پانی کاکہرام

:Share

اس وقت پوری دنیاموسموں کے تغیروتبدل اورکرۂ ارض کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث آبِ قلت کاشکارہے لیکن پاکستان کیونکہ بھارت کی آبی جارحیت کاشکاربھی ہے،اس لئے ہمیں قلت آب کاکچھ زیادہ ہی سامنا ہے۔عالمی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق دنیابھرمیں قلتِ آب کے شکار ممالک میں پاکستان تیسرے نمبرپرآچکاہے۔ اس کی اہم وجہ ایک جانب بھارت کی آبی جارحیت ہے توساتھ ہی ہماراآبی ذخیرہ نہ کرنے اورپانی کا غیر مناسب استعمال کاجرم عظیم بھی ہے۔گزشتہ برس پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں واپڈاکے چیئرمین مزمل حسین نے انکشاف کیاتھاکہ پاکستان میں ہرسال 25/ارب مالیت کاپانی ضائع کردیاجاتاہے۔چیئرمین کاکہناتھاکہ پاکستان کے دریاؤں میں ہرسال 1415 ایکڑفٹ پانی ہی مناسب طریقے سے محفوظ کیاجاتاہے۔پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی ذخائر(پی سی آرڈبلیوآر)نے بھی متنبہ کیاتھاکہ2025 ءتک پاکستان میں پانی کی شدید قلت پیداہوجائے گی اورخشک سالی کاخطرہ بڑھ جائے گا۔
پاکستان کے قیام کے وقت ملک کے ہرشہری کیلئے پانچ ہزارچھ سوکیوبک میٹرپانی تھاجواب کم ہوکرایک ہزارکیوبک میٹررہ گیاہے اورہرسال 2025ء تک یہ آٹھ سوکیوبک میٹررہ جائے گا۔ حکمراں طبقے کی جہاں یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پانی کوذخیرہ کرنے کیلئے چھوٹے اوربڑے ڈیم تعمیر کرے،وہیں شہریوں کابھی فرض ہے کہ وہ پانی کے استعمال میں حددرجہ احتیاط اورکفائت شعاری اپنائیں۔پانی زندگی ہے اورزندگی سے بڑھ کردنیا میں کچھ بھی نہیں ہے۔پانی اللہ کی نعمت اوراس کاضیاع کفران نعمت ہے۔دیکھنے میں آیاہے کہ ہم اپنے گھروں،دفاترسمیت ہرجگہ پانی ضائع کرتے ہیں۔ہوٹلوں،ریستورانوں اوردفتروں میں آدھاگلاس پانی پیتے اورباقی ماندہبیدردی کے ساتھ ضائع کردیتے ہیں۔ہوناتویہ چاہئے کہ ہم پانی اتناہی لیں جتنی ہمیں پیاس ہے اوراگرپیاس نہ بجھے توپھرپانی مزیدلے لیں مگراسے ضائع کرنے سے بازرہیں۔گھروں میں خواتین برتن،کپڑے دھوتے ہوئے پانی کابے انتہاء ضیاع کرتی ہیں۔مردحضرات کوچاہئے کہ وہ گھرکی خواتین کوپانی کے ضیاع سے روکیں اورملک میں پانی کی قلت کے بارے میں ضرور آگاہ کریں اورخواتین کو چاہئے کہ وہ اپنے گھروں میں اپنے بچوں اورگھرمیں کام کرنے والوں کوبھی پانی کے استعمال کے معاملے میں سنجیدگی کے ساتھ سمجھائیں اورپانی کی اہمیت کے حوالے سے آگاہی دیں کیونکہ یہ عام مشاہدہ ہے کہ پانی ضائع کرنے میں بچے اپناثانی نہیں رکھتے۔ نہاتے وقت ہم پانی کوآبشار بنا کرنہاتے چلے جاتے ہیں ،جتنے پانی سے درجنوں افرادغسل فرمالیں اتناپانی فردواحدنالیوں کی نذر کردیتاہے۔غسل خانے میں ہم پانی کھول کر بیٹھے رہتے ہیں اورحدتویہ ہے کہ پینے کے پانی سے لبِ سڑک اپنی گاڑیاں دھوتے نظرآتے ہیں۔
حکومت کونئے نئے ذخائرکی تعمیرپرتوجہ دینالازم ہے حالانکہ اس ضمن میں کالاباغ ڈیم بنیادی اہمیت کاحامل ہے جس کوتعمیرکرکے ہم مون سون کے دنوں میں سیلابی پانی سے بھرکر ایک جانب سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں اورساتھ ساتھ ہی اس اس جمع شدہ پانی سے کاشتکار ی میں مددلے سکتے ہیں بلکہ سستی ترین سالانہ پچاس ہزارمیگاواٹ بجلی پیداکرکے نہ صرف خودکفیل ہوستے ہیں بلکہ اسے فروخت کرکے ملکی قرضوں کے بوجھ سے بھی نجات حاصل کرسکتے ہیں۔اس کے باوجودہمیں کالاباغ ڈیم کانام پسندنہیں تواس کانام تبدیل کرکے پاکستان ڈیم رکھ کراس کی تعمیرمیں مزیدمجرمانہ تاخیر سے بچیں۔ملک میں پانی کی ہربوندبچانے کیلئے دیگر ڈیموں کی بھی اشدضرورت ہے۔اس ط رح جب جگہ جگہ آبی ذخائر تعمیرہوں گے توان کاپانی زیرزمین جائے گا،اس طرح زیرزمین آبی سطح میں کماحقہ فرق پڑے گااورزیرزمین کم ہوتی آبی سطح میں بھی کمی ہو گی۔
اس کے ساتھ ہی ہمیں بھارتی آبی جارحیت پربھی عملی توجہ دیناہوگی اوراس سے قبل کہ وہ اضافی ڈیم کی تعمیرمکمل کرے تب ہم احتجاج کریں ، ہمیں ابتداء ہی سے خصوصی حکمت عملی اختیار کرکے اس کی تعمیرکوروکنے کی کوشش کرنی چاہئے جیسے اب کشن گنگاڈیم کے خلاف ہمارا احتجاج رائیگاں جارہاہے کیونکہ بھارت کشن گنگاڈیم کی تعمیرمکمل کرچکاہے اوراس ڈیم کی تعمیرسے ہمارے تمام دریاؤں کے پانی پربھارت کاکنٹرول ہوجائے گااوروہ جب چاہے ہماراپانی روک کرہمیں بلیک میل کرناشروع کردے گااوراس کے جواب میں ہم کچھ بھی نہ کرسکیں گے۔ہماری ہر حکومت کویہ اپنے ذہن میں یہ بات بٹھالینی چاہئے کہ ہمیں ہرحالت میں اپناپانی حاصل کرنا ہے،اگربھارت ہماراپانی روکنے کیلئے کسی روایتی یا ایٹمی جنگ کے خدشات کوخاطرمیں نہیں لا رہاتویہ محض ہماری ذمہ داری نہیں ہے کہ ہم جنگ کے خطرات کے پیش نظربھارت کی ہر جارحیت اورزیادتی پرامن کامظاہرہ کرتے رہیں ، صبراور برداشت کی بھی ایک حدہوتی ہے اورجہاں تک بھارت کا سوال ہے تووہ حدکب کی گزر چکی ہے۔ بھارت کسی ٹوٹے ہوئے جوتے کی مانند پھسلتا ہی جارہاہے اوراب وقت آگیاہے کہ ہم اس کے کان اینٹھتے ہوئے راہِ راست پرلائیں اوریہ امربھی یقینی ہے کہ جب تک ہم بھارت کے کان اینٹھ کراسے راہِ راست پرنہیں لاتے ،اس وقت تک وہ سیدھانہیں ہوگا۔ ہاں ہم ذراسراٹھاکراسے صرف گھور دیکھ لیں توپھر دیکھیں بنیاکیسے سیدھا ہوتا ہے مگربنیادی ضرورت یہی ہے کہ ہم سیدھے ہوجائیں۔
جہاں تک وطن عزیزمیں پانی ضائع ہونے کاتعلق ہے تواس ضمن میں حکومت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کوفراہمی آب کے قدیم زنگ آلود ٹوٹےپھوٹے کہنہ پائپوں سے نجات دلائے اوراس کام کیلئے نئے جدیدکوالٹی کے پائپ بچھائے جائیں جن کی تاعمرگارنٹی اوروہ ہرقسم کے زنگ سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔اس میں عوام کیلئے جتناپانی چھوڑاجائے گاوہ پوری طرح ان کوپہنچ جائے گا۔اس لے زیرزمین پائپوں کی فوری مرمت یاتبدیل کرنے کی فوری ضرورت ہے کیونکہ خاص طورپرملک کے سب سے بڑے شہر کراچی جہاں پانی کاکہرام مچ گیاہے،وہاں کراچی میں بورڈحکام جب بھی کسی علاقے میں زیادہ پریشرسے پانی چھوڑتے ہیں وہاں جگہ جگہ پانی رسنے لگتاہے اوروہ میٹھا پانی عوام کی پیاس بجھانے کی بجائے سڑکوں،گلیوں اورشاہراہوں پرکھڑاعوام کامنہ چڑارہاہوتاہے ۔
اگرشہرمیں پانی کی قلت ہے توپھرہزاروں کی تعدادمیں منرل واٹرکہہ کر فروخت کرنے والی کمپنیوں اورکارخانوں کے پاس پانی کہاں سے آتاہے، اور کون اسے فروخت کرتاہے؟؟ حکومت اورمتعلقہ اداروں کوا س جانب بھی توجہ مبذول کرنی چاہئے کیونکہ ملک بھرمیں منرل واٹرکاکام بھی زور شورسے جاری ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ ہم جب بھی پیسے دیکرمنرل واٹرکی بوتل خریدتے ہیں تواس کی ایک بھی بوندضائع نہیں کرتے لیکن جب سرکاری پانی کم قیمت یامفت میں ملے تواسے بیدردی سے استعمال کرتے ہیں۔شہریوں کو سوچنا چاہئے کہ اگرکل کلاں ایساوقت آجائے جب ہمیں چلوبھرپانی بھی خریدناپڑے تب ہم پانی کی قدرکریں گے۔بہتریہی ہے کہ وہ وقت آنے سے پہلے پانی کی قدرکرناشروع کردیں کیونکہ آج نہیں توکل ہمیں بہرحال قلت آب کاسامنابھی کرناپڑے گااورمقابلہ بھی!اگرہم مصیبت سرپرآنے کے بعداس سے مقابلے کے جتن کریں گے توبہت وقت ضائع ہوچکا ہوگا۔اس لئے بہترہوگاکہ وقت آنے سے پہلے ہی آنے والی مصیبت کے مقابلے کی تیاری شروع کردیں تاکہ وقت پڑنے پرپانی کے کہرام سے بچ سکیں۔
پاکستان میں نئے ڈیم کی تعمیراورقلت آب کے سنگین مسئلے پرقابوپانے کی مہم عروج کوپہنچ چکی ہے۔اس حوالے سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثارنے نہ صرف بڑااعلان کردیاہے بلکہ دونئے ڈیموں کی تعمیرکیلئے اپنی جیب سے عطیہ دیکران کی تعمیرکیلئے قوم میں ایک نئے جذبہ کو اجاگر کر دیاہے۔چیف جسٹس کاکہناہے کہ پانی ہمارے بچوں کابنیادی حق ہے اورہماری ترجیحات میں سے سب سے اہم پانی ہے۔بھارت کے کشن گنگاڈیم سے نیلم،جہلم خشک ہوگیاہے۔ہم نے اپنے بچوں کاپانی نہ دیاتوہم ان کے مجرم ہوں گے؟عدالت عظمیٰ میں ایک درخواست کے ذریعے کالاباغ ڈیم پرریفرنڈم کی استدعاکی گئی ہے،اس پرعدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیاہے جبکہ سپریم کورٹ رجسٹری اسلام آباد، پشاور اورکوئٹہ میں پانی کے اہم ترین مسئلے پر درخواست کی سماعت کرے گی توتوقع کی جارہی ہے کہ اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے بھی مثبت جواب بھی سامنے آچکاہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں