Silent auction of national treasures

قومی خزانے کی خاموش نیلامی

حکمرانی،معاہدوں اورعوامی احتساب کانوحہ
قوموں کی تاریخ صرف فتوحات کے کتبوں،تاج محلوں،ایوانوں اورفرمانرواؤں کے تذکروں سے نہیں لکھی جاتی؛اس کے بعض ابواب فاقہ زدہ گھروں کے بجھے ہوئے چولہوں،محنت کش کے پسینے،بیوہ کی خاموش آہ،مزدورکی اجرت،مقروض باپ کی جھکی ہوئی پیشانی اوراس نوجوان کی بے یقینی سے بھی رقم ہوتے ہیں جس کے ہاتھ میں ڈگری توہوتی ہےمگرمستقبل کی کوئی ضمانت نہیں۔

ریاست اگرایک شجرِسایہ دارہے تو قومی خزانہ اس کی جڑوں میں بہنے والاوہ پانی ہے جورعایاکے خونِ جگرسے کشیدہوتاہے۔ٹیکس کی ہررقم محض ایک عدد نہیں؛کسی دکاندارکی کمائی کاحصہ، کسی ملازم کی تنخواہ کاٹکڑا،کسی مزدورکے بچوں کی روٹی اورکسی غریبعورت کی دواکی قیمت ہے۔اسی لیے اہلِ اقتدارکاپہلا اخلاقی فرض یہ نہیں کہ وہ قوم پراحسان جتائیں،بلکہ یہ ہے کہ قوم کی ایک ایک پائی کوامانت سمجھیں۔

آج صاحبانِ اقتداراوراشرافیہ کوآگ کے انگاروں پرلوٹتی ہوئی ہوئی بلبلاتی قوم ایک ایساسوال نامہ پیش کررہی ہے جس کے حاشیوں پر بجلی،گیس،قرض، ٹیکس،شاہانہ اخراجات،توانائی کے معاہدے اورحکومتی جواب دہی کے سوال رقم ہیں۔اصل دستاویزمیں بعض اعداد اورسیاسی ذمہ داریوں کے متعلق سخت دعوے کیےگئے ہیں۔ان دعووں کی آزادانہ دستاویزی تصدیق اس تحریرکاموضوع نہیں؛البتہ ان کے بطن سے پیداہونے والے سیاسی،اخلاقی اورقومی احتساب کے سوالات ایسے ہیں جن سے منہ موڑناکسی بھی زندہ معاشرے کیلئےآسان نہیں۔

کچھ عرصے سے پاکستان کی عوامی گفتگومیں بجلی پیداکرنے والے نجی اداروں،یعنی آئی پی پیز،اور ان سے منسلک ڈالرزمیں ادائیگی کاچرچارہاہے۔ قوم پہلے ہی اس سوال سے دوچارتھی کہ اگربجلی استعمال نہ بھی ہوتوادائیگی کیوں؟اسی تناظر میں فراہم کردہ دستاویزایک دوسرادروازہ کھولتی ہے اورایل این جی کے انتظامات کے بارے میں بھی اسی نوعیت کےاخراجات کا دعویٰ سامنے لاتی ہے۔

یہ مؤقف ایک حکومتی وزیرکی طرف منسوب کیاگیاہےکہ ایل این جی آئے یانہ آئے،بعض ادائیگیاں بہرحال واجب ہوتی رہتی ہیں؛ مجوزہ وزیرکے بیان کے مطابق ماہانہ15ملین ڈالراوراب تک تین ارب ڈالرکی ادائیگی کادعویٰ بھی کیاجارہاہے۔اگراس نوعیت کی شرائط واقعی ریاستی معاہدوں میں موجودہیں توسوال محض اتنانہیں رہتاکہ رقم کتنی اداہوئی۔اصل سوال یہ ہے کہ معاہدہ کس ضرورت کے تحت کیاگیا؟اس کے خطرات کاتخمینہ کس نے لگایا؟ریاست نے اپنی ضرورت اورادائیگی کی صلاحیت کا حساب کس بنیادپرکیا؟اورسب سے بڑھ کر،معاہدے کی ناکامی یاغیرمؤثرہونے کی صورت میں ذمہ داری کس پرعائدہوگی؟

حکومت اگربازارسے ایک معمولی چیزبھی خریدے توخزانےکے محافظوں کوقیمت،معیاراورضرورت دیکھنی چاہیے؛پھر اربوں ڈالر کے قومی معاہدے کسی ایسے کاغذکی مانندکیسے سمجھے جائیں جس پرچنددستخط ہوجائیں اورنسلوں کے کندھوں پرقرض کاایک نیا پتھررکھ دیا جائے؟یہاں المیہ صرف روپیہ نہیں؛ریاستی فیصلہ سازی کی ثقافت ہے۔ایک ایساملک جہاں لاکھوں گھرانے بجلی کابل آنے پرمہینے کابجٹ بدل دیتے ہوں،وہاں ایسے معاہدوں کی ہرشق عبادت گاہ کی محراب پر لکھی امانت کی طرح صاف ہونی چاہیے کیونکہ خزانہ حکومت کانہیں،قوم کاہوتاہے؛حکومت توصرف اس کی عارضی امین ہوتی ہے۔

دوسرانکتہ اس سے بھی زیادہ بنیادی سوال اٹھاتاہے۔جن ادوارمیں متعلقہ توانائی معاہدے ہوئے،اُس وقت بھی مسلم لیگ(ن)برسرِاقتدار تھی،اوراس وقت کے وزیرِپٹرولیم شاہد خاقان عباسی،اسحاق ڈاراوراقتصادی فیصلہ سازی کے دیگرذمہ دارمناصب کاحوالہ دیتے ہوئے یہ سوال اٹھتاہے کہ ان فیصلوں کی اجتماعی ذمہ داری کہاں متعین ہوگی۔یہ سوال کسی ایک جماعت ،ایک شخص یاایک دورتک محدود نہیں ہوناچاہیے۔

جمہوری حکومت میں کابینہ محض تصویری اجتماع نہیں ہوتی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی محض فائلوں پرمہر ثبت کرنے کادفترنہیں ہوتی۔ وزارتِ خزانہ محض اعدادکا دارالترجمہ نہیں ہوتی۔یہ سب قومی فیصلے کے وہ ستون ہیں جن پرریاستی ذمہ داری کی عمارت قائم ہوتی ہے۔اگرکسی معاہدے سے ملک کوفائدہ پہنچے توحکمران اس کاسہرااپنے سرباندھنے میں دیرنہیں لگاتے۔اخبارات کے اشتہارات چھپتے ہیں،تقاریرمیں کامیابی کے چراغ روشن ہوتے ہیں،فیتے کاٹے جاتے ہیں اور منصوبوں کوسیاسی بصیرت کے تاج پہنائے جاتے ہیں۔

پھرجب وہی فیصلہ قومی خزانے کیلئےبوجھ بن جائے توذمہ داری یتیم کیوں ہوجاتی ہے؟یہ ہماری سیاسی تاریخ کاایک تکلیف دہ مسئلہ ہے کہ کامیابی کے سووارث نکل آتے ہیں،ناکامی کاکوئی باپ نہیں ہوتا۔

ریاستیں اس طرزِحکمرانی سے مضبوط نہیں ہوتیں۔ریاستیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب فیصلہ کرنے والاجانتاہوکہ دس سال بعدبھی اس سے پوچھاجاسکتاہے:تم نے دستخط کیوں کیے تھے؟قوم کوکیافائدہ بتایاتھا؟خطرے کیاتھے؟متبادل کیاتھے؟اوراگراندازہ غلط ثابت ہواتو سبق کیاسیکھاگیا؟جونظام سوال کوجرم بنادے،وہ غلطی کوروایت بنادیتاہے۔

تیسرانکتہ اس وقت کے وزیرِاعظم میاں نوازشریف اوران کی کابینہ کاحوالہ دیتے ہوئے یہ استدلال پیش کرتاہے کہ بڑے قومی معاہدوں کوصرف کسی ایک وزیریاافسرکےسرڈال کرپورے سیاسی نظام کوبری الذمہ قراردیناکافی نہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ کیاکوئی ایسااہم معاہدہ وزیرِاعظم اورکابینہ کی منظوری کے بغیرپایۂ تکمیل تک پہنچ سکتاتھا؟یہ سوال سیاسیات کی ایک بنیادی حقیقت کوچھوتاہے:اختیاراورجوابدہی کوایک دوسرے سے جدانہیں کیاجاسکتا۔ اختیار اگر تخت ہے توجوابدہی اس کاسایہ ہے۔جوشخص اختیارکاسورج چاہتاہے اسے احتساب کاسایہ بھی قبول کرناہوگا۔

جمہوریت بادشاہت کی تبدیل شدہ صورت نہیں کہ فرمان جاری ہوااورسوال ختم۔ جمہوریت میں اجتماعی کابینہ اس لیے ہوتی ہے کہ بڑے فیصلے شخصی خواہش نہیں بلکہ ادارہ جاتی ذمہ داری بنیں۔وزیر،مشیر،سیکریٹری،کمیٹیاں اورکابینہ اسی لیے وجودرکھتے ہیں کہ فیصلے کوکئی آنکھیں دیکھیں،کئی ذہن پرکھیں اورکئی ہاتھ اس کی ذمہ داری قبول کریں۔لیکن اگرنظام میں ہر شخص صرف اختیارکا حصہ لے اورذمہ داری آنے پردوسرے کی طرف انگلی اٹھادے توریاستی نظام کشتی کے ایسے عملے میں تبدیل ہوجاتاہے جہاں بادبان سب کھینچتے ہیں،مگرجہازچٹان سے ٹکرائے توہرملاح کہتاہے: پتوارمیرے ہاتھ میں نہ تھا۔ملکوں کانظم ایسے نہیں چلتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بڑے اقتصادی معاہدوں کیلئےادارہ جاتی یادداشت قائم ہو؛کس کابینہ نے کیافیصلہ کیا،کس کمیٹی نے کیا سفارش دی،مالی خطرات کیابتائے گئے،اختلافی نوٹس کیا تھے،اوربعد کےبرسوں میں نتائج کیانکلے۔قوم کومحض یہ نہ بتایاجائے کہ ’’معاہدہ ہوا‘‘؛ قوم کویہ بھی معلوم ہوناچاہیے کہ معاہدہ کیوں ہوااورکس نے اس کی ذمہ داری لی۔

چوتھے نکتے میں ایک مختصرمگرنہایت تلخ جملہ سامنے آتاہے:ادائیگیاں بھی عوام کے نصیب میں،لوڈشیڈنگ بھی؛گیس نہ ہوتب بھی رقم جاتی رہے ۔ یہ جملہ دراصل ہمارے معاشی المیے کی ایک پوری تصویرہے۔عام آدمی ریاست سے پیچیدہ اقتصادی فلسفہ نہیں مانگتا۔وہ صرف اتناجانناچاہتاہے کہ اگراس نے بل دیاتوبجلی کیوں نہیں؟اگرٹیکس دیاتوسہولت کہاں ہے؟اگرگیس کی قیمت بڑھی توگیس چولہے تک کیوں نہ پہنچی؟اگرقرض لیاگیاتواسپتال،اسکول، پانی،روزگار اوربنیادی ڈھانچے میں اس کاعکس کیوں نظرنہیں آتا؟

ریاستی معیشت کاسب سے خطرناک مرحلہ وہ ہوتاہے جب قیمت اورخدمت کارشتہ ٹوٹ جائے۔جب شہری کومسلسل یہ احساس ہونے لگے کہ وہ ادائیگی کررہاہے مگربدلے میں سہولت نہیں؛وہ ٹیکس دے رہاہے مگرتحفظ نہیں؛وہ مہنگائی برداشت کررہاہےمگراقتصادی استحکام نہیں؛وہ قربانی دے رہاہےمگر ایوانوں کی روش نہیں بدل رہی تومسئلہ صرف معیشت کانہیں رہتا؛ریاست اورشہری کے درمیان اعتمادکارشتہ کمزورہونے لگتاہے۔اعتمادوہ آئینہ ہے جوایک مرتبہ چٹخ جائے توجوڑنے کے بعدبھی دراڑیں دکھائی دیتی ہیں۔

حکمرانوں کوسمجھناہوگاکہ بجلی اورگیس محض معمولی اشیاءنہیں؛جدیدزندگی کی رگوں میں دوڑتاہواخون ہیں۔فیکٹری کاپہیہ،طالب علم کاچراغ، مریض کا آکسیجن نظام،چھوٹے تاجرکاکاروبار،گھرکاچولہا—سب ان سے بندھے ہوئے ہیں۔اس لیے توانائی کی پالیسی میں غلط حساب کتاب ایک دفترکی غلطی نہیں؛وہ کروڑوں زندگیوں کے وقت،پیسے اورامیدپراثراندازہوتاہے۔

پانچواں نکتہ ملک پر ڑھتے ہوئے قرضوں کو یرِ بحث لاتا ے اور نتہائی دردمندی سے یہ سوال اٹھاتا ے کہ کیا کوئی ایسا دارہ نہیں جو ان مالی فیصلوں پر نگاہ رکھے؟ غریب عوام سسکیاں لیتی ہوئی ز ندگی گزار ہی ہے۔قرض بذاتِ خود میشہ برائی نہیں ہوتا۔ اقوام ترقیاتی منصوبوں، نعت، نفراسٹرکچر ور ستقبل کی پیداواری صلاحیت کیلئےقرض لیتی ہیں۔مگرقرض اس وقت زنجیربن جاتاہے جب وہ پیداوار کی بجائے ماضی کی غلطیوں کی قیمت اداکرنے میں صرف ہونے لگے۔ایک قرض دوسرے قرض کاکفن بنے،پھر تیسراقرض پہلے دو قرضوں کاسود اداکرے، تو خزانہ آہستہ آہستہ ایسے کنویں میں اترتا جاتاہے جس میں روشنی اوپررہ جاتی ہے اورقوم نیچے۔

ریاست میں پارلیمان ہے،آڈیٹرہیں،وزارتیں ہیں،کمیٹیاں ہیں،عدالتیں ہیں،ریگولیٹری ادارے ہیں اورانتظامی ڈھانچے موجودہیں۔سوال یہ ہے کہ کیاان سب کی اجتماعی قوت عام آدمی کویہ اعتمادفراہم کرتی ہے کہ قومی مالی فیصلے مسلسل نگرانی میں ہیں؟احتساب صرف اس وقت نہیں ہوناچاہیے جب اسکینڈل بن جائے۔اصل احتساب وہ ہے جونقصان ہونے سے پہلے سوال کرے۔یہ سوال کہ’’کون ذمہ دار ہے؟‘‘ضروری ہے،مگراس سے پہلے سوال ہوناچاہیے:
اگرایک نظام ہردس برس بعدوہی غلطی نئے نام سے دہراتاہےتومسئلہ افرادسے بڑاہوجاتاہے۔’یہ ہونے کیسے دیا گیا؟‘‘پھراصلاح صرف چہرے بدلنے سےنہیں،فیصلہ سازی کے نظام بدلنے سے آتی ہے۔
قوم کوایسے اداروں کی ضرورت ہے جوحکومت کے ساتھ کھڑے نہ ہوں بلکہ ریاست اورعوام کے مفادکے ساتھ کھڑے ہوں۔

دراصل غریب عوام کاچھٹاسوال نہایت دلخراش ہے۔کبھی یوں محسوس ہوتاہے جیسے قوم اپنے حکمرانوں کوبھی’’کیپیسٹی چارجز‘‘ادا کررہی ہو—وہ کام کریں یانہ کریں،عوام کوٹیکس،سرکاری اخراجات،بیرونی دوروں،مراعات اوروفودکے مصارف برداشت کرناہی ہیں۔

یہ تشبیہ محض طنز نہیں؛ایک سنگین سیاسی سوال ہے۔حکمران ریاست کے ملازم ہیں یاریاست ان کی کفالت کاادارہ؟اقتدارخدمت کانام ہے یاسہولت کا؟
اگروزیراورحاکم عوامی عہدے پرہیں توان کے ہرسرکاری خرچ کااخلاقی جوازہوناچاہیے۔بیرونی دورہ اگرسرمایہ کاری لاتاہے،سفارتی بحران حل کرتاہے، تجارت بڑھاتاہے یاملکی مفادکی واضح تکمیل کرتاہے توقوم اس کاخرچ قبول کرسکتی ہے لیکن اگرعوام کونتیجہ دکھائی نہ دے اورصرف وفود،پروٹوکول اوراخراجات دکھائی دیں توسوال اٹھناناگزیر ہے۔یہاں ایک اصول یادرکھنا چاہیے: سادگی کی سب سے خوبصورت تقریرخودسادگی ہے۔حکمران لاکھ کہے کہ خزانہ خالی ہے،مگراگراس کے اپنے دروازے پراسراف کے چراغ روشن ہوں توتقریراپنااثرکھودیتی ہے

قوم سے کفایت شعاری کامطالبہ کرنے والوں کی میزپرکفایت شعاری نظرآنی چاہیے۔عوام سے قربانی مانگنے والوں کی زندگی میں قربانی کاکوئی نشان ہوناچاہیے ۔حکمرانی محض حکم دینے کا منصب نہیں،مثال قائم کرنے کاامتحان بھی ہے۔اگرغریب ماں اپنے بچے کے دودھ میں کمی کرے،مزدورپیدل سفرکرے،متوسط طبقہ علاج مؤخرکرے اورنوجوان گھرکے خرچ کیلئےدودو ملازمتیں کرے،تو حاکم کیلئےشاہانہ نمودصرف مالی سوال نہیں رہتی؛اخلاقی بے حسی کی علامت بن جاتی ہے۔

عوامی فریاد کاساتواں نکتہ سب سےزیادہ علامتی ہے۔اس میں باربارہونے والے کفایت شعاری کے اعلانات،بعض وزراءکی بلا معاوضہ خدمت کے دعوؤں، وزیراعظم ہاؤس اورایوانِ صدرکے اخراجات،بیرونی ومذہبی سفراورعوامی تاثرکے درمیان تضاد پرسوال اٹھایاگیا ہے۔سوال یہ بھی ہے کہ اگرحکمران اپنی تنخواہوں کی قربانی کاذکرکرتے ہیں توپھربڑے سرکاری اخراجات کہاں صرف ہوتے ہیں؟

مالی سال2026–27کیلئےوزیراعظم آفس اورایوانِ صدرپرمجموعی طورپرتقریباً4 ارب61کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں—یعنی اوسطاًروزانہ ایک کروڑ 26لاکھ روپے سے زائد۔سوال محض یہ نہیں کہ یہ رقم کتنی ہے؛اصل سوال یہ ہے کہ مہنگائی،قرض اورمالی تنگ دستی کے اس عہدمیں قومی خزانے سے خرچ ہونے والی ہرپائی کے بدلے قوم کوکس درجے کی حکمرانی، کفایت شعاری اور جواب دہی میسرآرہی ہے؟

بلکتی ۔سسکتی عوام ان کے بارے میں شفاف معلومات کامطالبہ کرتی ہے کہ بتائے گئے اخراجات کوکم دکھایاجارہاہے۔اعدادسامنے لائیے۔کتناخرچ ہوا؟کس مدمیں ہوا؟گزشتہ برس کے مقابلے میں کتنا کم یازیادہ ہوا؟کیااخراجات کی آزادانہ جانچ ہوئی؟اورکفایت شعاری کے اعلان کے بعدحقیقی بچت کتنی ہوئی؟ اعداد سامنے ہوں گے توالزام کی جگہ دلیل لے گی۔شفافیت ہوگی توحکومت اپنے آپ کوبھی غیرضروری بدگمانی سے بچاسکے گی۔

کیا مذہبی زیارات اورحکمرانوں کی دعاؤں کی تشہیرپرقومی خزانے سے اخراجات جائزہیں؟عبادت یقیناًانسان اوراس کے رب کاپاکیزہ معاملہ ہے؛مگرسیاست جب عبادت کواپنی تشہیرکازیور بنا لے توسوال پیداہوتاہے کہ دین کااصل تقاضاکیاہے؟اسلامی تہذیب نےہمیں بتایا کہ عبادت صرف جبین کے جھکنے کانام نہیں،حقوق العبادکے سامنے ضمیرکے جھکنے کانام بھی ہے۔حرم میں اٹھے ہوئے ہاتھ مقدس ہیں؛مگررعایا کے حق پراٹھاہواہاتھ روکنابھی عین عبادت ہے۔ تسبیح خوبصورت ہے؛مگرخزانے کی امانت داری اس سے کم خوبصورت نہیں۔دعاعظیم ہے؛مگرمظلوم کی دادرسی دعاکی عملی تفسیر ہے۔حکمران اگربیت اللہ کے سامنے گریہ کرے اوراس کے اپنےشہرمیں کسی باپ کے بچے بھوک سے روئیں،توتاریخ اُس کے آنسوؤں سے پہلے اُس کی حکمرانی کاحساب لکھتی ہے۔

اے صاحبانِ اقتدار!قومیں ہمیشہ شورسے بغاوت نہیں کرتیں۔بعض اوقات ان کاسب سے خوفناک احتجاج خاموشی ہوتی ہے۔وہ خاموشی جوبل ہاتھ میں پکڑے باپ کے چہرے پراترتی ہے۔وہ خاموشی جوبازارمیں قیمت پوچھ کرخالی ہاتھ واپس آتی عورت کی آنکھوں میں ٹھہرجاتی ہے۔وہ خاموشی جوتعلیم یافتہ نوجوان کے کمرے میں رات گئے اس وقت پھیلتی ہے جب وہ سویں درخواست کے بعدبھی روزگارکاجواب نہیں پاتا۔اوروہ خاموشی جوبوڑھے پنشنرکی انگلیوں میں کانپتی ہے جب وہ دوااورراشن میں سے ایک کاانتخاب کرتا ہے۔یہ خاموشیاں تاریخ کے کاتب سے چھپی نہیں رہتیں۔مظلوم کی آہ کومعمولی نہ سمجھو۔

حکومتیں سمجھتی ہیں کہ اعدادسنبھل گئے توملک سنبھل گیا؛مگرملک صرف اعدادسے نہیں چلتے۔ملک اعتماد،عدل،احساس اوراخلاقی ساکھ سے بھی چلتے ہیں۔ اگر خزانہ خالی ہے توقوم حقیقت سننے کوتیارہوسکتی ہے؛لیکن اگرقوم سے کہاجائے کہ گھرکاچراغ بجھادو اورخود ایوانوں میں فانوس روشن رہیں،تومسئلہ غربت نہیں رہتا۔مسئلہ انصاف بن جاتاہے۔اگرقوم سے کہا جائے کہ قربانی دواور اقتدار خودقربانی سے مستثنیٰ رہے،تومسئلہ معیشت نہیں رہتا—مسئلہ اخلاق بن جاتاہے۔اگرقوم سے کہا جائے کہ سوال مت کرو، معاہدوں کو نہ دیکھو،اخراجات کا حساب نہ مانگواورصرف صبرکرو،تومسئلہ انتظام نہیں رہتا—مسئلہ حکمرانی کے جوازتک جاپہنچتاہے۔

تاریخ کے بازارمیں تخت بہت بکے ہیں اورتاج بہت بدلے ہیں؛مگررعایاکی آہ کاحساب کبھی مکمل طورپرمٹانہیں۔مظلوم کی دعااور بددعاکوسیاسی نعروں کے ترازومیں نہیں تولاجاسکتا۔اسلامی روایت کااخلاقی سبق یہی ہے کہ کمزورکی فریادکومعمولی نہ سمجھا جائے۔جب ایک قوم مہنگائی کے انگاروں پرچل رہی ہو، جب اس کی آمدن سکڑرہی ہو،جب بجلی،گیس،خوراک،علاج اورتعلیم اس کیلئے ہرروززیادہ دشوارہوتےجائیں،توحکمرانوں کیلئےسب سے خطرناک رویہ یہ ہےکہ وہ رعایاکےدکھ کومحض اعدادکااتارچڑھاؤ سمجھیں۔

یہ آہیں محلات کے دبیزپردوں سے ٹکراکر واپس نہیں لوٹتیں،یہ وقت کے حافظے میں محفوظ ہوجاتی ہیں۔اوروقت—بادشاہوں کاسب سے بے رحم مؤرخ ہے۔لہٰذا آج ضرورت انتقام کی نہیں،احتساب کی ہے؛شورکی نہیں،شفافیت کی ہے؛جذباتی اعلانات کی نہیں،اعدادو شواہدکی ہے؛نمائشی کفایت شعاری کی نہیں،حقیقی اصلاحات کی ہے۔

قوم کوبتایاجائے کہ توانائی کے معاہدوں کی شرائط کیاہیں۔قوم کوبتایاجائے کہ کیپیسٹی چارجزکس اصول کے تحت اداہوتے ہیں۔قوم کے سامنے بتایاجائے کہ کس حکومت،کس کمیٹی اورکس ادارے نے کس مرحلے پرکیامنظوری دی۔قوم کوسال بہ سال بتایاجائے کہ ایوانِ اقتدارپرکتناخرچ ہوتاہے۔بیرونی دوروں کے اخراجات اورنتائج شائع کیے جائیں۔توانائی کے ایسے معاہدوں کاآزادانہ آڈٹ ہوجوقومی خزانے پرطویل المدت بوجھ ڈالتے ہیں۔اورسب سے بڑھ کریہ اصول قائم کیاجائے کہ اختیارجہاں ہوگا،جوابدہی بھی وہیں ہوگی۔تب شاید اس ملک کی سیاست الزام سےادارے کی طرف،شخصیت سےاصول کی طرف اورنعرے سےنظام کی طرف سفرشروع کرے۔ورنہ وہ دن بعیدنہیں جب مورخ ہماری نسل کےبارےمیں لکھےگا ،ان کےپاس وسائل بھی تھے،ادارے بھی؛ذہین لوگ بھی تھے،محنتی عوام بھی ؛زمین زرخیز تھی،قوم جفاکش تھی؛مگرامانت اورجوابدہی کے درمیان کہیں ایساشگاف پڑاکہ خزانے بھرنے سے پہلے دل خالی ہونےلگے ۔

حکمرانوں کیلئےاب بھی وقت ہے۔قوم کے زخم کوتقریرنہ سمجھیں۔اس کی غربت کوشماریات کاخانہ نہ سمجھیں۔اس کے ٹیکس کوبے حساب خزانہ نہ سمجھیں۔ اوراس کے صبرکوبے انتہانہ سمجھیں۔کیونکہ رعایاجب اپنے حاکم کیلئےدعاچھوڑکرفریادکرنے لگے توتخت کے ستون بظاہرقائم رہتے ہیں،مگران کی بنیادوں میں تاریخ کی نمی اترناشروع ہوجاتی ہے۔

عدل کی طرف لوٹیے۔امانت کی طرف لوٹیے۔شفافیت کی طرف لوٹیے۔اس سےپہلے کہ مہنگائی کے انگاروں پردن رات چلنے والی قوم کی سسکیاں اتنی بلندہو جائیں کہ ایوانِ اقتدارکی دیواریں توقائم رہیں،مگران دیواروں کے اندربیٹھے لوگوں کااخلاقی جوازباقی نہ رہے۔

قوم رعیت نہیں کہ صرف فرمان سنے۔قوم ہی ریاست کی اصل مالک ہے۔اورقومی خزانہ حکمرانوں کی ملکیت نہیں،آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں