Pakistan: Unfulfilled Promise

پاکستان:عہدِناتمام

6ستمبر — وہ رات جب ایک قوم اپنے وطن کی دیوار بن گئی
یومِ دفاعِ پاکستان: عہد، قربانی، ایمان اور آج کی نسل کے نام ایک پکار

کچھ تاریخیں کیلنڈرکے اوراق پرصرف ہندسوں کی صورت لکھی ہوتی ہیں،مگرکچھ تاریخیں قوموں کے دلوں پرلکھی جاتی ہیں۔6ستمبر1965ءبھی ایسی ہی ایک تاریخ ہے۔یہ صرف توپوں کی گھن گرج،ٹینکوں کی پیش قدمی،فضائی معرکوں اور سرحدوں کے دفاع کانام نہیں۔یہ اس لمحے کانام ہے جب ایک پوری قوم نے گویاایک ہی وقت میں اپنے دل پرہاتھ رکھ کرکہا تھا:یہ زمین ہماری امانت ہے۔اس کی حفاظت صرف فوج نہیں کرے گی—ہم سب کریں گے۔

اس روزمحاذصرف سرحدپرنہیں تھا۔ایک محاذلاہورکے گردتھا۔ایک محاذسیالکوٹ کے میدانوں میں تھا۔ایک محاذفضاؤں میں تھالیکن ایک محاذ پاکستان کے ہرگھر کے اندربھی تھا۔کوئی ماں اپنے بیٹے کووردی پہناکردروازے تک چھوڑرہی تھی۔کوئی بوڑھا باپ بیٹے کی پیشانی چوم کراپنی آنکھوں میں چھپے آنسوواپس پلکوں کے پیچھے دھکیل رہاتھا۔کوئی بیوی اپنے شوہرکورخصت کرتے ہوئے مسکرارہی تھی تاکہ اس کے قدم کمزورنہ پڑجائیں۔کوئی بچہ ریڈیوسے آنے والی ہرخبرکوسانس روکے سن رہاتھا۔کوئی نوجوان خون کاعطیہ دینے کیلئےقطارمیں کھڑاتھا۔کوئی مزدور، کوئی دکاندار،کوئی طالب علم،کوئی استاد—اپنی اپنی جگہ پاکستان بن گیاتھا۔

وہ ایک عجیب وقت تھا۔خوف بھی تھا،مگرخوف سے بڑایقین تھا۔خطرہ بھی تھا،مگرخطرے سے بڑی غیرت تھی۔گھروں میں دعائیں تھیں۔مساجدمیں سجدے تھے۔ہسپتالوں میں خدمت تھی۔سڑکوں پرجذبہ تھااورسرحدوں پروہ سپاہی کھڑے تھے جنہیں اپنے پیچھے چندشہرنہیں بلکہ ایک پوری قوم کھڑی دکھائی دیتی تھی۔شایدیہی کسی قوم کی سب سے بڑی دفاعی طاقت ہوتی ہےجب وردی پہننے والاجانتا ہوکہ اس کے پیچھے کھڑاہرشہری اسی جنگ کاسپاہی ہے۔

آج جب ہم6ستمبرکاذکرکرتے ہیں تواکثر ہماری نگاہ ٹینکوں،جہازوں،بندوقوں اورمورچوں کی طرف چلی جاتی ہے۔مگرایک لمحے کیلئےان دروازوں کی طرف بھی دیکھیے جہاں سے جوان اپنے گھروں سے نکلے ہوں گے۔ وہ مائیں کس مٹی کی بنی تھیں؟سوچیے!ایک ماں نے بیٹے کوپالا۔بخارمیں راتیں جاگ کرگزاریں۔ اس کے پہلے قدم دیکھے۔پہلا لفظ سنا۔اس کیلئےخواب دیکھے۔پھرایک دن وطن نے اسی بیٹے کوپکارا۔اورماں نے اپنی ممتاکوسینے میں دفن کرکے کہاہوگا:جاؤ بیٹا، پاکستان تمہیں بلا رہا ہے۔

یہ جملہ بولناآسان ہے؟جس ماں کیلئےاس کابیٹاپوری دنیاہو،وہ اپنی دنیاوطن کی حفاظت کیلئےپیش کردے—یہ صرف قربانی نہیں،ایک ایسی روحانی کیفیت ہے جسے الفاظ پوری طرح بیان نہیں کرسکتے۔اوروہ باپ؟جس نے بیٹے کے کندھے مضبوط ہونے کاانتظارکیاتھا،شاید اس دن اس نے انہی کندھوں پرقوم کی ذمہ داری رکھ دی۔وہ بیویاں؟جن کے گھروں کے چراغ سرحدوں کی طرف روانہ ہوگئے۔وہ بچے؟جنہیں شایدیہ بھی پوری طرح معلوم نہ ہوکہ جنگ کیاہوتی ہے،مگراتناسمجھ گئے ہوں کہ ابوکسی بہت ضروری کام کیلئےگئے ہیں۔یہی وہ خاموش کردارہیں جن کانام اکثرجنگی نقشوں پرنہیں لکھاجاتا،لیکن تاریخ ان کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔

6ستمبر صرف سپاہیوں کایومِ دفاع نہیں۔یہ ماؤں کے صبر،باپوں کے حوصلے،عورتوں کی استقامت،بچوں کی معصوم دعاؤں، نوجوانوں کے جذبے اورپوری قوم کی اجتماعی غیرت کادن ہے۔1965ء کاسب سے بڑاہتھیارکیاتھا؟کیاوہ ٹینک تھا؟کیاوہ توپ تھی؟کیاوہ لڑاکاطیارہ تھا؟کیاوہ بندوق تھی؟یہ سب ضروری تھے مگران سب سے بڑاہتھیارشاید ایک اورتھا:قوم کا ایک ہونا۔ اس وقت کسی نےیہ نہیں پوچھاہوگاکہ تم کس صوبے سے ہو۔کوئی یہ نہیں دیکھ رہاتھاکہ تمہاری

زبان کیاہے۔کوئی یہ نہیں سوچ رہاتھاکہ تمہارامسلک،برادری یاسیاسی نظریہ کیاہے۔سوال صرف ایک تھا:پاکستان کوہماری ضرورت ہے یانہیں؟اورجواب تھا“ہے”۔بس،وہیں اختلاف پیچھے رہ گیااورپاکستان آگے آگیا۔جب قومیں اپنی ذات سے بڑی کسی چیزپرمتفق ہو جائیں توتاریخ کے ناممکن دروازے بھی کھلنے لگتے ہیں۔یہی 6ستمبر کاسب سے بڑاسبق ہے۔

دفاع صرف سرحد کا نہیں ہوتا۔قوم کے نظریے کابھی دفاع ہوتاہے۔اخلاق کابھی۔تعلیم کابھی۔معیشت کابھی۔قومی وحدت کابھی۔سچ کابھی۔انصاف کابھی۔اورسب سے بڑھ کراس عہدکادفاع ہوتاہے جس پرکوئی قوم کھڑی کی گئی ہو۔پاکستان—صرف زمین کاٹکڑانہیں،پاکستان کے قیام کوہماری اجتماعی یادداشت نے ہمیشہ ایک غیرمعمولی روحانی نسبت کے ساتھ دیکھاہے۔قیامِ پاکستان اوررمضان المبارک کی نسبت نے نسلوں کے دلوں میں یہ احساس پیدا کیاکہ شایداس وطن کامقصد صرف ایک جغرافیائی سرحدحاصل کرنانہیں تھا۔ایک خواہش اورحقیقت کے درمیان جمائی کھاتی ہواایک حسین خواب،ایک ایسی ریاست کاتصورتھاجہاں مسلمان اپنے دین،تہذیب اوراجتماعی اصولوں کے مطابق باوقارزندگی گزارسکیں؛جہاں انسان انسان کاغلام نہ ہو،جہاں طاقت قانون کے تابع ہو،جہاں کمزورکوانصاف ملے،جہاں علم عبادت بنے،دیانت ریاستی کرداربنے اورقرآن وسنت کی اخلاقی تعلیمات ہمارے اجتماعی ضمیر کوشکل دیں۔

ہماری قومی روایت میں باربارایک معنی خیزپکارسنائی دیتی ہے:اے رب! ہمیں ایسی سرزمین عطا فرما جہاں ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف تیرے سامنے جھکنے والا آزاد انسان بنا سکیں۔یہ تصورمحض ایک نعرہ نہیں ہوناچاہیےتھا۔یہ ہمارےکردارکامعیارہوناچاہیےتھا۔پاکستان کامطلب صرف سبزپرچم لہرانانہ تھا۔پاکستان کامطلب یہ بھی تھاکہ یہاں انصاف دنیاکوحیران کردے۔یہاں حکمران خودکوحاکم نہیں،امین سمجھیں۔یہاں قومی خزانہ ذاتی جاگیرنہ ہو۔یہاں یتیم کے حق سے لے کرریاستی فیصلے تک امانت کاتصورزندہ ہو۔یہاں علم اورتحقیق کووہ مقام ملے جس کاحکم پہلی وحی کے لفظ اقرأمیں موجود ہے۔یہاں بازارمیں دیانت ہو۔عدالت میں انصاف ہو۔سیاست میں اخلاق ہو۔معیشت میں خودانحصاری ہو۔تعلیم میں تحقیق ہواور طاقت کے ساتھ رحم ہو۔

لیکن پھرہم اپنے عہدسے کتنے وفاداررہے؟یہ سوال تکلیف دیتاہے۔لیکن قومیں صرف قصیدے سن کرزندہ نہیں رہتیں۔قومیں اپنے زخم دیکھنے کاحوصلہ بھی پیداکرتی ہیں۔ہمیں اپنے آپ سے پوچھناہوگا:کیاہم نے واقعی اس وطن کواس کے بلندمقصد کےمطابق بنایا؟کیاہمارے اداروں میں امانت ہمیشہ مقدم رہی؟ کیا ہم نے انصاف کوطاقتوراورکمزوردونوں کیلئےبرابررکھا؟کیاہم نے علم،تحقیق اورٹیکنالوجی کوقومی ترجیح بنایا؟کیاہم نے فرقہ،زبان،جماعت اورذاتی مفادسے اوپرپاکستان کورکھا؟کیاہم نے اوفوابالعهدعہد پورا کرنےکے قرآنی اصول کواپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کاحصہ بنایا؟یاہم بارباراپنے ہی وعدوں سے پھرے .یہاں ہمیں دوسروں پرانگلی اٹھانےسےپہلےاپنے گریبان میں جھانکناہوگاکیونکہ ریاستیں صرف حکمرانوں کےکردارسے نہیں بنتیں۔قوم بھی ریاست بناتی ہے ۔رشوت دینے والابھی ذمہ دارہے اورلینے والابھی۔جھوٹاسوداکرنے والابھی۔امتحان میں نقل کرنے والابھی۔میرٹ توڑنے والابھی۔قانون کواپنے لیے مختلف سمجھنے والابھی۔قوم کے اندرنفرت پھیلانے والابھی۔بغیر تحقیق خبرآگے بڑھانے والابھی۔اوروہ صاحبِ اختیاربھی جوعوامی امانت کوذاتی مفادبنا لے۔اگرپاکستان ایک عہد ہے،تواس عہدکے فریق ہم سب ہیں۔

اوراس سب کے باوجود… میرے رب! تیراکرم ختم نہیں ہوا:یہاں پاکستان کی داستان ایک اورحیران کن موڑلیتی ہے۔ہم نے غلطیاں کیں۔ہم لڑکھڑائے۔ ہم سیاسی بحرانوں سے گزرے۔ہم معاشی مشکلات میں پھنسے۔ہم نے ایک دوسرے کوکمزور کیا۔ہم نے کئی مواقع ضائع کیے۔لیکن اس سب کے باوجود ہ وطن قائم ہے۔اورصرف قائم نہیں،اس نے ایسے ایسے مراحل عبورکیے جوکبھی ناممکن دکھائی دیتے تھے۔وہ ملک جس کے وسائل محدودتھے،اس نے سائنس کی طرف قدم بڑھایا۔اس نے اپنے سائنس دان پیداکیے۔اپنے انجینئرپیداکیے۔اپنی دفاعی صنعت کھڑی کی۔میزائل،طیارہ سازی،ریڈار،بحری صلاحیت، دفاعی تحقیق اورسب سےبڑھ کرایٹمی دفاعی صلاحیت حاصل کی۔مئی 1998ءمیں پاکستان نے دنیاکے سامنے اپنی ایٹمی صلاحیت کاعملی اظہارکیااورجنوبی ایشیامیں ایک نئی دفاعی حقیقت وجودمیں آئی۔یہ طاقت جشنِ جنگ کیلئےنہیں ہونی چاہیے۔اس کااصل مفہوم کہیں زیادہ سنجیدہ ہے۔

ایسا دفاعی توازن پیدا کرنا کہ کوئی دشمن جنگ شروع کرنے سے پہلے سو بار سوچے۔حقیقی ڈیٹرنس کاکمال دشمن کوتباہ کرنانہیں،جنگ کوہونے سے روکناہے۔ آج جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے۔فیصلوں کاوقت سکڑچکا ہے۔میزائل،ڈرون،سائبرٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت،سیٹلائٹس اورجدید نگرانی کےنظام نے جنگ اورامن کےدرمیان فاصلہ خطرناک حدتک کم کردیاہے۔ایسے دور میں پاکستان کیلئےطاقت کامطلب صرف ہتھیاروں کی تعدادنہیں۔اصل طاقت ہے تیار دماغ،مضبوط معیشت،خود کفیل صنعت،جدید سائنس، قومی اتحاد،اخلاقی قیادت اورذمہ دار دفاع۔

اے آج کے نوجوان! 1965ءکاسپاہی تمہیں بلارہا ہے۔شاید تم سوچو کہ 6 ستمبرکی جنگ توساٹھ برس سے زیادہ پرانی بات ہے۔اس کاآج مجھ سے کیاتعلق؟ بہت گہراتعلق ہے۔1965ء میں ایک نوجوان نےمورچہ سنبھالا تھا۔آج تمہیں علم کامورچہ سنبھالناہے۔اس نے سرحدکی حفاظت کی۔تمہیں پاکستان کے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے۔وہ گولی کےسامنے کھڑاہوا۔تمہیں جہالت،کرپشن،جھوٹ،مایوسی،فرقہ واریت،نفرت اور ذہنی غلامی کےسامنے کھڑاہونا ہے۔اس نے بندوق اٹھائی۔تمہیں کتاب،کمپیوٹر،لیبارٹری،کاروبار،ہنر،تحقیق اورکردار اٹھانا ہے ۔

آج پاکستان کولاکھوں ایسے نوجوان چاہییں جویہ فیصلہ کریں:میں نقل نہیں کروں گا۔میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔میں شارٹ کٹ نہیں لوں گا۔میں دنیا کاعلم سیکھوں گا۔میں ٹیکنالوجی بناؤں گا،صرف استعمال نہیں کروں گا۔میں کاروبارپیدا کروں گا۔میں تحقیق کروں گا۔میں اپنی مہارت سے دنیامیں پاکستان کانام پیداکروں گا۔میں اختلاف کروں گا،مگرپاکستان نہیں توڑوں گا۔میں اپنی زبان،صوبے اورشناخت سے محبت کروں گا،مگردوسری شناختوں سے نفرت نہیں کروں گا۔میں دین کوکرداربناؤں گا، محض نعرہ نہیں۔اگرآج کانوجوان یہ عہد کرلے توشاید یہی اکیسویں صدی کا یومِ دفاع ہوگا۔

اے پاکستان کی بیٹی! یہ وطن تمہارا بھی اتنا ہی ہے۔1965ءکے جذبے کی ترجمانی صرف مردوں کی بہادری بیان کرکے مکمل نہیں ہوتی۔پاکستان کی عورت نے ہرمشکل دورمیں اپناکرداراداکیاہے۔اس نے بیٹاوطن کودیا۔شوہرکوحوصلہ دیا۔زخمیوں کی خدمت کی۔گھروں کوسنبھالا۔تعلیم کی شمع جلائی۔اورآنے والی نسلوں کے ذہن بنائے۔آج پاکستان کی بیٹی کامحاذشاید یونیورسٹی میں ہو،کسی ہسپتال میں،کسی لیبارٹری میں،کسی کلاس روم میں،کسی عدالت میں،کسی کاروبار میں،کسی ٹیکنالوجی کمپنی میں،کسی سرکاری ذمہ داری میں یااپنے گھرمیں اگلی نسل کی تربیت کرتے ہوئے۔

قومیں صرف سرحدوں پر نہیں بنتیں۔قومیں ماؤں کی گود میں بھی بنتی ہیں۔اگرایک ماں اپنے بچے کویہ سکھادے کہ پاکستان کی خدمت صرف نعرے سے نہیں بلکہ سچ، دیانت،علم اورمحنت سے ہوتی ہے تووہ شایدایک پورے مستقبل کی تعمیرکررہی ہوتی ہے۔

اے بزرگ پاکستانیو!آپ ہماری زندہ تاریخ ہیں۔وہ بزرگ جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا۔جنہوں نے ہجرت کی داستانیں سنیں۔جنہوں نے1965ءکے سائرن سنے۔جنہوں نے ریڈیوکے گرد خاندانوں کوجمع دیکھا۔جنہوں نے وہ وقت دیکھاجب پڑوسی پڑوسی کیلئےکھڑا تھا۔آپ ہمارے لیے صرف ماضی نہیں۔ آپ ایک امانت ہیں۔آج کی نسل کووہ پاکستان سنائیے جہاں لوگوں کے پاس سہولتیں کم تھیں لیکن شاید ایک دوسرے کیلئےجگہ زیادہ تھی۔انہیں بتائیے کہ آزادی مفت نہیں ملی۔انہیں بتائیے کہ وطن صرف زمین نہیں ہوتا۔وطن یادوں، قبروں، قربانیوں،دعاؤں،زبانوں،ثقافتوں اورآنے والی نسلوں کامشترکہ گھرہوتاہے۔

سب سے خطرناک جنگ شایدسرحدپرنہیں!آج پاکستان کے سامنے صرف روایتی فوجی خطرات نہیں۔ایک اورجنگ بھی ہے۔مایوسی کی جنگ، ذہنی غلامی کی جنگ،جھوٹی اطلاعات کی جنگ،معاشی انحصار کی جنگ،تعلیمی پسماندگی کی جنگ،کردارکے بحران کی جنگ،اس جنگ میں گولی کی آوازنہیں آتی لیکن قومیں اندرسے کمزورہوجاتی ہیں۔جب نوجوان یقین کھو دے کہ وہ کچھ بدل سکتا ہے۔یہ شکست ہے۔جب میرٹ بے معنی ہوجائے،یہ شکست ہے۔جب علم کا طالب علم ملک چھوڑنے کوکامیابی کاواحدراستہ سمجھنےلگے۔یہ شکست ہے۔جب ہم ہرقومی مسئلے کاذمہ دارصرف”دوسروں”کوقراردے کراپنی ذمہ داری سے بچ جائیں،یہ بھی شکست ہے۔

اس لیے6ستمبرآج ہم سے نئی قسم کاسپاہی مانگتاہے۔ایساسپاہی جواپنی جگہ کھڑاہو۔استادہے تودیانت سے پڑھائے۔ڈاکٹرہے تو مریض کوامانت سمجھے۔تاجرہے توناپ تول درست رکھے۔سرکاری ملازم ہے توقوم کے وقت کواپنا مال نہ سمجھے۔سیاست دان ہے تواقتدارکو خدمت سمجھے۔صحافی ہے توخبرکوامانت سمجھے۔عالم ہے توامت کوجوڑے۔نوجوان ہے توخودکوعلم اور مہارت سے مسلح کرے۔

پاکستان ناقابلِ شکست کب ہوگا؟کیاصرف اس وقت جب ہمارے پاس جدید ترین میزائل ہوں؟نہیں۔کیاصرف اس وقت جب ہمارے پاس ایٹمی صلاحیت ہو؟نہیں۔کیاصرف اس وقت جب ہماری افواج مضبوط ہوں؟یہ بہت ضروری ہے—مگرکافی نہیں۔پاکستان واقعی ناقابلِ شکست اس دن ہوگاجب فوج مضبوط ہواورمعیشت بھی مضبوط ہو۔دفاع مضبوط ہواور تعلیم بھی۔سرحدمحفوظ ہو اورعدالت بھی قابلِ اعتمادہو۔میزائل جدیدہواوریونیورسٹی بھی۔ایٹمی صلاحیت موجودہواورتوانائی،صنعت،زراعت اور ٹیکنالوجی میں بھی خودانحصاری ہو۔مسجدآباد ہو اوربازارمیں دیانت بھی ہو۔قرآن پڑھاجائے اورمعاملات میں اس کی اخلاقیات بھی نظر آئیں۔ہم دشمن کے خلاف متحد ہوں اورایک دوسرے کے حقوق کیلئےبھی کھڑے ہوں۔ قومی دفاع،فکری دفاع،معاشی دفاع ،اخلاقی دفاع اورتہذیبی دفاع یہی مکمل دفاع ہے۔

6ستمبر ہم سے خون نہیں—کردارمانگتاہے۔ہمیں ہرنسل سے جنگ مانگنے کی ضرورت نہیں۔قوموں کی عظمت اس میں نہیں کہ وہ ہمیشہ لڑتی رہیں۔عظمت اس میں ہے کہ وہ اتنی طاقتور،منظم،عادل اورباوقارہوجائیں کہ جنگ ان پرمسلط کرنے کی جرأت کوئی نہ کرے۔ہمارے شہداءنےاپنا خون اس لیےنہیں دیاتھاکہ ہماری آنےوالی نسلیں ہمیشہ میدانِ جنگ میں رہیں۔انہوں نے جان اس لیےدی تھی کہ ہم امن کے ساتھ آزادرہ سکیں۔اسی لیے شہیدکاسب سے بڑااحترام شایدصرف پھول چڑھانانہیں۔اس کے خواب کاپاکستان بنانا ہے۔وہ پاکستان جہاں اس شہیدکابچہ انصاف سے محروم نہ ہو۔جہاں کسی غریب کا باصلاحیت بیٹا صرف غربت کی وجہ سے پیچھے نہ رہ جائے۔جہاں ایک بیٹی محفوظ ہو۔جہاں ایک کسان باعزت ہو۔جہاں استادکی قدرہو۔جہاں سائنسدان کو وسائل ملیں۔جہاں نوجوان کوامیدملے۔جہاں قانون بڑے اورچھوٹے کوایک نظرسے دیکھے۔تب شایدہم شہداء کی قبروں پرسرخرو ہوکرجاسکیں گے۔

میرے رب!ہمیں پھروہ قوم بنادے جس کاتم نے ہمیں حکم دیاہے۔اے اللہ!ہم تیرے حضوراپنی کوتاہیوں کااعتراف کرتے ہیں۔تونے ہمیں ایک وطن دیا۔ہم نے ہمیشہ اس کی قدرنہ کی۔تونے ہمیں وسائل دیے۔ہم نے انہیں ہمیشہ حکمت سے استعمال نہ کیا۔تونے ہمیں صلاحیت دی۔ہم نےکئی باراسے اختلافات میں ضائع کیا۔تونے ہمیں دشمن کے سامنے بارہاسربلندرکھا۔ہم اپنے نفس کےسامنے ہمیشہ سربلندنہ رہ سکے۔

اے رب!ہمیں پھروہی دل عطاکردے جومشکل میں ایک ہوجاتاتھا۔ہمیں وہ آنکھ دے جواپنی غلطی بھی دیکھ سکے۔ہمیں وہ علم دے جوہمیں محتاجی سےنکال دے۔ہمیں وہ قیادت دے جوامانت کاحق اداکرے۔ہمیں وہ نوجوان دےجودنیاسےمانگنے کی بجائے دنیاکودینے والابنے۔ہمیں ایسی سائنس دے جو انسانیت کے کام آئے۔ہمیں ایسی طاقت دے جس سے مظلوم محفوظ ہو۔ہمیں ایسا دفاع دے جوجنگ کوروکے۔ہمیں ایسی معیشت دے جوہمارے فیصلوں کوآزادکرےاورہمیں ایسا کرداردےکہ دنیاہماری طاقت سے پہلے ہمارے انصاف کی مثال دے۔
آج اس عہدکودہرائیں:آج 6 ستمبرپر صرف یہ نہ کہیںہمیں اپنے شہداء پر فخر ہے۔یہ بھی کہیںہم ان کی قربانی کے مقروض ہیں۔صرف یہ نہ کہیں:پاکستان ہمیشہ قائم رہے گا۔یہ بھی پوچھیں ،پاکستان کو مضبوط رکھنے کیلئےمیں آج کیا کررہا ہوں؟صرف جھنڈانہ لگائیں،اپنے کردارپر بھی پاکستان لکھیں۔صرف ملی نغمہ نہ سنیں،اپنے کام کوبھی قومی خدمت بنائیں۔صرف دشمن کی کمزوری نہ گنیں،اپنی کمزوریاں بھی ختم کریں۔صرف ایٹمی قوت پرفخرنہ کریں،ایسی علمی،معاشی اوراخلاقی قوت بنیں کہ دنیاپاکستان کی طرف احترام سے دیکھے۔

ایک دن ہماری نسل بھی تاریخ بن جائے گی۔آج کے بچے بڑے ہوں گے۔وہ پوچھیں گےجب پاکستان مشکل میں تھاتوآپ کیا کر رہے تھے؟کیا ہم کہیں گےہم ایک دوسرے سے لڑرہےتھے؟ہم نفرت پھیلارہے تھے؟ہم مایوس بیٹھے تھے؟یاہم کہیں گے:ہم نے پاکستان کودوبارہ کھڑاکیاتھا۔ہم نے تعلیم کوطاقت بنایا۔ہم نے تحقیق کوقومی ترجیح بنایا۔ہم نے نوجوان کوامید دی۔ہم نے صنعت بنائی۔ہم نے ٹیکنالوجی بنائی۔ہم نےاپنےاختلاف کےباوجودوطن کوایک رکھا۔ہم نےاپنےرب سےکیاہواعہدیادکیا۔اورہم نے آنے والی نسلوں کو ایک ایساپاکستان دیاجوصرف نقشے پربڑانہیں تھابلکہ کردارمیں بڑاتھا۔

6ستمبر1965ءکے شہداء:تمہاری قبروں سے آج بھی ایک آوازآتی ہے۔تم پوچھتے ہوکیاپاکستان محفوظ ہے؟ہم کہتے ہیں ہاں، اس کی سرحدوں پرآج بھی تمہارے بھائی کھڑے ہیں۔تم پوچھتے ہوکیاپاکستان مضبوط ہے؟ہم کہتے ہیں اس کے پاس وہ دفاعی صلاحیت ہےجس کاتمہارے دورمیں تصوربھی مشکل تھا۔ پھرشایدتم ایک آخری سوال پوچھو:کیا وہ قوم بھی ویسی ہی مضبوط ہے جس کیلئےہم نے جان دی تھی؟اوریہاں ہماری زبان رک جاتی ہےکیونکہ اس سوال کاجواب تقریروں میں نہیں ملے گا۔یہ جواب ہمارے اسکول دیں گے۔ہماری عدالتیں دیں گی،ہماری سڑکیں دیں گی،ہماری یونیورسٹیاں دیں گی،ہمارا بازاردے گا۔ہمارا کردار دے گا،ہمارا نوجوان دے گا۔

توآؤاس6ستمبرکو صرف ماضی کی یادنہ بنائیں۔اسے مستقبل کاعہدبنادیں۔عہد کریں کہ پاکستان کوکسی شخص،جماعت،زبان، صوبے یانسل سے چھوٹانہیں ہونے دیں گے۔عہدکریں کہ ایمان کوکردارسے جوڑیں گے۔حب الوطنی کومحنت سے،آزادی کو خود انحصاری سے،دفاع کوعلم سے،طاقت کوانصاف سے اورپاکستان کواس مقصدسے جس کیلئےہمارے بڑوں نے خواب دیکھے، گھرچھوڑے،ہجرتیں کیں اورجانیں دیں۔پھرشاید ایک دن دنیاپاکستان کوصرف ایک ایٹمی ریاست کےطورپرنہیں دیکھے گی بلکہ کہے گی:
یہ وہ قوم ہے جس نے اپنی غلطیوں سے سیکھا،اپناعہددوبارہ یادکیا،اپنی قوت خودپیدا کی،اپنے اختلافات پرقابوپایااورطاقت کےباوجودامن کواپناراستہ بنایا اور شاید تب آسمان سے ہماری طرف رحمت کی نظرہواورہماری آنے والی نسلیں6ستمبرکی داستان پڑھ کر صرف یہ نہ کہیںہمارے بزرگ عظیم تھےبلکہ فخر سے کہیں،انہوں نے وطن بچایاتھااورہم نےان کےخواب کا پاکستان بنایا ۔پاکستان صرف ہماری زمین نہیں،یہ ہمارے شہداءکی امانت،ہمارے بزرگوں کی دعا، ہماری ماؤں کی قربانی، ہمارے بچوں کامستقبل اورہمارے رب کے سامنے ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

اس امانت کو تھامے رکھیے۔اسے اختلاف کی آگ میں نہ جلنے دیجیے۔اسے مایوسی کے ہاتھوں نہ ہارنے دیجیے۔اسے جہالت کےسپرد نہ کیجیے۔اسے قرض،محتاجی اورذہنی غلامی کی زنجیروں میں نہ جکڑنے دیجیے۔اپناعلم پاکستان کودیجیے۔اپنی صلاحیت پاکستان کودیجیے۔اپنی دیانت پاکستان کودیجیے۔اپنی محنت پاکستان کو دیجیے ۔اپنی دعاپاکستان کودیجیےکیونکہ کبھی سرحدپر کھڑے کسی سپاہی نےاپنے آج کوہمارے کل کیلئےقربان کیاتھا۔اب ہماری باری ہے کہ اپنے آج سے پاکستان کا کل بنائیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد و پائندہ باد۔

اپنا تبصرہ بھیجیں