From darkness to light

اندھیروں سے روشنی تک

معززشرکائے مجلس،صاحبانِ ایمان،معززعلمائے کرام،دانشورانِ ملت،دلوں کی دھڑکنوں کوچھولینے والی سچائی اورانسانیت کی وحدت کے متلاشی قلوب کیلئے حددرجہ آداب اورڈھیروں سلامتی کی دعاؤں کے بعد:

میں تہِ دل سے شکریہ اداکرتاہوں عالمی بین المذاہب کونسل کا،جنہوں نے صرف ایک تقریب نہیں بلکہ انسانیت کی بقاء،دلوں کی قربت،اورایک پُرامن مستقبل کی جانب ایک روشن قدم اٹھایا ہے۔آج ہم ایک ایسے عظیم المرتبت اورجلیل القدرنبی کے ذکرِجمیل سے محفل کومنورکررہے ہیں جن کی داستانِ حیات نہ صرف اہلِ اسلام کیلئےباعثِ فخرہے،بلکہ یہودیت وعیسائیت کے پیروکاروں کیلئے بھی ہدایت وبصیرت کاایک درواکرتی ہے۔یہ وہ کہانی ہے جو تینوں آسمانی مذاہب کے دلوں میں دھڑکتی ہے،ایک نبی،ایک دعا،اور ایک اندھیرا — جس سے روشنی نے جنم لیا۔ یہ سفر ہے مایوسی سے اُمید تک، نفرت سے محبت تک، اور فرقوں سے انسانیت کی طرف کا، جس پر آج بھی عمل کرکے اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام، جنہیں قرآن میں ذوالنون اور صاحب الحوت کے القاب سے بھی یاد کیا گیا، اُن ہستیوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ قرآنِ مجید، بائبل اور عبرانی صحائف تینوں میں یکساں تقدیس و توقیر کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کی زندگی، محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ روحانی درس گاہ ہے؛ ایک دعوتِ توبہ، ایک پکارِ محبت، ایک نوائے امن ہے۔آئیے میں سب سے پہلے بحیثیت مسلمان اللہ کے آخری نبی ﷺ پر نازل آخری کتاب قرآن کریم جو ہمارے آقا کا ایک ایسا معجزہ بھی ہے جس کے ہر ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ خود اس رب کریم نے اپنے ذمہ لیا ہے جس نے قیامت تک آنے والے ہر فرد اور انسانیت کیلئے یہ کتاب نازل فرمائی تاکہ ہم اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں اور فلاح پا سکیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ تینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام، یہودیت، اور عیسائیت—میں ایک مشترکہ روحانی میراث کی حیثیت رکھتا ہے، جو توبہ، رحمت، اور انسانی کمزوری کی گہرائیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف مذہبی متون میں بیان ہوا ہے بلکہ انسانی ضمیر اور اخلاقی بصیرت کا آئینہ بھی ہے۔ یہ وہ کہانی ہے جو تینوں آسمانی مذاہب کے دلوں میں دھڑکتی ہے؛ ایک نبی، ایک دعا، اور ایک اندھیرا — جس سے روشنی نے جنم لیا۔ یہ سفر ہے مایوسی سے اُمید تک، نفرت سے محبت تک، اور فرقوں سے انسانیت کی طرف۔۔۔۔ یہ وہ آواز ہے جو وقت کی دھول میں گم ہو چکی تھی؛ اور آج اس مجلس میں، وہی آواز ایک بار پھر بین المذاہب محبت، احترام اور ہم آہنگی کے ترانے کے طور پر گونج رہی ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام، جنہیں قرآن میں ذوالنون اور صاحب الحوت کے القاب سے بھی یاد کیا گیا، اُن ہستیوں میں سے ہیں جن کا تذکرہ قرآنِ مجید، بائبل اور عبرانی صحائف تینوں میں یکساں تقدیس و توقیر کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کی زندگی، محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ایک زندہ روحانی درس گاہ ہے؛ ایک دعوتِ توبہ، ایک پکارِ محبت، ایک نوائے امن ہے۔آئیے میں سب سے پہلے بحیثیت مسلمان اللہ کے آخری نبی ﷺ پر نازل آخری کتاب قرآن کریم جو ہمارے آقا کا ایک ایسا معجزہ بھی ہے جس کے ہر ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ خود اس رب کریم نے اپنے ذمہ لیا ہے جس نے قیامت تک آنے والے ہر فرد اور انسانیت کیلئے یہ کتاب نازل فرمائی تاکہ ہم اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں اور فلاح پا سکیں۔ قرآنِ حکیم میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر چھ سورتوں میں النساء، الانعام، یونس، الصافات، الانبیاء اور القلم۔ سورۃ الانبیاء میں آیا ہے جن میں ان کی نبوت، قوم کی نافرمانی، اور مچھلی کے پیٹ میں ان کا قیام شامل ہیں۔ سورہ الصافات میں فرمایا:
اور بے شک یونس پیغمبروں میں سے تھے۔ جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے۔ پھر قرعہ اندازی کی، تو وہ ہارنے والوں میں سے ہو گئے۔ پھر مچھلی نے انہیں نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھے۔ پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو وہ قیامت کے دن تک اس کے پیٹ میں رہتے۔ پھر ہم نے انہیں چٹیل میدان میں پھینک دیا اور وہ بیمار تھے۔ اور ہم نے ان پر کدو کا درخت اگایا۔ اور ہم نے انہیں ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف بھیجا۔ پھر وہ ایمان لائے، تو ہم نے انہیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔﴿139-148﴾

رب کریم نے قرآن کی سورہ نساء آیت163 میں ارشاد فرمایا: اور ہم نے نوح اور ان کے بعد آنے والے نبیوں کی طرف وحی کی، اور ہم نے ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، اسباط، عیسیٰ ، ایوب، یونس، ہارون اور سلیمان کی طرف وحی کی، اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔

سورہ االانعام کی آیت 86 میں فرمایا:اور اسماعیل، الیسع، یونس اور لوط کو (بھی ہدایت دی)، اور ہم نے ان سب کو جہان والوں پر فضیلت دی.

آئیے اور آگے بڑھتے ہیں۔ رب کریم قرآن میں سورہ یونس کی آیت 98 میں فرماتے ہیں:
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان اسے نفع دیتا، سوائے یونس کی قوم کے؟ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب دور کر دیا اور انہیں ایک مدت تک فائدہ پہنچایا۔
سورہ الانبیاء میں فرمایا:
اور ذوالنون (کو یاد کرو) جب وہ (اپنی قوم سے ناراض ہو کر) غصے کی حالت میں چل دیئے اور خیال کیا کہ ہم ان پر قابو نہیں پاسکیں گے۔ آخر اندھیرے میں (خدا کو) پکارنے لگے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے (اور) بےشک میں قصوروار ہوں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب نبی اپنی قوم سے دل برداشتہ ہو کر روانہ ہوا، اور مچھلی کے پیٹ میں تین اندھیروں میں گم ہو کر رب کو پکارا۔ اور رب نے جواب دیا، کیونکہ اس کی رحمت، اس کے غضب پر غالب ہے۔(87)

قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر “صَاحِبِ الْحُوتِ” مچھلی والے کے لقب سے کیا گیا ہے۔
“اور اپنے رب کے حکم کیلئےصبر کرو، اور مچھلی والے (یونس) کی مانند نہ ہو جاؤ، جب اُس نے غصے میں پکارا اور وہ دل ہی دل میں غم سے بھرا ہوا تھا۔ اگر اس کے رب کی طرف سے اُس پر نعمت نہ ہوتی تو اُسے میدان میں پھینک دیا جاتا، اور وہ ملامت زدہ ہوتا۔ پس اُس کے رب نے اُسے چُن لیا، اور اُسے نیکوکاروں میں شامل کر دیا”۔ یعنی یہ آیات ان کے صبر،توبہ و استغفار اور اللہ کی رحمت سے نجات کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔(القلم:48-50)

یہ آیات حضرت یونس کے واقعے کو صبرو استغفار، ندامت اور رب کی رحمت کا مکمل آئینہ بنا کر پیش کرتی ہیں۔ وہ لمحہ جب وہ دل گرفتہ اور غصے میں رب کو پکارتے ہیں، اور پھر اللہ کی طرف سے نعمت یعنی مغفرت اور فضل ان پر نازل ہوتی ہے — یہ اسباق ہر مومن، ہر انسان کیلئےایک روحانی مشعل راہ ہیں۔ ان کا نام حدیث میں یونس بن مَتّٰی آیا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے میرے آقانبی اکرمﷺ کا قول مبارک بھی ملاحضہ فرمائیں: بہت ہی جلیل القدر صحابی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:کسی بندے کے لائق نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن مَتّٰی سے بہتر ہوں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ بائبل کی کتاب یوناہ میں بڑی تفصیل سے ملتا ہے۔ یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے اور ان میں حضرت یونس کی نبوت، ان کا نینوہ کی طرف بھیجا جانا، ان کا فرار، مچھلی کے پیٹ میں ان کا قیام، اور نینوہ کی قوم کی توبہ کا ذکر ہے۔ میں بائبل کی کتاب یوناہ کے چند اہم اقتباسات پیش کرکے اپنا موقف آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں۔

خداوند کا کلام یونس بن امتّی پر نازل ہوا: ‘اٹھ، نینوہ، اس عظیم شہر، کی طرف جا اور اس کے خلاف منادی کر، کیونکہ ان کی بدی میرے حضور آ گئی ہے۔’ لیکن یونس خداوند کے حضور سے ترسیس کی طرف بھاگ گیا۔(یوناہ:3-1:1)
تب خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کی کہ یونس کو نگل لے۔ اور یونس تین دن اور تین رات مچھلی کے پیٹ میں رہا۔(یوناہ:17:1)
عیسائی اور یہودی متون میں حضرت یونس کو یوناہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بائبل کی کتاب یوناہ میں بیان ہے کہ خدا نے انہیں نینوہ کی قوم کو خبردار کرنے کا حکم دیا، لیکن وہ فرار ہو گئے۔ ایک طوفان کے دوران، انہیں سمندر میں پھینک دیا گیا، جہاں ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیااورخداوندنے ایک بڑی مچھلی کو مقرر کیا کہ یوناہ کو نگل لے، اور یوناہ تین دن اور تین راتیں مچھلی کے پیٹ میں رہا(یوناہ:117) یہاں بڑی مچھلی کا ذکر ہے، نہ کہ ویل یا وہیل کا، جیسا کہ بعض ترجموں میں آیا ہے۔ اصل عبرانی لفظ (داگ گادول) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب بڑی مچھلی ہے۔
اور خداوند کا کلام یوناہ بن امتی کے پاس پہنچا، کہ اُٹھ، نینوہ، اُس بڑے شہر کو جا، اور اُس کے خلاف منادی کر، کیونکہ ان کی شرارت میرے حضور آ پہنچی ہے۔(یوناہ:11-2)
اور خداوند نے ایک بڑی مچھلی مقرر کی کہ یوناہ کو نگل لے؛ اور یوناہ تین دن اور تین راتیں مچھلی کے پیٹ میں رہا۔(یوناہ: 117)
تب یوناہ نے مچھلی کے پیٹ سے خداوند اپنے خدا سے دعا کی، اور کہا ‘میں نے اپنی مصیبت میں خداوند کو پکارا، اور اُس نے مجھے جواب دیا؛ میں نے پاتال کے پیٹ سے فریاد کی، اور تُو نے میری آواز سنی۔(یوناہ:21-2)
اوریوناہ شہر میں داخل ہو کر ایک دن کی مسافت تک گیا، اور منادی کی، اور کہا ‘چالیس دن کے بعد نینوہ اُلٹ دیا جائے گا۔ تب نینوہ کے لوگوں نے خدا پر ایمان لایا، اور روزہ کا اعلان کیا، اور بڑے سے لے کر چھوٹے تک ٹاٹ پہنا۔(یوناہ:34-5)
تب خداوند نے کہا ‘تُو اُس کدو کے پودے پر افسوس کرتا ہے، جس کیلئےتُو نے محنت نہیں کی، اور نہ اُسے بڑھایا؛ جو ایک رات میں اُگا، اور ایک رات میں ہلاک ہو گیا۔ اور کیا میں نینوہ، اُس بڑے شہر پر افسوس نہ کروں، جس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زیادہ انسان ہیں، جو اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ میں تمیز نہیں کر سکتے، اور بہت سا مویشی بھی؟(یوناہ:410-11)

اس نے کہا” میں نے اپنی مصیبت کی وجہ سے رب سے فریاد کی، اور اُس نے میری سنی۔ جہنم کے پیٹ سے میں نے پکارا، اور آپ نے میری آواز سنی”۔”پھر یوناہ نے مچھلی کے پیٹ سے خداوند اپنے خدا سے دعا کی۔(یوناہ 2:1-2 KJV)
جب میری روح میرے اندر بیہوش ہو گئی تو میں نے رب کو یاد کیا: اور میری دعا تیرے پاس، تیرے مقدس ہیکل میں آئی۔ اور خُداوند نے مچھلی سے بات کی اور اُس نے یوناہ کو خشک زمین پر اُلٹ دیا۔(یوناہ10-2)””
یہودیت میں حضرت یونس کا تصور بڑا واضح ملتا ہے۔یہودی حضرت یونس کا قصہ یوم کپور (یومِ کفارہ) کے موقع پر پڑھا جاتا ہے، جو توبہ اور خدا کی رحمت کا دن ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی رحمت صرف بنی اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ تمام اقوام کیلئےہے۔ معروف فرانسیسی فلسفی برنار-آنری لیوی کے مطابق اگر یہ پیغام دوسروں، حتیٰ کہ دشمنوں تک پہنچانا ہے، تو یہودیت کو جینا اور سراہنا چاہیے۔ یہ نظریہ حضرت یونس کے قصے میں جھلکتا ہے، جہاں نینوہ کی غیر یہودی قوم کی توبہ کو قبول کیا گیا۔

عبرانی صحیفوں کے مطابق یہودی مذہب میں حضرت یونس علیہ السلام کو (یوناہ بن امتی) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کتاب یوناہ عبرانی بائبل (تناخ) کے نبیوں کے حصے میں شامل ہے۔ یہ کتاب عبرانی زبان میں دستیاب ہے اور اس کا متن مختلف نسخوں میں محفوظ ہے، جیسے کہ ماسوراتی متن اور مردہ سمندر کے طومار میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔اب میں اپنے مؤقف کی تائید میں عبرانی متن کے اہم اقتباسات پیش کر دیتا ہوں۔ یہ اقتباسات بائبل اور عبرانی صحیفوں میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کی تفصیلات فراہم کرتے ہیں، جو توبہ، رحمت، اور خدا کی مہربانی کے اہم اسباق پر مشتمل ہیں۔

اب خُداوند کا کلام عمی کے بیٹے یوناہ پر نازل ہوا کہ اُٹھ، اُس عظیم شہر نینوا کو جا اور اُس کے خلاف فریاد کر کیونکہ اُن کی شرارت میرے سامنے آ گئی ہے۔ (یونس:11-2)
اور اُس نے کہا، مَیں نے اپنی پریشانی سے خُداوند سے فریاد کی، اور پاتال کے پیٹ سے مجھے جواب دیا میں نے زور سے پکارا، تُو نے میری آواز سنی۔(یونس بی2)
اور یوناہ شہر میں داخل ہونے لگا، ایک دن کا سفر، اور اس نے پکار کر کہا، ابھی تک چالیس دن اور نینوہ تباہ ہو جائے گا۔ اور نینوہ کے لوگوں نے خدا پر یقین کیا، اور روزہ کا اعلان کیا، اور ٹاٹ اوڑھ لیا، ان میں سے بڑے سے لے کر چھوٹے تک۔(مقدس نصوص:34-5)
اور خُداوند نے کہا، ‘تم نے لوکی کو بچایا جس کیلئےتم نے محنت نہیں کی اور نہ ہی اُس کی نشوونما جو راتوں رات وجود میں آئی اور راتوں رات فنا ہو گئی۔ اور کیا میں نینوا کو، اُس عظیم شہر کو نہیں چھوڑوں گا، جس میں بارہ ہزار سے زیادہ آدمی ہیں جو اپنے دائیں بائیں کو نہیں جانتے اور بہت سے مویشی؟”مقدس نصوص”(یونس:410-11)

بے شک حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسی آفاقی داستانِ نجات ہے جو تینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام، عیسائیت اور یہودیت—کیلئےایک مشترکہ روحانی میراث ہے۔ اگر اس قصے کو محض ایک تاریخی واقعہ یا معجزہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کے باطن میں جھانکا جائے، تو یہ روح کو بیدار کر دینے والا، انسان کو جھکنے، توبہ کرنے، اور محبت بانٹنے والا ایک عظیم سبق بن جاتا ہے۔

ذیل میں ہم دیکھتے ہیں کہ تینوں مذاہب کے ماننے والوں کیلئےاس واقعے میں کون سے ایسے روحانی و اخلاقی اسباق پوشیدہ ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی، انسان دوستی، اور امنِ عالم کی بنیاد بن سکتے ہیں: حضرت یونس ؑ کا واقعہ بین المذاہب آہنگی اور ان کے ماننے والوں کیلئےکئی اہم مشترکہ اسباق فراہم کرتا ہے:
سب سے پہلا سبق توبہ اور رجوع کا ملتا ہے کہ انسانی خطاؤں کے باوجود، خدا کی رحمت ہمیشہ موجود ہے۔
دوسرا سبق عاجزی اور اطاعت کا ہے کہ نبی کی حیثیت سے بھی حضرت یونس نے خطا کی، لیکن عاجزی سے توبہ کی۔
تیسرا سبق بین المذاہب احترام کا ملتا ہے کہ نینوہ کی غیر یہودی قوم کی توبہ کو قبول کرنا اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی رحمت سب کیلئےہے۔
اور چوتھا سبق حضرت یونس کا قصہ ہمیں انسانی کمزوری کا اعتراف سکھاتا ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے، لیکن توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یونس کی دعا لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ میں توبہ اور رجوع الیٰ اللہ کا آفاقی پیغام کیا ہے؟ یہ دعا فقط ایک نبی کی التجا نہیں بلکہ ہر بندے کے لبوں کی صدا بن سکتی ہے۔ یہودیت اور عیسائیت میں بھی نینوہ کی قوم کی اجتماعی توبہ کو خدا کے رحم کا در کھولنے والی کنجی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔اس دعا میں یہ سبق پنہاں ہے کہ جب انسان اپنی خطاؤں کو تسلیم کر کے انکساری سے توبہ کرتا ہے تو خدا کی رحمت اس پر سایہ فگن ہو جاتی ہے۔ یہ پیغام تمام مذاہب کو سکھاتا ہے کہ خدا کی راہ میں عاجزی اور انکساری، انسان کو ایک دوسرے سے جوڑ سکتی ہے۔

اس دعا کا ایک اور سبق یہ ہے کہ خدا کا حضرت یونس کو معاف کرنا، اور نینوہ کی بدعمل قوم کو ان کی توبہ پر بخش دینا، اس بات کی علامت ہے کہ خدا بندوں کیلئےجلد باز یا قہار نہیں بلکہ وہ محبت کرنے والا، حلم والا، رحمت، بخشش اور دیرینہ محبت اور معاف کرنے والا ہے۔ہمارے سیکھنے کیلئے یہ سبق ہے کہ جب خدا معاف کرنے والا ہے، تو کیا ہم، اس کے بندے، ایک دوسرے کیلئےعفو و درگزر کا رویہ اختیار نہیں کر سکتے؟ اگر اقوام، مذاہب، اور افراد ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھ لیں، تو دنیا بغض و عناد سے آزاد ہو سکتی ہے۔

حضرت یونس کا مچھلی کے پیٹ میں چلے جانا ان کے غصہ اور جلدبازی کا نتیجہ تھا، اور یہ ایک باطنی سفر بھی تھا—خود کے اندر جھانکنے، خامیوں کو پہچاننے، اور اصلاح کی راہ اپنانے کا۔ہمارے لئے یہ سبق ہے کہ مذاہب کے ماننے والے اگر اپنے اندر موجود تعصب، تکبر اور ہم ہی حق پر ہیں کی سوچ پر قابو پا لیں، تکبر سے توبہ، نفرت سے پرہیز کا رویہ اپنا لیں تو ایک نئی روحانی بیداری جنم لے سکتی ہے۔ محبت، عاجزی، اور سچ کی تلاش ہمیں ایک دوسرے سے قریب لے آتی ہے۔

چوتھا سبق یہ ہے کہ حضرت یونس کو ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا گیا تھا جو ان کے دین کی نہ تھی، پھر بھی وہ نجات پا گئی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی رحمت صرف ایک خاص گروہ یا امت تک محدود نہیں، بلکہ وہ تمام انسانوں کیلئے ہے۔ گویا یہ پیغام مذاہب کے ماننے والوں کو سکھاتا ہے کہ سچائی اور نجات کسی ایک قوم یا فرقے کی جاگیر نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے سے بات کرنی ہے، دلوں کو کھولنا ہے، اور مختلف عقائد کے درمیان قدرِ مشترک کو پہچاننا ہے۔

پانچواں سبق یہ ہے کہ مچھلی کے اندھیرے پیٹ میں حضرت یونس کی تنہائی—محض ظاہری نہیں، بلکہ باطنی اندھیرا بھی تھا۔ ان کی پکار، ان کی روح کا رونا، ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر انسان ، جب دنیا کے ہنگاموں سے الگ ہو کر خدا سے راز و نیاز کرتا ہے، تو وہ اندھیرے سے روشنی کی طرف نکلتا ہے۔ روحانیت کا اس عالمگیر پیغام میں ہمارے لئے یہ واضح سبق ہے کہ آج کی دنیا—جو جنگ، نفرت، قوم پرستی اور مذہبی جنونیت کے اندھیرے میں ہے—اسے اسی قسم کی روحانی پکار کی ضرورت ہے۔ اگر مسلمان ، یہودی، اور مسیحی ایک ساتھ یہ دعا مانگیں کہ: اے رب ہم سب تیری طرف رجوع کرتے ہیں تو شاید انسانیت ایک نئے دن میں داخل ہو۔

بے شک حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسی آفاقی داستانِ نجات ہے جو تینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام، عیسائیت اور یہودیت—کیلئےایک مشترکہ روحانی میراث ہے۔ اگر اس قصے کو محض ایک تاریخی واقعہ یا معجزہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کے باطن میں جھانکا جائے، تو یہ روح کو بیدار کر دینے والا، انسان کو جھکنے، توبہ کرنے، اور محبت بانٹنے والا ایک عظیم سبق بن جاتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا، روح تک سرشار کرنے والا واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان خطا کر سکتا ہے، مگر وہ توبہ، عاجزی، اور خدا کی طرف رجوع کے ذریعے نور پا سکتا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک معجزہ ہے، بلکہ ایک باطنی سفر بھی ہے—نفس کی شکست، دل کی نرم مٹی، اور روح کی شفاء کا سفر ہے جو ہماری نجات کیلئے کافی ہے۔ یاد رکھیں! اگر ہم تینوں مذاہب کے ماننے والے اس بات کو اپنا لیں کہ خدا کا سب سے عظیم پیغام محبت ہے، تو زمین پرجنت کاسایہ اُترسکتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کا روحانی مفہوم یہ ہے کہ یہ وہ مقام ہے جہاں توبہ، دعا اور عاجزی کی طاقت نمایاں ہوتی ہے۔ حضرت یونسؑ کی دعا ایک ایسی صدا ہے جو آج بھی دل کے اندھیروں میں امید کی کرن بن سکتی ہے۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول کی اور انہیں نجات عطا کی — یہ ہر مومن کیلئےپیغام ہے کہ وہ مایوس نہ ہو۔ ہم سب ایک ہی کشتی میں سوار ہیں، اور اگر ہم نے ایک دوسرے کو معاف نہ کیا، تو یہ کشتی ڈوب جائے گی—مگر اگر ہم نے ایک دوسرے کو تھام لیا، تو یہ کشتی ہمیں خدا کے کنارے تک لے جائے گی۔

بے شک حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسی آفاقی داستانِ نجات ہے جو تینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام، عیسائیت اور یہودیت—کیلئےایک مشترکہ روحانی میراث ہے۔ اگر اس قصے کو محض ایک تاریخی واقعہ یا معجزہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اس کے باطن میں جھانکا جائے، تو یہ روح کو بیدار کر دینے والا، انسان کو جھکنے، توبہ کرنے، اور محبت بانٹنے والا ایک عظیم سبق بن جاتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنی کمزوریوں، توبہ کی طاقت، اور خدا کی بے پایاں رحمت کو دیکھ سکتے ہیں۔ یہ قصہ تینوں مذاہب کے درمیان مشترکہ اقدار اور روحانی ہم آہنگی کا پل بن سکتا ہے، جو محبت، احترام، اور باہمی افہام و تفہیم کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام (یوناہ نبی) کا واقعہ — جو توبہ، عاجزی، اور خدا کی رحمت کا آئینہ ہے، آج کی دنیا کیلئے ایک زندہ، ابدی اور بیدار پیغام ہے۔ یہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی صدا ہے، جو جنگ کے اندھیروں میں امن کا نور بکھیرتی ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صرف ایک قوم یا ایک مذہب کی میراث نہیں۔ یہ ایک عالمگیر استعارہ ہے۔ ایک نبی کا انکار، مچھلی کا پیٹ، دعا، نجات، اور پھر وہ دل گرفتہ واپسی، یہ سب علامتیں ہیں اُس سفر کی جو ہر انسان اپنی ذات، اپنی غلطیوں، اور اپنے رب کی طرف کرتا ہے۔

حضرت یونس کی دعا لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ، إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ — یہ وہ کلمہ ہے جو مذہب کی سرحدوں سے بلند ہو کر ہر دل کی زبان بن سکتا ہے۔ حضرت یونس کی دعا صرف ان کیلئے نہیں، بلکہ ہم سب کیلئےایک نسخہ نجات ہے۔ یہ وہ کلمہ ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے تو رب کا عرش ہل جاتا ہے۔ ہر مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے۔ اور توبہ کا اصل ثمر تب ہے جب وہ دل کو نرم کر دے، آنکھ کو اشک بار، اور زبان کو شکر گزار بنا دے۔ اسلام، عیسائیت اور یہودیت تینوں میں یہ پیغام نمایاں ہے کہ انسان فطرتاً خطا کا پتلا ہے، مگر وہ اپنی خطاؤں پر نادم ہو کر رب کی رحمت کا طلبگار ہو سکتا ہے۔ یوناہ کی توبہ ہو یا نینوہ کی قوم کا اجتماعی رجوع — یہ اسباق ہر نسل، ہر امت کیلئےروشنی کے مینار ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کاواقعہ ہمیں سکھاتاہے کہ انسان خطاکرسکتاہے،مگروہ توبہ،عاجزی،اورخداکی طرف رجوع کے ذریعے نورپاسکتاہے۔یہ واقعہ نہ صرف ایک معجزہ ہے،بلکہ ایک باطنی سفربھی ہے—نفس کی شکست،دل کی نرم مٹی،اورروح کی شفاءکا سفر۔اگرہم تینوں مذاہب کے ماننے والے اس بات کواپنالیں کہ خداکاسب سے عظیم پیغام محبت ہے،توزمین پرجنت کاسایہ اُترسکتاہے۔ بے شک حضرت یونس علیہ السلام کاواقعہ ایک ایسی آفاقی داستانِ نجات ہے جوتینوں ابراہیمی مذاہب—اسلام،عیسائیت اوریہودیت—کیلئے ایک مشترکہ روحانی میراث ہے۔اگراس قصے کومحض ایک تاریخی واقعہ یامعجزہ نہ سمجھاجائے،بلکہ اس کے باطن میں جھانکاجائے،تویہ روح کوبیدارکردینے والا،انسان کوجھکنے،توبہ کرنے،اورمحبت بانٹنے والاایک عظیم سبق بن جاتا ہے۔

حضرت یونسؑ کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب انسان فرار اختیار کرتا ہے ذمہ داریوں سے، تو طوفان برپا ہوتا ہے۔لیکن جب وہ رب کی طرف رجوع کرتا ہے، تو راستے کھلتے ہیں۔ طوفان سے بچاؤ کشتی میں چھلانگ لگانے سے نہیں، بلکہ ضمیر کی سچائی، توبہ کی صداقت، اور انسانی ہمدردی سے ہوتا ہے۔ گویا حضرت یونس کے واقعہ میں “اندھیروں سے امید تک” کا عالمی پیغام ہمیں نجات کی دعوت دیتا ہے۔ جیسے حضرت یونسؑ نے اندھیرے میں رب کو پکارا، ویسے ہی آج دنیا کے طاقتور، حکمران، اور اقوام کو بھی اپنے غرور، ظلم اور مفادات سے پلٹ کر انسانیت کی طرف لوٹنا ہوگا۔

مچھلی کے پیٹ کااندھیرادراصل ہرانسان کے باطن میں موجودوہ تاریکی ہے جس میں امیدکی روشنی تلاش کی جاتی ہے۔حضرت یونسؑ کی دعاہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سب کچھ کھوجانے کے بعدبھی خداکادربندنہیں ہوتا۔تمام مذاہب ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جب دنیا کے چراغ بجھ جائیں،تو ایک آسمانی روشنی باقی رہتی ہے جودل کی تاریکی کواجالے میں بدل دیتی ہے۔

آئیے،حضرت یونس علیہ السلام کے قصے سے وہ روشنی کشیدکریں جوہمارے دلوں کوایک دوسرے کے قریب لائے۔ہم ایک دوسرے کوسنیں،سمجھیں، معاف کریں،اوراس زمین کو محبت،احترام،اورسکون کاگہوارہ بنائیں۔ یادرکھئے،مچھلی کااندھیراہمارے دلوں میں بھی ہوسکتاہے،مگرخداکی روشنی ہرظلمت کومٹاسکتی ہے۔بس ہمیں یوناہ نبی کی مانند صدقِ دل سے پکارنا ہے۔حضرت یونس ؑ کی دعادراصل اندھیرے سے روشنی کے سفرکا ایک آفاقی استعارہ ہے۔

بین الاقوامی امن کیلئے آج کے اجتماع کا یہی پیغام ہے کہ یہ قیمتی لمحات توبہ اور رجوع کرنے کے ہیں۔ حضرت یونسؑ کی قوم نے جب توبہ کی، خدا نے ان پرسے عذاب ہٹا دیا — آج اگر دنیا بھی ظلم و خونریزی سے تائب ہو، تو خدا کی رحمت نازل ہو سکتی ہے۔ یہ واقعہ تینوں الہامی مذاہب (اسلام، عیسائیت، یہودیت ) میں مشترک ہے ۔ اس واقعہ میں بین المذاہب روحانی پیغام ہم سب کیلئے بڑا اہم ہے۔

یہودی بھائیوں کیلئے حضرت یوناہ نبی کی توبہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بنی اسرائیل کے نبیوں کی عظمت صرف معجزات میں نہیں بلکہ تسلیم، توبہ اور سچائی میں ہے۔
مسیحی بھائیوں کیلئے یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے یوناہ کے قصے کو نشانِ نجات کہا کہ انسان جب دل کی گہرائیوں سے توبہ کرے تو تین دن کی تاریکی بھی دائمی روشنی میں بدل سکتی ہے۔
اور مسلمانوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ حضرت یونسؑ کی مثال صبر، ندامت اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ہے کہ نبی بھی خطا کرے تو اللہ معاف کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔

حضرت یونسؑ کا پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان خطا کر سکتا ہے، مگر معافی سب سے بڑی عبادت ہے، اور ہر قوم، ہر مذہب اگر دل سے رجوع کرے تو مچھلی کا پیٹ جنت کا دروازہ بن سکتا ہے۔ پس آج ہم یہاں حضرت یونسؑ کی طرح اپنی انا کو، تعصب کو، تکبر کو، نفرت کو اُس مچھلی کے پیٹ میں دفن کرنا چاہتے ہیں تاکہ باہر نکلیں، نئے لوگ بن کر، نئی امیدوں کے ساتھ ۔ تو کیوں نہ ہم اختلاف کے باوجود اسی مشترکہ ایمان کی بنیاد پر محبت، معافی، اور پرامن بقائے باہمی کا عہد کریں؟

میں اس دعا کے ساتھ آپ سے اجازت چاہتا ہوں:
اے ربِ کائنات، جو ہر اندھیرے کے بعد روشنی عطا کرتا ہے، ہمارے دلوں سے تعصبات کے پردے ہٹا دے، ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی مانند سچی توبہ، عاجزی اور قربتِ الٰہی عطا فرما تاکہ ہم سب انسان، ایک امتِ محبت بن جائیں۔

اے پروردگارِ عالم، جیسے تُو نے مچھلی کے پیٹ میں یونسؑ کی پکار سن کر اُسے نجات دی، ویسے ہی آج تو اس کرۂ ارض پر بسنے والی انسانیت کی فریاد سن، ہمارے دلوں سے نفرت، تعصب، قوم پرستی، جنگ اور ظلم کے اندھیرے مٹا دے، اور ہمیں ایک دوسرے کیلئے رحمت، محبت اور نور بنا دے۔

اے وہ ذات جو یونس کو تاریکی سے نکال لائی، ہمیں بھی نکال، نفرت کی ظلمت سے، فرقہ پرستی کی تنگی سے، اور تکبر کے سمندر سے۔۔۔۔ہمیں وہ دعا عطا کر جو تیرے پیارے نبی حضرت یونسؑ نے کی، وہ معافی جو تو نے دی، اور وہ دل جو ہر مذہب، ہر انسان کو اپنا سمجھے۔

اے مالکِ دو جہاں آج ہم حضرت یونسؑ کے واقعے کو ایک تاریخی داستان کے طور پر نہیں، بلکہ ایک روحانی نسخہ، ایک انسانی سبق، اور الٰہی نور کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ ہماری دعائیں، عقیدے، فرقے، مذاہب — سب مختلف سہی، مگر ہمیں تجھ تک پہنچانے والا ایک ہی راستہ محبت، معافی اور عاجزی عطا کر۔اے رب تُوہی پاک ہے،بے شک میں خطاکار تھا ۔ہم سب کو معاف فرما۔ ثم آمین
ڈوگس یونیورسٹی استنبول ترکی میں بین الاقوامی مذاہب کونسل کے تحت”عالمی امن میں مذاہب کاکردار”پر لیکچر
بروزجمعتہ المبارک 18/اپریل2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں