مستقبل کی سپرپاورکون؟

:Share

یہ کہنا کسی طور ٹھیک نہیں ہو گا کہ’’جغرافیائی سیاست‘‘کا دور لوٹ آیا ہے،دراصل جغرافیائی سیاست کا دور تو کبھی ختم ہی نہیں ہوا تھا۔ بس تاریخ آنکھوں سے اوجھل ہو گئی تھی۔ ہر حکمران اپنے آپ کو آخری حکمراں سمجھتا ہے اور اسی طرح ہر دور اپنے آپ کو کبھی نہ ختم ہونے والا دور سمجھنے لگتا ہے۔درحقیقت ریاستیں بنتی اور تباہ ہوتی رہتی ہیں اور یہی عمل اس کرہ ارض کی قسمت کہلاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح اب بھی ’’طاقت کی سیاست‘‘ہی حالات و واقعات کو لے کر چلتی ہے۔اسی طرح عالمی رقابتوں کا فیصلہ بھی حریف کے مادی،انسانی وسائل کو دیکھتے ہوئے،اور اس کے طرز حکومت اورخارجہ تعلقات میں قابلیت کو دیکھ کر کیا جائے گا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ رواں صدی کے حالات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ امریکا اور چین کس طرح بے پناہ وسائل اور تعلقات کو استعمال کرتے ہیں۔
ماضی میں برطانیہ نے جس طرح اپنی حریف سامراجی مملکت جرمنی کو آزاد تجارت کی اجازت دی تھی کہ وہ مستحکم ہو، بالکل اسی طرح امریکا نے چین کے ساتھ کیا۔ کیوں کہ عموما ایک آزاد حکمراں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا آمر حریف،آمریت کو قائم رکھتے ہوئے ترقی کرے ،یا پھر آزادانہ سیاست کر کے اپنی ریاست کو استحکام دے۔لیکن یہ عمل نہ تو ماضی میں آزاد حکمرانوں کیلئےاچھا ثابت ہوا اور نہ ہی اب ایسا ہوتا نظرآرہا ہے۔
بہت جلد چین معاشی طور پر امریکا سے زیادہ مستحکم ہوگا۔ نہ ہی یہ جمہوریت کی طرف پلٹا ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں ایسا ہوتا دکھائی دے رہا ہے،کیوں کہ کمیونزم کا ادارہ جاتی نظام جمہوری عمل کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیتا۔لیکن اس آمریت کا مطلب جمود نہیں،کیوں کہ چین کے ادارے بدعنوانی اور اہلیت اور نااہلی کو ساتھ لے کر چلے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ ملک کوکسی نہ کسی طریقے سے ترقی دلانے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔شایداس ترقی کی رفتار جلدکم ہو جائے،یا وہ اپنی متضاد بنیادوں کی وجہ سے تباہ ہو جائے۔لیکن تجزیہ کار اس نتیجے کو کئی دہائیوں سے پیش کر رہے ہیں اور وہ مستقل غلط ثابت ہو رہے ہیں۔
دوسری طرف چین امیدوں کے برخلاف تیزی سے ترقی کر رہا ہے،جب کہ امریکا اور دیگر ترقی یافتہ جمہوری ممالک داخلی انتشار کا شکار ہوتے جا رہے ہیں،جس سے ان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ان کی اشرافیہ نے پوری دنیا میں عالمگیریت کو کامیابی کے ساتھ پروان چڑھایا اوراس کے ساتھ انسانی سماج میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں برپا کیں اور تقریباً پوری دنیا کے انسانوں نے ترقی کی بے شمار منازل طے کیں۔اور یہ سب کچھ انھوں نے بہت کامیابی سے کیا۔لیکن اس دوران وہ اپنے ممالک کے شہریوں پر اس سارے عمل کے نتیجے میں پڑنے والے منفی معاشی اور معاشرتی اثرات کو نظر انداز کرتے رہے۔پھر موقع پرستوں نے معاشرے میں پڑے ان شگافوں کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔
انیسویں صدی میں ہونے والے ’’گریٹ ڈپریشن‘‘ نے عالمگیریت کی پہلی لہر کا راستہ روکا۔اور کچھ لوگوں کے نزدیک 2008ء کے عالمی معاشی بحران نے بھی عالم گیریت کی دوسری لہر کا راستہ روکنے کا کام کیا۔عالمگیریت کا نظام تو’’بیل آؤٹ پیکجز‘‘کے نتیجے میں اس معاشی بحران کو براداشت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔لیکن عام آدمی کیلئےکوئی امدادی پیکج نہ آنے کی وجہ سے داخلی اختلافات بڑھنے لگے۔اور آنے والی دہائی میں ’’اسٹیبلشمنٹ مخالف تحریک‘‘ زور پکڑتی چلی گئیں۔
چین اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ مقابلہ پرانی کہانی کا اک نیا موڑ ہے۔انیسویں صدی کےآغاز کے وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت چین ہی کی تھی،جس کی مجموعی قومی پیداوار عالمی پیداوار کا 40فیصد تھی۔پھر وہ داخلی اور خارجی مسائل کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہو گیا۔اور عین اسی وقت امریکا دنیا کے نقشے پر ابھرا اور اس نے اس دنیا پر غلبے کا سفر شروع کیا۔جس طرح امریکا کی ترقی چین کی کمزوری کے بغیر ممکن نہ تھی،اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایشیا میں امریکی اثرورسوخ خود امریکا کیلئےکتنا اہم ہے،بالکل اسی طرح چین بھی امریکا کے آزاد منڈیوں کے نظریہ کےبغیر ترقی نہیں کر سکتا تھا۔
دونوں ممالک دنیا میں اپنا اثرورسوخ قائم کر چکے ہیں، دونوں کی اپنی اپنی خصوصیات اور کمزوریاں ہیں،اور پہلی دفعہ دونوں ایک دوسرے کو اپنا ہم پلہ سمجھ کر مقابلے پر اتر آئے ہیں۔یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ یہ کھیل کس طرح کھیلا جائے گا۔لیکن اس بات کا مکمل یقین ہے کہ یہ کھیل جاری رہے گا۔
آنے والے کل کو سمجھنے کیلئےماضی میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ 70ء کی دہائی میں امریکا اور اس کے اتحادی امیر تھے۔ لیکن یہ جمود کا شکار تھے اور منظم بھی نہ تھے،سوویت یونین دفاعی لحاظ سے برابری پر آچکا تھا اور اپنے آپ کو اسلحے سے لیس کیے جا رہا تھا،چین داخلی انتشار اور غربت کا شکار تھا، بھارت چین سے بھی زیادہ غریب تھا،برازیل میں آمریت کا دور تھا اور اس کی معیشت بھارت سے زیادہ بڑی نہ تھی،اور جنوبی افریقا ریاستی سرپرستی میں نسلی بنیادوں پر تقسیم کا سامنا کر رہا تھا۔
چار دہائیاں گزرنے کے بعد،سوویت یونین ٹکڑوں میں بٹ گیا،اس سے آزاد ہونے والی ریاستوں نے سرمایہ دارانہ نظام اپنا لیا۔ چین اس وقت بھی سیاسی طور پر کمیونزم اپنائے ہوئے ہے،اور ترقی کرتے ہوئے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے۔ غربت کا شکار بھارت اب دنیا کی چھٹی بڑی معیشت کا روپ دھار چکا ہے۔برازیل ایک جمہوری ملک بننے کے ساتھ ساتھ دنیا کی آٹھویں بڑی معیشت کا حامل ملک ہے۔جنوبی افریقا نسلی تعصب کو پیچھے چھوڑ کر کثیر نسلی جمہوری ماڈل کو اپنا چکا ہے۔
ان تبدیلیوں کا رخ حادثاتی نہیں ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں نے مل ایک آزاد دنیا کیلئےکام کیا، جہاں پہلے سے کہیں زیادہ آزادانہ تجارت ہو اور دنیا عالمی سطح پرپہلے سے زیادہ منظم ہو۔پالیسی ساز اس بات پر حد سے زیادہ یقین رکھتے تھے کہ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو لوگ یہاں آئیں گے۔اور ان کا موقف بالکل ٹھیک تھا۔مجموعی طور پر غیر معمولی نتائج سامنے آئے۔ لیکن وہ ہی پالیسی ساز اور ان کے شاگرد اپنے آپ کو اس کیلئےتیار نہ کر پائے کہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد کیا کرنا ہے۔
عالمگیریت کی وجہ سے پیسے کی ریل پیل ہوئی، امیر ممالک میں ہر آسائش سے آراستہ شہر قائم ہوئے اور ان پُرآسائش شہری مراکز میں رہنے والے لوگوں نے اپنے ملکوں میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے باہر جاکر سرمایہ کاری کی۔ جس کی وجہ سے اقتصادی کارکردگی میں بہتری آئی اور منافع بڑھنے لگا۔اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تفریق کم ہوئی اور لاکھوں، کروڑوں لوگ غربت کے حصار سے نکلنے میں کامیاب ہوئےلیکن اسی دوران ان تبدیل ہوتی معاشی سرگرمیوں کی وجہ سے معاشرے میں یکساں طور پر مواقع کی فراہمی ممکن نہ ہو سکی، اس کے علاوہ ان امیر ممالک کے لوگوں نے یہ محسوس کیا کہ سیاست دان ان کو دھوکا دے رہے ہیں۔دوسری طرف مغربی اشرافیہ ’’عالمگیریت‘‘ کے فوائد سمیٹنے میں مصروف رہی۔
بہت سے لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ ’’عالمگیریت‘‘کامطلب صرف معیشت ہے اور یہ تیزی سے ترقی کر ے گی۔بہت کم لوگ تھے جو مختلف رائے رکھتے تھے جن میں سیاسی سائنسدان Samuel Huntington بھی شامل ہیں۔ان کاکہناتھاکہ’’ثقافت‘‘،’’عالم گیریت‘‘سے زیادہ طاقتورہے
،ان کاکہناتھا کہ عالمی انضمام اختلافات ختم کرنے کے بجائے ان کونمایاں کرے گا،نہ صرف ملک میں بلکہ باہر بھی۔2004ء میں انھوں نے کہاتھا کہ ’’موجودہ دور کے امریکامیں قوم کی اشرافیہ اور عوام میں قومی شناخت اور امریکا کے عالمی کردار کے حوالے سے کافی دوریاں ہیں۔جس کے نتیجے میں امریکی عوام کا حکومت سے رابطہ ختم ہوتاجارہاہے‘‘۔اس موقع سے بیرونی لوگوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔مغربی اشرافیہ نے’’گلوبل ازم‘‘ کے نظریے کواختیار کرکے اپنے آپ کو سیاسی چیلنج کے سامنے لاکھڑا کیا،جس کی بنیاد وہ قوم پرستی تھی جس کووہ نظرانداز کررہے تھے۔مقبول علیحدگی پسند تحریکوں کے راہنما توغلط راستے اختیار کرنے کی وجہ سے بھٹک گئے،لیکن ان کے ووٹروں کے جذبات نہ صرف حقیقی تھے بلکہ وہ حقیقی مسائل پر آواز بھی اٹھا رہے تھے۔اس اہم نکتے کو نام نہاد تجزیہ کار نہ صرف نظر انداز کرتے رہے بلکہ یکسر مسترد بھی کر دیا۔
گزشتہ صدی سے لے کر اب تک آنے والی تمام تبدیلیوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاست کا جو منظر نامہ ہے وہ چند باتوں کے علاوہ 70ء اور 20ء کی دہائی سے ملتا جلتا ہے۔ یوریشیا میں روسی اثرورسوخ کم ضرور ہوا ہے لیکن ابھی بھی اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،غیر منظم لیکن طاقتور یورپ پر اب بھی جرمنی غالب ہے،ایک مضبوط عالمی طاقت امریکا،جو دنیا پر حکمرانی کی طاقت رکھتا ہے لیکن وہ ایسا کرنے سے کترا رہا ہے۔ برازیل اور جنوبی افریقا اپنے خطے کی غالب طاقتیں ہیں۔سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ، ہندوستان میں آنے والی تبدیلی اور خلیج فارس میں طاقت کے توازن میں آنے والی چھوٹی تبدیلیوں کے علاوہ ان برسوں میں آنے والی سب سے اہم تبدیلی یہ ہے کہ ایشیا میں جاپان کو حاصل مرکزی حیثیت اب تبدیل ہو کر چین کے پاس آگئی ہے۔
چین نے غیر معمولی محنت کی ہے اور اسی محنت نے اس کو موجودہ پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے۔لیکن چین کی گزشتہ دو نسلوں نے جو کامیابیاں حاصل کیں وہ امریکا کی معاشی آزادی اور اس کی طرف سے دی جانے والی عالمی سکیورٹی کے بغیر ممکن نہ تھی۔ انیسویں صدی کے اختتام اور بیسویں صدی کے آغاز میں یورپ اور جاپان کے برعکس امریکا نے دنیا کے خطوں پر اپنی حکمرانی کی انتہائی کم کوششیں کیں۔ اس کے بجائے امریکا نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئےآزاد تجارت،اپنے اتحادیوں اور عالمی اداروں کا سہارا لیا۔ اور مفادات کے حصول کے اس راستے پر ایک طاقتور فوج اس کی پشت پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی جنگ عظیم کے بعد بننے والے اداروں اور فورمز کو ’’لبرل انٹر نیشنل آرڈر‘‘کا نام تو دیا گیا لیکن درحقیقت امریکا نے اس سارے نظام کو اپنے اثرورسوخ کو وسعت دینے کیلئےاستعمال کیا۔
مخصوص نظریات رکھنے والے طاقتور ممالک عموماً تبدیلی کی علامت ہوتے ہیں، اور اکثر و بیشتر وہ فاتح ملک کے ماڈل کو اختیار کرتے ہیں۔اس لیے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں تھی کہ جمہوریت، قانون کی بالادستی اور دیگر امریکی روایات کو عالمی سطح پر شہرت ملی اور ان روایات کو اختیار کیا گیا۔ لیکن اب جب کہ امریکا کی طاقت تنزلی کا سفر طے کر رہی ہے تو اس کا ’’برانڈ‘‘ بھی مشکلات کا شکار ہے۔یہ نظام طاقتور کے پاؤں کی ٹھوکر پر ہے،اور اس امریکی نظام کے جھول سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔کیا دو نئی عالمی طاقتوں نے ایسا راستہ تلاش کر لیا ہے جس کو اختیار کرکے وہ بغیر جنگ کیے اپنے حریف سے مقابلے کر سکیں گی؟ اگر نہیں، تو مستقبل میں یہ ممکن ہو گاوہ بھی صرف اور صرف تائیوان کی وجہ سے۔ابھرتا ہوا ایشین ٹائیگر عالمگیریت کے معجزات میں سے ایک ہے۔ تائیوان گزشتہ سات دہائیوں سے جمہوریت کے راستے پر گامزن ایک امیر ملک ہے۔ لیکن بیجنگ اس خطے پراپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ صدر ژی جن پنگ ذاتی طور پر یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ’’تائیوان‘‘ چین کا حصہ ہے اور چین کے مفادات بھی اس سے وابستہ ہیں۔ اورچینی فوج اس جزیرہ پر قبضے کےحوالے سے اپنی استعداد میں مستقل اضافہ کررہی ہے۔
جنگ کی تباہ کاریوں پر غور کریں تو اس قسم کی انتہا پسندانہ سوچ بے وقوفی کی علامت محسوس ہوتی ہے۔ ویسے بھی چین کی داخلی کامیابی کاانحصار خارجی استحکام پر ہے۔ سروے کے مطابق اس جزیرے میں رہنے والے لوگ اپنی الگ شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔جب کہ چین کی معاشی انضمام کی پالیسی اس کے بالکل برعکس ہے۔ کیا تیزی سے طاقتور ہوتی ہوئی ریاست ’’چین‘‘ اپنے اس حصے کو آسانی سے ہاتھ سے نکلتا ہوئے دیکھتی رہے گی؟
گزشتہ دہائی میں روس نے تیل کی قیمتوں کو کنٹرول کر کے اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر کے مغرب کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ولادی میر پوٹن کی حکومت کوبدمعاش ’’kleptocracy‘‘ تو کہا جا سکتا ہے، لیکن بدعنوان آمر بھی بہتر نظام حکومت کے چلانے کے حامل ہو سکتے ہیں،اسی طرح بہترین ’’macroeconomic‘‘ پالیسی نے روس کو اپنے قدموں پر کھڑا رکھنے میں مدد دی۔چین میں بھی سنگل پارٹی حکومت ہے،لیکن انھوں نے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت ماہرین کی سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ وہاں کی اشرافیہ نے ایک براعظم جتنے ملک کو اس تیزی سے ترقی دی کہ اب دنیا یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ مستقبل میں دنیا پر چین کا غلبہ ہو گا۔
1800ء میں لوگ پیشگوئیاں کیا کرتے تھے کہ چین آنے والی صدی میں دنیا کی عالمی طاقت ہو گا، لیکن ہوا یوں کہ چین کی طاقت اپنے انجام کو پہنچ گئی اور امریکا عالمی طاقت بن گیا۔ لیکن 1800 ء میں کی جانے والی وہ پیش گوئی غلط ثابت نہیں ہوئی، بس صرف تاخیر سے پوری ہونے جارہی ہے۔
آمریت بظاہر مضبوط نظر آتی ہے لیکن ہوتی کمزور ہے، جب کہ مسائل کا گڑھ نظر آنے والی جمہوریت دیرپا ثابت ہوتی ہے۔ چین نے مستقل مزاجی سے کامیابیوں کا سفر طے کیا ہے، لیکن وقت کبھی بھی بدل سکتا ہے۔ایک وقت تھا جب چین پر Mao Zedong کی حکومت تھی،جس کا شمار تاریخ کے ظالم ترین اور تباہ کن حکمرانوں میں ہوتا تھا اور اس وقت لوگ کہا کرتے تھے کے چین کبھی تیزی سے ترقی نہیں کر سکتا، لیکن پھر ہوا اس کے بالکل برعکس۔اور اب بھی موجودہ صورتحال یکسر تبدیل ہو سکتی ہے۔
ژی جن پنگ نے جس طرح اختیارات کو مرکزی سطح پر مجتمع کیا اس کی بڑی وجہ چین میں پائے جانے والے مسائل بھی تھے۔ ایک آمرانہ حکومت کیلئےمعاملات کو کنٹرول کرنے کا سب سے بہتر حل یہی تھا کہ اختیارات کو ایک سطح پر مجتمع کیا جائے۔ اس طرح مختصر مدت کیلئےبہت سے فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں،لیکن چین مخالف قوتیں یہ سمجھتی ہیں کہ یہ مسائل کا حقیقی حل نہیں ہے۔فی الحال تو چین کو ایک مضبوط معیشت کی مدد حاصل ہے اور اس کے اثرورسوخ کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔مشرقی چین سے لے کر چین کے جنوبی سمندروں تک ،بحر ہند سے وسطی ایشیا تک اور افریقا سے لے کر لاطینی امریکا تک چین کے اثرورسوخ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دولت کی فراوانی اور مستقل مزاجی مل کر چین کی اندرونی اور بیرونی طاقت کو بڑھا رہی ہیں، جس سے چین اپنے حریفوں پر سبقت حاصل کر رہا ہے۔
اس موقع پر آسٹریلیا کی مثال سامنے رکھی جا سکتی ہے جو کہ لبرل اور مضبوط جمہوریت کا حامل ملک تھا، اس کے علاوہ وہاں سماجی ہم آہنگی کی فضا بھی موجودہے اور پھر یہ امریکا کے اتحادی ممالک میں بھی شمار ہو تا تھا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ چین کے اثرورسوخ کے دائرے میں آگیا۔یہاں گزشتہ ایک نسل سے چین کے اثرورسوخ میں مستقل اضافہ ہورہاہے۔جس کی بڑی وجہ معاشی استحکام کیلئےچین پر بڑھتا ہوا انحصار ہے، اس کے ساتھ ساتھ چین نے آسٹریلیا میں ایک طویل مدتی مہم چلائی جس کے تحت آسٹریلیا سیاسی طور پر چین کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا لیکن اس نے چین کے مفادات کی کہیں مخالفت بھی نہیں کی۔ تقریباً یہی حکمت عملی چین نے ایشیا اور یورپ میں اپنارکھی ہے،تاکہ ایک خطے ’’گرینڈیوریشیا‘‘کی بنیادرکھی جاسکے اور اس کامرکزبیجنگ ہو،نہ صرف یہ بلکہ یورپ کوبھی اٹلانٹک سے دورکردیا جائے۔
فی الحال توامریکاکی عالمی معاملات میں عدم توجہی چین کومضبوط کررہی ہے اوراس پر مستزادامریکی صدرٹرمپ کی جارحانہ تجارتی پالیسیاں خودامریکاکیلئے کوئی نیک شگون نہیں لیکن امریکا اب بھی دنیا کی طاقتور ترین قوم ہے۔ اس کے علاوہ ایک طرف تو امریکا نے چین کو کھلی چھوٹ دی،وہیں اس نے اپنے مفادات کیلئےبرازیل،بھارت،جاپان اوریورپ کو بھی ترقی کرنے میں بھرپور مدد کی تاکہ مستقبل میں جب بھی کبھی دو عالمی طاقتوں کے درمیان ٹکراؤ کی صورت پیدا ہو گی تویہ طاقتیں امریکاکی مدد کوپہنچیں گی لیکن امریکاکی ایران کے ساتھ حالیہ ایٹمی معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کے بعدیورپی یونین کے علاوہ دیگرممالک نے اس معاملے پر امریکاکاساتھ نہیں دیاجس کے بعدامریکاکوباقاعدہ دہمکی آمیزروّیہ اختیارکرناپڑاجوفی الحال کارگر ثابت نہیں ہورہا۔
اس وقت دیکھنایہ ہے کہ آیاچین کابڑھتاہوااثرورسوخ امریکاکی بالادستی اوراس کے عالمی کردار کومتاثرکرتے ہوئے آگے بڑھے گا؟اوراس کاجواب بالکل واضح ہے، چین کے اثرورسوخ میں حیرت انگیزطورپراضافہ ہورہاہے اوراس کے ساتھ چین کی بالادستی کااحیاءاس بات کاحق دیتا ہے کہ وہ عالمی طاقت بنے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا چین بقیہ ممالک کو اپنے زیر نگرانی کرتا چلا جائے گا،کیونکہ وہ ایسا کرسکتاہےیاپھرامریکاعالمی سپرپاور کاکرداراداکرتارہے گا؟تاہم یہ بات طے ہے کہ آئندہ جس نے بھی معاشی منڈیوں کوحکمت کے ساتھ فتح کرلیا،وہی عالمی سپرپاورکا حقدار ٹھہرے گا لیکن ان قوتوں سے بھی خبرداررہنے کی ضرورت ہے جواپنے مفادات کیلئے دنیاکوآگ لگانے کی حماقت کربیٹھیں اوراب تودنیاکوتاریک کرنے میں چند لمحے درکارہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں