The weakest level of faith

ایمان کاکمزورترین درجہ

:Share

روزروشن کی طرح واضح ہوچکاہے کہ حق باطل کی طاقت سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوااورحق وباطل کی کشمکش روزِاوٓل سے قیامت تک جاری رہے گی لیکن اللہ کی نصرت ہمیشہ حق کے ساتھ رہی ہے۔باطل قوت کی مختلف شکلیں وصورتیں ہو تی ہیں جس کاسورہ اعراف میں اس طرح ذکرکیاگیاہے
(1)نظام باطل نے قانون شرعی کی بالادستی سے انکارکردیااورحکم خداوندی کی مخالفت کی۔
(2)اس نے تکبرکیایعنی اپنے آپ کوبڑاسمجھااورذاتی بالادستی اورمطلق العنانیت کواختیارکیا
(3) اور تھاکافروں میں سے”یعنی کافروں کے مقابلے میں کا فروں کوترجیح دینا
(4)اس نے کہاکہ اب میں تیری سیدھی راہ پرانسانوں کی گھا ت میں لگارہوں گایعنی انسانوں کواغوااور گمراہ کرنے کی ہرصورت کوشش کرتارہوں گا
(5)مخلوق خداکو دھوکا دینااورجھوٹ کوسچ کی صورت میں پیش کرناابلیس کی پسندیدہ پالیسی ہے۔
ستیزہ کاررہاہے ازل سے تاامروز
چراغ مصطفوی سے شرارِبولہبی

لیکن اللہ رب لعالمین نےانسانوں کی راہنمائی کیلئےرسول مبعوث فرمائے۔رسولوں کے ساتھ حق کی صورت میں تورات،انجیل ،زبورصحیفے نازل کیے۔بالخصوص امتِ محمدیﷺکیلئے30 پاروں کی صورت میں قرآن نازل کیاتاکہ انسان صراط ِ مستقیم پرہمیشہ گامزن رہے اورباطل سے کبھی مرعوب نہ ہو۔قرآن میں ابوالانبیاءحضرت ابراہیمؑ کاکئی مقام پرذکرکیاتاکہ مسلمان کو کامل یقین ہوجائے کہ اللہ کہ نصرت حق کے ساتھ ہوتی ہے چنانچہ سورہ مریم میں حضرت ابراہیمؑ کاواقعہ اس طرح بیان کیا ”بے شک ابراہیم بڑاسچاپیغمبرتھا،اس نے اپنے باپ آذرسے کہا:اباان کی عبادت کیوں کرتے ہوجونہ توسن سکتے ہیں نہ دیکھ سکتے ہیں اورنہ ہی تجھ سے کفایت کرسکتے ہیں۔

اس مقام پرحضرت ابراہیمؑ نے مردہ بتوں کی نفی کردی توفوری باطل کی طرف سے دھمکی ملی کہ یہاں سے نکل جاؤورنہ پتھروں سے مروادوں گا۔قرآن نے واضح بیان کیاکہ حق باطل سے مرعوب اورخوفزدہ نہیں ہوابلکہ مزیدحضرت ابراہیمؑ نے زندہ بتوں کی یعنی نمرودکی اوراس کے باطل نظام کی نفی کردی بلکہ ان کے مردہ بتوں کوپاش پاش کردیااورباطل کے مقابلے کیلئےڈٹ گئے،گھبرائے نہیں۔باطل نے بہت بڑافریب کیا،آگ کاالاؤتیارکیا۔بظاہرزمینی حقائق پرنظریں دوڑانے والوں نے دیکھاکہ حضرت ابراہیمؑ پورے ملک میں اکیلے ہیں،کمزورہیں،جماعت نہیں،قوت نہیں،اسلحہ نہیں….. جبکہ دوسری طرف تمام تروسائل موجودہیں لیکن نتیجہ یہ ہواکہ حق غالب ہوگیااورباطل مٹ گیا،کیونکہ حق کبھی باطل سے مرعوب اور خوفزدہ نہیں ہوا۔

حضرت موسیٰؑ نے زندہ اورمردہ بتوں کی نفی کردی۔فرعون کی اوراس کے باطل نظام بلکہ تمام پا لیسیوں کاانکارکردیا۔ فرعون میدانِ عمل میں جادوگروں کومقابلہ کیلئے لے آیا۔ایک طرف پوری سلطنت مخالف،حکمران مخالف،بظاہرنظام باطل بڑی قوت اورطاقت کامالک ہے،دولت سرمایہ،رعب ودبدبہ تھا،دوسری طرف دوبھائیوں کی صورت میں حق اکیلااورکمزور نظرآرہا تھا۔مقابلہ ہوالیکن حق غالب آگیا۔اللہ نے حضرت محمدرسول اللہﷺکوحق کے ساتھ مبعوث فرمایالیکن باطل کی صورت میں ابوجہل اورابولہب مقابلے میں آگئے۔مکہ میں کشمکش شروع ہوئی، باطل اپنی پوری قوت کے ساتھ حق کوکچلنے اور مٹانے کیلئےبرسرپیکاررہا،مسلمانوں پربے پناہ ظلم کیے لیکن مسلمان کبھی باطل قوت سے خو فزدہ نہیں ہوئے،مقابلہ کرتے رہے ۔

مکہ سے مدینہ ہجرت کی لیکن کفرکی طاقت نے پیچھانہیں چھوڑا۔سب سے پہلے معرکہ جنگ بدرہوا۔زمینی حقائق یہ تھے کہ ایک طرف زبردست طاقت،اسلحہ اورافرادی قوت ہے،دوسری طرف بظاہرحق کمزوروبے سروسامان ہے۔اس پیرکہن نے دیکھا،فضاءنے دیکھاکہ اللہ کی نصرت اور مددفرشتوں کی صورت حق کیلئےآئی۔نتیجہ یہ ہواکہ کفرکی کمرٹوٹ گئی،حق غالب ہوایہاں تک کہ مکہ فتح ہوا۔باطل ہمیشہ کیلئےشکست فاش سے دوچار ہوا۔اللہ کے رسولﷺبیت اللہ میں داخل ہوئے۔آپﷺ ان کے مردہ بتوں پرضربیں بھی لگارہے تھےاورقرآن کی آیت تلاوت فرمارہے تھے کہ”حق آگیااورباطل مٹ گیا،باطل تو مٹنے ہی والاہے”۔خلاصہ یہ کہ اللہ کی زمین پرعدل وانصاف کانظام قائم ہوا۔اسلامی ریاست کادستورقرآن اورسنت محمدیﷺ مقر رہوتے ہی ظلم اوربے انصافی ختم ہوگئی،اخوت ومحبت کاچرچاعام ہوا،عریانی فحاشی ختم ہوگئی۔

جس کا مفہوم اور مقصدیہ ہے کہ(1)حاکمیت اللہ کی ہوگی(2)قرآن مجید ضابطہ حیات ہوگااوررسولﷺکی سنت اورشریعت ماخذہوں گے (3)عدل بین الناس کانظام قائم ہوگا(4) مساوات بین الناس یعنی مسلمانوں کے تمام حقوق بلالحاظ رنگ،نسل،زبان ووطن برابرہوں گے (5)قانون سے بالاترکوئی نہیں ہوگا(6)تمام خزانے حکومت کے پاس اللہ کی امانت ہوں گے،عدل وانصاف سے تقسیم کیے جائیں گے(7)نظام شوریٰ قائم رہے گاجس کامقصدیہ ہے کہ سربراہ ریاست کاتقررمسلمانوں کے مشورےاور رضامندی سے ہوگا(8)نظام اطاعت ہوگاجس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کی اطاعت معروف میں واجب ہوگی،معصیت یعنی گناہ میں حکمرانوں کی اطاعت کاکوئی حق نہیں پہنچتا(9)اقتدارکی طلب وحرص کاممنوع ہونا،جس کا مقصدیہ ہے کہ حکومت کے اعلیٰ منصب اورعہدوں کیلئےبا لعموم اورخلافت کے مناصب کیلئےوہ لوگ سب سے زیادہ غیرمناسب اورغیرموزوں ہوں گے جوخودمناسب اورعہدوں کےطالب اوراس کیلئےکو شش کریں گے(10)اسلامی ریاست کامقصدنیکیوں اور بھلائیوں کوپروان چڑھانا،عریانی،فحاشی،ظلم،بدامنی کومٹاکرصالح معاشرہ قائم کرناہوگا(11)امربالمعروف اورنہی عن المنکر مسلم معاشرے کے ہرفردکافرض منصبی ہے کہ حق سے تعاون کرے،ظلم اورگناہ میں کسی سے تعاون نہ کرے۔یہ اللہ کاحکم ہے:اب دنیامیں وہ بہترین گروہ تم ہوجسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کیلئےمیدان میں لایاگیاہے۔تم نیکی کاحکم دیتے ہو،بدی سے روکتے ہواوراللہ پرایمان رکھتے ہو۔یہ اہل کتاب ایمان لاتے توانہی کے حق میں بہترتھا۔(العمران:110)

لیکن خلفاءراشدین کےبعداسلامی ریاست کے دستورمیں بے شمارتغیرات آئےمثلا ًطریقہ اقتدارمیں تبدیلی واقع ہوگئی،حکمران طبقہ شاہی محلات میں عیش وعشرت کی زندگی میں مشغول ہو گیا،اسلامی بیت المال کوقومی خزانہ سمجھاگیایہاں تک کہ شاہی خاندان اوربادشاہوں کی ملکیت ہوگیا۔آزادی اظہاررائے کاخاتمہ ہوگیا۔حق بات کرنے والے لوگوں کوجیل میں بندکردیا جاتا۔عدلیہ کی آزادی کاخاتمہ ہوگیا۔نظام شوریٰ مکمل ختم ہوگیا،نسلی اورقومی عصبتیوں کاظہورشروع ہوگیا،قانون یعنی دستورکی بالادستی کاخاتمہ ہوگیا۔اس دوران یزید کی حکومت قائم ہوگئی جس کی زبردستی بیعت لے جارہی تھی۔حضرت امام حسینؑ نے یزیدکی بیعت سے انکارکردیالیکن کچھ ایسے ظالم اوربدنصیب ایسے تھے جنہوں نے یزیدکی حمائت میں نواسہ رسولﷺاورسارے خاندان کوشہید کردیا۔ابن زیادنے کوفہ کی جامع مسجدمیں امام حسینؑ کے سرکی نمائش کرتے ہوئے کہا: حسینؑ آپ ہارگئے اوریزیدجیت گیالیکن لیکن یہ فضازبانِ حال سے کہہ رہی ہےکہ یزیدجیت کرہارگیا اور امام حسین ہارکرجیت گئے کیونکہ قدرت کاقانون یہی ہےکہ فتح اورنصرت حق کی ہوتی ہے۔
نہ شمرکی وہ جفارہی نہ ابن زیادکاوہ ستم ہی رہا
رہاتونام حسین کاجسے زندہ رکھتی ہےکربلا
آج ایک مرتبہ پھرغزہ میں اک نئی کربلاجاری ہے اورکئی احباب برملاکہہ رہے ہیں کہ کیاحماس کواسرائیل کے شدید ردعمل کاعلم نہیں تھاتوپھر یہ خودکشی کاعمل کیوں کیاگیا؟میں ان تمام کے
سامنے صرف چاراسباب کاذکرکردیتاہوں اس کے بعدفیصلہ آپ خودکرلیں:
پہلاسبب تویہ ہے کہ اسرائیل مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی،اسے یہودی شناخت دینے،اورہیکل کی تعمیرکے اپنے ایجنڈے پر ماضی کے مقابلے میں بہت زیادہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔اپنے اس ایجنڈے کوپوراکرنے کیلئےماضی میں دویاتین سالوں میں وہ جواقدامات کرتاتھااب وہ دوتین ہفتوں میں ہی وہ سب پوراکررہاہے۔ساتھ ہی اہلیانِ شہرالقدس کوذلیل ورسوا کرنے،ہراساں کرنےاوران کے اہلِ علم وفضل کوجیلوں میں بھرنےکاسلسلہ بھی جاری ہے۔صرف یہی نہیں،اس کی حرکتیں اس قدربڑھ چکی ہیں کہ اب وہ مسجدِ اقصیِ میں نمازسے لوگوں کوروک رہا ہے،اس کی رکاوٹوں کی وجہ سے لوگ نماز کیلئےمسجدتک نہیں پہنچ سکتے۔ مسجد کے اندرتقریباً50علمی حلقے منعقدہوتے تھے لیکن اب سالوں سے ان پربھی پابندی عائدہے۔میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ حماس کے اس آپریشن سے چنددن قبل5ہزاریہودی مسجداقصیٰ میں گھس کرمسجدسمیت خواتین نمازیوں کی بے حرمتی کی گئی اوراب تک100سے زیادہ فلسطینی اپنے ساتھ لے گئے جوابھی تک ان کی قیدمیں ہیں ۔کئی دنوں سے ان کی یہی حرکات جاری تھیں۔مسجد کی بے حرمتی کے ایسے مظاہرگزشتہ20سالوں میں بھی سامنے نہیں آئے تھے۔مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی،اور اسے یہودی رنگ دینے کی بڑھتی ہوئی حرکتوں کے ردمیں مجاہدین نے اپنے آپریشن کوانجام دیا۔معرکہ کے نام سے ہی اس کا مقصودظاہرہوتاہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ یہودی گزشتہ15سالوں سے دھیرے دھیرے موت کی طرف دھکیلنے کے اپنے منصوبے پرکاربندہے ۔فلسطینی نوجوانوں کی ایک پوری نسل ایسی ہے جس نے اسی بحران کے درمیان آنکھ کھولی ہے۔بیس،تیس سال کی عمرکو پہنچے ہوئے اکثرنوجوان زندگی کے ہرگوشے سے دور،روزگارسے محرومی کی زندگی جی رہے ہیں،وہ اپنی تعلیم پوری نہیں کرسکتے، شادی نہیں کر سکتے،گھرنہیں بناسکتے اورانہیں کوئی روزگاربھی نہیں ملتا۔ان سب کانتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں طرح طرح کی سماجی مشکلات پھیل چکی ہیں،بے روزگاری ہے کہ بڑھتی ہی جارہی ہے،شادیوں کاسلسلہ رک گیاہے، یوں سمجھیں کہ سماجی اور معاشی مسائل کاایک لامتناہی سلسلہ ہے۔قریبی دنوں میں ہزاروں کی تعدادمیں نوجوانوں نے اس امیدپرمغربی ممالک کی طرف ہجرت کی کوشش کی کہ انہیں زندگی گزارنے کیلئےروزگارکے کچھ مواقع میسرآئیں گے۔وہ ایک مشکل سے نکل کر دوسری مشکل کی طرف جاناچاہتے تھے لیکن بحری راستے میں ایسے سینکڑوں نوجوان سمندراور مچھلی کالقمہ بن گئے۔

تیسرااہم سبب یہ ہے کہ ہزاروں فلسطینی دشمن کی قیدمیں ہیں،ان کے ساتھ اس کاروٓیہ وحشیانہ ہے،وہ ایسی شدیداذیتوں کا سامناکررہے ہیں۔ گویاہردن کئی کئی بارموت کی چکی میں پیسے جا رہے ہیں۔ آپ تصورکریں کہ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جوڈیڑھ میٹرکے سیل میں13 سالوں سے قیدہیں، کچھ قیدیوں کوبول و برازوگندگی سے لت پت سیل میں ڈالاجاتاہے۔وہ دردوالم کامارا، نفسیاتی اذیت سے دوچار قیدی دوتین دن تک لگ کر اس کی صفائی کرتاہے کہ اس کے بعد اس میں رہ سکے،اس دوران اس کے کپڑے اتارے جاتے ہیں، اسے زدوکوب بھی کیاجاتا ہے ۔پھرجب سیل صاف ہوجاتاہے تواسے اسی طرح کے دوسرے گندے سیل میں منتقل کردیاجاتاہے تاکہ اذیت کاوہی سلسلہ پھرشروع ہو۔ماضی قریب میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والا اذیت ناک سلوک برداشت کی حدوں سے بھی باہرجاچکاہے۔ان میں یہ إحساس پیدا ہونے لگاہے کہ امت انہیں بھول بیٹھی ہے، کسی کوان کی مصیبت اوران کے حالات کی فکر نہیں بلکہ کسی کویہ بھی نہیں پتہ کہ ان کے ساتھ کیاکچھ ہورہاہے۔

صہیونی حکومت کے اندربن غفیراوراس جیسے دوسرے لوگوں کی قیادت میں انتہاپسندیہودیوں کی مضبوط گرفت کی وجہ سے قیدیوں کی زندگی کو اس طرح جہنم بنادیاگیاہے کہ عملاًان کیلئےیہ سب وہ نا قابلِ برداشت ہوچکاہے۔گزشتہ کئی ماہ سے یہ آواز اٹھ رہی تھی کہ ان قیدیوں کی رہائی اور اس جہنم سے ان کی آزادی کیلئےجدوجہدضروری ہے۔اس مصیبت میں ہماری فلسطینی قیدی بہنوں کی اذیت کااضافہ بھی کرلیجیے۔ہماری بہنوں کورسواکیاجارہاہے،ان کے دین،عفت اوران کی حیاکوجس طرح تارتار کیاجارہاہے میں اس کی تفصیل میں نہیں جاناچاہتا۔ایسے مرحلے میں یہ آپریشن کیاگیاتاکہ مظالم کے اس لامتناہی سلسلے پربند باندھاجائے۔

چوتھااہم سبب یہ ہے کہ مزاحمتی حلقوں کی طرف سے یہ وضاحت آچکی ہے کہ انہیں موصول خفیہ معلومات کی روشنی میں یہ انکشاف ہواتھاکہ دشمن غزہ کوتباہ کرنے کیلئےاس کے خلاف ایک بھرپورحملہ کی تیاری کررہاہے۔چنانچہ مزاحمتی قوت نے یہ طے کیاکہ دشمن کو اچانک حملہ کاموقع نہیں دیناچاہیے،اچانک حملہ کرکے دشمن جواہداف حاصل کرناچاہتاہے اسے روکنے کایہی ایک طریقہ ہے کہ اس کارروائی کاآغازخود مزاحمتی قوت کی طرف سے اچانک ہونہ کہ دشمن کی طرف سے،چنانچہ ایک ساتھ کئی مقاصد اوراہداف کوسامنے رکھتے ہوئے بھرپورکارروائی کی۔ ہم 2014ء میں بھی اس قسم کاتجربہ دیکھ چکے ہیں۔اس وقت بھی مزاحمتی قوت کوجب یہ اندازہ ہوگیاکہ دشمن غزہ کوتباہ کرنے کیلئےحملے کی تیاری کر رہاہےتوانہوں نے جنگ کارسمی اعلان کیے بغیردودنوں کے اندردسیوں میزائل سے دشمن کونشانہ بنایاتاکہ وہ اپنے منصوبہ سے پہلے ہی جنگ میں داخل ہونے پرمجبورہواوراچانک حملہ کر کے دشمن اپنے جومقاصد پورا کرنا چاہتا ہے(مثلا اہم قائدین کوقتل کرنایاسینکڑوں مجاہدین کوان کی تربیتی مشقوں کے درمیان گرفتارکرناوغیرہ)انہیں پورانہ کر سکے۔

آخرمیں یہ بھی عرض کروں کہ دشمن کے مقابلے میں کھڑے لوگ اپنے أحوال سے بہتر واقف ہیں، جو ان أحوال سے واقف نہ ہواسے چاہیے کہ وہ کوئی بھی رائے قائم کرنے سے پہلے صحیح صورتِ حال دریافت کرلے۔یہی حکمت کاتقاضہ ہے۔ یادرکھیں کہ گھٹن کے اس ماحول میں ہمیں تنقیدسے پہلے تمام اسباب پربھی غورکرلیناچاہئے۔کہیں ایساتونہیں کہ ہم ایمان کے آخری اورکمزورترین درجہ سے محروم ہوگئے ہیں؟ مذکورہ حدیث مبارکہ میں ایمان کے درجات کو بڑے ہی احسن پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔
مسلم، الصیحح،کتاب الایمان،باب بدان کون النھی عن المنکرمن ،الاایمان،1:69،رقم:49
’’تم میں سے جو شخص خلافِ شریعت کام دیکھے تو اپنے ہاتھوں سے اس کی اصلاح کرے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو زبان سے اس کاردّ کرے، اور اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو دل سے اسے برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں

16 − three =