پھرکیابنے گا؟

:Share

آپ اگرموٹروے ایم ٹوپراسلام آبادکی طرف سے لاہورآئیں توٹول پلازہ پرایک درجن سے زیادہ بوتھ ہیں،ہربوتھ میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک منٹ میں چھ گاڑیاں گذرتی ہیں،اور یہی ایک بوتھ ایک گھنٹے میں360گاڑیوں کی گزرگاہ ہے۔اسی طرح بارہ عدد بوتھ سے4320گاڑیاں ایک گھنٹے میں گزرتی ہیں،اورچوبیس گھنٹوںمیں 103680گاڑیاں گزرتی ہیں،اسلام آبادسے لاہور تک ایک کارکاٹیکس1000ہزارروپے ہے اور اسی طرح بڑی گاڑیوں کاچارپانچ ہزارتک یہ ٹیکس چلاجاتاہے۔ہم اگر ایوریج ایک گاڑی کاٹیکس صرف1000ہزاربھی لگائیں،تواس حساب سے 24 گھنٹوں میں یہ پلازہ کم ازکم ساڑھے دس کروڑروپے جنریٹ کرتا ہے،اسی طرح ملک بھر کے موٹر ویزاورہائی ویزپران ٹول پلازوں کی تعد گن لیں اورپھر ان کوکروڑوں سے ضرب دیں توصرف ٹول ٹیکس کی مد میں روزانہ کے حساب سے اربوں روپے حکومت کے خزانے میں جمع ہوجاتے ہیں ۔آپ جس گاڑی میں سفرکررہے ہیں،اس میں پٹرول کی مدمیں کم ازکم ایک لٹر پر80روپے ٹیکس کاٹاجارہاہے،آپ حساب کریں کہ روزانہ لاکھوں گیلن کے حساب سے جوپٹرول ڈیزل کنزیوم ہورہاہے،اس کاٹیکس بھی روزانہ اربوں روپوں کے حساب سے ملکی خزانے میں جارہاہے۔آپ جس گاڑی میں سفر کررہے ہیں،اس کوجب خریداجاتاہے،توجتنی گاڑی کی قیمت ہوتی ہے،اتناہی اس پرسیلزٹیکس اورکسٹم ڈیوٹی بھرنی پڑتی ہے۔ آپ جس گاڑی کواپنے پاس رکھتے ہیں،اس کی سالانہ ایکسائزڈیوٹی بھی اربوں میں جمع ہوتی ہے۔

آپ کی بجلی کابل اگردس ہزارروپے ہے،تواصل بجلی کی قیمت3ہزارنکال کربقایا7ہزارروپے ٹیکس ہے،جوماہانہ ہرکنزیومرسے کاٹاجاتاہے اوراربوں کے حساب سے حکومت کے خزانے میں جمع ہوتاہے۔اسی طرح گیس کے بل پربھی اسی شرح سے ٹیکس لگ رہاہے اورخزانے میں جمع ہورہاہے۔ آپ ایک میڈیکل سٹورسے تین سوروپوں کی دوائی خریدرہے ہیں،ایک محتاط اندازے کے مطابق اس پرتقریبآ80 سے100روپے تک سیلز ٹیکس ہے جو خزانے میں جارہا ہے۔

آپ ہوٹل میں کھانا کھا رہے ہیں اور آپ کا پانچ ہزاربل آگیاہے،تو اس پرتقریبآ8سوکے قریب آپ سے ٹیکس کاٹاجائیگا۔آپ اپنے گھرکانقشہ پاس کروا رہے ہیں،اورآپ کسی بھی ڈویلپمنٹ ادارے کے دفترجائیں،تولوگوں کی قطاریں لگیں ہوئی ہوں گی،جن سے چالیس سے پچاس ہزارروپے فی نقشہ فیس جمع کی جائے گی۔ یہ بھی خزانے میں جمع ہوتا ہے ۔آپ جس گھرمیں رہ رہے ہیں،اس گھرکا سالانہ ٹیکس آپ نے خزانے میں الگ سے جمع کرواناہوگا۔ آپ گھر کے سوداسلف کی خریداری پربھی ٹیکس اداکررہے ہیں۔آپ پڑھ رہے ہیں ،اور اپنے لئے کتابیں کاپیاں اورسٹیشنری خرید رہے ہیں،ان پربھی آپ ٹیکس دے رہے ہیں ۔آپ کسی سیاحتی ٹورپرجارہے ہیں،توکئی جگہوں پرناکے لگے ہوتے ہیں،اورٹی ایم اے کے نام پرآپ سے ٹیکس لیاجاتاہے۔ آپ بینک میں اپنے پیسے جمع کرتے ہیں یانکالتے ہیں،اس پرآپ نے ٹیکس دیناہوگا،اورآپ جتنی مرتبہ بھی ایک ہی رقم نکالتے اورجمع کرتے رہیں گے، اپ اس پرٹیکس دیتے رہیں گے حتیٰ کہ آپ مرگئے،توآپ کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ بنوانے کیلئے بھی آپ کے عزیزواقارب کوٹیکس دے کرسرٹیفیکیٹ لینا پڑے گا۔اس کے علاہ حکومت کے پاس ایسے بے شماراثاثے ہیں،جنہیں بیچ کراربوں روپے حکومت کے خزانے میں جا رہے ہیں،جیساکے پچھلے دنوں اسلام آبادکے بلیوایریا میں سی ڈی نے اپناچندکنال کاپلاٹ آٹھ ارب روپے کابیچ دیا،یہ نہ پہلاپلاٹ تھااورنہ آخری ہے۔میں نہیں سمجھتاکہ میرے پاس اگرچندمرلے کاکمرشل پلاٹ ہے،تواس ایک پلاٹ سے میری زندگی شاندار گذرتی ہے بلکہ میرے آنے والی نسل بھی اس سے بھر پوراستفادہ کرتی ہے۔

میرے پاس اگرچھوٹاساکارخانہ ہوتوہماری اگلی نسلیں اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔ایک ٹرانسپورٹرکے پاس ایک آدھ بس یاٹرک ہوتا ہے تواس کی پوری فیملی کی کفالت اس سے ہوتی ہے۔مگرسوال یہ ہے کہ جس ملک میں اربوں کھربوں کے ٹیکس روزانہ کی سطح پر اکھٹے ہو رہے ہیں،وہ کیوں مفلوک الحال ہے اوردنیا کے سامنے ہاتھ پھیلارہا ہے بقول سابقہ وزیر اعظم آئی ایم ایف نے ناک کی لکیریں نکلواکربھاری شرائط پرصرف9ماہ کیلئے قرضہ دیاہے۔اب توحکمرانوں سے حساب کرناہوگااورہرشہری نے اٹھناہوگا،سیاسی جماعتیں بے شک کچھ بھی نہ کریں بلکہ بہترہے کہ اب اقتدارکے نام پرووٹ مانگنے والے ان لٹیروں کااحتساب کیاجائے ،ہم نے اس ملک کوبچاناہوگا اوراس کابہترین حل یہ ہے کہ ہم اپنے ووٹ کومقدس امانت سمجھتے ہوئے ان افرادکو منتخب کریں جن کاماضی کسی بھی قسم کی کرپشن،بددیانتی سے نہ صرف پاک ہوبلکہ خوفِ خدارکھنے والے ہوں۔ روزقیامت آپ سے یہ سوال ہوگاکہ جس امیدوارکوتم نے ووٹ دیکراس منصب تک پہنچایاتھا،اس کے ان تمام گناہوں میں آپ بھی شریک ہیں،توپھرکیا بنے گا؟پاکستان کے ایک بہت بڑے صحافی اورشاعرآغا شورش کشمیری نے سید ابوالاعلی مودودی کوایک خط لکھاجس میں انہوں نے کہامولاناتاریخ انسانی میں ہمیشہ باطل کی فتح ہوئی ہے۔مولانانے اس خط کے جواب میں جولکھاوہ پڑھنے کے لائق ہے۔

حق کے متعلق یہ بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ وہ بجائے خودحق،ہے،وہ ایسی مستقل اقدارکانام ہے جوسراسرصحیح اورصادق ہے۔اگرتمام دنیااس سے منحرف ہوجائے تب بھی وہ حق ہی ہے کیونکہ اس کاحق ہونااس شرط سے مشروط نہیں ہے کہ دنیااس کو مان لے،دنیاکاماننانہ مانناسرے سے حق وباطل کے فیصلے کامعیارہی نہیں ہے۔دنیاحق کونہیں مانتی توحق ناکام نہیں ہے بلکہ ناکام وہ دنیاہے جس نے اسے نہ مانااورباطل کوقبول کرلیا.ناکام وہ قوم ہوئی جس نے انہیں ردکردیااورباطل پرستوں کواپنارہنمابنایا۔اس میں شک نہیں کہ دنیامیں بات وہی چلتی ہے جسے لوگ بالعموم قبول کرلیں اوروہ بات نہیں چلتی جسے لوگ بالعموم رد کردیں، لیکن لوگوں کاردوقبول ہرگزحق وباطل کامعیارنہیں ہے۔لوگوں کی اکثریت اگراندھیروں میں بھٹکنااور ٹھوکریں کھاناچاہتی ہے تو خوشی سے بھٹکے اورٹھوکریں کھاتی رہے۔ہماراکام بہرحال اندھیروں میں چراغ جلاناہی ہے اورہم مرتے دم تک یہی کام کرتے رہیں گے۔ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں کہ ہم بھٹکنے یابھٹکانے والوں میں شامل ہوجائیں۔اللہ کایہ احسان ہے کہ اس نے ہمیں اندھیروں میں چراغ جلانے کی توفیق بخشی۔اس احسان کاشکریہی ہے کہ ہم چراغ ہی جلاتے جلاتے مرجائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

5 − one =