انڈین کورویڈورکی حقیقت

:Share

مودی نے جی20سربراہی اجلاس کے موقع پرایک نئے ٹرانسپورٹ کوریڈورمنصوبے کااعلان کرتے ہوئے جودعوے کئے ہیں کیاواقعی ایساممکن ہوسکتاہے؟عالمی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق جوبائیڈن اورولی عہدمحمدبن سلمان کے درمیان سرد تعلقات کوبہتربنانے کی طرف ایک قدم قراردینے کی کوشش توہوسکتی ہے کیونکہ بائیڈن نے ماضی میں ایک بارسعودی عرب کوعالمی طورپرتنہاکرنے کے عزم کااظہارکیا تھاتاہم مودی کے اعلان کردہ منصوبے کی تفصیلات دیکھتے ہوئے درجنوں شکوک وشبہات ابھرآئےہیں۔

بظاہرریل اورشپنگ نیٹ ورکس کے ذریعے یورپ اورایشیاکے درمیان نقل وحمل اورمواصلاتی روابط کوتقویت دینے والا یہ منصوبہ جہاں خطے کیلئے فائدہ مند ہے،وہاں یہ امریکی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی کااشارہ بھی ہے جوچین کے خلاف امریکی عزائم کاپتہ دیتاہے۔اس منصوبے سے امریکا کومادی طورپرکوئی فائدہ نہیں ہے لیکن اسے کیمپ ڈیوڈمیں ہونے والے جاپان، جنوبی کوریاسربراہی اجلاس کے زمرے میں دیکھاجاسکتاہے کہ امریکا نے چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے پیشِ نظرچین کے دواہم پڑوسیوں سے تعلقات بہتربنانے کیلئے “دشمن کے دشمن کواپنادوست” بنانے کی پالیسی اختیارکی ہے تاکہ بحرالکاہل میں اپنی موجودگی قائم رکھ سکے۔

دہلی میں منعقدہ دنیاکی بڑی معیشتوں والے20ممالک کی تنظیم جی-20کے سربراہی اجلاس کے دوران انڈیا،امریکا،سعودی عرب،متحدہ عرب امارات،یورپی یونین،اٹلی،فرانس اورجرمنی نے”انڈیا مڈل ایسٹ یورپ کوریڈور”کی تعمیرکامعاہدہ کیاہے۔ اس سلسلے میں ایک ایم اویوپردستخط بھی کیے گئے ہیں۔یادرہے کہ اس تنظیم کے دوبڑے ملک روس اورچین نے اس میں شرکت نہیں کی۔

ترقی یافتہ مغربی ممالک کی جانب سے چین کے بڑھتے اثرورسوخ کوروکنے کیلئے انڈیا،مشرق وسطیٰ اوریورپ کاراہداری منصوبہ(آئی ایم ای سی) پہلی کوشش نہیں ہے۔جی سیون ممالک اور امریکانے2022میں”بی آرآئی”کے جواب میں عالمی انفرا سٹرکچراورسرمایہ کاری کیلئےشراکت داری کا آغاز کیاتھاجس کامقصد2027 تک عالمی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں 600/ارب ڈالرکے اس منصوبے کوگلوبل گیٹ وے کانام دیاگیاتھا تاہم زمینی حقائق کے مطابق یہ اس بات کاثبوت ہے کہ بی آر آئی ایک عالمی اقتصادی قوت ثابت ہواہے۔کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق آئی ایم ای سی کے قیام سے تجارتی شراکت کے رجحان کومزید فروغ اوربیک وقت متعدد شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھ سکتاہے اوران دنوں زیادہ تر ممالک متعدد فورمز اور اتحادوں میں شامل ہونے سے پہلے مالی فوائدکے ساتھ اس کے سیاسی فوائدکوبھی دیکھتے ہیں۔

آئی ایم ای سی کے مفاہمتی دستاویزات میں تواس منصوبے کی تفصیلات بہت کم ظاہرکی گئی ہیں لیکن اگلے60دنوں میں اس حوالے سے ایک ایکشن پلان متوقع ہے۔اب تک کی معلومات سے تویہ ایک ممکنہ جغرافیائی راہداری کامنصوبہ معلوم ہوتا ہے ۔اسے مکمل کرنا بہت پیچیدہ ہوگا۔ابھی تک یہ طے نہیں ہواکہ اس میں شامل ممالک کتنے وقت میں کتنی سرمایہ کاری کریں گی تاہم تب تک اسے ایک کاغذی کاروائی کہاجاسکتاہے۔اس کے علاوہ امریکا،اسرائیل اورسعودی عرب جیسے شراکت دار ممالک کے درمیان تعلقات کواستوارکرنے کی واضح جغرافیائی سیاسی پیچیدگیاں بھی ہیں جواکثربظاہردکھائی نہیں دیتی۔اس قسم کے ٹیکٹیکل تعاون کوخراب ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔آئی ایم ای سی منصوبہ نہرسوئز کے بھی مقابل ہوگا، یہ وہ بحری تجارتی راستہ ہے جومصرمیں آبی گزرگاہ ممبئی اور یورپ کے درمیان تجارت کیلئےاستعمال ہوتی ہے۔یقیناً اس سے مصرکے ساتھ تعلقات کونقصان پہنچے گا۔کیامصراپنی معیشت کوہونے والے اس بھاری نقصان کوٹھنڈے پیٹ برداشت کرلے گا۔خوانڈین ماہرناتھن آئیرکاکہنا ہے کہ نہرسویزکے ذریعے سمندری سفربھی سستا،تیزاورنسبتاًکم مشکل ہے لیکن یہ منصوبہ چاہے سیاسی اعتبار سے بہترین ہو،لیکن یہ ٹرانسپورٹ کی معیشت کے تمام اصولوں کے خلاف ہے جوبالآخرناکام ہوگا۔

متحدہ عرب امارات کیلئےسابق انڈین سفارتکار نودیپ پوری نے دی نیشنل نیوز میں اپنے ایک کالم میں یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ لیکن اس منصوبے کے عزائم کواڈجیسے سکیورٹی فورمزمیں ہونے والی بات چیت کی بنیادپرتجارت اورمعاشیات کے تنگ دائرہ کارسے بالاترہیں تاکہ بجلی کے گرڈسے لے کرسائبر سکیورٹی تک ہرچیزکوشامل کیاجاسکے۔

انڈیا،مڈل ایسٹ-یورپ کوریڈورمنصوبے پرکام کب شروع ہوگا،کون کون سے ممالک اس پرکتنی رقم لگائیں گے اوراس کا فائنل روٹ کیاہو گا ؟ اس بارے میں فی الحال زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔انڈین حکومت کے مطابق اس منصوبے میں دو کوریڈورہوں گے۔ایک مشرقی راہداری ، جوانڈیاکوخلیجی ممالک سے جوڑے گی اوردوسری جانب شمالی راہداری ہوگی جو خلیجی ممالک کویورپ سے جوڑے گی اوراس منصوبے کے تحت زمینی ،سمندری اورریل کاٹریک بچھایاجائے گا۔عندیہ یہ دیاگیاہے کہ اس منصوبے کامقصدطویل سمندری راستے طے کرنے میں لگنے والے وقت اور ایندھن کی لاگت کوکم کرنااور انڈیاسے یورپ تک تجارتی رابطے کومضبوط بناناہے۔

دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں شعبہ ویسٹ ایشیئن سٹڈیزکی پروفیسرسجاتاایشوریہ کاکہناہے کہ”اس اقتصادی راہداری کی مددسے سامان سب سے پہلے ممبئی بندرگاہ سے دبئی کی جبل علی بندرگاہ پہنچے گااوروہاں سے بذریعہ سڑک یاریل گاڑی سعودی عرب پہنچایاجائے گا۔سعودی عرب میں سڑک یاریل گاڑی کے ذریعے ہزاروں کلومیٹرکاسفرکرنے کے بعد سامان کو اسرائیل کی حیفہ بندرگاہ تک پہنچایاجائے گا،جوپھریونان کی پریوس بندرگاہ کے راستے یورپ میں داخل ہوگا۔اگرموجودہ صورتحال کی بات کریں توممبئی سے سامان لے کریورپ جانے والے بحری جہازبحیرہ عرب،خلیج عدن،بحیرہ احمرسے گزرتے ہیں اورپھرنہرسویزسے نکل کربحیرہ روم میں داخل ہوتے ہیں اوروہاں سے یورپی ممالک کاسفرکرتے ہیں۔

ادھرچین کا”بیلٹ اینڈروڈ”منصوبہ دنیاکے100سے زائدممالک میں پھیلاہواہے،جس میں صحاراِافریقاکے38ممالک،یورپ اور وسطی ایشیا کے 34ممالک،مشرقی ایشیااوربحرالکاہل کے25 ممالک،مشرق وسطیٰ اورشمالی افریقاکے17ممالک شامل ہیں۔ لاطینی امریکا،امریکااورکیریبئین خطے کے18ممالک اورجنوب مشرقی ایشیاکے6ممالک شامل ہیں جبکہ انڈین پروفیسرسجاتاایشوریہ کے مطابق”مجوزہ انڈین اقتصادی راہداری منصوبہ کھوکھلادکھائی دیتاہے کیونکہ چین پہلے ہی سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان مجوزہ راہداری کے تحت ریلوے لائن بچھارہا ہے،اس لیے نئی راہداری کیلئےدوبارہ ریلوے کی ضرورت ہوگی۔بہت مشکل اوریہ ایک طرح ایک ہی کام کی نقل کرنے جیساہوگا۔چین کوساتھ لے کریہ پراجیکٹ بناناآسان ہوتا لیکن یہ مجوزہ پراجیکٹ توچین کی راہداری کے خلاف بنایاجارہاہے توامریکاکیسے چین کواس میں شامل ہونے کی اجازت دیتا۔تاہم انڈیااب مکمل طورپرامریکاکی جھولی میں بیٹھ چکاہے اورامریکاسے اپنی وفاداری ثابت کرنے کیلئے سعودی عرب اوردیگرخلیجی ممالک کوشامل کرکے امریکاکااہداف کی تکمیل کیلئے کام کررہاہے جس میں سب سے بڑاہدف ان ممالک کوچین سے دوررکھناہے۔

چین کے بیلٹ اینڈروڈانیشیٹو(بی آرآئی)کے اعلان کے فوری بعدامریکانے اپنے اتحادیوں سمیت یہ طے کرلیاکہ وہ کسی ایسے منصوبے کوپایہ تکمیل تک نہیں پہنچنے دے گاجوامریکاکی بالا دستی کے خلاف ہو۔اس نےعالمی میڈیاکے ذریعے پروپیگنڈہ وارکابھرپورآغازکیااوردرپردہ ان تمام ممالک کی کلائی مروڑنے کاکام بھی شروع کردیاجوچین کے اس منصوبے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔چینی منصوبے پرتنقیدی واریہ کیاگیاکہ چین کابنیادی مقصد ترقیاتی منصوبوں کے توسط سے سٹریٹجک اثر ورسوخ حاصل کرنے کیلئے مختلف خطوں کوجارحانہ طورپرچین سےجوڑکران ممالک کی ضروریات کوسستے داموں فروخت کرکے عالمی تجارتی منڈیوں پرمکمل قبضہ کرنااوربعدازاں ان کوقرضوں کے جال میں پھنساکران کی خودمختاری پر اثراندازہوناہے جس کیلئے ان ملکوں کے کرپٹ مقتدراشرافیہ کواپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہوئے ان کے بدعنوانی اور منفی سنگین مالی الزامات سے آنکھیں بندرکھنے کی پالیسی پرکاربندہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کوروناوباکاآغازسب سے پہلے چین سے شروع ہواجس کے بارے میں بھی کثیرتعدادغیرمصدقہ افواہیں یہ بھی پڑھنے کوملیں کہ کوروناکوبھی اس چینی بالادستی کے منصوبے کی تباہی کیلئے میدان میں لایاگیالیکن جوابی وارمیں ساری دنیااس کاشکارہو گئی لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس وباکے نتائج میں منصوبے کے بڑے عزائم میں نمایاں طورپرکمی آئی کیونکہ چین کی اقتصادی سست روی کے درمیان منصوبوں کوقرض دینے کی رفتارکم ہوگئی۔امریکاکے ایک بڑے اتحادی اٹلی نے اس منصوبے سے نکلنے کی خواہش کا اظہارکردیاہے،سری لنکااور زیمبیااب اپنے چینی قرض کی ادائیگی سے قاصر نظرآتے ہیں لیکن ان تمام مشکلات کے باوجودچین نے حیران کن کامیابی حاصل کی ہے۔

چینی صدرشی چنگ پنگ کی جانب سے اعلان کردہ چین راہداری منصوبے کے آغازکودس سال مکمل ہوگئے ہیں۔چین کی بی آرآئی منصوبے پراب تک سرمایہ کاری ایک کھرب ڈالرسے تجاوزکرچکی ہے اور150سے زیادہ ممالک اس منصوبے میں بطورشراکت دارشامل ہوچکےہیں اورعالمی بنیادی ڈھانچے کی تعمیرکے اس منصوبے میں چین واضح طورجنوب مشرقی ایشیا،وسطی ایشیا،روس اوریورپ تک رسائی حاصل کرکےاپنے جغرافیائی دائرہ کارکو”علاقائی سے عالمی”سطح پربڑھانے میں کامیاب ہوچکاہے۔تمام ترمشکلات اورمسائل کے باوجودچین نے”حیران کن کامیابی”حاصل کی ہے اس لئے عالمی سرمایہ کاروں کے مطابق حالیہ آئی ایم ای سی منصوبہ چین کیلئے حریف بننے سے کوسوں دورہے تاہم انڈیایہ منصوبہ ایک خوش آئند اعلان توہوسکتاہے یاایک معتدل راہداری منصوبہ کہلاسکتاہے۔

یہ بھی ذہن نشیں رہے کہ انڈیاکویورپ سے جوڑنے والی اس اقتصادی راہداری کے راستے میں ترکی بھی آتاہے لیکن اسے اس میں شامل نہیں کیا گیا۔معاہدے کے دودن بعدترک صدررجب طیب اردوغان نے اس منصوبے میں اپنے ملک کی عدم شمولیت پربرہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ راہداری اُن کے بغیرممکن نہیں ہو سکتی۔دنیاکے نقشے پرترکی ایک ایسی کڑی ہے جومغرب کو مشرق سے ملاتی ہے کیونکہ اس کاکچھ حصہ یورپ اورکچھ حصہ ایشیامیں ہے۔اس وقت ترکی نہ صرف تجارتی نقطہ نظر سے مضبوط پوزیشن میں ہے بلکہ مشرق وسطیٰ میں بھی اس کااچھا اثرو رسوخ ہے،وہ نیٹوکارکن ملک بھی ہے مگرپھر ایسی کیاوجہ ہے کہ اسے اس اقتصادی راہداری سے دوررکھاگیاہے؟

اس منصوبے میں نظراندازکیے جانے پراقتصادی اورمعاشی نقصان کےعلاوہ ترکی کوکچھ دیگر خدشات بھی ہیں۔انڈین کونسل آف ورلڈافیئرز کے سینیئرریسرچ فیلوڈاکٹرفضل الرحمان صدیقی کے مطابق”اسرائیل بھی اس اقتصادی راہداری میں شامل ہے،جس کی وجہ سے اسے امریکی قیادت کے منصوبے کے طورپردیکھاجارہاہے۔اسے چین کے”بیلٹ اینڈروڈ پراجیکٹ”کامتبادل بنانے کی بات ہورہی ہے اوریہ چیز ان ممالک کوزیادہ پریشان کررہی ہے جن کے چین کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،جن میں ایران،ترکی اورمصرجیسے ممالک شامل ہیں۔”

ڈاکٹرفضل الرحمان کامزیدیہ بھی کہناہے کہ”بحیرہ روم میں ترکی کاغلبہ ہے،وہ کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گاکہ اس علاقے میں کوئی دوسرا تجارتی محاذاسے چیلنج کرے اوردنیامیں اس کی سٹریٹجک پوزیشن کمزورہو۔اسے خدشہ ہے کہ اب محض اقتصادی راہداری نہیں رہے گی بلکہ جیو پولیٹیکل راہداری میں تبدیل ہوجائے گی۔”صاف ظاہرہے کہ امریکامشرق وسطیٰ سے خودکوپیچھے نہیں ہٹارہابلکہ وہ اس خطے میں رہناچاہتا ہے اور یہی اس کاایجنڈہ ہے۔سعودی عرب اوراسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں لیکن اس منصوبے کی مددسے امریکادونوں ممالک کے تعلقات کومضبوط بنانے میں اہم ثابت ہوسکتاہے اوراس بہانے اسرائیل کوبھی جلد”جی20میں شامل کرنے کااعلان ہوسکتاہے۔اہم بات یہ ہے کہ ترکی کے اس اہم منصوبے سے باہررہنے سے سعودی عرب کواس خطے میں ایک سٹریٹجک برتری بھی ملے گی اورترکی کے”ٹرانس شپنگ زون” میں بھی کمی واقع ہوگی۔

اس سارے منصوبے میں ہمیں5 لاکھ آبادی سے زائداورایک ہزارسے زیادہ جزائرپرمبنی ملک مالدیپ کونہیں بھولناچاہئے جو اپنے محل وقوع کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔حال ہی میں”انڈیاآوٹ”کانعرہ دینے والے محمدمعیزونے انڈیاحامی کہلائے جانے والے صدرمحمدصالح کو شکست دے کرصدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔معیزواپنی انتخابی مہم کے دوران محمد صالح پرحکومت پرالزام لگاتے رہے کہ ملک کے پالیسی فیصلوں میں انڈیاکی مداخلت کی وجہ سے”مالدیپ کی خودمختاری اورآزادی”کونقصان پہنچاجبکہ پی پی ایم کے سربراہ اور مالدیپ کے سابق صدرعبداللہ یامین کوانڈیاکی شدید مخالفت پر11سال کیلئے جیل میں ڈال دیاگیاتھاجس کے جواب میں عوام نے انتخابات میں مودی کی حامی امیدوارکوہراکرواضح پیغام دے دیاہے۔ دوسری جانب محمد معیزوکوپروگریسو پارٹی آف مالدیپ (پی پی ایم) کی قیادت والے اتحادکی حمایت حاصل تھی جنہیں چین کے ساتھ قریبی تعلقات کیلئے جاناجاتاہے۔گویاصالح اور معیزوکے درمیان حتمی انتخابی جنگ کو”انڈیابمقابلہ چین” قرار دیاجارہاتھااورمحمدمعیزوکی جیت یقیناًانڈیاکیلئے ایک شدید”دھچکہ”ہے۔

مالدیپ طویل عرصے سے انڈیاکے زیراثررہاہے۔انڈیاکووہاں اپنی موجودگی برقراررکھنے سے بحرہندکے ایک اہم حصے کی نگرانی کرنے میں مدد ملتی ہے۔چین اپنی تیزی سے پھیلتی ہوئی بحری افواج کے ساتھ اس اہم مقام تک رسائی چاہتاہے جسے انڈیاروکنے کاخواہاں ہے۔چین اس راستے سے گزرنے والے اپنی توانائی کی سپلائی کے ذرائع کوبھی خلیج کی پہنچ سے محفوظ کرنے کاخواہاں ہے۔دلی اوربیجنگ دونوں نے انفراسٹرکچراورترقیاتی منصوبوں کی مدمیں مالدیپ کوکروڑوں ڈالرز قرضوں اورگرانٹس کی شکل میں دیے ہیں تاہم اس بارالیکشن کے نتائج میں چین کوبرتری حاصل ہو گئی ہے جس سے انڈیاکومستقبل کے معاہدوں کی تکمیل کیلئے ناکامی کے امکانات مزیدواضح ہوگئے ہیں۔

مشرق اورمغرب کے مصروف بحری راستوں کی موجودگی کے درمیان دونوں ممالک ان جزائرمیں اپنی موجودگی کو مضبوط بنانےکی کوششوں میں مسلسل مصروف عمل ہیں لیکن چین نے بروقت بغیرکسی جنگ کےسیاسی حکمت عملی سے خودکومضبوط کرلیاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں

17 + 5 =