The International Monetary Fund and the Claw Jews

عالمی مالیاتی ادارے اورپنجہ یہود

:Share

یوکرین میں جنگ اس وقت اقتصادی اورفوجی محاذوں پربھڑک رہی ہے،یوکرین کوفوجی امدادبھیجنے کے علاوہ،امریکاکی قیادت میں مغربی ممالک نے اپنے مالیاتی نظام کوروسی معیشت کے شعبوں کے خلاف ہتھیاربنادیاہے۔پابندیوں نے اب تک روسی معیشت کی ایک وسیع رینج کونشانہ بنایاہے،سوئفٹ سسٹم سے بڑے روسی بینکوں کی علیحدگی اورروس کے مرکزی بینک کے اثاثوں کو منجمد کرنا،بشمول630/ارب ڈالرکے زرمبادلہ کے ذخائر،روس کے خلاف کیے گئے اب تک کے اہم ترین فیصلوں میں شامل ہیں۔ پابندیوں نے روسی معیشت کوسخت نقصان پہنچایا،خاص طورپرشروع میں اورعالمی مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے مہینوں میں منفی اثرات مرتب ہوتے رہیں گے۔مثال کے طورپرروس کے وفاقی شماریاتی دفترنے گزشتہ ماہ اعلان کیاکہ روس میں افراط زر17.3فیصد تک پہنچ گئی ہے،جو20سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

مغربی پابندیوں کی وجہ سے بھی ابتدائی دنوں میں ڈالرکے مقابلے میں روبل کی قدر گر گئی تھی۔ 4مارچ کو روسی کرنسی 0.0073 ڈالر فی یونٹ کی شرح کو چھورہی تھی لیکن روسی حکومت کی بعض پالیسیوں کے بعد آج 7497-57کا ہو گیاہ ے۔اس طرح روبل کی قدرجنگ سے پہلے کے زمانے میں واپس آگئی ہے حالانکہ بعض ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیاہ ے کہ یہ حالت مصنوعی ہے اور کسی بھی وقت صورت حال تبدیل ہوسکتی ہےلیکن روس کے ساتھ معاشی تصادم، دنیا کی 11ویں بڑی معیشت کے طور پر،میانمار جیسے چھوٹے ممالک کے خلاف پابندیوں سے مختلف ہے اور پابندیاں لگانے والوں کیلئےاس کے اپنے نتائج ہوں گے۔

تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ،کیمیائی کھادوں کیلئےفاسفیٹ کی قلت اورالیکٹرک کاربیٹریوں کیلئےنکل کی ضرورت روس کے ساتھ ٹوٹ پھوٹ کے قلیل مدتی نتائج میں شامل تھے۔اس کے علاوہ،روس اور یوکرین دنیا کی گندم کی برآمدات کا تقریباً 30 فیصد فراہم کرتے ہیں،خاص طور پر افریقی ممالک میں غذائی تحفظ کا ایک اہم عنصریہی گندم کی برآمدات ہیں۔ان اشیاکی قلت یورپ اورممکنہ طورپرامریکامیں مزیدمہنگائی اور کساد بازاری کا باعث بن رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈنے یوکرین میں جنگ کی وجہ سے عالمی اقتصادی ترقی کی اپنی توقعات کو کم کر دیاہے اور جوبائیڈن اپنی انتظامیہ کے گرین پلانز کو ترک کرنے کاحکم جاری کرچکے ہیں اورامریکا اب دنیا بھر میں تیل اور گیس کی پیداوار بڑھانے کو ترجیح دے رہا ہے۔امریکا کو احساس ہو گیا ہے کہ روسی گیس کی یورپ کوسپلائی ہی دراصل ان کی کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

لیکن ان قلیل مدتی اثرات سے ہٹ کر،یوکرین میں بہت زیادہ تزویراتی سطح پرہونے والی پیش رفت بین الاقوامی تعلقات کیلئےبہت زیادہ طویل مدتی نتائج کی حامل ہے اورموجودہ عالمی نظام کے خاتمے اورایک نئے باب کے آغازکی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔عالمی اقتصادی ماہرین کے مطابق روس کے خلاف اقتصادی پابندیاں،امریکاکے مرکزی مالیاتی نظام کوگراسکتی ہیں اورپابندیوں کا ہتھیارہمیشہ کیلئےان کے ہاتھوں سے چھین سکتاہے۔دوسائنسدانوں،ہنری فارل اورابراہام نیومین نے سوویت یونین کے بعدکے عالمی مالیاتی نظام کاموازنہ ایک”قطب اورسیٹلائٹ”کے نظام سے کیاہے جس کے مغرب میں اس کے اہم قطب ہیں۔بڑے عالمی بینک، امریکی ڈالراورعالمی مالیاتی ڈھانچہ زیادہ ترشمالی امریکااورمغربی یورپ کی حکومتوں کے زیرکنٹرول ہیں۔

ایسے نظام کے سب سے اہم “ڈنڈے”میں سے ایک ڈالرہے۔ڈالراس وقت عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے،زیادہ تربین الاقوامی تجارت کیلئےبنیادی کرنسی کے ساتھ ساتھ مالیاتی اکاؤنٹنگ اورریزرویونٹ کی عالمی اکائی ہے لیکن امریکانے حالیہ برسوں میں عالمی معیشت کے ساتھ اس غیرمتناسب تعلقات کو غلط استعمال کرتے ہوئے امریکی مالیاتی نظام کوامریکی خارجہ اورسلامتی کی پالیسی کے مخالف ممالک کے خلاف ہتھیاربنایاہے۔دوسرے لفظوں میں، امریکااور مغربی ممالک اپنے آپ کواس بین الاقوامی اقتصادی نظام کاجائزسرپرست اور مالک تصورکرتے ہیں اوربین الاقوامی مالیاتی نظام تک دوسرے ممالک کی رسائی کومغرب کی عمومی پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئےمشروط کررکھاہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے غیر سیاسی منافع کمانے والے اداروں کے طورپرکام کرنے کی بجائے عملی طور پر مغرب اور بالخصوص امریکاکے اہم ہتھیار بن کر سامنے آئے ہیں۔مالیاتی نظام کوہتھیاربنانے کی صلاحیت کامرکزی اصول یہ ہے کہ عالمگیر معیشت نے دنیا بھر میں قدرکے نیٹ ورکس بنائے ہیں جن کیلئے پیداواری عمل کے ہرمرحلے پربیرون ملک مالی لین دین اورقرض لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسے نظام میں،عالمی مالیاتی ڈھانچے تک رسائی(سوئفٹ جیسے پلیٹ فارم)کاروباری کاروائیوں میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔امریکی مالیاتی پابندیاں تمام اس مقدمے پرمبنی ہیں۔

21ویں صدی میں،مغربی ممالک نے پابندیوں کااستعمال کیاہے اورایک ملک کی پوری معیشت اورآبادی کونشانہ بنانے کارجحان رکھا ہے۔ تاہم،اس عمل نے طویل عرصے سے مغربی مرکزی مالیاتی نظام کوکمزورکردیاتھا۔امریکی تسلط کے خلاف کمزورہونے کایہ عمل اب تیزہوتادکھائی دے رہاہے۔امریکاکی جانب سے مختلف بہانوں سے پابندیاں لگانے کے بعدمغربی ماہرین کے حلقوں میں بتدریج یہ بحث زورپکڑنے لگی ہےکہ پابندیوں کابے تحاشہ استعمال دنیاکی موجودہ مالیاتی نظام کونقصان پہنچاسکتاہے اورخاص طورپرڈالر کی بالادستی کوشدیدخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ان ماہرین کاکہناہے کہ دنیا کے مالیاتی ادارے اپنی خاص حیثیت کسی خاص مغربی کردارکے مرہون منت نہیں ہیں بلکہ ایک وسیع عالمی نیٹ ورک میں اپنی کارکردگی کی وجہ سے یہ مقام حاصل کیاہے۔

ایشیائی ممالک میں اپنے کاروباردراصل مغربی مالیاتی نظام کے تحت چلارہے ہیں،اس لیے نہیں کہ وہ مغربی ہیں،بلکہ اس لیے کہ وہ آسان اورزیادہ موثرہیں۔ لیکن21ویں صدی میں امریکاکی طرف سے پابندیوں کے بارباراستعمال نے پہلی باراس طرح کے نیٹ ورک پراعتمادکومجروح کیاہے۔ان پابندیوں کے بعد،یہ واضح ہو گیا کہ امریکا اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کیلئےحکومتوں،مرکزی بینکوں، مالیاتی اداروں اور افراد کیلئے ڈالرکے تبادلے کو آسانی سے محدود کر سکتا ہے اورمالیاتی نظام تک رسائی بھی منقطع کرسکتا ہے۔اسی بنیاد پر چین،روس اور چند دیگر ممالک نے متبادل مالیاتی نظام کے بارے میں سوچناشروع کردیا ہے ۔حالیہ برسوں میں چین اور روس کی جانب سے قومی نوعیت کے سوئفٹ سسٹم کے اجراءنے اس مقصدکوپورا کیاہے۔

2015سے چین نے اوورسیز پیمنٹ سسٹم(سی آئی پی ایس)کے نام سے ایک نظام شروع کیا اوراس میں توسیع کی ہے۔روس نے2014ء میں سوئفٹ کی جگہ فنانشل میسجنگ سسٹم میں تبدیل کردیاہے اوراس روسی نظام میں اب تک400مالیاتی ادارے شامل ہوچکے ہیں۔ امریکااوریورپی اتحادیوں کیلئے یقیناًیہ ایک بری خبرہے اوریہ بھی ممکن ہے کہ یورپ اب امریکاکویوکرین کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کرنے پرزوردے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت عالمی مالیاتی ادارے پنجہ یہودمیں ہیں اوریہودیوں کی جان اپنے مال کے اندرپھنسی ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں