عیدالفطر اورعیدکارڈ

:Share

عیدالفطرکے موقع پریقینامختلف احباب ایک دوسرے کوتہنیتی پیغامات بذریعہ عیدکارڈ ارسال کررہے ہیں اوربعض حضرات جدیددورکی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے موبائل فونز سے ایس ایم ایس کی سہولت سے بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف اندازمیں پیغامات وصول کررہے ہونگے۔ یقینا قارئین کی بڑی تعدادان مغربی ممالک میںعیدکارڈکوبھی کرسمس کارڈ کے مقابلے میں اپنے گھروں میں نمایاں جگہ دیکربچوں کواپنے اس اسلامی تہوار سے متعارف کروانے کی کوشش ناتمام کرتی ہے حالانکہ مسلمان ان رسوم وقیودسے بالکل بے نیازہے۔وہ توبہت بے تکلف اورسادہ زندگی گزارنے کاعادی ہے۔ہرتہوارکے پس منظرمیں جوپیغام ہوتاہے اس کونظراندازکرکے ہم نے جس طرح مغربی ماحول کی نسبت سے اپنے ہر تہوارکوڈھال لیاہے،چندمغربی رسوم کوکلمہ پڑھاکرتیزی سے ہم اپنے آپ کودھوکہ دے رہے ہیںاوراپنے آپ کواجتماعی ذمہ داریوں سے دورکر رہے ہیں،یقینا مستقبل کامؤ رخ ہمیں اس سلسلے میں معاف نہیں کرے گا۔
آجکل عیدالفطرکے موقع پرجس تیزی کے ساتھ عیدکارڈکااپنے احباب کے ساتھ تبادلہ کررہے ہیںان پراٹھنے والی بھاری رقم کئی مفلس گھروں میں یقیناعیدکی خوشیاںلاسکتی ہے جو اپنے عزیزوں کوکاغذو گلدستے پیش کرنے پراٹھ رہی ہے حالانکہ خطوط میں لکھے ہوئے الفاظ میں بھی خلوص ومحبت کی خوشبومحسوس کی جاسکتی ہے اورپھران کانٹوں بھری زندگی کوجو ایک غلط نظامِ حکومت کے تحت گزارنی پڑرہی ہے ۔اس میں خلوص و محبت اوروفا کے پھول یقینابڑی چیزہیں اوراس زندگی کی مسافت آدمی بتدریج طے کرکے جب کچھ شعورحاصل کرتاہے تواس کوآگہی ہوتی ہے کہ اس دنیامیں سکون دینے والی چیزوں میں مقیدزندگی کاشعوراوربے غرض مہرومحبت بڑی چیزہے ۔مقیدزندگی کاشعورانسان کوغم وآلام سے نجات دلاکراطمینان سے بھردیتاہے ۔
آدمی خالی ڈھول کی مانندنہیں رہ جاتاکہ معمولی ٹھوکرسے واویلا کرنے لگے بلکہ ایک ٹھوس وجودبن جاتاہے جسے حوادث کی آندھیاں بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں اورمہرومحبت وہ قوت ہوتی ہے کہ جوصرف اپنے ہم مقصدساتھیوںکی رفاقت سے حاصل ہوتی ہے ۔ساتھیوں کی باتیں،ان کے مصافحے،ان کے معانقے ،ان کی محبت بھری گفتگوئیں،ان کی بے غرض دوستیاںاوربے لوث ملاقاتیں ان سب چیزوں کے درمیان آدمی اپنے آپ کوایک لشکرکے درمیان سمجھتاہے۔پرامن اورپرسکون عزیزدوست اس مختصر سی زندگی میں متاع بے بہاہے جب کہ اس ملک میں مشینی انداز میں کام کرتے کرتے اعضاء اس قدربے جان ہوگئے ہیں کہ ہمیں صرف ایک کارڈمیں اس قدرجان معلوم ہوتی ہے کہ اس کوخود سے توانا سمجھ کر اس کاسہارالینے پرمجبورہوگئے ہیں۔
ویسے عیدکارڈماہِ رمضان کی جدائی کاپیغام لیکرآتاہے،اس جملے میں کسی تقویٰ کااظہارکرنامقصودہرگزنہیں،اس ماحول میں تواب ایسے ایسے اصحاب دیکھنے کومل رہے ہیں جن کے تقدس کی خودصاحب تقویٰ قسمیں کھاتے ہیںلیکن جب ان کوغورسے دیکھیں توان کی حیثیت کسی میلے میں بکنے والے رنگین غباروں سے زیادہ نہیں ہوتی جواوپرسے بڑے رنگیں اور خیروخوبی کے مدعی ہوتے ہیںلیکن اندر سے حرص وہوس کی متعفن ہوا نکل رہی ہوتی ہے اورجب زندگی میں تندہواکاجھونکاان کی قلعی کھول کررکھ دیتاہے توپھٹ کر ایک چھیچھڑے کی طرح ایک کونے میں جاگرتاہے اوربالآخر پاؤں میں مسل کرباہرکسی کوڑے کرکٹ یاگندگی کے ڈبے میں اس کو جگہ ملتی ہے۔اللہ ہرمسلمان کواس تقویٰ سے محفوظ رکھے آمین!اورایسے تقوے کی توفیق عطافرمائے جوہوائے نفس سے خالی ہو،جومظاہرنمودونمائش اورادعاسے پاک ہو،جس میں اتنی ہمت ہوکہ حق کی راستے میں مشکیں کسی جائیں اورالٹااونٹ سے باندھ کرمدینے کی گلیوں میں گھسیٹاجائے توبھی اٹھ کرصاف صاف یہی کہے کہ”لوگو!سن لومیں مالک بن انس ہوں ،میں کہتاہوں کہ جبریہ طلاق شریعت میں وارد نہیں ہوتی ، جس میں اتنی ہمت ہوکہ جب اس پرکوڑوں کی بارش ہوتب بھی یہ بات کہے کہ اپنی بات منوانے کیلئے قرآن وحدیث سے کوئی دلیل لاؤ،جس میں اتناحوصلہ ہوکہ جیل میں موت قبول کرلے اورزنداں سے اس کاجنازہ نکلے (امام ابوحنیفہ) جس میں اتنی جرأت ہوکہ پھانسی کے تختہ پربھی مسکراتے ہوئے یہ کہہ کرچڑھ جائے کہ الہٰی تیرااحسان ہے کہ تونے مجھے شہادت کی موت نصیب فرمائی ،نہ کہ چندمظاہرلباس و تراش کانام تقویٰ رکھ کراس کااعلان کرکے تقویٰ وپرہیزگاری کااشتہارپیش کیاجائے ۔یہ طریقہ اب تک توچلا ہے انشاء اللہ کل نہ چلے گا۔
ایک صاحبِ نظرنے سچ کہاتھاکہ پہلے ایمان کواپنے اندرمستحکم کروپھراس پرعمل کرکے اورساری زندگی اطاعتِ رب میں دیکراپنے اسلام کاثبوت پیش کرو،ساری زندگی کالمحہ بہ لمحہ محاسبہ کرتے ہوئے چلو،کسی موڑ پر ٹھوکرنہ کھاتے اورہمہ تن اپنے فرائض ِ بندگی کوٹھیک ٹھیک اداکرتے ہوئے تقویٰ پیداکرواورپھراپناسب کچھ اپنے مالک کی راہ میں لگاؤ اوراس راہِ حق کے غباربن کراحسان کامقام حاصل کرو لیکن یہاں تو ثابت ذرا بھی اسلام نہیں لیکن لباس تقویٰ کازیبِ تن کیاہواہے۔منبررسول پرکھڑے ہوکرلوگوں کوسود(مارگیج) سے منع کیاجارہاہے لیکن خودبینک میں سودی اکاؤنٹ رکھ کربینک سے صدفیصد قرض لیکرمکان خریدا جا رہا ہے ،کاروبارمیں وسعت کی جارہی ہے اورپوچھنے پرمحاسبہ سے بچنے کیلئے مغرب یا امریکا کو”دارلحرب” کانام دیکرجان بخشی کابہانہ ڈھونڈاجارہاہے ۔سودجسے قرآن میں بڑی صراحت کے ساتھ اللہ اور رسول کے خلاف کھلی جنگ قراردیا گیاہے اسی کے سہارے اسلامی شعائرکامذاق اڑاکرداعی حق کاگراں بارفریضہ بھی سرانجام اداکیاجارہاہے۔
جس کارڈ سے عیدکی خوشی کاپیغام دینامقصودہوتاہے اسی کارڈکودیکھ کربچے حیراںوپریشاں ہیں کہ آخرہم مسلمانوں کی عیدایک دن کیوں نہیںمنائی جاتی ؟کیاوجہ ہے کہ چاندکچھ مسلمانوں کوسعودی عرب میں نظر آتا ہے توکچھ مراکش کے بادلوں میں اس کوڈھونڈرہے ہوتے ہیں؟ہم ساراسال اپنی نمازوں کاتعین یہاں برطانوی محکمہ موسمیات کے بتائے ہوئے اوقات سے ترتیب دیتے ہیں لیکن چاندکے بارے میں ان کی سائنسی گواہی ماننے کوتیارنہیں؟عیدجواتفاق ومحبت کاپیغام لیکرآتی ہے آخراس کے نام پرکیوں دنگا فساد کیا جاتا ہے حالانکہ رمضان کاچاندطلوع ہوتے ہی اس گئی گزری مسلمان قوم کے اندربھی زندگی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے ۔ایک اضطراب، ایک احتیاط، ایک خداخوفی ،ایک ذوقِ عبادت ابھرکرسامنے اس طرح آجاتاہے جس طرح صبح کی شمع سنبھالا دیتی ہے اورمحسوس ہونے لگتاہے کہ یہ قوم واقعی دوسری اقوام سے مختلف ہے ۔
بس یہی ایک مہینہ ہے جب اس قوم کے اندرایک امتیازی نشان ابھرتا ہے ،ان کے دل خوف خداسے لبریزصدقہ و خیرات ،غم گساری اوربھائی چارے کے علاوہ شب بیداری وعبادات میں مصروف نظرآتے ہیں لیکن اس مہینے کے آخری دن اورپھرساراسال یہ شناخت کرنامشکل ہے کہ یہ لوگ کس ملت سے تعلق رکھتے ہیں ۔روزوں کی احتیاط میں نماز تراویح کیلئے مساجدمیں تل دھرنے کوجگہ نہیں ہوتی،سحری کی رونق،افطاری کی چہل پہل ،یہ امتیازات اس قوم کودوسروں سے ممتازکردیتے ہیں،یہی وہ برکات ہیں جواس مہنہ کو سال بھرمیں عزیزترمہینہ بنادیتی ہیں،اب توانہی کے دم قدم سے کچھ نشان، امتیازقائم ہے لیکن جونہی مغرب اورغیرمسلموں کی نقالی کرکے عیدکارڈارسال کرتے ہیں تو گویا خود فراموشی کے بقیہ گیارہ مہینوں کاپیغام دیتے ہیں جواس متنازعہ دن کے بعدشروع ہونے والے ہیں۔اس لئے رمضان المبارک کی مفارقت اورآئندہ گیارہ مہینوں کی منافقت آنکھوں میں نم آلودغبارپیداکردیتی ہے۔اگرسچ پوچھیںتوعیدکیاہے جسکے ہم مسلمان منتظرہیں؛
!!!”عیدآزاداں شکوہ ملک ودیں عیدمحکوماںہجومِ مومنین”
شکوہ مومنین توبڑی چیزہے ،شکوہ ملک ہی سے محروم ہیں۔شکوہ ملک جس چیزکانام ہے وہ ہرقسم کے خارجی وداخلی اثرات سے آزاد اورپاک ملکی پالیسی ہے ۔داخلی اطمینان اور سرحدوں کی قوت وشوکت ہے ، دوسرے ممالک میں عزت ومنزلت کامقام ہے ،قوموں کی برادری میں سربلندی ہے، افرادِ قوم کااطمینان معاشی ومعاشرتی خوشحالی ہے لیکن خوردبین لگا کربھی آپ کویہ اوصاف کسی مسلمان ممالک میں نہیں ملتے بلکہ مسلمان مملکتیں اپنے اندرکئی گروہوں میں بٹ کرایک دوسرے کے گلے کاٹنے میں مصروف ہیںاوراغیاراس بات پرخوش ہیں کہ ہزاروں میل دوربیٹھ کروہ ان پر حکومت کررہے ہیں۔اگردنیاوی دولت سے اللہ نے کچھ اسلامی ممالک کومالامال فرمایاہے توان کی دولت سے فائدہ بھی اغیار اٹھا رہے ہیں، ان مسلمانوں کے خزائن اغیارکے تصرف میں ہیں اوراسی سرمائے سے مسلمان ممالک کواسلحہ تیارکرکے فروخت محض اس لئے کیاجاتاہے کہ اس کا تجربہ بھی تم دوسرے مسلمان ممالک کی آبادی پرکرو۔
پھرشکوۂ دیں یہ ہے کہ اللہ جس کے حاکم ہونے کااقرارہمارے ہاں کلمہ پڑھ کرایک جاگیرداروسرمایہ دارسے ہاری ومزدورتک کرتاہے تاکہ اسی کاحکم اورقانون چلے اورجس کوآقامانا ہے اس سے انحراف نہ ہو۔یہ عجیب مذاق ہے کہ ایک نمبردارہے توگاؤں کاہرفرداسے تسلیم بھی کرے اوراس کے حقوق ِنمبرداری ادابھی کرے ،ایک شخص ضلع افسر ہے توضلع بھرمیں اس کی افسری کاڈنکابھی بجے اورکوئی شخص ملک کاسربراہ ہوتواس کاہرلفظ سر آنکھوں پرہواورجوخودکہتاہے کہ (اناالحکم اللہ)اسی کے حکم کی ذرہ بھرپرواہ نہ ہو۔ادھرہرطرف دین کے نشاناے مٹ رہے ہوں ادھررقص و سرورکی مجالس سج رہی ہوں،گانابجاناکلچرکے نام پررواہو،پینے پلانے کی کھلی اجازت ہو،چوری چکاری ،بدعنوانی،رشوت خوری موجود ہو ، رزقِ حلال کاحصول ناممکن کردیاہو،جوبچاکھچادین قوم میں صدیوں کے انحطاط کے باوجودباقی چلاآرہاہواس کابھی صفایاکیاجارہاہو،قوم باربارپکارے کہ ہمیں دین کی حکمرانی اوراسلام کاقانون چاہئے ،اسی کے خلاف ساری قوت اورطاقت استعمال ہورہی ہواوردین سے ہرقدم دورجارہاہو،برسوں کا سفرزندگی مکہ مدینہ کی سمت چھوڑکرکسی اورہی سمت کیاگیاہوتووہاں شکوۂ دین کہاں سے آئے گا،پھر جب نہ شکوہ ملک ہونہ شکوۂ دین توپھرآزادبندۂ مومن کہاں ملے گا اوریہی وجہ ہے کہ عیدکادن ہجوم ِ مومنین کے سواکچھ نہیں،اس لئے عیدکی خوشی کااظہارایک کارڈکی ترسیل میں وقت ضائع کرنے کو سواکچھ نہیں۔
ہاں البتہ اگرعید کی حقیقی خوشیوں کاحصول چاہتے ہیں تویہ بہترین موقع ہے کہ وہ ہزاروں سفیدپوش خاندان جواس وقت غربت اورفاقہ کشی کی حالت میں کسی سے بھی اپنایہ دکھ بیان نہیں کرسکتے اورغیرانسانی حقوق کی پابندیوں کے وجہ سے دوسرے ملک کے افرادبھی ان تک امدادپہنچانے سے قاصرہیں،آپ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔جلدی کیجئے کہیں دیرنہ ہوجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں