The new era of the Gulf

خلیج کانیاعہد

تاریخ کی بساط پربعض اوقات ایسے واقعات رونماہوتے ہیں جوبادی النظرمیں محض سفارتی معاہدے،سرکاری دستاویزات یا عسکری تعاون کے رسمی اعلانات معلوم ہوتے ہیں،مگروقت کادریچہ ذراوسیع کیاجائے توانہی سطروں کےعقب میں آنے والے زمانوں کی پرچھائیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔پاکستان اورکویت کے مابین تازہ دفاعی تعاون اورپاکستان،سعودی عرب اور ترکی سے منسوب مکہ دفاعی معاہدے کاقریب قریب ایک ہی دورمیں سامنے آنابھی ایک ایسی ہی پیش رفت ہے جسے محض دویاتین ریاستوں کے باہمی تعلقات کی محدودعینک سے دیکھناشاید کافی نہ ہو۔

یہ واقعات ایک ایسے عہدمیں وقوع پذیرہورہے ہیں جب خلیج کی سیاست اپنے پرانے سانچوں سے باہرنکلنے،اپنے دفاعی امکانات کومتنوع بنانے اوربدلتی ہوئی عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے لیے ایک زیادہ محفوظ اوربااختیارمقام تراشنے کی جستجومیں ہے۔پاکستان اورکویت کے درمیان نئے دفاعی انتظامات اورپاکستان، سعودی عرب اورترکی کےمابین مکہ معاہدے کاقریب قریب ایک ہی زمانے میں سامنے آنااس امر کی علامت سمجھاجاسکتاہے کہ خلیجی سلامتی کے منظرنامے میں پاکستان کی اہمیت بتدریج بڑھ رہی ہے۔حالیہ علاقائی کشیدگی،جنگی تصادم اور مشرقِ وسطیٰ میں پیداہونے والی بے یقینی نے ان ریاستوں کو ایسے شراکت داروں کی طرف متوجہ کیاہے جومحض سیاسی تائیدہی نہیں بلکہ عملی عسکری مہارت،تربیت اوردفاعی تجربہ بھی فراہم کرسکیں۔

یادرہے کہ پاکستان نے متعدد خلیجی ممالک کاایسااعتمادحاصل کیاہے جس کی بنیاداس کی فوجی صلاحیت،دفاعی تجربے اورتربیتی استعدادپرقائم ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ خلیج کے ساحلوں پراب سلامتی کاچراغ صرف ایک پرانی طاقت کے تیل سے روشن رکھنے کی بجائے متعددہاتھوں سے ایندھن حاصل کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں بنگلہ دیش سے آنے والاردِعمل بھی کم اہم نہیں۔بنگلہ دیشی وزیرِخارجہ سے منسوب بیان کے مطابق اس سہ فریقی انتظام کومثبت نگاہ سے دیکھاجارہاہے، اور اگرموجودہ رکن ممالک بنگلہ دیش کی شمولیت کی خواہش ظاہرکریں توڈھاکااس امکان کوسنجیدگی اورمثبت رویّے کے ساتھ دیکھ سکتاہے ۔ یہ اشارہ اس امرکی طرف توجہ دلاتاہے کہ اگرمکہ معاہدہ اپنی موجودہ جغرافیائی حدوں سے نکل کرجنوبی ایشیا کی طرف پھیلتاہے تواس کی سیاسی معنویت بھی بدل سکتی ہے۔جودائرہ ابتدامیں مغربی ایشیاکی اجتماعی سلامتی کےگردکھینچاگیاہو،وہ آنے والے زمانے میں وسیع ترمسلم دنیا کے دفاعی مکالمے کاعنوان بھی بن سکتاہے۔

27اگست کوکویتی وزیرِدفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ سالم الصباح کے اسلام آبادکے دورے کے موقع پرپاکستان اورکویت نے مشترکہ دفاعی اورفوجی تعاون کے ایک نئے معاہدے پردستخط کیے۔یہ کوئی بالکل نئے درخت کی کاشت نہیں بلکہ2023میں قائم کیے گئے تعاون کے پودے کی ایک نئی شاخ ہے۔اس نئے بندوبست کامرکزی مقصدآپریشنل رابطہ کاری میں بہتری، فوجی تجربات کاتبادلہ،عسکری تیاری میں اضافہ،تربیتی تعاون،استعدادسازی اورسرحدی انتظام کے میدان میں اشتراک کو فروغ دینابتایاگیاہے۔گویادونوں ممالک نے رسمی تعلقات کے دریچے سے آگے بڑھ کرعملی تعاون کے دروازے کوکچھ زیادہ کشادہ کرنے کاارادہ ظاہرکیاہے۔

پاکستان اورکویت کے درمیان ابتدائی فریم ورک جون2023میں وجودمیں آیاتھا۔اس کامقصددفاعی صنعت،فوجی تربیت اور تجربات کے تبادلے سمیت متعددشعبوں کیلئےایک منظم قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرنا تھا۔نیامعاہدہ اس سابقہ فریم ورک کومحض کاغذی عہدوپیمان کی سطح سے نکال کرعملی نفاذکی زمین پرلانے کی کوشش کے طورپرپیش کیاگیاہے۔یوں کہاجا سکتاہے کہ پہلے بنیادرکھی گئی تھی،اب اس بنیادپرعمارت اٹھانے کامرحلہ شروع ہواہے۔

بین الاقوامی سیاست میں صرف یہ نہیں دیکھاجاتاکہ کیاہوا؛یہ بھی دیکھاجاتاہے کہ کب ہوا۔پاک–کویت معاہدے کامکہ دفاعی معاہدے کے چندہی ہفتوں بعدسامنے آنااسی لیے تجزیے کاموضوع بناہے۔خلیج ایک ایسے دورسے گزررہی ہے جہاں پرانے سلامتی کے سانچے نئے دباؤبرداشت کررہے ہیں اورریاستیں اپنے دفاعی تعلقات کی نئی صف بندی کررہی ہیں۔اس لیے اس معاہدے کاوقت اپنے اندرایک سیاسی اشارہ ضروررکھتاہے،خواہ اس سے فی الفورکسی نئے فوجی اتحادکانتیجہ اخذکرنا درست نہ ہو۔

یہاں ایک نہایت بنیادی امتیازملحوظ رکھناضروری ہے۔پاک–کویت معاہدہ،دستاویزکی وضاحت کے مطابق،کسی ایسے باہمی دفاعی اتحادکی حیثیت نہیں رکھتا جس میں ایک ملک پرحملہ دوسرے ملک کولازماًجنگ میں داخل ہونے کاپابند کردے۔اس کا دائرہ عسکری تربیت،استعدادسازی،تجربات کے تبادلے اور افواج کے درمیان رابطہ کاری تک محدودہے۔پس اسے مکہ دفاعی معاہدے کے ہم معنی سمجھناسیاسی تجزیے کی میزان کوبے وزن کردینے کے مترادف ہوگا۔

دستاویزمکہ معاہدے کواس کے برعکس ایک نسبتاًوسیع اجتماعی سلامتی کے فریم ورک کے طورپرپیش کرتی ہے،جس میں پاکستان،سعودی عرب اورترکی میں سے کسی ایک پرحملے کومجموعی سلامتی کے تناظرمیں دیکھنے کاتصورشامل بتایاگیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دونوں معاہدوں کی نوعیت الگ ہوجاتی ہے۔کویت کے ساتھ پاکستان کاتعلق تربیت اوردفاعی استعداد کا ہے ،جبکہ مکہ معاہدے کابیان کردہ تصورمشترکہ دفاعی ذمہ داری سے نسبت رکھتاہے۔ایک جگہ فن اور تجربہ شریک کیاجا رہاہے؛دوسری جگہ سلامتی کی تقدیرکومشترک کرنے کاتصورابھرتاہے۔

پاک–کویت تعاون کاعملی پہلوکویتی مسلح افواج کی صلاحیتوں میں اضافہ،تربیت اورمشترکہ مشقوں کے مواقع فراہم کرنے سے متعلق ہے۔تجزیے کے مطابق یہ تعاون مستقبل میں مزید شعبوں تک پھیل سکتاہے،لیکن اس توسیع کوپہلے ہی سے کسی لازمی مشترکہ دفاعی ضمانت کی منزل قراردینامناسب نہیں ۔ سفارت کاری میں ہرکھلتاہوادروازہ کسی آخری منزل کی ضمانت نہیں ہوتا؛بعض اوقات وہ محض آئندہ امکانات کی راہداری ہوتاہے۔پاک–کویت تعلق بھی فی الحال اسی راہداری میں دکھائی دیتا ہے۔

پاک–کویت معاہدے کواس وسیع ترپس منظرسےالگ نہیں کیاجاسکتاجس میں علاقائی جنگیں،سمندری راستوں کی کشیدگی، توانائی کی تنصیبات پرحملوں کے خدشات اورامریکاوایران کے درمیان دیرینہ محاذآرائی کے اثرات شامل ہیں۔ان حالات میں خلیجی ریاستیں بظاہراس نتیجے پرپہنچ رہی ہیں کہ سلامتی کی پوری عمارت ایک ہی ستون پرقائم کرنادانش مندی نہیں۔چنانچہ دفاعی شراکت داریوں کومتنوع بناناایک تدبیرنہیں بلکہ رفتہ رفتہ علاقائی حکمتِ عملی بنتی دکھائی دیتی ہے۔

پاکستان اورخلیجی ممالک کے دفاعی تعلقات نہ نئے ہیں،نہ وقتی۔کئی دہائیوں سے پاکستان مختلف خلیجی ریاستوں میں تربیتی پروگراموں،عسکری مشیروں اورفوجی اہلکاروں کےذریعے دفاعی صلاحیت کی تعمیرمیں کرداراداکرتارہاہے۔کویت کیلئے پاکستانی تعاون اسی دیرینہ تجربے سے استفادہ کرنے کاایک موقع ہے۔ پاکستان کی فوجی تربیت،ادارہ جاتی تجربہ اورمختلف جغرافیائی وعسکری حالات میں کام کرنےکی صلاحیت اسےخلیجی ریاستوں کیلئے ایک قابلِ توجہ شراکت دار بناتی ہے۔

شایداصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان خلیج کے سلامتی نظام میں داخل ہوچکاہے یانہیں۔زیادہ معنی خیزسوال یہ ہے کہ آیاپاکستان رفتہ رفتہ ان متعدددفاعی رشتوں کے درمیان ایک مرکزی کڑی بن رہاہے جوخلیج کے نئے سلامتی ڈھانچے کوتشکیل دے رہے ہیں۔دستاویزبھی اس امکان کوسوال کی صورت میں اٹھاتی ہے،مگرساتھ یہ احتیاط بھی برتتی ہے کہ اس تبدیلی کومکمل شدہ حقیقت قراردیناابھی قبل ازوقت ہوگا۔ اسی طرح پاک–کویت تعاون کوامریکاکے ساتھ خلیجی ریاستوں کے موجودہ سلامتی روابط کابراہِ راست متبادل بھی قرارنہیں دیاگیا۔

پاکستان اورترکی کے ساتھ خلیجی تعاون کوامریکاسے فاصلہ پیداکرنے کی سادہ تعبیردیناشایدمعاملے کوضرورت سے زیادہ سہل کردیناہوگا۔دستاویزکے مطابق کویتی حکمتِ عملی کارجحان موجودہ امریکی سلامتی انتظامات کوترک کرنے کی بجائے انہیں دیگرشراکت داریوں کے ذریعے مضبوط اورمتنوع بنانے کی طرف ہے۔حکمتِ سیاست کاتقاضابھی یہی ہے کہ ریاست اپنی کشتی صرف ایک لنگرسے نہ باندھے۔سمندرکامزاج کب بدل جائے،کسی بادبان کوپہلے سے خبرنہیں ہوتی۔

پاکستان کی ایک امتیازی خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہےکہ خلیجی ریاستوں کےساتھ بڑھتے ہوئےدفاعی تعاون کےباوجود اسلام آبادنے ایران کے ساتھ اپنے روابط منقطع نہیں کیے۔یہ وہ باریک سفارتی پل ہےجس پرچلنےکی صلاحیت ہرریاست کو میسرنہیں ہوتی۔اگرپاکستان خلیجی شراکت داروں اورایران جیسے علاقائی فریق کےساتھ بیک وقت رابطے برقراررکھنے میں کامیاب رہتاہے تویہی صلاحیت بعض خلیجی ریاستوں کی نگاہ میں اس کی افادیت بڑھاسکتی ہے۔

جیسے جیسے یہ سوال گہراہوتاجارہاہے کہ آیاکوئی ایک عالمی طاقت پورے خطے کوجامع سلامتی فراہم کرسکتی ہے، ویسے ویسے دفاعی شراکت داریوں کامتنوع جال تشکیل پاتادکھائی دیتاہے۔اسی پس منظرمیں پاک–کویت معاہدے کوایک بڑے عمل کی چھوٹی مگرمعنی خیزعلامت سمجھاجاسکتاہے:ایک ایساعمل جس میں علاقائی طاقتیں ان میدانوں میں قدم بڑھارہی ہیں جہاں کبھی مغربی طاقتوں کاتقریباًبلاشرکتِ غیرے اثرتھا۔تاہم تبدیلی اورانقطاع میں فرق قائم رکھنا ضروری ہے۔نئے دروازے کھل رہے ہیں،مگرپرانےدروازے ابھی بندنہیں ہوئے۔

بنگلہ دیش سے منسوب بیان میں مکہ معاہدے کی ممکنہ توسیع کودنیابھرکی مسلم برادری کی سلامتی سے مربوط کیاگیاہے۔یہ تصوراگرمستقبل میں عملی سیاسی حمایت حاصل کرتاہے تومکہ معاہدے کابیانیہ محض تین ریاستوں کے باہمی دفاع سے نکل کر وسیع تراجتماعی سلامتی کے تصورکی طرف جاسکتاہے۔یہاں سیاست اورتہذیب ایک دوسرے کے قریب آتے دکھائی دیتے ہیں؛کیونکہ مسلم دنیامیں اجتماعی سلامتی کاخیال صرف عسکری اتحادکاسوال نہیں،تاریخی شعور،باہمی اعتماداورمشترکہ سیاسی ارادے کاامتحان بھی ہے۔

مکہ معاہدے ایک جامدیامقفل بندوبست کی بجائے ارتقاپذیرسلامتی کے نظام کے طورپر پیش کرتی ہے،جس میں ایسے مزید ممالک کی شمولیت کاامکان موجود بتایا گیاہے جومشترکہ ذمہ داری اوراجتماعی سلامتی کے اصولوں سے ہم آہنگ ہوں۔اگریہ تصورعملی شکل اختیارکرتاہے تواس معاہدے کی اصل آزمائش اس کی تعدادمیں نہیں بلکہ اس کی داخلی ہم آہنگی،سیاسی اعتماداور مشترکہ ذمہ داری نبھانے کی صلاحیت میں ہوگی۔اتحادوں کی قوت صرف پرچموں کی کثرت سے نہیں،ارادوں کی یکجائی سے پیداہوتی ہے۔

بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت اس فریم ورک کومغربی ایشیاکی جغرافیائی حدودسے نکال کرجنوبی ایشیامیں داخل کرسکتی ہے۔ایسی پیش رفت بھارت کے شمال مشرقی جغرافیائی وتزویراتی حسابات اورخطے میں طاقت کے توازن پراثراندازہوسکتی ہے۔یہاں البتہ تجزیے اوریقینی حقیقت کے مابین حدقائم رکھناضروری ہے۔کسی بھی اتحادکی توسیع کے ممکنہ اثرات کا دارو مدار محض رکنیت پرنہیں بلکہ اس کے عملی دفاعی التزامات،جغرافیائی ترجیحات اورسیاسی ارادوں پربھی ہوگا۔خطے کے ممالک اس ممکنہ تبدیلی کو ایک اہم اسٹریٹیجک پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

موجودہ سیاسی تناظرمیں یہ واضح اشارے بھی موجود ہیں کہ خطے کے دیگرممالک مکہ معاہدے میں شمولیت کی خواہش رکھ سکتے ہیں۔اگرایساہوتاہے تویہ پیش رفت اس امرکاامتحان بنے گی کہ آیایہ انتظام واقعی ایک وسیع اجتماعی سلامتی کے ڈھانچے میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتاہے یااپنی موجودہ محدودساخت ہی میں زیادہ مؤثررہتاہے۔ہروسیع ہوتاہوااتحادقوت بھی حاصل کرتاہے اورپیچیدگی بھی؛نئے رکن نئے وسائل لاتے ہیں،مگرنئے مفادات اورنئی ذمہ داریاں بھی ساتھ لاتے ہیں۔آخری خبروں کے مطابق بنگلہ دیش اورایران کی ممکنہ شمولیت کاامکان بیان کیاگیاہے اوریہ خیال پیش کیاگیاہے کہ مستقبل میں پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی مکہ معاہدے کے دائرے کومزیدممالک تک پھیلانے پرمرکوز ہوسکتی ہے۔

ادھردوسری طرف بھارت،اسرائیل اورممکنہ طورپرمتحدہ عرب امارات کی مخالفت کے امکانات کاذکربھی تجزیاتی اندازمیں کیاگیاہے چونکہ یہ مستقبل سے متعلق سیاسی امکانات ہیں،اس لیے انہیں وقوع پذیرشدہ حقائق کی بجائے تجزیاتی مفروضوں اورامکانات کی حیثیت سے دیکھنازیادہ قرینِ احتیاط ہے۔

خلیج کی ریت پرلکھی ہوئی سیاست کواکثرسمندری ہوانئے نقش دیتی رہی ہے۔جوخطہ کئی دہائیوں تک ایک نسبتاًمستحکم مغربی سلامتی چھتری کے سائے میں رہا، وہاں آج نئے سوالات جنم لے رہے ہیں:کیاآنے والے دورکی سلامتی ایک طاقت فراہم کرے گی یاکئی شراکت دار؟کیاعلاقائی ریاستیں محض عالمی قوتوں کی پناہ گیررہیں گی یاخوداپنے دفاعی نظام کی معماربنیں گی؟اورکیاپاکستان اس نئی تعمیرمیں محض ایک تربیتی شراکت دارہوگایارفتہ رفتہ ایک ایسے محورمیں ڈھل سکے گاجس کے گردمختلف دفاعی رشتے جڑتے چلے جائیں؟

پاک–کویت معاہدہ اپنی موجودہ صورت میں اجتماعی جنگی ضمانت کاپیمان نہیں؛مگراسے معمول کی فوجی دستاویزکہہ کر نظراندازکرنابھی شایدتصویرکے صرف ایک گوشے کودیکھناہوگا۔اسی طرح مکہ دفاعی معاہدے ایک زیادہ وسیع اجتماعی سلامتی کے تصورکی تصویرکھینچتاہے،مگراس کے مستقبل،توسیع اورعلاقائی نتائج کاانحصارابھی سیاسی ارادوں،عملی انتظامات اوربدلتے ہوئے عالمی حالات پرہے۔پاکستان کیلئےاس تمام صورتِ حال میں اصل امتحان شایدطاقت کے اظہارسے زیادہ توازن کی حفاظت ہے:خلیج کااعتمادبھی باقی رہے،ایران کے ساتھ مکالمے کے دروازے بھی کھلے رہیں؛قدیم شراکت داروں سے تعلق بھی قائم رہے اورنئی علاقائی قوتوں کے ساتھ تعاون بھی بڑھے۔

قوموں کی زندگی میں وقارصرف شمشیرکی دھارسے پیدانہیں ہوتا؛کبھی تدبر،اعتباراورتوازن وہ کام کرجاتے ہیں جوہزار لشکربھی نہیں کرسکتے۔اگرپاکستان آنےوالےدورمیں اپنی عسکری صلاحیت کوسیاسی بصیرت،سفارتی اعتدال اورقابلِ اعتماد شراکت داری کےساتھ جوڑنے میں کامیاب رہتاہے توخلیج میں اس کاابھرتاہواکردارایک وقتی سفارتی موسم کی بجائے ایک دیرپاتاریخی رجحان کی صورت اختیارکرسکتاہے اور آج تین دہائی قبل کی پشین گوئی سچ دکھائی دے رہی ہے کہ توفیقِ ایزدی سے وہ وقت آئے گاجب دنیاکے فیصلے پاکستان کے باہمی مشوروں سے طے پائیں گے…الحمداللہ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں