The Nation is Waiting

قوم منتظرہے

:Share

ان مردوں کے ہاتھوں،عورتوں کے ساتھ ہونے والے جنسی مظالم اب کس سے ڈھکے چھپے ہیں؟لاہور سیالکوٹ موٹروے پراپنے معصوم بچوں کے سامنے لٹ جانے والی ماں ہویامیروالاں کی دھول اڑاتی سڑک پرمختاراں مائی،ان سب کی بے بسی کانوحہ آج تک پڑھتے چلے آرہے ہیں۔ڈیرہ بگٹی کی تاریک راتوں کوڈاکٹر شازیہ کی کرب ناک چیخیں اب بھی ہم سب کویادہیں،یہی قضیہ بعدازاں اکبربگتی کے قتل پرمنتج ہوا۔پنچایت کے حکم پرتسلیم سولنگی پرچھوڑے گئے کتوں کی غراہٹ خیر پور کے چوباروں میں اب تک مسلسل گونجتی ہے کہ وہاں کے سرداروں نے اسے اپنے قبیلہ کے رسم ورواج کانام دیکر قانون سازی تک نہیں ہونے دی اورپوری قوم کومتنبہ کیاکہ ہمارے معاملات میں دخل دینے کی کوئی جرات نہ کرے،خیبرپختون خواکے باغیرت لوگوں نے ڈیرہ اسمعیل خان سے تعلق رکھنے والی شاداں کی تذلیل سے چھ سال پہلے بھی وہ سنسان دوپہردیکھی،جب ایک بیٹے کے جرم کی سزامیں ماں کوبے لباس کرکے سڑکوں پر گھسیٹاگیالیکن زمین پھٹی نہ آسمان لرزا۔کس کس کوروئیں ٹوبہ ٹیک سنگھ کی شازیہ کے ساتھ ہونے والے ظلم پرسرپیٹیں یا گوجرانوالہ کی صباکاغم منائیں یاپھر معصوم زینب کے ساتھ جوکچھ ہوا،جس نے ساری دنیامیں ہمیں رسواکردیا۔ تیزاب سے جھلسے چہروں کاکرب پڑھیں یا غیرت کے نام پرقتل ہونے والیوں کاماتم کریں۔

پاکستان میں عورتوں کے اکثریت میں ہونے کے باوجود،کیایہاں آج تک کوئی ایساواقعہ رونماہواہے کہ عورتوں نے آپس کے جھگڑے میں کسی بے گناہ مردکو بے لباس کرکے سڑکوں پرگھمایاہو۔کبھی سناکہ جرگے کی بااثرعورتوں نے کسی مظلوم مردکی اجتماعی عصمت دری کافرمان جاری کیاہو۔کسی زمیندارنی نے اپنے بیٹے کاقرآن سے نکاح کروادیاہو،بہنوں نے بھائی کی پیشانی پربندوق رکھ کرجائدادمیں سے اس کاحق معاف کروالیاہو؟کبھی نہیں! آخر کیوں،یہ واقعات عورتوں کے ساتھ ہی کیوں پیش آتے ہیں۔ تعدادمیں مردوں سے زیادہ ہونے کے باوجودعورتوں پرہی ظلم کے یہ پہاڑکیوں توڑے جاتے ہیں۔مقامِ حیرت ہے کہ مردانہ اقلیت زنانہ اکثریت پراس قدرحاوی ہوچکی ہے کہ اکثریت کی جان،مال،عزت آبروسب بے معنی ہوکررہ گئے ہیں ۔

سناتھا،جہاں انسان بستے ہیں وہاں سے درندے ہجرت کرجاتے ہیں،وجہ تواب سمجھ آئی ہے کہ انسان نمادرندوں کے سامنے حقیقی درندے بھی رکنے کاخطرہ مول نہیں لیتے۔عورتوں کے معاملے میں تویہ شیطان صفت اورانسان نمادرندے ہرگزاکیلے نہیں ہوتے بلکہ نام نہادمذہبی اورمعاشرتی روایتیں ان کی پشت ٹھوکنے کوساتھ کھڑی ہوتی ہیں۔یوں یہ انفرادی ہوکربھی اجتماعی گناہ قرارپاتا ہے۔اس کی سزابھی معاشرے کے تمام تماش بینوں کوملنی چاہیے اورسب سے پہلے ان کوملنی چاہیے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کوتو غیرت کادرس رٹوایالیکن بیٹوں کی صورت میں درندوں کومزیدتواناکیا۔ان درندوں کی تربیت کون کرے گا؟اب کون یہاں قابل اعتبار رہا؟

حال تویہ ہے کہ کبھی خودکوایک مذہبی عالم کہلانے والے چلتی گاڑی میں گارڈزکی موجودگی میں ایک نوجوان لڑکے کے ساتھ اپنا شوق پورافرماتے ہوئے ویڈیو بھی بنواتے ہیں،توکبھی دوسرے نسوانی حسن کی پوجامیں مدہوش بلکہ غرق پائے جاتے ہیں،بلکہ موجودہ حکومت کے بہت بڑے حامی مفتی قوی کاحریم شاہ کے ساتھ ٹک ٹاک توبہت شہرت حاصل کرچکاہے جس کے بعدان کے اپنے بیٹوں نے میڈیاسے درخواست کی کہ ان کے والدکے کسی قول وفعل کوان سے نہ جوڑاجائے اوردوسری طرف منافقت کایہ عالم ہے کہ ایک دینی مدرسے کے سربراہ ہونے کابھی برملااعلان کرتے ہیں جس سے تمام دینی مدارس کے بارے میں ہم غلط تصورات قائم کرلیتے ہیں۔پھریہ نہیں بلکہ اسلام کے اور بہت سے ٹھیکے داروں کے موبائل فونزاورلیپ ٹاپ میں بھی وہی ننگی فلمیں پائی جاتی ہیں،جن کودیکھ دیکھ کرمردوں نے اب فلمی دنیاسے باہربھی مظلوم عورتوں کے جسم سے لباس نوچنے شروع کردیئے ہیں، اوروہ کہ جن بے چاریوں کو بچپن سے ہی سکھایا گیاکہ مردکے سامنے زبان کھولناتوبڑی بے شرمی کی بات ہے،حیران ہیں کہ اب کریں توآخرکیا؟کس سے گلہ کریں؟کس سے منصفی چاہیں ؟اس ظلم کی بنیادتویہاں کے ایک ڈکٹیٹرفاسق کمانڈوکے ایک قابل نفرت بیان نے رکھ دی تھی جس میں اس نے انتہائی بے شرمی سے یہ بیان دیاکہ یہ عورتیں دراصل مغرب میں سیاسی پناہ کیلئےیہ تمام ڈرامے رچاتی ہیں۔

کیاہم اب لاہورکے علاقے ٹاؤن شپ میں واقع یتیم اوربے سہارابچیوں کے”کاشانہ ویلفیئرہوم”کوبھی بھول جائیں جسے آج بھی پنجاب حکومت کے محکمہ سوشل ویلفیئر کی زیرنگرانی چلایاجاتاہے۔کاشانہ ویلفیئر ہوم میں رہنے والی لڑکیوں کی عمریں پانچ سال سے لے کر18سال تک ہیں۔نومبر 2019 میں ٹاؤن شپ لاہورمیں واقع یتیم اوربے سہارابچیوں کے مرکزکاشانہ کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے الزام عائد کیاتھاکہ کاشانہ میں کم عمرلڑکیوں کی زبردستی شادیاں کرائی جاتی ہیں اورصوبائی وزیراجمل چیمہ بھی بچیوں سے ملتے تھے جس میں سابق سپرنٹنڈنٹ بھی ملوث تھی۔

افشاں لطیف نے یہاں ہونے والے غیرقانونی اقدامات اورحکومتی اہلکاروں کے ظلم وستم کوبے نقاب کرناشروع کیاتواس پرکیاکیا ظلم وستم نہیں ڈھائے گئے۔ اس کے ڈرانے دہمکانے کیلئے اس کے گھرپرمسلح افرادکے حملوں سے لیکراس پرمقدمات کی بھرمار کردی گئی،اس کوپاگل قراردینے کیلئے پاگل خانے کاراستہ بھی دکھانے کی کوششیں کی گئی۔افشاں لطیف کاشانہ سکینڈل کی گواہ کائنات جسے قتل کردیاگیا،اس کی فرانزک پوسٹ مارٹم رپورٹ میڈیاکودینے باہرگئی،تو کاشانہ ویلفئیرہوم میں چھپے مسلح افراداس کے گھرمیں گھس گئے اورجب وہ موقع پرپہنچنے والی پولیس کے کہنے پرمقدمہ دائرکرنے کیلئے ایف آئی آردرج کروانے گئی تومتعلقہ تھانہ اس پرہونے والے مظالم پرباوجودشواہدپیش کرنے کے کوئی مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہے۔

اعلیٰ حکومتی وسرکاری عہدیدران کی جانب سے ہونے والے غیرقانونی اقدامات کوبے نقاب کرنے والی افشاں لطیف اب بھی اپنے سچ پرڈٹی ہوئی ہے لیکن پنجاب پولیس اوردیگرادارے افشاں لطیف کے الزمات کاجواب دینے کی بجائے اس کوہراساں کرنے کیلئے تمام غیرقانونی اقدامات اختیارکرکے اس کو ہمیشہ کیلئے خاموش کرنے کیلئے اپنے آقاؤں کی خدمت بجالانے میں سرگرم ہے۔ آپ کب تک سچ کاگلہ دباکرمدینہ ریاست کے نعرے کے پیچھے چھپتے رہیں گے؟اب توآڈیواورویڈیونے بھی میدان کوکافی گرم کر دیاہے۔

سپریم کورٹ متعدد وزرائے اعظم کونااہل کرچکی ہے۔عدلیہ کے ریکارڈپرایک وزیراعظم کی پھانسی کا فیصلہ بھی موجودہے۔ اس وقت عدلیہ کے دواعلیٰ ججزپران متنازع اقدامات آڈیوزپرعوامی سطح پرکافی غم وغصہ دیکھاجارہا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی آڈیو ٹیپ اورعدلیہ پردیگرالزامات کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی درخواست دائر کردی گئی جس میں کہاگیا ہےکہ سابق چیف جسٹس سےمنسوب آڈیوٹیپ سےتاثرملتا ہے کہ عدلیہ بیرونی قوتوں کے دباؤمیں ہے۔اس بدنامی کودورکرنے اورنیک نامی کیلئے کب اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اب معاشرہ تبدیل ہورہاہے۔ قوم منتظر ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں