” زمین کھسک تو نہیں رہی ہے”

:Share

کئی برس پہلے ممبئی میں لوکل ٹرینوں پر بم حملے کے بعد ممئبی پولیس نے بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی گرفتاریاں شروع کی تھیں۔ مسلم بستیوں میں خوف و ہراس کا عالم تھا اور ہر طرف بے جینی پھیلی ہوئی تھی ۔ شہر کے مسلم علما، اہم شخصیات اور دانشوروں کی ایک کانفرنس ہوئی ۔اس میں بم حملے کے شک میں مسلمانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔اس کانفرنس میں بھیونڈی کے ایک نوجوان مذہبی عالم نے بم دھماکے میں تقریبا ڈیڑھ سو افراد کی ہلاکت کے پس منظر میں شہر کے صبر وتحمل کی ستائش کرتے ہوئے مسلمانوں سے کہا تھا کہ مسلمان اب یہ دیکھیں کہ کہیں ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کھسک تو نہیں رہی ہے۔اس واقعے کے بعد بھارت کے مختلف شہروں میں سینکڑوں بم دھماکے ہو چکے ہیں اور ان واقعات میں ہزاروں نہیں تو کم ازکم سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے مقدمے چل رہے ہیں۔ عا م طور پر ہر دھماکے کے لیے کسی نہ کسی معروف یا غیر معروف مسلم تنظیموں پر ہی الزام لگاکر انہیں بدنام کرنے کیلئے کام جاری وساری ہے۔
اس کے بر عکس بہت کم مسلم ایسے ہوں گے جو یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ بم دھماکوں میں مسلمانوں کا کوئی ہاتھ ہے۔ بیشتر مسلمانوں کا یہی خیال ہے کہ یہ بھارتی مسلمانوں کو پست کرنے کی حکومت اور ہندوانتہاپسندوںکی ایک سازش ہے اور اس سوچ میں معاشرے کے ہر طبقے کے لو گ شامل ہیں ۔ پچھلے سال کرناٹک ، مہاراشٹر اور آندھراپردیش کی پولیس نے ایک مشترکہ کاروائی میں تقریبا بیس مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے اور سازش کرنے کے شک میں گرفتار کیا تھا۔ان میں سے بیشتر کا تعلق کرناٹک ریاست سے تھا ۔ حراست میں لیے گئے لو گوں میں کئی ایم ڈی ڈاکٹر، ڈی آر ڈی او کے انجینئر، ایم بی اے اور دوسرے شعبوں کے پڑھے لکھے نوجوان شامل ہیں۔
اچانک کسی بم دھماکے یا کشیدگی کے بغیر ان نوجوانوں کی گرفتاریوں نے ایک بار پھر مسلمانوں کے ذہنوں میں انتشار اور بے یقینی پیدا کر دی ہے ،اس سے قبل اسی طرح کی گرفتاریاں چند مہینے قبل بہار کے بعض علاقوں سے کی گئی تھیں اور اس سے پہلے دلی کے بٹلہ ہاس انکاؤنٹر کے بعد اعظم گڑھ میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کا رویہ ہمیشہ انکار اور تردید کا رہا ہے۔ اس کا ایک سبب یہ رہا ہے کہ ملک کے جمہوری نظام کے سبب مذہب کے انتہا پسند عناصر کبھی بھارت کے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کومتاثر نہیں کر سکے۔ملک کی مذہبی تنظیمیں اور شخصیات عمومی طور پر قدامت پسند اور اکثر فرسودہ سماجی اور اقتصادی تصورات کے باوجود سخت گیر مذہبیت کو فروغ دینے سے گریزاں رہی ہیں اسی لیے نفسیاتی طور پر کوئی یہ یقین نہیں کر پاتا کہ آخر مسلمان کس طرح ایسے بہیمانہ واقعات کا مرتکب ہو سکتا ہے۔
خود تفتیشی اداروں کا رویہ اور طریق کار بھی مسلمانوں کے شک و شبہات کو مستحکم کرنے کا ایک اہم سبب رہا ہے۔ پولیس اور خفیہ اہلکاروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی اور غیر حساس طریق کار سے بہت سے بے قصور نوجوانوں کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے تباہ ہو گئی ہیں۔خودبھارتی تفتیشی اداروں کے مطابق کئی معاملات میں ہندو دہشت گرد تنظیمیں دہشت گردکاروائیوں میں ملوث تھیں۔ ان میں سے تو کئی گرفتاریوں اور دھماکوں کے معاملات حل ہوجانے کے باوجود اب بھی درجنوں مسلم نوجوان برسوں سے قید میں ہیں جو بھارت کی تفتیشی نظام کی غیر جانبداری اورمسلم تعصب کے بارے میں ایک بہت بڑاسوالیہ نشان ہیں۔ان حقائق کے باوجود بھارت کے مسلمان اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کر سکتے کہ پاکستان سے لے کر افغانستان اور عراق تک اور چیچنیا سے لے کر نائجیریا تک مسلمانوں میں ایسے انتہا پسند عناصر پیدا ہو رہے ہیں جواس ناانصافی اورظلم کے خلاف تشددکا راستہ اپناکراپناحق حاصل کرناچاہتے ہیں ۔ممکن ہے ایسے ہی عناصر بھارتی مسلمانوں کے ذہن و دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ بہت سے بھارتی مسلمان ان کے خطرناک دام میں پھنس بھی گئے ہوں۔
بھارت کی ریاست گجرات میں ایک ذیلی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے اپنے ایک فیصلے سے تاریخ رقم کی۔بھارت میں مذہبی فسادات کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جب جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت ان کے جرائم کی مناسبت سے سخت ترین سزائیں دی گئی ہیں۔بھارت میں ۲۰۰۲ء کے گجرات فسادات تک مذہبی فسادات وقفے وقفے سے ہوا کرتے تھے۔ اکثر فسادات کے پیچھے سیاست کارفرما ہوا کرتی تھی۔ فسادات میں سینکڑوں اور کبھی کبھی ہزاروں بے قصور افراد مارے جاتے اور قاتلوں کو کبھی سزا نہیں ہو تی تھی۔۱۹۸۳ء میں آسام کے نیلی علاقے میں چند گھنٹوں کے اندر دو ہزار سے زیادہ انسانوں کو ان کا محاصرہ کرنے کے بعد ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس بھیانک قتلِ عام کا ارتکاب کرنے والوں کو کبھی قانون کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہی نہیں بعدازاں اس قتلِ عام کے منصوبہ ساز ریاست میں اقتدار میں بھی آئے۔
۱۹۸۴ء میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دارالحکومت دلی اور ملک کے کئی شہروں میں سکھوں پر ایسے مظالم ڈھائے گئے کہ تقسیم ہند کے وقت کی بربریت کی یاد تازہ ہو گئی۔ وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سکھوں کے خلاف قتل عام کو یہ کہہ کر جواز فراہم کیا کہ جب بڑا پیڑ گرتا ہے تو زمین ہلتی ہی ہے ۔ دلی اور دیگر شہروں میں تین ہزار سے زیادہ سکھوں کو قتل کیا گیا لیکن آج تقریبا تیس برس گزرنے کے بعد بھی عملی طور پر ایک بھی قاتل کو سزا نہیں ملی۔ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد ممبئی میں جنوری ۱۹۹۳ء میں فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے۔ حکومت کے قائم کردہ ایک کمیشن نے قاتلوں کی نشاندہی کی، قصورواروں کا نام لیا اور سازشیں کرنے والوں کے دامن پکڑ لیے لیکن اٹھارہ برس کی جد وجہد کے باوجود ایک بھی مجرم کو سزا نہ مل سکی۔
ان فسادات میں ملک کے انصاف کا پورا نظام بے بس تماشائی بنا رہا۔ قانون و آئین کے سارے ادارے اپنے ہی بنائے ہوئے جمہوری اصولوں کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا مذہبی اقلیتوں کے خلاف ریاست دانستہ طور پر تفریق برت رہی ہے؟مذہبی اقلیتیں یہ سوچنے کے لیے مجبور ہونے لگیں کہ کیا ملک میں ان کے لیے انصاف کے حصول کے سارے راستے بند ہوتے جا رہے ہیں؟بھارت میں مذہبی فسادات اقلیتوں پر ایک بھیانک مصبیت بن کر نازل ہوتے رہے ہیں۔ ان فسادات میں اقلیتوں کو ہمیشہ زبردست جانی، مالی اور اعصابی نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف کا پہلو یہ رہا ہے کہ انہیں فسادات کے بعد کبھی انصاف نہیں مل پاتا۔
گجرات میں جو ہوا تھا وہ صرف نریندر مودی کا خاصہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے کانگریس کے دورحکومت میں اسی احمدآباد میں اس سے بھی زیادہ بھیانک فسادات ہو چکے ہیں۔ مودی سے پہلے تو گجرات میں فسادات سالانہ رسم بنے ہوئے تھے اور ان فسادات میں مودی کے ہی فساد کی طرح کبھی کسی کو سزا نہیں ملتی تھی۔اسی لیے جب احمدآباد کی خصوصی عدالت کی جج جیوتسنا یاگنک نے نروڈا پاٹیہ میں ٩٧ مسلمانوں کے قتل عام کے جرم میں ایک با اثر سابق وزیر اور ایک سرکردہ ہندو رہنما سمیت اکتیس افراد کو عمر قید کی سزا سنائی تو انصاف کا یہ معمول کا عمل پورے ملک کو غیر معمولی لگا ۔ابھی چار برس پہلے تک انہیں عدالتوں میں ایک ایک کر کے سارے مقدمے کبھی ناکافی ثبوتوں کے سبب تو کبھی گواہوں کے انحراف سے ڈھیر ہو رہے تھے لیکن جب سپریم کورٹ نے مداخلت کی اور اہم مقدمات کی از سر نو تفتیش اور سماعت کرائی تو پھر انہی مقدمات میں مجرموں کو سزائیں ملنے لگیں۔ احمدآباد کی خصوصی عدالت کے تاریخ ساز فیصلے سے یہ سوال بھی منسلک ہے کہ کیا انصاف کے حصول کے لیے سپریم کورٹ کی مداخلت ضروری ہے؟سب سے اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگرآئندہ بھارتی وزیراعظم کاقرعہ نریندرمودی کے نام نکلتاہے توپھر بھارت میں بسنے والی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ کیاسلوک ہوگا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں