Sample Sharam

اجل کافرشتہ

:Share

جب آدمی کی مت ماری جاتی ہے تووہ عجیب سے فریب میں مبتلاہوجاتاہے،اونگیاں بونگیاں مارنے لگتاہے،عجیب سے خبط میں پڑجاتاہے۔وہ منظرکے قریب نہیں جاتا،اسے تخیل کے کیمرے سے زوم لگاکرقریب لاتاہے اورپھرپندونصائح شروع کردیتا ہے۔اس کے بالکل سامنے جوکچھ ہورہاہواسے نہیں دیکھتااورجودورکہیں ہو رہاہواس سے پنجہ آزمائی شروع کردیتاہے۔اپنے اندرکی دھڑکتی کوٹھی کونہیں ٹٹولتا،دوسروں کے عیب گنوانے لگتا ہے۔ پتا ہو نہ ہو، معلوم ہو نہ ہو………..بس ہر جگہ،ہر مجلس میں اپنی پٹاری کھول کرنیا سنپولیا نچانے لگتاہے اوراسے کہتاہے تبلیغ………..اورپھراس سے آگے بڑھ کرخدمت ِانسانیت۔بھائی نے ایک دن یہ کہہ دیا کہ باتیں اتنی کرتاہے لیکن وہ نمازکیوں نہیں پڑھتا ؟ توباباجی نے بہت غصے میں اس کابازوتھام کرکہا:تجھے کب سے اورکیوں اس کی نمازکی فکرہوگئی؟کیا تیری نمازٹھیک ہوگئی ہے تیری عاقبت سنورگئی ہے جودوسروں کی سوچنے لگاہے، دوسرے کاتوشایدتجھ سے پوچھاجائے نہ پوچھاجائے،تجھ سے تیراتوپوچھا جائے گا ،توکیا تواپنا بیڑاپارلگاچکا؟تیری نیاکنارے لگ گئی؟محبت کادریارواں تھاان میں۔
ایک جیدعالم دین………..صرف عالمِ دین ربانی ہی نہیں،باعمل پابند ِشریعت،ہنس مکھ………..االلہ جی نے مال ودولت سے بھی نوازاتھا۔خودمسجد بنائی اورجمعہ کا خطبہ دینے بڑی سی لشکارے مارتی گاڑی میں آتے اورہماری چوکڑی کومنتظرپاتے۔ کبھی خالی ہاتھ نہیں آئے۔ایک تھیلے میں کھانے پینے کانجانے کیاکچھ سامان لے کرآتے،السلام علیکم ! کیسے ہوتم لوگ واہ واہ آج توسب چمک رہے ہوکہتے ہوئے تھیلامیرے ہاتھ میں تھماتے اورخودمنبرِرسول ۖ پررونق افروزہوجاتے۔ بوڑھے تھے لیکن عجیب طاقت تھی ان میں ۔ کچھ دیرمنبرِرسول پربیٹھ کرآنکھیں بند کرلیتے اورپھراپناعصالے کرکھڑے ہوجاتے اورپھر تو ایسی قرآت کہ اللہ ہی اللہ ،آنکھوں کاغسل شروع ہوتااورپھرآوازآتی!برادرانِ اسلام میری ماں بہنوں اوربیٹیوں۔اور پھرچل میرے خامے بسم اللہ،سبحان اللہ،الحمدللہ۔ کیسے کیسے نادرونایاب ہیرے تقسیم کرتے تھے۔
بہت طویل عرصے تک ہمیں دیالوبابادیتے رہے اورہم اپنی جھولی بھرتے رہے،ظرف کب بھرے گا،نہ جانے کب؟جب دیکھو ایک ہی بات پرزور،اپنی فکرکرنادان ،اپنی فکر کر ۔ اسلام خودکوبدلنے کانام ہے۔خودکوتبلیغ کر،خودکوسنو،اپنے قول کودیکھ ،اپنے فعل وعمل پرنگاہ رکھ،یہ جواندربیٹھاہوااژدھاہے،نفس نام کا،اسے کچل نہیں سکتاتویہ توکرلے کہ اس کے جبڑے پرپائوں رکھ کرکھڑارہ،کبھی مت چوکنا،بربادہوجائے گا،تباہ ہوجائے گا،کچھ نہیں بچے گاتیرا۔اپنی فکرکرے گاتوسنورے گا۔لوگوں کو کہنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔ تیری روشنی اورخوشبوخودبخود پھیلے گی………..اورایسی پھیلے گی کہ تودنگ رہ جائے گا۔کاٹنانہیں جوڑنا سیکھ،دوسروں کے عمل پرنہیں اپنی بے عملی پر آنسو بہا،دوسرے کی چنتاچھوڑ خود پردھیان رکھ، بس خودکوبدل،دوسرے تجھے دیکھ کربدل جائیں گے۔بہت یادآتی ہیں ان کی باتیں۔وہ توچلے گئے لیکن خوشبوبسی ہوئی ہے میرے چاروں طرف ان کی۔
آج بابافریدجی بھی یاد آگئے۔ایک مرید قینچی لے کرحاضرِ خدمت ہوااورکہنے لگاسرکارتحفہ لایاہوں قبول کیجیے اورنہال کیجیے۔دیکھ کررنجیدہ ہوئے اورکہا اتنی وزنی قینچی اٹھالایا، کیامیں تجھے کاٹنے والالگتاہوں………..مجھے سوئی دھاگہ لاکر دیتاکہ میں جوڑنے کاکام کرتاہوں۔ہمارے سارے بابوں نے ایک ہی بات کرکے دکھائی،کبھی کسی کی توہین نہیں کی۔ سدا مسکراتے رہے۔کاٹنے سے منع کیا،جوڑناسکھایا۔اپنی کٹیامیں درہی نہیں بنایا کہ کبھی بندملے۔سب کیلئیکشادہ دل رہے، تنگ دلی سے منع فرمایا۔سب کے ساتھ کھایا، گایااور ناچے۔محبت تھے،محبت دی،نفرت کوبھی محبت کاچولاپہنایااورمحبت بنا دیا۔یارِجانی کہتے تھے،یارِجانی سمجھا بھی۔ جوکہہ دیانبھاکردکھایا،کرکے بتایا۔
کس منہ سے نام لوں،میرے آقاومولا،روشن جبیں ۖ نے اس بچے کوپیارسے فرمایاگڑمت کھایاکرو۔توبچے کی ماں کہنے لگیں:یہ بات توآپ ۖکل بھی فرماسکتے تھے ؟تب سرکارِدوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایااورپھرموتی بکھیرے کل توخود کھایا ہواتھا،کیسے منع کرتا۔سرکارۖکے بعد کس کی بات کروں۔چاروں طرف ہم سب کاٹنے میں لگے ہوئے ہیں توڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔وہ ایساہے فلاں ویساہے۔میں خودکودیکھ ہی نہیں رہاکہ میں کیساہوں………..میراکیابنے گا!میں کس دھوکے میں پھنس گیاہوں مجھے اپنادھیان ہی نہیں،بس دوسروں کی عیب جوئی کرتارہتاہوں اورپھراسے تبلیغ بھی کہتاہوں۔بندہ مکروفریب، اپنے اندرکی دھڑکتی کوٹھی کوکب دیکھوں گامیں……….! وقت توکسی کالحاظ نہیں رکھتا،وہ توکبھی نہ کبھی اپنی آنکھوں کے سامنے ہونے والے تمام واقعات کی ایسی شہادت فراہم کر دیتاہے جس سے فرارممکن نہیں!
مجھے نجانے آج کیوں امریکی صدرکلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران چھتی سنگھ پورہ مقبوضہ کشمیر کے وہ بے گناہ34سکھ یاد آرہے ہیں جنہیں 20 مارچ2000 کونامعلوم 15 سے 17دہشت گردوں نے رات کے اندھیرے میں بے رحمی کے ساتھ قتل کر دیاتھااور25مارچ 2000 کو پانچ بے گناہ کشمیریوں کودہشتگرداور اس واقعے کاذمہ دارقراردیتے ہوئے پتھری بل میں سیکورٹی فورسز مقابلے میں ماردیا گیا۔بعدازاں جولائی 2000 کوان مقتولین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونے حیدر آباداور مرکزی فرانزک لیبارٹری کولکتہ روانہ کئے گئے جہاں نہ صرف ان کی بے گناہی ثابت ہوگئی بلکہ یہ بھی پتہ چل گیاکہ یہ سب مقامی باشندے تھے جن کو سرحدپارغیرملکی دہشتگردقراردیکرعالمی میڈیاکی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی تھی۔بعدازاں ایک بہت ہی قابل اعتباراین جی او”موومنٹ اگینسٹ سٹیٹ ریپریشن” کے تین رکنی کمیٹی جس کی سربراہی بھارت کے ایک سابق ایم ایل اے اندرجیت سنگھ جیجی اوران کے دومعاونین ریٹائرڈجسٹس اندرجیت بھینس اور جنرل کرتارسنگھ نے اس واقعے کی تفتیش کی،انہوں نے بھی اپنی رپورٹ میں ان پانچ بے گناہ کشمیریوں کوبری الذمہ قراردیتے ہوئے اس بہیمانہ خونی واقعے کاذمہ دارسیکورٹی فورسزکوٹھہرایااوربعدازاں بھارت کی سب سے بڑی عدالت نے ان پانچ معصوم کشمیریوں کوتوبے گناہ قراردے دیالیکن ان کوقتل کرنے والوں کیلئے کوئی سزاتجویزنہیں کی کہ” افسپا”جیسے غیرانسانی اورجابرقانون نے ان کے ہاتھ پائوں اسی طرح باندھ دیئے ہیں جیسے سیکورٹی فورسز والے قتل کرنے سے پہلے بے گناہ کشمیریوں کی مشکیں کس دیتے ہیں۔
42سالہ قانون دان جلیل اندرابی کے بہیمانہ قتل کی طرف نگاہ جاتی ہے کہ جن کی آنکھیں تک نوچ لی گئیں لیکن قاتل یہ بھول گئے کہ جلیل اندرابی توامرہوگئے لیکن ان کی آنکھیں تا قیامت اپنے قاتلوں کوچین سے بیٹھنے نہ دیں گی۔ کیاہوا اگر مرکزی تفتیشی بیوریونے میجراوتارکانام مطلوب ترین افرادکی فہرست سے خارج کردیا لیکن اجل کے فرشتے کویقیناامریکا کے شہرکیلی فورنیامیں میجراوتارکے گھرکاراستہ ڈھونڈ نے میں ذرہ بھرمشکل پیش نہیں آئے گی۔
تجوریاں بھرتے رہے لوگ عمر بھر
موت کافرشتہ رشوت نہیں لیتا !

اپنا تبصرہ بھیجیں