Testimony Of Moments

لمحات کی گواہی

:Share

ہم آج ایک دوسرے کوجوسب سے عمدہ تحفہ دے سکتے ہیں،وہ ہماراوقت ہی توہے اوریہ واحدتحفہ ہے جوہم کسی کودے سکتے ہیں، انتہائی بیش بہااور قیمتی ترین۔جورقم ہم کسی کوتحفے کے طورپردیتے ہیں،اصل میں ہم اپناوقت ہی دے رہے ہوتے ہیں۔وہ وقت جس سے ہم نے لگ لپیٹ کریہ رقم کمائی ہے ۔کبھی سوچاہے کہ وقت کس قدرقیمتی چیزہے؟وقت تو زندگی ہے،جب کوئی کسی کوقتل کرتاہے ،اس سے وقت ہی تو چھینتاہے،اورکیالیتاہے؟وہ سال،وہ مہینے،وہ گھڑیاں،وہ اس سے چھین لیتاہے جواس نے بسرکرنی تھیں،وہ لمحے، وہ بیس،وہ تیس،وہ چالیس،وہ پچاس برس اس سے چھین لیتاہے جواس نے گزارنے تھے ، وہ گھسیٹ لیتاہے اسے،اورکیالیتاہے وہ؟؟کیاہم نے کبھی بھی اس پہلوپرسوچاہے؟جب ہم ایک دوسرے کووقت دے رہے ہوتے ہیں گویاہم ایک دوسرے کے نام اپنی زندگی کر رہے ہوتے ہیں اورجب زندگی ایک دوسرے کے نام کررہے ہوتے ہیں توگویاہم اپنی زندگی کے قیمتی لمحے ایک دوسرے پرنثار کر رہے ہوتے ہیں،وہ لمحات جوہم کسی اورکونہیں دے سکتے،ہم کسی کوواپس نہیں کرسکتے اورنہ ہی وہ لمحات کسی اورکے نام ”انڈرورس” کئے جا سکتے ہیں تویہ ایسے قیمتی لمحات ہوتے ہیں جوکسی اورکودکھائی بھی نہیں دیتے اورنہ ہی ہم کسی اورکودکھا سکتے ہیں،بس یوں سمجھیں جس نے ایک دوسرے کو اپنا وقت دیا گویا اس نے اپنی زندگی اسے عطاکی ہے۔

جب ہم اکٹھے بیٹھ کراپنااپنا لمحہ ایک دوسرے کودے رہے ہوتے ہیں توگویاوہ سارے لمحے ہم نے اس دنیاسے لئے ہوتے ہیں۔کبھی کسی سے معذرت کرکے ،کبھی کسی سے اجازت لیکراورکبھی ان سے التجاکرکے اورکبھی کبھارآنکھوں میں نمی لاکرایسے قیمتی لمحوں کی درخواست کرناپڑتی ہے اورساری دنیا کویہ کہہ کر معذرت کرتے ہیں کہ اے دنیا:میں اس وقت اپنے یہ قیمتی لمحات اپنے ہمدرد،اپنے ساتھی،اپنے مونس وغم خوارکودے رہاہوں،تمہاری طرف توجہ نہیں دے سکتاکیونکہ اس نے بھی ساری دنیاکے تمام مفادات پرمجھے ترجیح دی ہے، یہ لمحات اس بات کی گواہی ہیں کہ اس نے اپنی تمام وفاداریاں میرے نام کر دینے کااعلان کیاہے کہ میں یہ لمحات کاحقداربس اسے ہی سمجھتا ہوں۔

میں تواللہ سے ان لمحات کی ایسی طویل زندگی کی دعامانگتاہوں کہ جس کاکوئی حدوحساب اورگنتی شمارتک نہ ہو۔یادرکھیں،اللہ کے پاس وقت ہے ہی نہیں،ازل سے ابدتک یہی رہے گااورنہ ازل کووقت کے چوکھٹے میں فٹ کیاجاسکتاہے اورنہ ابدکووقت سے جانچاجا سکتاہے۔یہ اورہی نہ سمجھ آنے والی بات ہے،اسے بگ بینگ والے بھی نہیں سمجھتے،سب کچھ فنا ہوجائے گا،ایک رب کاچہرہ باقی رہ جائے گا،ایک ہی صدا فضا میں گونجے گی کہ”لِمنِ لملک ا لیوم ” کون ہے آج کے دن کامالک؟”اورلوٹ کربازگشت سے یہ جواب آئے گا” لِلہِ لوحِدِ لقہار۔۔میرے رب نے اسی لئے تووقت کی قسم کھاکراس کوگواہ بنایاہے کہ یہ وقت ہی توہے جوازل سے ابدتک نہ صرف پریقین ہے بلکہ چشم دیدگواہ بھی ہے۔

ہمیں ان لمحات سے باخبرکردیاگیاکہ سب لوگ حسب معمول اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوں گے۔پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہیں ہوں گے ۔مزدوراپنے گھر کو واپس جارہے ہوں گے۔وزیراپنے تخت پردرازہوں گے۔یہ ساری حسب معمول کی باتیں ہوں گی اورقیامت سے پہلے کی شام بھی بالکل عام سی شام ہوگی۔ایسی ہی ایک شام آئے گی جوسارے عالم پرچھاجائے گی۔حسب معمول دنیاوی کام جاری ہوں گے اوراچانک سے ایک ہیبت ناک آوازآئے گی۔وہ آوازاتنی خوفناک ہوگی جسے سن کرسب لوگ اپنے کاموں کوبھول جائیں گے۔وہ خوفناک آواز پورے جہان کا کلیجہ چیردے گی۔

قیامت صورِاسرافیل کی اس خوفناک چیخ کا نام ہے جس سے پوری کائنات زلزلہ میں آ جائے گی، اس لمحے کی وہ آواز اتنی خوفناک ہو گی کہ زمین و آسمان کا کلیجہ پھٹ جائے گا، پہاڑوں کے چشمے خشک ہوجائیں گے،اس ہمہ گیرزلزلہ کے ابتدائی جھٹکوں ہی سے دہشت زدہ ہوکردودھ پلانے والی مائیں اپنے دودھ پیتے بچوں کوبھول جائیں گی،حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے، پریشانی اوربدحواسی کاتویہ عالم ہوگاکہ مائیں اپنے بچوں کوبھول جائیں گی۔وہ مائیں جواپنے بچوں کو اپنے سے دورنہیں ہونے دیتی لیکن اس دن ہرکسی کواپنی جان کی فکر ہوگی۔اس دن کوئی بھاگ نہیں سکے گا۔اس چیخ اورزلزلہ کی شدت دم بدم بڑھتی جائے گی جس سے تمام انسان اورجانورمرنے شروع ہوجائیں گے یہاں تک کہ زمین و آسمان میں کوئی جاندارزندہ نہ بچے گا،زمین پھٹ پڑے گی،وہ تمام افراد جو اس وقت ایٹمی جنگ میں بھی محفوظ پناہ گاہوں پر بڑے مطمئن ہیں،وہ بھی اس دن،اس لمحے اپنی مضبوط اورناقابل تسخیر محلات کے ساتھ ساتھ بِکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اوریہ پہاڑرنگ برنگ دھنی ہوئی روئی کی طرح اڑتے پھریں گے،ستارے اورسیارے ٹوٹ ٹوٹ کرگرپڑیں گے اورپوری کائنات موت کی آغوش میں چلی جائے گی۔

اس عظیم دن کی خبرتمام انبیاکرام علیہم السلام اپنی اپنی امتوں کو دیتے چلے آئے تھے مگررسولِ خدا ۖنے آکریہ بتایاکہ قیامت قریب آپہنچی اورمیں اس دنیا میں اللہ کاآخری رسول ہوں،قرآنِ حکیم نے بھی اعلان کیاکہ اِقۡتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الۡقَمَرُ۔۔قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔اوریہ کہہ کرلوگوں کو چونکایا:سوکیایہ لوگ بس قیامت کے منتظرہیں کہ وہ ان پردفعتہ آپڑے؟سویادرکھوکہ اس کی(متعدد)علامتیں آچکی ہیں،سوجب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی اس وقت ان کوسمجھناکہاں میسرہوگا۔(سورہ محمد)لیکن قیامت کب آئے گی اس کی ٹھیک ٹھیک تاریخ توکجا سال اورصدی اللہ کے سواکسی کومعلوم نہیں،یہ ایسا رازہے جو خالقِ کائنات نے کسی فرشتے یانبی کوبھی نہیں بتایا،جبریل امین نے رسول اللہ ۖسے پوچھاتوان کوبھی یہی جواب ملاکہ جس سے پوچھاجارہاہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا۔قرآن حکیم نے بھی بتایا کہ قیامت کے مقررہ وقت کاعلم اللہ کے سوا کسی کونہیں۔(اے پیغمبر،لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کاوقوع کب ہوگا؟سوتم اس کے ذکرسے کس فکرمیں ہو۔اس کا منتہا(یعنی واقع ہونے کاوقت) تمہارے پروردگارہی کومعلوم ہے (النازعات44:42)

اس دن فرشتے بھی موت کامزہ چکھ رہے ہوں گے۔پھراللہ کی طرف سے حکم صادرہوگاکہ جبرائیل ،میکائیل اوراسرافیل سے کہوکہ مر جائیں۔اب ایک عجیب منظرہوگا،اوپراللہ ہوگانیچے عزرائیل ہوگا۔عزرائیل بھی خوف سے کانپ رہاہوگا ۔اللہ پوچھے گاعزرائیل اب کون باقی؟ عزرائیل کہے گا،اے اللہ اوپر تو باقی ،نیچے میں باقی،اورپھراللہ کہے گاعزرائیل اب توبھی مرجا،یہ سن کراللہ کاعرش کانپتے ہوئے عرض گزارہوگاکہ یااللہ ان کوتوبخش دے،اللہ تعالی فرمائیں گے:خاموش آج میرے عرش کے نیچے کوئی بھی نہیں بچ سکتا، ہرکسی کوفناہے۔اللہ اکبر-سب کو موت کی وادی میں دھکیل کراللہ فرمائے گا،ہے کوئی میرا ہر شریک توسامنے آئے لیکن اس دن کوئی آوازنہیں آئے گی۔ بس اللہ ہی باقی ہوگا۔یہ ہے وہ دن جس کاآناطے ہے۔

جب قیامت کے لمحات ہوں گے،تمام مخلوقات اپنے رب کے حضور پیش ہوں گی،ربِ کائنات سے کوئی چیزپوشیدہ نہیں ہے اورنہ ہی ان کے اعمال جو انہوں نے اس دنیامیں کیے ہیں،اس لمحے میرے رب کاارشادہوگا:بتا ؤ اس دن کون بادشاہ ہے اورکس کاتصرف ہے؟ کس کی مجال ہے کہ جواب بھی دے سکے،انہی لمحات کوجواب کی اجازت مرحمت ہوگی تو لمحات پکاراٹھیں گے کہ ربِ کائنات اپنے ناموں،صفات اورافعال میں منفردہے،وہ قادرمطلق جس نے تمام مخلوقات کواپنی قدرت اورطاقت سے فتح کیاہے۔آج بادشاہ کون ہے ؟جان لوکہ میں بادشاہ ہوں،میں غالب ہوں،میں مغرورہوں،کہاں ہیں زمین کے بادشاہ،کہاں ہیں غالب؟کہاں ہیں متکبر؟تووقت ہی لرزتاہواپکاراٹھے گا:وہی توہے ، جو سب سے زیادہ،آسمانوں اورزمین کواپنے ہاتھ سے جوڑتاہے،کائنات کاحاکم حقیقی تواللہ تعالی ہی ہے جوحیی وقیوم ہے۔کائنات میں ہرجگہ،ہروقت اسی کاحکم چل رہاہے،یہ جو ڈرامے کے کرداروں کی طرح چھوٹے چھوٹے بادشاہ، ڈکٹیٹر، آمر فراعین، سلاطین، سردار وغیرہ جو خود کو مقتدر اور بااختیار گردانتے تھے، وقت ان سب کے پردے چاک کر دے گا۔

یہ وقت ہی توہوگاجوکانپتے ہوئے اس حکم کے جواب کی بھی اجازت طلب کرے گاکہ عظیم دن کامالک کون ہے جواوّلین وآخرین،اہل آسمان اوراہل زمین کو جوڑتاہے،جس پر سلطنت میں شراکت منقطع ہوئی،اوراسباب منقطع ہوئے،اورصرف،اچھے یابرے اعمال رہ گئے؟حاکمیت(اللہ واحدہے،قادرمطلق ہے) یعنی:وہ اپنی ذات،اپنے اسما، صفات اوراپنے افعال میں یکتاہے،اوران میں سے کسی کاکسی طرح سے کوئی شریک نہیں۔(القہار)تمام مخلوقات کیلئے،جن کیلئے مخلوقات محکوم،ذلیل اورمحکوم ہیں،خاص طورپر اس دن جب چہرے زندہ اورازل پرملعون ہوں،اس دن کوئی ذی روح اس کی اجازت کے بغیربات نہیں کرے گا۔

گزرے لمحات کاایسامحاصرہ ہوگاکہ اپنے ہی اعضا یہ گواہی دیں گے کہ تمہیں توبارباراس دن سے خبردارکیاتھاکہ اس یوم حساب کا یقینًاسامناکرناپڑے گاجب اللہ کو حساب لینے میں کوئی دیرنہیں لگے گی۔وہ جس طرح کائنات کی ہرمخلوق کوبیک وقت رزق دے رہا ہے اورکسی کی رزق رسانی کے انتظام میں اس کوایسی مشغولیت نہیں ہوتی کہ دوسروں کورزق دینے کی اسے فرصت نہ ملے،وہ جس طرح کائنات کی ہرچیزکوبیک وقت دیکھ رہاہے،ساری آوازوں کوبیک وقت سن رہاہے،تمام چھوٹے سے چھوٹے اوربڑے سے بڑے معاملات کی بیک وقت تدبیرکررہاہے،اورکوئی چیزاس کی توجہ کواس طرح جذب نہیں کرلیتی کہ اسی وقت وہ دوسری چیزوں کی طرف توجہ نہ کرسکا،اسی طرح وہ ہرہرفردکابیک وقت محاسبہ بھی کرلے گااورایک مقدمے کی سماعت کرنے میں اسے ایسی مشغولیت لاحق نہ ہوگی کہ اسی وقت دوسرے بے شمار مقدمات کی سماعت نہ کرسکے۔پھر اس کی عدالت میں اس بناپربھی کوئی تاخیرنہ ہوگی کہ واقعات مقدمہ کی تحقیق اوراس کیلئے شہادتیں فراہم ہونے میں وہاں کوئی مشکل پیش آئے۔حاکم عدالت براہ راست خودتمام حقائق سے واقف ہوگابلکہ ہمارے اعضاء ہی گواہی دیکرہمارے جرائم کااعتراف مہیاکردیں گے۔ ہرفریق مقدمہ اس کے سامنے بالکل بے نقاب ہوگااورواقعات کی کھلی کھلی ناقابل انکارشہادتیں چھوٹی سے چھوٹی جزئی تفصیلات تک کے ساتھ بلاتاخیرپیش ہوجائیں گی۔اس لیے ہرمقدمے کافیصلہ جھٹ پٹ ہوجائے گا۔

جنہوں نے ان لمحات کومحض اس لئے گنوادیاکہ دنیابھی ہاتھ سے نہ جائے اورجاں بخشی کیلئے کچھ مال واسباب شفاعت کیلئے مختص کررکھاہوگاگے کہ یہ لمحات ان کی جاں بخشی کیلئے کافی ہوں تووہ یہ کیوں بھول گئے کہ حقیقت میں تووہاں ظالموں کاکوئی شفیع سرے سے ہو گاہی نہیں کیونکہ شفاعت کی اجازت اگرمل بھی سکتی ہے تواللہ کے نیک بندوں کومل سکتی ہے،اور اللہ کے نیک بندے کبھی کافروں اور مشرکوں اورفساق وفجارکے دوست نہیں ہوسکتے کہ وہ انہیں بچانے کیلئے سفارش کاخیال بھی کریں لیکن چونکہ کفارو مشرکین اورگمراہ لوگوں کابالعموم یہ عقیدہ رہاہے،اورآج بھی ہے کہ ہم جن بزرگوں کے دامن گرفتہ ہیں وہ کبھی ہمیں دوزخ میں نہ جانے دیں گے بلکہ اڑکرکھڑے ہوجائیں گے اوربخشواکرہی چھوڑیں گے،اس لیے فرمایاگیاکہ وہاں ایساشفیع کوئی بھی نہ ہوگاجس کی بات مانی جائے اورجس کی سفارش اللہ کولازماًقبول ہی کرنی پڑے۔

پھروہ لمحات ہمیں شرمندہ کرنے کیلئے آن موجودہوں گے کہ ہم نے توتمہیں بارہاخبردارکیاتھاکوئی ہستی بھی جواس کائنات میں موجود ہے،خواہ وہ کوئی فرشتہ ہویا نبی یاولی،یااورکوئی مخلوق،اس کا مقام دوسری مخلوقات کے مقابلے میں چاہے کتناہی ارفع واشرف ہو، مگراللہ تعالی کے بلند ترین مقام سے اس کے قریب ہونے تک کاتصورنہیں کیاجاسکتاکجاکہ خدائی صفات واختیارات میں اس کے شریک ہونے کاگمان کیاجاسکے۔ہم نے دیکھاکہ دنیامیں توبہت سے برخودغلط لوگ اپنی بادشاہی وجباری کے ڈنکے پیٹتے رہے،اوربہت سے احمق ان کی بادشاہیاں اور کبریائیاں مانتے رہے،اب بتاؤکہ بادشاہی فی الواقع کس کی ہے؟ اختیارات کااصل مالک کون ہے؟اورحکم کس کاچلتاہے؟یہ ایسا مضمون ہے جسے اگرکوئی شخص گوش ہوش سے سنے توخواہ وہ کتناہی بڑابادشاہ یاآمرمطلق بنا بیٹھاہو،اس کازہرہ آب ہوجائے اور ساری جباریت کی ہوااس کے دماغ سے نکل جائے۔

اس موقع پرتاریخ کایہ واقعہ قابل ذکر ہے کہ سامانی خاندان کافرمانرواانصربن احمد (331۔301)جب نیشاپورمیں داخل ہواتواس نے ایک دربارمنعقدکیا اورتخت پربیٹھنے کے بعد فرمائش کی کہ کاروائی کاافتتاح قرآن کی تلاوت سے ہو۔یہ سن کرایک بزرگ آگے بڑھے اورانہیں نے یہی رکوع تلاوت کیا۔جس وقت وہ اس آیت پرپہنچے تونصرپرہیبت طاری ہوگئی۔لرزتاہواتخت سے اترا،تاج اتارکرسجدے میں گرگیااوربولااے رب،بادشاہی تیری ہی ہے نہ کہ میری۔

میرے رب نے اسی ماہ مبارک میں یہ معجزاتی ریاست ہمیں عطافرمائی تھی کہ ہم بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں دینے میں اپنی جان و مال کھپادیں گے تاکہ صورِاسرافیل کی اس خوفناک چیخ اور چاند شق ہونے والے دن کی ہولناکی سے بچنے اور روزِ جزا وسزا کے دن کامیابی کیلئے زادِ راہ جمع کر سکیں لیکن کیا واقعی ہم اپنے رب کی طرف سے عطاکئے گئےقیمتی لمحوں میں اپنے پروردگار سے کئے گئے اوفو بالعہد پرعمل پیرا ہو سکے۔لیکن اگرپچھلے 75سال کے تمام لمحات کوجمع کروں جہاں ہرسال ماہ رمضان کی 27ویں شب ہمیں اس بدعہدی کی شرمندگی سے مبتلاکرتی رہی۔کیاہم نے کبھی یہ سوچاکہ ہر رمضان المبارک کے شب بیداریاں، ہر نماز کے بعد ملک کی سلامتی ،کشمیر اور بیت المقدس کی آزادی کیلئے گڑگڑا کر مانگی گئی دعائیں آخر کیوں قبول نہ ہو سکیں،آخریہ عجز و انکساری کے لمحات ہمار ے حق میں گواہی دینے سے کیوں گریزاں ہیں۔ہم نے اپنے اقتدارکیلئے کبھی نظام مصطفیٰ کانعرہ لگاکرعوام کودھوکہ دیااورکبھی مغربی جمہوریت کاسہارالیکروطن عزیزکوریاست مدینہ بنانے کادعویٰ کرکے اسی ریاست کے ساتھ ایسا آئینی کھلواڑ کیا کہ ملکی سلامتی کوخطرات سے ایسا دوچار کیاکہ اپنے اقتدار کیلئے تمام ملکی اداروں کودا ؤ پرلگادیا۔جس جمہوری نظام کے توسط سے اقتدارحاصل کیا،اسی جمہوری طرزحکومت کے مطابق عدم اعتمادکی تحریک کوناکام کرنے کیلئے ہروہ غیرآئینی جتن کیا۔اپنے لب ولہجہ سے جس رعونت کے ساتھ اپنے مخالفین کو کوسنے کا ایک نیا انداز پاکستان کے نوجوانوں کو سکھا کر ان کے اخلاق تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،اپنے اقتدارکیلئے اپنے اسپیکرکی قربانی تودے دی لیکن پارلیمان کی بالادستی کونعرہ لگانے والا خود بالآخربڑابے آبروہوکررخصت ہوگیا۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

آئیے:ماہِ رمضان کے ان مبارک لمحوں کواس قدرقیمتی بنالیں کہ یہ ہماری ایسی سفارش کریں کہ رحیم اورکریم رب ہمارے ان لمحوں کوہماری عقبٰی وآخرت کی نجات کاوسیلہ بنادے۔ اللھم آمین یارب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں

three × three =