Searching for peace in the shadows of nuclear weapons

جوہری سایوں میں امن کی تلاش

تاریخِ انسانی کےاوراق جب کبھی ورق گردانی کیلئےکھلتے ہیں توان کے حاشیوں پرہمیں محض شمشیروسناں کی جھنکاریابارودکی بو نہیں ملتی،بلکہ ایک ایسانادیدہ توازن بھی جھلکتانظرآتاہے جو قوموں کی بقاکانگہبان اوران کے عروج وزوال کاخاموش منصف رہاہے۔ یہی توازن کبھی خوف کے پردے میں مستوررہا،کبھی حکمت کے جامے میں ملبوس ہوا،اورکبھی قوت کے جلال میں جلوہ گرہوکر زمانوں کی تقدیررقم کرتارہا۔

عصرِحاضرمیں یہی نادیدہ قوت ایک نئے قالب میں ڈھل چکی ہے—جوہری صلاحیت کاقالب۔یہ وہ سایہ ہے جوامن کے آسمان پربھی اپنی ہیبت طاری رکھتا ہے اورجنگ کے امکان کوایک خاموش مگرمستقل وسوسے کی طرح انسانی شعورمیں زندہ رکھتاہے۔یہ محض ہتھیار نہیں،بلکہ ارادوں،اندیشوں اورامکانات کاوہ مجموعہ ہے جس نے عالمی سیاست کےمزاج کویکسربدل دیاہے۔

جنوبی ایشیا—یہ خطہ جوکبھی تہذیبوں کی آماجگاہ،افکارکی جولانگاہ اورتاریخ کے عظیم تجربات کاامین رہا—آج اسی جوہری توازن کی ایک نہایت نازک گھڑی سے گزررہاہے۔یہاں طاقت محض قوتِ بازوکانام نہیں رہی،بلکہ ایک ایسی سنجیدہ حکمتِ عملی کاعنوان بن چکی ہے جس میں ہرقدم ناپ تول کررکھاجاتاہے، ہرخاموشی ایک پیغام رکھتی ہے،اورہرپیش رفت اپنے اندرایک نئی معنویت سموئے ہوئے ہوتی ہے۔

یہ خطہ اب محض جغرافیے کی حدودمیں محصورنہیں رہا،بلکہ ایک ایسے وسیع ترتزویراتی منظرنامے کاحصہ بن چکاہے جہاں ہر حرکت عالمی سیاست کے دھاروں کومتاثرکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہاں خوف اورامید،احتیاط اورجرأت،اورتدبر وتوازن کی کشمکش ایک ایسی داستان رقم کررہی ہے جونہ صرف حال کو معنی دیتی ہے بلکہ مستقبل کے خدوخال بھی متعین کرتی ہے۔پس،جنوبی ایشیاکاجوہری توازن محض ہتھیاروں کی گنتی کامسئلہ نہیں،بلکہ ایک فکری،اخلاقی اور تزویراتی امتحان ہے—ایساامتحان جس میں کامیابی کاانحصارقوت کے اظہار پرنہیں بلکہ اس کے ضبط،اس کے ادراک اوراس کے ذمہ دارانہ استعمال پرہے۔

سپری کی حالیہ رپورٹ میں انڈیاکی جانب سے12نئے جوہری وارہیڈزکی تعیناتی کاذکرمحض ایک عددی اضافہ نہیں بلکہ ایک گہری تزویراتی پیش رفت کی علامت ہے۔جوہری ہتھیاروں کے میدان میں تعدادسے زیادہ اہمیت ان کی تیاری،تعیناتی اورفوری استعمال کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس اعتبارسے یہ اقدام نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی طاقتوں کیلئےبھی کئی سوالات کوجنم دیتاہے کہ آیایہ پیش رفت محض دفاعی ضروریات کاحصہ ہے یاطاقت کےعلاقائی وعالمی توازن کوایک نئی سمت دینے کی کوشش؟

انڈیاکی جانب سے ان وارہیڈزکی تعیناتی کوصرف اعدادوشمارکی زبان میں دیکھنااس کے حقیقی تزویراتی پہلوؤں کونظراندازکرناہوگا۔ دراصل یہ اقدام طاقت کے اظہار،فوری ردِعمل کی صلاحیت میں اضافے اورایک ایسی دفاعی سوچ کی عکاسی کرتاہے جس میں ہتھیاروں کومحض ذخیرہ کرنے کی بجائے عملی تیاری کی حالت میں رکھنے کواہمیت دی جاتی ہے۔جدیدجنگوں کا فیصلہ صرف اسلحے کی مقدارسے نہیں بلکہ تیاری کی سطح،تکنیکی برتری،کمانڈاینڈکنٹرول نظام اوربروقت ردِعمل کی صلاحیت سےہوتاہے۔

اسی لیے جوہری وارہیڈزکی تعیناتی ایک ایساپیغام بھی سمجھی جاتی ہے جوعسکری دائرے سے نکل کرسفارتی اورسیاسی میدانوں تک پہنچتاہے۔یہ پیش رفت خطے میں موجودطاقت کے توازن،باہمی اعتماداورمستقبل کے تزویراتی رویوں پراثراندازہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں،جہاں دو ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے موجودہیں، ہر نئی تعیناتی صرف ایک عسکری فیصلہ نہیں رہتی بلکہ امن،استحکام اورعلاقائی سلامتی کے وسیع ترسوالات سے جڑجاتی ہے۔

عالمی سطح پرامن،سلامتی اوردفاعی امورکے مطالعے کےحوالے سے ایک معتبرتحقیقی ادارہ سمجھاجاتاہے،جس کی رپورٹس دنیابھر میں پالیسی سازوں،دفاعی ماہرین اورمحققین کیلئےاہم حوالہ رکھتی ہیں۔تاہم یہ حقیقت بھی پیشِ نظررہنی چاہیےکہ سپری کی بیشتر تحقیقات اوپن سورس معلومات،دستیاب اعدادو شمار اورتجزیاتی اندازوں پرمبنی ہوتی ہیں،اس لیے یہ کسی بھی ملک کی حقیقی جوہری صلاحیتوں کی مکمل اورحتمی تصویرپیش کرنےکی بجائے ایک تحقیقی تخمینہ فراہم کرتی ہیں۔

2025کی رپورٹ میں سپری نے اس امرکی نشاندہی کی کہ ایک طرف انڈیااپنے جوہری پروگرام،میزائل نظام اوردفاعی صلاحیتوں کو وسعت دے رہاہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان بھی اپنی ڈیلیوری صلاحیتوں کوجدید خطوط پراستوارکرنے کاعمل جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنی جوہری وارہیڈزکی تعدادمیں اضافہ نہیں کیا،جواس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان کی حکمتِ عملی محض تعدادبڑھانے کی بجائے دفاعی توازن،مؤثر بازدارصلاحیت اوربدلتےہوئےسکیورٹی ماحول کےمطابق تیاری پر مرکوزہے۔

درحقیقت سپری رپورٹ جنوبی ایشیا کے دومختلف دفاعی فلسفوں کونمایاں کرتی ہے۔ایک جانب انڈیاکاوہ راستہ ہے جس میں جوہری صلاحیتوں کی توسیع،طویل فاصلےتک مارکرنے والے نظاموں کی ترقی اورعالمی سطح کی تزویراتی قوت بننےکی خواہش نظرآتی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کی پالیسی کم سے کم مگرقابلِ اعتماد بازدارصلاحیت کےاصول پرقائم دکھائی دیتی ہے۔

یوں سپری رپورٹ کومحض اعدادوشمارکی فہرست سمجھنادرست نہیں ہوگا،بلکہ یہ جنوبی ایشیاکے بدلتے ہوئے تزویراتی ماحول کاایک عکس ہے—ایساعکس جس میں طاقت کےحصول،دفاعی ضرورت،علاقائی خدشات اورعالمی سیاست کےپیچیدہ رشتےایک ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔سپری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے2025کے دوران فیسل موادجمع کیا،جسے بعض مبصرین ایک طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کے تناظرمیں دیکھتے ہیں۔تاہم اس عمل کوکسی فوری جوہری توسیع یاہتھیاروں کی دوڑکے تناظرمیں سمجھنادرست نہیں ہوگا،بلکہ یہ ایک ایسی محتاط حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاجاسکتاہے جس کامقصدبدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں دفاعی صلاحیت کو برقراررکھناہے۔ فیسل مواددراصل وہ خاموش تزویراتی سرمایہ ہوتاہے جوضرورت کے وقت دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں کرداراداکرسکتاہے۔

مئی 2025میں پاکستان اورانڈیاکے درمیان ہونے والی مختصرعسکری جھڑپ نے جنوبی ایشیاکے جوہری ماحول کی حساسیت کوایک بارپھرنمایاں کردیا۔اگرچہ یہ کشیدگی محدودرہی اوردونوں ممالک نے حالات کومزیدبگڑنے سے روکنے کیلئےسفارتی وعسکری سطح پراحتیاط کامظاہرہ کیا،لیکن اس واقعے نے یہ حقیقت واضح کردی کہ دوجوہری طاقتوں کے درمیان معمولی نوعیت کا بحران بھی عالمی تشویش کاباعث بن سکتاہے۔

یہ واقعہ اس امرکی یاددہانی تھاکہ جوہری طاقت کااصل امتحان صرف ہتھیاررکھنےمیں نہیں بلکہ بحران کےلمحات میں ضبط،دانشمندی اورذمہ دارانہ طرزِعمل اختیارکرنے میں ہے۔جنوبی ایشیا کاامن اسی نازک توازن سے وابستہ ہے جہاں دفاعی تیاری اورجنگ سے گریز،دونوں کوبیک وقت پیشِ نظررکھناناگزیرہے۔

سپری کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2025 کے دوران فیسل موادجمع کیا،جسے بعض دفاعی مبصرین ایک طویل المدتی تزویراتی منصوبہ بندی کے تناظرمیں دیکھتے ہیں۔تاہم اس عمل کومحض جوہری توسیع یاہتھیاروں کی دوڑکے زاویے سے دیکھنااس معاملے کی پیچیدگی کومحدودکردیتاہے۔درحقیقت یہ بدلتے ہوئے علاقائی سلامتی کے ماحول میں دفاعی صلاحیت کوبرقرار رکھنے اورمستقبل کے ممکنہ چیلنجزکیلئےتیاری کی ایک محتاط حکمتِ عملی کاحصہ قراردیاجاسکتاہے۔

فیسل موادکسی بھی جوہری پروگرام میں ایک اہم تزویراتی عنصرکی حیثیت رکھتاہے،جوبوقتِ ضرورت دفاعی صلاحیتوں کومضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتاہے۔تاہم اس کی اہمیت صرف مقدارمیں نہیں بلکہ اس کے استعمال،نگرانی،کمانڈاینڈکنٹرول نظام اور مجموعی دفاعی پالیسی کے تناظرمیں سمجھی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جوہری طاقت رکھنے والے ممالک اپنی صلاحیتوں کوصرف ہتھیاروں کی تعدادسے نہیں بلکہ توازن،اعتباراورمؤثربازدارقوت کے اصولوں کے تحت ترتیب دیتے ہیں۔

مئی 2025میں پاکستان اورانڈیاکے درمیان ہونے والی مختصرعسکری جھڑپ نے جنوبی ایشیاکے جوہری ماحول کی حساسیت کوایک بارپھرنمایاں کردیا۔اگرچہ یہ کشیدگی محدودرہی اوردونوں ممالک نے حالات کومزیدبگڑنے سے روکنے کیلئےسفارتی وعسکری سطح پراحتیاط اورذمہ داری کامظاہرہ کیا،لیکن اس واقعے نے یہ حقیقت واضح کردی کہ دوجوہری طاقتوں کے درمیان معمولی نوعیت کا بحران بھی نہایت خطرناک نتائج کاحامل ہوسکتاہے۔

یہ واقعہ اس بنیادی حقیقت کی یاددہانی تھاکہ جوہری طاقت کااصل امتحان صرف ہتھیاررکھنے میں نہیں بلکہ بحران کے لمحات میں ضبط،دانش مندی اورذمہ دارانہ طرزِعمل اختیارکرنے میں ہوتاہے۔جنوبی ایشیاکاامن اسی نازک توازن سے وابستہ ہے جہاں ایک طرف دفاعی تیاری ناگزیرہے،تودوسری جانب جنگ سے گریز،مکالمے اورتدبرکی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔یہی توازن اس خطے کوتباہی کے اندھیروں سے بچاکرامن اوراستحکام کی سمت لے جاسکتا ہے۔

انڈیاکی موجودہ دفاعی حکمتِ عملی اب محض روایتی زمینی یافضائی صلاحیتوں تک محدودنہیں رہی بلکہ اس نےایک وسیع ترتزویراتی دائرے کی شکل اختیارکرلی ہے۔کنسترائزیشن کے ذریعے میزائل نظام کوزیادہ محفوظ،متحرک اورفوری استعمال کے قابل بنانا،آبدوزی جوہری صلاحیت میں اضافہ، اورطویل فاصلےتک مار کرنےوالے بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری اس امرکی نشاندہی کرتی ہے کہ انڈیااپنے دفاعی ڈھانچے کوایک نئی جہت دے رہاہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہےکہ انڈیا کی جوہری حکمتِ عملی اب صرف قریبی علاقائی خطرات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے مقاصدمیں وسیع ترتزویراتی رسائی اورعالمی طاقت کےتوازن میں زیادہ نمایاں کرداراداکرنے کی خواہش بھی شامل ہے۔خاص طورپر طویل فاصلےتک مارکرنے والےمیزائل نظام اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انڈیااپنی دفاعی صلاحیتوں کوایسے خطوط پراستوار کررہاہے جہاں وہ جنوبی ایشیاکی حدودسے آگے بھی اثرانداز ہونے کی قابلیت حاصل کرسکے۔

آبدوزی جوہری صلاحیت کافروغ اس حکمتِ عملی کاایک اہم پہلوہے،کیونکہ سمندرمیں موجودجوہری پلیٹ فارم کسی بھی ملک کو دوسری جوابی کارروائی کی زیادہ مضبوط صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیاکی بڑی جوہری طاقتیں بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سمندری صلاحیت کوبنیادی اہمیت دیتی ہیں۔یوں انڈیاکی میزائل ٹیکنالوجی،آبدوزی نظام اورطویل فاصلے کی صلاحیتوں میں اضافہ محض عسکری جدید کاری کاعمل نہیں بلکہ ایک ایسے تزویراتی سفرکی علامت ہے جس میں جنوبی ایشیا کاخطہ اب عالمی طاقتوں کے بڑے کھیل کاحصہ بنتاجارہاہے۔اس صورتحال میں خطے کے تمام ممالک کیلئےضروری ہوجاتاہے کہ وہ طاقت کے حصول کے ساتھ ساتھ توازن،ذمہ داری اورامن کے تقاضوں کوبھی پیشِ نظررکھیں۔

پاکستان نے بارہاواضح کیاہے کہ وہ ہتھیاروں کی اندھی دوڑکاحصہ بننے کی خواہش نہیں رکھتا،بلکہ اس کی جوہری حکمتِ عملی کا بنیادی مقصدخطے میں تزویراتی توازن برقراررکھنااورکسی بھی ممکنہ جارحیت کوروکنے کیلئےقابلِ اعتماد دفاعی صلاحیت قائم رکھنا ہے۔پاکستان کامؤقف یہ ہے کہ طاقت کااصل مقصد جنگ کو ممکن بنانانہیں بلکہ جنگ کے امکان کوکم کرناہوتاہے۔اسی تناظر میں پاکستان کی پالیسی یعنی قابلِ اعتمادکم سے کم بازدارصلاحیت کے اصول پرمبنی ہے۔اس حکمتِ عملی کے تحت مقصد ہتھیاروں کی تعدادمیں غیرضروری اضافہ نہیں بلکہ اتنی مؤثرصلاحیت برقراررکھناہے جوکسی بھی مخالف کوجارحانہ اقدام سے قبل اس کے ممکنہ نتائج پرغور کرنے پرمجبورکرے۔یہ پالیسی دراصل طاقت کے حصول اوروسائل کے دانش مندانہ استعمال کے درمیان ایک توازن کی نمائندگی کرتی ہے۔پاکستان کے نزدیک قومی سلامتی کاتقاضا یہ نہیں کہ وہ لامحدودعسکری مقابلے میں داخل ہو،بلکہ یہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ایک ایسی دفاعی صلاحیت برقراررکھی جائے جوعلاقائی استحکام،خودمختاری اورقومی دفاع کی ضمانت فراہم کرسکے۔یوں پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی کامحورتعدادنہیں بلکہ توازن،مقابلہ نہیں بلکہ بازدارقوت،اورجارحیت نہیں بلکہ دفاعی تحفظ کاتصور ہے۔

جنوبی ایشیاکے جوہری منظرنامے میں عالمی برادری کاکردارمحض مشاہدہ کرنے یاتشویش کے رسمی بیانات تک محدودنہیں رہ سکتا، بلکہ اس پرایک بڑی ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ خطے میں تزویراتی توازن،عدمِ پھیلاؤاورپائیدارامن کےاصولوں کوفروغ دے۔پاکستان نےعالمی طاقتوں سےمطالبہ کیاہے کہ وہ انڈیاکی جوہری صلاحیتوں میں ہونے والی پیش رفت،جدیدہتھیاروں کی تیاری اوران کی ممکنہ علاقائی وعالمی اثرات کاباریک بینی سے جائزہ لیں۔

جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی اگروسیع ترسلامتی کے تقاضوں،شفافیت اورذمہ دارانہ نگرانی کےبغیرکی جائے تویہ نہ صرف علاقائی طاقت کےتوازن کومتاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی امن کیلئے بھی نئے چیلنجزپیدا کرسکتی ہے۔طاقتورممالک کی ذمہ داری صرف عسکری تعاون یاٹیکنالوجی کی فراہمی تک محدودنہیں ہونی چاہیے ، بلکہ انہیں اس امرکوبھی پیشِ نظررکھنا چاہیے کہ ان اقدامات کے دوررس نتائج کیاہوں گے۔

پاکستان کی اپیل دراصل محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ عالمی ضمیرکومتوجہ کرنے کی ایک کوشش ہے کہ جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں طاقت کے توازن کوبرقراررکھناپوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کیونکہ جوہری دورمیں امن صرف ہتھیاروں کے توازن سے نہیں بلکہ ذمہ دارانہ طرزِعمل، شفافیت اورباہمی اعتمادکےفروغ سے قائم رہ سکتاہے۔سپری کی رپورٹ کےمطابق انڈیا کے پاس تقریباً190جوہری وارہیڈزجبکہ پاکستان کے پاس170وار ہیڈزموجودہیں۔تاہم ان اعدادوشمارکوحتمی اورمکمل حقیقت سمجھنا درست نہیں ہوگا،کیونکہ جوہری صلاحیتوں سے متعلق معلومات اکثرخفیہ رکھی جاتی ہیں اورعالمی اداروں کے تخمینے عموماًدستیاب اوپن سورس معلومات،سیٹلائٹ جائزوں اورتجزیاتی اندازوں پرمبنی ہوتے ہیں۔

جوہری طاقت کاحقیقی اندازہ صرف وارہیڈزکی تعدادسے نہیں لگایاجاسکتا،بلکہ اس کیلئےکئی دیگرعوامل کوبھی پیشِ نظررکھناضروری ہوتاہے،جن میں ہتھیاروں کی تیاری کی سطح،ان کی تعیناتی کاطریقہ،میزائل نظام کی صلاحیت،کمانڈاینڈکنٹرول کاڈھانچہ،اورفوری ردِعمل کی استعداد شامل ہیں۔ایک کم تعداد میں موجودمگرزیادہ مؤثراورمحفوظ نظام بعض اوقات زیادہ تعدادکے مقابلے میں زیادہ اہم تزویراتی حیثیت رکھتاہے۔اسی لیے پردۂ اعدادکے پیچھے اصل کہانی صرف گنتی کی نہیں بلکہ صلاحیت،حکمتِ عملی اورارادوں کی ہوتی ہے۔جنوبی ایشیاکے جوہری منظرنامے میں اعدادوشماراپنی جگہ اہم ہیں،مگراصل سوال یہ ہے کہ یہ صلاحیتیں کس مقصد کیلئے،کس نظریے کےتحت اور کس توازن کوبرقراررکھنےکیلئےاستعمال کی جارہی ہیں۔یوں سپری کےتخمینے خطے کی جوہری صورتحال کوسمجھنے کیلئےایک اہم حوالہ ضرور فراہم کرتےہیں،لیکن مکمل تصویرکوسمجھنے کیلئےان اعدادکے ساتھ ساتھ تزویراتی سوچ،دفاعی پالیسیوں اورعلاقائی سلامتی کے وسیع ترتناظرکوبھی مدِنظررکھنا ناگزیرہے۔

پاکستانی دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے محدود معاشی وسائل کے باوجوداپنی دفاعی صلاحیتوں کواس سطح تک ترقی دی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ جارحیت کامؤثرجواب دینے کی صلاحیت رکھتاہے۔یہ خوداعتمادی محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ برسوں کی سائنسی تحقیق،دفاعی منصوبہ بندی اورعملی تجربات سے پیدا ہونے والااعتمادہے۔

پاکستان نے اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں تعدادکی بجائے معیار،خودانحصاری اورمؤثریت کوبنیادی اہمیت دی ہے۔محدودوسائل کے باوجوداس نے ایک ایسا دفاعی نظام تشکیل دیاجونہ صرف مؤثرہے بلکہ بدلتے ہوئے حالات کےمطابق خودکوڈھالنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔خاص طورپرمیزائل ٹیکنالوجی،نگرانی کے نظام اورفوری ردِعمل کی صلاحیتوں میں ترقی نے پاکستان کوایک قابلِ اعتبار دفاعی قوت کےطورپرنمایاں کیاہے۔

پاکستانی دفاعی فلسفے کی بنیاداس تصورپرقائم ہے کہ قومی سلامتی صرف وسائل کی کثرت سے نہیں بلکہ حکمتِ عملی،تکنیکی مہارت اوردرست فیصلوں سے مضبوط ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان نےاپنی صلاحیتوں کواس اندازمیں ترتیب دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ خطرے کے مقابلے میں مؤثر باز دارقوت برقراررکھ سکے۔یوں پاکستانی دفاعی سوچ دراصل “سادگی میں طاقت”کے اس اصول کی عکاسی کرتی ہے جس میں مقصد غیرضروری مقابلہ نہیں بلکہ ایک ایسامتوازن اورقابلِ اعتماد دفاعی ڈھانچہ قائم کرناہے جوقومی خودمختاری اورعلاقائی استحکام کے تحفظ میں اپناکرداراداکرسکے۔

سپری کے تخمینے کے مطابق انڈیاکے پاس تقریباً190جوہری وارہیڈزموجودہیں،تاہم بعض دفاعی ماہرین کےنزدیک یہ تعدادانڈیاکی حقیقی جوہری صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ان کے مطابق انڈیاکاوسیع جوہری انفراسٹرکچر،ری ایکٹرزکی موجودگی،فیسل موادکی پیداوارکی صلاحیت اورطویل المدتی منصوبہ بندی اس امرکی نشاندہی کرتی ہےکہ اس کی مجموعی صلاحیت موجودہ تخمینوں سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

انڈیاکاجوہری پروگرام صرف موجودہ ہتھیاروں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں ایک طویل المدتی تزویراتی سوچ کارفرمادکھائی دیتی ہے، جس میں ایندھن کی تیاری،میزائل نظام کی ترقی،سمندری جوہری صلاحیت اورمستقبل کی دفاعی ضروریات کو پیشِ نظررکھاجارہاہے۔یہی وسعت بعض مبصرین کے نزدیک جنوبی ایشیامیں طاقت کے توازن کیلئےایک اہم سوال بن جاتی ہے۔تاہم جوہری صلاحیت کاحقیقی جائزہ صرف اعدادوشمارسے نہیں بلکہ مجموعی تزویراتی ڈھانچے،دفاعی مقاصد،کمانڈاینڈکنٹرول نظام اور علاقائی سلامتی کےتناظرمیں لیاجاتا ہے۔انڈیاکے پروگرام کی بڑھتی ہوئی وسعت جہاں اس کی دفاعی ترجیحات کوظاہرکرتی ہے،وہیں یہ خدشہ بھی پیداکرتی ہے کہ اگرخطے میں شفافیت،اعتماد سازی اورذمہ دارانہ رویوں کوفروغ نہ دیاگیاتوطاقت کایہ پھیلاؤجنوبی ایشیامیں عدمِ توازن کے نئے مسائل کوجنم دے سکتاہے۔

پاکستان کی جوہری حکمتِ عملی کابنیادی اصول تعدادمیں اضافے کے بجائے مؤثربازدارصلاحیت برقراررکھناہے۔اس کامقصدہتھیاروں کی بے انتہادوڑ میں شامل ہونانہیں بلکہ ایسی قابلِ اعتماد دفاعی قوت قائم رکھناہے جوکسی بھی ممکنہ جارحیت کوروکنے کیلئےکافی ہو۔یہی تصورڈیٹرنس کے فلسفے کی بنیادہے،جس کے مطابق جنگ کوروکنے کابہترین ذریعہ یہ ہے کہ مخالف فریق کوکسی بھی جارحانہ اقدام سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کامکمل ادراک ہو۔اس حکمتِ عملی میں اصل اہمیت ہتھیاروں کی تعدادسے زیادہ ان کی مؤثریت، حفاظت،تیاری اوربروقت ردِعمل کی صلاحیت کوحاصل ہوتی ہے۔

انڈیاکی جانب سے جوہری وارہیڈزکی مبینہ تعیناتی کے حوالے سے واضح سرکاری ردِعمل سامنے نہ آنابھی اپنی جگہ ایک اہم پہلوہے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ خاموشی ایک محتاط سفارتی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے،جبکہ بعض اسے اس حساس معاملے کوعالمی بحث سے دوررکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کامحتاط اورسفارتی اندازیہ ظاہرکرتا ہے کہ جوہری معاملات میں محض بیانات نہیں بلکہ الفاظ کاانتخاب بھی ایک تزویراتی اہمیت رکھتاہے۔ایسے ماحول میں خاموشی بھی کبھی کبھی ایک پیغام بن جاتی ہے،کیونکہ طاقت کے اس کھیل میں ہراعلان اورہر عدمِ اعلان اپنے اندرایک معنی رکھتاہے۔

جدیدجوہری حکمتِ عملی میں آبدوزی صلاحیت کوغیر معمولی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ سمندرکی گہرائیوں میں موجودیہ پلیٹ فارم بظاہرنظرنہ آنے کے باوجود دفاعی توازن میں فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔انڈیاکی جانب سے جوہری صلاحیت رکھنے والی آبدوزوں کی ترقی اس کے دفاعی نظام کوایک نئی جہت فراہم کرتی ہے،کیونکہ ایسی صلاحیت کسی بھی ملک کودوسری جوابی کارروائی کاامکان فراہم کرتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ دنیاکی بڑی جوہری طاقتیں بھی اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سمندری صلاحیت کوبنیادی ستون کی حیثیت دیتی ہیں۔جوہری دفاعی نظام کاسب سے جدیدتصور“نیوکلیئرٹرائیڈ”ہے،جس میں زمین،فضااورسمندر تینوں ذرائع سے جوہری صلاحیت برقرار رکھی جاتی ہے۔یہ نظام کسی بھی ممکنہ حملے کے بعدمؤثر جوابی کارروائی کی صلاحیت کومضبوط بناتا ہے۔انڈیاکااس سمت میں پیش قدمی کرنااس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنے دفاعی ڈھانچے کوزیادہ جامع اورکثیر جہتی بنانے کی کوشش کررہاہے۔تاہم ایسی صلاحیتوں میں اضافہ خطے کے دیگر ممالک کیلئےبھی تزویراتی سوالات پیداکرتاہے،کیونکہ طاقت کے ہرنئے مرحلے کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کاچیلنج بھی بڑھ جاتا ہے۔

جوہری پروگرام میں ایندھن کاانتخاب بھی ایک اہم تزویراتی عنصرہوتاہے۔سپری کےمطابق انڈیااپنے جوہری پروگرام میں پلوٹونیم پر خاص توجہ دے رہا ہے،جواس کی طویل المدتی دفاعی منصوبہ بندی کاایک اہم حصہ سمجھاجاتاہے۔پلوٹونیم پرمبنی حکمتِ عملی بعض ممالک،خصوصاًاسرائیل،کے جوہری پروگراموں سے مشابہت رکھتی ہے،جبکہ امریکا،روس،چین، فرانس، برطانیہ اورپاکستان سمیت کئی ممالک یورینیئم اورپلوٹونیم دونوں ذرائع استعمال کرتے ہیں۔ایندھن کے انتخاب میں یہ فرق ہرملک کی دفاعی ترجیحات اورتزویراتی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔

انڈیاکی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ اس کی توجہ اب ایسے میزائل نظاموں کی طرف بڑھ رہی ہے جوطویل فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔خاص طور پر ایسے ہتھیارجوچین جیسے بڑے ملک کے مختلف علاقوں تک رسائی حاصل کرسکیں،اس کے دفاعی نظریے میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔یہ پیش رفت ظاہ کرتی ہے کہ انڈیااپنی جوہری صلاحیتوں کوصرف جنوبی ایشیاکے تناظرمیں نہیں بلکہ وسیع ترعالمی تزویراتی ماحول کے پس منظر میں بھی دیکھ رہاہے۔

انڈیا کابڑھتاہوا دفاعی بجٹ اس کی عسکری ترجیحات اورعالمی سطح پرزیادہ نمایاں کردارادا کرنے کی خواہش کااظہارہے۔92.1ارب ڈالرکے دفاعی اخراجات نے اسے دنیاکے بڑے دفاعی ممالک کی صف میں شامل کردیا ہے۔دفاعی بجٹ میں مسلسل اضافہ ایک طرف جدید ٹیکنالوجی،تحقیق اورعسکری استعدادمیں اضافے کاذریعہ بنتاہے،تودوسری جانب خطے میں طاقت کے توازن اورسلامتی کے خدشات کوبھی متاثرکرسکتاہے۔جنوبی ایشیاجیسے حساس خطے میں دفاعی اخراجات کاہربڑاقدم اپنےساتھ سیاسی اورتزویراتی اثرات بھی لاتاہے۔

عالمی سطح پرکئی ممالک اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئےجدید ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ کررہے ہیں۔پاکستان،سعودی عرب،قطراوریوکرین سمیت مختلف ممالک کے دفاعی اخراجات میں اضافہ اسی عالمی رجحان کی عکاسی کرتاہے۔تاہم پاکستان کی حکمتِ عملی میں ایک نمایاں پہلومقامی دفاعی پیداوار پربڑھتاہواانحصارہے۔بیرونی خریداری کی بجائے مقامی تحقیق ،دفاعی صنعت اور تکنیکی خودکفالت پرتوجہ پاکستان کوایک مختلف راستہ اختیارکرنے کی اجازت دیتی ہے۔یہ پالیسی نہ صرف معاشی دباؤکوکم کرنے میں مدددیتی ہے بلکہ دفاعی خودمختاری کوبھی مضبوط کرتی ہے۔مقامی صلاحیتوں کی تعمیر دراصل ایک خاموش انقلاب کی مانندہے،جو کسی بھی ملک کوطویل المدتی سلامتی اورخود اعتمادی فراہم کرتاہے۔

جنوبی ایشیا کاجوہری منظرنامہ محض میزائلوں،وارہیڈزاوردفاعی بجٹوں کی داستان نہیں بلکہ طاقت،خوف،حکمت اورذمہ داری کے درمیان ایک مسلسل کشمکش کی تصویرہے۔اس خطے میں ہرنئی تزویراتی پیش رفت یہ یاددہانی کراتی ہے کہ امن اورطاقت کے درمیان ایک نہایت باریک لکیرموجودہے،جسے عبورکرنانہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کیلئےبھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتاہے۔یہ تمام حقائق اس امرکی غمازی کرتے ہیں کہ جنوبی ایشیاآج تاریخ کے ایک اہم دوراہے پرکھڑاہے۔اگرطاقت کایہ توازن دانش،تدبراورذمہ داری کے اصولوں کے تحت برقراررکھاگیاتویہ خطہ ترقی،تعاون اوراستحکام کی ایک نئی داستان رقم کرسکتاہے،لیکن اگریہ نازک توازن بگڑ گیاتوتاریخ ایک بارپھراپنے صفحات کوخون اورالمیے کی سیاہی سے رقم کرسکتی ہے۔

جوہری دورکاسب سے بڑاسبق یہی ہے کہ حقیقی قوت صرف ہتھیاررکھنے میں نہیں بلکہ ان کے استعمال سے گریزکرنے کی صلاحیت میں پوشیدہ ہے۔دانش کا تقاضا یہ ہے کہ جوہری صلاحیت کوجنگ کے دروازے کھولنے کی بجائے امن کے دروازے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنایاجائے،اور طاقت کوہمیشہ حکمت کے تابع رکھاجائےکیونکہ تاریخ کے میدان میں اصل فتح وہ نہیں جومیدانِ جنگ میں حاصل ہو،بلکہ وہ ہے جومیدانِ عقل،تدبراوربصیرت میں حاصل کی جائے۔ قوموں کی عظمت کاپیمانہ صرف ان کی عسکری قوت نہیں بلکہ ان کی یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ اپنی طاقت کوامن،استحکام اورانسانی بقاکیلئےاستعمال کریں۔اسی حقیقت میں جنوبی ایشیا کے مستقبل کا رازپوشیدہ ہے:توازن قائم رہے،تدبرغالب رہے،اورجوہری صلاحیت خوف کی علامت نہیں بلکہ امن کی ضمانت بن جائے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں