطحی وفودکی بھرپورشرکت سے پاکستان نے ایک نئے عزم کے ساتھ قومی خودانحصاری کاجوسفرشروع کیاہے، اس میں بیریک گولڈ(بیرک گولڈ)،ریوٹنٹو(ریوٹنٹو)،بی ایچ پی بلٹن(بی ایچ پی بلیٹن) جیسے عالمی ادارے بھی شامل ہوئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان میں داخلی سلامتی کی صورتحال کومضبوط کرنے کیلئے ان تمام رکاوٹوں کاازسر نوجائزہ لیاجائے جو غیرملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ کاسبب بن سکتی ہیں۔

بدنصیبی سے مائنزاینڈ منرلزبل پرسیاسی اختلافات،مقامی حکومتوں اوروفاق کے اختیارات پرکشمکش اورقانون سازی میں تنازع کی وجہ سے معاملہ مجرمانہ تاخیرکاشکارہورہاہے۔اس چیلنجزسے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کرنے کی اشدضرورت ہے تاکہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت جوملکی سلامتی کیلئے بھی ایک مسلسل خطرہ ہے،اس سے نجات مل سکے۔

پاکستان میں معدنیات کے ذخائرمیں عالمی سطح پرخاص طورپرتانبااورلیتھیئم کی طلب میں اضافہ کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری کی کافی گنجائش ہے۔ بالخصوص بیٹری،الیکٹرک گاڑیاں،گرین ٹیکنالوجی اوردفاعی صنعت میں پاکستان کے ذخائرکی قدر کرتے ہوئے سعودی،چینی،کینیڈین،ترک کمپنیوں کی دلچسپی کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی ڈیسک تشکیل دیاجائے تاکہ وقت ضائع کئے بغیرغیرملکی سرمایہ کاری کامثبت جواب دیاجاسکے۔پاکستانی معدنیات میں جہاں غیرملکی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے وہاں سرمایہ کاری کے امکانات اورشکوک کے ساتھ ساتھ کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ عہدیدار ایرک میئرنے پاکستان میں سرمایہ کاری کاعندیہ دیاہے۔ان کاکہناتھاکہ ٹرمپ نے معدنیات کے محفوظ، قابل اعتمادذرائع کوامریکاکی اسٹریٹیجک ترجیح قراردیاہے۔امریکی سفارتخانے نے کہاکہ امریکاپاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری،تکنیکی تعاون اوروسائل کے ذمہ دارانتظام میں شراکت داری چاہتاہے۔

ریئرارتھ منرلزجیسے لیتھیم، نیوڈیمیم وغیرہ پرعالمی رسائی حاصل کرناامریکاکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔ہمیں امریکا کی اس حکمت عملی کابھی بغورجائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکاچاہتاہے کہ چین پرانحصارکم ہو،اورپاکستان جیسے متبادل ذرائع کومضبوط کیاجائے۔

ریئرارتھ منرلزجیسے لیتھیم، نیوڈیمیم وغیرہ پرعالمی رسائی حاصل کرناامریکاکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔ہمیں امریکاکی اس حکمت عملی کابھی بغورجائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکاچاہتاہے کہ چین پرانحصارکم ہو،اورپاکستان جیسے متبادل ذرائع کومضبوط کیاجائے۔مقامی میڈیارپورٹ کے مطابق منرلز انوسٹمنٹ کانفرنس2025میں10سے زائدایم اوریوزپردستخط ہوئے ہیں۔

ریکوڈک منصوبے سے وابستہ کینیڈین کمپنی دوارب ڈالرکی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔چین پہلے ہی بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کے تحت اہم شراکت دارہے۔

پاکستان کے ان قدرتی وسائل سے مکمل فائدہ نہ اٹھانے کی کئی وجوہات ہیں۔ہمیں ان رکاوٹوں اورچیلنجزکے فوری سدباب کیلئے ان امورپرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے:
٭بیوروکریٹک رکاوٹیں دورکرنے کیلئے عالمی قوانین کامطالعہ کرکے ایک مستقل لائحہ عمل تیارکیاجائے۔
٭سست اورپیچیدہ منظوری کے عمل کاجائزہ لیکراس میں آسانی پیداکی جائے۔
٭غیرملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے شفافیت کے فقدان پرتوجہ دی جائے۔
٭بلوچستان،وزیرستان جیسے علاقوں میں بدامنی اورسیکورٹی کے خدشات کیلئے زمینی حقائق پرتوجہ دیکراس کاحل تلاش کیاجائے۔
٭کسی بھی منصوبہ بندی کی کامیابی کیلئے مقامی آبادی کی شراکت انتہائی ضروری ہے،ان معدنی ذخائرکے استعمال کیلئے مقامی آبادی کے حقوق کی پاسداری کاپوراخیال رکھاجائے اورحقوق کی محرومی کاازالہ کیاجائے۔
٭سیاسی بے توجہی کے اسباب اور اس کے مثبت حل کی طرف اقدامات اٹھائے جائیں۔
٭غیرملکی سرمایہ کاروں کو یقین دلایاجائے کہ حکومتوں کی ترجیحات کے بدلنے سے ان تمام پراجیکٹ کومکمل تحفظ حاصل ہوگا۔
٭ملک میں سیاسی پالیسی کے عدم تسلسل کوختم کرنے اورداخلی سیاسی انارکی کوختم کرنے کیلئے سیاسی بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے عفوودرگزرکااعلان کیاجائے۔
٭تمام علاقائی تنازعات بالخصوص خیبرپختونخوامیں نئے متنازع مائنزاینڈمنرلزبل کے فوری حل پرترجیحاتی کام شروع کیاجائے۔

سندھ معدنیات اورتوانائی کے خزانوں کاابھرتاہوامرکزہے تاہم تھرسے متعلقہ چندچیلنجزکی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کوئلے سے پیدا ہونے والی آلودگی اورماحولیاتی خدشات نے مقامی آبادی کی صحت عامہ کیلئے کچھ مسائل کھڑے کئے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی شکایات کہ انہیں روزگار،زمین،یامنافع میں مناسب حصہ نہیں ملتااوراس کے ساتھ ہی تھرمیں پانی کی قلت اورکوئلہ نکالنے کے عمل میں پانی کااستعمال تنازع کاباعث بن رہاہے۔

اس سرمایہ کاری کے سلسلے میں زمینی حقائق اورقانونی وانتظامی رکاوٹیں بھی راستہ روکے کھڑی ہیں جس میں پیچیدہ قوانین،ریڈ ٹیپ،غیر شفاف لائسنسنگ کے معاملات منہ کھولے کھڑے ہیں۔سیندک جیسے کامیاب منصوبوں میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔سیاسی اورصوبائی تضادات کوختم کرنے کیلئے فوری طورپرخیبرپختونخواکانئے مائننگ بل پراعتراض دورکرنے کیلئے انہیں اعتمادمیں لیاجائے۔صوبوں کووفاقی اختیارات میں مداخلت کے خدشات کاحل نکالا جائے۔

بلوچستان میں شورش ختم کرنے کیلئے،شمالی علاقوں میں دہشتگردی کیلئے اورسرمایہ کاروں کی حفاطت پرخدشات کوختم کرنے کیلئےصوبوں کے تعاون سے فول پروف پالیسیوں کاپیشگی اعلان کیاجائے اوراس انتظام پراٹھنے والے اخراجات کیلئے صوبوں سے معاونت کی جائے۔گلگت بلتستان،بلوچستان،کے پی کے مقامی لوگ شفاف معاہدوں میں منافع میں شراکت،زمین وثقافت کے تحفظ کا مطالبہ کررہے ہیں،ان کے جائزمطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔

ایس آئی ایف سی(تیزرفتارفیصلے کرنے والاپلیٹ فارم)جیسے ادارے کے قیام کے خوش آئندفیصلے پرصوبائی خود مختاری پرخدشات کومل بیٹھ کرحل کرنے کی کوشش کی جائے تاہم فوج کی طرف سے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے سرمایہ کاروں کومکمل سکیورٹی دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلان کیاہے کہ پاکستان ایک قابل اعتمادشراکت دار ہے،سیکورٹی فریم ورک کویقینی بنایاجائے گا۔

اسی حوالے سے مقتدرحلقوں کی توجہ ایک اورایسے قومی خزانے کی طرف مبذول کرواناچاہتاہوں جس پرپچھلی سات دہائیوں سے مجرمانہ غفلت نے ملک کوکروڑوں ڈالرکانقصان ہوچکاہے۔یہ ایک نہایت اہم اورحساس مسئلہ ہے جونہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ اس کی ثقافتی وراثت اورقدرتی وسائل کے تحفظ سے بھی جڑاہواہے۔پاکستان کے”ہمالیائی گلابی نمک کوانڈیاکی طرف سے عالمی منڈی میں”انڈین ہمالیئن سالٹ”کے نام سے فروخت کرناایک قسم کی تجارتی چالاکی اورغلط نمائندگی ہے،جس کامقصدپاکستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاکرخودکومنافع پہنچاناہے۔

یادرہے کہ یہ نمک صرف پاکستان کے ضلع جہلم میں واقع”کھیوڑہ”کی کانوں سے حاصل ہوتاہے،جودنیاکی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔ پاکستان دنیابھرمیں یہ نمک بڑی مقدارمیں برآمدکرتاہے،مگراکثریہ نمک بغیربرانڈیاغیرمناسب لیبلنگ کے برآمدہوتاہے،جس سے دوسرے ممالک(خاص طورپرانڈیا)اسے ری پیکیج کرکے اپنانام لگاکربیچتے ہیں۔انڈیا “ہمالیئن پنک سالٹ”کے لیبل سے اس نمک کومارکیٹ کررہاہے،جبکہ یہ نمک انڈیامیں کہیں پیدانہیں ہوتا۔

ایس آئی ایف سی(تیزرفتارفیصلے کرنے والاپلیٹ فارم)جیسے ادارے کے قیام کے خوش آئند فیصلے پرصوبائی خودمختاری پر خدشات کومل بیٹھ کرحل کرنے کی کوشش کی جائے تاہم فوج کی طرف سے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے سرمایہ کاروں کو مکمل سکیورٹی دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلان کیاہے کہ پاکستان ایک قابل اعتماد شراکت دارہے،سیکورٹی فریم ورک کو یقینی بنایاجائے گا۔

اسی حوالے سے مقتدرحلقوں کی توجہ ایک اورایسے قومی خزانے کی طرف مبذول کرواناچاہتا ہوں جس پرپچھلی سات دہائیوں کی مجرمانہ غفلت سے ملک کوکروڑوں ڈالرکانقصان ہوچکاہے۔یہ ایک نہایت اہم اورحساس مسئلہ ہے جونہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ اس کی ثقافتی وراثت اورقدرتی وسائل کے تحفظ سے بھی جڑاہواہے۔پاکستان کے”ہمالیائی گلابی نمک کوانڈیاکی طرف سے عالمی منڈی میں”انڈین ہمالیئن سالٹ”کے نام سے فروخت کرناایک قسم کی تجارتی چالاکی،دھوکہ دہی اورغلط نمائندگی ہے،جس کا مقصدپاکستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاکرخودکومنافع پہنچاناہے۔

یادرہے کہ یہ نمک صرف پاکستان کے ضلع جہلم میں واقع”کھیوڑہ”کی کانوں سے حاصل ہوتاہے،جودنیاکی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔ پاکستان دنیابھرمیں یہ نمک بڑی مقدارمیں برآمدکرتاہے،مگراکثریہ نمک بغیربرانڈیاغیرمناسب لیبلنگ کے برآمدہوتا ہے،جس سے دوسرے ممالک (خاص طورپرانڈیا)اسے ری پیکیج کرکے اپنانام لگاکربیچتے ہیں۔انڈیا”ہمالیئن پنک سالٹ”کے لیبل سے اس نمک کومارکیٹ کررہاہے،جبکہ یہ نمک انڈیا میں کہیں پیدانہیں ہوتا۔اس مسئلے کے تدارک کیلئےحکومت پاکستان کودرج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

٭پاکستان کواپنے گلابی نمک کی عالمی رجسٹریشن کیلئے:جیوگرافیکل انڈی کیشن”یعنی جی آئی ٹیگ کے حصول کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جیسے باسمتی چاول پرپاکستان نے جی آئی ٹیگ کے ذریعے یورپ میں حق تسلیم کروایا،ویسے ہی گلابی نمک کیلئےبھی جی آئی ٹی رجسٹریشن کراناضروری ہے۔جی آئی ٹیگ کسی مخصوص علاقے میں پیداہونے والی منفرداشیاء کی قانونی شناخت ہوتاہے،جودنیابھرمیں اس کی اصلیت اورماخذکوتسلیم کراتا ہے۔

٭عالمی اداروں میں انڈیاکی غلط لیبلنگ کے خلاف عالمی سطح پرقانونی کاروائی کیلئے ڈبلیوٹی او(ورلڈ ٹریڈآرگنائزیشن)اورڈبلیوآئی پی او(ورلڈانٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن)میں کیس دائرکیاجاسکتا ہے۔یہ بالکل ویساہی کیس ہوسکتاہے جیسے باسمتی چاول پرہواتھا۔

٭نمک کی برآمدپرپالیسی ریویو کرتے ہوئے برآمدسے قبل نمک کومناسب لیبلنگ،برانڈنگ اورپیکجنگ کے ساتھ بھیجنے کی پالیسی بنانی چاہیے۔جس کیلئے”کھیوڑہ اوریجن”اورمیڈان پاکستان” جیسے لیبلزلازمی قراردیئے جائیں۔

٭حکومت کوچاہیے کہ وہ دنیابھرمیں موجود سفارتخانوں کے ذریعے ایک عوامی وسفارتی مہم چلائے جس میں بتایاجائے کہ یہ نمک صرف پاکستان میں پایاجاتاہے۔بین الاقوامی تجارتی میلے، نمائشیں اورمیڈیامیں اس کاپرچارکیاجائے۔

٭مقامی صنعت کی بہتری کیلئے نمک کی پروسیسنگ،پیکنگ اوربرانڈنگ کیلئےمقامی صنعتکاروں کوسبسڈی اورٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی معیارپرنمک ایکسپورٹ کرسکیں۔

انڈیانے بھی باسمتی کوصرف اپنی پراڈکٹ ظاہرکرکے یورپی یونین میں رجسٹریشن کرانے کی کوشش کی تھی۔پاکستان نے مؤثر قانونی دلائل اورتاریخی شواہدکے ساتھ اپنادعویٰ ثابت کیا۔نتیجتاً، یورپی یونین نے باسمتی کوپاکستانی پراڈکٹ تسلیم کرتے ہوئے انڈیا کومتنبہ کیاکہ وہ اپنے کسی بھی چاول کے ساتھ “باسمتی”کاٹائیٹل استعمال نہیں کرسکتاالبتہ انڈین چاول کہہ سکتاہے۔اسی طرح گلابی نمک کے بارے میں پاکستان کامؤقف تواورزیادہ مضبوط ہے۔پاکستان کے پاس گلابی نمک کے حوالے سے تاریخی،جغرافیائی اورقانونی جوازموجودہے۔اگرحکومت سنجیدگی سے اس معاملے پر توجہ دے،تونہ صرف عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی شناخت مضبوط ہوگی بلکہ ملک کوقیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

یادرکھیں!پاکستان معدنی دولت سے مالامال ملک ہے،لیکن انتظامی،سیاسی اورسکیورٹی رکاوٹیں اس دولت کوقومی خوشحالی میں تبدیل کرنے کی راہ میں حائل ہیں۔اگران چیلنجزپرقابوپالیا جائے توپاکستان اپنی معیشت کوصرف چندبرسوں میں ایک نئی بلندی تک لے جاسکتاہے۔پاکستان کے پاس قیمتی معدنی وسائل کی کمی نہیں،لیکن ان سے بھرپورفائدہ نہ اٹھاناایک المیہ ہے۔شفاف پالیسی، شراکت دارانہ ترقی اورسکیورٹی کی بحالی کے بغیریہ وسائل’سوئے ہوئے دیو‘ہی رہیں گے۔اگرسیاسی وانتظامی استحکام،شفاف قوانین،مقامی شرکت داری اورعالمی معیار کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے تویہ ذخائرملک کی معیشت کونئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔مقامی آبادی کواعتمادمیں لے کر،غیرملکی سرمایہ کاروں کوبہترماحول فراہم کرکے، اورسیاسی ارادے کومضبوط بناکر پاکستان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت سے اپنی معیشت کوایک نئی بلندی تک لے جاسکتاہے۔

چنیوٹ میں لوہے اورتانبے کے ذخائرکی دریافت پاکستان کیلئےایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے،جبکہ شمالی علاقوں میں سونے کے ذخائرکی موجودگی اس بات کوثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں معدنیات کی کافی دولت موجودہے۔تاہم،ان ذخائرسے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت کومضبوط حکمت عملی اوربین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں عالمی سطح پراپنی اہمیت بڑھاسکے۔

اٹک میں سونے کی موجودگی کاحالیہ دعویٰ ایک امیدافزاپیش رفت ہے،لیکن جب تک اس کی مکمل جیولوجیکل تصدیق،کمرشل ویلیویشن اورمائننگ انفرا سٹرکچر کاقیام نہ ہو،یہ دعویٰ محض مفروضہ ہی رہے گاالبتہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں سونے جیسی قیمتی دھات کے وسیع امکانات موجود ہیں،خصوصاً بلوچستان،خیبرپختونخوااورپنجاب میں۔ان ذخائرسے استفادہ کرنے کیلئے حکومت کوشفاف حکمتِ عملی،جدیدٹیکنالوجی،اورعالمی سطح پرقابلِ اعتماد شراکت داری کی ضرورت ہے۔

پاکستان معدنی وسائل کے میدان میں ایک بڑی قوت بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔تاہم،یہ صلاحیت صرف اسی وقت کارگرثابت ہو سکتی ہے جب ہم چیلنجزکاادراک کرتے ہوئے سنجیدہ اصلاحات،مقامی شراکت داری،اورعالمی سرمایہ کاری کیلئےپُراعتمادماحول پیداکریں۔
٭شفاف سرمایہ کاری فریم ورک بنایاجائے جومقامی حقوق کی ضمانت دے۔
٭پربلوچستان اورخیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اورگورننس کوبہتربنایاجائے ۔
٭منرل اکنامک زونزکو فعال اوربااختیاربنانے کیلئے انرجی اوراسٹریٹجک منرلزپرقومی پالیسی تشکیل دی جائے ۔
٭قانون سازی میں ہم آہنگی پیداکی جائے تاکہ وفاق اورصوبے ایک صفحے پر ہوں۔
پاکستان کی معدنیات کے ذخائرکے حوالے سے متعدد اہم دعوے اورتحقیقات کی گئیں ہیں،جن میں چنیوٹ میں لوہے اورتانبے کے ذخائرکے حوالے سے2015میں کیے گئے اعلان اورشمالی علاقوں میں سونے کے ممکنہ ذخائرشامل ہیں۔میں نے آج بلاکم وکاست پاکستان کے مختلف علاقوں میں معدنیات کی اس رپورٹ میں چنیوٹ کے ذخائر،شمالی علاقوں میں سونے کے ذخائر،اوردیگر متعلقہ پہلوؤں کوتفصیل سے بیان کیاہے اوراس کے ساتھ ہی بیوریو کریسی اوردیگر اداروں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی دی ہیں تاکہ صاحبانِ اقتداراس غریب اورمقروض ملک پررحم کرتے ہوئے اس پراپنی بھرپورتوجہ دیں کہ قوم کوان سنہرے خواب دکھانے کی بجائے عملی اقدامات کی اشدضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں