The secret of happiness

خوشی کاراز

:Share

یوں توہرروزبے شمارای میلزاورسوشل میڈیاپرپیغامات موصول ہوتے ہیں جو بعض اوقات عدیم الفرصتی کی بناءپرپڑھنے سے قاصر رہتاہوں لیکن ایک نوجوان کاپیغام پڑھنے کوملاجس میں وہ اپنے ادھیڑماں باپ سے شکوہ کناں ہے کہ” میرے والدین ادھیڑعمر ہیں اور اکثر و بیشتر وہ مجھ سے خفا رہتے ہیں حالانکہ میں ان کو ہر وہ چیز مہیا کرتا ہوں جس کا وہ مطالبہ کرتے ہیں “۔میں نے مناسب سمجھاکہ کیوں نہ اس پراپنی بساط کے مطابق کچھ لکھاجائے تاکہ اس سے اورنوجوان بھی استفادہ کریں جن کوایسی شکائت ہے۔میں ایسے تمام افرادسے مخاطب ہوں جواس پریشانی میں مبتلاہیں اوراس کوپڑھ کردل پرہاتھ رکھ کرسوچیں کہ وہ کہاں تک اپنے بوڑھےوالدین کے ساتھ انصاف میں کوتاہی برت رہے ہیں۔

بوڑھے والدین کی ناراضگی کاسب سے بڑاسبب یہی ہے کہ جب وہ مانگتے ہیں اورآپ ان کولاکردیتے ہیں۔شائدآپ کویہ بات سمجھ نہ آئے تومیں اس کی مزیدوضاحت کردیتاہوں۔ کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ جب تم دنیا میں نہیں آئے تھے تو تمہارے آنے سے پہلےہی تمہارے والدین نے تمہارے لئے ہر چیز تیار کر رکھی تھی۔ تمہارے لئے کپڑے، تمہاری خوراک کا انتظام، تمہاری حفاظت کا انتظام، تمہیں سردی نہ لگے اگر گرمی ہے تو گرمی نہ لگے ۔تمہارے آرام کا بندوبست تمہاری قضاے حاجت تک کا انتظام تمہارے والدین نے تمہاری دنیا میں آنے سے پہلے ہی کر رکھا تھا۔ تمہارے لئے خودسے زیادہ بہتر جوتے،کپڑے ،کھلونے،تمہاری پہلی سائیکل،تمہارا پہلا موٹر سائیکل ،تمہارا پہلا اسکول ،تمہاری بول چال ،تمہاری تربیت تمہارا رہن سہن ،چال چلن رنگ ڈھنگ، گفتگو کا انداز .. …یہاں تک کے تمہارے منہ سے نکلنے والا پہلا لفظ تک تم کو تمہارے ماں باپ نے مفت میں سکھایا اور تمہارے مطالبے کے بغیر سکھایا ہے۔اگرخدانخواستہ تم کبھی بیمارپڑگئے توکندھوں پراٹھاکرڈاکٹروں کی مہنگی فیسوں اورادویات کابوجھ اٹھاتے ہوئے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دعائیں اورصدقے واری جاتے ہوئے صدقے دیتے ہوئے تم سے کبھی نہیں پوچھااورتمہاری صحت یابی اورکامیابی کیلئے راتوں کواٹھ اٹھ کر اپنے رب کے حضورسجدوں میں آہ وزاری کرتارہالیکن اس نے ساری عمر تم کوایک مرتبہ بھی نہیں جتایا۔

پھر آگے چلو …کیا تمہارے والدین نے کبھی تم سے پوچھا تھا کہ بیٹا تم کو سکول میں داخل کروائیں یا نہیں ۔تمہارے اسکول جانے اور تمہارا بستہ اٹھانے کیلئے خوشی خوشی اپنے کندھے پیش کئے،تمہیں معلوم ہی نہیں کہ تمہارے اسکول کے تمام اخراجات اٹھانے میں کس قدرمحنت کرکے خوشی محسوس کرتے رہے۔ اسی طرح تمہارے سکول کی ٹرانسپورٹ کیلئے تمھارے یونیفارم کیلئے تمہارے والد صاحب نے کبھی تم سے نہیں پوچھا ہو گا بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق بہتر سے بہتر چیز تمہارے مانگنے سے پہلے ہی تمہیں لاکر دی ہو گی۔تمہاری تعلیم میں کوئی کمی نہ آئے،اس کیلئے خصوصی ٹیوشن کیلئے اسے اضافی محنت بھی کرنا پڑی لیکن تمہیں اپنی تھکاوٹ کے بارے میں محسوس بھی نہیں ہونے دیا۔
مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

اسی طرح کالج یا یونیورسٹی میں داخلے کیلئے تم سے کبھی پوچھا ہو بلکہ تمہارے بہتر مستقبل کیلئے تم سے پہلے ہی سکول اور کالج میں داخلے کابندوبست کردیا ہو گا اوریہ بھی عین ممکن ہے کہ تمہیں بہترین سواری بھی مہیاکی ہوگی کہ تمہیں گرم سردموسم میں چلنے میں کوئی تکلیف محسوس نہ ہو۔تمہیں تو شاید اس کا بھی احساس نہ ہو کہ جب تم نے جوانی میں قدم رکھا تھا تو تمہارے والدین نے تمہارے لئے ایک اچھی لڑکی بھی ڈھونڈنی شروع کر دی ہو گی جو اچھی طرح تمہاری خدمت کر سکے اور تمہارا خیال رکھ سکے ۔ لڑکی تلاش کرتے ہوے بھی ان کی اوّلین ترجیح تمہاری خدمت ہی ہوگی بلکہ ان کے تو ذہن میں کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا ہو گا کہ ہم ایسی دلہن بیٹے کیلئے لائیں جو ہماری خدمت بھی کرے اور ہمارے بیٹے کی بھی بلکہ مجھے یہ کہنے دوکہ تم نے جب ان کی تمام خواہشات کوروندتے ہوئےخودہی اپناجیون ساتھی تلاش کرکے ان سے مطالبہ کیاہوگاتوانہوں نے معمولی پس وپیش کے بعدتمہارادل نہیں توڑاہوگااور یہ بھی ممکن ہے کہ تمہاری اس خواہش کوپوراکرنے کیلئے انہیں اپنی ساری جمع شدہ پونجی خرچ کرکے مزیدقرض بھی اپنے بوڑے کندھوں پراٹھایاہوگا اور آج تم کہتے ہو کہ جو کچھ وہ مجھ سے مانگتے ہیں میں ان کو لا کر دیتا ہوں اس کے باوجود وہ خفا رہتے ہیں ۔

جا ؤ والدین کو بن مانگے دینا شروع کرو ،ان کی ضروریات کا خیال اپنے بچوں کی ضروریات کی طرح کرنا شروع کرو ۔اگر ان کی مالی مدد نہیں کر سکتے تو ان کو اپنا قیمتی وقت دو ،ان کی خدمت کرو ،گھر کی ذمہ داریاں خود لو ۔۔جیسے اپنے بچوں کے باپ بنے ہو ویسے ہی اپنے والدین کی نیک اولاد بنو ،اور ا ن کی خواہشات کو بن مانگے پوراکرنا شروع کرو ۔

اپنے آپ کو اس قابل بنا لو کہ ان کو تم سے مانگنے کی یا مطالبے کی ضرورت ہی نہ پڑے ،یا ان کو کبھی تمہاری کمی محسوس ہی نہ ہو ،کم سے کم اتنا وقت تو ان کو عطا کردو ،ان کے مسائل خودپوچھو،وہ تم کوبتانے میں اگرحجاب محسوس کریں توان کے گلے میں بانہیں ڈال کرمحبت سے ضدکرکے ان سے پوچھو، اگران کی مالی مدد نہیں کر سکتے تو ان کی خدمت کرو،وہ کبھی بھی تم پرناجائزبوجھ ڈالنے کی کوشش نہیں کریں گے۔دنیامیں ایسی مثالیں موجودہیں کہ جب ڈاکٹرنے بیٹے سےبیمارباپ کیلئے قیمتی انجیکشن خریدنے کیلئے کہاتوباپ نے خاموشی سے ڈاکٹرکے کان میں سرگوشی سے کہاکہ میرابیٹے کی استطاعت نہیں کہ وہ یہ قیمتی ٹیکا خریدسکے،تم مجھے کوئی پانی کاٹیکالگادوکہ زندگی اورموت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

کیا کبھی ماں یا باپ کے پا ؤ ں کی پھٹی ہوئی ایڑیاں دیکھیں ہیں تم نے ؟؟باپ نے تمہارے نئے جوتوں کیلئے خودکئی سال جوتاتبدیل نہیں کیا،لیکن اس کے باوجودسردیوں گرمیوں میں نجانے کتنی بارتمہارے پا ؤ ں خوداپنے ہاتھوں سے دھوکراس پرمختلف قسم کی کریم لگاکرموزے پہنائے ہوں گے۔ کیا کبھی باپ کے پا ؤ ں دبائیں ہیں حالانکہ تمہارے باپ نے تمہیں بہت دفعہ دبایا ہو گا ۔کیا کبھی تم نے اپنے ادھیڑماں باپ کی پھٹی ہوئی ایڑیوں میں کوئی کریم یا تیل لگایا ہے جیسے وہ تم کو چھوٹے ہوتے وقت لگاتے تھے ؟؟ کیا کبھی ماں یا باپ کے سر میں تیل لگانے کالطف اٹھایاہے تم نے ،کیونکہ جب تم بچے تھے تووہ باقاعدہ تمہارے سرمیں تیل لگاکرکنگھی بھی کرتے تھے ،تمہاری ماں توسردیوں کی راتوں کوتمہارے چہرے اور ہاتھوں پرویسلین بھی لگاتی تھی تاکہ تم خشک سردی کے عذاب سے بچ سکوتمہارے بال سنوارتی تھی کبھی ماں کے بال سنوار کر تو دیکھو۔

کیا کبھی ماں یاباپ کیلئے ہاتھ میں پانی یا تولیہ لے کر کھڑے ہوئے ہوئے ہو جیسے وہ تمہارا منہ بچپن میں نیم گرم پانی سے دھویا کرتے تھے۔ کچھ کرو تو سہی.. . ..ان کو بغیر مانگے لا کر دو.. … ان کو پوچھےبغیر لا کر دو.. … ان کی ذمہ داریاں اٹھا کر دیکھو. … ان کو وقت دے کر دیکھو.. … ان کی خدمت کر کے دیکھو.. … ہمیشہ ان کو اپنے ساتھ رکھو.. … ان کو اپنے آپ پربوجھ مت سمجھو نعمت سمجھ کر دیکھو.. … جس طرح انہوں نے تم کوبوجھ نہیں سمجھا بغیر کسی معاوضہ کے تمہاری دن رات پرورش کر کے معاشرے کا ایک کامیاب انسان بنایا ہے ۔کم سے کم ان کی وہی خدمات کا صلہ سمجھتے ہوئے ان سے حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو ۔پھر دیکھنا وہ بھی خوش اور اللہ بھی خوش ۔پھرتمہیں کبھی اپنے ادھیڑماں باپ سے یہ گلہ نہیں ہوگاکہ وہ مجھ سے خوش نہیں رہتے۔

ہم نے کبھی ملک الموت کی آوازپرغورہی نہیں کیاکہ وہ ہرروزہمارے گھرکے دروازے پرکھڑاہوکریہ منادی کرتاہے کہ” میں تمہارے گھر میں بار بار آتا رہوں گا، یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑوں گا۔” یہ الفاظ اس کے ہیں جو ہر گھر،ہر عالیشان محفل اور ہر اس جگہ آتا ہے جہاں کوئی متنفس رہتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جس کے پاس ملک الموت نے نہیں آنا۔ہر ایک کے پاس آنا ہے،شاہ و گدا کے پاس بھی، امیر و غریب کے پاس بھی ،صحت مند اور بیمار کے پاس بھی،نبی اور ولی کے پاس بھی،کوئی حاجب و دربان، کوئی چوکیدار اور پہرے دار اور کوئی تالہ و دروازہ اسے اندر جانے سے نہیں روک سکتا۔

حافظ ابن ابی الدنیا نے نقل کیا ہے کہ سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ملک الموت ہر گھر میں تین مرتبہ روزانہ چکر لگا کر دیکھتے ہیں کہ کس کارزق پورا ہو گیا، کس کی مدت عمر پوری ہو گئی۔جس کا رزق پورا ہو جاتا ہے۔اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور جب اس کے گھر والے اس کی موت پر روتےہیں تو ملک الموت دروازے کی چوکھٹ پر کھڑے ہو کر کہتے ہیں۔”میرا کوئی گناہ نہیں۔ مجھے تو اسی کا حکم دیا گیا ہے۔واللہ! میں نے نہ تو اس کا رزق کھایا اور نہ اس کی عمر گھٹائی،نہ اس کی مدت عمر سے کچھ حصّہ کم کیا۔ میں تمہارے گھروں میں بار بار آتا رہوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑوں گا۔”

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر میت کے گھر والے ملک الموت کا کھڑا ہونا دیکھ لیں اور اس کا کلام سن لیں تو اپنی میت کو بالکل بھول جائیں اور اپنے اوپر رونا شروع کردیں۔مولاناروم کیاخوب فرماگئے کہ ” انسانیت محبت کا مرکز ہے اور محبت انسانیت کی معراج ہے،اگر میرا علم مجھے انسان سے محبت کرنا نہیں سکھاتا تو ایک جاہل مجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے۔”اگرعام انسان سے محبت کایہ صلہ ملتاہے توماں باپ توآپ کی دنیااوراخروی زندگی کی نجات کاوسیلہ ہیں۔

یادرکھیں کہ کتابِ زندگی کے ورق برابر الٹ رہے ہیں ہر آنے والی صبح ایک نیا ورق الٹ دیتی ہے یہ الٹے ہوئے ورق بڑھ رہے ہیں اور باقی ماندہ ورق کم ہو رہے ہیں اور ایک دن وہ ہوگا جب ہم اپنی زندگی کا آخری ورق الٹ رہے ہوں گے، جونہی آنکھیں بند ہوں گی یہ کتاب بھی بند ہو جائے گی اور ہماری یہ تصنیف محفوظ کر دی جائے گی……..کبھی غور کیا اس کتاب میں ہم کیا درج کر رہے ہیں، روزانہ کیا کچھ لکھ کر ہم اس کا ورق الٹ دیتے ہیں ہمیں شعور ہو یا نہ ہو ہماری یہ تصنیف تیار ہو رہی ہے اور ہم اس کی ترتیب و تکمیل میں اپنی ساری قوتوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اس میں ہم وہ سب کچھ لکھ رہے ہیں جو ہم سوچتے ہیں دیکھتے ہیں سنتے ہیں اور سناتے ہیں اس میں صرف وہی کچھ نوٹ ہو رہا ہے جو ہم نوٹ کر رہے ہیں، اس کتاب کے مصنف ہم خود ہیں۔ ذرا سوچیں……..غور کریں کہ ہم اپنی کتابِ زندگی میں کیا درج کر رہے ہیں……..!اگراس کتاب کے کسی صفحے پرماں باپ سے یہ شکائت درج ہوئی توپھرکیاہوگا؟

کوشش کریں کہ زندگی کی اس کتاب کاہرصفحہ ماں باپ کے مسکراتے چہرے سے روشن ہواوریہ اسی صورت میں ممکن ہوگاکہ اپنے والدین کی ڈیمانڈ سے پہلے ہی ان کی ضروریات کو جانتے ہوے پایہ تکمیل تک پہنچا دیاجائے ۔کیا میرارب آپ کوبن مانگے عطانہیں کررہا،کیامیرے رب نے آپ پرنعمتوں کی بارش کرکے کسی کوبتایاہے،آپ اپنے ماں باپ کی خواہشات کی تکمیل اوران کی خوشی کیلئے جوکچھ خرچ کریں گے،کیاوہ مال اسی اللہ کادیاہوانہیں جس نے ماں باپ کی خدمت کوفرض قراردیتے ہوئے ان کی ناراضگی کواپنی ناراضگی سے تعبیرکیاہے۔ یقین کریں جب آپ ان کی ضروریات کوان کے کہے بغیرپوراکرکے ان کے سامنے رکھیں گے توان کی آنکھوں کی چمک اوردمکتاچہرہ آپ کوایسی نعمتوں،خوشیوںاوردعا ؤں میں شرابورکردے گاجو آپ کودن دوگنی اوررات چوگنی ترقی اوراطمینان کی بے تحاشہ دولت سے مالامال اورسرفراز کردے گا ۔ وہ بڑے خوش نصیب اورخوش قسمت ہیں جن کے ماں باپ زندہ ہیں ۔اللہ سب کواپنے ماں باپ کی خدمت کی توفیق عطافرمائے.. ….آمین
گھر کی اس بار مکمل میں تلاشی لوں گا
غم چھپا کر مرے ماں باپ کہاں رکھتے تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں