بین الاقوامی سیاست کی بساط پربعض اوقات ایسے مہرے حرکت میں آتے ہیں کہ برسوں کی شطرنجی حکمتِ عملی یک لخت بکھرکر رہ جاتی ہےاورعالمی سیاست کے افق پربعض واقعات محض خبریں نہیں ہوتے بلکہ عہدسازتغیرات کی تمہیدثابت ہوتے ہیں۔تاریخ میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جومحض سفارتی معاہدے نہیں بلکہ زمانے کے دھارے کارخ بدلنے والے موڑثابت ہوتے ہیں۔امریکااورایران کے مابین طے پانے والاحالیہ امن معاہدہ بھی اسی قبیل کاایک فیصلہ کن مرحلہ،اسی نوعیت کاایک ایساہی سنگِ میل اورفیصلہ کن موڑ ہے جواسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہوکیلئےکسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔
یہ معاہدہ نہ صرف سفارتی برف پگھلنے کااشارہ ہے بلکہ ایک ایسے جغرافیائی وسیاسی توازن کی تشکیل کاآغازبھی ہے جوگزشتہ کئی دہائیوں سے کشمکش،بدگمانی اور مخاصمت کی بنیادپرقائم تھا۔یہ معاہدہ بظاہرکشیدگی کے خاتمے کااعلان ہے،مگردرحقیقت اس نے مشرقِ وسطیٰ کی طاقت کی بساط کوازسرِنوترتیب دیناشروع کردیاہے۔یہ معاہدہ نہ صرف خطے کی طاقت کے توازن کوبدل رہاہے بلکہ اُس بیانیے کوبھی متزلزل کررہ ہے جس پرنیتن یاہونے اپنی سیاسی عمارت استوارکی تھی۔
نیتن یاہوکیلئےیہ معاہدہ ایک خوابِ پریشاں اس لیے ہے کہ اُن کی سیاست کی عمارت ایک ایسے خوف پرکھڑی تھی جسے وہ”ایرانی خطرہ”کے نام سے پیش کرتے آئے تھے کیونکہ نیتن یاہونے ایران کوایک مستقل خطرے کے طورپرپیش کرکے اپنے وجودکوجوازبخشا تھا۔اب جب یہی خطرہ عالمی مذاکرات کی میزپرایک جائز”مذاکراتی فریق”بن کرابھرتاہے توگویااُن کے بیانیے کامرکزی ستون متزلزل ہو جاتاہے۔یہ منظرکسی ایسے معمارکاہے جس نے برسوں کی جارحیت،ظلم وبربریت اورتشددکے بل بوتے پرایک عمارت کھڑی کی ہو، مگرزمین کی پرتیں ہی سرکنے لگیں۔
نیتن یاہوکی طویل سیاسی زندگی اس امرکی گواہ ہے کہ انہوں نے”سلامتی کے خوف”کوعوامی شعورکاحصہ بناکراقتدارکی راہ ہموار کی ۔نیتن یاہوکی سیاسی زندگی کامطالعہ کیاجائے توواضح ہوتاہے کہ اُنہوں نے اسرائیلی عوام کے ذہن میں سلامتی کے خوف کوایک مستقل احساس کے طورپرزندہ رکھا۔ایران کوایک ایسا “وجودی خطرہ”اورایک ایساسایہ بناکرپیش کیاگیاجوہرلمحہ اسرائیل کے وجودپرمنڈلاتاہے جس کے بغیراُن کی سیاست کابیانیہ ادھوراتھا۔گویانیتن یاہوکی سیاست کابنیادی ستون ایران کوایک دائمی خطرہ کےطورپرپیش کرناتھا۔
لیکن جب امریکاخوداسی ایران کے ساتھ مفاہمت کاعلم بلندکرتاہے،ایران کے ساتھ مصالحت کی راہ اختیارکررہاہے تویہ صورتحال ایک فکری تضادکوجنم دیتی ہے۔یہ تضادنہ صرف عوامی اعتمادکومتاثرکرتاہے بلکہ اس سیاسی فلسفے کوبھی چیلنج کرتاہے جسے برسوں سے ناقابلِ تردیدسچ کےطورپرپیش کیاجاتارہا۔یہ صورت ز حال اُن کے سیاسی بیانیے کی جڑوں کوکھوکھلاک رہی ہے۔گویاوہ درخت جسے برسوں پانی دیاگیا،اب اسی زمین سے بے وفائی کاشکوہ کررہاہے۔یہ صرف ایک سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ نیتن یاہوکی سیاست کے فکری سانچے کاانہدام ہے۔یہ گویا ایک ایسے چراغ کابجھ جاناہے جس کی روشنی میں وہ برسوں عوام کوراستہ دکھاتے رہے۔
نیتن یاہوکی سیاسی حکمت عملی کاایک اہم پہلوامریکاکے ساتھ قریبی تعلقات کواپنی طاقت کے طورپرپیش کرناتھا۔وہ خودکوامریکی پالیسی سازی پراثرانداز ہونے والارہنماظاہرکرتے رہے۔ایک وقت تھاجب نیتن یاہوخودکوواشنگٹن کے اقتدارکے ایوانوں میں ایک مؤثر آوازکے طورپرپیش کرتے تھے۔امریکی کانگریس میں اُن کی تقاریر،لابنگ کی مہارت،اورتعلقات کاجال اُن کی سیاسی طاقت کاحصہ تھے۔مگرموجودہ منظرنامہ اس دعوے کی نفی کرتادکھائی دیتاہے اوراب یہ منظربدل چکاہے ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جورہنماخودکوواشنگٹن کے ایوانوں کامحرمِ رازسمجھتاتھا،آج اُسی کے دروازے اُس پرنیم واہیں۔امریکی قیادت کی جانب سے نہ صرف اُن کی رائے کونظراندازکیا جا رہاہے بلکہ بعض مواقع پراُنہیں علانیہ تنقیدکاسامنابھی کرناپڑرہاہے۔واشنگٹن کی بدلتی ترجیحات نے واضح کردیاہے کہ عالمی سیاست میں تعلقات مستقل نہیں بلکہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں،اورمفادات کابدلتاہوامحورہی اصل پیمانہ ہوتاہے۔جوکل تک مرکزِتوجہ تھا،آج حاشیے پر بھی جاسکتاہے۔یہ صورت حال اس حقیقت کی آئینہ دارہے کہ عالمی سیاست میں قربتیں مستقل نہیں ہوتیں؛امریکی صدرکی جانب سے نہ صرف نظر اندازی بلکہ علانیہ تنقید،نیتن یاہوکیلئےسیاسی وقارکے زوال کی علامت بن چکی ہے۔یہ منظرکسی ایسے شہسوارکاہے جس کاگھوڑا عین میدانِ جنگ میں بدک جائے۔
نیتن یاہونے ایران کے خلاف ایک جارحانہ نظریہ اپنایا،ایران کے خلاف مسلسل سخت مؤقف نیتن یاہوکی پالیسی کامحوررہا۔پیشگی حملے ،سفارتی دباؤ،اورعالمی رائے عامہ کوایران کے خلاف ہموارکرنااُن کے حربے تھے۔اُن کے نزدیک ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت ایک کمزوری کے مترادف تھی۔ایران کے خلاف سخت گیرپالیسی کواسرائیلی سلامتی کا ضامن قراردیاتھامگرآج جب عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ مذاکرات کوترجیح دے رہی ہیں،تویہ سوال شدت سے ابھرتاہے کہ کیانیتن یاہوکانظریہ حقیقت پسندانہ تھایامحض سیاسی ضرورت ؟جب یہی ایران سفارتی سطح پرتسلیم شدہ فریق بن کرابھرتاہے تویہ سوال جنم لیتاہے کہ آیایہ بیانیہ حقیقت پرمبنی تھایاسیاسی ضرورت کاپیداکردہ ایک تصور؟اگرایران ایک ناقابلِ قبول دشمن تھاتواب وہ قابلِ گفت وشنیدکیسے بن گیا؟ سوال پیداہوتاہے کہ اس تصادم کاانجام کس داستان کاپیش خیمہ بنے گا؟کیا یہ حکمت عملی ایک سراب ثابت ہوئی؟یہ وہ مقام ہےجہاں سیاست اورحقیقت کاتصادم واضح ہو جاتاہے۔
اسرائیلی سیاست میں”سکیورٹی”ایک مقدس لفظ کی حیثیت رکھتاہے،اورنیتن یاہونے خودکواس کاسب سے بڑامحافظ ثابت کرنے کی کوشش کی۔اس کی شناخت ایک ایسے رہنماکی رہی ہے جواسرائیل کوہرخطرے سے محفوظ رکھنے کادعویداراورملک کی سلامتی کا ضامن ہے مگرموجودہ حالات میں جب اسرائیل پرامریکااوردیگرعالمی طاقتوں کی جانب سے دباؤ بڑھ رہاہے کہ وہ عسکری کارروائیاں محدودکرے،لبنان میں کارروائیاں روکے تویہ دعویٰ کمزورپڑتادکھائی دیتا ہے۔اُس کی یہ ساکھ متزلزل اورخطرے میں پڑگئی ہے۔یہ صورتحال کسی ایسے سپہ سالارکی مانندہے جس کے سپاہی اُس کے فیصلوں پرسوال اٹھانے لگیں۔ سکیورٹی کابیانیہ اب محض طاقت کے اظہارسےآگے بڑھ کرسفارتی توازن کامتقاضی ہوچکاہے—اوریہی وہ نکتہ ہے جہاں نیتن یاہوکی حکمت عملی چیلنج کاشکار ہے ۔ انتخابات کی دہلیزپرکھڑایہ منظراُن کیلئےکسی کڑے امتحان سے کم نہیں۔
نیتن یاہواس وقت ایک ایسے دوراہے پرکھڑاہے جہاں ہرراستہ کانٹوں سے بھراہواکسی نہ کسی نقصان کی طرف جاتاہے—اوریہی سیاست کی سب سے کڑی آزمائش ہوتی ہے۔اب جوراستے ہیں،وہ کسی بھی طو آسان نہیں۔ایک طرف امریکاکے ساتھ ٹکراؤاُنہیں عالمی تنہائی کی طرف لے جاسکتاہے جوسیاسی خودکشی کے مترادف ہے،اور دوسری طرف پسپائی ہے، جو داخلی سیاست میں کمزوری کی علامت سمجھی جائے گی جوداخلی سیاست میں کمزوری کاتاثردے سکتی ہے۔یہ وہ کیفیت ہے جسے سیاسی لغت میں”انتخابِ بدتر”کہاجا سکتاہے—جہاں فیصلہ کرناہی سب سے بڑاامتحان بن جاتاہے۔اسرائیلی حزبِ اختلاف کےرہنمایائرلاپڈکا تبصرہ دراصل اسی مخمصے کی ترجمانی ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہوپرتنقید،خصوصاًعسکری فیصلوں کےحوالےسےایک غیرمعمولی سفارتی انتباہ ہے،خصوصاًبیروت حملے کے حوالے سے،سیاسی منظرنامے میں بھونچال کا سبب بنی۔یہ محض اختلاف نہیں،ایک طرح کی سیاسی سرزنش ہے بلکہ ایک پیغام ہے کہ اب ترجیحات بدل چکی ہیں۔اس تنقیدکے اثرات صرف سفارتی سطح تک محدودنہیں بلکہ داخلی سیاست میں بھی گہرے ارتعاش پیدا کرتے ہیں۔ایسے وقت میں جب انتخابات قریب ہوں،اس نوع کی تنقیدکسی زلزلے سے کم نہیں ہوتی،جوسیاسی بنیادوں کوہلاکررکھ دیتی ہے۔یہ عوامی رائے پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔میڈیا،اپوزیشن،اورعوام سب اس کوایک کمزوری کے طورپردیکھتے ہیں۔
نیتن یاہوکونہ صرف بیرونی بلکہ اندرونی دباؤکابھی سامناہے۔اس کیلئےسب سے بڑاچیلنج اب اندرونی اختلافات کی صورت میں سامنے آ رہاہے۔اس کی اپنی جماعت اوراتحادیوں میں بھی بے چینی بڑھ رہی ہے اوراتحادیوں کے سخت بیانات اس اضطراب کامظہرہیں جو اسرائیلی سیاست کے ایوانوں میں سرایت کرچکاہے۔انتہائی دائیں بازوکے رہنمااس معاہدے کو اسرائیل کے مفادات کے خلاف قراردے رہے ہیں۔یہ داخلی اختلافات اس بات کی علامت ہیں کہ قیادت کےگرداتحادکاحصاراورسیاسی فضاکمزورپڑرہی ہے۔ جب اندرونی صفوں میں دراڑپڑجائے اوراندرسے آوازیں بلندہونے لگیں تو بیرونی دباؤمزید مؤثراورکئی گنابڑھ جاتاہے۔
سیاسی اتحادہمیشہ مفادات کے توازن پرقائم ہوتے ہیں۔اسرائیلی سیاست میں اتحادیوں کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں،جب یہ توازن بگڑجائے تو اختلافات کھل کرسامنے آتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اختلافات اب دبے لفظوں میں نہیں بلکہ کھلے عام سامنے آرہے ہیں۔ اسرائیلی سیاست میں موجودہ اختلافات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب پالیسی سازی میں یکسوئی باقی نہیں رہی،اوریہی انتشارکسی بھی حکومت کیلئےخطرناک ثابت ہوسکتاہے۔موجودہ صورتحال میں یہ اختلافات زیادہ نمایاں اورگہرے ہوگئے ہیں۔اسرائیلی اراکینِ پارلیمان کے بیانات اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب”اتحاد محض ایک لفظ رہ گیاہے،جس کی روح کہیں کھوچکی ہے۔یہ دراڑیں صرف پالیسی تک محدودنہیں بلکہ اعتمادکے فقدان کی علامت بھی ہیں اورسیاست میں اعتمادکاٹوٹناکسی عمارت کے ستون گرنے کے مترادف ہوتاہے۔
سکیورٹی ماہرین اورسابق انٹیلی جنس افسران اس معاہدے پرشدیدتحفظات کااظہارکررہے ہیں۔اُن کے مطابق یہ معاہدہ ایران کوایک نئی سفارتی طاقت اور برتری فراہم کرسکتا ہے،جس کے اثرات پورے خطے پرمرتب ہوں گے۔لبنان اورخطےکےدیگرمحاذوں پرایران کااثرو رسوخ بڑھنے کاخدشہ ظاہرکیاجارہا ہے۔سابق موسادافسران اورتجزیہ کاراس معاہدے کوشک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔اُن کے نزدیک یہ معاہدہ خطے میں ایران کےاثرورسوخ کوبڑھانے کاسبب بن سکتاہے،جواسرائیل کیلئےتشویش ناک ہے۔یہ آراءاس بات کی دلیل اور نشاندہی کرتی ہیں کہ مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ تزویراتی پیچیدگیوں سے بھرپورہے۔
اگرایران کوخطے میں زیادہ فیصلہ سازی کااختیارملتاہے تویہ نہ صرف اس کی علاقائی حیثیت کومضبوط کرے گابلکہ اس کے اتحادی گروہوں کوبھی تقویت دے گا۔اگرایران کولبنان جیسے حساس محاذپرفیصلہ سازی کااختیارملتاہے،خطے میں اثرورسوخ حاصل ہوتاہے،تو یہ حزب اللہ کی پوزیشن کو مزیدمستحکم کرے گاجو اسرائیل کیلئےایک مستقل خطرہ بھی بن جائے گا۔یہ صورت حال گویاایک ایسے شعلے کوہوادینے کے مترادف ہے جوپہلے ہی سلگ رہاہو۔یہ ایک ایسی تبدیلی ہے جوطاقت کے توازن کومستقل طورپرمتاثرکرسکتی ہے ۔یہ صورتحال اسرائیل کیلئے ایک طویل المدتی چیلنج بن سکتی ہے۔یہ گویاایک ایسےشطرنجی مہرے کو وزیربنانے کے مترادف ہے جو پہلے ہی خطرناک تھا۔
نیتن یاہواب بھی اپنے بیانات میں سختی کااظہارکرتے ہیں کہ اسرائیل اپنی سکیورٹی اورسلامتی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔اُن کے بیانات میں وہی پرانااور آمرانہ مزاج جھلکتاہے،مگر حالات کی کروٹیں اس عزم کوچیلنج کررہی ہیں مگرسوال یہ ہے کہ کیاعملی طورپروہ اس مؤقف پرقائم رہ سکتے ہیں؟عملی دنیامیں بیانات اورامکانات کے درمیان ایک خلیج ہوتی ہے—اوریہی خلیج اکثرسیاسی حقیقت کوبے نقاب کرتی ہے۔بیانات اورزمینی حقیقتوں کے درمیان فاصلہ کبھی کبھی بہت وسیع ہوتاہے۔
غزہ،لبنان اورشام میں جاری کارروائیاں اسرائیل کی جارحانہ حکمت عملی کی عکاس ہیں،مگراس کے باوجودحماس اوردیگرقوتیں مکمل طورپرختم نہیں ہوسکیں ۔مسلسل کارروائیوں کے باوجود مکمل کامیابی حاصل نہ ہونااس امرکی دلیل ہے کہ عسکری طاقت کی بھی حدود ہوتی ہیں۔یہ حقیقت اس پالیسی کی محدودیت کو ظاہرکرتی ہے۔یہ حقیقت اس بات کی دلیل ہے کہ عسکری طاقت ہرمسئلے کاحل نہیں ہوتی۔ یہ جنگ ایک ایسے دائرے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں ہر کامیابی عارضی اورہرناکامی گہری ہوتی جارہی ہے اوریہ ایک ایسے دائرے کی مانند ہے جس کاکوئی اختتام نظرنہیں آتا۔
غزہ کیلئےتیارکردہ امن منصوبہ تاحال عملی شکل اختیارنہیں کرسکااورابھی تک تعطل کاشکارہے،جواس امرکاثبوت ہے کہ جنگ کے بعدامن قائم کرناکہیں زیادہ مشکل ہوتاہے۔یہ صورتحال اس حقیقت کوواضح کرتی ہے کہ جنگ کاآغازآسان،مگراس کااختتام نہایت پیچیدہ ہوتاہے۔یہ ایک ایسی گرہ ہے جوکھلنے کی بجائے مزید پیچیدہ اورالجھتی جارہی ہے۔
مسلسل تصادم کے باوجودایران اوراس کے اتحادی کمزورہونے کی بجائے مزیدمضبوط ہوئے ہیں۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جوروایتی عسکری سوچ کوچیلنج کرتی ہے اوراس امرکی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طاقت کااستعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔تاہم یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جواسرائیلی حکمت عملی کیلئےایک چیلنج بن چکی ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو اسرائیلی حکمت عملی پرسوالیہ نشان بن کرابھری ہے۔یہ صورتحال اس مقولے کی یاددلاتی ہے کہ“جنگ بعض اوقات دشمن کوکمزورنہیں بلکہ مضبوط کردیتی ہے”۔
ماہرین اس بات پرمتفق ہیں کہ اسرائیل کواپنی پالیسیوں کاازسرِنوغوراورجائزہ لیناہوگا۔حقیقت پسندی،سفارت کاری،اورتوازن—یہ تین عناصراب ناگزیر ہوچکے ہیں اوران کوترجیح دیناوقت کی ضرورت ہے۔وقت کاتقاضاہے کہ جذبات کے بجائے حقیقت پسندی کواپنایا جائے،ورنہ نتائج مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جہاں جذبات کے بجائے حکمت کوفیصلہ کرنا چاہیے ۔
نیتن یاہوکادیرینہ بیانیہ اب اپنی کشش کھورہاہے۔اس کادیرینہ دعویٰ کہ وہ اسرائیل کاسب سے بڑامحافظ ہے،اب کمزورپڑتاجارہاہے۔ حالات نے اُسے ایک ایسے مقام پرلاکھڑاکیاہے جہاں اُسے نہ صرف دشمنوں بلکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ بھی کشمکش اورشدیدترین تنقیدکاسامناہے۔یہ ایک ایسی داستان ہے جہاں ہیروخوداپنے فیصلوں کے بوجھ تلے دبنے لگتاہے۔یہ صورتحال سیاسی داستان کے اُس باب کی مانند ہے جہاں ہیروخوداپنے سائے سےخوفزدہ ہوجائے۔ اگر ایران میں تبدیلی آتی توشایداُس کے بیانیے کوتقویت ملتی ،مگراب حالات اس کے برعکس رخ اختیارکرچکے ہیں۔یہ ایک ایساموڑہے جہاں تاریخ فیصلہ کرتی ہے کہ کون رہنماوقت کے ساتھ بدلتاہے اورکون وقت کے ہاتھوں بدل دیاجاتاہے ۔
یہ پورامنظرنامہ اس حقیقت کوآشکاراوراس امرکی غمازی کرتاہے کہ عالمی سیاست میں کوئی بھی بیانیہ دائمی نہیں ہوتا،نہ دشمنی،نہ دوستی،نہ طاقت وحکمت عملی کاتوازن—یہ چاروں عناصر
مسلسل تغیرپذیرہیں اوریہ سب مل کرنئی حقیقتیں تخلیق کرتے ہیں—امریکا اورایران کایہ معاہدہ صرف ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ایک نئے عہدکاآغازہے بلکہ ایک ایسازلزلہ ہے جس کے ارتعاشات دورتک محسوس کیے جائیں گے۔امریکااورایران کایہ معاہدہ ایک نئے عہدکاآغاز ہے،جبکہ نیتن یاہوکیلئےیہ فیصلہ کن لمحۂ فکریہ ہے کہ آیاوہ تاریخ کے دھارے کے ساتھ بہتاہے یااس کے مقابل کھڑے ہوکراپنی سیاسی بقاکوداؤپرلگاکر سیاسی تنہائی کاشکارہوجاتاہے۔
یہ داستان محض ایک رہنماکی نہیں،بلکہ اُس عہد کی ہے جہاں طاقت،حکمت،اورسیاست ایک دوسرے کے مدمقابل اوربرسرِ پیکارہیں—اورتاریخ خاموشی سے اپنے اوراق پلٹ کرانجام رقم کررہی ہے—اورآنے والاوقت اس بات کا فیصلہ کرے گاکہ یہ داستان ایک المیہ تھی یاایک نئی ابتدا۔