نوائے حق کی مٹھاس

:Share

امریکاکے تمام بڑے اخبارات بشمول نیویارک ٹائمز،واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ہیڈلائنزمیں یہ خبرشائع کی کہ نیویارک پولیس کے نئے کمشنرولیئم بریٹن نے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی کرنے والے محکمے کوبندکرنے کااعلان کیاہے۔ 2003ءسے امریکی حکومت اپنے شہریوں کی اورخاص طورپرامریکامیں بسنے والے مسلمانوں کی خفیہ نگرانی شروع کی تھی۔ڈیموگرافکس یونٹ نامی اس سرکاری پروگرام کاکام مسلمانوں کے بارے میں معلومات جمع کرنااوران کی حرکات وسکنات کی خفیہ طورپر نگرانی کرناتھا۔اس یونٹ کےاہلکارمسلمانوں کے رہائشی علاقوں میں جاکرلوگوں کی خریداری،ان کے کھانے پینے کی عادات،کام کاج، دلچسپیاں اورمشاغل سمیت ان کی نمازوعبادات کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرتے تھے۔یادرہے کہ اس خفیہ یونٹ کے وجود کے بارے میں ہمیشہ سرکاری طورپرتردیدہوتی رہی،اس کابھانڈہ بیچ بازارپھوٹ گیااورخودکوسول لبرٹی(شہری آزادیوں)کا چمپئن کہلانے والاملک امریکا بہادر کایہ چہرہ ایک مرتبہ پھردنیاکے سامنے آہی گیا۔

یہ خبرپڑھتے ہی آج سے چندسال پہلے رونماہونے والے واقعات نے ذہن وقلب کاگویامیرامحاصرہ کرلیا۔میرامعمول کامشاہدہ یہ رہاہے کہ نمازجمعہ سے نمازی فارغ ہوتے ہیں تومسجدکے باہراوردالان میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے اظہارمیں بڑے پرتپاک اندازمیں گلے ملتے نظرآتے ہیں۔ ایمان واخوت کوجلا دینے کایہ خوبصورت اوردلکش منظرآنکھوں کوبہت بھلااوردل کی طمانیت کیلئے بڑافرحت بخش ہوتاہے،اس لئے نمازکے بعدکئی دوست آئندہ کے پروگرام بھی یہاں طے کرلیتے ہیں۔نمازجمعہ سے فراغت کے بعدابھی مسجد سے باہرنکلنے ہی والاتھا کہ ایک دوست نے کان میں سرگوشی کی،کچھ دیرکیلئے رک جائیں آپ کی ملاقات کچھ ایسے دوستوں سے کرواتے ہیں کہ ان سے مل کرآپ کسی اوردنیامیں پہنچ جائیں گے۔استعجاب وتجسس کے ملے جلے جذبات میں میرے قدم وہیں کے وہیں جم گئے۔

تھوڑی دیربعدمیرے دوست کے ساتھ تین افرادتشریف لائے،ان افراد کے چہرے کسی خاص یقین کے ساتھ چمک رہے تھے اور نجانے کیوں دل ان کی طرف کھنچتاچلاگیا۔سب ہی سے بغل گیرہوئے اورپہلاتعارفی کلمہ یہ سننے کوملا کہ یہ تمام مجاہد بدنام زمانہ گوانتاناموجیل کے ایکسرے کیمپ میں اپنی زندگی کے کئی سال گزارچکے ہیں۔ہم سب مسجدکے ایک کونے میں بیٹھ گئے اورمجھے سمجھ نہیں آرہاتھاکہ گفتگوکاآغازکہاں سے کروں۔جب یہ برطانوی مسلمانوں کاپہلاگروپ رہاہوکروطن لوٹ آیاتھاتو مشہوراخبارگارڈین نے ان کے تاثرات پرمبنی تفصیلات شائع کی تھیں۔مہذب دنیاکے سب سے بڑے ملک کی انسانی حقوق کوپامال کرنے کی داستان جس نے بھی پڑھی،حیرت ومایوسی سے ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔

خوبصورت تیکھے نقوش والاجمال الحارث،جس کاچہرہ خوبصورت داڑھی کے ساتھ کچھ زیادہ ہی حسین وجمیل لگ رہاتھا،نے میرے سوال کے جواب میں بتایاکہ اسے کیمپ میں روزانہ15گھنٹے اس طرح بیڑیاں لگاکرپنجرے میں بندرکھاجاتاتھاکہ اس کے اعضاحرکت تک نہ کرسکتے تھے۔گارڈزاورسٹاف کاقیدیوں کوجسمانی ایذائیں پہنچانا روزکامعمول تھا۔ذراغورکیجئے کہ ان قیدیوں کونفسیاتی طورپرریزہ ریزہ کرنے کیلئےانکل سام کی ہدایات پرکن کن اوچھے حربوں کااستعمال عمل میں لایاجاتاتھا؟کس طریقے سے ان کے انسانی حقوق پامال کئےجاتے رہے؟کتنے کرب میں ہوں گےاس کیمپ کے قیدی کہ جن کوجنیواکنونشن اوردیگربین الاقوامی قوانین کے تحت جو معمولی حقوق اورسہولیات حاصل تھیں،ان سے بھی انہیں محروم رکھاگیا۔

جمال الحارث کے ساتھی جمال الدین جس کاتعلق مانچسٹرسے ہے،انہوں نے مجھے بتایاکہ میں نے ایک دن انسانی حقوق کی اس قدرپامالی دیکھنے کے بعد کیمپ بعد کیمپ کی انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ ہم قیدیوں کوکم ازکم وہ حقوق ہی دے دیں جوامریکامیں جانوروں کوبھی حاصل ہیں مگربے سود۔انہوں نےمجھے مزید یہ بھی بتایاکہ انہیں چالیس دفعہ بارہ بارہ گھنٹے کی تفتیش کاسامناکرناپڑا جس کے دوران ہرطرح سے موصوف کونفسیاتی دباؤسے زیرکرنے کی کوششیں کی گئیں۔ان کے تیسرے دوست حماد نے ظلم وستم کی وہ داستانیں سنائیں کہ مجھے اپناساراوجودگھومتاہوانظرآنے لگا۔حمادنے جب یہ کہا کہ جب ہم پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے جاتے تھے،تومیں اپنے تصورکی دنیامیں کھوکرحضرتِ بلال اورحضرت خباب کی قربانیوں اورحق کی راہ میں جان نثاریوں کو یادکرکے ان پرواری ہونے لگتا۔مجھے اس بات پرشرم محسوس ہوتی تھی کہ میں اپنی تکلیف پرکسی کوبرابھلاکہوں، یقین کریں کہ میں ہرروزان جلادوں کا انتظارکرتاتھااورجب یہ جلاد ظلم وستم کے کوڑے برساتے ہوئے تھک ہارجاتے تھے تو مجھے یوں محسوس ہوتاتھا کہ ابھی کسی وقت میں اب اپنے رب کے سامنے حاضرکیاجاؤں گااورمیرے ان زخموں کی گواہی میرے رب کوخوش کرنے کیلئے شاید کافی ہوگی۔

کیوباکاگوانتاموہویاخودامریکا،برطانیہ کی سرزمین،مسلمان ایک مشکوک کمیونٹی اوراسلام ایک مشکوک مذہب بن چکاہے۔11 ستمبرکے حادثات کے بعداسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک فسادی تحریک مسلسل چلائی جارہی ہے اورجس کوسرکاری اور غیرسرکاری دونوں سطحوں پرمسلم بیزارقوتوں کی پذیرائی حاصل ہے۔نائن الیون سے پہلے کھلے عام کسی مذہب یاشخص کے خلاف نفرت نہیں پھیلائی جاسکتی تھی مگراس معماتی حادثے کے بعدیہ سلسلہ نہ صرف جاری وساری ہے بلکہ اس کی ہلاکت آفرینیاں روزافزوں جاری ہیں جس کی تازہ ترین مثال گزشتہ برس کینیڈامیں پاکستانی خاندان کوایک یہودی نوجوان نے کچل کر رکھ دیا۔اسی نفرت و عداوت کی بھٹی میں جلنے والے صلیبی اورصیہونی آئے دن اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کوئی نہ کوئی بیان داغ دیتے ہیں کبھی خاکم بدہن پیغمبر اسلام ۖکے حوالے سے یہ سیاہ دل مفتن کارٹون شائع کرکے مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کرتے ہیں،کبھی امریکاکے ناہنجارپادری ٹیری جونزسرعام قرآن کریم کے ساتھ ابلیسی دست دارزی سے خود اپنے لئے دائمی آگ کاسامان جمع کرگیا، کبھی مسلمانوں کی مساجد پرگنبدوں پراعتراض کر کے ان پرپابندی عائد کراوئی،کبھی عفت مآب بیٹیوں اوربہنوں کے حجاب کوقانوناًمنوع قراردلوایااوربغیرکسی تکلف کے آئے دن مسلمانوں کودہشتگردی کے الزامات میں گرفتارکرکے،ان کی رسواکن تشہیر الیکٹرانک اورپریس میڈیامیں کرکے ایک طوفان کھڑاکردیاجاتارہا لیکن جب تحقیق وتفتیش کے بعدملزمین پرکوئی جرم ثابت نہیں ہوتاتوخاموشی کے ساتھ ان کورہا کر دیاجاتاہے اوروہی یک چشمی میڈیاان کی رہائی کودانستہ طورپرنشرنہیں کرتا۔

مغرب میں جیری فالویل سے لیکراین کولٹر(امریکی خاتون)تک آئے دن کوئی نہ کوئی مسلمانوں کے خلاف زہراگلتارہتاہے۔ مسلمانوں کے سول رائٹس کایہ حال ہے کہ انہیں یقینی بنانے کیلئے آئے دن عدالتوں کی طرف رجوع کرناپڑتاہے۔دوہزارسے زائد مسلمان اب بھی امریکی قیدخانوں میں بندہیں، متعدد پراب تک کوئی مقدمہ قائم نہیں کیاجاسکااورکئی ایک ایسے بھی ہیں جن کواس بات کابھی علم ہی نہیں کہ ان کوکس جرم میں گرفتارکرکے زندان میں ڈال دیاگیاہے۔ فلوریڈا کےممتازفلسطینی پروفیسرسمیع بھی جنہیں کسی زمانے میں وائٹ ہاؤس میں مدعو کیاجاتاتھا،کئی سال جیل میں رہے جہاں انہیں کسی بھی قانونی مشیرسے رابطہ کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔یہی معاملہ ملت کی بیٹی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے ساتھ پیش آیا۔بہرحال کسی نہ کسی ریڈیویا ٹی وی اسٹیشن پرآئے روزایسی بے ہودہ کلامیاں کی جاتی ہیں جن کالب لباب اسلام مخالف اندھے جذبات کابے معنی غصہ اور مسلمانوں کی دلآزاری اورکردارکشی ہوتاہے۔کئی باربہت ہی سفلی قسم کے الزامات کاپلندہ نشرکرکے اپنے نامہ اعمال کوسیاہ تر کیاجاتاہے۔اس کے ردِّعمل میں مسلمانوں کومتعلقہ اداروں کو شکائتیں کرناپڑتی ہیں کہ یہ کیااندھیرنگری ہے،مثلاًایک الزام یہ بھی لگایاجاتاہے کہ مسلمان یہودیوں کوقتل کرناچاہتے ہیں۔

ایک مربوط اورمنظم مخالفانہ مہم ہے جومسلمانوں کے خلاف پوری مغرب بالعموم اورامریکامیں بالخصوص چلائی جارہی ہے لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیایہ مہم اپنے اہداف حاصل کرپارہی ہے؟میرے خیال میں یہ ناروااورکاذبانہ مہم بعض جگہوں پر مقامی سطح پرتوشایدکامیاب ہوئی ہومگرمجموعی طورپراس مہم کے نتائج اس کے بنیادی مقاصدکے بالکل برعکس نکل رہے ہیں ،وہ اس طرح کہ نائن الیون کے بعدتمام منفی پروپیگنڈے کی بدترین سونامی کے باوجود امریکامیں اسلام قبول کرنے والوں کی تعدادمیں چارگنااضافہ ہواہے۔اسلام کوجاننے اوراس کے متعلق پڑھنے والوں کی تعدادمیں ہوشربااضافہ ہواہے جس کااندازہ اسلام کے متعلق لکھی جانے والی علمی وفکری کتابوں کی اشاعت کے بعدفوراًسے پیشترمارکیٹ میں ان کی غیرمعمولی آمدنی سے لگ سکتاہے۔

ایک عام امریکی بھی پوری سنجیدگی کے ساتھ اسلام کے متعلق سوال پوچھتادکھائی دیتاہے،اس کے سامنے اسلام اگرچہ ڈارکیولائی شکل وصورت میں پیش کیاجاتا ہے مگروہ حقائق کی ٹوہ میں قرآن،حدیث،تاریخ،سیرت طیبہ ﷺکےانبارکھنگالنے لگ جاتاہے تاکہ خودمطالعہ کی بنیاد پراسلام کے بارے میں ایک حقیقت پسندانہ متوازن رائے قائم کرسکے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کی صحیح تصویراجاگرکرنے کے ضمن میں اس وقت ایسی ویب سائٹس کی تعدا میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے،جن کی وساطت سے اسلام کے بارے میں مستندکتب کے علاوہ دوسری سچی معلومات کاحصول ممکن ہواہے اورمتعدد امریکیوں نے انٹرنیٹ ہی کی سہولت کے ذریعے اسلام کی ابدی وازلی روشنی تک رسائی حاصل کی ہے۔

مغرب کی اسلام مخالف زیربحث مہم اورنفرت پرمبنی پروپیگنڈے کاایک اورلازمی اورفطری نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں نے پہلی دفعہ اپنے آپ کو دعوتی اور سیاسی سطح پرمنظم کرناشروع کردیاہے۔آپ نے پہلی دفعہ دیکھاہوگاکہ امریکی اورمغربی ممالک کے انتخابات میں مسلمانوں نے اپنی اجتماعی سیاسی قوت کواستعمال کرنا شروع کردیاہے۔اس صورتحال میں سفیدفام امریکی اور برطانوی نہایت متفکرہیں جوآبادی کے لحاظ سے بھی اپنی فیصلہ کن پوزیشن آہستہ آہستہ کھوتے جارہے ہیں۔رائے شماری کے اندازوں کے مطابق2030ءتک ان کی موجودہ اکژیت خاصی حدتک کم ہوجائے گی،ہسپانوی اورایشیائی لوگوں کی تعداد میں تین گنااضافہ ہوجائے گا۔صرف ہسپانوی لوگ آبادی کاایک چوتھائی بن جائیں گے جن کی تعداد36ملین سے103ملین تک جاپہنچے گی اوران کاتناسب6۔12 فیصدسے4 ۔24فیصدتک ہوجائے گا۔یوں مسلمانوں کی عددی قوت بڑھ جائے گی۔یہ توتھی امریکاکی صورتحال ،کیااسلام کے خلاف چلائی جانے والی اس مہلک وشیطانی مہم کوبین الاقوامی سطح پربھی کوئی پذیرائی حاصل ہورہی ہے؟

اس کاجواب یہ ہے کہ کسی مقامی سطح پرتوشایدیہ مہم اسلام کاتاثراوراس کی اصل شکل(العیاذ باللہ )بگاڑنے میں کامیاب رہی ہو مگرمجموعی طورپریہ مہم ناکام ہی ناکام ہے۔فرانس اورجرمنی میں عورتوں کے حجاب اوڑھ لینے کے معاملے پراس قدرشدید ردِّعمل ہواکہ ان خواتین نے بھی اسکارف اوڑھنے شروع کردئیے جنہوں نے کبھی یہ تصوربھی نہیں کیاتھابلکہ سارے یورپ میں مسلمان خواتین نے تیزی کے ساتھ حجاب کواپناشعاربنالیاہے۔لاس اینجلس ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق جرمنی میں مساجدکے میناراب کثرت سے دکھائی دیتے ہیں جہاں صرف ان چندسالوں میں میناروں والی مساجد میں تین گنا اضافہ ہوگیاہے اورامریکامیں اب تک6518مساجد تعمیرہوچکی ہیں۔حیرت انگیزبات تویہ ہے کہ2ہزارسے زائدمساجدنائن الیون کے بعدوجودمیں آئی ہیں جہاں اکثریت نومسلم امریکی مسلمانوں کی ہے۔ایک سروے کے مطابق ایک عشرے میں 74فیصدمساجدکااضافہ ہواہے۔برطانیہ میں دوہزار سے زائد رجسٹرڈمساجدہیں،جہاں مسلمان بچو ں اوربچیوں کی اسلامی تعلیمات کے علاوہ غیرمسلم افرادکوبھی اسلام کی معلومات اورلٹریچرفراہم کیاجاتاہے ”نوائے حق کی مٹھاس دل میں اتررہی ہے دلیل بن کر”۔

امریکاکے سب سے بڑے اتحادی برطانیہ کوہی دیکھ لیجئے،جہاں اسلام نہ صرف عوام میں تیزی سے پھیل رہاہے بلکہ اشرافیہ میں بھی16823/سفید فام اب تعداد میں تین گناہوچکے ہیں،برطانوی شہری دھڑادھڑاسلام قبول کررہے ہیں اوردلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ کے لوگ بھی شامل ہیں مثلاًسابق ہیلتھ سیکرٹری فرینک ڈابسن کے بیٹے احمد ڈابسن،بی بی سی کے سابق ڈائریکٹرجنرل لارڈبرٹ کے صاحبزادے یحیٰی برٹ جواسلام پرخاصی ریسرچ میں مصروف ہیں اورسابق برطانوی وزیراعظم ہربرٹ ایسکیوتھ جوپہلی جنگِ عظیم کے موقع پربرطانوی رہنماتھے،کی پڑپوتی ایماکلارک جوپرنس آف ویلزکیلئے ایک اسلامی باغ بھی ڈیزائن کرچکی ہیں۔اس کے علاوہ ایک سابق ڈپلومیٹ چارلس ایٹن کی اسلام کے متعلق محققانہ تحریریں برطانوی عوام کواسلام کے سمجھنے میں خاصی ممدومعاون ثابت ہورہی ہیں۔ایک نجی ٹی وی کی سابق میزبان کرسٹیان بیکر اورسابق وزیراعظم برطانیہ ٹونی بلیرکی اہلیہ شیری کی بہن لورین بوتھ بھی اسلام قبول کرکے پاکستانی مسلمان سہیل کوزندگی کاساتھی بناچکی ہیں۔اس کے علاوہ ’’ارل آف یاربرو‘‘جولنکن شائرمیں28ہزارایکڑاراضی کے مالک ہیں،اسلام کی روشنی اور دائرہ ایمان میں آکراپنانام عبدالمتین رکھ چکے ہیں اورقرونِ اولی کے مسلمانوں کی وضع قطع سے خودکوسجارکھاہے۔ان ناقابل تردیدحقائق سے اندازہ ہوتاہے کہ اسلام کو پابند کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی جارہی ہیں،اسلاموفوبیاجیسے اصلاح کا جس قدر پروپیگنڈہ کیاجائےوہ نہ صرف ناکام ہورہاہے بلکہ اسلام کی نشرواشاعت میں اضافے کاسبب بن رہاہے۔”اتناہی ابھرے گاجتناکہ دبادوگے”۔
بابااقبال بال جبرئیل میں کیاخوب فرماگئے:

میری نوائے شوق سے شورحریم ذات میں
غلغلہ ہائے الاماں بت کدۂ صفات میں
حوروفرشتہ ہیں اسیرمیرے تخیلات میں
میری نگاہ سے خلل تیری تجلیات میں
گرچہ ہے میری جستجودیروحرم کی نقشہ بند
میری فغاں سے رستخیزکعبہ وسومنات میں
گاہ مری نگاہ تیزچیرگئی دل وجود
گاہ الجھ کے رہ گئی میرے توہمات میں
تونے یہ کیاغضب کیامجھ کوبھی فاش کردیا
میں ہی توایک رازتھاسینۂ کائنات میں

اپنا تبصرہ بھیجیں

13 + two =