قابلِ رشک کامیابی

:Share

لفظ بھی بچوں کی طرح ہوتے ہیں،معصوم اوربھولے بھالے بچوں کی طرح،بہت محبت کرنے والے،لاڈوپیارکرنے والے،نازو اداوالے،تنگ کرنے والے،روٹھ جانے والے اورپھربہت مشکل سے ماننےوالےیاہمیشہ کیلئےمنہ موڑلینے والے۔کبھی تو معصوم بچوں کی طرح آپ کی گودمیں بیٹھ جائیں گےپھرآپ ان کے بالوں سے کھیلیں،ان کےگال تھپتھپائیں تووہ کلکاریاں مارتےہیں، انہیں چومیں چاٹیں بہت خوش ہوتے ہیں وہ۔آپ ان سے کسی کام کاکہیں تووہ آمادہ ہوجاتے ہیں۔محبت فاتح عالم جوہے۔کبھی تنگ کرنے پرآجائیں توان کارنگ انوکھاہوجاتا ہے۔آپ ان کے پیچھے دوڑدوڑکر تھک جاتے ہیں لیکن وہ ہاتھ نہیں آتے کہیں دم سادھے چھپ کربیٹھ جاتے ہیں اورآپ انہیں تلاش کرتےرہتے ہیں۔آپ ہلکان ہوں توہوجائیں وہ آپ کو تنگ کرنےپراترےہوتےہیں اورجب آپ کی ہمت جواب دےجاتی ہےتووہ”دیکھومیں آگیا”کہہ کرآپ کے سامنے کھڑے مسکرانے لگتےہیں۔

بچوں کی طرح لفظوں کے بھی بہت نازنخرے اٹھانے پڑتےہیں اوراگراللہ نہ کرےوہ روٹھ جائیں اورآپ انہیں منانے کی کوشش بھی نہ کریں تب توقیامت آجاتی ہے۔ایک دم سناٹا، تنہائی اداسی،بے کلی آپ میں رچ بس جاتی ہے،آپ خودسے بھی روٹھ جاتے ہیں۔ہاں ایساہی ہوتاہے۔آپ کاتو میں نہیں جانتا،میرے ساتھ توایساہی ہے۔میں گزشتہ ایک ہفتےسے اسی حالت میں ہوں۔کچھ سجھائی نہیں دیتا،بے معنی لگتی ہےزندگی،دوبھرہو گیا ہے جینا …. …..لیکن پھروہی جبرکہ بڑامشکل ہےجینا،جئےجاتےہیں پھربھی۔

وطنِ عزیزکی طرف نگاہ اٹھتی ہے تودل میں ایک کسک سی پیداہوجاتی ہے کہ آخرہم کہاں جارہے ہیں؟پھرسوچتاہوں کوئی بھی ہو…….جب طاقت ہواس کے پاس ہتھیاربندجتھہ ہو، حکم بجالانے والے خدام ہوں،راگ رنگ کی محفلیں ہوں،جام ہوں،عشوہ طرازی ہو،دل لبھانے کاسامان ہو،واہ جی واہ جی کرنے والےخوشامدی اوربغل بچےہوں….تواس کےدیدے شرم وحیا سے عاری ہوجاتے ہیں۔شرم وحیاکااس سےکیالینادینا! چڑھتا سورج اوراس کے پوجنےوالےبے شرم پجاری جن میں عزت ِنفس نام کوبھی نہیں ہوتی چلتےپھرتے روبوٹ .. . …. تب طاقت کانشہ سر چڑھ کربولتاہے۔عدلیہ جن افرادکوملکی دولت لوٹنے کا مجرم ٹھہراتی ہے،انہی کوبلاکروزارت عطاکردی جاتی ہے کہ کرلوجوکچھ کرناہے ہم تودھڑلے سے ایسے ہی بےشرمی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔

6ستمبر65کی رات بھی عجیب سی تھی۔بے کلی کم ہونے کانام نہیں لیتی تھی اوربالآخرصبح ہوئی توپتہ چلاکہ مکارہندوبنئے نے پاکستان پرحملہ کردیاہے اور پہلی مرتبہ ساری قوم کوایسایکجا،مضبوط اورمتحددیکھاکہ پہاڑوں سے ٹکراجانے کاحوصلہ پیداہو گیااورہرشہری محاذپرجانے کیلئے بے چین نظرآرہاتھا لیکن مجھے آج کے حالات کے برعکس ان کرداروں کاذکرکرناہے کہ جن کاذکرآنکھوں کی ٹھنڈک،دلوں کاسکون اوراطمینان وفرحت بخش ہے۔ہاں کوئی بھی ہو،کہیں بھی ہو،انکارسنناتواس کی لغت میں ہی نہیں ہوتا۔انکارکیاہوتاہے وہ جانتاہی نہیں ہے لیکن ہوتایہی آیا ہے، ہوتایہی رہے گا۔ منکر پیداہوتے رہتے ہیں۔نہیں مانتے کا نعرہ ٔمستانہ گونجتارہتاہے،تازیانے برستے رہتے ہیں،کھال کھنچتی رہتی ہے،خون بہتارہتاہےلیکن عجیب سی بات ہے،جتنی زیادہ شدت سے نہیں مانتےکی آوازکودبانے کی کوشش کی جاتی ہے،ہرجتن ہرحربہ اپنایاجاتاہے،وہ آوازاسی شدت سے گونجنے لگتی ہے چاروں طرف۔نہیں مانتے کارقص …….رقص ہی نہیں رقصِ بسمل،نہیں مانتےنہیں مانتےکانغمہ اورگھومتاہوارقّاص۔

کیابات ہےجی،کھولتےہوئے تیل کےاندرڈالاجاتاہے،تپتےصحرامیں لٹاکر،سینےپرپہاڑجیسی سلیں رکھی جاتی ہیں،برفانی تودوں میں کودجاتے ہیں لیکن نعرۂ مستانہ بلندہوتارہتاہے۔رقص تھمتاہی نہیں اوریہ توحیدکارقص،جنوں تھمےگابھی نہیں۔زمین کی گردش کوکون روک سکاہے!بجافرمایاآپ نے،بندوں کوتوغلام بنایاجاسکتاہے،ان پررزق روزی کے دروازے بندکیے جاسکتے ہیں،یہ دوسری بات ہے کہ ہم نادان صرف روپے پیسے کوہی رزق سمجھ بیٹھے ہیں۔بندوں کوپابہ زنجیرکیاجاسکتاہے،قیدخانوں میں ٹھونس سکتے ہیں آپ، عقوبت خانوں میں اذیت کاپہاڑان پرتوڑسکتے ہیں۔پنجروں میں بندکر سکتے ہیں، معذور کرسکتے ہیں ، بے دست وپاکرسکتے ہیں،ان کے سامنے ان کے پیاروں راج دلاروں کی توہین کرسکتے ہیں، انہیں گالیاں دے سکتے ہیں، جی جی سب کچھ کرسکتےہیں۔

صدیوں سے انسان یہ دیکھتاآیاہے،انکارکرنے والوں کوبھوکےکتوں اورشیروں کے آگےڈال دیاجاتاتھا،اس جگہ جہاں چاروں طرف خلق خداکا ہجوم ہوتااورایک جابرتخت پربراجمان ہوکریہ سب کچھ دیکھتااورقہقہےلگاتااورخلق خداکویہ پیغام دیتاکہ انکار مت کرنا،کیاتوپھریہ دیکھویہ ہوگا تمہارے ساتھ بھی۔ہرفرعونِ وقت اپنی تفریح طبع کیلئےیہ اسٹیج سجاتاہے،سجاتارہےگا۔ایسا اسٹیج جہاں سب کرداراصل ہوتے ہیں،فلم کی طرح اداکارنہیں،لال رنگ نہیں،اصل بہتاہواتازہ خون،زندہ سلامت انسان کا،رونا چیخنابھنبھوڑناکاٹناسب کچھ اصل…….بالکل اصل۔ہوتارہاہے اورہوتا رہےگا، فرعونیت تو ایک روّیے کانام ہے،ایک بیماری کانام ہے۔ایک برادری ہےفرعونوں کی،فرعونوں کی ہی کیا…….ہامان کی،شدادکی، قارون کی،ابولہب کی،ابوجہل کی۔یہ برادری کانام ہےجس میں کسی بھی وقت کسی بھی مذہب وملت کےلوگ ہوسکتےہیں۔بس بچتاوہ ہےجس پررب کی نظرِکرم ہو۔

سب کچھ قیدکیاجاسکتاہے،سب کچھ لیکن ایک عجیب سی بات ہے،اسےقیدنہیں کیاجاسکتا،بالکل بھی نہیں،مشکل کیاممکن ہی نہیں ہے۔عجلت نہ دکھائیں ،خوشبوکوقیدنہیں کرسکتےآپ!اورپھرخوشبوبھی توکوئی ایک رنگ ایک مقام نہیں رکھتی ناں،بدلتے رہتے ہیں اس کے رنگ،خوشبوکے رنگ ہزار…….بات کی خوشبو،جذبات کی خوشبو،ایثارووفاکی خوشبو….. . .بس اب آپ چلتے رہئے اوران تمام خوشبوؤں کی رانی ہےعقائدکی خوشبو،دین کی خوشبو،نظریات کی خوشبو۔یہ خوشبوقیدنہیں کی جاسکتی ۔جب بھی دبائیں ابھرتی ہے۔وہ کیایادآگیا:”جتنے بھی توکرلے ستم،ہنس ہنس کےسہیں گےہم”۔جتناخون بہتاہے اتنی ہی خوشبوپھیلتی ہے۔پھرایک وقت ایسابھی آتاہےجب دردخودہی مداوابن جاتاہے دردکا۔ دیکھئےپھرمجھے یادآگیا:
رنگ باتیں کریں اورباتوں سے خوشبوآئے
دردپھولوں کی طرح مہکےاگرتوآئے

یہ سب کچھ میں آپ سے اس لیےکہہ رہاہوں کہ چندبرس قبل میں نے(نیویارک آن لائن)میں یہ خبرپڑھی تھی کہ امریکی آرمی کاایک اسپیشلسٹ میٹری ہولڈبروکس گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں کلمۂ شہادت پڑھ کرحلقہ بگوشِ اسلام ہوگیاتھا۔نوجوان فوجی افسرہولڈبروکس نے جس کی ڈیوٹی صرف چھ ماہ تک کیوباکےعقوبت خانے میں مسلمان قیدیوں کی نگرانی اوربعض اوقات انہیں ایک جگہ سےدوسری جگہ لیجاتے وقت رہنمائی کرناتھی،مسلمان قیدیوں کے اخلاق اورعبادات سے متاثرہوکراسلام قبول کرلیا۔ہولڈبروکس نے ایک مختصرسی ای میل میں تسلیم کیاکہ مراکشی اوردیگرمسلمان قیدیوں کے حسنِ اخلاق اورتلاوتِ قرآن جووہ عقوبت خانے کی سخت ترین جالیوں کےعقب میں کرتے تھے،کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے وہ بے حدمتاثرہوا تھا اور آج وہ امریکامیں دین اسلام کی حقانیت کاپیغام پہنچانے میں مصروف ہے۔کیابات باقی رہ گئی جناب۔

دیکھئے!چراغ کوتوپھونک مارکربجھایاجاسکتاہے،نورکوکون بجھاسکتاہے!جی جناب نورکوتوپھونک مارکرنہیں بجھایاجاسکتا۔ اسلام نورہے،قرآن حکیم نورہے،روشنی ہی روشنی،صراط مستقیم کھراسودا .. ……غزہ والو!تم نے ایک بارپھرسکھادیاکہ اللہ کے راستے میں جان قربان کردیناسب سے بڑا اعزاز ہے،ماں باپ،بیوی بچے اورملائکہ بھی استقبال میں کھڑے گواہی دے رہے ہیں کہ بندے نے اپنے رب سے وفاداری کاجوحلف اٹھایاتھا،اس میں وہ کامیاب ہوگیا!

اپنا تبصرہ بھیجیں

1 × two =