کیاتیسری جنگ عظیم کااسٹیج تقریباًتیارہوچکاہے

:Share

اس وقت دنیا تقریبا دو گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے۔
٭گروپ اوّل چین ،روس ،پاکستان اور ان کے اتحادی
٭گروپ دوم امریکا،اسرائیل اور ان کے اتحادی

سی پیک پاکستان کے بہترین مفاد کا منصوبہ ہونے کے ساتھ خطے کیلئے گیم چینجر کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔مگر یہ عظم منصوبہ دشمن قوتوں کے سینے پر سانپ بن کر بھی لوٹ رہاہے اوران کے شب وروز سی پیک معاہدے کو سبوتاژ کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہیں اوربالخصوص امریکاہرحال میں اس پراجیکٹ کوناکام کرنے کیلئے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو استعمال کررہاہے۔اب یہ معاہدہ تکمیل کے قریب ہے مگر اس کے خلاف سازشوں کے جال متواتر بنے جارہے ہیں۔گزشتہ چھ سال کے دوران سی پیک کے حوالے سے نمایاں پیشرفت ہوئی ۔ 32منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جو پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کے نتیجہ میں لوکل ٹرانسپورٹیشن انفرا سٹرکچر اور پاور سپلائی میں زبردست بہتری آئی ہے۔ اس کے علاوہ 75 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں اور پاکستان کی جی ڈی پی پیداوار میں1 سے 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ اس سے عوام کا معیار زندگی بھی بلند ہوا ہے۔

امریکانے سی پیک کے خلاف بے بنیادپروپیگنڈہ وار میں چین کے خلاف متضاداطلاعات سے پاکستانی عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی بھی کئی مرتبہ جسارت کی جس کے جواب میں بالآخر چینی ترجمان کو ایلس ویلز کے پاک چین تعلقات اور سی پیک سے متعلق بیان کا نوٹس لیتے ہوئے سخت بیان جاری کرناپڑا۔ ترجمان چینی سفارتخانے نے ایلس ویلز کی تقریر کوبے بنیاد اورپاک چین تعلقات کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی مذموم کوشش اوراسے حقائق سے بے خبری قراردیااورمتنبہ کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور چین کے مابین 69سالوں سے بہترین سفارتی تعلقات موجود ہیں،دونوں ملک ایک دوسرے کا احترام اور مدد کرتے ہیں،پاکستان اور چین نے خطے میں امن و استحکام کیلئے مل کر کام کیا ہے۔ پاک چین تعلقات مساوی بنیادوں پر استوار ہیں، چین نے کبھی پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ مخالفین یہ بھی افواہ سازی کرتے ہیں کہ چین کاقرض ایک بوجھ ہے جس کی وضاحت چینی ترجمان نے کردی کہ سی پیک منصوبوں میں قرض کاحجم پاکستان کے مجموعی غیرملکی قرض کا 5.3فیصدبنتا ہے اورادائیگی کیلئے 20 سے 25برس کی مدت طے کی گئی ہےجبکہ شرح سود تقریبا 2 فیصد رکھی گئی ہے اور یہ پاکستان پر کوئی بڑا بوجھ نہیں ہوگا۔سی پیک سے دونوں ملکوں کے عوام کو یکساں فائدہ ہورہا ہے جس سے دشمن خائف ہے، پاکستان اور چین دونوں کو سازشوں سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

ہرطرف سے ناکامی کے بعداب امریکانے چین کو ساؤتھ چائنہ سی میں گھیرنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی ہیں اور ساتھ ہی چائنہ سی کے اردگرد موجود تمام ممالک انڈونیشیا،برونائی،چاپان، فلپائن،تائیوان،ہانگ کانگ،ساؤتھ کوریا،ویت نام کو چین کے خلاف اکسانے میں کامیاب ہوگیاہے اورآسٹریلیاتو یہاں اپنے ڈیسٹرائٹراورایئر کرافٹ کیریئر لے کر آگیا ہے اور بھارت کو کہا ہے کہ اپنی نیوی کے ذریعے آبنائے ملاکا کوچین کے بحری جہازوں کیلئے بند کردے۔یاد رہے کہ آبنائے ملاکا کے ذریعے چین کی زیادہ ترتجارت ہوتی ہے اورچین کا80٪ تیل اسی راستے سے گزرتاہے۔اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو بدلے میں چین کے پاس اپنی تجارت کے لیے صرف گوادربچتاہے جوکہ ”پاکستان”کیلئے بہت ہی خوش آئند بات ہے ۔ جواب میں چین نے بھی پالیسی بنا لی ہے،اگر بھارت آبنائے ملاکا بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو چین بھی بھارتی ریاست سکم پر قبضہ کر کے سلی گڑی کوریڈور جوکہ بھارت کی سات ریاستوں آسام،ناگالینڈ ،اروناچل پردیش ،میگ ہالیہ،میزورام،منی پور ،تری پور کو باقی بھارت سے ملاتا ہے،اس پر قبضہ کرکے ان سب کوبھارت سے علیحدہ کردے گا۔بھارت یہ بات اچھی طرح جانتاہے اورکافی حدتک خاموش ہے۔ اب بھارت نے اگرتبت کارڈکھیلنے کا فیصلہ کیا اوردلائی لامہ کوپوری دنیا میں لیکرجانے کاپروگرام بنایاتومغرب ایک مرتبہ پھرامریکاکے کہنے پریواین اومیں اس کارڈکی پشت پناہی کرے گا تو اس کے نتیجے میں چین پاکستان سے مل کرکشمیرکی آزادی کارڈبڑی قوت سے کھیلے گا اور ہر صورت کشمیر کی آزادی کیلئے وہ تمام وسائل بروئے کارلائے گا جوکبھی مغرب اورامریکانے روس کو افغانستان سے نکالنے کیلئے استعمال کئے تھے اوریہ ہزاروں میل دوربیٹھے مغرب اور امریکاکیلئے بھارت کواس مشکل سے نکالنا ناممکن ہوجائے گاکیونکہ چین اورپاکستان کئی اطراف سے بھارت اور کشمیرکاگھیراتنگ کردیں گے اورروس بھی بھارت کی امریکا دوستی کے جواب میں جوادھارکھائے بیٹھاہے، اپنا حساب برابرکردے گاکیونکہ امریکاکے کہنے پرمودی نے روس سے اسلحے کے معاہدے پردستخط کے باوجود فرانس سے رافیل طیارے خریدے ہیں اور یہ بات ”پاکستان” کیلئے اتنی ہی خوش آئندہے کہ اسی روس نے پاکستان کوتوڑنے اوربنگلہ دیش بنانے میں بھارت کی مددکی تھی اوراب بھارت کو توڑنے میں روس اپنے مفادات کی تکمیل میں پاکستان اورچین کاساتھ دینے پرمجبورہوگا۔

ذرائع کے مطابق ‏ سی پیک کے خلاف بھارتی اورامریکی سازش کے توڑ کیلئے چین نے ماؤنٹ ایورسٹ پر فوجی طیارے اور ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ لداخ اور ماؤنٹ ایورسٹ پر پانچ ہزارسے زائد فوجی اتار دیئے ہیں ، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ گیلون ندی ‏ (لداخ) سمیت تین مختلف مقامات پر چینی فوج 4-5 کلو میٹر تک “ایل اے سی” سے آگے مورچہ بند ہونا شروع ہوگئی ہے۔ بصرف گلون ندی کے مقام پر چین نے 100 کے قریب ٹینٹ لگا دیئے ہیں جہاں بھارتی میڈیا کے مطابق چینی فوج زیر زمین بنکرز بنانے مصروف ہے جبکہ کچھ بھارتی فوجیوں کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ بڑی تعداد میں بھارتی فوجیوں نے بھاک کرجان بچائی ہے۔ لداخ اور سکم کی سرحد پر چینی فوج کی نقل و حرکت سے بھارت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں۔ چینی افواج ڈربوک شیوک کی اہم شاہراہ سے صرف 255 کلومیٹر دور ہیں۔ بھارتی عسکری ذرائع کے حوالے سے دی گئی رپورٹ کے مطابق سرحد پر چینی افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت نے پہلی مرتبہ یہ تسلیم کیاہے کہ چین “لداخ” کے38ہزارمربع میل پرقبضہ کرچکاہے۔یہ بات خودبھارتی وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے بھارتی پارلیمان کو بتائی ہے۔میں یہاں یہ بھی بتاتاچلوں کہ لداخ کاکل رقبہ 59146مربع میل ہے.

دوسری طرف چین نے ایران کے ساتھ 460بلین ڈالر کاتجارتی سمجھوتہ کرکے اس کو مکمل طورپربھارت کی گود سے نکال لیا ہے اور اب ایران بھی کھل کر بھارت کے خلاف میدان میں آرہا ہے۔ اب صرف عرب ممالک کا فیصلہ باقی ہے۔ چین نے سعودی عرب اور باقی ممالک کو تیل کی تجارت ڈالر میں کرنے کی بجائے اپنی اپنی کرنسیوں میں کرنے کی آفر کی ہے جوکہ امریکی ڈالر کو بدترین دھچکا ہوگا جبکہ کوروناکی وجہ سے امریکی معیشت پہلے ہی زبوں حالی کی شکارہے۔اس وقت امریکا کا بھی عرب ممالک پر بھرپور دباؤہے۔اگر سعودی عرب دبا ؤپر گھٹنے ٹیک کر امریکی بلاک میں رہتاہے توچین فوری طورپر سعودی عرب کی بجائے ایران اور روس سے تیل خریدنا شروع کردے گا ۔ یادرہے کہ چین صرف سعودی عرب سے 40ارب ڈالرز کا تیل خریدتاہے جبکہ ایران پہلے ہی چین کو آدھی قیمت پر تیل دینے کی آفر کر چکا ہے۔

عرب ممالک پر بہت ہی کڑا وقت ہے لیکن امریکا اپنے دشمنوں سے زیادہ اپنے دوستوں کو ڈستا ہے اور چین ہرحال میں اپنے دوستوں کو ساتھ لیکر چلتا ہے اب فیصلہ محمد بن سلمان کے صوابدید پرہے کہ وہ خطے میں اپنے اقتداراورملکی سلامتی کیلئے زندگی اورموت میں کس کاچناؤکرتاہے جبکہ پاکستان اورچین پہلے ہی سعودی عرب اورایران میں تعلقات کی بحالی کیلئے کام کررہے ہیں۔

باقی اسرائیل کی کوشش ہے کہ خود جنگ میں نہ کودے بلکہ امریکا،بھارت اوراپنے مغربی اتحادیوں کےذریعے چین کوشکست دے،بالکل وہی پالیسی جو پہلی جنگِ عظیم میں امریکا کی تھی، جب روس،برطانیہ اور فرانس بمقابلہ جرمنی ،آسٹریا ،ہنگری اور سلطنتِ عثمانیہ تھے اور امریکا پہلے 3 سال تک دونوں کو اسلحہ اور خوراک فروخت کر کے خوب پیسے کماتا رہا اور آخری سال جب روس انقلاب کے بعد جنگ سے باہرہوااور دونوں فریقین بہت زیادہ کمزورہوگئے تواعلانِ جنگ کردیااوراسی طرح جنگ جیت گیا۔اب اسرائیل کی بھی وہی پالیسی ہے،جب امریکا،بھارت ،چائنہ روس اور پاکستان آپس میں لڑکر بے حد کمزورہو چکے ہوں گے تواس وقت جنگ میں شامل ہو کراور بغیر زیادہ محنت کہ جنگ جیت کر سپر پاور کی سیٹ پر بیٹھ جائے۔

امریکابھی اسرائیل کے اس پلان کواچھی طرح جانتاہے اس لیے وہ خودجنگ میں نہیں کودناچاہتابلکہ بھارت اوردوسرے ممالک کا کندھا استعمال کر کے جنگ جیتناچاہتاہے لیکن اسرائیل یہ ہونے نہیں دے گا۔یہودیوں کی خفیہ تنظیمیں پہلے ہی رپورٹ دے چکیں اورکہہ چکیں ہیں کہ چین اس خطے میں امریکا کوبری طرح شکست دے گاکیونکہ ہزاروں میل دور بیٹھاامریکا اس خطے میں موجودممالک کے اتحادکے سامنے بری طرح بے بس ہوجائے گااور اس میں سب سے بڑاکردارپاکستان اداکرے گا جبکہ اسرائیل یہ سمجھتاہے کہ ان تمام فریقوں کوجنگ میں انتہائی کمزورکرکے وہ چین اوراسکے اتحادیوں کوشکست دیکر دنیاکاتاج اپنے سرپرسجاکرگریٹراسرائیل کی بنیادرکھے گا۔

ان صورتوں میں پاکستان اوردیگراتحادیوں کیلئے بڑاکڑاامتحان ہے اورپاک فوج اوردیگرریاستی اداروں کی کوشش ہے کہ فی الحال اس جنگ کوتھوڑادوردھکیلاجائے تاکہ ملک کے اندرونی حالات کوپوری طرح قابو کرکے پھرمکمل خم ٹھونک کر فیصلہ کن وارکیاجائے۔دشمن بھی پاکستان کی ایٹمی قوت سے بہت حدتک خائف ہے کیونکہ پاکستان کے پاس فیصلہ کن ایٹمی قوت اس کے وہ میزائل ہیں جن کاوہ ساری دنیاکے سامنے کئی مرتبہ تجربہ کرچکاہے اوراس وقت واحدمضبوط ایٹمی پاکستان ہی اسلامی دنیااوراس خطے کی ڈھال بناہواہے اور اس بات کوپاکستان کے تمام دشمن امریکا،اسرائیل اوربھارت بخوبی جانتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یوم دفاع کے موقع پرجنرل باجوہ نے بڑے طمطراق سے بھارت کے جدید اسلحے کے ڈھیرکاذکرکرتے ہوئے اپنی بے خوفی کااعلان کیاہے۔اب وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے اندرونی اختلافات کوبھلاکراپنی سپاہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کااظہارکرکے دنیا پریہ ثابت کریں کہ ہم ایک سیسہ پلائی ہوئی وہ قوم ہیں جوغزوہ ہندکی پشین گوئی پرنہ صرف مکمل یقین رکھتی ہے بلکہ اپنے کرداراورعمل کیلئے اس کی منتظرہے۔ ان شا ء اللہ
(مورخہ 19ستمبر2020ء کو”سی واک گروپ”میں ورلڈجیوپالیٹیکس کے موضوع پرخطاب)

اپنا تبصرہ بھیجیں