سورہ کہف اورپاکستان

:Share

سورہ کہف کوسمجھنے کیلئے کئی سال اورسینکڑوں اردو،عربی اورفارسی تفاسیرکامطالعہ کرنے کے بعداس نتیجے پرپہنچاہوں کہ ہم اس سورۃ کو صرف غاروالوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا کی طرف کسی کی نظرہی نہیں گئی۔دراصل اس سورہ کا لب لباب یا مرکزی خیال تو یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں،عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ،غمی۔اس دنیامیں ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتاہے۔ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہوں گے تو ،یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔یعنی یا تو بندہ عزت میں ہو گا یا ذلت میں،یا صحت ہو گی یا بیماری۔ اللہ دوحالات میں آزماتے ہیں یاتو اچھے یا برے،کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتاہے یانہیں اوربرے حالات میں صبر کرتاہے یا نہیں۔ تودوپیپربنے ایک شکرکا پیپر اور دوسرا صبر کا پیپر۔اب اگربندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو وہ پیپر میں پاس ہو گیا اور اگر ناشکری کی توفیل۔اگرصبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس،اور بے صبری کی توفیل ۔ گویایہ زندگی دارالامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپردینے ہیں ایک صبرکا دوسرا شکر کا۔اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اوران کوبھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں،دوسرا درخت کاپھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کوکامیاب نہ ہونے دیا۔

سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔حضرت آدم علیہ اسلام کاواقعہ،یہ قلب ہے اس سورت کا۔آیتیں تھوڑی ہیں،اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔ آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے۔یہ وہ نوجوان تھے جنہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کرمقبول بندوں میں شامل ہو گئے،دوسراواقعہ دوباغوں والے شخص کاتھا،یہ بھی عام شخص تھاجس کومال ودولت دی گئی تھی،اس کاپیپرشکرکا تھاکہ تم نے نعمتوں پرشکرکرناہے تویہ فیل ہوگیا۔اس کے بعدآدم علیہ السلام کاواقعہ اورپھردوواقعات ہیں خواص کے۔ایک موسٰی علیہ السلام کاکہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کے پیپرلیتے ہیں۔

اوّل:اللہ نے اس سورۃ کی شروعات میں اپنی الوہیت کاذکرکیااورختم اپنی ربویت کے تذکرے پرکیا۔
دوم:شروع سورۃ میں اپنے رسولﷺکی عبدیت کاتذکرہ کیااوراختتام ان کی بشریت پرکیا۔
سوم:انسان کیلئے دنیامیں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔اسی لئے انسان ذکرکرتاہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آجائے۔اب صرف محبت کاآجانا مقصودنہیں ہے،جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کوراضی کرنے کی فکرمیں رہتا ہےاور رضا کیا ہے، اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللہ اچھے حالات بھیجےتو شکر کرنا اور برے حالات میں صبرکرنا۔جب بندے کو یہ مقامِ رضاحاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کیلئے استعمال کیا۔مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقاکے سوا کچھ نظر نہ آئے۔بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا، ہرحال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔ چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کیلئے پڑھنے کا ذکراحادیث میں آتاہے۔اس لیےکہ یہ ہمیں اس سے بچاتی ہے۔

پہلے دجال کے معنی کوسمجھیں کہ یہ دجل سے نکلاہے دجل فریب کوکہتے ہیں اورملمع سازی کرنے کوکہتے ہیں جس طرح تانبے پرسونے کاپانی چڑھادیاجائے تو وہ اوپرسے کچھ ہوگااوراندرسے کچھ ،اسی طرح دجال بھی اندرسے کچھ اورہوگااورباہرسے کچھ اور۔آج کے دورمیں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپرسے تو خوش نمانظر آتی ہے مگراندرسے کچھ اورہے۔آج کے دورمیں ایمان اورمادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔اب اس دورمیں اگراپناایمان بچاناہے توہمیں بھی کہف میں گھسنا ہوگا۔جی ہاں کہف میں! آج کے زمانے میں پانچ کہف ہیں۔اگرانسان ان میں داخل ہوجائے تووہ دجال کے فتنے سے بچ سکتاہے۔

ان میں پہلا کہف ہے مدارس،ان میں جوداخل ہوجائے وہ اپناایمان بچانے میں کامیاب ہوجاتاہے۔
دوسرااللہ والوں کی خانقاہیں،جولوگ اللہ والوں سے جڑجاتے ہیں تووہ لوگ زمانے کے فتنے اورفساد سے محفوظ ہوجاتے ہیں۔
تیسرادعوت وتبلیغ کاکام،یہ بھی کہف کی مانند ہے۔جودعوت وتبلیغ کاکام شروع کریں گے تواس کیلئے یقیناًسب سے پہلے اپنی اصلاح ،اپنے گھروالوں کی اصلاح ، اپنے محلے،علاقے سے کام بڑھتاہواپھرملک کی اصلاح کی طرف بڑھے گاکہ بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کراللہ کی غلامی میں لانے کیلئے آپ کے شب وروزصرف ہونے شروع ہوجائیں گے،اس سے آپ نہ صرف اپنابلکہ اپنے گھروالوں کے ساتھ اپنے احباب کادین محفوظ کرلیتے ہیں۔
چوتھاہے قرآن مجید،جوقرآن سے نتھی ہوجاتاہے،اس کوپڑھنا،سیکھنا،سمجھناشروع کردیتاہے تویہی قرآن زندگی کے ہرلمحے کیلئے کہف بن جاتا ہے۔
پانچواں مکہ اورمدینہ:یہ پانچواں کہف ہے۔احادیث کے مطابق جوبھی ان شہروں میں داخل ہوگیا،وہ بھی دجال سے محفوظ رہے گا۔ تویہ پانچ کہف ہیں جن میں داخل ہونے سے انسان اپنے ایمان کوبچالیتاہے اوردجال سے محفوظ ہوجاتاہے۔اس سورت کاہرواقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتاہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچاناہے۔اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملاکہ ہم کواپنے ایمان کی حفاظت کیلئے بالائی سطروں میں جن پانچ کہف کاذکرکسی نہ کسی کہف میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپناایمان بچا لیں اوردجال سے محفوظ رہیں۔

صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا کہ اللہ نے جومال دیااس کواپنی طرف منسوب نہ کرے جیساکہ اس باغ والے نے کیااور پکڑمیں آگیااوراس نعمت سے محروم کردیاگیا۔ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیاہمارے لئےداراقامت ہے،ہمارااصلی وطن جنت ہے دنیامیں رہ کردنیاکواپنااصلی وطن سمجھ لینااورساری محنتیں اورساری امیدیں دنیاپرلگادینابےوقوفی کی بات ہے۔شیطان بدبخت نے ہمیں جھوٹی قسمیں کھاکھاکراصلی وطن سے نکالاتھا، اب یہاں بھی یہ ہمارادشمن ہےاورہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔ اللہ شرسے بچائے اورہمارے اصلی گھرجنت میں پہنچا دے۔ آمین۔ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کرلیں،دنیا میں کوئی ناکوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہو گا ۔ انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کرسکتا۔

جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں توپھرہم دجالی فتنے میں پھنس جائیں گے اس لیے اللہ نے موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان کردیاتاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتاہے بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقت حال کوجانتے ہیں۔علم اوربھی اس سے کہیں زیادہ ہے جوہمارے پاس نہیں ہے،اسی لئے سورہ کہف انسان کودجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اوراس کی ذہن سازی کرتی ہے اورایساذہن بناتی ہے کہ بندہ کاذہن محفوظ ہوجاتاہے۔حضرت ذوالقرنین کے واقعے سے یہ سبق ملتاہے کہ حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست رشتے دارنہیں تھے یاکوئی جاننے والے نہیں تھے کیوںکہ وہ توان کی زبان تک نہیں جانتے تھے لیکن پھربھی انہوں نے ان لوگوں کی مددکی کیوںکہ وہ اللہ کی رضا کیلئے اللہ کے بندوں کے بندوں کونفع پہنچاتے تھے۔ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ جب انہوں نے کہاکہ ہم آپ کواس کیلئے پیسے دیں گے توانہوں نے انکارکردیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پراللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔جب ان کواختیاردیاگیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جوسلوک چاہیں کریں،مطلب چاہیں توسزادیں یا اچھا سلوک کریں توانہوں نے اس قوم کواللہ کی طرف بلایاتھا اوراپنے اختیار/طاقت کواللہ کے قانون کے نفاذمیں استعمال کیا۔

سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کرکے بندے کے ذہن سازی کی گئی اوراب آخری آیات میں اس ساری سورت کانچوڑتین باتوں میں بیان کیاگیاہے:
1-جو لوگ دنیا ہی کوبنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ہروقت دنیا اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا دجالی فتنہ ہے لہندا فقط دنیا ہی کی فکرمیں نہ رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔
2-اس کے بعداللہ نے اپنی صفات کوبیان فرمایاکہ اگرتم اپنے رب کی تعریفوں کوبیان کرواورسمندرسیاہی بن جائیں اوردوسراسمندر بھی اس میں ڈال دیاجائےتوتم پھربھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کرسکوگے۔
3-آخرمیں بتایاکہ جواپنے رب کادیدارکرناچاہے،جوکہ سب سے بڑی اورسب سے بڑھ کرنعمت ہے،اس کاطریقہ بتایاکہ وہ شخص دو کام کرے ایک نیک عمل اور دوسرااپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اورجوایساکرے گااللہ اس کواپنادیدارعطاکریں گے۔

یہ میرے رب کی کوئی خاص حکمت عملی ہے یاکوئی آزمائش ہے کہ قیامِ پاکستان کے بعدجلدہی اوراس کے باسیوں کوقوم کی پشتیبانی فرمانے والوں کی جدائی اور یتیمی کاغم برداشت کرناپڑگیااورہمیں حالات کے طوفان بلاخیزکی متلاطم لہروں کامقابلہ کرناپڑ گیااور باوجودلاکھ کوتاہیوں کہ صفرسے آغازکرنے والی یہ قوم ترقی کرتے کرتے جوہری طاقت بن چکی ہے۔ہاں! یہ بات ضرور ہے کہ ہم ابھی تک اسے صحیح معنوں میں قائد اعظمؓ اورعلامہ اقبال کا پاکستان نہیں بناسکے اوراپنی قومی زندگی کے مختلف شعبوں کوبانی پاکستان کے نظریات و تصورات کے مطابق استوارنہیں کرسکے۔دوقومی نظریہ کی بنیادپرپاکستان کی بنیادہی اسی لئے رکھی گئی کہ ہم ارضِ وطن کوایسے کہف میں تبدیل کردیں جہاں ایمانی استقامت اوردجالی فتنوں سے بچنے کیلئے ہمیں پناہ ملے۔

محمدعلی جناحؒ نے اس مملکت کوحضوراقدسﷺکاروحانی فیضان قراردیاتھالہٰذابارگاہ رسالت مآبﷺسے عطاکردہ اس نعمت کی قدر ومنزلت اور حفاظت ہر پاکستانی پرواجب ہے۔اس کی ناقدری اورخیانت کرنے والے نہ صرف دنیابلکہ آخرت میں بھی رسواہوگئے وجہ اس کی یہ ہے کہ بابائے قوم جب قائداعظمؒ حصولِ آزادی کیلئےمصروف تھے توان کے ذہن میں ایک آزاداسلامی مملکت کاجوتصور تھا،وہ مسلمانانِ برصغیر کے سوادِاعظم کی آرزؤں اور امنگوں کاترجمان تھا۔ ان کے ذہن میں ایک ہی بات نقش تھی کہ برصغیرپاک و ہندمیں مسلمان اپنی ایک ایسی اسلامی،فلاحی اورجمہوری مملکت قائم کریں جہاں وہ حضورِﷺکے عطا کردہ آئین کی روشنی میں زندگی گزاریں۔

اس امر کو ایک المیے سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف ہم نے من حیث القوم اور دوسری طرف برسرِاقتدار طبقے اور حاکمانِ وقت نے قائداعظمؒ کے تصورات کو عملی جامہ پہنانے میں مجرمانہ غفلت و کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیامِ پاکستان کے مخالفین اور دینِ اسلام کے ناقدین نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اس ملک میں لادینی نظریات کو فروغ دینے کی مہم چلائی۔یہی وجہ ہے کہ ہم آج اپنی سیاسی ابتری کے ایسے بھنورمیں غوطے لگارہے ہیں جہاں منزل دورہوتی جارہی ہے۔ قیامِ پاکستان سے پہلے اوربعدکے دور میں قائداعظمؒ کے ایسے متعدد بیانات موجودہیں جن میں بڑی صراحت سے بیان کردیاکہ پاکستان میں نظامِ حکومت صرف اور صرف دینِ اسلام اور قرآن کی روشنی میں وضع کیا جائے گا۔ 13جنوری1948ءکو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ہم نے پاکستان کا مطالبہ ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کیلئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کوآزماسکیں۔

بابائے قوم کی تقاریروبیانات سے یہ امرروزِروشن کی مانندواضح ہوجاتاہے کہ وہ پاکستان میں اسلامی نظریہ حیات کے اصولوں پر مبنی ریاستی اورسماجی ڈھانچے کی تشکیل کے خواہش مندتھے اورمسلمانانِ برصغیر کیلئےمحض ایک آزادمملکت کاقیام ہی ان کا مقصودنہ تھابلکہ اصل مقصدیہ تھاکہ مسلمان وہاں آزادی کے ساتھ اپنے ضابطہ حیات اپنی تمدّنی روایات اوراسلامی قوانین کے مطابق زندگی بسرکرسکیں۔آزاد مملکت میں آئین وحکومت کے حوالے سے بھی قائداعظمؒ کے تصورات بڑے واضح تھے۔ایک مرتبہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں آپ سے دریافت کیاگیاکہ پاکستان کاآئین کس طرح کاہوگاتوآپ نے جواب میں فرمایا: میں کون ہوتاہوں آپ کو آئین دینے والا،ہماراآئین توہمیں آج سے تیرہ سوسال پہلے ہی ہمارے عظیم پیغمبرؐﷺنے دے دیاتھا۔ہمیں تو صرف اس آئین کی پیروی کرتے ہوئے اسے نافذکرناہے اوراس کی بنیادپراپنی مملکت میں اسلام کاعظیم نظامِ حکومت قائم کرناہے اوریہی پاکستان ہے”۔

قائداعظمؒ کے نزدیک دینِ اسلام نہ صرف مسلمانوں کی نجی زندگی کے رہنمااصول فراہم کرتاہے بلکہ اپنے پیروکاروں سے اپنی سیاسی،معاشی،معاشرتی اور پوری اجتماعی زندگی کوبھی اسلامی نہج پراستوارکرنے کاتقاضاکرتاہے۔قائداعظمؒ پاکستان کوایک اسلامی ریاست بنانے کے متمنی تھے نہ کہ ایک سیکولرریاست جیساکہ آج کل ہمارے کچھ نام نہاددانشوراوربزعم خویش مؤرخ ثابت کرنے کیلئےایڑی چوٹی کازورلگارہے ہیں۔بابائے قوم نےاغیارکی پھیلائی ہوئی بدگمانیوں کودورکرنے کیلئے بارہااپنی تقاریرمیں واضح کیا کہ پاکستان میں اسلام پرنظامِ حکومت کے سواکسی دوسرے نظریے یااِزم کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔

پاکستان کی اقتصادی پالیسی کے بارے میں آپ کی تقاریروبیانات سے یہ امرواضح ہے کہ آپ جاگیرداروں اورسرمایہ داری نظام کو سخت ناپسندفرماتے تھے۔ آپ پاکستان میں غرباء کیلئےمعیارِمعیشت بلندکرنے کے خواہاں تھے اورپاکستان کے اقتصادی نظام کواسلام کے غیرفانی اصولوں پرترتیب دیناچاہتے تھے یعنی ان اصولوں پرجنہوں نے غلاموں کوتخت وتاج کامالک بنادیاتھا۔11/اگست1947ءکی شہرہ آفاق تقریرمیں آپ نے فرمایاکہ: اگرہم اس عظیم مملکت کوخوشحال بنانا چاہتے ہیں توہمیں اپنی پوری توجہ لوگوں اوربالخصوص غریب طبقے کی فلاح وبہبودپرمرکوزکرنی پڑے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں