قوموں کی زندگی میں بعض سوال ایسے ہوتے ہیں جومحض عدالتوں کی چاردیواری،پارلیمان کی میزوں یاسرکاری فائلوں تک محدود نہیں رہتے؛وہ رفتہ رفتہ ریاست اورشہری کے باہمی اعتمادکا پیمانہ بن جاتے ہیں۔احتساب بھی ایساہی ایک سوال ہے۔جس ریاست میں قانون کاترازومضبوط ہو،وہاں حکومتیں بدل سکتی ہیں مگرانصاف کامعیارنہیں بدلتا؛اورجہاں قانون کی دھار طاقتورکے دروازے پرپہنچ کرکندہوجائے،وہاں عوام کے دل میں یہ اندیشہ جنم لینے لگتاہے کہ شاید انصاف ایک اصول نہیں بلکہ ایک رعایت بن چکاہے۔
پاکستان میں احتساب کی داستان بھی اسی کشمکش سے عبارت ہے۔کبھی احتساب کوبدعنوانی کے خلاف شمشیرِبے نیام قرار دیاگیا،کبھی اسے سیاسی انتقام کاہتھیار کہاگیا،اورکبھی اس کے دائرۂ اختیار،قانونی ساخت،تفتیشی قوت اورادارہ جاتی آزادی پر سوال اٹھے۔آج بحث ایک بارپھراس مقام پرآکھڑی ہوئی ہے جہاں سوال صرف یہ نہیں کہ بدعنوانی کتنی ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ اسے روکنے اورپکڑنے والے ہاتھ کس قدرآزاد ہیں۔
سب سے پہلاسوال ایک ایسی مالی حدسے متعلق ہے جوبظاہرمحض حساب کتاب کامعاملہ دکھائی دیتی ہے،لیکن اپنی تہہ میں نہایت دوررس قانونی اورسیاسی مضمرات رکھتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگرقومی احتسابی ادارے کی کارروائی ایک مخصوص مالی حدسے اوپرکے معاملات تک محدودہوجائے،اوروہ حدبڑھتے بڑھتے تقریباًاسی کروڑ روپے تک جاپہنچے،تواس حد سے نیچے آنے والے سنگین مالی معاملات کامؤثراحتساب کس کے سپردہوگا؟
قانون میں اعدادکبھی محض اعدادنہیں ہوتے۔ایک مالی حدبعض اوقات دودائروں کے درمیان دیوارکھڑی کردیتی ہے:ایک طرف وہ جرم جوایک خاص ادارے کی گرفت میں آتاہے، اور دوسری جانب وہ جرم جواس کی دسترس سے باہرچلاجاتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اگراحتساب کی حدودمیں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوئی ہے تواسے محض تکنیکی ترمیم سمجھ کرنظراندازنہیں کیاجاسکتا۔پارلیمان پرلازم ہے کہ قوم کوبتایاجائے کہ اس حدکافلسفہ کیاہے،اس کاعملی مقصدکیاہے، اورکیااس کے نیچے آنے والےمعاملات کیلئےمتبادل ادارہ جاتی بندوبست اتناہی مضبوط ہے جتناکہ ہوناچاہیے۔
پاکستان میں بدعنوانی پرگفتگو اکثربڑے اعداد،مشہورمقدمات،گرفتاریوں اوربرآمدگیوں کے گردگھومتی رہی ہے۔مگراصل سوال شایداس سے زیادہ بنیادی ہے۔اگرکسی تفتیشی ادارے کے پاس وسائل،قانونی اختیار،ادارہ جاتی آزادی اورماہرافرادی قوت نہ ہوتومحض بدعنوانی کی موجودگی کااعتراف کسی علاج کا متبادل نہیں بن سکتا۔سمندرکی وسعت کاشکوہ اس وقت بے معنی ہوجاتا ہے جب کشتی کے چپوہی ضبط کرلیے جائیں۔احتساب کانظام محض قوانین کے انبارسے قائم نہیں ہوتا۔اسے تین چیزیں درکارہوتی ہیں۔واضح اختیار،غیرجانبداراطلاق اورآزادانہ تفتیش۔ان میں سےایک ستون بھی کمزورپڑجائے توپوراادارہ جاتی ڈھانچہ لرزنے لگتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں بارہایہ سبق دیتی ہے کہ ادارے صرف اپنے نام سے طاقتور نہیں ہوتے؛ان کی اصل قوت اس اختیارمیں ہے جوقانون انہیں دیتا ہے،اس آزادی میں ہے جوسیاسی دباؤسے انہیں محفوظ رکھتی ہے،اوراس اعتمادمیں ہے جو عوام ان پرکرتے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کے اجلاس میں چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈنذیراحمدبٹ سے منسوب یہ الفاظ کہ انہیں بدعنوانی کے سمندرمیں ہاتھ باندھ کرپھینک دیاگیاہے، اگر درست طورپررپورٹ ہوئے ہیں،تویہ ایک غیر معمولی ادارہ جاتی علامت ہیں۔ یہاں’’بندھے ہوئے ہاتھ‘‘صرف ایک ادبی استعارہ نہیں رہتے؛وہ قانون اوراختیارکے درمیان پیداہونے والی ممکنہ خلیج کی تصویربن جاتے ہیں۔کسی قومی ادارے کے سربراہ کی طرف سے ایساتاثر سامنے آئے توسوال فردکانہیں رہتا،نظام کاہو جاتاہے۔اگرادارے سےنتائج کی توقع رکھی جائے مگراس کے دائرۂ عمل کواس حد تک محدود کردیاجائےکہ وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کرسکے، توپھرریاست ایک عجیب تضادکاشکارہوجاتی ہے،وسیع اوربھاری ذمہ داری مگراختیارمحدود۔
ایک متوازن جمہوری نظام میں ایسی شکایت کونہ سیاسی نعرہ سمجھ کرردکرناچاہیے اورنہ تحقیق کےبغیرحتمی حقیقت قرار دیناچاہیے۔اسے پارلیمانی تحقیق،قانونی متن اورسرکاری وضاحت کے ذریعے پرکھناچاہیے۔فراہم کردہ معلومات کے مطابق،نیب کے دائرۂ اختیارکیلئےپچاس کروڑروپے کی مالی حدکاذکرسامنے آتا ہے ،جبکہ چیئرمین نیب کی جانب سے اسے بیس کروڑروپے تک لانے کی خواہش یادرخواست بھی بیان کی گئی ہے۔مزیدیہ دعویٰ کیاگیاہے کہ قانونی ترمیم کے نتیجے میں حدکومہنگائی کے اشاریے سے منسلک کرنے کابندوبست وجودمیں آیا،جس سے یہ رقم موجودہ حالات میں کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ محض ہندسوں کی کشمکش نہیں۔اگر قانون واقعی مالی حدکوکسی معاشی اشاریے سے منسلک کرتاہے توسوال اٹھتا ہے کہ اس بندوبست کاقانونی مقصدکیا تھا؟کیایہ ادارے کوصرف بڑے اورپیچیدہ مالی جرائم تک محدودرکھنے کیلئےبنایاگیا،یا اس کےایسے غیرارادی نتائج پیداہوئے جن سے احتساب کاایک وسیع میدان دوسرے اداروں کے سپردہوگیا؟قانون سازی میں نیت اہم ہوتی ہے،لیکن نتیجہ اس سے بھی زیادہ اہم۔ایک شق کاغذ پرمعقول دکھائی دے سکتی ہے ،مگر عملی دنیامیں اس کے اثرات بالکل مختلف نکل سکتے ہیں۔
یہ سوال اپنی طنزیہ کاٹ کے باوجودنہایت سنجیدہ ہے۔مہنگائی کااشاریہ عام طورپرقوتِ خرید،قیمتوں اورمعاشی تغیرکے تعین میں استعمال ہوتاہے۔لیکن اگر کسی احتسابی دائرۂ اختیارکی مالی حدبھی اسی رفتارسےبڑھتی رہےتوایک عجیب قانونی صورت پیداہوسکتی ہے۔عوام کی زندگی میں مہنگائی روٹی،بجلی،دوااورتعلیم کومہنگا کرتی ہے؛لیکن اگراسی مہنگائی کے اثرات سے احتساب کی مالی حد بھی بڑھنے لگے توعام ذہن میں یہ سوال فطری ہے کہ کیامالی جرم کاوہ حجم جس پرایک مخصوص ادارہ حرکت میں آسکتا ہے،وقت کے ساتھ بلندترہوتاچلاجائے گا؟
یہاں قانون سازکودومقاصدمیں توازن پیداکرناپڑتاہے:ایک طرف قومی احتسابی ادارے کومعمولی نوعیت کے مقدمات کے بوجھ سے بچانا،دوسری طرف ایسا خلاپیدانہ ہونے دیناجس میں بڑے مگرمقررہ حدسے کم مالی جرائم مؤثرکارروائی سے محروم رہ جائیں۔قانون کا حسن اسی توازن میں ہے۔فراہم کردہ نکات اس بحث کو2022 یں ہونے والی نیب ترامیم سے جوڑتے ہیں۔ ان ترامیم کے بعد تعداد معاملات کے نیب کے دائرۂ اختیار ے باہر انے پر یک وسیع قومی بحث پیدا ہوئی کہ احتساب کے نظام میں اصلاح کہاں ختم ہوتی ہے اور ادارہ جاتی کمزوری کہاں شروع ہوتی ہے۔احتسابی قوانین میں تبدیلی بذاتِ خود ایک معمولی امر ہیں ۔دنیاکے مختلف ممالک وقتاًفوقتاًاپنے اینٹی کرپشن نظام کوعدالتی فیصلوں،انسانی حقوق،سیاسی تجربات اورانتظامی ضرورتوں کے مطابق تبدیل کرتے ہیں۔لیکن اصل اصول یہ ہے کہ اختیاراگر ایک ادارے سے لیاجائے توخلا پیدانہیں ہوناچاہیے۔
اگرکوئی مقدمہ نیب کے دائرے سے نکل کرکسی دوسرے ادارے کے پاس جاتاہے تومحض فائل کی منتقلی کافی نہیں۔سوال یہ ہے کہ کیانئے ادارے کووہی تفتیشی استعداد،مالیاتی مہارت، فرانزک صلاحیت،قانونی تحفظ اورادارہ جاتی خودمختاری حاصل ہے؟ایک دروازہ بندکرنا اصلاح ہوسکتی ہے،مگرصرف اس صورت میں جب دوسرادروازہ واقعی کھلاہو۔
جدید مالی بدعنوانی وہ پراناجرم نہیں جس میں صرف نقدرقم یاجعلی رسیدپکڑلینا کافی ہو۔آج مالی جرائم کارپوریٹ ڈھانچوں، فرنٹ کمپنیوں،پیچیدہ بینکاری لین دین،ڈیجیٹل ریکارڈ،غیر ملکی اکاؤنٹس،بے نامی ملکیت،مالیاتی پرتوں اورقانونی پردوں کے پیچھے چھپ سکتے ہیں۔ایسے جرائم کی تفتیش کیلئےمالیاتی فرانزک،ڈیجیٹل فرانزک،اکاؤنٹنگ،بینکاری قانون،بین الاقوامی تعاون اورتربیت یافتہ تحقیقاتی عملہ درکارہوتاہے۔
لہٰذا اگرمعاملات ایف آئی اے یاصوبائی احتسابی اداروں کی طرف منتقل ہوتے ہیں توصرف قانونی اختیارکافی نہیں۔صلاحیت بھی اسی درجے کی ہونی چاہیے۔ اس سے بھی زیادہ اہم مسئلہ آزادی کاہے۔اگرصوبائی سطح کا ادارہ انتظامی طورپرایسی حکومت کے زیراثرہوجس کے کسی عہدیدار یا بااثر حلقے کے خلاف تحقیقات مطلوب ہوں تومفادات کے تصادم کااندیشہ پیدا ہوتاہے۔انصاف صرف ہونانہیں چاہیے؛ہوتاہوادکھائی بھی دینا چاہیے ۔
یہاں بحث اپنے سب سے فلسفیانہ مقام پر پہنچتی ہے۔ بدعنوانی کے ہر قدم میں پہلا سوال یہ ہوتاہے کہ جرم کس نے کیا؛ مگرایک منظم ریاست میں اس سے پہلے یہ طے ہوناچاہیے کہ جرم کی تحقیق کون کرے گا؟وہ ادارہ کس قانون کے تحت کام کرے گا؟اس کے سربراہ کی تقرری کیسے ہوگی؟اس کے تفتیش کارکس سے جواب دہ ہوں گے؟کیاان کابجٹ محفوظ ہے؟کیاوہ سیاسی انتقام اورسیاسی مصلحت سے بھی محفوظ ہیں ؟یہ سوال پاکستان کی پوری احتسابی تاریخ کے قلب میں موجودرہاہے۔احتساب اگرطاقتورحکومت کے ہاتھ میں سیاسی تلواربن جائے توانصاف مجروح ہوتاہے،اوراگراسے اس قدرمحدودکردیاجائے کہ طاقتور طبقے اس سے بے خوف ہوجائیں توبھی انصاف مجروح ہوتاہے۔درست راستہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے،ایساآزاد۔شفاف اورقانون کے تابع احتساب جونہ انتقام ہونہ رعایت۔
اگریہ بات قانونی متن سے ثابت ہوتی ہے کہ احتسابی دائرۂ اختیارکی مالی حدکسی اشاریےکے ساتھ بڑھ سکتی ہے تو پارلیمان کواس کے عملی اثرات کاباقاعدہ جائزہ لیناچاہیے۔قانون صرف اس دن زندہ نہیں ہوتاجب اسے منظورکیاجاتاہے؛وہ ہرروزاپنے نتائج کے ذریعے دوبارہ لکھاجاتاہے۔ممکن ہے کسی قانون کی تشکیل کے وقت ایک مخصوص مالی حدکومعقول سمجھاگیاہو، لیکن وقت،مہنگائی،ادارہ جاتی صلاحیت اورجرائم کی نوعیت بدلنے سے وہی حدایسے نتائج پیداکر سکتی ہے جن کاابتدائی طورپراندازہ نہ کیاگیا ہو۔
اسی لیے جمہوری قانون سازی میں پارلیمانی نگرانی اوربعد ازنفاذ جائزہ نہایت اہم ہیں۔پارلیمان کوپوچھناچاہیے کہ اس حدکے نتیجے میں کتنے مقدمات نیب کے دائرۂ اختیارمیں رہے،کتنے باہرگئے،وہ کہاں منتقل ہوئے،ان کاانجام کیاہوا،اورکیامتبادل اداروں نے ان پرمؤثر کارروائی کی؟اعداد یہاں سیاست سے زیادہ سچ بول سکتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں قانونی بحث عوامی احساس میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ایک عام شہری کیلئےمہنگائی کوئی معاشی اصطلاح نہیں؛یہ اس کے باورچی خانے، بچوں کی فیس،بجلی کے بل اوردواکی قیمت کانام ہے۔اگراسی معاشی اشاریے سے احتساب کی کوئی مالی حدبھی بڑھتی دکھائی دے توعوام کے ذہن میں ایک تلخ تضادپیداہوناناگزیرہے۔
مگرتحقیق کاتقاضاہے کہ جذباتی نتیجے پرپہنچنے سے پہلےچارچیزیں دیکھی جائیں۔ قانون کی اصل عبارت،متعلقہ ترمیم،پارلیمانی کارروائی اورسرکاری تشریح۔اسی طرح یہ سوال کہ ممکنہ فائدہ کس کوپہنچ سکتاہے،کسی فردیاجماعت پرپیشگی الزام لگانےسےحل نہیں ہوگا۔اس کیلئےمقدمات،اعدادوشمار،قانونی اثرات اور اداروں کے ریکارڈکاغیرجانبدارتجزیہ ضروری ہے۔قانون کے بارے میں شبہ کاعلاج شورنہیں، شفافیت ہے۔
ریاستی ادارے اپنے سربراہوں سے بڑے ہوتے ہیں،لیکن بعض اوقات سربراہ کے الفاظ پورے ادارے کی داخلی کیفیت کاآئینہ بن جاتے ہیں۔اگرایک قومی احتسابی ادارے کاسربراہ واقعی یہ سمجھتاہے کہ موجودہ قانونی بندوبست اس کی بنیادی ذمہ داری اداکرنے میں رکاوٹ ہے،تواس شکایت کاجواب شخصی سطح پرنہیں دیاجاسکتا۔پارلیمان کویہ دیکھناہوگاکہ کیایہ مسئلہ واقعی قانونی اختیارکاہے،تفتیشی وسائل کاہے،دائرۂ اختیارکی تقسیم کاہے،یااداروں کےدرمیان رابطے کی کمزوری کا۔جمہوری ریاست میں ادارے کی فریادکاجواب مزیدطاقت دینالازماً نہیں ہوتا؛بعض اوقات بہترقانون،واضح حدوداورمضبوط نگرانی زیادہ ضروری ہوتی ہے۔اختیاربے لگام ہوتوظلم کااحتمال پیداہوتاہے،اوراختیارحد سے زیادہ محدودہوتوبے اثری کا۔ریاست کاکمال قوت اورقاعدے کے درمیان اسی میزان کوقائم رکھنے میں ہے۔یہ سوال سیاسی جذبات سے زیادہ پارلیمانی تاریخ کاسوال ہے۔
کسی متنازع قانونی شق کے بارے میں ذمہ دارانہ تحقیق کیلئےیہ دیکھاجاناچاہیے کہ ابتدائی مسودہ کس نے تیارکیا،متعلقہ وزارت کی سمری کیاتھی،قائمہ کمیٹیوں میں کیابحث ہوئی،ترامیم کس مرحلے پرشامل ہوئیں،قومی اسمبلی اورسینیٹ میں کیا دلائل دیے گئے،اورحتمی متن کس صورت میں منظورہوا۔پارلیمانی جمہوریت کی خوبی یہی ہے کہ قانون سازی کے قدم کاغذپراپنے نشانات چھوڑتے ہیں۔اگرقوم جانناچاہتی ہے کہ ایک مخصوص شق کہاں سے آئی توجواب قیاس یاسیاسی الزام میں نہیں بلکہ قانونی وپارلیمانی ریکارڈمیں تلاش کیاجاناچاہیے۔اسی طرح ’’فائدہ کس کوہوا‘‘کاسوال بھی اشخاص کے ناموں سے پہلے نتائج کے تجزیے کاتقاضاکرتا ہے۔قانون کونیت کے میزان سے نہیں،اس کے عمومی اورعملی اثرات کے میزان سے بھی پرکھناچاہیے۔
پاکستان میں احتساب کاسب سے بڑاالمیہ شاید یہ رہاہے کہ اسے بارہاسیاسی عینک سے دیکھاگیا۔ایک حکومت جس کارروائی کوانصاف قراردیتی ہے،اپوزیشن اسے انتقام کہتی ہے؛پھر اقتداربدلتاہے توالفاظ کےکرداربھی بدل جاتےہیں۔حالاںکہ قانون کی عظمت اسی دن قائم ہوتی ہے جب وہ حکومت اورحزبِ اختلاف دونوں کیلئےیکساں ہو۔
نیب ہو،ایف آئی اے ہو،صوبائی احتسابی ادارے ہوں یاکوئی دوسراتفتیشی ڈھانچہ،ان سب کے سامنے ایک ہی آئینی واخلاقی اصول ہونا چاہیے،جرم کی نوعیت دیکھی جائے،مجرم کا سیاسی مرتبہ نہیں۔بڑی برآمدگیوں کی سرخیاں ادارے کی کامیابی کا مکمل پیمانہ نہیں۔اصل امتحان یہ ہے کہ مقدمہ کس معیارپر شروع ہوا،تحقیق کتنی غیرجانبدارتھی،ملزم کوقانونی تحفظ کتناملا، فیصلہ شواہدپرہوایانہیں،اورکیایہی اصول کمزوراورطاقتوردونوں پرنافذ کیےگئے۔یہی حقیقی احتساب ہے؛باقی سب شورِبازار ہے۔
آخرکارتمام بحث ایک ہی سوال پرآکرٹھہرجاتی ہے۔اگربدعنوانی موجودہو،اگرعوام انصاف چاہیں،اگرپارلیمان قوانین بنائے، اگرادارے قائم ہوں،لیکن ذمہ دارادارے اپنے آپ کوبے اختیار محسوس کریں،تونظام کس سمت جائے گا؟اس سوال کاجواب کسی ایک ادارے کوغیر محدودطاقت دینے میں نہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بے مہاراحتساب بھی ظلم کادروازہ کھول سکتاہے۔ جواب یہ ہے کہ پاکستان کوایسا ادارہ جاتی نظام درکارہے جس میں دائرۂ اختیارواضح ہو، مقدمات کے درمیان خلانہ ہو،تمام متعلقہ ادارے پیشہ ورانہ استعدادرکھتے ہوں،سیاسی مداخلت کے دروازے بند ہوں،عدالتی نگرانی مؤثرہواورپارلیمان مسلسل جائزہ لیتی رہے۔
ریاستیں صرف مجرم پکڑنے سے مضبوط نہیں ہوتیں؛وہ اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب قانون ایساہوکہ نہ کوئی بے گناہ اس سے خوف کھائے اورنہ کوئی طاقتور اس سے بے خوف رہے۔آج پاکستان کے سامنے اصل سوال شایدیہی ہے کہ احتساب کو سیاسی ضرورت،انتظامی سہولت اوروقتی مفادکے دائرے سے نکال کرایک مستقل قومی اصول کیسے بنایا جائے۔کیونکہ جب قانون کاترازو ایک ہاتھ میں طاقت اوردوسرے میں مصلحت اٹھانے لگے توانصاف کی آنکھوں پر بندھی پٹی غیرجانب داری کی علامت نہیں رہتی،بے خبری کی علامت بن جاتی ہے۔اوراگرواقعی محتسب کے ہاتھ بندھے ہوں توقوم کوصرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ احتساب کرے گاکون؟
اسے یہ بھی پوچھنا چاہیےوہ قانون کون ساہوگاجومحتسب کے ہاتھ بھی کھولے،مگرانہیں قانون کی حدسے باہرجانے نہ دے؛ جوطاقتورکوجواب دہ بنائے، مگر احتساب کوانتقام نہ بننے دے؛اور جوریاست کوایساآئینہ عطاکرے جس میں اقتدارخواہ کسی کا ہو،قانون کاچہرہ ہمیشہ ایک ہی دکھائی دے۔اسی میں آئین کی آبرو ، پارلیمان کاوقار،اداروں کی ساکھ اورعوام کے اعتمادکی بقا پوشیدہ ہے۔











