لیکن ایساہوگانہیں!

:Share

پچھلی سات دہائیوں سے زائد امت مسلمہ کے دودیرینہ زخموں مسئلہ کشمیراورفلسطین کوجس بیدردی کے ساتھ کھرچاگیاہے، ہماری تیسری نسل بھی انگشت بدنداں ہے کہ آخرمسلمان ہی ظلم وستم کاشکارکیوں ہیں؟آخرپوری مسلم امہ کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ تمام مسلم حکمرانوں میں مکمل خاموشی، سکوت،صبراطمینان،ڈھٹائی،بے شرمی،کوئی عملی احتجاج،کوئی چیخ وپکاریا کسی یکجہتی کاکوئی اظہاردیکھنے میں نہیں آیا،معاملہ صرف بیانات تک ہی محدود ہے ۔امت مسلمہ کی طرف مکمل خاموشی کے بعداوآئی سی کااجلاس بلاکراسرائیل اورامریکاکے بارے میں صرف احتجاج ریکارڈکروانے کے بعدغزہ یاکشمیرمیں مسلمانوں کاقتل عام رکاہے؟

دنیابھرمیں پہلی مرتبہ عام غیورشہریوں کاسڑکوں پرآکراپنے دلی جذبات کاجس طرح اظہارجاری ہے لیکن کیایہ احتجاج کارگر ثابت بھی ہوگاکہ نہیں؟ ابھی کل کی بات ہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن کےمنافقانہ بیان نے ساری حقیقت واضح کردی ہے کہ”عرب ریاستیں اسرائیل کوتسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں اورمیں سعودی عرب،مصر،اردن اورقطرسمیت دیگرتمام ممالک کے ساتھ کام کر رہاہوں”۔غزہ میں قیامت صغری برپاہے لیکن اس قیامت کی آڑ میں اسرائیلی مظالم کوروکنے کی بجائے اس کوتسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔غزہ اورکشمیردونوں جگہ پرنہتے مسلمانوں میں مماثلت ان کافقط یہ جرم ہے کہ وہ اپنے حق کیلئے مسلسل فریاد کرتے چلے آرہے ہیں۔چھ لاکھ قابض بھارتی فورسزکیلئے بھی اب نوجوانوں کی تیسری نسل دردِ سربنی ہوئی ہے جس نے مودی کی ظالم سپاہ کی نیندیں حرام کررکھی ہیں لیکن یہ الگ بات ہے کہ ایک سازش کے تحت کشمیرمیں ہونے والے بھارتی درندوں کے جرائم کی اشاعت پرمکمل پابندی عائدہے لیکن ہمارے زرخریدحکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی توبدتریہودوہنوددرندوں سے بھی زیادہ بدترین ہے۔غمزدہ فلسطین میں آج بھی چھوٹے چھوٹے بچے اپنے شہداء کی یادمیں مسلح ظالم اسرائیلی درندوں کے سامنے اپنے حقوق کیلئے صدابلندکررہے ہیں گویااب اپنے شہداءکیلئے رونااوراحتجاج کرنابھی جرم ٹھہرگیاہے۔

اگربیت المقدس کی تاریخ پڑھیں تومعلوم ہوتاہے کہ اس شہرکودومرتبہ توصفحہ ہستی سے مٹادیاگیاتھا،52مرتبہ بیت المقدس کو میدان جنگ بنایاگیا اور 44مرتبہ اس پرقبضہ کیاگیاہے لیکن ہرمرتبہ فلسطینی مسلمان ہی فاتح ٹھہرے ہیں جواس سرزمین کے اصل مالک ہیں۔حیرانی کی بات تویہ ہے کہ اسرائیلیوں کویہ حقیقت کب سمجھ میں آئے گی اوروہ کب نوشتہ دیوارپڑھیں گے؟کشمیراور فلسطین میں توباقاعدہ نظرآرہاہے کہ امریکااوراس کے اتحادی مغرب نے ہنودویہودکومسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے اوران دونوں ممالک کے درندون کی آنکھ میں انسانیت کیلئے کوئی شرم وحیاباقی نہیں رہی۔امریکانے تومسلمانوں کے زخموں پرنمک چھڑکنے کیلئےتل ابیب سے یروشلم میں اپناسفارتخانہ تبدیل کرنے کیلئے14مئی کادن تجویز کیاتھا، یعنی اسی دن14مئی1948ءکوارضِ فلسطین پراسرائیل کاناسورخنجرگھونپاگیاتھا۔عالمی سطح پرمسلمانوں کومشتعل کرنے کیلئےایک اوربڑا ظلم اسرائیل نے ارضِ فلسطین کے ساتھ یہ بھی کیاکہ اس نے بیت المقدس سے متصل مسلمانوں کی ایک متبرک قبرستان“الرحمہ” جہاں بہت سے جلیل القدرصحابہ کرام مدفون تھے،اس کوبلڈوزروں سے ملیامیٹ کرکے وہاں تفریحی پارک بنادیالیکن کسی مسلم حکمران کی بے حسی کایہ عالم ہے کہ جبیں پرشکن تک نہیں آئی۔

1947ءکی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں قبضہ اسرائیل نے فلسطینی مشرقی یروشلم پربزورطاقت اوردھونس سے قبضہ کرلیاتھااور اب یروشلم کواپناازلی اور غیرمنقسم دارالحکومت کہتاہے لیکن غزہ کے غیورمسلمانوں نے محاصرہ کے باوجوداحتجاج میں سرپر کفن باندھ کر نکلے جس کے جواب میں اس وقت بھی اسرائیلی درندوں نے48فلسطینیوں کوشہیداور3ہزارسے زائدافرادکو زخمی کردیا، گویاغزہ کے غیورمسلمان اس وقت بھی اپنی جانیں قربان کرکے اللہ کے حضورگواہی دیکرسرخروہوگئے اوراب توغزہ نے ایک تاریخ رقم کردی ہے کہ پچھلے چھ ماہ سے اسرائیل اپنے مغویوں کی رہائی کیلئے اپنی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے انہی عرب پڑوسیوں کے سامنے التجاکررہاہے۔

یادرہے کہ یروشلم متعددبارتاخت وتاراج ہواہے،یہاں کی آبادیوں کوکئی بارزبردستی جلاوطن کیاگیاہے اوراس کی گلیوں میں ان گنت جنگیں لڑی جا چکی ہیں جن میں خون کے دریابہہ چکے ہیں۔یہ دنیاکاوہ واحدشہرہے جسے یہودی،مسیحی اورمسلمان تینوں مقدس مانتے ہیں۔یہودیوں کاعقیدہ ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے کائنات کی تخلیق ہوئی اوریہیں پیغمبرحضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی کی تیاری کی تھی۔مسیحی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ کویہیں مصلوب کیاگیاتھااوریہیں ان کاسب سے مقدس کلیساواقع ہے۔مسلمانوں کے اعتقادکے مطابق پیغمبراسلام نے معراج پرجانے سے قبل اسی شہرمیں مسجدِ اقصیٰ میں تمام نبیوں کی امامت فرمائی۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اورمسیحی ایک ہزاربرس تک اس شہرپرقبضے کیلئےآپس میں برسرِپیکاررہے ہیں۔

مسلمانوں نے سب سے پہلے638ءمیں دوسرے خلیفہ حضرت عمرکے دورمیں بازنطینیوں کوشکست دے کراس شہرپرقبضہ کیا تھا۔مسیحی دنیامیں یہ واقعہ عظیم سانحے کی حیثیت رکھتاتھا۔آخر1095ءمیں پوپ اربن دوم نے یورپ بھرمیں مہم چلاکرمسیحیوں سے اپیل کی کہ وہ یروشلم کومسلمانوں سے آزادکروانے کیلئےفوجیں اکٹھی کریں۔نتیجتاً1099ءمیں عوام،امراءاوربادشاہوں کی مشترکہ فوج یروشلم کوآزادکروانے میں کامیاب ہوگئی۔یہ پہلی صلیبی جنگ تھی۔تاہم اکثرفوجی جلدہی واپس اپنے اپنے وطن سدھار گئے اوربالآخرسلطان صلاح الدین ایوبی90برس بعدشہر کوآزادکروانے میں کامیاب ہوگئے۔ایک بارپھریورپ میں بےچینی پھیل گئی اوریکے بعددیگرچارمزیدصلیبی جنگیں لڑی گئیں،لیکن وہ یروشلم سے مسلمانوں کوبےدخل کرنے میں ناکام رہیں۔البتہ1229 میں مملکوک حکمران الکامل نے بغیرلڑے یروشلم کوفریڈرک دوم کے حوالے کردیالیکن صرف15برس بعد خوارزمیہ نے ایک بارپھرشہرپرقبضہ کرلیا،جس کے بعداگلے 673 برس تک یہ شہرمسلمانوں کے قبضے میں رہا۔

1517ءسے1917ءتک یہ شہرعثمانی سلطنت کاحصہ رہا۔عثمانی سلاطین نے شہرکے انتظام وانصرام کی مضبوطی کیلئے شہر کے گرددیوارتعمیرکی،سڑکیں بنائیں اورڈاک کانظام قائم کیاجبکہ 1892ء میں یہاں ریلوے لائن بچھائی گئی۔اسرائیلی شاعر یہود اعمیحائی نے لکھاتھاکہ” یروشلم ابدیت کے ساحل پر واقع ساحلی شہرہے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ سمندراکثروبیشترمتلاطم ہی رہاہے”۔اس کااندازہ یروشلم کی اس مختصر ٹائم لائن سے لگایاجاسکتاہے۔

پانچ ہزارقبل مسیح:ماہرینِ آثارِقدیمہ کے مطابق سات ہزارسال قبل بھی یروشلم میں انسانی آبادی موجودتھی۔اس طرح یہ دنیاکے قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔
ہزارسال قبل مسیح:پیغمبرحضرت داؤدنے شہرفتح کرکے اسے اپنی سلطنت کادارالحکومت بنالیا۔
960سال قبل مسیح:حضرت داؤدکے بیٹے پیغمبرحضرت سلیمان نے یروشلم میں معبدتعمیرکروایاجسے ہیکلِ سلیمانی کہاجاتاہے۔
589قبل مسیح:بخت نصرنے شہرکوتاراج کرکے یہودیوں کوملک بدرکردیا۔
539قبل مسیح:ہخامنشی حکمران سائرس اعظم نے یروشلم پرقبضہ کرکے یہودیوں کوواپس آنے کی مشروط اجازت دی۔
30عیسوی:رومی سپاہیوں نے یسوع مسیح کومصلوب کیا۔
638عیسوی:مسلمانوں نے دوسرے خلیفہ حضرت عمرکے دورمیں بازنطینیوں کوشکست دے کرشہرکواپنی تحویل میں لے لیا۔
691عیسوی:اموی حکمران عبدالملک نے قبۃ الصخرا(ڈوم آف داراک)تعمیرکروایا۔
1099عیسوی:مسیحی صلیبیوں نے شہرپرقبضہ کرلیا۔
1187عیسوی:صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کوشکست دے کرشہرسے نکال دیا۔
1229عیسوی:فریڈرک دوم نے بغیرلڑے یروشلم حاصل کرلیا۔
1244عیسوی:دوبارہ مسلمانوں کاقبضہ ہوگیا۔
1517عیسوی:سلطان سلیم اول نے یروشلم کوعثمانی سلطنت میں شامل کرلیاجواگلے چارسوسال عثمانی سلطنت کاحصہ رہا۔
1917عیسوی:انگریزی جنرل ایلن بی عثمانیوں کوشکست دے کرشہرمیں داخل ہوگیا۔
1947عیسوی:اقوامِ متحدہ نے شہرکوفلسطینی اوریہودی حصوں میں تقسیم کردیا۔
1948عیسوی:اسرائیل کااعلانِ آزادی،شہراسرائیل اوراردن میں تقسیم ہوگیا۔
1967عیسوی:عرب جنگ کے نتیجے میں دونوں حصوں پراسرائیل کاقبضہ ہوگیا۔

برطانوی مؤخ کے مطابق برطانوی جنرل سرایڈمندایلن بی کویروشلم کے تقدس کااس قدرخیال تھاکہ جب وہ عثمانی فوجوں کو شکست دے کریروشلم پرقبضے کی غرض سے باب الخلیل کے راستے شہرمیں داخل ہواتواس نے گھوڑے یاگاڑی پرسوارہونے کی بجائے پیدل چلنے کوترجیح دی لیکن اس مقدس شہرکی حرمت اس وقت کہاں گئی جب اس کیلئے ہزاروں افرادکے سرتن سے جداکردئے گئے۔برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈلوئڈجارج نے اس موقع پر لکھا کہ دنیاکے مشہورترین شہر پرقبضے کے بعد مسیحی دنیا نے مقدس مقامات کودوبارہ حاصل کرلیاہے۔تمام مغربی دنیاکے اخباروں نے اس فتح کاجشن منایا۔ امریکی اخبارنیویارک ہیرالڈنے سرخی جمائی:برطانیہ نے673برس کے اقتدارکے بعدیروشلم کوآزادکروالیاہےاورآج مسیحی دنیامیں زبردست خوشی کی لہردوڑ گئی ہے۔

جنرل ایلن بی کے قبضے کے بعدشہر تین دہائیوں تک برطانوی سلطنت میں شامل رہااوراس دوران یہاں دنیابھرسے یہودی آبادکئے گئے۔ آخر 1947 ء گئے۔آخر1947ءمیں اقوامِ متحدہ نے اس شہرکودوحصوں میں تقسیم کرنے کی منظوری دی،جس کے تحت نہ صرف فلسطین کودو حصوں میں تقسیم کردیاگیا،بلکہ یروشلم کے بھی دوحصے کردیے گئے جن میں سے مشرقی حصہ فلسطینیوں جبکہ مغربی حصہ یہودیوں کے حوالے کردیاگیا۔اس کے اگلے برس اسرائیل نے آزادی کااعلان کردیا۔عرب ملکوں کیلئےیہ بات ناقابلِ قبول تھی۔انہوں نے مل کرحملہ کردیا لیکن غلط جنگی حکمت عملی کی وجہ سےانہیں اس میں شکست ہوئی۔اس کے بعداگلے دو عشروں تک یروشلم کامشرقی حصہ اردن کے اقتدارمیں رہالیکن 1967 ءکی جنگ میں اسرائیل نے اس پربھی قبضہ کرلیا۔بین الاقوامی برادری آج تک اس قبضے کوغیرقانونی سمجھتی ہے۔اسرائیلی پارلیمان نے1950ءہی سے یروشلم کواپنادارالحکومت قراردے رکھاہے لیکن دوسرے ملکوں نے اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے احترام میں یروشلم کی بجائے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے قائم کررکھے لیکن امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے اس روایت کو توڑکریروشلم کواسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے والاپہلاملک بن گیا۔ٹرمپ نے جنرل ایلن بی کے عثمانیوں کوشکست دینےکے ٹھیک سوسال بعداعلان کیاکہ یروشلم اسرائیل کادارالحکومت ہے حالانکہ دنیابھر کے ملکوں نے انہیں خبردارکیاتھاکہ اس اعلان سے خطے میں تشددکی نئی لہرپھوٹ سکتی ہے۔فرانسیسی صدرامانوئل میکخواں نےٹرمپ سے کہاتھاکہ انہیں یروشلم کویکطرفہ طور پراسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے منصوبے پر”تشویش”ہے۔میکخواں نے کہاکہ شہرکی متنازع حیثیت پرکوئی بھی فیصلہ”اسرائیل اورفلسطین کے درمیان بات چیت کے دائرۂ کار”کے اندرہوناچاہیے۔

اس وقت کےبرطانوی سیکریٹری خارجہ بورس جانسن کا کہناتھاکہ وہ غزہ میں انسانی جانوں کے ضیاع پرانتہائی غمزدہ ہیں اور برطانیہ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کومنتقل کرنے کے فیصلے سے اتفاق نہیں کرتااوروہ یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا”غلط وقت پرغلط چال”چل رہاہے۔ان کاکہناتھاکہ”ہم سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ تشددکواشتعال دے رہے ہیں لیکن دوسری جانب کوہتھیاروں کے استعمال میں تحمل کامظاہرہ کرناچاہیے”۔اس سے قبل کئی عرب اورمسلم ممالک نے اسی طرح کے خدشات کااظہارکیاہے۔حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی،صدرٹرمپ کے فیصلوں کی شدیدمخالفت کی مگراندرونی تقسیم وسیاست کی وجہ سے فلسطینیوں کی مخالفت کے اثرات نہ ہونے کی برابر ہیں۔

2004ءمیں یاسرعرفات کی موت کے بعدسے فلسطینی قوم تقسیم کاشکارہے،اس تقسیم نے باہرکے لوگوں کواپنے ایجنڈے کے تحت فلسطینیوں میں معاملات کرنے کاموقع فراہم کیا ہے۔یاسرعرفات کی قیادت میں فلسطینیوں کاکردارکمزورتھامگرانہوں نے اسرائیل کے سامنے ہتھیارنہیں ڈالے، اس کویاسرعرفات”فیصلہ سازی کی فلسطینی خودمختاری”کہاکرتے تھے۔یاسرعرفات نے فلسطینیوں کے بنیادی مفادات پرسمجھوتہ کیے بغیرریاست حاصل کرنے کاراستہ اختیارکیا۔آزادانہ طرزِعمل نے ہی ان کورہنماکادرجہ دیا۔آج عرفات کے وارث پی ایل او کے سربراہ محمود عباس،حماس کے نئے رہنمایحییٰ شنواراوراسماعیل ہانیہ،اور سب سے اہم فتح کے سابق سکیورٹی چیف محمد دحلان،سب کے درمیان ایک فاصلہ پیداہوگیاہے۔یہ کہناکہ حماس قیادت اوردحلان کے درمیان کوئی دشمنی نہیں،غلط ہوگا۔دونوں کے درمیان کشیدگی2007ءمیں انتہاپرتھی جس کا نتیجہ مختصرجنگ کی صورت میں بھی نکلاتھا۔

اقوام متحدہ کے مطابق غزہ141/اسکوائرمیل کے علاقے پرمشتمل ہے،جوکہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے18لاکھ پناہ گزینوں کا گھرہے لیکن حالیہ تباہی کے بعداب یہ برسوں تک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔غزہ پرحکمرانی کرنے والے کواس خطرے سے بھی نمٹنا ہوگا۔حماس اورپی ایل او تین دہائیوں سے سمجھوتہ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں،اس حوالے سے آخری کوشش مصرکی نگرانی میں اکتوبر2017ءمیں کی گئی،ان مذاکرات میں عملی اقدام نہ ہونے کے برابررہے اورنیم دلی سے کوشش کی گئی مگر فریقین مشترکہ پروگرام پراتفاق کرنے میں ناکام رہے،بہرحال کچھ لوگوں کے نزدیک حماس کی جانب سے اقوام متحدہ،یورپ، روس اورامریکاکے بنائے اصولوں کوتسلیم کرلینابڑی کامیابی ہے۔یہ اصول2006ءمیں حماس کی انتخابی فتح کے بعدبنائے گئے تھے۔2007ءمیں غزہ سے نکالے جانے کے بعدمحمد دحلان کوعباس اورالفتح کی اکثریت نے نظراندازکردیا، محمد دحلان غزہ کی سکیورٹی کے انچارج تھے،ان کوحماس نے غزہ چھوڑنے پرمجبورکردیاتھا۔حماس نے غزہ میں ہرایک کواسلحہ رکھنےکاحق دیا، اس دوران محمد دحلان غزہ میں اپنے حمایتیوں کومنظم کرنے کی صلاحیت سے محروم رہے۔

رام اللہ میں دحلان کی موجودگی محمودعباس کوغزہ کے کھوجانے کی یاددلاتی رہتی ہے،اس سے الفتح کے نوجوان جنگجوؤں میں تبدیلی کی شدیدخواہش کااظہاربھی ہوتاہے۔فلسطین میں اپنی سیاست کے خاتمے کے بعدمحمد دحلان نے اپنے پرانے تعلقات استعمال کرتے ہوئے کاروبارکاآغازکردیا ،محمد دحلان نے ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زیدکے سلامتی کے مشیرکی حیثیت سے اورتاجرکے طورپرزبردست صلاحیت کامظاہرہ کیا،خان یونس کے پناہ گزین کیمپ سے زندگی کاآغازکرنے والے محمد دحلان نے جارج ڈبلیو بش کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مذاکرات بھی کیے،گزشتہ دہائی میں دحلان نے عربوں کی اعلیٰ ترین سیاسی اورتجارتی تنظیموں میں فعال کرداراداکیااوراپنی حیثیت کودوبارہ بحال کرلیا،دوبارہ اہم حیثیت حاصل ہونے کی وجہ سے الفتح اورمحمودعباس نے دحلان سے دوری اختیار کرلی۔

جب سے حماس نے غزہ کاانتظام سنبھالا،علاقے کی قسمت میں غربت لکھ دی گئی۔الفتح غزہ میں غربت ختم کرنے اورمغربی کنارے ویروشلم میں اسرائیلی قبضہ اوریہودی آبادکاری روکنے میں ناکام رہی ہے،جس کی وجہ سے الفتح بہت تیزی کے ساتھ محدوداوربے اثرہوتی جارہی ہے۔2006ءکے انتخابات میں اکثریت حاصل ہونے کے بعدحماس نے خراب معاملات کوسنبھالنے اوربہتری لانے میں انتھک محنت کی لیکن انہیں ہرطرف سے ناکام بنانے کی شازشیں جاری رہیں۔دحلان اپنی تمام ترناکامیوں کے باوجودغزہ اورمستقبل کے فلسطین میں سیاسی جگہ بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ان کوابھی دوبارہ فعال ہونے کیلئے کئی مرتبہ سوچناہوگاکہ ابھی انہوں نے اپناجوتجارتی مقام بنایاہے،کہیں اس سے ہاتھ نہ دھوناپڑجائیں ۔

دحلان کی طرح یحییٰ شنوارنے بھی ایک مختلف تنظیم میں تربیت حاصل کی اوراعلیٰ عہدے پرپہنچے،دونوں نے خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں غربت میں پرورش پائی،پھرغزہ اسلامک یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی،یونیورسٹی میں دونوں کے درمیان طلبہ یونین کی قیادت حاصل کرنے کیلئےمقابلہ بھی ہوا،جس کے بعدایک الفتح کااوردوسراحماس کاجنگجو،دونوں کوہی غزہ نے بنایااوردونوں ہی امریکی پالیسیوں کی پیداوارہیں۔فلسطینی قوم پرستی میں جان انتفادہ کی پہلی تحریک کے بعدپڑی اوراسرائیل کے خلاف فلسطینی جدوجہدکوجائزبھی تسلیم کیاگیا۔یحییٰ نے17؍برس اسرائیلی جیل میں گزارے ہیں، وہاں انہوں نے عبرانی بولنا بھی سیکھی،جیل میں ان کودحلان پسندتھے۔دونوں نے اسرائیل سے جنگ لڑی اورمذاکرات بھی کیے، پھر دونوں کیوں ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرا ت سے گریزاں ہیں،خاص کرایسے حالات میں جب حماس اورمحمود عباس کے درمیان قابل عمل معاہدے کاامکان نظر نہیں آتا۔

5مارچ کوفتح کی انقلابی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے مبینہ طورپرشکایت کی کہ’’ہمیں نہیں پتاکہ حماس مصالحت چاہتی ہے یاایران مصالحت چاہتاہے، نہیں معلوم حماس فلسطینی اتھارٹی کاحصہ بنناچاہتی ہے یااس کی سربراہی چاہتی ہے،کہہ نہیں سکتاکہ حماس مصالحت چاہتی ہے یاہمیں صرف اپنے اے ٹی ایم کی طرح استعمال کرناچاہتی ہے‘‘۔محمود عباس کے بے لچک جواب نے حماس اوردحلان کے درمیان مصالحت کے مشکل کام کاامکان پیداکردیاہے،محمودعباس سے معاہدہ ہویانہ ہو،حماس کامقصداپنی سلامتی، اجارہ داری پرسمجھوتہ کیے بغیرکسی طرح محاصرہ ختم کرانا ہے جبکہ دحلان کی خواہش ہے کہ قاہرہ اورخلیجی ممالک سے تعلقات کافائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ پردوبارہ کنٹرول حاصل کیاجائے،جس کے ذریعے فلسطین کے مستقبل میں اہم کردارحاصل کیاجاسکے۔

اسماعیل ہانیہ کے سابق مشیراحمدیوسف کےمطابق’’دحلان اس قوم کاحصہ ہیں،اوروہ فلسطین کی سیاست میں موجودرہنے کیلئے کیلئےسخت جدوجہدکر رہے ہیں،شایدوہ ایک نئی جماعت تشکیل دینے کافیصلہ کریں،مغربی کنارے میں موجودقیادت اورالفتح کے ساتھ معاملات خراب کیے بغیردحلان کے ساتھ تعاون کرناحماس کے مفاد میں ہوگا،اگرچہ دحلان حماس کے مخالف ہیں اورموجودہ حالات میں الفتح سے دورہیں، غزہ کاانتظام چلانے کیلئےتمام اختلافات ایک طرف رکھ کرحماس دحلان کے ساتھ قومی شراکت داری قائم کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے‘۔ان تنازعات کی وجہ سے فلسطینی مستقبل کوپہنچنے والانقصان سب سے اہم عنصرہے،جس کاسب سے زیادہ فائدہ اسرائیل نے اٹھایاہے اورفلسطینی رہنماؤں کی نااتفاقی نے آج اس حال پر پہنچادیا ہے کہ سب کوہی منزل سے دورکردیاگیاہے۔یوں لگتاہے کہ باہمی سرپھٹول یقیناًان کوایک میزپربیٹھنے پرمجبورکردیں گےجبکہ دشمن قوتیں اپنے ایجنٹوں کے توسط سے فلسطینی قوم کے امتحانات میں اضافہ کرکے انہیں امریکی ایجنڈے پرسرجھکانے پرمجبورکرنے کیلئے پوری قوت سے مصروف عمل ہے لیکن ایساہوگانہیں کیونکہ غزہ کے باسیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،خون پھرخون ہے،بہتاہے تو جم جاتاہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں