حاصلِ حیات وکائنات

:Share

وہ ذات رحمن ورحیم اورحلیم وکریم ہے،اتنی بے شمارنعمتوں کوعطاکرنے کے بعدبھی کبھی کوئی احسان نہیں جتلایا لیکن ایک نعمت عظمیٰ ایسی تھی کہ اس کوجب بنی آدم کی جانب بھیجااوراپنی اس نعمت سے نبی انسان کوسرفرازکیاتواس پراحسان جتلاتے ہوئے فرمایا : اللہ نے مومنوں پربڑااحسان کیاہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبربھیجے جو ان کواللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اوران کوپاک کرتے اور(اللہ کی) کتاب اوردانائی سکھاتے ہیں اورپہلے تویہ لوگ صریح گمراہی میں تھے۔(العمران:164)

تاریخِ ولادت باسعادت میں مؤرخین نے بہت کچھ اختلافات کیاہے،ابوالفداءنے10/ربیع الاوّل لکھی ہے،بعض نے8/ربیع الاوّل، طبری اورابن خلدون نے12/ربیع الاوّل اورمشہوربھی یہی روایت ہےمگرسب کااس پرتواتفاق ہے کہ ولادت باسعادت پیرکے دن ہوئی اوراس پربھی سب کا اتفاق ہے کہ پیرکادن9/ربیع الاوّل کے علاوہ کسی اور تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتاہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولادت باسعادت کی صحیح اورراجح قول9/ربیع الاول ہی ہے۔علامہ سیدسلیمان ندوی نے بھی نو(9) تاریخ کو ولادت ہوناراجح قراردیا ہے۔

دل جس سے زندہ ہے وہ تمناتمہی توہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیاتمہیں توہو
جذبۂ عشق رسول اکرمﷺ کااصل تقاضہ یہی ہے کہ یہ کیفیت ہمارے فکروعمل کاپوری طرح احاطہ کرلے۔یہ بات ایمان کی ہے اورایمان کاثبوت اعمال صالح کی صورت ہی میں فراہم کیاجاسکتاہے۔سیرت پاک کے سلسلے میں یہ حقیقت بھی ہماراجزوایمان ہونی چاہئے کہ دوررسالتِ مآبﷺ تاریخ کاحصہ نہیں ہے بلکہ ساری نسلِ انسانی کیلئے قیامت تک ہدائت جاریہ ہے۔

ہمارے رسول کریم ﷺنے اسلام کوایک مکمل معاشرتی نظام بناکرنسلِ انسانی کوعطافرمایاہے اورانسانی تاریخ کاحقیقی انقلاب وہی دورسعا دت آثارہے ۔ رسول کریمﷺ کے وسیلے ہی سے انسانیت کودنیاکے ساتھ ساتھ حیات وکائنات کی وسعتوں کاشعور اورنسلِ انسانی کی عالمگیرمساوات کاپیغام ملا۔انسان انفرادی طورپرجس طرح مختلف مرحلوں سے گزرکرباشعورہونے کی منزل تک پہنچتاہے،نسلِ انسانی بھی مجموعی طورپرانہی مرحلوں سے گزری ہے۔ختم نبوت کااعلان پوری نسلِ انسانی کے باشعورہونے کااعلان بھی ہے،اسی لئے ہمارے حضورﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ساری نسل انسانی کومخاطب فرمایا۔

اس طرح پوری نسل انسانی کیلئے اللہ کی ہدائت حرفاًحرفاًمحفوظ ہوگئی اوراس کے مطابق پوری معاشرتی زندگی بسرکرنے کا ایک مکمل عملی نمونہ سامنے آگیا۔ “آئیڈیل”کومعاشرتی زندگی کی حقیقت بناکرپیش کردیاگیا،زندگی عملی نمونے میں ڈھل گئی ۔ انسان پریہ حقیقت واضح ہو گئی کہ کائنات کے نظام اورانسان کی انفرادی،اجتماعی زندگی اورسماجی زندگی سب اللہ کے قانون کی گرفت میں ہیں۔کائنات کے نظام میں اللہ کی حاکمیت براہِ راست ہے لیکن ارادے اور اختیار کی صفت کی وجہ سے انسانی زندگی پراللہ تعالیٰ کی حاکمیت کانفاذانسانی ایمان واعمال کے وسیلے سے ہوتاہے۔کائنات کانظام حیرت انگیزنظم وضبط کے تحت چل رہاہے۔وہاں کسی نوعیت کاکوئی فسادممکن ہی نہیں کیونکہ فسادشرک سے پیداہوتاہے اورکائنات میں شرک ممکن نہیں ۔ سورة الانبیاء میں ارشاد ہواہے” :زمین اورآسمانوں میں ایک سے زائد الہٰ ہوتے توفسادبرپا ہو جاتا،پاک ہے اللہ ربّ العرش اُن باتوں سے جویہ لوگ بنارہے ہیں”۔فسادشرک سے پیداہوتاہے ،شرک ناقابل معافی گناہ اسی لئے ہے کہ اس سے احترامِ آدمیت کی نفی ہوجاتی ہے ۔انسان کے مشرکانہ افکار و اعمال سےاللہ کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ساری دنیا کے انسان بھی اگر مشرک ہو جائیں تو اللہ اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔شرک سے انسانی فکر میں، انسانی عمل میں اور انسانی معاشرے میں فساد پیدا ہو جاتا ہے اور جہاں فساد ہوتا ہے وہاں امن و انصاف برقرار نہیں رہ سکتا۔انسانی معاشرے میں خیر و فلاح کیلئے اورہمہ جہت ارتقاء کیلئے امن و انصاف قائم رہنا ضروری ہے۔حریت،مساوات،اخوت،امانت،دیانت،صداقت اور عدالت،یہ صفات جنہیں ہم اخلاقی قدریں کہتے ہیں،یہ قدریں درحقیقت وہ قوانین قدرت ہیں جن کے نفاذ سے انسانی معاشرے میں امن و انصاف کی ضمانت مہیا ہوجاتی ہے ۔جس فرد میں جس حد تک یہ صفات زندہ و بیدار اور متحرک ہوں گی،وہ فرد اسی نسبت سے خیر و فلاح قائم کرنے کا باعث ہوگااور اور جس معاشرے میں ایسے صالح اعمال والے افراد کی کثرت ہو گی وہ معاشرہ امن و سلامتی اور انصاف کا گہوارہ بن جائے گا۔

بیج کوکھلی فضا ملے توپوری طرح پھلتاپھولتاہے۔اس پرکوئی دباؤآجائے یاوہ کسی پتھرکے نیچے آجائے تووہ نشوونماسے محروم ہوجاتاہے۔سرکاردوعالم ﷺنے اس اوّلین اسلامی معاشرے سے انسانی جذبات،مفادات،خواہشات اورتعصبات کے سارے پتھر سمیٹ لئے تھے چنانچہ انسانی معاشرت کاوہ باغ ایسا لہلہایا،ایسے پھل پھول لایاکہ انسانی تاریخ میں اس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔اس اعتبارسے دیکھئے توسیرت سرکاردوعالم ﷺ کی مثال واقعی بے مثال ہے۔آپﷺ سب سے زیادہ بااختیارتھے اور سب سے زیادہ قانون کے پابندتھے۔آپ ﷺ کے تصرف میں ہرشئے آسکتی تھی لیکن آپ ﷺنے سب سے زیادہ سادہ زندگی بسر فرمائی۔آپﷺکاہرفرمان قانون تھااورآپﷺنے سب سے زیادہ خوداحتسابی کی زندگی بسرفرمائی۔اس اعتبارسے اسلامی معاشرے کی خصوصیات بڑی منفردہیں۔اسلامی معاشرے میں تکریم کاواحدمعیارشخصی کردارہے۔

اسلامی معاشرے میں دشمن اقوم کے افرادسے بھی انصاف کیاجائے گااورغلطی اورجرم کرنے والاسب سے پہلے خودہی اپنے جرم کااعتراف کرے گا۔ اسلامی نظام میں انسانوں کی انسانوں پرحکومت کاکوئی تصورنہیں بلکہ معاشرتی زندگی میں معاملات اوراشیاءکاانتظام کرنے والاہروقت ہرشخص کے سامنے اپنے اعمال اورطرزِانتظام کیلئے جوابدہ رہے گااورایسےنظام کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ خودانسان کی اپنی خواہشات نفسانی بن جاتی ہیں۔ سورة فرقان میں ارشادہےتم نے اس شخص کوبھی دیکھاجس نے اپنی خواہشات نفسانی کواپناالہٰ بنالیاہے،اب ایسے شخص کوتم راہِ راست پرکیسے لاسکتے ہو۔یہی خواہشاتِ نفسانی معاشرتی امن وانصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پیداکرتی ہیں۔

معاشرتی زندگی میں انصاف سے محرومی سے فتنہ وفسادپیدا ہوتاہے اورفتنہ وفساد کی کیفیت لوگوں کے جذبات اورتعصبات کومسلسل ابھارتی رہتی ہے۔جبرکے ذریعے لوگوں کووقتی طورپرخاموش رکھاجاسکتاہے لیکن جبر کی خاموشی پھربغاوت کا طوفان بن کرنمایاں ہوتی ہے۔انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ فانی نہیں ہے۔انسانی وجودکو،انسانی ذات کو موت کے بعدبھی باقی رہناہے انسان کیلئے آنے والی زندگی ناگزیرہے اوراس آنے والی دائمی زندگی میں کامیابی یاناکامی کی بنیاداس دنیامیں ایمانی شعورکے تحت اختیاری عمل ہوں گے۔آخرت پرایمان انسان میں خود احتسابی کی صفت پیداکرتاہے۔ انسانی معاشرت کے تعمیری اور تخریبی دونوں پہلونسلوں،علاقوں یاملکوں تک محدودنہیں رہتے۔

گزشتہ14سوبرسوں میں عالمگیر سطح پرجتنی بھی مثبت تبدیلیاں ہوئی ہیں، انسانی حقوق کاجتناشعوربھی بیدارہواہے،قوموں کو اعلیٰ انسانی اقدارکے مطابق اپنا نظام مرتب کرنے پرراغب کرنے کیلئے بین الاقوامی تنظیموں کے قیام کی جوکوششیں بھی ہوئی ہیں،ان ساری کوششوں کاحقیقی محورمرکز سرکاردوعالمﷺکادور سعادت آثارہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ توحیدپر ایمان سازی نسل انسانی کیلئے خیروفلاح کی راہیں کشادہ کرتا ہے۔
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خداکا

لیکن نسل انسانی کی وحدت اوراس کی فلاح وخیرکی راہ میں رکاوٹیں بھی مسلسل آتی رہتی ہیں اورحق وباطل اورخیروشر کے درمیان یہ آویزش انسانی معاشرے کی امتیازی صفت ہے چنانچہ امن وانصاف کی فضاکوفتنہ وفسادپیداکرنے والی طاقتیں برابرمکدرکرتی رہتی ہیں اورطرفہ تماشہ یہ کہ فساد پھیلانے والے بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح کرنے والے ہیں ۔ فتنہ وفسادکی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔قرآن پاک میں فتنہ پردازی کوانسانی قتل سے بھی زیادہ بڑا گناہ قراردیاگیاہے۔فرعون کومفسدکہاگیاہے اورفساد کی شدت کو انسانی بداعمالیوں کانتیجہ بتایاگیاہے۔تاریخ قوموں کاحافظہ اور واقعات کی ریاضی ہے۔ تاریخ اپنے آپ کودہراتی رہتی ہے اوراس طرح ہم پریہ حقیقت واضح ہو تی رہتی ہے کہ اللہ کا قانون بدلا نہیں کرتا۔حیات و کائنات کا نظام انسانی معاشرے کے مختلف اجزاء پرمشتمل ہے،ان میں منقسم نہیں ہے،ہم نے عملًااسے منقسم کردیاہے ۔

عبادات الگ،معاملات زندگی الگ اورہم اس ارشادِ قرآنی کوبھول جاتے ہیں کہ ایک سے زیادہ الہٰ ہوں گے توفسادہوگا۔ہمارے ہادی برحقﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں ہم اہل ایمان پریہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ جووہاں موجودتھے وہ اس پیغام کوان لوگوں تک پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں تھے ۔یہ ایک عالمگیرذمہ داری تھی۔اس کے ساتھ قرآنِ کریم نے ہم پراجتماعی طورپر”خیر امت”اور”امتِ وسط”ہونے کی ذمہ داری بھی ڈالی ہے۔

سورة انفال میں خبردارکیاگیاکہ”حق کی منکرقوتیں ایک دوسرے کا ساتھ دعوت دیتی ہیں ،تم اگرایسانہیں کروگے توبڑافساد برپا ہو جائےگا۔”ایمان کی توانائی فرد میں اورقوم میں،دونوں میں خود احتسابی کی صفت پیداکرتی ہے۔ہم اس صفت سے ایک طویل عرصے سے عالمگیرسطح پرمحروم ہیں اور اس محرومی نے ہمیں اس توانائی سے بھی محروم کردیاہے جسے اقبال نے مومن کی فراست کی اصطلاح سے تعبیرکیاہے۔اس کے باوجودعالمی سطح پرامن وانصاف کے قیام کیلئے ہماراملی کردارکلیدی اہمیت رکھتاہے۔جب تک وہ کرداراداکرنے کے قابل نہیں ہوں گے،عالمگیرسطح پرامن وانصاف قائم نہیں ہوسکتااوراپنی اس بے بسی کیلئے ہم اللہ کے حضورجوابدہ بھی ہوں گے اوراس کردارکی ادائیگی کی راہ جذبہ حب رسول ﷺ سے ہی منور ہو سکتی ہے کیونکہ آپﷺکی ذات ہی حاصلِ حیات وکائنات ہے ۔

اس ماہ میں(عید میلاد النبی ﷺ)کی ایجادایک بہت بڑی غلطی ہے۔ مسلمانوں میں سب سے پہلے جشن عیدمیلاد النبی کی ابتداء اورمنانے والا ایک ظالم اور فضول خرچ بادشاہ ابوسعیدکوکبوری بن ابی الحسن علی بن محمد الملکب الملک المعظم مظفر الدین اربل(موصل)متوفی 18 رمضان 630ھ نے کی۔یہ بادشاہ ان محفلوں میں بے دریا پیسہ خرچ کرتااورآلات لہولعب کے ساتھ راگ ورنگ کی محفلیں منعقدکرتاتهااوریہ بادشاہ بهانڈوں گانے والوں کوجمع کرتا،گانے آلات سے گاناسنتااورخودناچتاتھا۔اس نےاپنےدورکے علماءکو حکم دیاکہ وہ عیدمیلادالنبی منائیں اوراس وقت کے وہ علما جو اپنے دنیوی اغراض ومقاصدکی سرتوڑ کوششیں کررہے تھے،اس کی جانب مائل ہوئے جب انہیں موقع ملا توربیع الاوّل کے مہینے میں عیدمیلاد النبیﷺ مناناشروع کردیاجس سے اس تہوارکاآغازہوا۔

اس لیے یہ اسلام کے خلاف اورتعلیمات نبویﷺکے بھی خلاف ہے،اسلام کوان عارضی اورظاہری شان وشوکت کی قطعاً ضرورت نہیں ہے کیونکہ اسلام کی شان وشوکت تویہ ہےکہ جب خلیفہ ثانی سیدناحضرت عمرفاروق ملک شام تشریف لے گئے اوروہاں کے لوگوں نے نیالباس پہننے کوکہاتوفرمایاکہ:نکہ ہم مسلمان ایسی قوم ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم کواسلام کے ذریعہ عزت بخشی ہےاگرہم سچے مسلمان ہیں تودنیاہماری عزت بے سروسامانی میں بھی کرے گی ـ

آپﷺنے اپنی پوری زندگی میں ایساکوئی کام نہیں کیا،نہ اس کاحکم دیا،نہ صحابہ کوسکھایا،اورایسے ہی آپ کے خلفائے راشدین رضوان اللہ اجمعین نے بھی کبھی یہ کام نہیں کیا۔صحابہ کرام آپﷺکی سنتوں کوسب سے بڑھ کرجانتے تھے۔رسول اللہﷺسے ٹوٹ کرمحبت کرنے والے تھے۔آپ کی پیروی کے انتہائی حریض رہتے تھے۔اگرعیدمیلادیاجشن میلادکوئی شرعی کام ہوتاتویقیناًیہ لوگ اس کی طرف جلدی کرتے۔ پھرصحابہ کے بعدفضیلت والی صدیوں میں علمائے امت میں سے کسی نے یہ کام نہیں کیاہے،نہ اس کاحکم دیاہے۔اس کی تاریخ سے معلوم ہوتاہے کہ یہ محمد رسول اللہﷺکی وہ شریعت نہیں ہے جسے دے کرآپ کومبعوث کیاگیاتھا۔

اورہم اللہ عزوجل اورتمام مسلمانوں کوبھی گواہ بناکرکہتے ہیں کہ اگرآپﷺنے یہ کام کیاہوتا،یااس کاحکم دیاہوتا،یاآپ کے صحابہ،تابعین،تبہ تابعین نے کیاہوتا ،توہم اس کی طرف سب سے پہلے جلدی کرنے والے ہوتے کیونکہ ہم بحمداللہ تعالیٰ اتباع سنت کے سب سے بڑھ کرحریص ہیں اورآپ کے امرونہی کی تعظیم ہمارے ایمان کاحصہ ہے۔ہم اپنے لیے اورتمام مسلمانوں کیلئےحق پرثابت قدمی کی دعاکرتے ہیں،اورہراس کام سے جواللہ کی شریعت کے خلاف ہو، اس سے عافیت چاہتے ہیں بلاشبہ وہ بڑاہی سخی اورمہربان ہے۔
رہے نام میرے رب کاجس نے میرے نبیﷺ کوسب جہانوں کیلئے رحمت بناکر مبعوث فرمایا!

اپنا تبصرہ بھیجیں