اسلام اورمغربی جمہوریت

:Share

آج کل نہ صرف ہماری نئی نسل اسلام سے عدم واقفیت کی بناء پرمغربی جمہوریت کے نعرے سے مرعوب ہوکراپنے مسائل کاحل اس میں ڈھونڈ رہی ہے بلکہ ہمارے ملک کے کچھ دانشورقلمکار بھی اس کے پرچارمیں مشغول ہیں۔ضروری ہوگیا ہے کہ اس موضوع پراپنی بساط کے مطابق کچھ تحریر کیاجائے تاکہ ہماری موجودہ نئی نسل مغرب کے پرفریب نعرے کی حقیقت اوراسلام کی حقانیت سے واقف ہوسکیں۔
اس وقت مسلمانوں کی یہ حالت ہے کہ صدیوں کی غلامی اورمحکومی نے ان کی فکری صلاحیتوںکوسلب کررکھاہے۔محکومی کی وجہ سے ہماری جان اوربدن بھی غیروں کے ہاں گروی ہیں۔ہم اگردیکھتے ہیںتوحاکم کی نظرسے’سنتے ہیں توحاکم کے کانوں سے’سوچتے ہیں توحاکم کے دماغ سے’یہاں تک کہ ہم قوم ِغالب کے نظریہ مسلک یانظام کوعرشِ معلیٰ سے نازل شدہ سمجھتے ہیں اوراس کی تقلیدکواپنے لئے ہزارفخرومباہات سمجھتے ہیں۔اقوام غالب اپنی چچوڑی ہوئی ہڈیاںجب ہماری طرف پھینکتی ہیں توہم ان کولپک کرخوان یغماسمجھ کراٹھالیتے ہیں۔تشکیل پاکستان کے بعدجب ہمیں ایک نظام کی ضرورت پڑی تو ہم نے فوراً مغرب کے جمہوری نظام کوصحیفہ آسمانی سمجھ کرتقدس کے ہاتھوں سے اٹھاکرعقیدت کی آنکھوں کے ساتھ بکمال فخرومباہات اپنے ہاں نافذکرلیا۔شروع میں اس نظام کی حیثیت بالکل سیاسی تھی لیکن جب نام نہادمذہبی پیشوائیت کے سینے میں مذہبی قیادت کے علاوہ سیاسی قیادت سنبھالنے کی کی آرزونے انگڑائی لی تو انہوں نے سادہ لوح اورتقلیدپرست عوام کوسہانے خواب دکھاکرمیدان اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے اپنی پوری توانائیاں حصول ِ اقتدارکی بھٹی میں جھونک دیں’ بجائے اس نظام کومسترد کرنے کے اس مغربی جمہوریت کواپنی منزل بناکرمغربی اقوام کوبھی یہ تاثردیاکہ گویااسلام میں ”نظام حکومت”کیلئے کوئی واضح ہدایات موجودنہیں۔اس طرح انہوں نے اس نظام کوجواقوامِ مغرب کے قریب مردہ پاچکاتھاعین اسلامی کہہ کرعوام کواپنے پیچھے لگالیا۔اس کانتیجہ یہ نکلاکہ مسلمانوں کی بیشترتعداداب مغربی جمہوریت کوعین اسلامی سمجھنے لگی ہے۔
مغربی جمہوریت کوسمجھنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ان حالات وکوائف کاجائزہ لیاجائے جس کے پیشِ نظرمغربی اقوام نے اس نظام کووضع اوراختیار کیاتھا۔جمہوریت سے پیشترمغربی اقوام ظلم واستبدادکی چکی کے دوپاٹوں میں بری طرح پس رہی تھیں۔ایک طرف ملوکیت کی قہرمانی اوردوسری طرف اربابِ کلیساکی تھیوکریسی تھی ۔یعنی مذہبی پیشواؤں کی حکومت کانظریہ جوسینٹ پال نے وضع کیاتھاجس میں تھیاکریسی نے حکومت کاحق خداسے پادریوں کی طرف منتقل کردیاتھا۔پادریوں کوخداکانمائندہ بناکران کوبے پناہ اختیارات کامالک بنادیا۔بعدازاں رومن بادشاہوں سے گٹھ جوڑ کرکے حکومت کااختیاربادشاہوں کومنتقل کردیالیکن حقیقتاً حکومت کاکنٹرول پادریوں نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔لوتھرنے عوام کوپادریوں کے فولادی اورظالمانہ شکنجے سے رہائی دلانے کیلئے اپنی اصلاحی تحریک میں انجیل کوسمجھنے کاحق ہرفردکیلئے مانگا لیکن اس نعرہ سے بھی مسئلہ حل نہ ہوسکاکیونکہ انجیل میں حکومت اورسیاست کے متعلق کوئی قانون موجودنہیں تھا۔
اس صورتحال سے تنگ آکرفرانس میں ایک انقلاب برپا ہواجس میں روسوکے نظریہ حکومت کوبڑی پذیرائی حاصل ہوئی۔روسوکے نظریۂ حکومت نے پادریوں اوربادشاہت سے نظامِ حکومت واپس لیکر عوام کواقتدارکاسرچشمہ قراردیا۔اس طرح نظامِ جمہوریت کاابتدائی تصورسامنے آگیا۔یہ وہی نظریہ تھاجس کااساسی تصوریونان کے مفکرین اوردانشوروںنے بہت پہلے پیش کیاتھا۔بہرحال ملوکیت اورپادریوں کے استبدادکی چکی میں پسنے والے عوام نے اس نظریہ کونجات دہندہ سمجھ کراس کانہائت گرمجوشی سے استقبال کیااوراسے نوعِ انسانی کیلئے آیہ رحمت سمجھ کر اس کی تقلیدشرو ع کردی ۔ظاہرہے کہ عوام کاجوش وخروش اورمسرت انبساط نظامِ جمہوریت کی کامیابی پرمثبت اظہارِتشکرنہیں تھابلکہ ملوکیت اورمذہبی پیشوائیت کی قہرمانی سے حصولِ نجات پرایک منصفانہ ردعمل تھا۔یہ تھے وہ حالات جس کے پیشِ نظرجمہوریت نے جنم لیا۔
مغربی اقوام نے برسوں اس نظامِ حکومت کامختلف طریقوں سے تجربہ کیااورانجام کاران اقوام کے مفکرین اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ جس نظام کو انسانیت نے اپنے لئے آیۂ رحمت سمجھاتھاوہ نوع انسانی کیلئے کوئی ازلی وابدی قانون مبنی برعدل مہیانہیں کرسکاکیونکہ انسانوں کے خودساختہ قوانین میں ازلیت وابدیت نہیں ہوسکتی۔اب یہ مفکرین ان عالمگیرقوانین ‘جن کاسرچشمہ انسانی فکرسے الگ اورسربلند وماوراہو’کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں اورہم ہیں کہ ان کے مسترد شدہ نظام یاباامرمجبوری اپنائے ہوئے نظام میں اسلامی لاحقہ لگاکر اسے اپنے دکھوں اورمسائل کامداواسمجھ کرسینے سے لگائے ہوئے ہیں اوراسلامی جمہوریت کے نام سے متعارف کرواکے اپنے ملکوں میں نافذکرنے کی بھرپورکوشش کررہے ہیں۔
یہ اصطلاح دراصل ان لوگوں کی طرف سے متعارف ہوئی ہے جواسلامی جمہوریت کانعرہ لگاکراسلام کے پردے میں درحقیقت اپنے جارحانہ مفادات کی حفاظت کاانتظام کرناچاہتے ہیں۔اس اصطلاح کابے معنی پن اوراستعمال کرنے والوں کی کم علمی یاعدم اخلاص توخوداس اصطلاح کے اندر پوشیدہ ہے’ چاہے اس پرکتنی ہی فلسفیانہ پالش کی جائے۔اس اصطلاح کاتناقص ہرشخص کی سماعت پرفوراً عیاں ہوجاتاہے ۔اب دیکھنایہ ہے کہ آخروہ کون سا جذبہ ہے جس کے تحت ”اسلام اورجمہوریت”کے دومتضادخودکفیل اورجامع مفہوم رکھنے والے دومختلف الفاظ کوباہم جوڑاجارہا ہے ۔
سب سے پہلے تویہ بات ممکن ہوسکتی ہے کہ ایسی متضاداورمتناقض اصطلاح استعمال کرنے والے شخص کاذہن اسلام کے بارے میں مطمئن نہیں ہے۔وہ اسے ناکافی ‘نامکمل ‘غیرجامع اورناقص چیز سمجھتا ہے اوراس کے خیال میں جب تک اسلام میں مزیدپیوندنہ لگائے جائیں ‘اس وقت تک وہ اپنااصل فائدہ نہیں ظاہرکرسکتا۔دوسری بات یہ ہوسکتی ہے کہ وہ شخص مغربی جمہوریت کے بارے میں مرعوبانہ ذہن رکھتاہے ۔جوچیزیں وہ اسلام میں کم پاتاہے ‘اس کے خیال میں ان چیزوں کی کمی جمہوریت ہی بدرجہ احسن پوری کرسکتی ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ ایسے شخص کارحجان غالب مغربی جمہوریت کی طرف ہی ہے اوراسے صرف ذرااسلامی بنالینے کی ضرورت ہے۔شائدیہ ضرورت اسے معاشی یاموجودہ حالات کے پیش نظر لاحق ہو۔چوتھی بات جس کی طرف ذہن جاسکتا ہے ‘وہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ اس متناقض اصطلاح کواستعمال کرنے والے کواس تناقض کاشعورہی نہ ہواوروہ پوری طرح اسلام سے واقف ہواورنہ جمہوریت سے’بس زمانے کے چلتے ہوئے فیشن کے مطابق وہ بھی یہ اصطلاح اسی طرح لیکرچل پڑا ہوجس طرح فیشن بدلتے دیکھ کرلوگ بے سوچے سمجھے فیشن بدل لیاکرتے ہیں۔ایسے نعرے لگانے والوں کے ہاں حقیقتاًان ساری باتوں کاامکان موجودرہتا ہے۔
اگر ہم دیکھیں توگزشتہ دوتین صدی تک مسلمان ممالک پرمغربی ممالک اپنی قہرمانی قوت اورشوخ وشنگ تہذیب کے ساتھ حکمران رہے ہیںجس کے بارے میںاقبال نے فرمایاہے!
”چہرہ روشن اندرون چنگیزسے تایک تر ”۔
جب کوئی قوم کسی دوسری قوم پرتلوارکے زورپرفاتحانہ مسلط ہوجاتی ہے تومفتوح اورمغلوب قوم کے افراد اس کی تلوارہی سے مفتوح نہیںہوتے بلکہ اس کے نظریات’اس کے علوم اوراس کے فلسفہ حیات تک سے مفتوح ہوجاتے ہیںاورکم ہی ایسے سخت جان ہوتے ہیںجوغالب قوم کے علوم وفنون اورتہذیب کی کٹھالی میں پگھلنے اوراس کاسانچہ اختیارکرنے سے بچ جاتے ہیں۔جس طرح سیاسی برتری ختم ہونے کے بعدمدت تک یہ مغلوبانہ ومرعوبانہ تغیر و تبدل شروع ہوجاتاہے اسی طرح سیاسی برتری ختم ہونے کے بعدمدت تک یہ مرعوبانہ اورمغلوبانہ طرزِ فکراپناکام کرتارہتا ہے اورچونکہ فاتح قوم کے راج دربارمیں مغلوب ومفتوح قوم کے صرف وہی افرادباریاب ہوسکتے ہیں جواس کے رنگ وبوکواختیارکرکے اس کے سانچے میں ڈھل جائیں اوراپنی وفاداری اپنے طرزعمل سے ثابت کردیں’تب یہ بدیشی آقااپنے اختیارات ایسے ہی لوگوں میں منتقل کرکے انہیں اپنا حقیقی جانشین بناکرجاتے ہیں۔
تمام مسلمان ملکوں میں جہاں ایک مدت کے بعدمغربی قوموں کی واپسی کے سبب سیاسی آزادی درآمدہوئی ہے وہاں فطری طورپرخودبخودایسے لوگ برسراقتدارآئے ہیں جوپہلے سے فرنگیت کے بہت قریب تھے اس لئے مشرقِ وسطیٰ سے لیکر مشرقِ بعیدتک بیشترمسلمان ممالک میں وہی لوگ مسلط ہیں جومغربی تہذیب میں رنگے ہوئے اوراپنی زندگی کے شب وروزسے مغرب کے مقابلے میں اپنی مرعوبانہ طرزِ عمل اورطرزِ فکرکاپیہم انتظارکرتے رہتے ہیں۔ایسے لوگ مشکل ہی سے یہ سوچ سکتے ہیں کہ یورپ سے آئی ہوئی کوئی چیزبھی ناقص ہوسکتی ہے چاہے وہ دین وایمان کا تصورہی کیوں نہ ہو۔ایسے لوگوں کی حیثیت مرغِ بادنماکی سی ہوتی ہے کہ جدھرکی ہواچلی اسی طرف رخ موڑلیا۔اگریورپین مسلط ہوجائیں توسر سے پیرتک مغربی لباس میں نظرآئیں گے اوراگرحبشیوں کی حکومت قائم ہوجائے تورنگ سیاہ ناک چپٹی اوربال گھونگھریالے کرنے کے طریقے استعمال کرنے لگیں گے اوراگرہندوؤں کی برتری دکھائی دے توسرسے پاؤں تک گاندھی بھگت نظرآئیں گے۔
ایسے لوگوں کے اپنے کوئی نظریات نہیں ہوتے صرف فاتح کے نظریہ حیات کامشروب ان کے شیشۂ حیات میں رنگ بھرنے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ انہیں اسلام پراعتمادنہیں ہوتاکہ انہوں نے اس کامطالعہ کرکے اس میں کچھ خامیاں ‘کمزوریاں اورنقائص پائے ہوتے ہیںبلکہ ملی کردارنہ ہونے کے سبب ایک مفتوح قوم کادین سمجھتے ہوئے خودبخودان کانقطۂ نظراس کے بارے میں حقارت آمیزنہیں تومعذرت آمیزضرورہوجاتاہے۔ان کیلئے ڈارون’آئن اسٹائن اورنیوٹن کی بات زیادہ سائنٹیفک اوروزنی ہوتی ہے اورحضرت ابوبکرصدیق ،حضرت عمرفاروق اورامام ابوحنیفہ اورامام شافعی کی بات بے وزن ہوتی ہے۔انہیں اس بات کااحساس تک نہیں ہوتاکہ یہ دونوں گروہ دومختلف علوم کے نمائندے ہیں ،جن علوم پرموخرالذکر حضرات گہری نگاہ رکھتے ہیں ان کی ابتداء سے بھی اوّل الذکرلوگ نابلدہیںلیکن ہرمسئلے پرسندان کیلئے بہرحال اوّل الذکرحضرات ہی ہوتے ہیں۔ اسلام کے بارے میں ان کاتصورچندعبادات کے مجموعے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتاجوان کی رائے میں ایک مصروف اوردنیادارآدمی کیلئے خارج ازبحث اورازکاررفتہ معمولات ہیں۔
اسلام کی طرف سے اس بے اعتنائی اورمحدودتصورکے بعد جمہوریت کے بارے بھی ان کاکوئی عملی تجرباتی اعتقادنہیں ہوتااورنہ ہی ان کی افادیت نے ان کومتاثرکیاہوتا ہے لیکن چونکہ اس کانعرہ اپنے چاروں طرف لگتاہواسنتے ہیں،مغربی قوموں میں اس موضوع پرلٹریچرتیارہوتاہے اوروہاں کی سیاسی جماعتوں کواس قسم کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھتے ہیں اس لئے ترقی پسندکی علامت ‘جدیدیت کاتقاضہ اورعصری تقاضوں کالازمی جواب سمجھ کراسے فیشن کے طورپراختیارکرتے ہیںاوراپنی سیاسی بولی میں بھی شامل کرلیتے ہیں۔یہ ان کیلئے گویاکوئی عمرانی تصورنہیں ہوتاجواپنے کچھ تقاضے رکھتاہوبلکہ ایک پالیسی کامسئلہ ہوتاہے جوہواکارخ دیکھ کراختیارکیاجاتاہے۔یہ پہلوایک مرعوب ذہن اورذہنی افلاس کانتیجہ ہوتاہے۔
اب آپ خودہی سوچیںکہ آخراسلام اورجمہوریت میں کوئی قدرمشترک بھی ہے جس کی بناء پرہم لوگ ان دومتضادنظریات کاباہمی جوڑلگانے اور دنیابھرکے سامنے اپنی مزعومہ ترقی پسندی اورحقیقتاً اپنی کم علمی کامظاہرہ کرتے ہیں؟مغربی حکومتوں کاماحصل یہ ہے کہ اس میں اقتدارکاسرچشمۂ عوام ہوتے ہیں اوروہ اپنے اقتدارکواپنے نمائندگان کے ذریعے بروئے کارلاتے ہیں،ان نمائندگان کی اکثریت کے فیصلے یعنی وہ آئین یاقوانین ہیں جنہیں وہ خودوضع کریں اوروہ حرفِ آخرہوتے ہیں ۔عوام کے یہ نمائندے مختلف پارٹیوں میں بٹ جاتے ہیں اورجوپارٹی اکثریت میں ہوتی ہے وہ سیاہ وسفید کے مالک بن جاتی ہے ۔بہرحال ایسی نظامِ حکومت یعنی مغربی جمہوریت میں حکومت یااقتدارہرصورت انسانوں کے ہاتھوں میں رہتا ہے اورانہیں دوسروں پر حکومت کرنے کیلئے اکثریت کی بناء پر ہرقسم کاقانون بنانے کامکمل اختیارہوتا ہے اس کے برعکس اسلام یعنی قرآنی نظام میں حقِ حکومت کسی انسان کوحاصل نہیں بلکہ یہ حق صرف خداکوحاصل ہے(سورة یوسف۔۴۰)۔
”وہ اپنے اس حقِ حکومت میں کسی اورکوشریک نہیں کرتا”۔(سورة کہف۔۲۶)۔
حقِ حکومت کے لحاظ سے اگردیکھا جائے تویہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ مغربی جمہوریت یاآجکل کی اصطلاح میں ”اسلامی جمہوریت”قرآنی نظاام کی ضد ہے ۔مغربی جمہوریت میں پارٹی سازی کی اجازت ہے لیکن پارٹی سازی کاقرآن کریم کی روسے کوئی جوازنہیں۔
قرآن کریم کے مطابق نوعِ انسانی صرف دوگروہوںمیں تقسیم ہے جن میں ایک گروہ کفارکااوردوسراگروہ مومنین کاہے(سورة تغابن۔۳)۔
”یہ لوگ رسالتِ محمدیہۖ پرایمان لاکرحلقہ مومنین میں شامل ہوئے ہیں ،انہیں اسلام نے ایک امت قراردیا ہے” (سورة البقرہ ۔۱۴۳)
”بعدازاں انہیں آپس میں تفرقہ پیداکرنے یعنی فرقوں اورپارٹیوں میں بٹ جانے سے منع فرمادیاہے”۔(سورة آل عمران ۔۱۰۳)
نیزمغربی جمہوریت میں عوام اقتداراکثریتی پارٹی کے نمائندگان کوتفویض کرتے ہیں لیکن اسلام میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اوروہ اپنااقتدارکسی نمائندہ کوتفویض نہیں کرتا۔چنانچہ اس حقیقت کی وضاحت کیلئے خودزبان نبوی سے کہلایا گیاکہ:
”کیاتم لوگ چاہتے ہوکہ میں خداکے سواکسی اورحاکم کی طلب اورجستجوکروں حالانکہ اس نے اپنی کتاب نازل کردی ہے”(سورة انعام۱۵)۔
اس مقام پرواضح ہوجاتا ہے کہ خداکی حکومت کے معنی اس کی کتاب کی حکومت ہے توپھر خداکی حکومت کیلئے انسانی نمائندگی یاخدائی اختیارات کی تفویض کانظریہ خودبخودباطل ہوجاتا ہے۔مزیدوضاحت کیلئے ان سادہ مثالوں پر آپ ذراغورفرمائیں توبات اورکھل کرسامنے آجائے گی کہ اسلام ایک خداکی حاکمیت کاقائل ہے جب کہ جمہوریت کابنیادی فلسفہ اکثریت کی جماعت کی حکمرانی ہے۔اسلام رسالت کے ذریعے ہدائت الٰہی کاعلمبردار ہے ،جمہوریت ہدائت الٰہی کے فلسفے کوسرے سے تسلیم نہیں کرتی بلکہ ہرقسم کی قانون سازی اوراس کے نفاذکواپناحق سمجھتی ہے۔اس کے نزدیک دعویٰ ،جوابِ دعویٰ کے ٹکراؤ سے جونتیجہ درآمدہوتا ہے بس وہی نسخۂ ہدائت ہے جوزمانے کے ساتھ پیہم بدلنے والی چیزہے۔
اسلام آخرت میں خداکے سامنے دنیاواعمال کی جوابدہی پر اپنے سارے نظام فکرکی بنیادرکھتاہے’جمہوریت سرے سے آخرت’جزاوسزا،جنت ودوزخ کوتسلیم ہی نہیں کرتی۔اسلام تمام انسانوں کوبنی آدم کی اولادکی حیثیت سے مساوی اوربھائی بھائی قراردیتا ہے جبکہ جمہوریت انسانیت کوکئی طبقوں میں تقسیم کرکے ایک دوسرے کے خلاف لڑنے اورختم کرنے پرابھارتی ہے۔ انسان اخلاقی قدروں کوانسانی حسن کالازمی جزوقراردیتاہے لیکن جمہوریت اخلاق کواضافی اورقابل ترمیم واضافی چیز سمجھتی ہے۔اسلام معاشرے میں مردواورخاندان کوبنیادی اہمیت دیتاہے ،جمہوریت انہیں تحلیل کرکے ایک ریاستی معاشرے میں بالکل بکھیردیتی ہے۔ الغرض یہ دوالگ الگ طرزِ حیات ہیں اوران میں باہمی بنیادی طورپرکوئی بھی قدر مشترک نہیں کہ ان میں باہمی جوڑلگایاجا سکے۔
اس کھلی ہوئی متناقض اصطلاح کواختیارکرنے اورالحاد کے ساتھ ایمان کاجوڑلگانے کی ایک مجبوری ان حضرات کیلئے کچھ مقامی حالات بھی ہوتے ہیں ۔جن قوموں میں انہیں اقتدارپرقبضہ کرناہوتا ہے ان کے عوام اپنے دین ومذہب سے جذباتی لگاؤ اورتعلق رکھتے ہیں ۔یہ وہی مجبوری ہے جوایک مسلمان قومی لیڈر کولاحق ہوئی تھی تواس نے اپنی بے پردہ بیگم سے کہاتھا کہ ہمیں جس علاقے کادورہ کرناہے وہاں تمہیں برقعہ اوڑھناپڑے گا اور جب بیگم نے اپنی روایتی بے پردگی کے سبب یہ رجعت پسندی اختیارکرنے سے انکارکردیا تواس نے دباؤ ڈالتے ہوئے صاف کہہ دیا تھاکہ”یہ تمہیں بہرصورت کرناپڑے گاکیونکہ وہاں کے لوگ بہت متشدد مذہبی ہیں”۔گویاخدا اوررسول کاحکم یااسلامی شعاراس وقتی پردے کاباعث نہیں تھا بلکہ ایک سیاسی ضرورت تھی جوبرحال وقتی طورپرمقامی حالات کے مطابق پوری ہونی چاہئے تھی ۔
ایسے لوگ نہ تواسلام کاحقیقی علم رکھتے ہیں ،نہ اسے ایک نظامِ زندگی کی حیثیت سے دیکھتے اورتسلیم کرتے ہیں اورنہ ان کے خیال میں اسلام دنیاکے مسائل کاکوئی حل پیش کرتا ہے،اس لئے زمانے کی چلتی ہوئی کسی بولی کاپیونداسلام کے ساتھ لگاکروہ اپنی قوم کو بھی خوش رکھناچاہتے ہیںاورزمانے کی ہواکے رخ پربھی اڑناچاہتے ہیں تاکہ کوئی انہیں قدامت پسند اور”جامدملا”خیال نہ کرے۔ان کاحال یہ ہوتا ہے اگر زمانے میں آمریت کارواج ہوجائے تواسلام کے اندرسے خدااوررسول کی اطاعت کے ساتھ اولیاء الامر کی اطاعت کے وجوب کی دفعہ نکال کر سامنے رکھ دیتے ہیں اوریہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سارااسلام آمریت ہے اورخلفاء راشدین بھی تمام آمر تھے اوراگرزمانے میں اشتراکیت کاغلبہ ہوجائے تویہ بھی حضرت ابوذر غفاری کے تقویٰ وبے نفسی کی مثال سامنے لاکرمالی مساوات اور”ارض اللہ”کاٹکراپیش کرکے قومی ملکیت کاتصورسامنے رکھ دیتے ہیں کہ دیکھو اسلام توسراسراشتراکیت ہی ہے اوراگراشتراکیت میں تھوڑاساخوفِ خداشامل کردیا جائے تو بالکل خالص اسلام بن جاتا ہے۔اگر سوشلزم کی بات چل پڑے تو اسلا م کی رفاہی عوامی خدمات کی کچھ مثالیں سامنے رکھ کراسلام کوجدیدسوشلزم کاقدیم ایڈیشن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیںجس پربس ذراسی نظرثانی کی ضر ورت ہے اوراگر جمہوریت کاچرچاہوتومساوات انسانی اورخلفاء پرتنقید کی مثالیں بتاکراسے مغربی جمہوریت کامکمل چربہ ثابت کردیتے ہیں۔یہ پوزیشن بالکل ویسی ہے جوسپٹنک کے فضائی خلامیں اڑنے پرہندوستان کے برہمنوں نے کوئی وید دکھاکراختیارکی تھی کہ وید میں سپٹنک کاثبوت موجودہے جہاں جنگ مہابھارت میں بھیم کے ہاتھ سے پھینکے ہوئے ہاتھی کاذکر موجودہے جواتنی بلندی پرگیاکہ خلاء میں جا داخل ہوااوراب تک خلاء میں پروازکررہاہے۔
سب جانتے ہیں کہ اسلام خودایک مکمل نظام زندگی ہے اوربس اس کاآخری ایڈیشن لانے والے وہ آخری نبیۖ ہیں جواسے تمام انسانی ضرورتوں کیلئے آخری نسخہ کیمیااورنظامِ زندگی کے طورپرلائے ہیں۔یہ نظام تمام عصری تقاضوںکونہ صرف پوراکرنے والا بلکہ انسان کی تمام مشکلات اورالجھنوں کو رفع کرنے والا ہے۔آج انسانیت کاسب سے بڑامسئلہ قومی کشمکش اوربین الااقوامی جنگیں ہیں جواسے تباہی کے کنارے کی طرف لیجارہی ہیں ۔ چھوٹے چھوٹے ناتمام اورناقص نسخے بلکہ ٹوٹکے جومغربی تہذیب زخم خوردہ انسانوں کیلئے تجویزکررہی ہے ان میں ہر نسخہ پہلے سے بڑھ کر تباہی پھیلانے والا ثابت ہواہے۔سرمایہ داری کاعلاج بن کر اشتراکیت آئی لیکن وہ اس سے بڑھ کر انسانونں کوغارت کرکے اپنے ہی گھر کے دامن میں نیست ونابود ہوگئی۔
آج دنیابھرمیںانسان مغربی تہذیب اوراس کے عطائی نسخوں سے ہلاکت کے بسترپرپڑاہواہے اوراس انتظار میں ہے کہ کب کوئی ہائیڈروجن بم یا ایٹم بم پھٹ کرانسانیت کومکمل تباہی کے غارمیں دھکیل دے گا۔سوشلزم تودنیاکے دوعظیم فتنوںمیں سے ایک فتنہ ثابت ہوکراپنے ہی خنجرسے خود کشی کرچکا۔آج سے کچھ عرصہ قبل کوئی سوشلزم کی ایسی المناک موت کے بارے میں تصوربھی نہیں کرسکتاتھا لیکن پھر بھی اسلام کے علمبرداروں نے اس کی پیش گوئی کردی تھی کہ ”سوشلزم کوماسکومیں اورسرمایہ دار جمہوریت کولندن پیرس اورنیویارک میں پناہ نہیں ملے گی ۔”دنیانے دیکھ لیا کہ ایک فتنہ اپنے انجام کوپہنچ گیااب جلدیابدیر دوسرے فتنے کی با ری ہے اوراس وقت تمام مصائب کے مداواکیلئے اسلام ہی آخری پناہ گاہ ہوگاکیونکہ اسلام ہی اپنی ذات میں مکمل جامع خودکفیل اورساری انسانی مشکلات کاواحد حل ہے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ،آزمودہ طرزِ حیات ہے جس نے اپنے اصولوں پرخالص معیاری اندازمیں ایک طویل عرصے تک ایک خالص اسلامی ریاست
چلا کر دکھائی جودنیاکیلئے زمین پرخداکی سب سے بڑی رحمت تھی اورپھرمعمولی دستوری تغیر کے ساتھ مدت درازتک ایسی حکومتیں چلائی ہیں جن میں افلاس کی کوتاہیوں کے باوجود جرم وافلاس’ظلم وزیادتی کی کم سے کم مثالیں ملتی ہیںاوران کامقابلہ آج کامہذب اورترقی یافتہ دوربھی بالکل نہیں کرسکتا۔ان کی عدالتوں میں مقدمات کی بھرمارایسی نہ تھی ۔مجرم خوداعتراف کرتے اورحکمران تک عدالت کے کٹہرے میں طلب کر لئے جاتے تھے۔ان کے معاشرے میں بھوکے ننگے لوگوں کے لشکر چیونٹیوں کی طرح بازاروںمیں چلتے اورہرشخص سے چمٹے نظرنہ آتے تھے جیسے دورجدیدکے تقاضوں نے پیداکردیئے ہیں۔ان کے ہاں اشیاء صرف کی قیمتیں نہائت کم تھیں جب کہ اس ترقی یافتہ دورمیں بنیادی ضروریات بھی وصال صنم کادرجہ اختیارکرگئیں ہیں۔
دراصل یہی وہ نظام زندگی ہے جس کاعلمبرداربن کرمسلمان ملکوںکے سربراہوں کواٹھناچاہئے تھا۔جس چیزکی دنیاکوتلاش اورطلب ہے وہ اسلام کے اندرمکمل طورپرموجودہے اور شائد ہی کسی دورمیں انسانیت اسلام کے اصولوں کیلئے اتنی پیاسی اورحاجت مندتھی جتنی آج ہے۔ہماراکام تویہ ہونا چاہئے تھاکہ مشرق ومغرب کی ساری مرعوبتیں چھوڑ کراسلام کوایک نظامِ حیات اورنظریہ زندگی لیکر اٹھتے ،پہلے خوداس پرعمل کرتے اورپھرساری دنیاکواس کی دعوت دیتے کہ ہمارے سارے دکھوں کاعلاج صرف اسلام میں ہے۔ہمیں بین الاقوامی برادری کی اگرضرورت ہے تویہ بھی صرف اسلام عطاکرسکتا ہے اوراپنے دورعروج میں جب اس پرعمل کیاگیاتومراکش سے لیکر چین تک اس کی عملاًتصویردیکھنے کوملی۔
ان جدیدنظریات اورمغربی جمہوریت نے ہمیں رنگ وبو’نسل وقبیلہ کے چھوٹے چھوٹے متحارب گروہوں میں بانٹ دیا ہے ۔ہمیں اس وقت محبت واخوت کی ضرورت ہے اوریہ صرف اسلام ہی ہے جورنگ ونسل وقبیلہ کے امتیازکومٹاکر ہم کوبنی آدم کی حیثیت سے بھائی بھائی اورخداکے مساوی بندے قراردیتا ہے اورتمام علاقائی عصبیتوںسے نجات دلاتاہے۔آج ساری دنیابداخلاقی کے ریلے’فحاشی کے چکر’نئی نسلوں کی تباہی اورنئی نئی جنگوں کی یورش سے پریشان ہے۔اسلام ہمیں اخلاق فاضلہ سکھاتاہے’انساف وعد ل کی تعلیم دیتا ہے ‘بین الاقوامی نظریاتی بیداری پیداکرکے جنگوں کاسلسلہ ختم کردیتا ہے۔
اب افسوس اس بات کا ہے کہ جاں بلب دنیاکاتریاق”اسلامی نظام”کی صورت میں ہمارے پاس ہے اورہم اسے پسِ پشت ڈال کر دنیاسے زہریلے ٹوٹکے لیکر انہیں ان کے تریاق”مغربی جمہوریت ”کے ساتھ ملاکربڑے فخرکیساتھ سراونچاکرکے کہتے ہیں کہ ہم بھی اسلامی جمہوریت کے قائل، ترقی پسند’جدید اورعصری تقاضوں کوسمجھنے والے لوگ ہیں۔اس سے زیادہ کوربصری اورنظریاتی تہی دامنی اورکیاہوسکتی ہے ؟

اللہ سے دعاہے کہ ہمیں ایسے عطائی طبیبوں سے جلدنجات عطافرمائے ۔آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں