مجرم کون؟

:Share

جنگوں میں اب تک کتنے انسان ہلاک ہوئے ہیں،سوائے اللہ کے کسی کومعلوم نہیں اورنہ معلوم ہوسکتاہے لیکن ماہرین کے محتاط اندازوں کے مطابق تقریباً پندرہ ارب انسان جنگوں کی نذرہوچکے ہیں جن میں81کروڑمذہب کے نام پرلڑی جانے والی جنگوں میں مارے گئے۔ کسی ایک جنگ میں مارے جانے والوں کی تعداد7کروڑ31 لاکھ 80ہزار(کچھ ذرائع کے مطابق 5کروڑ)ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے دوران ہلاک ہوئے جن میں4کروڑ90لاکھ سویلین لوگ بھی شامل تھے۔یہ تھے دنیاکی بدترین جنگ کے اعدادوشمار! اس جنگ کے بعدہی یورپ نے لڑنے سے توبہ کی اوراپنے تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کاعہدکیا۔ہٹلرکی شروع کی ہوئی جنگ جودواتحادیوں کے درمیان لڑی گئی تھی نے پوری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیاتھا۔ایک فریق”ایکسزالائنس” کہلاتاتھاجس میں نمایاں ممالک اٹلی،جرمنی اورجاپان تھے،ان کوہنگری،رومانیہ،بلغاریہ، یوگوسلاویہ اورفن لینڈ وغیرہ کی حمائت حاصل تھی جبکہ ان کے مد مقابل”الائینس”تھے جن میں اہم ممالک برطانیہ،سوویت یونین اورامریکاتھے جبکہ انہیں چین، پولینڈ اورفرانس کی حمائت حاصل تھی۔اس جنگ میں شائد ہی دنیاکاکوئی خطہ کوئی قوم کوئی خاندان متاثرہونے سے بچاہو!اس میں مسلمان، یہودی، عیسائی، بڈھسٹ،ہندو،سکھ اور کیمونسٹ بھی مارے گئےلیکن نازی افواج کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام کو”ہولوکاسٹ”کانام دیاگیا۔

ہولوکاسٹ قدیم یونانی زبان سے لیاگیاجس کامفہوم تھا”اللہ کی راہ میں کی جانے والی قربانی”ایسی قربانی جسے مکمل طورجلادیاجائے، لیکن بعدمیں وسیع پیمانے ہونے والی انسانی قتل وغارت کوبھی ہولوکاسٹ کہاجانے لگا۔انسانی تباہی کیلئے یہ اصطلاح پہلی بار1190ء میں استعمال ہوئی جب عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کاقتل عام ہواتھا۔بعدکے چارسوسال تک یہ اصطلاح کسی بھی مذہب،رنگ ونسل کے انسانوں کی وسیع پیمانے پرقتل وغارت کیلئے استعمال ہوتی رہی حتیٰ کہ جنگ عظیم دوم میں کسی بھی مذہب،رنگ ونسل کے ہلاک ہونے والوں کیلئے استعمال کی گئی لیکن 1960ءسے یہ صرف اورصرف یہودیوں کے قتلِ عام کیلئے مخصوص ہوکررہ گئی۔اب ہولوکاسٹ کامطلب”جنگِ عظیم دوم میں نازی افواج کے ہاتھوں 60لاکھ یہودیوں کاقتلِ عام”اوراس کومانناہرآدمی کیلئے فرض قراردیا گیا۔مغرب میں اس کے خلاف بات کرناقابلِ تعزیرجرم ہے۔حدتویہ ہے کہ مغرب میں انبیاءجیسی مقدس ترین ہستیوں کے خلاف بولنا،ان کونہ ماننااوران کی توہین کیلئے کارٹون بناناقابلِ تعزیرجرم نہیں ہے بلکہ انبیاءکے گستاخوں کوسرکاری تحفظ دیاجاتاہے جبکہ ہولو کاسٹ کے گستاخوں کوجیل بھیج دیاجاتاہے۔

یہودی کہتے ہیں کہ نازی افواج نے یورپ میں59لاکھ 33ہزار990یہودیوں کاقتل عام کیا۔جنگِ عظیم دوم سے پہلے ان کی تعداد88 لاکھ 61 ہزار800 تھی اورجنگ کے اختتام پرصرف 29لاکھ27ہزار900رہ گئی تھی یعنی ان کی 67فیصدنسل کوقتل کردیاگیاتھا۔پولینڈمیں30 لاکھ ،یوکرائن میں9لاکھ، ہنگری میں4لاکھ 50ہزار،رومانیہ میں3لاکھ،بیلارس میں2لاکھ 45ہزار،بالٹک ریاستوں میں2لاکھ 28 ہزار، جرمنی اورآسٹریامیں2لاکھ دس ہزار، ہالینڈ میں ایک لاکھ پانچ ہزار،روس میں ایک لاکھ7ہزار،فرانس میں90ہزار،بوہمیااورموراویہ میں 80 ہزار،سلواکیہ میں75ہزار، یونان میں54ہزار،بلجیم میں40ہزار،یوگوسلاویہ میں26ہزار،بلغاریہ میں14ہزار،اٹلی میں8ہزار، لکسمبرگ میں ایک ہزار،ناروے میں890،ڈنمارک میں52اورفن لینڈ میں 22یہودی مارے گئے۔وسیع پیمانے پرہلاکت کیلئے گیس چیمبرزکااستعمال کیاگیا۔نازی افواج انہیں یورپ بھرسے ٹرینوں کے ذریعے خصوصی طورپربنائے گئے گیس چیمبرزمیں لاتے تھے جہاں کام کرنے کے قابل لوگوں کوکیمپوں میں بھیج دیاجاتاتھااوربقیہ کوگیس چیمبرزکے حوالے کردیاجاتاتھا،جب چیمبران افرادسے بھر جاتاتوگیس چھوڑدی جاتی تھی جہاں بیس منٹ کے اندراندرہزاربارہ سو یہودی مرجاتے تھے۔مرنے کے بعد اگرکسی کے دانت سونے کے ہوتے تونکال لئے جاتے تھے،کانوں میں زیورہوتاتو کاٹ دیئے جاتے اس طرح آٹھ مختلف گیس چیمبروں میں44 لاکھ 65 ہزار افرادکوزہریلی گیس سےماراگیا۔ان اعدادوشمارکے حقائق کے بارے پوچھنابھی اب جرم بن کررہ گیاہے،بس اس پرمن وعن یقین کرناقانون بنادیاگیاہے۔

قتل چاہے ایک آدمی کاہویاچھ ملین یہودیوں کا،قابلِ مذمت اوربدترین جرم ہے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیاہٹلرمسلمان تھا،کیانازی افواج مسلمان تھیں؟؟کیایہودیوں کاقتل عام کسی مسلمان ملک میں ہوایاکسی اسلامی دورِحکومت میں ہوا؟کیادوسری جنگِ عظیم مسلمانوں نے شروع کی تھی یاان کی وجہ سے شروع ہوئی تھی یاایک طرف مسلمان فوجیں تھیں اوردوسری طرف غیرمسلم؟جب نہ ہٹلرمسلمان تھا،نہ ہی نازی افواج مسلمان تھیں،نہ ہی یہودیوں کاقتلِ عام کسی مسلمان ملک میں ہوا،نہ ہی کسی اسلامی دورِحکومت میں ہوا،نہ ہی دوسری جنگِ عظیم مسلمانوں نے شروع کی اورنہ ہی مسلمانوں کی وجہ سے دوسری جنگِ عظیم شروع ہوئی اورنہ مسلمان فوجیں فریق تھیں توپھر مسلمانوں کو60لاکھ یہودیوں کے قتل کی سزاکیوں دی جا رہی ہے؟؟؟جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم شروع کی تھی، جنہوں نے 60لاکھ یہودیوں کوقتل کیا،سزابھی انہیں کوملنی چاہئے نہ کہ مسلمانوں کو!

اگریادہوتوعالمِ اسلام سے کی جانے والی تقریرمیں باراک اوبامانے ہولوکاسٹ پراپنے ایمان کی تجدید کرتے ہوئے کہا”ہولوکاسٹ حقیقت ہے60لاکھ یہودی قتل کئے گئے”ضرور ہوئے ہوں گے(اس تعدادکودنیا کی اکثریت درست نہیں مانتی)لیکن قتل تومسلمانوں نے نہیں کیا۔ میں نے اس وقت بھی یادکرایاتھاکہ اگراوبامااورمغرب کویہودیوں کے قتلِ عام کادکھ ہے اوراس گناہ کاکفارہ اداکرناچاہتے ہیں توضرور کریں،ہزاربارکریں لیکن مسلمانوں کی قیمت پرکیوں؟اگران کیلئے الگ وطن نا گزیرتھایاانہیں ایک الگ دیناہی گناہوں کاکفارہ ہے توپھر جہاں جس قوم نے ان کوقتل کیاوہی اس کاازالہ بھی کرے جہاں ان پرظلم ہوا ،جس سرزمین پرانہیں قتل کیاگیاوہیں پران کوایک الگ وطن دیاجائے نہ کہ انبیاءکی مقدس سرزمین فلسطین میں۔اس وقت104ملکوں میں یہودیوں کی کل تعدادایک کروڑ 46لاکھ ہے جس میں 56لاکھ یہودی اسرائیل میں رہتے ہیں۔اگرامریکااور مغرب کویہودیوں سے اتنی ہمدردی ہے توقصرسفیدکے فراعین نےانہیں امریکامیں کیوں نہیں بسایا،کینیڈامیں آبادکیوں نہیں کیاجاتا،آسٹریلیامیں کیوں نہیں بھیجاجاتا؟ ان ملکوں اور یورپ میں توویسے ہیں افرادی قوت کی قلت ہے اور یہودیوں کی کل تعدادسے سینکڑوں گنازیادہ لوگ ان ملکوں میں بآسانی کھپ سکتے ہیں، فلسطین کوتو چھوڑے ہوئے انہیں دوہزارسال سے زیادہ عرصہ ہوچکاہے۔

عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں کایہ کوئی پہلاقتلِ عام نہیں تھاجس پراتناواویلامچایاگیاہے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے ہی ان دوالہامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مذہب کے نام پرلڑائیاں شروع ہوگئیں تھیں۔پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قریبی ساتھی اورپیروکاریہودیوں کے ہاتھوں مارے گئے اوربعدمیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوسولی پر لٹکانے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یہودیوں اورعیسائیوں دونوں کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام کویہودیوں نے قتل کیاجب کہ یہ تو اسلام ہے جس نے یہ گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پراٹھالیااوریہودی اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہے،نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کواللہ نے یہودیوں کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا بلکہ یہودیوں کی طرف سے حضرت مریم علیہ السلام پر لگائے گئے بہتان کی بھی نفی کی اوران کی پاکیزگی اورپاک دامنی کی گواہی دی۔

اسلام کے اتنے بڑے احسان کے بدلے عیسائیوں نے مسلمانوں پرپہلے دوصلیبی جنگیں مسلط کیں اورپھران سے ان کاقبلۂ اوّل بیت المقدس یروشلم چھیننے میں یہودیوں کی پشت پناہی کی گئی۔آج جس سفاکانہ اندازمیں اسرائیل کی حمائت کی جارہی ہے توکل گریٹر اسرائیل بھی ناگزیرہوجائے گا۔یہ توخلیفہ ثانی حضرت عمرہی تھے جنہوں نے یہودیوں کوپانچ سوسال کے بعد یروشلم میں آزادانہ عبادت کرنے اوررہنے کی اجازت دی تھی۔عیسائیوں نے جب یہودیوں پریورپ کی زمین تنگ کردی تھی تویہ مسلمان ہی تھے جنہوں نے انہیں اسپین میں پناہ دی تھی۔اگرمسلمان انہیں پناہ نہ دیتے تویہ آج اپنے لئے ایک الگ وطن بنانے کی بجائے دنیاسے ہی ناپیدہوچکے ہوتے۔ مجرم کون اورسزاکس کومل رہی ہے!!!مسلم دشمنی اورکیاکیاکرشمے دکھائے گی؟؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں

twenty − 5 =