استقبال رمضان…….روزے کی حقیقی روح

:Share

روزہ”صبروضبط’ایثارو ہمدردی اورایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کی دعوت دیتاہے۔اسےتزکیہ نفس اورقربِ الٰہی کامثالی ذریعہ قراردیا گیا ہے.

اسلام دین فطرت ہے،اس نے ایسی جامع عبادات پیش کیں کہ انسان ہر جذبے میں اللہ کی پرستش کر سکے اور اپنےمقصدِ حیات کے حصول کی خاطر حیاتِ مستعار کا ہر لمحہ اپنے خالق و مالک کی رضاجوئی میں صرف کر سکے۔نماز،زکوٰۃ،جہاد،حج اورماہِ رمضان کے روزے ان ہی کیفیات کے مظہرہیں ۔اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:اے ایمان والو!تم پرروزے فرض کئے گئے ہیں جیسے پچھلی امتوں پر فرض ہوئے تھے تاکہ تم پرہیزگاربنو۔”(البقرہ:183)

مسلمانوں کورمضان المبارک کےعظیم الشان مہینہ کاشدت سے انتظاررہتاہے،اوراس کی تیاری شعبان المعظم کے مہینے سے شروع ہوجاتی ہے۔یہ مہینہ رحمت، برکت اورمغفرت والامہینہ ہے،نیکی اورثواب کمانے والامہینہ ہے،بخشش اورجہنم سے خلاصی کامہینہ ہے،اسی مہینہ میں بندے کواپنے رب سے قربت کاعظیم موقعہ ہاتھ آتاہے۔اس مہینے میں رضائے الٰہی اورجنت کی بشارت حاصل کرنے کےمواقع بڑھ جاتے ہیں،ذراتصورکیجئے جب آپ کے گھرکسی اہم مہمان کی آمد ہوتی ہے توہم اورآپ کیاکرتے ہیں؟ہم بہت ساری تیاریاں کرتے ہیں۔گھرکی صاف صفائی کرتے ہیں،گھرآنگن کو خوب سجاتے ہیں،خود بھی زینت اختیارکرتے ہیں اور اہل و عیال کوبھی اچھے کپڑے پہنواتے ہیں،پورے گھر میں خوشی کا ماحول ہوتاہ ے،بچے خوشی سے اچھل کود کرتے ہیں ۔ مہمان کی خاطرتواضع کیلئے ان گنت پرتکلف سامان تیارکئے جاتے ہیں۔ جب ایک مہمان کیلئےاس قدرتیاری تواللہ کی طرف سے بھیجاہوامہمان رمضان کامہینہ ہو تو اس کی تیاری کس قدر ہونی چاہیے۔

نبی کریم ﷺنے شعبان کے اخیرمیں اس مہینہ کی عظمت اورشان وشوکت کواس لیے بیان فرمایاتاکہ لوگوں کواس کی قدرومنزلت کاعلم ہوسکے اوروہ رمضان کے اعمال کوکما حقہ اداکرسکیں۔رمضان المبارک کامہینہ دراصل تربیت کامہینہ ہے،جس میں بھوکارہنے،اوردوسروں کی بھوک اورتکلیف کوسمجھنے کی تربیت ہوتی ہے۔سخت سے سخت حالات کا سامنا کرنے کی تربیت ہوتی ہے۔اللہ کی عبادت،اللہ کاذکر،اوراللہ کا دھیان حاصل کرنے کی مشق کی جاتی ہے۔اس کے روزے اورتراویح اس تربیتی مہینہ کانصاب ہے،اسی کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا کہ اےلوگو تم پر رمضان کےروزےفرض کئے گئے ہیں، جیساکہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے؛تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیداہو۔یعنی روزہ کامقصد نفس کی تربیت ہے،کہ آدمی کے اندر ضبط کی صلاحیت پیدا ہو، تقویٰ ہو،اوروہ اپنے آپ کوگناہوں سے بچاسکے۔ اس کورس پر اگر کوئی عمل کرلیتاہے تو بقیہ گیارہ مہینوں میں اس کیلئےعبادت کرنااورگناہوں سے بچنا آسان ہو جاتاہے۔

رمضان کے روزوں کامقصدجیساکہ مذکورہ آیات میں بیان کیاگیاہے،پرہیزگاری کاحصول ہے۔ماہِ رمضان کے ایّام ایک مومن کی تربیت اورریاضت کے ایّام ہیں۔ وہ رمضان کے روزوں اورعبادات سے اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرسکتا ہے ۔مسلمان حضورِ اکرم ﷺسے محبت کااظہارآپ کی پیروی اور اتباع سے کرتاہےاور اپنی روح ونفس کاتزکیہ کرتاہے،تاکہ زندگی کے باقی ایّام میں وہ تقویٰ اختیارکرسکے اوراپنےمقصدِحیات یعنی اللہ کی بندگی اوراس کی رضاجوئی میں اپنی بقیہ زندگی کے دن بسرکرسکے۔دیکھاجائے توتمام عبادات انسان کے کسی نہ کسی جذبےکوظاہرکرتی ہیں۔نمازخوف کو،زکوٰة رحم کو، جہاد غصہ وبرہمی اورغضب کوحج تسلیم ورضاکواورروزہ اللہ تعالی سے محبت کوباقی عبادات کچھ اعمال کوبجالانے کانام ہیں،جنہیں دوسرے بھی دیکھ لیتے ہیں اور جان لیتے ہیں۔مثلاًنماز رکوع وسجودکانام ہےاوراسے باجماعت اداکرنے کاحکم ہے،جہادکفارسے جنگ کا نام ہے،زکوٰة کسی کوکچھ رقم یامال دینے سے ادا ہوتی ہے لیکن روزہ کچھ دکھاکرکام کرنے کا نام نہیں بلکہ روزہ توکچھ نہ کرنے کانام ہے۔وہ کسی کے بتلائے بھی معلوم نہیں ہوتابلکہ اس کوتووہی جانتاہے ، جورکھتاہے اورجس کیلئے رکھاگیاہے ۔ لہنداروزہ بندے اوراللہ کے درمیان ایک رازہے،محب صادق کااپنے محبوب کے حضورایک نذرانہ ہے جوبالکل خاموش اورپوشیدہ طورپرپیش کیاگیا ہے۔اسی لئے تونبی اکرمﷺنے فرمایاکہ اللہ کریم نے اپنے روزے داربندوں کیلئے ایک بے بہاانعام کااعلان فرمایا ہے،وہ یہ کہ”روزے دار”روزہ میرے لئے رکھتا ہے،اورمیں خوداس کی جزاہوں۔اللہ رب العزت خودکوجس عمل کی جزافرمارہاہوتواس کی عطااور انعام واکرام کاکیااندازہ ہوسکتاہے۔روزہ دراصل بندے کی طرف سے اپنے کریم مولاکے حضورایک بے ریاہدیہ ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اتنے عظیم انعام واکرام کااعلان فرمایاہے۔

رمضان المبارک کے بہت سے فضائل وخصائص ہیں،ان میں سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا، اور قرآن پاک میں سال کے تمام مہینوں میں صرف ماہِ رمضان کانام صراحتاًآیاہے۔اس سے رمضان المبارک اورقرآن پاک میں گہری مناسبت اورزیادہ تعلق ثابت ہوتاہے، قرآن اوررمضان المبارک میں ایک گہری نسبت کاایک پہلویہ بھی ہے کہ اس ماہِ مبارک میں بالخصوص شب وروزقرآنِ کریم کی زیادہ تلاوت ہوتی ہے۔ماہِ رمضان المبارک وہ ہے جس کی شان میں قرآن کریم نازل ہوا،دوسرے یہ کہ قرآنِ کریم کے نزول کی ابتداءماہِ رمضان میں ہوئی۔تیسرے یہ کہ قرآنِ کریم رمضان المبارک کی شبِّ قدرمیں لوحِ محفوط سے آسمان سے دنیامیں اتاراگیااوربیت العزت میں رہا۔یہ اسی آسمان پرایک مقام ہے،یہاں سے وقتاً فوقتاً حسبِ اقتضائے حکمت جتنا منظورِالٰہی ہوا،حضرت جبریل امین علیہ السلام لاتے رہے اوریہ نزول تقریباً تئیس(23)سال کےعرصے میں پوراہوا۔

بہر حال قرآنِ مجید اور ماہِ رمضان المبارک کا گہرا تعلق ونسبت ہرطرح سے ثابت ہے اوریہ بلا شبہ اس ماہِ مبارک کی فضیلت کو ظاہرکرتاہے۔روزہ اور قرآن مجید دونوں شفیع ہیں اورقیامت کے دن دونوں مل کرشفاعت کریں گے۔حضرت عبداللہ بن عمرراوی ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشادفرمایاکہ روزہ اورقرآن مجیدبندے کیلئے شفاعت کریں گے۔روزہ کہے گاکہ اے میرے رب!میں نے کھانے اورخواہشوں سے دن میں اسے روکے رکھا،تو میری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما، قرآن کہےگاکہ اے میرے رب! میں نے اسے رات میں سونے سے بازرکھاتومیری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔دونوں کی شفاعتیں قبول ہوں گی۔

حضورِ اقدسﷺنے ارشاد فرمایا کہ رمضان برکت کامہینہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پرفرض کئے ہیں،اس میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اورسرکش شیطانوں کے طوق ڈال دیئے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہترہے جو اس کی بھلائی سے محروم رہا،وہ کل بھلائی سے محروم رہا۔صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ”آدمی کے ہرنیک کام کابدلہ دس سے سات سوگناتک دیاجاتاہے،اللہ تعالیٰ نے فرمایامگرروزہ میرے لئے ہے اوراس کی جزامیں خوددوں گا کیونکہ بندہ اپنی خواہشات اورکھانے پینے کومیری وجہ سے ترک کرتا ہے۔

روزہ دارکیلئے دوخوشیاں ہیں،ایک افطارکے وقت اورایک اپنے رب سے ملنے کے وقت اورروزے دارکے منہ کی بواللہ عزوجل کے نزدیک مشک سے زیادہ پاکیزہ(خوشبودار)ہے اورروزہ ڈھال ہے اورجب کسی کاروزہ ہوتونہ وہ کوئی بے ہودہ گفتگوکرے اورنہ چیخے،پھراگراس سے کوئی گالی گلوچ کرے یالڑنے پر آمادہ ہوتویہ کہہ دے کہ میں روزہ سے ہوں۔

اس ماہِ مبارک کی خصوصی عبادت روزہ ہےجس کامقصد تزکیہ نفس یعنی اپنے نفس کوگناہوں سے پاک کرنااورتقویٰ حاصل کرناہے۔دوسرے لفظوں میں گناہوں سے بچنااورنیکیوں کی طرف رغبت کرناہے۔رسول اللہ ﷺکافرمان ہے کہ جس نے ماہِ رمضان المبارک کے روزے ایمان واحتساب کے ساتھ رکھے اورجس نے رمضان میں نمازِ تراویح اورایمان واحتساب کے ساتھ شب بیداری کی،اللہ تعالیٰ اس کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیتاہے۔

رمضان المبارک کا اصل استقبال یہ ہے کہ اپنی مصروفیات کوکم سے کم کرلیاجائے اوراپنے آپ کوعبادت کیلئےفارغ کرلیاجائے۔تین سال کے بعدکرونااور لاک ڈاؤن کے اختتام پرملنے والے فرصت کے لمحات کوغنیمت سمجھناچاہیے کہ اس وباسے ہم اپنے بڑے قیمتی دوستوں اورعزیزوں سے محروم ہوگئے ۔ یقیناً اس وباکے دوران رمضان المبارک میں اللہ کے ساتھ لولگانے کی شاید اتنی فرصت نہ مل پائی ہو،جتنی اس بارحاصل ہے،چنانچہ ہم ان لمحات کو رمضان المبارک کے قیمتی بنانے میں اس طرح استعمال کریں کہ اللہ تعالیٰ راضی ہوجائیں اورہمیں اپنے مہمان خانے جنت الفردوس میں یقینی داخل کرنے کافیصلہ فرمالیں اورہمارایہ ماہ مبارک ہماری نجات کاوسیلہ بن جائے۔

اس مہینہ میں روزہ کے مقصدِاصلی”تقویٰ“اختیارکرنے کاپکاعزم کیاجائے،اورابھی سے اپنے تمام گناہوں سے سچے دل سے توبہ واستغفارکیاجائےاوریہ عہدکیا جائے کہ یہ پورامہینہ بالخصوص اوراس کے بعدکی جتنی بھی زندگی باقی ہے بالعموم گناہوں سے بچتے ہوئے گزاروں گا۔حلال رزق کے حصول کا اہتمام اس طریقے سے کیاجائے کہ ہماری کمائی میں حرام کاایک پیسہ بھی شامل نہ ہونے پائے،یادرکھیں کہ اگرایسانہ ہوا،یعنی دن بھرروزہ رکھ کربھوک وپیاس کی مشقت کوبرداشت کیااوررات میں حرام مال سے افطارکیاتواس نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں اپنے روزے کے اجرکوبالکل ضائع کردیا: جناب نبی اکرمﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسے بندے کے بھوکاپیاسارہنے کی اللہ کوکوئی ضرورت نہیں،لہٰذا بالخصوص اس ایک مہینہ میں اوربالعموم ساراسال ہی حرام روزی سے ضرور بچنے کی ترتیب بنائی جائے۔

ایک بہت ہی زیادہ اہم کام یہ ہے کہ اپنے آپ کوان گناہوں سے دورکرناہے جن کی وجہ سے اس عظیم الشان رحمتوں،برکتوں اورمغفرتوں والے مہینے میں بھی مغفرت نہیں ہوتی،اوروہ چارگناہ ہیں،1:والدین کی نافرمانی،2: قطع تعلقی،3:دلوں کاکینہ وبغض،4:شراب کاپینا،ابھی سے اپنے گردوپیش پرنظر ڈالیں اور اگراپنے کسی عزیزیادوست کے اندرایسی کسی بیماری پائے جانے کاعلم ہوتواس کے سامنے بھی ہاتھ جوڑیں کہ وہ بھی ان گناہوں سے نکل آئے،یقیناًہمارایہ فعل اس کے اوپربہت بڑااحسان ہوگا۔

اس ماہِ رمضان المبارک کاتقدس اوراحترام کرناسب مسلمانوں کاانفرادی اوراجتماعی فریضہ ہے۔یادرکھئے جس طرح قرآنِ کریم رمضان المبارک کی شبِّ قدرمیں لوحِ محفوط سے آسمان سے دنیامیں اتاراگیا،اسی رات کواس دنیاکے نقشے پرپاکستان کامعرضِ وجودمیں آناایک معجزے سے کم نہیں۔اس لئے ہم سب کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ رمضان المبارک کے شب وروزکی عبادات میں اللہ تعالیٰ کے اس انعام کابھی شکرادا کریں لیکن کیاکریں یہ بات کہے کالم بھی مکمل نہیں ہوتا کہ رمضان المبارک کی آمدپرجہاں کچھ بدبختوں نے ذخیرہ اندوزی کرکے بیچاری عوام کومزیدمہنگائی کاجوتحفہ دیاہےاورحکومت نے جس طرح ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے وہاں ان ظالم ذخیرہ اندوزوں کوکڑے ہاتھوں لیکران کی بیخ کنی کرکے غریب اوربیکس عوام کومہنگائی کی لعنت سے بچاتی لیکن وہ توان دنوں عدم اعتمادکی تحریک کوناکام کرنے اوراپنے اقتدارکوبچانے کیلئے اپنے حواریوں کے ساتھ ملک کے خلاف ہونے والی سازش کاذکرتوکررہے ہیں لیکن اس وقت ملک میں ان ذخیرہ اندوزوں نےکیاقیامت ڈھارکھی ہے،اس کی طرف کسی کی کوئی توجہ نہیں۔اس وقت ملک میں اپوزیشن اورحکومتی بے وقت راگنی نے اہل وطن کوسخت صدمے سے دوچارکررکھاہے،ایک دوسرے پرالزامات کی بھرماراوراپنےدفاع میں زمین وآسمان کے قلابے ملائے جارہے ہیں جبکہ برطانیہ میں ہربڑے سٹورمیں رمضان المبارک کی آمدپرروزمرہ کی خوردہ نوش کی قیمتوں کونصف قیمت تک سستاکردیاگیاہے۔ پاکستانی عوام آسمان کی طرف دیکھ کربڑی بے بسی کے ساتھ کسی ایسے مسیحا کی طرف دیکھ رہی ہے جوان ظالموں اوربدعنوانوں سے ان کو نجات دلوائے۔میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں رمضان کریم کی برکتوں اور رحمتوں سے مستفیض ہونے کا سلیقہ اورتوفیق عنائت فرمائے۔ثم آمین

میری طرف سے تمام قارئین کو ماہِ رمضان مبارک ہو!میری اللہ سے دعاہے کہ ہماری خطاؤں کومعاف فرمائے اوراس ماہِ رمضان کااحترام اورحق اداکرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں