ٹرائیکااورپاکستانی ممکنہ انتخابات

:Share

پاکستان کے اندرونی معاملات میں بھارت کی مداخلت کے عمل کوسمجھنے کیلئےاس کے صحیح تاریخی پس منظرکامطالعہ ضروری ہے۔پاکستان کے خلاف بھارت کے عنادکااصل سبب ہندوستان کومتحدرکھنے میں کانگریس قیادت کی کوششوں کی ناکامی تھا۔ہندوؤں کیلئےپاکستان کی تخلیق دراصل بھارت ماتاکودولخت کرنے کے مترادف تھی۔اسی لیے انہوں نے تقسیم ہند کے نظریے کوکبھی بھی دل سے قبول نہ کیا۔”اکھنڈبھارت”کاخواب ہمیشہ سے ان کااجتماعی آدرش رہاہے۔چنانچہ پاکستان میں پیداہونے والے1971ءکے بحران نے بھارت کواپنی اس دیرینہ خواہش کی تکمیل کیلئےبہترموقع فراہم کیا۔بھارت کویقین تھاکہ ایساموقع دوبارہ نہیں آئے گاچنانچہ اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کیلئےبھارت نے تمام مسلمہ اقدارکوخیربادکہہ دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے تقسیم کواس امیدکے ساتھ قبول کیاتھاکہ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست حالات کامقابلہ نہیں کرسکے گی اورتھوڑے ہی عرصہ میں دم توڑجائے گی۔بقول نہرو “پاکستان کی تخلیق ایک عارضی اقدام ہے اوریہ آخرکارمتحدہ ہندوستان پرمنتج ہوگی۔جوزف کاربل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان ناقابل عمل مذہبی نظریے کی حامل قرون وسطیٰ کی ایک ریاست ہے۔ایک وقت آئے گاکہ بھارت کے ساتھ اس الحاق ضروری ہوجائے گا۔آل انڈیاکانگریس کمیٹی نے 14جون1947ءکوایسے ہی جذبات کااظہارکرتے ہوئے اپنی قراردارمیں کہاتھاکہ ہندوستان کی صورت گری اس کے جغرافیے، پہاڑوں اورسمندروں نے کی ہے اورکوئی انسانی کوشش اس کی ہیئت میں تبدیلی نہیں کرسکتی،نہ اس کی حتمی منزل کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے۔ہندوستان کاجونقشہ ہمارے خوابوں کی سرزمین ہے وہ ہمارے دلوں اوردماغوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی دیانت داری سے یہ سمجھتی ہے کہ جب جذبات کایہ طوفان کم ہوگاتوہندوستان کے مسئلے کااس کے صحیح پس منظرمیں جائزہ لیاجاسکے گااوردوقوموں کے باطل نظریے کوکوئی حامی نہیں مل سکے گا۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی یہ قراردادپاکستان کے ہندوستانی رہنماؤں کے رویے پر ہمیشہ سایہ فگن رہی۔اس قراردارپرتقریرکرتے ہوئے مولاناابوالکلام آزادنے کہاکہ تقسیم کے عمل سے صرف ہندوستان کانقشہ متاثر ہواہے لوگوں کے دل تقسیم نہیں ہوئے،اورمجھے یقین ہے کہ یہ تقسیم عارضی ثابت ہوگی۔گاندھی نے کہا:کانگریس پاکستان کی مخالف تھی اوروہ ان لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ہندوستان کی تقسیم کی ثابت قدمی سے مخالفت کی۔

مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی اورشیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری پربھارت نے فوری ردِّعمل کااظہارکیا۔بھارتی خوش تھے کہ ان کادشمن پاکستان مصیبت میں مبتلاہے۔27مارچ کوجب بھارتی وزیراعظم اندراگاندھی نے سرکاری طورپربنگالیوں سے اپنی ہمدردی کااظہارکیاتواُس وقت تک ایک بھی بنگالی مہاجرسرحدپارکرکے بھارت نہیں پہنچاتھا۔بھارتی مداخلت کے پس پشت کارفرماعزائم اورجذبات کااظہار27مارچ کولوک سبھااورراجیہ سبھامیں اندراگاندھی کے خطاب سے ہوتاہے۔انہوں نے کہا: ”مشرقی بنگال میں حالات بدل چکے ہیں،ہم نے نئی صورت حال کوخوش آمدیدکہاہے ، ہم حالات پرمسلسل نظررکھے ہوئے ہیں اورہم نے ممکنہ حدتک رابطہ قائم کررکھاہے،معززارکان بخوبی سمجھتے ہیں کہ اس موقع پرحکومت کیلئےاس سے زیادہ کہنا ممکن نہیں۔ میں ان فاضل اراکین کوجنہوں نے سوال کیاہے کہ کیافیصلے بروقت کیے جائیں گے،یقین دلاناچاہتی ہوں کہ اس وقت ہمارے لیے اہم ترین کام یہی ہے۔اس مرحلے پرہماراردِّ عمل صرف نظری نہیں ہوناچاہیے”۔مشرقی بنگال میں اپنی گہری دلچسپی کااظہارکرتے ہوئے انہوں نے اس امرکااظہارکیاکہ بھارتی حکومت مناسب وقت پرعملی اقدامات سے گریزنہیں کرے گی۔وقت آنے پراندرانے اپنے الفاظ کوسچ کردکھایا۔

تقسیم کے بعدبھارتی حکومت نے پاکستان کی سالمیت اوریکجہتی کوگزندپہنچاناتھی۔1971ءمیں مشرقی پاکستان کے دگرگوں حالات نے وہ زریں موقع فراہم کردیاجس کابھارت کوبرسوں سے انتظارتھا۔بھارتی پارلیمنٹ کے رکن سبرامنیم سوامی نے پاکستان کے بارے میں بھارتی رویے کاتجزیہ کرتے ہوئے لکھاکہ حالات کے معروضی مطالعہ سے ظاہرہوگاکہ بھارت نے پاکستان کومہاجرین کے مسئلے سے نمٹنے کیلئےٹکڑے ٹکڑے نہیں کیا۔یہ ایک لغوتصورہے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف جنگ کاآغازقوم پرستوں کی تشفی اوراس معقول نقطہ نظرکے پیش نظرکیاتھاکہ پاکستان کی تقسیم بھارت کے طول المیعادمفاد میں ہے۔

بھارت نے پروپیگنڈہ کے محاذپربھی پاکستان سے سبقت لے جانے میں کامیابی حاصل کی۔اس نے صورت حال سے بھرپور فائدہ اٹھایااورغیرملکی پریس کی مددسے خودکوبنگالیوں کے نجات دہندہ کے طورپرپیش کیا۔بھارت کی بہترپروپیگنڈہ مشینری کے علاوہ اورعوامل بھی پاکستان کیلئےکامیابی سے اپنامؤقف پیش کرنے کی مساعی میں رکاوٹ کاباعث بنے۔ان میں سے بعض عوامل یہ تھے:
(1)بھارت سب سے بڑاایشیائی جمہوری ملک تھاجبکہ پاکستان میں فوجی حکومت قائم تھی۔
(2)مغرب میں ذرائع ابلاغ کے بڑے حصے پرقابض صہیونی لابی نے بھارت کاکھل کرساتھ دیا۔تل ابیب(اسرائیل)نے مغربی دنیامیں بسنے والے اپنے پیروکاروں کویہ پیغام بھجوادیا تھاکہ وہ بنگلہ علیحدگی پسندوں کی اخلاقی اورمادی مددکریں اوراس ضمن میں بھارت سے تعاون کریں۔
(3)سیاسی مسائل کے حل کیلئےفوجی کارروائی کے خلاف عمومی نفرت پھیلائیں۔
(4)عوامی لیگ کے رہنمائوں کے غیرملکی نامہ نگاروں سے ذاتی مراسم اورسب سے بڑھ کرفوجی حکومت کاغیرملکی نامہ نگاروں کے ساتھ غیردانش مندانہ سلوک اورڈھاکاکی فوجی انتظامیہ کی طرف سے انہیں شہرچھوڑدینے کاحکم”۔

غیرملکی نامہ نگاروں کی ذاتی رنجش اورغصے کاعکس،فوجی کارروائی کے بارے میں ان کی مبالغہ آمیزرپورٹنگ”میں بخوبی دیکھاجاسکتا ہے۔جنرل ٹکا خاں کایہ کہناغلط نہیں تھاکہ دنیا آج بھی سمجھتی ہے کہ آغازہماری طرف سے ہوا،یہ تاریخ کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔مجیب الرحمن بہرصورت طاقت کامظاہرہ کرناچاہتے تھے،جس کے نتیجے میں جنم لینے والے تصادم میں بنگالی ہلاک شد گان کی تعدادکوہزارفیصداوربعض اوقات اس سے بھی بڑھاکر پیش کیاگیا۔مجیب الرحمن کاجھوٹ کہ فوجی کارروائی کے دوران آبروریزی کے دولاکھ 20 ہزارواقعات وقوع پذیر ہوئے جبکہ ایک رومن کیتھولک تنظیم کے مطابق جس کاذکراخبارات نے مناسب نہیں سمجھا،یہ تعداددوہزارتھی اوراس خوفناک عمل میں خودمکتی باہنی کے ہندو افرادکی تعدادزیادہ تھی۔اس تنظیم کے چندافرادنے یہ رپورٹ خودذاتی طورپران متاثرہ خواتین کے انٹرویوکے بعدتیارکی تھی۔ فوجی کارروائی کے بعدعوام کے جذبات اس بری طرح بھڑک چکے تھے کہ عوامی لیگ کی پروپیگنڈہ مشینری نے حق اورصداقت کودبادیا۔جذبات کایہ طوفان تھمنے کے بعدغیرملکی اخبارات میں مشرقی پاکستان میں ہلاک شدگان کی مبالغہ آمیزتعدادکے بارے میں تردیدی رپورٹیں شائع ہونے لگیں۔ایسی ہی ایک رپورٹ میں کہاگیاہے کہ”میں نے بنگلہ دیش کاتفصیلی دورہ کیاہے اوریہی عوام اوردیہی کارندوں سے بے شمارملاقاتوں کے بعداس نتیجے پرپہنچاہوں کہ تیس لاکھ افرادکی ہلاکت کادعویٰ لغواور لغواورمبالغہ آمیزہے۔بنگلہ دیش کی وزارت داخلہ نے مارچ میں تحقیقات کی توشہریوں نے پاکستانی فوج کے ہاتھوں تقریبا2 ہزارافرادکی ہلاکت کی اطلاعات فراہم کیں جومزیدآزادانہ تحقیقات کے بعد922کی تصدیق ہوسکی۔

مئی1971ءمیں بھارتی انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹڈیزکے ڈائریکٹرسبرامنیم نے یہ نظریہ پیش کیاکہ لاکھوں مہاجرین کوغیرمعینہ مدت تک پالنے کی بجائے اقتصادی نقطہ نظرسے بہترہوگاکہ بنگلہ دیش کامسئلہ جنگ کے ذریعے حل کردیاجائے۔ مشرقی پاکستان زیادہ دیرتک مزاحمت نہیں کرسکے گا۔انہوں نے پیش گوئی بھی کی کہ پاک بھارت جنگ کے دوران بھارتی صنعتیں متاثرنہیں ہوں گی اوریہ کہ بنگلہ دیش کے مسئلے کاجنگی حل بھارت کی استعدادسے باہرنہیں۔انہوں نے یہ پیشن گوئی بھی کی کہ پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں چین مداخلت نہیں کرے گا۔انہوں نے یقین ظاہرکیاکہ پاکستان کی فوجی حکومت بھارت کے ہاتھوں شکست کومجیب الرحمن کے ساتھ سیاسی سمجھوتے پرترجیح دے گی۔تاہم انہوں نے انڈیا کو مغربی محاذپر اچانک پاکستانی حملے کے امکانات سے خبردارکیا۔سبرامنیم کے ان خیالات کوبھارت کے سرکاری حلقوں میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور نئی دہلی میں ہونے والے کئی فیصلے ان خیالات کے زیراثرکیے گئے۔

بھارتی رہنماؤں کی کئی تحریروں اورتقریروں سے بھارت کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ مشرقی پاکستان پراس کے حملے کامقصدمصیبت زدہ عوام کی امدادتھی۔جے پرکاش نرائنن نے بنگلہ دیش کے موضوع پربندکمرے میں ہونے والے ایک سیمینارمیں انکشاف کیاکہ”بھارت نے مشرقی پاکستان کی آزادی کیلئے مداخلت کافیصلہ خدائی فوجدارکے طورپرنہیں کیاتھا بلکہ اس فیصلے کاواحدمحرک ہماراقومی مفادتھا۔ظاہرہے کہ بنگالیوں کی ہلاکت اور ان کی جدوجہدکے بارے میں بھارتی پروپیگنڈے اورتارکین وطن سے اظہارہمدردی کاڈرامامحض مشرقی پاکستان پرحملے کیلئےرچایاگیاتھا۔

”دی ٹائمز(لندن)نے درست لکھاتھاکہ مارچ سے لیکرنومبر1971ءمیں فوجی حملے تک بھارتی مداخلت میں ایک سست رومگر مسلسل عمل کے تحت اضافہ ہوتاچلاگیا۔بھارت نے پہلے سے مشرقی پاکستان پرحملے کامنصوبہ تیارکررکھاتھا۔کلدیپ نیرنے اس امرکی تصدیق کی کہ بھارت کاارادہ مئی، جون میں پاکستان پرحملہ کرنے کاتھامگرچیف آف اسٹاف نے مشورہ دیاکہ مشرقی بنگال میں مون سون کی وجہ سے وسیع ترفوجی کارروائی نامناسب ہو گی ان کے خیال میں”اس مقصد کیلئےسردیوں کاموسم بہترین ہوگا۔کلدیپ نیرنے مزیدانکشاف کیاکہ”درحقیقت بھارت نے قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی مشرقی پاکستان پرقبضے کاایک پندرہ روزمنصوبہ تیارکیاتھا۔یہی وہ منصوبہ تھاجسے اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے بروئے کارلایا جا رہاہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ سے بہت عرصہ پہلے ڈھاکاکے گردونواح میں سادہ کپڑوں میں ملبوس بھارتی فوجی دیکھے گئے۔بعد ازاں اندرانے خوداپنے بیان میں کہاکہ”گوریلوں کی تربیت اور انہیں بھارتی اسلحے کی فراہمی ہی”مشرقی پاکستان”کے بحران کا حتمی حل ہے۔اوریہ حل آزادبنگلہ دیش کے سواکچھ نہیں۔ایک بنگالی ہندوصحافی ایس براتاکے انکشافات مزیدحیران کن ہیں،جن کے بقول مکتی باہمنی دراصل بھارتی سپاہیوں کی ایک تنظیم تھی اوریہ کہ ”اگروہ بھارت میں رہتے ہوئے یہ بات کہتے توانہیں یقیناًگرفتارکرلیاجاتا”۔

اس امرکی واضح شہادتیں موجودہیں کہ مکتی باہنی تمام نہیں تواس کابڑاحصہ بھارتی فوجیوں پرمشتمل تھا۔ٹائمز(لندن)کایہ تبصرہ بالکل بجاتھاکہ”فوجی کارروائی کے بعد بھارت سے اسلحہ کی فراہمی رک گئی۔اب بھارت کااگلااقدام یہ تھاکہ پاک فوج کے اقدام میں رکاوٹ کیلئےذرائع مواصلات کو سبوتاژ کرنے اورباغیوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے مشرقی پاکستان میں تخریب کاربھیجے جائیں۔ابتداءمیں بھارت نے مکتی باہنی کواسلحہ اورگولہ بارودفراہم کیالیکن جب یہ بات واضح ہوگئی کہ متعینہ مقاصدکاحصول مکتی باہنی کے بس کی بات نہیں توبھارتی فوج بھی میدان میں کود پڑی”۔

دی ٹیلیگراف”نے اپریل میں شائع ہونے والی ایک خبرمیں کہاکہ”قرائن بتاتے ہیں کہ بھارتی اسلحہ سے بھری ہوئی ایک ٹرین مدارپورکے قریب علیحدگی پسندوں کے پاس پہنچ چکی ہے ۔ایک غیرملکی اخبارکے مطابق”انڈیانے مشرقی سرحدکے ساتھ چوکیاں قائم کررکھی تھیں،جہاں سے بھارتی اسلحہ مشرقی پاکستان پہنچایاجاتاتھا۔”ایسی کئی اوررپورٹوں سے اس امرکی تصدیق کی گئی کہ بھارت تخریب کاروں کوبراہِ راست اسلحہ فراہم کررہاہے۔” گوریلاسرگرمیوں کے مراکززیادہ ترایسٹ بنگال رجمنٹ اورایسٹ پاکستان رائفلزمیں موجودتھے۔طالب علموں خصوصاً مکتی باہنی فوج میں شمولیت کے خواہش مندہندونوجوان رضاکاربھی بھرتی کئے گئے،جن کااہم مقصدسبوتاژکی کارروائیاں کرناتھا۔ان رضاکاروں کوبھارتی فوج کے قائم کردہ پچاس سے زیادہ تربیتی مراکزمیں تربیت دی گئی،دوسری طرف بائیں بازوکی نیشنل عوامی پارٹی اورکمیونسٹ پارٹی کے گوریلا گروپ نے بھارتی سپاہیوں کے تعلق سے دوسری طرف بائیں بازوکی نیشنل عوامی پارٹی اورکمیونسٹ پارٹی کے گوریلاگروپ نے بھارتی سپاہیوں کے تعلق سے مشرقی پاکستان کے اندرونی علاقوں کواپنی تخریبی سرگرمیوں کامرکزبنایا۔بھارت نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں کوپناہ دینے کے علاوہ اس کے رضا کاروں کی تربیت کا انتظام بھی کررکھاتھا۔اس نے کئی مواقع پر انہیں توپیں اورمارٹرفائربھی مہیاکیے۔

ایک بہترین عسکری ماہرکی رائے میں ڈھاکاکا قرض سری نگرمیں چکایاجاسکتاتھااوراس حوالے سے پاکستان کوکئی نادر مواقع بھی ملے لیکن سیاسی طورپرمضبوط نہ ہونے اورنظریاتی عدم یکسوئی کی وجہ سے یہ اہم مواقع ضائع کردئیے گئے۔ صورتحال یہاں تک بھی رہتی توٹھیک تھالیکن ستم یہ بھی ہے کہ جس ملک نے پاکستان کے دوٹکڑے کئے اس کے ساتھ دوستی کے وہ راگ چھیڑے گئے جن کی بے سری تانوں نے ہرکشمیری کوبے چین کرکے رکھ دیاہے۔پاکستان کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ کے پاس یقینااس سوال کاتسلی بخش جواب نہیں ہے کہ سقوطِ ڈھاکاکاحساب بے باق کرنے کیلئے قدرت نے جو نادرمواقع فراہم کئے ان سے کیوں فائدہ نہ اٹھایاگیا؟

ہم کسی کوذمہ دارٹھہرائیں یانہ ٹھہرائیں،لیکن تاریخ ان لوگوں کا تذکرہ ضرورکرے گی جنہوں نے مواقع حاصل ہوتے ہوئے بھی نہ صرف سانحہ مشرقی پاکستان کاقرض چکانے سے گریزکیابلکہ اب توپہلی مرتبہ ملکی میڈیاکے دودرجن سے زائداہم افرادکے سامنے اپنی بزدلی کے ساتھ ایسے شرمناک انکشاف کئے کہ لکھتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی کالی بھیڑوں نے دانستہ طورپرملک کے کمزورسیاسی نظام کواپنے ذاتی مفاداورمقاصدکیلئے استعمال کرتے ہوئے کھلم کھلااپنی آئینی ذمہ داریوں سے انحراف کرتے ہوئے سیاسی کٹھ پتلیوں سے وہ خوفناک کام لئے جس کے باعث آج ملک کمزورترین معاشی سرحدوں کوچھورہاہے اورمودی جیسامکاردشمن اپنے غیرملکیوں دوستوں کے ساتھ مل کرآج بھی ملک میں انہی سازشوں پرعمل پیراہےجس کومکارہندونےمشرقی پاکستان میں استعمال کیاتھا۔یہ بات ذہن نشیں رہے کہ1971کے انتخابات میں انتخابات کوتسلیم نہ کرنےکےخوفناک نتائج نےہمارے ملک کودولخت کردیاتھااوراب ایک مرتبہ پھرانتخابات کوٹرائیکا متنازعہ بنانے کیلئے وہی (بھارت،اسرائیل اورامریکا)اپنی سازشوں میں مصروف ہیں جس کوناکام بنانے کیلئے ہم سب کوکھلی آنکھوں سے اس کامقابلہ کرناہوگا۔
حذرکرومرے تن سے یہ سم کادریاہے
حذرکروکہ مرادل لہوکاپیاساہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

7 + twenty =