یہ دردناک مناظر

:Share

غزہ فلسطین پرہونے والی اسرائیلی بربریت سے ہرذی شعور دہل کررہ گیاہے۔رباط مراکش میں دردمندمسلمانوں نے اس سلسلے میں مسلم امہ کے پچاس ملکوں کے سفرااوردیگرکئی اسکالرزکو دعوت دی گئی۔وہاں فلسطینی نژادڈاکٹرخالدکے خطاب نے دہلاکررکھ دیا۔ جس دلسوزی کے ساتھ غزہ فلسطین پراسرائیلی بربریت میں خونِ انسانی کی ارزانی بیان کی تمام نمازیوں کوپرنم اور غمزدہ کردیا۔یقیناعالمِ اسلام کے عوام بڑے کرب میں یہ دن گزاررہے ہیں لیکن امت مسلمہ کے بے حس حکمران امریکاکی غلامی کاطوق پہنے کانپتے ہوئے بیانات پراکتفاکررہے ہیں۔برادرم خالد نے اس خونی جنگ کی خوفناک صورتحال اوراس قیامت صغریٰ کاذکرجس اندازمیں سنایا،وہ توشائدکبھی بھی ضبط تحریرمیں میں نہ لایاجاسکے لیکن اختصار کے ساتھ ان کاذکرکردیناضروری سمجھتاہوں

“اگراللہ صرف چندلمحوں کیلئے آپ کی آنکھوں سے موجودہ پردہ ہٹاکرفلسطین کے آسمان کودیکھنے کی سعادت عطا فرمادے تو آپ کوحیرت کن مناظر نظرآئیں گے۔فرشتوں کے گروہ درگروہ خاص جشن میں شہداکی روحوں کے ساتھ اللہ سے رجوع کیلئے دوڑرہے ہیں۔وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں،آسمان عطرکی خوشبوسے بھراہواہے،یہ لوگ اس دنیامیں اپنا امتحان پورا کر چکے ہیں،اللہ نے انہیں جنت کیلئے چناہے۔آپ دردناک تصویریں دیکھتے ہیں،ہے نہ؟لیکن ہم سب کے آقامحمدﷺنے اللہ کی قسم کھاکرفرمایاکہ شہیدکو چٹکی کے سواتکلیف نہیں ہوگی، لہذا جس طرح میں آپ کو ہاتھ سے چٹکی کاٹوں۔مت ڈرو،میں جانتاہوں کہ تم غمگین ہو،تو یاد رکھوکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا……..اس دنیامیں کوئی نہیں مرتااوردنیامیں واپس آناچاہتاہے سوائے شہیدکے،شہیدکی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس کی خاطرمرے۔ ہزاربار،میں اب غزہ میں ایسی چیزیں دیکھ رہاہوں کہ اگر تم انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھوگے توتم خوشی سے مرجاؤگے اوراللہ سے غزہ میں شہیدہونے کی تمناکروگے۔یہ شہدازندہ اورہمیشہ کیلئے ان کے پالنے والے کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔

انبیاکی پاک سرزمین جس کامیرے رب نے قرآن میں پوری سورہ اتارکراس کاتقدس بیان فرمایااورہم سب کے آقانبی اکرمﷺکو مسجداقصی میں انبیا کی امامت عطافرمائی، وہاں سے مجھے 31سال قبل جبراًنکال دیاگیالیکن میں ایک لمحے کیلئے بھی اپنے مادروطن غزہ فلسطین کواس لئے نہیں بھول پایابلکہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے خاندان کے سب ہی افراد شہید ہو گئے بلکہ ہرشہید ہونے والامیراہی عزیزہے اورمیں وہاں نہ ہونے کی وجہ سے اس سعادت سے محروم ہوگیاہوں لیکن میں آپ سب کوگواہ بناکرکہتاہوں کہ میں ان سے جلد ملنے کی خواہش کی تمنا لئے ہرروزاپنے رب سے مناجات کرتاہوں۔

آپ سے مجھے یہ بھی کہناہے کہ ہمارے شہدا کی نمازجنازہ اب آپ پرواجب نہیں کیونکہ نمازجنازہ زندہ افرادپڑھتے ہیں جس کیلئے ہم ابھی زندہ ہیں ،باقی امت مسلمہ توکب کی مر چکی ہے۔ ویسے بھی تمام مسلمانوں پردن میں پانچ نمازیں فرض ہیں لیکن ہم کئی سال سے روزانہ چھ نمازیں پڑھ رہے ہیں یعنی ہرروزنمازجنازہ بھی اداکرتے ہیں۔ہمیں آپ کی طرف سے خوراک اور دیگر اشیاکی مدد کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ ہم گداگرنہیں ہیں۔ ہمارے رب کا وعدہ ہے کہ شہدا زندہ ہیں اورمیں انہیں رزق مہیا کرتا ہوں۔

آپ میڈیاپراسرائیل کی بمباری کے ہولناک مناظربھی دیکھ رہے ہیں کہ بمباری سے بچ جانے والے افرادفوری طورپراپنے شہدا کے جنازوں اوران عمارتوں کے ملبے پرکھڑے ہوکرصرف اللہ کی کبریائی کے نعرے لگارہے ہیں اوران میں شہیدہونے کی تمنا لئے وہ نہتے بچے بھی نظرآتے ہوں گے۔ کیا آپ نے کسی ایک کے منہ سے سنا کہ وہ کسی اورمسلمان ملک کے حکمران سے مدد طلب کررہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ مردوں سے کچھ طلب کرنامیرے رب کی غیرت کے خلاف ہے،اس لئے ہم صرف اپنے رب سے مددکے طلب گارہیں۔آج یہاں اس اجتماع میں درجنوں ممالک کے افرادبیٹھے ہیں اورمیں اپنے کسی ایک لفظ پر بھی معذرت نہیں کروں گا لیکن ایک بات ضرورکہوں گاکہ آج کی تقریب کاایک ایک لفظ فرشتے ریکارڈ کررہے ہیں اوران کی گواہی ہی مجھے مطلوب ہے۔اللہ نے صرف ایک مسلمان ملک پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے نوازاہے اورجس دن پاکستان نے عملی طورپریہ دہماکہ کیاتومیں نے سب سے پہلے برادرم سمیع اللہ ملک کواپنی خوشی کے آنسوؤں کے ساتھ نہ صرف مبارکباددی تھی بلکہ ہم سب نے اللہ کے حضورسجدہ شکربھی ادا کیاتھالیکن دودن قبل جماعت اسلامی کے طرف سے فلسطین سے یکجہتی کے جلوس پر اسلام آباد میں جس طرح لاٹھی چارج کیا گیا،یہ بھی ریکارڈہوگیاہے لیکن مجھے پاکستانی قوم پر پورایقین ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کھڑی ہے اورمیں اس عمل کیلئے ان سب کاشکرگزارہوں۔

برادرم خالدکے اس مختصرخطاب کے بعدقیامت کی سی خاموشی تھی،ہرکوئی ندامت کے مارے نظریں چرارہاتھالیکن حیرت تواس بات پر ہے کہ ہم اس دنیامیں سانس لے رہے ہیں جہاں عالمی میڈیاپر صہیونی خودکومظلوم بناکرپیش کررہے ہیں اوراسرائیل کی طرف سے ہونے والے وحشیانہ مطالم کودنیاسے اوجھل رکھاجارہاہے۔ اسرائیلی درندوں نے نہ صرف رہائشی بستیوں، ہسپتالوں اورایمبولنس کے علاوہ اقوام متحدہ کی طرف سے قائم کئے گئے پناہ گزینوں کے کیمپوں پربھی بمباری کرکے اب تک 9ہزارسے زائد غزہ کے مکینوں کو شہیدکر چکا ہے،جن میں4ہزار سے زائدبچے اوردوہزار سے زائدخواتین شامل ہیں۔پچھلی کئی دہائیوں سے یہاں کے باسیوں کوخوشیوں کاایک لمحہ میسرنہیں آسکااورمسلمانوں کے مذہبی تہوارہوں یاکوئی دیگر موقع، اسرائیلی درندے بیدردی سے ظلم وستم ڈھارہے ہیں۔حالیہ اسرائیلی جارحیت کے موقع پرہسپتالوں تک کونہیں بخشاگیا اورسینکڑوں مریض جوعلاج کیلئے یہاں موجودتھے،جام شہادت نوش کرچکے ہیں ۔ فلسطینی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 463فلسطینی شہید ہوگئے ۔فلسطین میں طبی عملے کے ایک اہلکار ایمن شہابی اورغزہ پولیس کے آپریشن روم کاکہنا ہے کہ اس بے رحمانہ اور انسانیت سوزحملے کے بعد ہسپتال بندہوگیاہے۔اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے حکم پربیوریجی مہاجر کیمپ سمیت غزہ کے گلی کوچوں،اسکولوں پرزمین، سمندر اور فضاسے شدید قسم کی بمباری کی جارہی ہے۔

اسرائیل نے غزہ پٹی جو سات میل چوڑی اور26میل لمبی ہے،ویاں روزانہ کی بنیادپر60فضائی حملوں میں ہزاروں ٹن بارودکی برسات کررہاہے۔ حماس کے ٹی وی چینل،ریڈیو اور دیگر عمارتوں کو نشانہ بناکرکھنڈرات میں تبدیل کردیاگیا ہے۔فلسطینی حکام کے مطابق حالیہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ٹھ ہزارسے زائدفلسطینی مردوزن اوربچے شہیدکردیئے گئے۔اب تک غزہ کی تمام عمارتیں ملبے کاڈھیربن چکی ہیں گویاغزہ کاملبہ لاشیں اگل رہاہے اورایک اندازے کے مطابق دوہزارسے زائد افرادان ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔

ان قیامت خیزمناظرمیں ہرآنے والادن سب سے زیادہ خونریزدن ثابت ہورہاہے،جب وحشیانہ فضائی حملوں،گولہ باری اورفائرنگ سے بلاتمیزبے گناہ بچے،مردوزن کے پرخچے اڑادیئے گئے ہیں۔اسرائیلی خونی درندے فوجیوں کے روپ میں معصوم بچوں، خواتین، جوانوں اوربوڑھوں کو بلاتفریق خون میں نہلارہے ہیں اوراب تواجتماعی قبروں کے گڑھے کھودکراندرزندہ انسانوں کو دھکا دیکر گولیوں کانشانہ بنایا جارہاہے لیکن انسانی حقوق کے علم برداروں کوگویاسانپ سونگھ گیااورزبانیں گنگ ہوگئیں اور انتہائی بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی کواسرائیل کو تنبیہ کرنابھی مناسب نہیں سمجھا ۔ وسطی غزہ میں اسپتال پربھی گولہ باری کرنے سے گریز نہیں کیا گیا۔جیٹ طیارے شہری آبادیوں کوملبے کے ڈھیرمیں تبدیل کر رہے ہیں،رہی سہی صہیونی سنائپرزنے پوری کردی جوراہ چلتے ہرشہری پرگولیاں برساکرموت بانٹ رہے ہیں۔کئی گھروں میں لاشوں پرماتم کرنے والے خود خون میں نہا گئے اورکوئی رونے والابھی نہیں بچا۔غزہ کے ہسپتالوں میں گنجائش اورادویات ختم ہونے سے زخمیوں نے تڑپ تڑپ کی جان دے دی ہے اورآنے والے دنوں میں باقی ماندہ زخمی بھی شائداللہ کی طرف لوٹ جائیں۔

اسرائیلی بمبارطیاروں نے وسطی غزہ میں واقع اقصیٰ ہسپتال کونشانہ بنایاجس میں مریضوں سمیت207افرادشہیداور183زخمی ہوگئے۔خان یونس میں گھرپربمباری سے بیس افرادموقع پر شہید ہوگئے اوربعد ازاں15شدیدزخمی بھی اپنے پیاروں سے جاملے،رفاہ میں بھی فضائی حملے میں چاربچوں سمیت ایک ہی خاندان کے10/افراداسرائیلی شقاوت کا شکار ہو گئے جبکہ شجائیہ میں گھروں کے ملبے سے اب تک 68لاشیں برآمدہوئی ہیں اورابھی اس ملبے میں کتنی باقی ہیں،کوئی نہیں جانتاہم سب انسان ہیں،ہم میں سے بہت سے تواپنی آنکھیں خشک پارہے تھے مگرایسے بھی ہیں جوفلسطینی بھائی، بہنوں اوربچوں کی المناک شہادتوں پراپنے آنسوں پرقابونہیں رکھ پارہے تھے اوران کاجی چاہتا تھا کہ کوئی ایساطریقہ میسرہو کہ وہ خود کواس ظلم کے خلاف عملاًکچھ ایساکرسکیں کہ وہ بھی اپنے پیاروں سے جاملیں۔اسرائیلی درندگی کے سب سے ہولناک مناظرغزہ کے علاقے شجائیہ میں نظرآئے جہاں کی تاریک گلیوں کے ہرگھرمیں جابجاخون بکھراہواہے اورابھی تک سیاہ دھواں کے نشانات بھی موجوہیں۔درخت گرے پڑے اورہرقسم کے کھمبے ٹیڑھے میڑھے ہوکراپنی تباہ حالی کی داستاں اپنی زباں میں پیش کررہے ہیں۔سڑکوں پرملبے کے ڈھیراوراسرائیلی بمباری سے سڑکوں پرجگہ جگہ گڑھے اسرائیل کے ظلم وستم کاماتم کررہے ہیں۔

گولہ باری میں ذراساوقفہ ہوتے ہی ایک کے بعددوسری،تیسری اورپھرلگاتارخون میں لت پت لاشیں نکالی جارہی ہیں۔ایک گلی میں لاشیں ہی لاشیں ہیں لیکن ان کے اعضا بکھرے پڑے ہیں اوربعض لاشیں توناقابل شناخت ہیں،تاہم ان کے ہاتھوں کی مہندی سے شناخت کیاگیا کہ یہ کسی خاتون یابچی کالاشہ ہے۔اگلی نکڑپرمیاں بیوی بھاگتے ہوئے جارہے تھے،باپ نے شیر خوار بچے کوسینے سے لگارکھاتھااورلاشوں پرسے گزرتے ہوئے ان کے قدم تھم جاتے تھے،زردچہروں کوکان پڑی آوازسنائی نہ دیتی تھی،انہی ایسی جگہ کی تلاش تھی جہاں زندگی محفوظ ہو۔جونہی باپ ایک دوکان کے شیلٹرکے نیچے پہنچ کراپنی بیوی کو آوازدیتاہے کہ اچانک ایک گولہ اس کی آنکھوں کے سامنے پھٹتاہے جواس کی بیوی اور تین سال کی بچی کوہوا میں پرزے پرزے کرکے اڑادیتاہے ۔یہ مناظردیکھ کرمیرے ہوش وحواس جواب دے جاتے ہیں اورمجھ میں اتنی تاب نہیں کہ مزیددیکھ سکوں اورکچھ لکھ سکوں ۔

مجھے یادہے کہ جنگ کے دنوں میں ٹی وی پرایساہی مناظردکھائے جارہے تھے کہ بمباری ہورہی تھی اورایمبولنس کاپہنچنا ناممکن ہورہاتھا۔لوگوں کے پاس دوہی راستے تھے،گھروں میں رہ کر اپنی زندگی کی باقی ماندہ سانسیں اورگھڑیاں گنیں یاجان بچانے کیلئے بھاگنے کاخطرہ مول لیاجائے۔بھاگنے والے اپنے روتے بلکتے بچوں کااٹھائے ننگے پاں کسی محفوظ مقام کی تلاش میں ایسی جگہ پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں سے واپسی کاکوئی راستہ نہیں ۔تین افراداپنی بوڑھی ماں کواٹھائے جا رہے تھے، جب ان سے پوچھا: کیا دیکھا ہے؟ان کامختصرجواب تھا ”خوف اورموت”۔

اسرائیلی جارحیت کے خلاف مسلم ممالک سمیت عالمی قیادت تومجرمانہ خاموشی اختیارکئے ہوئے ہے تاہم اہل غزہ کے حق میں دنیا بھرکے عوام کے سراپااحتجاج نے اسرائیل کی بربریت اورمغربی طاقتوں کی بے حسی اورجانبدارانہ رویے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔فرانس میں نکالی جانے والی ایک ریلی کاپولیس سے بھی تصادم ہوا۔مشتعل مظاہرین نے احتجاج کے دوران میں توڑپھوڑبھی کی۔حکومت فرانس بھی اسرائیل کے خلاف عوام کاغم وغصے سے معمور احتجاج کچل نہیں سکی۔یورپ کے دیگرشہروں لندن،برمنگھم،مانچسٹر،گلاسگو،ویانا،ایمسٹرڈیم اور سٹاک ہوم اورخودامریکاکے کئی بڑے شہروں میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ریلیاں احتجاج کررہی ہیں لیکن صدافسوس کہ بعض عرب ممالک سے میرے رب نے یہ توفیق ہی سلب کرلی ہے۔

غزہ کی صورتحال پرسلامتی کونسل نے اجلاس میں جنرل سیکرٹری کاکہناتھا:فلسطین میں بہنے والے خون کو روکناہوگا۔ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل پرزوردیاگیاکہ وہ فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں روکنے کیلئے فوری اقدامات کرےامریکی صدرکی اسرائیل کے حق دفاع کی بودی دلیل نے اقوام عالم کوایک مرتبہ پھربہت مایوس کیا۔ادھروائٹ ہاؤس کے ترجمان نے حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے میڈیا سے گفتگوکرتےہوئے کہا:اسرائیل اورفلسطین کے درمیان کشیدہ صورتحال کی اصل ذمہ داری حماس پرعائدہوتی ہے اس لئے اسرائیل کوحق ہے کہ وہ اپنے دفاع میں حماس کوبالکل ختم کردے۔

یہی وجہ ہے کہ نیتن یاہونے ایک مرتبہ پھردہمکی دی ہے کہ ہلاکتوں کے باوجود آپریشن جاری رہے گااوراس آپریشن کیلئے انہیں عالمی طاقتوں کی مضبوط حمائت حاصل ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پہلی مرتبہ حماس کی راکٹوں کی بارش نے نہ صرف اسرائیل بلکہ اس کے تمام حمائتیوں کوششدر کرکے رکھ دیاہے۔یہ سب تگ ودوفلسطینیوں کی مسلسل پامالی روکنے کی مساعی ہیں۔نہتے فلسطینیوں کاقصوریہ ہے کہ وہ اپنی ہی سرزمین کے ایک حصے میں آبادہونے کی جدوجہدکررہے ہیں اوراپنے لئے آزادی کاحق مانگتے ہیں،وہ حق جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں تسلیم کیاجاچکا ہے لیکن اس جدوجہدآزادی کے دوران میں اگرکبھی کبھار عدم تشدد کاکوئی واقعہ پیش آجائے تواسرائیل کواپنے دفاع کے نام پرقتل عام کی کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے حالانکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں محکوم قوموں کایہ حق تسلیم کیاگیاہے کہ اگران پرپرامن جدو جہدکے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں تووہ اپنے تسلیم شدہ حقوق کی خاطرہتھیاراٹھاسکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں