امریکی تاریخ کی گواہی

:Share

یحییٰ سِنوارشاید اس وقت فلسطین کی سب سے بااثرشخصیت ہیں۔انہوں نے اپنی 56سالہ زندگی کابڑاحصہ جیل میں گزارا،چاہے وہ اسرائیلی جیل ہویا غزہ جیسی کھلی جیل۔اسرائیل کی جانب سے غزہ اوراسرائیل کی سرحدپر60 فلسطینی مظاہرین کو ہلاک کیے جانے کے دوروزبعد 16مئی2013ءکوغزہ کے باسی یہ جاننے کیلئے ٹیلی ویژن کے گردجمع تھے کہ کیا اشتعال اور تشدد کی نئی لہرانہیں ایک اورجنگ کی طرف دھکیل دے گی؟وہ نہ توفلسطینی صدر محمودعباس کوسن رہے تھے اورنہ ہی حماس کے رہنمااسماعیل ہانیہ کو،بلکہ وہ غزہ میں حماس کے رہنمایحییٰ سنوارکو سن رہے تھے جوآنے والے وقت میں پورے فلسطین کی نمائندگی کریں گے۔یحییٰ سنوارپرعسکریت پسندوں کی جانب سے ہلاک شدگان کابدلہ لینے کیلئے دباؤڈالاگیا۔لیکن اس کے باوجود انہوں نے الجزیرہ پراعلان کیاکہ حماس پُرامن عوامی مزاحمت کوجاری رکھے گی۔یحییٰ سنوارکی جانب سے ایسابیان آنا بہت حیران کن تھا۔

یحییٰ سنوار غزہ کے خان یونس کیمپ میں پیداہوئے،وہ حماس کے اولین ارکان میں سے ہیں۔انہوں نے حماس کی خفیہ پولیس بنانے میں بھی مددکی جس کاکام اسرائیل سے تعاون کرنے والے فلسطینیوں کی نشاندہی کرناتھا۔یحییٰ سنوارکو1988ءمیں اسرائیلی عدالت نے چاردفعہ عمرقیدکی سزاسنائی ۔ حالات نے اس وقت ایک اہم موڑلیا جب اسرائیل نے حماس کی قیدمیں موجود اپنے فوجی کی رہائی کیلئے قیدیوں کاتبادلہ کیا۔اسرائیل نے مذاکرات کیلئے یحییٰ سنوارکااستعمال کیا۔انہیں حماس کے رہنماؤں سے بات چیت کی اجازت تھی جواسرائیلی فوجی کے بدلے اپنے ایک ہزارسے زائدافرادکی رہائی چاہتےتھے۔اسرائیل نے کچھ کے علاوہ تمام نام تسلیم کرلیے جن میں یحییٰ سنوارکانام بھی شامل تھا۔2011ءمیں وہ قیدسے رہاہوگئے۔اسرائیل میں کچھ لوگ اس فیصلے پرپچھتائے جب انہوں نے یحییٰ سنوارکوحماس کے عسکری بازوالقسام بریگیڈکاکمانڈربنتے دیکھا۔

1980ءمیں اپنے قیام سے ہی حماس اپنے سیاسی افراداورالقسام بریگیڈکے جنگجوؤں کے درمیان منقسم رہی۔یہ تقسیم2014ء میں حماس اسرائیل تیسری لڑائی کے بعدمزیدگہری ہوگئی۔یحییٰ سنوارکے ماضی اوراسرائیلی جیلوں میں کئی سال گزارنے کی وجہ سے حماس کے عسکری حلقے میں ان کا کافی اثرورسوخ موجودہے۔جن اسرائیلی تجزیہ کاروں کی رائے یہ تھی کہ یحییٰ سنوارکوسیاسی معاملات میں مشکلات کاسامناکرناپڑے گا،ان کی تمام آراء غلط ثابت ہوئیں،2019ءجب غزہ کاانتظام سنبھالنے کیلئے یحییٰ سنوارکاانتخاب کیاگیاتونہ صرف اسرائیلی بلکہ فلسطینی شہری بھی یحییٰ سنوارکی قیادت کے حوالے سے شکوک و شبہات میں گھرے ہوئے تھے۔اسرائیلی آرمی چیف کاکہناتھاکہ یحییٰ سنوارکی تقرری نے حماس کے سیاسی اورعسکری ونگ میں فرق ختم کردیاہے۔غزہ کے باسی اس خوف میں مبتلاتھے کہ جس شخص نے کئی سال اسرائیلی جیل میں گزارے ہو ں وہ جارحانہ اورمتلون مزاج کاحامل ہوگا۔یحییٰ سنوارکے اسرائیلی تفتیش کارکااُن کے بارے میں کہناہے کہ وہ ایک انتہائی سخت گیراورعملی شخصیت ہیں۔سابق فلسطینی سکیورٹی چیف محمددحلان بھی اُن کے بارے بارے یہی رائے رکھتے تھے۔

یحییٰ سنوارنے فلسطین کے باہرموجودحماس کے رہنماؤں کاکردارمحدودکردیا۔انہوں نے وقتی طورپرغزہ میں موجودسخت گیرآوازوں کوبھی خاموش کروادیا۔حماس نے سالوں کی کوششوں سے زیر زمین سرنگوں کاجال قائم کیاتاکہ وہ اپنے جنگجوؤں کوسرحدپاربھیج کراسرائیلی علاقوں پرقہرڈھاسکے۔ لیکن2016ءسے اسرائیلی فوج کسی خفیہ ٹیکنالوجی کی مددسے ان سرنگوں کاسراغ لگاکرانہیں تباہ کرتی رہی۔القسام بریگیڈکے سربراہ محمدالضیف چاہتے تھے کہ جلدسے جلدان سرنگوں کااستعمال کرلیا جائے لیکن یحییٰ سنوارنے اس بات کومستردکردیا۔

لیکن یہ سب کچھ کسی بنیادی تبدیلی کوظاہرنہیں کرتاتھابلکہ حماس کاپرامن طریقہ کاراختیارکرناایک حکمت عملی پرمبنی تھا۔ یہاں تک کہ غزہ کے جنگجو بھی یہی سمجھتے رہے کہ ان کے ہتھیاراور اسلحہ کامعمولی ذخیرہ اسرائیل کوکوئی خاطرخواہ نقصان نہیں پہنچاسکتا۔حماس کے حقیقت پسندلوگ یہ بات سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ مزیدکوئی لڑائی غزہ کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔یحییٰ سنوارنے غیرملکی صحافیوں سے اپنی پہلی ملاقات میں کہاکہ ’’سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ نوجوانوں کے اندر غزہ میں ایک پُروقارزندگی کی امید ختم ہوتی جارہی ہے،جس پرفوراًتوجہ دینے کی ضرورت ہے وگرنہ ان نوجوانوں کوظلم کے خلاف اپنی جوانوں کی قربانی دینے کے جذبے کوروکنابہت مشکل ہوگا‘‘۔

دوسری طرف اسرائیلی تفتیش کاراورحکومتی عہدیداراپنی مکارانہ سیاسی چالوں کامسلسل استعمال کرتے ہوئے یہ پروپیگنڈہ کرتےرہے کہ یحییٰ سنوار بہت پرعزم شخص ہیں۔وہ محمودعباس کے مقابلے میں زیادہ بہتررہنمانظرآتے ہیں لیکن اگریحییٰ سنوارفلسطین کی قیادت کرنے کے خواہش مندہیں تو وہ ایساکسی مسلح گروہ کے ساتھ رہ کرنہیں کرسکتے۔دنیاحماس کواس وقت تک تسلیم نہیں کرے گی جب تک اس کی جانب سے تشددکاراستہ ترک نہیں کردیاجاتا۔یحییٰ سنوارماضی قریب کے کسی بھی حماس رہنماکے مقابلے میں زیادہ طاقتورہیں۔اب انہیں فیصلہ کرناہوگاکہ وہ کس حدتک حقیقت پسند بن سکتے ہیں۔

اب48دن کی شدیدترین جنگ اور اس کے نتیجے میں70فیصدغزہ کاکھنڈرات میں تبدیل ہونے کے باوجود یحییٰ سنوار غائب ہیں اوراس وقت ہزاروں اسرائیلی فوجی،ڈرونزاورجدیدآلات اورجاسوسوں کی مددسے انہیں تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔مکمل سفید سراورداڑھی کے باوجودمکمل سیاہ بھنویں والی منفردشخصیت اس وقت غزہ میں حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ ہیں اوراسرائیل کومطلوب حماس رہنماؤں کی فہرست میں شامل ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل ان سمیت دیگرحماس رہنماؤں کوسات اکتوبرکوجنوبی اسرائیل پرہونے والے حملے کاذمہ دارٹھہراتاہے جس میں 1200/افرادہلاک جبکہ200یرغمال بنائے گئے۔

اکتوبرکے آغازمیں اسرائیل ڈیفنس فورسزکے ترجمان ریئرایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے کہاتھاکہ”یحیٰی سنوارکمانڈرہیں اورانہیں ہلاک کردیاجائے گا۔”آئی ڈی ایف کے چیف آف سٹاف ہیرزی ہلیوی نے کہاکہ”اس ہلاکت خیزحملہ کرنے کافیصلہ یحیٰی سنوارنے کیا۔ اس لیے ان سمیت ان کے ساتھ کام کرنے والے تمام افرادکوپکڑنے پرہلاک کردیاجائے گا۔”ان میں محمدالضیف بھی شامل ہیں جو حماس کے عسکری شعبے القسام بریگیڈکے سربراہ ہیں۔

یورپین کونسل برائے خارجہ امور(ای سی ایف آر)میں سینیئرپالیسی فیلوہیولویاٹ کاماننا ہے کہ الضیف سات اکتوبرکے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں سے تھے کیونکہ یہ ایک فوجی آپریشن تھالیکن السنوار”ممکنہ طورپراس گروپ کاحصہ ہوں گے جس نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی اوراس فیصلے پراثراندازہوئے۔”السنوارحماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے نائب تصور کیے جاتے ہیں اوراسرائیل کامانناہے کہ وہ غزہ میں زیرِزمین سرنگوں کہیں اپنے باڈی گارڈزکے ساتھ موجودہیں اوراس ڈر سے کسی سے رابطہ نہیں کر رہے کہ کہیں ان کی لوکیشن کے بارے میں اسرائیل کومعلوم نہ ہو جائے۔

غزہ کی پٹی کے جنوب خان یونس کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہونے والے61برس کےیحییٰ السنوارجنہیں ابوابراہیم کے نام سے جاناجاتا ہے۔ ان کے والدین کا تعلق عسقلان سے تھااورانہیں النکبہ یعنی اسرائیل کے قیام کے نتیجے میں 1948میں بڑے پیمانے پرجبراًاپنے آبائی علاقے کوچھوڑ کر ہجرت کرنی پڑی ۔انہوں نے خان یونس کے ایک سیکنڈری سکول میں تعلیم حاصل کی اورپھرغزہ کی اسلامک یونیورسٹی سے عربی زبان میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی تھی۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ آف نیئرایسٹ پالیسی میں ریسرچ فیلواحدیاری نے السنوارکاجیل میں چاربارانٹرویوکیاہے۔ان کے مطابق السنوارجوانی کے دنوں میں خان یونس”اخوان المسلمون”تنظیم کے گڑھ کے طورپردیکھاجاتاتھا۔عسکریت پسندگروہ نوجوانوں کیلئے ایک بھرپورتحریک تھی جس کیلئےوہ پناہ گزین کیمپوں کی غربت کی زندگی گزارتے ہوئے مساجدمیں جایاکرتے تھے جو بعد میں حماس کیلئےایسی ہی اہمیت کی حامل ہونے والی تھی۔السنوارکو 1982میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے اس وقت گرفتارکیاجب وہ19برس تھے۔انہیں”انتہاپسند سرگرمیاں “کرنے پر1985 میں دوبارہ گرفتارکیاگیاتھا۔یہ وہ وقت تھاجب انہوں نے حماس کے وہیل چیئرتک محدودبانی شیخ احمدیاسین کااعتمادحاصل کرلیا تھا ۔انسٹیٹیوٹ برائے نیشنل سکیورٹی سٹڈیزتل ابیب میں سینیئر ریسرچرکوبی مائیکل کے مطابق دونوں کے درمیان قربت میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیاتھا ۔ یہ رشتہ السنوارکے تنظیم میں ان کے بارے میں وفاداری اورخلوص جیسے انمٹ تاثرنے بڑاگہرا تاثرچھوڑا۔

دوسال بعد1987میں حماس کاقیام عمل میں آیااورالسنوارنے ہی گروپ کاداخلی سکیورٹی شعبہ قائم کیاجسے المجدکانام دیاگیا۔ وہ اس وقت صرف 25 سال کے تھے۔المجدجلدہی ایسے لوگوں کوسزائیں دینے کے بارے میں بدنام ہواجن پراخلاقی جرائم کے الزامات تھے۔مائیکل کے مطابق انہوں نے اس دوران ایسی دکانوں پرچھاپے مارے جو”سیکس ویڈیوز”رکھتے تھے اورساتھ ہی ایسے کسی بھی شخص کوہلاک کردیا جس پراسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے کاالزام تھا۔یاری کےمطابق”وہ ایسے آدمی ہیں جن کے اردگردان کے حمایتی اورمداح اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ 1988ء میں السنوار نے مبینہ طورپردواسرائیلی فوجیوں کااغوااورہلاکت کی منصوبہ بندی کی تھی۔انہیں اسی سال گرفتارکیاگیاتھااوراسرائیل میں انہیں 12 افرادکے قتل کے باعث چارمرتبہ عمرقیدکی سزاسنائی گئی تھی۔

السنوارنے1988سے2011تک22سال جیل میں گزارے جوان کی ادھیڑعمرکابڑاحصہ بنتاہے۔وہاں ان کاوقت کچھ عرصہ قیدِ تنہائی میں بھی گزرا اوراس کے باعث ان میں عسکریت پسند عنصرمزیدشدت پکڑگیا۔یاری کامزیدکہناہے کہ”وہ طاقت کے ذریعے اپنادبدبہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے خودکوقیدیوں میں بطوررہنمامنوایااورجیل انتظامیہ سے ان کیلئے مذاکرات بھی کیے اورقیدیوں میں نظم وضبط قائم کرنے کی کوشش بھی کی۔”اسرائیلی حکومت کے مطابق وہ ایک”جابر”دبدبے والے اوربااثررہنماہیں جن میں برداشت،چالاکی اورسازباز کرنے اور تھوڑے وسائل پرگزاراکرنے کی غیرمعمولی صلاحیتیں ہیں۔وہ جیل میں بھی قیدیوں کے درمیان رازرکھتے تھے،اوران میں ہجوم کی سربراہی کرنے کی بے پناہ صلاحیت تھی۔”

یاری کاالسنوارکے بارے میں تجزیہ بھی دلچسپ ہے۔یہ ان تمام ملاقاتوں کے بعدسامنے آیاہے جوان کے درمیان جیل میں ہوئی تھیں۔یاری کے مطابق وہ ایک”نفسیاتی مریض”ہیں لیکن صرف یہ کہناکہ السنوارنفسیاتی مریض ہیں،ایک غلطی ہوگی کیونکہ پھر آپ ان کے اس پراسراراورپیچیدہ شخصیت کونظراندازکرجائیں گے۔السنوارایساانتہائی شاطراورچالاک شخص ہے جسے اپنی شخصیت کی کشش میں اضافہ کرنااوراسے کم کرناآتاہے۔ السنوارکاکہناہے کہ اسرائیل کوتباہ کرنا ضروری ہے اورفلسطین میں یہودیوں کی کوئی جگہ نہیں۔ساتھ ہی”مذاق میں یہ بھی کہہ دیتے کہ ہوسکتاہے کہ ہم ان کیلئےگنجائش نکال لیں۔”

جب السنوارجیل میں تھے توانہوں نے عبرانی زبان پرعبورحاصل کرلیاتھااوراسرائیلی اخبارات پڑھتے تھے۔سنوارہمیشہ ان کے ساتھ عبرانی زبان میں بات کرنے کوترجیح دیتے حالانکہ یاری خودعربی زبان بولناجانتے تھے۔یاری کے مطابق”وہ عبرانی زبان کوبہترکرناچاہتے تھے۔میرے خیال میں وہ کسی ایسے شخص سے بات کرکے زبان میں مہارت حاصل کرناچاہتے تھے جو جیل وارڈن سے بہترعبرانی زبان بول سکیں۔

السنوارکو2011میں ایک معاہدے کے بعدچھوڑدیاگیاتھاجس میں1028فلسطینی اوراسرائیلی عرب قیدی رہاہوئے تھے اوراس کے بدلے میں اکیلے اسرائیلی یرغمالی فوجی جیلادشالیت کی رہائی ممکن ہوئی۔خیال رہے کہ شالیت کواغواکے5سال بعدتک یرغمال بنایاگیاتھااوریہ کام حماس کے دیگر کارکنوں سمیت السنوارکے بھائی نے کیاتھاجواس وقت بھی حماس کے سینیئر فوجی کمانڈرہیں۔ السنوارنے اس کے بعدسے مزیداسرائیلی فوجیوں کے اغواپرزوردیاہے اورحالیہ جنگ میں اسرائیلیوں کواغواکرنے کے پیچھے یہی پالیسی کارفرماہے۔یادرہے کہ اس مرتبہ تین اسرائیلی جنرلزاوردیگراہم اسرائیلی عہدیدارحماس کے قبضے میں ہیں۔اس وقت تک اسرائیل نے غزہ کی پٹی کاقبضہ ختم کردیاتھااوراس پرحماس کاکنٹرول تھا۔یہ الیکشن جیتنے اوراپنے حریف یاسر عرفات کی جماعت الفتح پارٹی کوپٹی سے مکمل طورپرختم کرنے کی وجہ سے ہوا۔اس دوران الفتح پارٹی کے متعدد کارکنوں کو عمارتوں کے اوپرسے نیچے پھینکاگیاتھا۔

مائیکل کے مطابق جب السنوارغزہ واپس گئے توانہیں فوری طورپربطوررہنماتسلیم کرلیاگیا۔اس کازیادہ تعلق اس بات سے تھاکہ انہوں نے حماس کے بانی لیڈرکےطورپرنام کمایاتھااورانہوں نے اپنی زندگی کے22سال جیل میں گزارے تھے۔اس کے علاوہ لوگ ان سے ڈرتے تھے،یہ وہ شخص ہے جس نے لوگوں کواپنے ہاتھوں سے قتل کیاتھا۔وہ ایک ہی وقت میں بہت ظالم،جارح مزاج اور پرکشش شخصیت کے مالک ہیں۔

یاری کاکہناہےکہ ’انہیں اچھی تقریرکرنی نہیں آتی لیکن جب وہ عوام سے بات کر رہے ہوتے ہیں توایسالگتاہے کہ ہجوم میں سے ہی کوئی بول رہاہے اوران کے دل کی باتیں کررہاہے۔سب ہی السنوارکی صداقت پرمرمٹنے کیلئے تیاررہتے ہیں۔جیل سے رہا ہونے کے فوراًبعدالسنوارنے فوری طورپر عزالدین القسام بریگیڈزاورچیف آف سٹاف مروان عیسیٰ سے اتحادکرلیا۔2013میں انہیں غزہ میں حماس کے سیاسی بیوروکارکن منتخب کیاگیاجس کے بعد2017میں انہیں اس کاسربراہ بنادیاگیا۔

السنوارکے چھوٹے بھائی محمدنے بھی حماس کیلئےاہم کرداراداکیا۔وہ اسرائیل کی جانب سے متعدد قاتلانہ حملوں میں بچنے میں کامیاب ہوئے لیکن پھر حماس نے2014میں ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی۔اس حوالے سے ایسی میڈیارپورٹس بھی سامنے آئی ہیں کہ وہ اب بھی زندہ ہیں اورحماس کے عسکری شعبے میں متحرک ہیں اورغزہ میں سرنگوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ممکنہ طورپر7اکتوبرکے حملوں میں بھی اہم کرداراداکرچکے پیں تاہم اس حوالے سے تاحال کچھ بھی واٰضح نہیں۔ مشہورزمانہ امریکی مصنف”ڈی براؤن اپنی کتاب”زخمی گھٹنے پرمیرے دل کودفن کریں”میں لکھتے ہیں:

اسرائیل کیلئے امریکیوں کی حمایت پرہمیں مایوس نہیں ہوناچاہیے۔تاریخ کاتھوڑاساعلم بتاتاہے،دونوں ایک جیسی مشابہت پر بنائے گئے ہیں۔غزہ فلسطین کے آبائیوں کومارڈالو،ان کی زمینوں اور املاک پرقبضہ کرلواورجوبچیں انہیں ریرویشن (کیمپوں) میں منتقل کردو۔اسرائیلیوں کے مظالم بھی بالکل ویسے ہی ہیں جس طرح امریکیوں نے مقامی لوگوں(ریڈانڈینز)کےساتھ کیاتھا ۔ امرکی فوج کی سب سے بڑی بہادرکاروائی29دسمبر1890 ء اس کی فوج کیولری7نےلکوٹاقبیلے کی 500سے زیادہ غیرمسلح خواتین اوربچوں کے قتل عام پرمبنی ہے اورظلم تویہ ہے کہ امریکی فوج کی کیولری کو6 میڈل آف آنرسے نوازاگیا۔اس لئے یہ ضروری ہے کہ امریکیوں کومکمل تاریخ پڑھنے کامشورہ دیاجائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں