The sound of the empire's fall

سلطنت کے زوال کی آہٹ

امریکا،طاقت،تہذیب اورمزاحمت کاتاریخی المیہ

زیرِنظرمضمون کانقطۂ آغازایک امریکی پروفیسرکی وہ طویل تقریرہے جس میں امریکی طاقت،سرمایہ دارانہ نظام،عسکری مداخلت، سماجی عدم مساوات،نسلی انصاف اورعالمی سیاست کے مستقبل کے بارے میں نہایت سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔تاہم یہاں پیش کیا جانے والا تجزیہ نہ اس تقریرکاترجمہ ہے،نہ اس کے مقررکی ہررائے کی توثیق؛یہ ان سوالات کو تاریخ کے آئینے میں دیکھنے،ان کے سیاسی مضمرات کوپرکھنے اورعصرِحاضرکی عالمی بساط پران کے معنی تلاش کرنے کی ہماری اپنی کوشش ہے۔

تاریخ کی کتاب کاایک عجیب دستورہے:وہ سلطنتوں کوان کے عروج کے زمانے میں ان کے انجام کی خبرنہیں دیتی،مگرزوال شروع ہو جائے تواس کےآثار دیواروں پرلکھی تحریرکی طرح نمایاں ہونےلگتے ہیں۔تخت قائم رہتاہے،پرہیبت رخصت ہونےلگتی ہے؛لشکرموجود رہتے ہیں،مگران کے قدموں کی دھمک سے زیادہ ان کے اخراجات کاشورسنائی دینے لگتاہے؛سکے پربادشاہ کی تصویربدستورقائم رہتی ہے،مگرمنڈی اس کی قوت پرسوال اٹھانے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہےجہاں سلطنت کےسامنےسب سےبڑادشمن بیرونی لشکرنہیں بلکہ اپنی عظمت کے بارےمیں اس کااپنا یقین بن جاتاہے۔

امریکاکامسئلہ محض چندغلط پالیسیوں،ایک صدر،ایک سیاسی جماعت یاکسی ایک جنگ کا مسئلہ نہیں؛معاملہ کہیں زیادہ گہراہے۔امریکی معیشت کےاندرونی ضعف،صنعتی زوال،مالیاتی خساروں،وسیع فوجی ڈھانچے اورکارپوریٹ اقتدارکوایک ہی بحران کےمختلف رخ قرار دیاگیاہے۔یہ اندیشہ بھی ظاہرکیاگیاہےکہ عالمی مالیاتی نظام میں ڈالرکی خصوصی حیثیت کمزورپڑنےکی صورت میں امریکی فوجی و مالیاتی طاقت پرکہیں زیادہ شدیددباؤآسکتاہے۔

یہاں تاریخ فوراًہمارے سامنے روم،ایتھنز،عثمانیوں،ہسپانویوں،برطانویوں اورسوویت روس کی تصویریں لاکھڑی کرتی ہے۔سلطنتوں کا زوال ایک ہی قالب میں نہیں ڈھلتا،مگراس کے کچھ قرینے بارباردہرائے جاتے ہیں۔پہلے دولت طاقت پیداکرتی ہے؛پھرطاقت اپنے تحفظ کیلئےلشکرمانگتی ہے؛پھرلشکراڈے مانگتے ہیں؛اڈے جنگیں پیداکرتے ہیں؛جنگیں قرض مانگتی ہیں؛اورایک دن وہ قرض اسی دولت کی جڑکھانےلگتاہےجس نےابتدامیں سلطنت کوطاقت دی تھی۔ گویا قوت کادرخت اپنی ہی چھاؤں کےبوجھ سے خم کھانے لگتاہے۔

سلطنت کے زوال کی سب سے نازک علامت یہ نہیں کہ وہ جنگ ہارجائے،بلکہ یہ ہےکہ وہ جنگ کومسئلےکےحل کاپہلا ذریعہ سمجھنے لگے۔ابھرتی ہوئی طاقت عموماًجانتی ہے کہ تلوارکب نیام سےنکالنی ہے؛زوال پذیرطاقت اس گمان میں مبتلاہوجاتی ہے کہ ہربنددروازہ توپ سےکھولاجاسکتاہے۔یہی وہ کیفیت ہے جسے بعض مورخین نےمائیکروملٹری ازم سےتعبیرکیاہے: یعنی اپنی گھٹتی ہوئی سیاسی قوت کی تلافی کیلئےحدسے بڑھی ہوئی فوجی مہم جوئی۔

تاریخ عراق اورافغانستان کواسی زاویے سے دیکھتی ہے اوراس کاتقابل قدیم ایتھنزکی تباہ کن فوجی مہمات اور1956کے بحرانِ سویز سے کرتی ہے۔زوال پذیرسلطنتیں اکثراس مغالطے میں مبتلاہوتی ہیں کہ ایک برق رفتارفوجی کامیابی ان کاکھویاہواوقاربحال کردے گی، مگرغیرمتوقع اخراجات اورسیاسی شکست الٹازوال کی رفتاربڑھادیتے ہیں۔یہ نکتہ محض امریکاتک محدودنہیں تاریخ میں جب بھی حکمران طبقے نےسفارت کاری کوکمزوری اورجنگ کومردانگی سمجھ لیا،ریاست نےاپنےدشمنوں سےپہلے اپنےامکان کوزخمی کیا۔

نہرِسویزپربرطانیہ کیلئےشکست صرف ایک فوجی یاسفارتی ناکامی نہ تھی؛وہ ایک نفسیاتی لمحہ تھا۔لندن کومعلوم ہواکہ وہ نقشے پراب بھی عظیم سلطنت دکھائی دیتاہے،مگردنیاکی سیاسی حقیقت بدل چکی ہے۔اسی طرح سوویت یونین کےآخری عشروں میں فوجی طاقت کا حجم اس کے معاشی وسماجی زوال کوچھپانہ سکا۔ بندوق کبھی کبھی سرحدکی حفاظت کرسکتی ہے،لیکن معیشت کی خستگی،اداروں کی بے اعتباری اورقوم کی بے امیدی پرپہرہ نہیں دے سکتی۔

یہی وہ سبق ہے جسے طاقتورریاستیں اکثرسب سے آخرمیں سمجھتی ہیں۔سلطنت صرف توپ سےنہیں، تصورسے بھی قائم رہتی ہے۔ہر بڑی سلطنت کے پاس محض جنگی جہازنہیں ہوتے،ایک داستان بھی ہوتی ہے۔روم اپنے ساتھ قانون کاتصورلے کرچلتاتھا۔برطانیہ نے اپنی حکمرانی کوتہذیب،پارلیمان،تعلیم،بحری قوت اورانتظامی برتری کےلبادے میں پیش کیا۔امریکانے دوسری عالمی جنگ کےبعدآزادی، جمہوریت،انسانی حقوق،خوشحالی،جدیدیت،ہالی ووڈ،جامعات، ٹیکنالوجی اور’’امریکی خواب‘‘سے ایک ایسی نرم قوت پیداکی جس نے کئی دہائیوں تک توپ وتفنگ سے زیادہ کام کیا۔

لیکن سلطنت کااصل بحران تب پیداہوتاہےجب اس کی کہانی اوراس کاعمل ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں۔ایک طرف انسانی حقوق کی تعلیم،دوسری طرف ابوغریب؛ایک طرف قانون کی حکمرانی،دوسری طرف ایسی جنگیں جن کی قانونی واخلاقی بنیادپردنیاسوال اٹھائے؛ ایک طرف آزادی کاپیغام،دوسری طرف ڈرون،خفیہ حراستی مراکزاورحکومتیں تبدیل کرنے کی تاریخ—یہ تضادات رفتہ رفتہ اس اخلاقی سرمائے کوکھاجاتے ہیں جس پرنرم طاقت استوارہوتی ہے۔

تقریراسی تضادکوابوغریب،مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں اوروسیع انسانی تباہی کےتناظرمیں بیان کرتی ہے اوراستدلال کرتی ہے کہ بیرونِ ملک دکھائی جانےوالی سختی آخرکاراندرونِ ملک سیاسی اور سماجی سختی سےالگ نہیں رہتی۔یہاں ایک قدیم حقیقت پھرسامنے آتی ہے۔

اقتدارجب اپنی اخلاقی دلیل کھودے تواسےاپنے وجودکیلئےزیادہ قوت استعمال کرناپڑتی ہے۔جس سلطنت کوکل لوگ قابلِ رشک سمجھتے تھے،آج اگروہ صرف قابلِ خوف رہ جائے توزوال شروع ہوچکاہوتاہے۔

جنگ کاخرچ صرف خزانہ نہیں دیتا،معاشرہ بھی دیتاہے۔جنگ کے اخراجات بجٹ میں لکھے جاسکتے ہیں،مگراس کے تمام قرض حساب کی کتاب میں نہیں آتے ۔ ایک طیارے، میزائل یافوجی اڈے کی قیمت معلوم کی جاسکتی ہے،لیکن کسی قوم کی ترجیحات کےبگاڑکی قیمت کون لگائے؟اگربیرونی محاذوں پرکھربوں صرف ہوں اوراندرشہروں کی سڑکیں شکستہ،اسکول کمزور،علاج مہنگا،مزدوربے یقینی میں اورمتوسط طبقہ قرض میں ڈوباہوتوریاست کے اندرایک خاموش اخلاقی سوال جنم لیتاہے:ہم دنیاکوسنوارنے نکلے تھے،مگراپناگھرکس کےسپرد کرآئے؟یہ سوال امریکاتک محدودنہیں۔تاریخ کی ہربڑی طاقت کوکسی نہ کسی مرحلے پراس سے دوچارہوناپڑاہے۔

سلطنت کے پھیلاؤاورمالی استعدادکے درمیان جب فاصلہ بڑھنے لگتاہے توبظاہرعظیم ڈھانچہ اندرسے کھوکھلاہونے لگتاہے۔موجودہ امریکی حالات اسی خطرے کومالیاتی کمزوری اورعالمی ریزروکرنسی کی حیثیت سے جوڑتی اورخبردارکرتی ہےکہ شدیدمعاشی بحران سیاسی انتہاپسندی اورجارح قوم پرستی کیلئےزمین ہموارکرسکتاہے۔یہ تاریخ کاپراناالمیہ ہے۔بھوکامعاشرہ فلسفے سے زیادہ نعرہ سنتاہے۔ خوف زدہ طبقہ پیچیدہ مسئلے کے پیچیدہ جواب سے گھبراتاہے اورکسی ایسے شخص کی تلاش کرتاہے جواسے ایک دشمن،ایک نعرہ اورایک آسان علاج دے دے۔وہ دشمن کبھی مہاجرہوتاہے،کبھی اقلیت،کبھی بیرونی ملک،کبھی دانشور ، کبھی صحافی،کبھی مذہب اور کبھی’’غداراشرافیہ‘‘۔یوں معاشی بحران سیاسی تخیل کوتنگ کردیتاہے۔

جدید مغرب کی ایک عظیم تاریخی کامیابی یہ تھی کہ اس نے سرمایہ داری کوبے لگام رہنے کی بجائے قانون،مزدورحقوق،فلاحی ریاست ، ترقی پسند ٹیکس،آزاد اداروں اور سیاسی جواب دہی سے باندھنے کی کوشش کی۔بیسویں صدی کےبڑے حصے میں یہی سمجھ غالب رہی کہ بازارایک طاقتورخادم ضرورہے،مگراسے آقابنادینامعاشرے کومنڈی میں تبدیل کرسکتاہے۔پھرایک زمانہ آیاجب کہاگیا کہ بازار خودعقل مندہے؛ریاست جتناپیچھے ہٹے گی،خوشحالی اتنی بڑھے گی؛ سرحدیں سرمایہ کیلئےکھلیں گی تودولت نیچے تک بہے گی؛ صنعت جہاں سستی ہوگی وہاں جائے گی اوربالآخردنیاایک عظیم متوسط طبقے میں بدل جائے گی۔ خواب دلکش تھالیکن ہرخواب کی طرح اس کابھی ایک بیداری کالمحہ تھا۔

آج نیولبرل عالمگیریت پرسخت تنقیدکرتےہوئے کہاجارہاہے کہ صنعتیں کم اجرت والے ممالک منتقل ہوئیں،مزدوروں کی سودے بازی کی طاقت کم ہوئی، عوامی خدمات نجکاری کاشکار ہوئیں ،جبکہ بڑی کارپوریشنوں اورمالیاتی اشرافیہ کیلئےسرمایہ دنیابھرمیں بے روک گردش کرنے لگا۔اس مسئلے کوصرف سرمایہ دارانہ یااشتراکی نعروں میں قیدکرنادانش مندی نہیں۔اصل سوال یہ ہےکہ معیشت کس کیلئے ہے؟اگرمجموعی قومی پیداواربڑھے مگرزندگی غیرمحفوظ ہو؛ حصص بازاربلند ہومگرخاندان مکان خریدنے سےعاجز ہوں؛ٹیکنالوجی بے مثال ترقی کرے مگرلاکھوں انسان اپنے مستقبل سے خوف زدہ ہوں؛چندافرادکی دولت بعض ریاستوں کی معیشت کے برابرپہنچ جائے مگرلاکھوں مزدوردونوکریاں کرکے بھی بنیادی ضروریات پوری نہ کرسکیں—تو اعدادترقی کی خبردے سکتے ہیں،معاشرہ نہیں۔

اسلامی تہذیبی شعورنے معاشی زندگی کیلئےجس’’میزان‘‘کاتصوردیا،اس کاجوہربھی یہی تھاکہ ملکیت ہومگرذمہ داری کے بغیرنہیں؛ تجارت ہومگرظلم کے ساتھ نہیں؛دولت ہومگرگردش چند ہاتھوں میں مقیدنہ ہو۔یاد رہے کہ معاشرے صرف دولت سے نہیں چلتے،عدل کے احساس سے چلتے ہیں۔

یہاں سیاسی بحث ایک نہایت اہم موڑ لیتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں عوامیت پسندرہنماخلاسے نازل نہیں ہوتے۔وہ ایک پہلےسےموجود زخم پرانگلی رکھتے ہیں۔کبھی علاج کرتے ہیں،کبھی زخم کواقتدارکی سیڑھی بنالیتے ہیں۔ٹرمپ ایک شخص سےبڑھ کرایک علامت بن چکاہے۔ٹرمپ کے عروج کوحادثہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں کی معاشی،سیاسی اورتہذیبی بے اطمینانی کانتیجہ قراردیاجارہاہے۔اسی کے ساتھ یہ اشارہ بھی ملتاہےکہ ایسے عوامیت پسندرجحانات صرف امریکا تک محدودنہیں بلکہ مختلف معاشروں میں مختلف صورتوں سے سامنے آسکتے ہیں۔اس نکتے کو رمپ کے حق یا خالفت کے سادہ خانوں میں رکھ دینا مسئلے کوچھوٹا کر دے گا۔اصل سوال یہ ہے کہ کروڑوں انسان اس نظام سے اس قدر ناراض کیوں ہوئے جس نے کبھی انہیں دنیاکاسب سے پراعتمادمتوسط طبقہ بنایاتھا؟ کیوں سیاسی مرکزکمزور ہوا؟کیوں مہذب مکالمے کی جگہ تحقیر،طعنہ، سازشی بیانیے اورغصے نےلےلی؟

جب روایتی سیاسی جماعتیں لوگوں کویہ باورکرانے لگیں کہ نظام بنیادی طورپرٹھیک ہے،حالانکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی چیخ چیخ کراس کے برعکس گواہی دے رہی ہو،تب سیاست میں وہ شخص کامیاب ہوسکتاہے جومیزالٹ دینے کاوعدہ کرے—خواہ اس کے بعد کمرے کاکیا حال ہو۔یہی عوامیت پسندی کاالمیہ ہے۔ وہ اکثرصحیح دردپہچانتی ہے اورغلط دوادیتی ہے۔

آج سیاہ فام امریکی تاریخ کاایک نامکمل حساب کی طرح نمایاں انتباہ کی شکل اختیارکرچکے ہیں اور اسے امریکی تاریخ کے طویل پس منظرکےبغیرسمجھناممکن نہیں۔افریقی نژادامریکی تجربہ دراصل امریکی جمہوری وعدے کاسب سے کڑاامتحان رہا ہے۔ایک ایسی ریاست جس نےاپنے اعلانِ آزادی میں انسانی مساوات کادعویٰ کیا،اسی سرزمین پرنسلوں تک غلامی بھی قائم رہی۔خانہ جنگی نے غلامی کا قانونی دروازہ بندکیامگرنسلی امتیازکی تاریخ وہیں ختم نہ ہوئی۔تعمیرِنو کےمختصردورکے بعدجم کروقوانین،سیاسی محرومی،لنچنگ، رہائشی تفریق،معاشی عدم مساوات اورادارہ جاتی امتیازنے آزادی کی قانونی عبارت اورزندگی کی عملی حقیقت کے درمیان ایک طویل فاصلہ قائم رکھا۔

بیسویں صدی کی شہری حقوق کی تحریک اسی فاصلے کوکم کرنے کی کوشش تھی۔مارٹن لوتھرکنگ جونیئر،روزاپارکس،میلکم ایکس اوربے شمارگمنام مردوزن نےامریکاسے کوئی رعایت نہیں مانگی تھی؛انہوں نےامریکاسے اس کےاپنےآئینی وعدے کی وفاداری مانگی تھی۔یہ فرق نہایت اہم ہے۔آج اس امرپرگہری تشویش ظاہر کی جارہی ہے کہ افریقی امریکیوں نےجن حقوق کیلئے جسم وجان کی قیمت ادا کی،ان میں سے بعض کامیابیاں کمزورہورہی ہیں،جبکہ معاشرتی کنٹرول میں خوف،قیداورسخت پولیسنگ کاکرداربڑھ سکتاہے۔اس نکتے کوکسی ایک جماعت،صدریا انتخاب تک محدودکرناتاریخی سطحیت ہوگی۔

سیاہ فام امریکی تجربہ ہمیں یہ سمجھاتاہے کہ قانونی فتح اورسماجی فتح ایک چیز نہیں ہوتیں۔ایک قانون امتیازممنوع قراردے سکتاہے، مگرصدیوں کی معاشی اورسماجی ناہمواری فرمان سے تحلیل نہیں ہوتی۔ووٹ کاحق مل سکتاہے، مگراگردولت،تعلیم،رہائش،صحت اور عدالتی نظام میں گہری خلیج برقراررہے تو مساوات کاسفر مکمل نہیں ہوتا۔اورشایدیہی وجہ ہے کہ شہری آزادیوں کو کبھی’’حاصل شدہ سرمایہ‘‘سمجھ کرمحفوظ نہیں رکھاجاسکتا۔ہرنسل کوآزادی کے قلعے کی نگہبانی خودکرناپڑتی ہے۔

بیسویں صدی کااختتام ایک عجیب خوداعتمادی کے ساتھ ہواتھا۔سوویت یونین تحلیل ہوا،امریکاواحدعالمی سپرپاوربنااورایک مختصرمدت کیلئےایسامحسوس ہواکہ تاریخ نےشایداپناآخری سیاسی فیصلہ سنادیاہے۔لیکن تاریخ کبھی اختتام کا اعلان قبول نہیں کرتی۔اب کثیرقطبی دنیا اورامریکاکےبعد کاسوال گونج رہاہے۔ چین کا عاشی عروج،ایشیاکے بڑھتے ہوئے مراکزِثقل،روس کی عالمی سیاست میں واپسی،ترکی، پاکستان،برازیل اوردیگردرمیانی طاقتوں کی خودمختارخارجہ پالیسیوں کی خواہش،اورعالمی جنوب کی بڑھتی ہوئی سیاسی آوازنے اس دنیاکوکہیں زیادہ پیچیدہ بنادیاہے۔اب یہ حقیقت ساف نظرآرہی ہے کہ امریکی غلبے کی جگہ یاتوچین زیادہ بڑاکردارادا کرےگایادنیا حقیقی کثیرقطبی نظام کی طرف جائے گی۔

لیکن یہاں ایک غلط فہمی سے بچنا ضروری ہے۔امریکاکی نسبتی کمزوری کامطلب لازماًچین کی مکمل بالادستی نہیں۔تاریخ میں طاقت کا انتقال ہمیشہ تاج ایک بادشاہ کے سر سےاتارکر دوسرے کے سرپررکھنےجیسانہیں ہوتا۔کبھی پورادرباربدل جاتاہے۔ممکن ہے اکیسویں صدی کسی واحدسلطنت کی صدی نہ ہوبلکہ متعدد طاقتوں،علاقائی اتحادوں ، بڑی کارپوریشنوں،مالیاتی نیٹ ورکس،ٹیکنالوجی کمپنیوں اور غیرریاستی قوتوں کی ایک ایسی پیچیدہ بساط بن جائےجہاں اقتدار کسی ایک دارالحکومت میں مرتکزنہ رہے۔ایسی دنیازیادہ منصفانہ بھی ہوسکتی ہے، اورزیادہ خطرناک بھی۔کیونکہ ایک طاقت کی اجارہ داری کاخاتمہ آزادی کی ضمانت نہیں؛کبھی وہ متعدد طاقتوں کی مسابقت کاآغازہوتاہے۔

جدیدیت نے انسان کوبے شمارسہولتیں دیں،مگرہرترقی کی اپنی نفسیاتی قیمت بھی ہوتی ہے۔قدیم معاشرے ناقص تھے،مگرانسان کوتعلق دیتے تھے: خاندان،محلہ،مذہب،پیشہ،روایت،زبان اورمقام۔جدیدسرمایہ دارانہ شہرنے انسان کوآزادی تودی،مگرکئی مرتبہ وہ آزادی تنہائی کی قیمت پرملی۔جب کارخانہ بندہوتاہے توصرف نوکری نہیں جاتی،ایک پورامقامی تمدن مرجاتاہے۔جب گاؤں سے شہرکی طرف نقل مکانی ہوتی ہےتوصرف مکان نہیں بدلتا، یادداشت کاجغرافیہ بدل جاتاہے۔جب بازارانسان کوہرلمحہ یہ بتائےوہ اس کی قدراس کی خریداری،ظاہری کامیابی اورمعاشی پیداوارسے ہے،تووہ شخص جواس دوڑمیں پیچھے رہ جائےاپنے آپ کوناکام نہیں،بے معنی محسوس کرنے لگتاہے۔یہیں سے شناخت کی سیاست طاقت حاصل کرتی ہے۔

انسان جب مستقبل سے محروم ہوتوماضی کومقدس بنا لیتا ہے۔وہ کسی’’سنہری دور‘‘کی طرف لوٹناچاہتاہے—خواہ وہ سنہرادورکبھی حقیقت میں موجودہی نہ رہاہو۔قوم پرستی،مذہبی انتہاپسندی ،نسلی برتری،مہاجردشمنی اورمختلف قسم کی شدت پسندتحریکوں کوصرف جہالت کہہ کرردکردیناکافی نہیں۔ان کے اندر ایک زخمی نفسیات،بے دخلی،محرومی اورشناخت کےبحران کوبھی سمجھنا ہوگا۔ سمجھنا،البتہ جوازفراہم کرنانہیں۔ظلم مظلوم کے ہاتھ سے ہوتوبھی ظلم رہتا ہے ۔

موجودہ امریکی تاریخ کاشایدسب سے تلخ فکری پہلویہ ہے کہ وہ مغرب اوراس کےدشمنوں کے درمیان تشددکے اخلاقی رشتے پرسوال اٹھاتی ہے۔اس کا استدلال یہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں شہری آبادیوں پراندھادھندبمباری،تشدد،خفیہ قیداورریاستی قوت کےبےلگام استعمال کوسیاسی پیغام کاذریعہ بناتی ہیں توان کےمخالف بھی اسی منطق کواپنے اندازمیں اپناسکتے ہیں۔عراق، افغانستان اوردیگرجنگی میدانوں کے تناظرمیں اسی خطرناک طرزِعمل کے اہم ثبوت ملتےہیں۔یہاں نہ دہشتگردی کاجوازہے،نہ ریاستی جرائم کا،اصل سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے ۔کیاہم وہی اخلاقی اصول اپنے لیے بھی قبول کرتے ہیں جواپنے دشمن کیلئےمقررکرتے ہیں؟

تہذیب کی اصل پہچان یہی ہے۔اپنے مخالف کےظلم پرغصہ کرناآسان ہے؛اپنی قوت کے ظلم کوپہچاننامشکل۔قرآن کاعدل بھی اسی لیے سخت معیارقائم کرتاہےکہ کسی قوم کی دشمنی انسان کوانصاف سے نہ ہٹائے۔تہذیب کی آزمائش فتح کےلمحےمیں ہوتی ہے،شکست کے لمحے میں نہیں؛کیونکہ کمزورکے پاس ظلم کی استعدادمحدودہوتی ہے،طاقتورکے پاس اسے نظام بنادینے کی صلاحیت موجودہوتی ہے۔

سلطنتوں کے تاریخی زوال میں عموماً دشمن دکھائی دیتاتھا۔روم کے سامنے جرمن قبائل تھے؛بازنطینیوں کےسامنےنئی قوتیں؛نوآبادیاتی سلطنتوں کے سامنے آزادی کی تحریکیں۔اکیسویں صدی کےسامنےایک ایسادشمن ہے جس کانہ پرچم ہے،نہ دارالحکومت،نہ سفارت خانہ اورنہ فوج۔اس کےسپاہی خشک سالی، سیلاب،جنگلاتی آگ،سمندری طوفان،پانی کی قلت، غذائی بحران اورجبری ہجرت کاشکارہیں۔یہاں ماحولیاتی بحران کوسیاسی ومعاشرتی انہدام سے جوڑا جائے توتباہ ہوتے حیاتیاتی نظام،بے گھرآبادیوں میں اضافہ اوراس کے نتیجے میں پید ا ہونے والاسیاسی عدم استحکام ان کامقدربن جاتاہے۔یہ شایدہمارے عہدکی سب سے بڑی سیاسی ستم ظریفی ہے کہ قومیں سرحدوں کی حفاظت پر بے شماروسائل خرچ کررہی ہیں مگروہ ماحولیاتی قوتیں،جو مستقبل میں کروڑوں انسانوں کوان سرحدوں کی طرف دھکیل سکتی ہیں،جو پاسپورٹ کی پابندنہیں۔

دریاپربم نہیں گرایاجاسکتاکہ وہ دوبارہ بہنے لگے؛صحراکو میزائل سے سرسبزنہیں کیاجاسکتا؛پگھلتے گلیشیئرکوبحری بیڑاروک نہیں سکتا۔یہاں انسان کوپہلی بار شایدواقعی سمجھناہوگاکہ قومی مفاداور انسانی مفادکے درمیان بعض مسائل میں کوئی دیوارباقی نہیں رہی۔ قدرت کےسامنے ایٹمی ہتھیاربھی بے معنی ہیں۔

اگریہ تمام منظرنامہ صرف تاریکی پرختم ہوتاتویہ مضمون تاریخ نہیں، مرثیہ ہوتا۔مگرتاریخ کی سب سے بڑی حیرت یہی ہے کہ انسان تب بھی اٹھ کھڑاہوتا ہے جب عقل اسے شکست کی خبر دے رہی ہو۔غلامی ہمیشہ کیلئےقائم دکھائی دیتی تھی،مگر ختم ہوئی۔نوآبادیاتی سلطنتیں ابدی معلوم ہوتی تھیں،مگر ٹوٹ گئیں ۔نسلی تفریق قانون تھی،پھرجرم قرار پائی۔عورتوں کاحقِ رائے دہی کبھی مضحکہ خیز مطالبہ سمجھاجاتاتھا،پھرمعمول بن گیا۔ہرعہدکے طاقتورطبقے کواپنے نظام کے دوام پراتناہی یقین تھاجتناآج کے طاقتوروں کوہے۔اسی لیے مزاحمت کی اصل قدرفوری کامیابی میں نہیں۔کبھی مزاحمت صرف اتناکرتی ہے کہ ظلم کے زمانے میں سچ کی ایک شمع بجھنے نہیں دیتی۔امیدکورومانوی فرارنہیں بلکہ انسانی تاریخ کے دوسرے رخ—ہمدردی ، قربانی،بہادری اورمہربانی—کی یادقرار دیتی ہے۔یہ نکتہ ہمارے عہدکیلئےغیرمعمولی اہمیت رکھتاہے۔ہم نے سیاست کواس قدرطاقت،انتخاب،نشست اورحکومت کے معنی میں محدو کردیاہے کہ کردارکی سیاست تقریباً فراموش ہوچکی ہے حالانکہ ہربڑی تبدیلی پہلے ضمیرمیں پیداہوتی ہے۔انسان جب یہ فیصلہ کرلے کہ وہ جھوٹ کوصرف اس لیےسچ نہیں کہے گاکہ جھوٹ بولنے والاطاقتورہے،اسی لمحے سیاست شروع ہوجاتی ہے۔

جب ایک صحافی خوف کے باوجودسوال کرتاہے؛جب ایک استادمقبول تعصب کےبرخلاف حقیقت پڑھاتاہے؛جب ایک شہری اپنے مخالف کے بھی بنیادی حقوق کادفاع کرتاہے؛جب اکثریت اقلیت کےحق کیلئےکھڑی ہوتی ہے؛جب مذہبی انسان اپنےعقیدے کونفرت کےکاروبار کاایندھن بننےسےبچاتاہے—یہ سب مزاحمت کی شکلیں ہیں۔

کیا امریکا واقعی زوال پذیر ہے؟اس سوال کاقطعی جواب دیناابھی تاریخ کے اختیارمیں ہے،ہمارے نہیں۔امریکاکے پاس آج بھی غیر معمولی علمی ادارے، ٹیکنالوجی،سرمایہ،اختراع،جغرافیائی قوت،زرعی صلاحیت،فوجی طاقت اورثقافتی اثرموجودہے۔بڑی ریاستیں خطِ مستقیم میں نہ اٹھتی ہیں،نہ گرتی ہیں۔کئی مرتبہ وہ شدیدبحران سےگزرکرخودکو دوبارہ تشکیل دیتی ہیں۔اصل سوال شایدیہ نہیں کہ امریکا کب’’ختم‘‘ہوگا۔اصل سوال یہ ہے کہ وہ اپنے تضادات کاعلاج کس طرح کرے گا،کیاوہ اپنی عالمی طاقت کواپنی داخلی جمہوریت کی قیمت پربرقراررکھنے کی کوشش کرے گا؟کیادولت کی انتہائی مرکزیت کوآزادی کافطری نتیجہ سمجھ کرقبول کرے گا؟کیانسلی وسماجی محرومی کوپولیس،جیل اورسیاسی نعروں سےقابو کرنے کی کوشش ہوگی؟کیادنیاکےبدلتےہوئےتوازن کوسفارت کاری کے ذریعے قبول کیاجائے گایاکھوئی ہوئی یک قطبی برتری واپس حاصل کرنے کی کوشش میں نئی مہم جوئیاں جنم لیں گی؟

اور سب سے بڑھ کرکیاامریکااپنی طاقت کوحق سمجھتارہے گا،یا ذمہ داری؟یہ سوال صرف واشنگٹن سے متعلق نہیں۔چین کیلئےبھی یہی سوال ہے۔روس کیلئےبھی۔بھارت کیلئےبھی۔یورپ کیلئےبھی۔مسلم دنیا کیلئےبھی۔اور ہر س ریاست کیلئےبھی جوطاقت حاصل کرناچاہتی ہے۔کیونکہ تاریخ کا قانون امریکا کیلئےالگ اوردوسروں کیلئےالگ نہیں۔یادرکھیں:سلطنتیں اس دن نہیں مرتیں جس دن ان کاآخری سپاہی میدان چھوڑتاہے۔ان کازوال اس دن شروع ہوتاہے جب انصاف طاقت پربوجھ محسوس ہونے لگے،حقیقت قومی وقارکیلئےخطرہ بن جائے،اختلاف غداری سمجھا جائے،دولت خدمت کی بجائے حکومت کرنے لگے اورجنگ سفارت کاری سے زیادہ آسان دکھائی دے۔ایسے وقت میں توپیں خاموش بھی ہوں توزوال بول رہا ہوتاہے۔

لیکن تاریخ ہمیں ایک دوسری خبربھی دیتی ہے۔کوئی زوال ناگزیرنہیں جب تک انسان اپنی غلطی پہچاننےکی صلاحیت نہ کھودے۔قومیں بھی افرادکی طرح توبہ کرسکتی ہیں—لفظی نہیں،عملی توبہ:اپنے ادارے درست کر کے،مظلوم کوآواز دے کر، دولت کو ذمہ داری کے تابع کرکے،قانون کوطاقتوراورکمزور دونوں کیلئےیکساں بناکر،جنگ کوآخری چارہ بناکراور اپنے مخالف کوانسان سمجھ کر۔شاید یہی ہمارے زمانے کی سب سے بڑی جنگ ہے۔نہ واشنگٹن اوربیجنگ کے درمیان۔نہ مشرق اورمغرب کے درمیان۔نہ سفیداورسیاہ کے درمیان۔اصل کشمکش طاقت اورعدل،خوف اورشعور،حرص اورمیزان،خودفریبی اور حقیقت کے درمیان ہے۔

اقوام کی عمرتوپوں کی تعدادسے نہیں ناپی جاتی۔کسی تہذیب کی اصل زندگی اس دن تک باقی رہتی ہے جب تک اس کے اندرایسے انسان موجودہوں جوآئینہ توڑنے کی بجائے اس میں اپناچہرہ دیکھنے کاحوصلہ رکھتے ہوں۔اورشایداسی مقام پرامریکی بحران پوری انسانیت کیلئےایک آئینہ بن جاتا ہے۔

اس آئینے میں صرف امریکاکاچہرہ نہیں۔کچھ دیرغورسے دیکھیے،اس میں ہم سب موجودہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں