سیاست میں کس کاسکہ معتبر؟

:Share

اگلے عام انتخابات کیلئے جوقومی آپشن سامنے آرہے ہیں ، ایک حالیہ تحقیق کے مطابق ان میں سے 2کی قیادت وہ ”رہنما” کر رہے ہیں جنہیں بالترتیب پاکستان کا پہلااوردوسرا امیر ترین شخص سمجھا جاتا ہے۔ اپنی بیرونِ ملک موجود پوشیدہ دولت کے ساتھ یہ دونوں ڈالروں میں ارب پتی ہیں۔ تیسرے آپشن کا نمائندہ وہ رہنما ہے جو امیر ترین ہونے کے قریب بھی نہیں بلکہ خودہماری سپریم کورٹ نے ”سراج الحق”کانام لیکر کہاتھاکہ پھریہی صادق اورامین بچتاہے لیکن اس بیان کے بعدان کے دیگرساتھیوں نے جس کوامین اور صادق کاسرٹیفکیٹ عطاکیاتھا ، آج اسی عدلیہ کے سامنے نہ صرف اس کی کارکردگی پر75سے زائدمقدمات زیرسماعت ہیں بلکہ اسی عدلیہ نے اسے اڈیالہ جیل میں بھیج کراسے آئندہ انتخابات کیلئے نااہل بھی کردیاہے گو یا عدلیہ نے اپنے ہی فیصلے کے خلاف فیصلہ دیکرکیانظیرقائم کی ہے،وہ بھی ہم سب کے سامنے ہے۔

ادھرقوم کی اکثریت کایہ حال ہے کہ انہیں یہ قابلِ قبول نہیں ہے کہ ملک کوبیدردی سے لوٹنے والے یہ دوامیر ترین شخص اس ملک کی قیادت کریں جوبظاہراب ایک دوسرے کی نہ صرف ٹانگیں کھینچ رہے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے کپڑے تارتاکرنے میں مصروف ہیں، جس کے عوام کو غریب اور جاہل رکھ کر ان سے منافع کمایا گیا ہے۔ ان کی زبردست ذاتی دولت اعلی ترین عوامی عہدوں پر رہتے ہوئے بنی۔ان تینوں کے علاوہ 3دیگر ووٹنگ آپشن بھی ہیں: ووٹ نہ ڈالیں: صرف مستحق آزاد امیدواروں کو ووٹ دیں یا ان میں سے کوئی بھی نہیں پر نشان لگائیں۔ یہ ووٹنگ آپشن ضرور ہونا چاہیے ۔ اس پر نشان لگانے والے ایک واضح سیاسی مؤقف کا اظہار کریں گے کہ وہ کسی کو بھی اپنے ووٹ کا حقدار نہیں سمجھتے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں چل رہے سیاسی ڈرامے میں فی الوقت کوئی بھی اچھا نہیں ہے، سوائے ظلم و ستم کے شکار عوام کے۔ ہیروز کی بات کی جائے تو ان کی اتنی قلت ہے کہ انہیں بنانا پڑتا ہے۔ نایاب، اصلی ہیروز وہ موتی ہیں جو لوگوں کو متاثر کرتے ہیں، امید فراہم کرتے ہیں اور مستقبل کے امکانات کا چہرہ ہوتے ہیں۔ انہیں شدید اور مسلسل نفرت اور بدکلامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔پاکستانی سیاست قابلِ رحم حالت سے گزر رہی ہے، جس میں صرف مشکوک اور بدنام سیاستدانوں کی بیان بازیاں ہیں،مسائل پر معقول اور دیانتدار بحث کے بجائے الزامات اور گالیاں دی جاتی ہیں، پارلیمنٹ غیر فعال ہے، طاقت کے مراکز سے چمٹا رہا جاتا ہے، تفریقی، انتہاپسند اور خصوصی مفادات کی پالیسیوں کے لیے مذہب کا استعمال کیا جاتا ہے ، جہالت کو علم قرار دیا جاتا ہے، ناقابلِ فہم کرپشن اور دھوکا دہی موجود ہے، الیکشن صرف مشکلات کے شکار لوگوں کے لیے تفریح ہیں، گمشدگیاں، تشدد اور لاشیں، جھوٹ، بدترین جھوٹ اور اعداد و شمار، اور اشرافیہ کے دلوں میں خوف کہ کہیں عام پاکستانی اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے نہ ہوں۔

وہ لوگ جن پر تحفظ کی ذمہ داری ہے، وہ بچوں، عورتوں اور اقلیتوں کو غیرت اور مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں، انتہاپسندوں اور ریپ کرنے والوں سے بچانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ نہ ہی انہوں نے امداد دینے والے ممالک کے ملکی خود مختاری کے خلاف مطالبوں سے پاکستان کے خود مختار مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ اس دوران میڈیا کو بھی اپنی اوقات میں رہنے کا کہہ دیا گیا ہے۔ان بنیادوں پر جمہوریت قائم رکھنے کی کوشش کریں۔ کوشش ہی مشکوک ہوگی۔ اشاروں یا اشاروں کے بغیر دہشت گرد فیصلہ کرتے ہیں کہ کون بحفاظت مہم چلا سکتا ہے اور کون نہیں۔2013میں جو آپشن ہمیں دستیاب تھے، آج بھی تقریبا وہی ہیں۔ مگر حالات بدل چکے ہیں اور ترجیحات بھی تبدیل ہوچکی ہوں گی۔مگر سب سے بہترین راستہ اب بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔ یعنی وہ بنیادی سطح کی تحریکیں جو پاکستان کے غریبوں، استحصال کی شکار اور محروم اکثریت کی ترجیحات کو فروغ دینے کی تحریکیں ہیں۔ دعوؤں کے باوجود یہ بات یقینی نہیں کہ کوئی بھی سیاسی جماعت خود کو ایسی تحریک کی معتبر نمائندہ قرار دے سکتی ہے۔

اشرافیہ کی ترجیحات مسلط کرنے کے لیے اشرافیہ کی مداخلت نے ملک کی سیاسی اور اقتصادی ترقی کو تہہ و بالا کردیا ہے۔ اس طرح کی مداخلتوں نے جمہوری فقدان بڑھایا ہے، احساسِ عدم تحفظ کو مزید گہرا کیا ہے اور ملک کو بے فائدہ کاموں میں الجھا دیا ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے۔ کچھ قیمتی لوگوں کے علاوہ ہمارے زیادہ تر چیمپیئنز اس حقیقت کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔نسبتا ًایماندار غیر ارب پتی رہنما کے پاس بظاہر انتخابات جیتنے کا سب سے بہترین موقع ہے بھلے ہی ان کی مقبولیت میں مبینہ طور پر کمی آ رہی ہے، خاص طور پر پڑھی لکھی نوجوان مڈل کلاس میں۔ جیت سے اس لیڈر کو نئے امکانات کے دروازے کھولنے کا موقع ملے گا۔ یہ آسان کام نہیں ہوگا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان پر بے چہرہ فیصلہ سازوں کا اثر ہے۔ یہ فیصلہ ساز انہیں اسکرپٹ سے ہٹنے نہیں دیں گے۔ وہ انہیں دور نکل جانے سے روکنے کے لیے اتحاد اور دیگر حکمتِ عملیاں استعمال کریں گے۔اس سے جلد یا بدیر، وہ توقعات ٹوٹیں گی، جو لوگ ان سے وابستہ کر بیٹھے ہیں۔ اس دوران اگلی دہائی میں رونماہونے والے ممکنہ حالات اپنی تمام تر مشکلات کے ساتھ ہمارے سر پر ہتھوڑے برسانے کی مکمل تیاری کے ساتھ آن دھمکے گا اور ہمارے پاس وہاں تک ٹھیک حالت میں پہنچنے کے لیے کوئی قومی توانائی بھی نہیں ہوگی۔ اگر ایسی سیاست ہو تو آپ کو دشمنوں کی ضرورت ہی کیا ہے؟

ان حالات میں جمہوریت کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ جمہوریت کے حامیوں کے درمیان راستے اور مقصد کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔ جمہوریت کا مقصد راستے پر منحصر ہے مگر یہ خود ایک راستہ نہیں ہے۔ جمہوریت ایک سیاسی حالت ہے جبکہ اس تک پہنچنے کا راستہ ایک سیاسی تحریک ہے۔ جمہوریت اچھی حکمرانی اور تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلنے والے سیاسی مرحلوں سے حاصل ہوتی ہے۔اس طرح کی تحریکوں کے بغیر جمہوریت کی کوششیں اور انتخابات صرف جمہوریت کو درپیش مشکلات میں سے ایک کا انتخاب کرنے کے برابر ہیں۔ یہ کوئی ”سیکھنے کا عمل”نہیں ہے۔ حقیقت میں یہ ایک دھوکا ہے جو ہمیں ٹھوس ترقی اور مستحکم جمہوریت کی جانب جانے سے روکتا ہے۔

روایتی معاشروں میں جدید جمہوریت بعد میں آتی ہے، اور اس سے پہلے کثیر السطحی جدوجہد اور انسانی ترقی کے ذریعے سماجی و سیاسی تبدیلیاں آتی ہیں ۔ پڑوسی ملک جزوی طور پر مستثنٰی ہو سکتا ہے، مگر زیادہ امکان ہے کہ نہیں۔ فوری ترقی ایک ٹیکنالوجیکل مرحلہ ہے، یہ سیاسی اور سماجی مرحلوں کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ آپ ایک ہدایت نامہ یا بلیوپرنٹ چرا سکتے ہیں مگر سیاسی تجربہ، سماجی تاریخ اور دانا قیادت نہیں چرا سکتے۔ سماجی و سیاسی جدوجہد کے بغیر ٹیکنالوجیکل ترقی صرف معاشی ناہمواریوں اور سماجی تفریق کو بڑھاتی ہے۔

اسی طرح سے جمہوریت کی نقل کرنا اور انتخابات کا پردہ فراہم کرنے سے سیاسی نظام نہیں فروغ پاسکتا اور عوام کو طویل عرصے سے گھیری ہوئی محرومیوں کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ انتخابی اونچ نیچ کے باوجود اس طرح کے انتخابات صرف موجودہ استحصالی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، جس سے پاکستان سیاسی طور پر ناخوشگوار ملک بن چکا ہے۔کمزور ریاستوں کو اس طرح کے سچ سے نفرت ہوتی ہے۔ جمہوریت چاہے جھوٹی ہو یا نہیں، ان کے لیے مقدس گائے ہی سمجھی جاتی ہے۔

“مگر لی کوان یو” کے مطابق جمہوریت رولز رائس گاڑی کی طرح ہے۔ اگر آپ اس کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں تو یہ سڑک پرموجودسب سے بہترین گاڑی ہے۔ ورنہ یہ بدترین سرمایہ کاری ہے۔پاکستان کے جمہوری رہنما اپنی رولز رائس چلاتے ہیں جبکہ عوام ٹول ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ سیاسی گہماگہمی چاہے جتنی بھی ہو، مگر پاکستان میں انتخابات کا تب تک کوئی مطلب نہیں جب تک کہ وہ ان تحریکوں کے ساتھ مجتمع نہیں ہوجاتے جو انتخابات ہوتے ہی ختم نہ ہو جائیں۔یادرکھیں!ہمارے ہاں انتخابات صرف اعلیٰ عہدوں کے لیے ہوتے ہیں۔ تحریکیں پاکستان کیلئے ہوتی ہیں۔

اب وقت گیاہے کہ ایمانداری کے ساتھ یہ تاثردورکرناہوگا کہ پاکستانی سیاست میں اسی کاسکہ معتبر ہوتا ہے جس پراسٹیبلشمنٹ کی مہرلگی ہو۔آخر کیا وجہ ہے کہ ہرگلی محلے کے چوک میں نئے لاڈلے کانام گونج رہاہے جبکہ اس سے پہلے کالاڈلامحبت کاقرض بمعہ سوداداکرنے کیلئے اب بھی بے تاب ہے اورنیالاڈلاجس نے اس سے پہلے کئی مرتبہ اپنے اقتدار کو داؤ پرلگانے کے باوجودکھلم کھلاگوجرانوالہ کے جلسے میں بھرپورتنقیدکانیاراستہ کھولا،جس کے بعدمسلسل ”مجھے کیوں نکالا”کانعرہ لگا کر ہمدردیاں سمیٹنے کی کوششوں میں آج تک مصروف ہے۔ملک واپسی سے قبل ایک ایسابیان داغ دیاکہ چھوٹا بھائی جودودن قبل ہی ہاتھ جوڑکرواپس لوٹاتھا،فوری بھاگم بھاگ پاؤں میں پڑکرسیزفائرکروانے پہنچ گیاجس کے بعدہی واپسی ممکن ہوسکی لیکن اب ایک عجیب مخمصے میں مبتلاجہاں اقتدارکی غلام گردشوں کے حصول کیلئے دیگرجماعتوں کے ساتھ انتخابی اتحادکئے جارہے ہیں ،وہاں ”لاڈلے”کے شورنے عزتِ سادات کے پرزے پرزے بیچ چوراہے میں اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔

ابھی ملک واپسی کوچندہفتے گزرے ہیں کہ عدالتوں نے قبل ازگرفتاتی ضمانت کے ساتھ مقدمات کی تیزی سے سماعت بھی شروع کردی اور مقدمات سے بری بھی کرنے کے احکام جاری ہونے شروع ہوگئے ہیں تاکہ آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کی راہیں ہموارکی جاسکیں اور جس کے لئے دکھائی دینے والے پرتپاک پروٹوکول کے ساتھ سیاسی میدان بھی کھلا ملناشروع ہوگیاہے۔ان حالات میں”لاڈلے” کے نعرے کاتاثرختم کرنے اور ممکنہ بدنامی کہ مہیب سائے سے بچنے کیلئے اپنے پرانے مؤقف کوبارباردہراکرنکالنے والوں کے احتساب کانعرہ بلندکرناشروع کردیاہے تاکہ عوام کوایک مرتبہ پھرگمراہ کیاجا سکے۔ جولائی 2018ء میں پاکستانی عدالت نے انہیں لندن کے مہنگے ترین علاقے ”پارک لین” میں 4/اپارٹمنٹس کی خریداری کیلئے منی ٹریل مہیانہ کرنے کے جرم میں دس سال کی سزاسنائی تھی۔شریف خاندان پرالزام تھاکہ انہوں نے ان جائیدادوں کوغیرقانونی طورپرمنتقل کی گئی منی لانڈرنگ سے خریداہے۔ان کی بیٹی مریم نوازکوبھی اس جرم میں معاونت کرنے پر7سال کی سزاسنائی گئی تھی جس کوکچھ عرصہ قبل ختم کیا جا چکاہے۔حیرت کی بات تویہ ہے کہ اس مقدمے کوتیارکرنے والی نیب نے عدالت کے سامنے یہ اعتراف کیاکہ وہ اپنے مقدمے کونہ صرف واپس لے رہی ہے بلکہ وہ مقدمہ میں تمام الزامات ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔اس کے ساتھ ہی نیب نے”فلیگ شپ انویسٹمنٹ”ریفرنس بھی دائر اپیل بھی واپس لے لی ہے۔

ابھی کل ہی کی توبات ہے جب نیب کے وکیل بڑے دھواں دھاردلائل کے ساتھ ایون فیلڈاورمے فئیرکے چارفلیٹس کومیاں نوازشریف کی کرپشن سے لوٹی ہوئی ملکی دولت سے بنائی ہوئی جائدادثابت کرنے کی کوشش کررہے تھے اورآج وہی نیب اپنے ان تمام الزامات کوواپس لیکرمکمل خاموشی اختیارکئے ہوئے ہے۔جب سپریم کورٹ نے نیب کے پراسیکیوٹرسے الزامات کے بارے میں استفسارکیاتونیب کے پراسیکیوٹرنے360ڈگری کا ”یوٹرن”لیتے ہوئے ساراملبہ سپریم کورٹ پرڈال دیاکہ نیب تویہ مقدمہ دائرکرنے کے حق میں نہیں تھی بلکہ اس وقت کی سپریم کورٹ کے کہنے پریہ مقدمہ دائرکیاگیاتھا۔اس سے قبل اسلام آبادہائی کورٹ نے میاں صاحب کے سمدھی اورسابقہ وزیرخزانہ اسحاق ڈارکے خلاف آمدنی سے زائد اثاثوں کے مقدمے کوخارج کرتے ہوئے ان کے تمام اثاثوں کوبحال کرنے کاحکم جاری کردیا۔سابقہ وزیرریلوے خوجہ سعدرفیق اوران کے بھائی وزیرصحت پنجاب خواجہ سلمان کے خلاف 2018ء میں پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی میں بے ضابطگیوں کاریفرنس11ْاکتوبر2023ء کو خارج کرکے ان کوبے گناہ قراردیتے ہوئے باعزت بری کرنے کاحکم جاری کردیاگیا۔سابق وزیرداخلہ راناثنا ء اللہ جن کویکم جولائی 2019ء میں15کلوگرام ہیروئن جیسی خطرناک منشیات کی اسمگلنگ میں گرفتارکیاتھا، اینٹی نارکوٹکس کی طرف سے ان کی ضمانت منسوخی کی اپیل کواگست 2023ء کوغیرمؤثر قرار دیتے ہوئے ان کی ضمانت کوبرقراررکھاہے،سماعت کے دوران اے این ایف کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز احمد اور انسپکٹر احسان اعظم نے رانا ثنا اللہ کے خلاف الزامات کو غلط قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

یادرہے کہ اینٹی نارکوٹکس پاکستانی فوج اور وزارت انسداد منشیات (پاکستان)کی چھتری تلے کام کرتی ہے۔رانا ثنااللہ کے خلاف اے این ایف کی تاریخ کا یہ اس لحاظ سے بھی ایک انوکھا مقدمہ ہے کہ اس میں مدعی ایک حاضر سروس فوجی افسر میجر عزیزاللہ تھے اورراناثناء اللہ کی گرفتاری کے موقع پراس وقت کی حکومت پی ٹی آئی کے وزیرداخلہ شہریارآفریدی نے پارلیمنٹ اورمیڈیاکے سامنے کلمہ پڑھتے ہوئے اور قرآن پرحلف دیتے ہوئے اس مقدمے کی سچائی کی شہادت دی تھی۔اسی طرح فیڈرل کورٹ نے مسلم لیگ کے قومی اسمبلی کے رکن حنیف عباسی کوجون 2023ء کو ایفیڈرین کی غیرواضح تعریف کی بناء پرکالعدم قراردے دیااوران پریہ مقدمہ 2018ء میں دائرہواتھا۔پچھلے چندہفتوں سے نوازشریف اوران کی جماعت کے دیگررہنماؤں کے ساتھ اچانک نرمی کا سلوک آخرکیاچغلی کھارہاہے،یہ کوئی نہ بھی بتائے توسیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے ہواکارخ جان چکے ہیں ۔

ہماری قابل احترام عدلیہ نے آخر ان مقدمات کے نتیجے میں ملک کوہونے والے سیاسی ،معاشی ساری بربادی کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات دائر کرنے کاحکم کیوں جاری نہیں کیا؟ قومی خزانے سے کروڑوں روپے کے اخراجات کی ذمہ داری کس پر عائدہونی چاہئے؟مسلم لیگ ن کے تمام رہنماء اپنی تقاریرمیں تواترسے یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کوانتخابات میں حصہ لینے کیلئے برابری کے مواقع ملنے ضروری ہیں تاکہ آئندہ انتخابات کے منصفانہ نتائج پرکوئی اعتراض نہ کرسکے تو پھرقوم کوایسانظرکیوں نہیں آرہا؟یہ مبنی برحقیقت تلخ سوال آپ سب کیلئے چھوڑکر جا رہا ہوں!

اپنا تبصرہ بھیجیں