ہم کہاں کھڑے ہیں؟

:Share

ابھی چند لمحے پہلے واٹس ایپ پربھارتی درندوں کے ہاتھوں کشمیرکےایک شہیدکےروشن اورمسکراتے ہوئے پرنورچہرہ کی تصویرموصول ہوئی جو اس عارضی زندگی کی بہاروں اورگلوں کی خوشبوں سے منہ موڑکردائمی بہار، سدا خوشبوؤں ومہک کے گلستانوں میں براجمان ہوگیاہے اوراپنے ہر تعلق رکھنے والوں کوچھوڑکراپنے مولاکے ساتھ مضبوط تعلق کارشتہ جوڑچکا ہے۔موت توکوئی نئی چیز نہیں۔موت تو ہر ایک کو آنی ہے۔موت کے قانون سے نہ تو کوئی نبی مستثنی ہے نہ کوئی ولی۔جو بھی آیا ہے اپنا مقررہ وقت پورا کرکے اس دنیا سے رخصت ہوجاتاہے۔موت زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ہم سب اس کی امانت ہیں،پھرکس کی مجال جواس میں خیانت کر سکے۔ کسی کااس بھری جوانی میں اس طرح حالتِ ایمان اورراہِ خدا میں قربان ہوجانا اس کے حق میں بڑی نعمت ہے اورپھرکیوں نہ ہو،ایسی موت تووصل حبیب اوربقائے حبیب کا خوبصورت سبب اورحسین ذریعہ ہے اورپھربقائے حبیب سے بڑھ کراورنعمت کیاہوگی۔
اس دنیامیں جوبھی آیاہے اسے یقینًاایک دن جاناہے اوراس دنیامیں آناہی درحقیقت جانے کی تمہیدہے مگربعض جانے والے اپنے ماں باپ،لواحقین اور اہل وطن کیلئے ایسی دولت اورفخروانبساط کی ایسی وراثت چھوڑجاتے ہیں کہ جس کے آگے خزائن وحشم سے مالامال شہنشاہ بھی سوفقیروں کے فقیراورسوکنگالوں کے کنگال لگتے ہیں۔اہالیان مقبوضہ کشمیر کے باغیرت اوربہادرماں باپ اپنی اولاد کے قلب وذہن کے اندرپچھلی کئی دہائیوں سے عملِ خیرکابیج بوچکے تھے،اس بیج پرمشیت کی برسائی ہوئی برسات نے بالآخرکس طرح عمل خیرکی لہلہاتی ہوئی کھیتی اگادی ہے۔اگراس فصل کی تقسیم شروع کردی جائے توسب کوہی اپنادامن تنگ نظرآئے گا۔ان نوجوانوں نے اپنے خونِ دل اورجان سے پائے رسولۖ کے نقوش کوایسااجاگرکیاہے کہ ہرکسی کواب اپنی منزل آسان دکھائی دے رہی ہے۔ ان نوجوانوں کی للہیت،اخلاص نیت اوربے لوث ادائے فرض نے ایک ہی جست میں تمام فاصلے عبورکرلئے ہیں جس کی تمناانبیا،اصحابہ اورصالحین نے ہمیشہ کی۔ان عظیم نوجوانوں کی یاداب تاقیامت تک کفر کے تاریک جزیروں پرایمانی قوت کے ساتھ کڑکتی اورکوندتی رہے گی۔
اس برخوردارکی شہادت نے جہاں اوربے شمارباتوں کاسبق یاددلایاہے وہاں ایک یہ بات بھی ہمارے ذہن نشین کروائی ہے کہ عالمِ اسباب میں سانس کاایک تموّج اورذرے کاایک حقیروجودبھی تخلیق اسباب اورترتیب نتائج میں اپناحصہ رکھتاہے۔جس طرح عمل بدکی ایک خراش بھی آئینہ ہستی کو دھندلاجاتی ہے اسی طرح عمل خیرکاایک لمحہ بھی عالم کے اجتماعی خیر کے ذخیرے میں بے پناہ اضافہ کردیتاہے اورلوحِ زمانہ میں ریکارڈہو کر کبھی نہ کبھی ضرورگونجتاہے اورمیزان نتائج میں اپناوزن دکھاتاہے اوریوںآخرت کوجب گروہ درگروہ اپنے رب کے ہاں حاضر ہونگے تویہ نوجوان بھی شہدا کے گروہ میں شامل اپنے رب کے ہاں اس شان سے حاضرہو گا کہ تمام عالم ان پر رشک کرے گا۔
اے عالم اسلام کے حکمرانو!
خداسے ہم نے بھی ملاقات کرنی ہے،خداجانے کب……؟خداجانے کہاں……؟اورکس حال میں ہم سب ہوں گے؟کتنی بڑی ملاقات ہوگی جب ایک عبد ذلیل اپنے معبود اکبرسے ملے گا!جب مخلوق دیکھے گی کہ خوداس کاخالقِ اکبراس کے سامنے ہے،خداکی قسم…..!کیسے خوش نصیب ہیں یہ نوجوان کہ جلوہ گاہ میں اس شان سے جائیں گے کہ اس ملاقات کے موقع پرخداکونذرکرنے کیلئے خداکا کوکوئی انتہائی محبوب تحفہ ان کے کفن میں موجودہو گا۔جی ہاں!ان کفنوں کی جھولیوں میں جن میں بدن اورسچے ایمان وعمل کی لاش ہوگی مگرشہادت کے طمطراق تمغے سے سجی ہوگی۔ان تمغوں کو خدائے برترکی رحمت لپک لپک کر بوسے دے گی اوراعلان ہوگا!
توحیدتویہ ہے کہ خداحشرمیں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے
کاش ہمیں بھی اس ملاقات اوریقینی ملاقات کاکوئی خیال آتااورتڑپادیتا،کاش ہم بھی ایسی موت سے ہمکنارہوجائیں جہاں فانی جسم کے تمام اعضا باری باری قربان ہو جائیں ، سب خداکیلئے کٹ جائیں،سب اسی کے پائے نازپر نثار ہوجائیں جس کے دستِ خاص نے ان کووجودکے سانچے میں ڈھالا ہے۔یقیناً ان نوجوانوں کے دھڑ شیطانی قوتوں کاشکارہوگئے ہیں مگراشک بارآنکھوں سے سو بارچومنے کے لائق ہیں کہ فرشتے ان کواٹھاکراللہ کے ہاں حاضرہوگئے ہیں اوران کی جوانیاں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ دنیا پرنہیں یہ آخرت پر نثارہوئی ہیں۔انہوں نے دنیاکی کسی چیزسے نہیں خود خداسے عشق کیا،انہوں نے دنیاکی ساری اشیا اورعیش وعشرت پرنہیں خودرسول اکرمۖ کی ذاتِ مبارک پرایمان کی بنیادرکھی،انہوں نے دنیاکی نشیلی چھاؤں میں نہیں بلکہ شہادت کے پرشوق سائے میں پناہ ڈھونڈی،انہوں نے زندگی کی دلفریب اورایمان کی شاہکارشاہراہ پراس طرح سفرکیاہے کہ زندگی سے ہٹ کرشہادت اورشہادت کے اس پارتک کچھ سوچنے کاکوئی سوال ہی نہیں تھا۔وہ شباب وحسن سے وجدکرتے ہوئے اللہ کے ہاں اس طرح حاضر ہوگئے ہیں کہ حسن وجوانی باربارایسی حسرت کرے۔
وہ زندگی اوردنیاپرجھومنے کی بجائے سچائی اورآخرت پرمرجانے کی رسم اداکرگئے تاکہ زمین وآسمان ان کی موت پرآنسوبہائیں لیکن خدااپنے فرشتوں کی محفل میں خوش ہوکہ اس کابندہ اس کی بارگاہ تک آن پہنچا۔دراصل کشمیرکوآزاددیکھنے والے ہرنوجوان کومعلوم ہوگیاہے کہ ان کاگھر اس دنیا میں کہیں نہیں بلکہ اس دنیامیں ہے جوجسم وجاں کاتعلق ٹوٹتے ہی شروع ہوتی ہے۔ایسی دنیا جہاں خودخدااپنے بندوں کامنتظرہے کہ کون ہے جو دنیاکے بدلے آخرت اورآخرت کے بدلے اپنی دنیافروخت کرکے مجھ سے آن ملے۔جہاں وہ جنت ہے جس کے گہرے اورہلکے سبزباغات کی سرسراہٹوں اورشیروشہد کی اٹھلاتی لہراتی ہوئی ندیوں کے کنارے خوف وغم کی پرچھائیوں سے دورایک حسین ترین دائمی زندگی،سچے خوابوں کے جال بن رہی ہے۔جہاں فرشتوں کے قلوب بھی اللہ کے ہاں پکار اٹھیں گے کہ خدایا…..!یہ ہیں وہ نوجوان جن کی ساری دنیاتیرے عشق میں لٹ گئی ہے،یہ سب کچھ لٹاکرتیری دیدکوپہنچے ہیں،ان کے قلوب میں یہ بات راسخ ہوچکی تھی کہ راہِ حق میں ماراجاناہی دراصل تجھ تک پہنچنے کاذریعہ ہے اور شہادت کے معنی ہی ہمیشہ زندہ رہناہے۔یہ توسب کچھ لٹاکراس یقین تک پہنچے ہیں!
اورہاں!کتناقابل رشک ہے ان نوجوانوں کایقیں اورایمان،جن پرملائکہ ایسی گواہی دیں گے اورکس قدررونے کے لائق ہیں ہمارے ایمان جن کیلئے ہمارے دل بھی گواہی دیتے دیتے کسی خوف سے چپ ہوجاتے ہیں۔کل جب میدان حشرمیں اشک ولہومیں نہائے ہوئے یہ نوجوان خداوندی لطف و اعزاز سے سرفرازکئے جارہے ہونگے،خداجانے ہم کہاں اورکس حال میں ہوں گے؟یقیناًان شہداء نے تودنیامیں بھی اپنے والدین اوراعزہ واقرباکو سرخرو کردیاجس کی بناپروہ سب دنیاوآخرت میں مبارکبادکے مستحق ٹھہرے ہیں۔اللہ ان تمام شہداکی شہادت قبول فرمائے اوراس کی جزادنیاو آخرت میں عطافرمائے اورمقبوضہ کشمیرسے اس ظلم وستم کی اندھیروں کودورفرمائے۔آمین وثم آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں